بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِاللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والاكٓهٰيٰـعٓـصٓ ۚ
﴿۱﴾کھیٰعصذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَـبۡدَهٗ زَكَرِيَّا ۖ ۚ
﴿۲﴾یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا
﴿۳﴾جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکاراقَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۡۢ بِدُعَآٮِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا
﴿۴﴾عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سرے سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا (شعلہ چمکا) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہاوَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙ
﴿۵﴾اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائےيَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ ۖ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا
﴿۶﴾وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کريٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اۨسۡمُهٗ يَحۡيٰى ۙ لَمۡ نَجۡعَلْ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا
﴿۷﴾اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا،قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا
﴿۸﴾عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیاقَالَ كَذٰلِكَ ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَّقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـًٔـا
﴿۹﴾فرمایا ایسا ہی ہے تیرے رب نے فرمایا وہ مجھے آسان ہے اور میں نے تو اس سے پہلے تجھے اس وقت بنایا جب تک کچھ بھی نہ تھاقَالَ رَبِّ اجۡعَلْ لِّىۡۤ اٰيَةً ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا
﴿۱۰﴾عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہوکرفَخَرَجَ عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰٓى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُكۡرَةً وَّعَشِيًّا
﴿۱۱﴾تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،يٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ؕ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا ۙ
﴿۱۲﴾اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دیوَّحَنَانًـا مِّنۡ لَّدُنَّا وَزَكٰوةً ؕ وَّكَانَ تَقِيًّا ۙ
﴿۱۳﴾اور اپنی طرف سے مہربانی اور ستھرائی اور کمال ڈر والا تھاوَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا
﴿۱۴﴾اور اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا زبردست و نافرمان نہ تھاوَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا
﴿۱۵﴾اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن مردہ اٹھایا جائے گاوَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡيَمَۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِيًّا ۙ
﴿۱۶﴾اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئیفَاتَّخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
﴿۱۷﴾تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،قَالَتۡ اِنِّىۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا
﴿۱۸﴾بولی میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے،قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ ۖ لِاَهَبَ لَـكِ غُلٰمًا زَكِيًّا
﴿۱۹﴾بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں،قَالَتۡ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِىۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا
﴿۲۰﴾بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،قَالَ كَذٰلِكِ ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا
﴿۲۱﴾کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہرچکا ہےفَحَمَلَـتۡهُ فَانْتَبَذَتۡ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا
﴿۲۲﴾اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئیفَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِ ۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا
﴿۲۳﴾پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی،فَنَادٰٮهَا مِنۡ تَحۡتِهَاۤ اَلَّا تَحۡزَنِىۡ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا
﴿۲۴﴾تو اسے اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہےوَهُزِّىۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا
﴿۲۵﴾اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گیفَكُلِىۡ وَاشۡرَبِىۡ وَقَرِّىۡ عَيۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِىۡۤ اِنِّىۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ۚ
﴿۲۶﴾تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گیفَاَتَتۡ بِهٖ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهٗ ؕ قَالُوۡا يٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔـا فَرِيًّا
﴿۲۷﴾تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،يٰۤـاُخۡتَ هٰرُوۡنَ مَا كَانَ اَ بُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا ۖ ۚ
﴿۲۸﴾اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار،فَاَشَارَتۡ اِلَيۡهِ ؕ قَالُوۡا كَيۡفَ نُـكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِى الۡمَهۡدِ صَبِيًّا
﴿۲۹﴾اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہےقَالَ اِنِّىۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ؕ اٰتٰٮنِىَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِىۡ نَبِيًّا ۙ
﴿۳۰﴾بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیاوَّجَعَلَنِىۡ مُبٰـرَكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ وَاَوۡصٰنِىۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ۖ
﴿۳۱﴾اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں اور مجھے نماز و زکوۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں،وَّبَرًّۢا بِوَالِدَتِىۡ وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِىۡ جَبَّارًا شَقِيًّا
﴿۳۲﴾اور اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے والا اور مجھے زبردست بدبخت نہ کیا،وَالسَّلٰمُ عَلَىَّ يَوۡمَ وُلِدْتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا
﴿۳۳﴾اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤںذٰ لِكَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ ۚ قَوۡلَ الۡحَـقِّ الَّذِىۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ
﴿۳۴﴾یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیںمَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍۙ سُبۡحٰنَهٗؕ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُؕ
﴿۳۵﴾اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ
﴿۳۶﴾اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَيۡنِهِمۡۚ فَوَيۡلٌ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ
﴿۳۷﴾پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سےاَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَاَبۡصِرۡۙ يَوۡمَ يَاۡتُوۡنَنَا لٰـكِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡيَوۡمَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ
﴿۳۸﴾کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیںوَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡحَسۡرَةِ اِذۡ قُضِىَ الۡاَمۡرُۘ وَهُمۡ فِىۡ غَفۡلَةٍ وَّهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ
﴿۳۹﴾اور انہیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا جب کام ہوچکے گا اور وہ غفلت میں ہیں اور نہیں مانتے،اِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ الۡاَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَاِلَـيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ
﴿۴۰﴾بیشک زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہماری ہی طرف پھریں گےوَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا
﴿۴۱﴾اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ يٰۤـاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِىۡ عَنۡكَ شَيۡــًٔـا
﴿۴۲﴾جب اپنے باپ سے بولا اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئےيٰۤـاَبَتِ اِنِّىۡ قَدۡ جَآءَنِىۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ فَاتَّبِعۡنِىۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا
﴿۴۳﴾اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤںيٰۤـاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا
﴿۴۴﴾اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے،يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا
﴿۴۵﴾اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائےقَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِىۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُۚ لَٮِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ لَاَرۡجُمَنَّكَ وَاهۡجُرۡنِىۡ مَلِيًّا
﴿۴۶﴾بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجاقَالَ سَلٰمٌ عَلَيۡكَۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَـكَ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ كَانَ بِىۡ حَفِيًّا
﴿۴۷﴾کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ مہربان ہے،وَاَعۡتَزِلُـكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّىۡ ۖ عَسٰٓى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّىۡ شَقِيًّا
﴿۴۸﴾اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوںفَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ ؕ وَكُلًّا جَعَلۡنَا نَبِيًّا
﴿۴۹﴾پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا
﴿۵۰﴾اور ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھیوَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ مُوۡسٰٓى اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا
﴿۵۱﴾اور کتاب میں موسیٰ کو یاد کرو، بیشک وہ چنا ہوا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتانے والا،وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَجِيًّا
﴿۵۲﴾اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیاوَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوۡنَ نَبِيًّا
﴿۵۳﴾اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی)وَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ اِسۡمٰعِيۡلَ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ۚ
﴿۵۴﴾اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،وَكَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ وَكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا
﴿۵۵﴾اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھاوَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِدۡرِيۡسَ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ۙ
﴿۵۶﴾اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا
﴿۵۷﴾اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیااُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنۡ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ وَّمِنۡ ذُرِّيَّةِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡرَآءِيۡلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَاجۡتَبَيۡنَا ؕ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُ الرَّحۡمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا ۩
﴿۵۸﴾یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (السجدۃ) ۵فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ۙ
﴿۵۹﴾تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گےاِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَاُولٰٓٮِٕكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡــًٔـا ۙ
﴿۶۰﴾مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گاجَنّٰتِ عَدۡنٍ اۨلَّتِىۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا
﴿۶۱﴾بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں کیا بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،لَّا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَـغۡوًا اِلَّا سَلٰمًا ؕ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا بُكۡرَةً وَّعَشِيًّا
﴿۶۲﴾وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام اور انہیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شامتِلۡكَ الۡجَـنَّةُ الَّتِىۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا
﴿۶۳﴾یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّكَ ۚ لَهٗ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡنَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذٰ لِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا ۚ
﴿۶۴﴾(اور جبریل نے محبوب سے عرض کی (ٖف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیںرَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَاعۡبُدۡهُ وَاصۡطَبِرۡ لِـعِبَادَتِهٖؕ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا
﴿۶۵﴾آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہووَيَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا
﴿۶۶﴾اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گااَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـًٔـا
﴿۶۷﴾اور کیا آدمی کو یاد نہیں کہ ہم نے اس سے پہلے اسے بنایا اور وہ کچھ نہ تھافَوَرَبِّكَ لَـنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَالشَّيٰطِيۡنَ ثُمَّ لَــنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَـنَّمَ جِثِيًّا ۚ
﴿۶۸﴾تو تمہارے رب کی قسم ہم انہیں اور شیطانوں سب کو گھیر لائیں گے اور انہیں دوزخ کے آس پاس حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے،ثُمَّ لَـنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا ۚ
﴿۶۹﴾پھر ہم ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگاثُمَّ لَـنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا
﴿۷۰﴾پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں،وَاِنۡ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتۡمًا مَّقۡضِيًّا ۚ
﴿۷۱﴾اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہےثُمَّ نُـنَجِّى الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيۡنَ فِيۡهَا جِثِيًّا
﴿۷۲﴾پھر ہم ڈر والوں کو بچالیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے،وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ۙ اَىُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ خَيۡرٌ مَّقَامًا وَّاَحۡسَنُ نَدِيًّا
﴿۷۳﴾اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہےوَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ هُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا وَّرِءۡيًا
﴿۷۴﴾اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،قُلۡ مَنۡ كَانَ فِى الضَّلٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ الرَّحۡمٰنُ مَدًّا ۚ حَتّٰٓى اِذَا رَاَوۡا مَا يُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَةَ ؕ فَسَيَـعۡلَمُوۡنَ مَنۡ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضۡعَفُ جُنۡدًا
﴿۷۵﴾تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب یا قیامت تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًىؕ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ مَّرَدًّا
﴿۷۶﴾او رجنہوں نے ہدایت پائی اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجاماَفَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوۡتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا ؕ
﴿۷۷﴾تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرو ر مال و اولاد ملیں گےاَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا ۙ
﴿۷۸﴾کیا غیب کو جھانک آیا ہے یا رحمن کے پاس کوئی قرار رکھا ہے،كَلَّا ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا ۙ
﴿۷۹﴾ہرگز نہیں اب ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور اسے خوب لمبا عذاب دیں گے،وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا
﴿۸۰﴾اور جو چیزیں کہہ رہا ہے ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گاوَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوۡنُوۡا لَهُمۡ عِزًّا ۙ
﴿۸۱﴾اور اللہ کے سوا اور خدا بنالیے کہ وہ انہیں زور دیںكَلَّا ؕ سَيَكۡفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُوۡنُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا
﴿۸۲﴾ہرگز نہیں کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گےاَلَمۡ تَرَ اَنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّيٰـطِيۡنَ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ تَؤُزُّهُمۡ اَزًّا ۙ
﴿۸۳﴾کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیںفَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ؕ اِنَّمَا نَـعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا ۚ
﴿۸۴﴾تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیںيَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا ۙ
﴿۸۵﴾جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکروَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَـنَّمَ وِرۡدًا ۘ
﴿۸۶﴾اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسےلَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا ۘ
﴿۸۷﴾لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہےوَقَالُوۡا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ؕ
﴿۸۸﴾اور کافر بولے رحمن نے اولاد اختیار کی،لَـقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡــًٔـا اِدًّا ۙ
﴿۸۹﴾بیشک تم حد کی بھاری بات لائےتَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَـنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ۙ
﴿۹۰﴾قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہوکر)اَنۡ دَعَوۡا لِـلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ۚ
﴿۹۱﴾اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،وَمَا يَنۡۢبَـغِىۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ يَّتَّخِذَ وَلَدًا ؕ
﴿۹۲﴾اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرےاِنۡ كُلُّ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِى الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا ؕ
﴿۹۳﴾آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے،لَـقَدۡ اَحۡصٰٮهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا
﴿۹۴﴾بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہےوَكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا
﴿۹۵﴾اور ان میں ہر ایک روز قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگااِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا
﴿۹۶﴾بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گافَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا
﴿۹۷﴾تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍؕ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا
﴿۹۸﴾اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو