بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِاللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والاوَالذّٰرِيٰتِ ذَرۡوًا ۙ
﴿۱﴾قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاںفَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ
﴿۲﴾پھر بوجھ اٹھانے والیاںفَالۡجٰرِيٰتِ يُسۡرًا ۙ
﴿۳﴾پھر نرم چلنے والیاںفَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ
﴿۴﴾پھر حکم سے بانٹنے والیاںاِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ
﴿۵﴾بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے ضروری سچ ہے،وَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ ؕ
﴿۶﴾اور بیشک انصاف ضرور ہوناوَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ ۙ
﴿۷﴾آرائش والے آسمان کی قسماِنَّـكُمۡ لَفِىۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ
﴿۸﴾تم مختلف بات میں ہويُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ ؕ
﴿۹﴾اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہوقُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ
﴿۱۰﴾مارے جایں دل سے تراشنے والےالَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ سَاهُوۡنَۙ
﴿۱۱﴾جو نشے میں بھولے ہوئے ہیںيَسۡـَٔــلُوۡنَ اَيَّانَ يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ
﴿۱۲﴾پوچھتے ہیں انصاف کا دن کب ہوگايَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ
﴿۱۳﴾اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گےذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡؕ هٰذَا الَّذِىۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ
﴿۱۴﴾اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا، یہ ہے وہ جس کی تمہیں جلدی تھیاِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ
﴿۱۵﴾بیشک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں ہیںاٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُحۡسِنِيۡنَؕ
﴿۱۶﴾اپنے رب کی عطائیں لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے،كَانُوۡا قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ
﴿۱۷﴾وہ رات میں کم سویا کرتےوَبِالۡاَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ
﴿۱۸﴾اور پچھلی رات استغفار کرتےوَفِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآٮِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ
﴿۱۹﴾اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کاوَفِى الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَۙ
﴿۲۰﴾اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کووَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ
﴿۲۱﴾اور خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،وَفِى السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ
﴿۲۲﴾اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہےفَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَـقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ
﴿۲۳﴾تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں جو تم بولتے ہو،هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُكۡرَمِيۡنَۘ
﴿۲۴﴾اے محبوب! کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئیاِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًاؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡكَرُوۡنَ
﴿۲۵﴾جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا، سلام ناشناسا لوگ ہیںفَرَاغَ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍۙ
﴿۲۶﴾پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیافَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ
﴿۲۷﴾پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں،فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ
﴿۲۸﴾تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُهٗ فِىۡ صَرَّةٍ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ
﴿۲۹﴾اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھقَالُوۡا كَذٰلِكِ ۙ قَالَ رَبُّكِؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ
﴿۳۰﴾انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ
﴿۳۱﴾ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتو! تم کس کام سے آئےقَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَۙ
﴿۳۲﴾بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیںلِنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ
﴿۳۳﴾کہ ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں،مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ
﴿۳۴﴾جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیںفَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ
﴿۳۵﴾تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لیے،فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَۚ
﴿۳۶﴾تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایاوَتَرَكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّـلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَؕ
﴿۳۷﴾اور ہم نے اس میں نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیںوَفِىۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ
﴿۳۸﴾اور موسیٰ میں جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجافَتَوَلّٰى بِرُكۡنِهٖ وَقَالَ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ
﴿۳۹﴾تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اورت بولا جادوگر ہے یا دیوانہ،فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌؕ
﴿۴۰﴾تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں ڈال دیا اس حال میں کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھاوَفِىۡ عَادٍ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الرِّيۡحَ الۡعَقِيۡمَۚ
﴿۴۱﴾اور عاد میں جب ہم نے ان پر خشک آندھی بھیجیمَا تَذَرُ مِنۡ شَىۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِؕ
﴿۴۲﴾جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح چھوڑتیوَفِىۡ ثَمُوۡدَ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ
﴿۴۳﴾اور ثمود میں جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لوفَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰعِقَةُ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ
﴿۴۴﴾تو انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں کے سامنے انہیں کڑک نے آلیافَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَۙ
﴿۴۵﴾تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے،وَقَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ
﴿۴۶﴾اور ان سے پہلے قوم نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے،وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا بِاَيۡٮدٍ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ
﴿۴۷﴾اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیںوَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ
﴿۴۸﴾اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھالے والے،وَمِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ
﴿۴۹﴾اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کروفَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِؕ اِنِّىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۚ
﴿۵۰﴾تو اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ اِنِّىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ۚ
﴿۵۱﴾اور اللہ کے ساتھ اور معبود نہ ٹھہراؤ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں،كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا قَالُوۡا سَاحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌۚ
﴿۵۲﴾یونہی جب ان سے اگلوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو یہی بولے کہ جادوگر ہے یا دیوانہ،اَتَوَاصَوۡا بِهٖۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَۚ
﴿۵۳﴾کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیںفَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ
﴿۵۴﴾تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیںوَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
﴿۵۵﴾اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے،وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ
﴿۵۶﴾اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریںمَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ
﴿۵۷﴾میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیںاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُوالۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ
﴿۵۸﴾بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہےفَاِنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ذَنُوۡبًا مِّثۡلَ ذَنُوۡبِ اَصۡحٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ
﴿۵۹﴾تو بیشک ان ظالموں کے لیے عذاب کی ایک باری ہے جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی تو مجھ سے جلدی نہ کریںفَوَيۡلٌ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِىۡ يُوۡعَدُوۡنَ
﴿۶۰﴾تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں