احسن البیان

سُوۡرَةُ الاٴحزَاب

یہ سورت مدنی ہے اس میں (٧٣) آیات اور (٩) رکوع ہیں

۱۔ (۱)   آیت میں تقویٰ پر مداومت اور تبلیغ و دعوت میں استقامت کا حکم ہے۔ طلق بن حبیب کہتے ہیں، تقویٰ کا مطلب ہے کہ اللہ کی اطاعت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق کرے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے اور اللہ کی معصیت اللہ کی دی ہوئی روشنی کے مطابق ترک کر دے، اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے (ابن کثیر)

۱۔ (۲)  پس وہی اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اس لئے نتائج کو وہی جانتا ہے اور اپنے اقوال و افعال میں وہ حکیم ہے

٢۔ یعنی قرآن کی اور احادیث کی بھی، اس لئے کہ احادیث کے الفاظ گو نبی کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے معانی و مفہوم من جانب اللہ ہی ہیں۔ اس لئے ان کو وحی خفی کہا یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے۔

٣۔ (۱)   اپنے تمام معاملات اور احوال میں۔

٣۔ (۲)  ان لوگوں کے لئے جو اس پر بھروسہ رکھتے، اور اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

٤۔ (۱)   بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک منافق یہ دعوی کرتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ ایک دل مسلمانوں کے ساتھ ہے اور دوسرا دل کفر اور کافروں کے ساتھ ہے۔ یہ آیت اس کی تردید میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، جو بڑا ہوشیار مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوی تھا کہ میرے تو دو دل ہیں جن سے میں سوچتا سمجھتا ہوں۔ جب کہ محمد کا ایک ہی دل ہے۔ یہ آیت اس کے رد میں نازل ہوئی۔ (ایسر التفاسیر) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آگے جو دو مسئلے بیان کیے جا رہے ہیں، یہ ان کی تمہید ہے یعنی جس طرح ایک شخص کے دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کر لے یعنی یہ کہہ دے کہ تیری پشت میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی پشت تو اس طرح کہنے سے اس کی بیوی، اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔ یوں اس کی دو مائیں نہیں ہو سکتیں۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کو اپنا بیٹا لے پالک بیٹا بنا لے تو وہ اس کا حقیقی بیٹا نہیں بن جائے گا بلکہ وہ بیٹا اپنے باپ کا ہی رہے گا اس کے دو باپ نہیں ہو سکتے۔

٤۔ (۲)  یہ مسئلہ ظہار کہلاتا ہے اس کی تفصیل سورہ مجادلۃ میں آئے گی۔

٤۔ (۳)  اس کی تفصیل اسی سورت میں آگے آئے گی۔

٤۔(۴) یعنی کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جائے گی، نہ بیٹا کہنے سے بیٹا بن جائے گا، یعنی ان پر بنوت کے شرعی احکام جاری نہیں ہوں گے۔

٤۔(۵) اس لئے اس کا اتباع کرو اور ظہار والی عورت کو ماں اور لے پالک کو بیٹا مت کہو، خیال رہے کہ کسی کو پیار اور محبت میں بیٹا کہنا اور بات ہے اور لے پالک کو حقیقی بیٹا تصور کر کے بیٹا کہنا اور بات ہے۔ پہلی بات جائز ہے، یہاں مقصود دوسری بات کی ممانعت ہے۔

٥۔ (۱)   اس حکم سے اس رواج کی ممانعت کر دی گئی جو زمانہ جاہلیت سے چلا آ رہا تھا اور ابتدائے اسلام میں بھی رائج تھا کہ لے پالک بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھا جاتا تھا۔ صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آزاد کر کے بیٹا بنا لیا تھا زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، حتی کہ قرآن کریم کی آیت ادعوھم لآبائھم نازل ہو گئی اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوحذیفہ کے گھر میں بھی ایک مسئلہ پیدا ہو گیا، جنہوں نے سالم کو بیٹا بنایا ہوا تھا جب منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا سمجھنے سے روک دیا گیا تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوحذیفہ کی بیوی کو کہا کہ اسے دودھ پلا کر اپنا رضاعی بیٹا بنا لو کیوں کہ اس طرح تم اس پر حرام ہو جاؤ گی چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یعنی جن کے حقیقی باپوں کا علم ہے۔ اب دوسری نسبتیں ختم کر کے انہیں کی طرف انہیں منسوب کرو۔ البتہ جن کے باپوں کا علم نہ ہو سکے تو تم انہیں اپنا دینی بھائی اور دوست سمجھو، بیٹا مت سمجھو۔

٥۔ (۲)  اس لئے کہ خطا معاف ہے، جیسا کہ حدیث میں بھی صراحت ہے۔

٥۔ (۳) یعنی جو جان بوجھ کر انتساب کرے گا وہ سخت گناہگار ہو گا، حدیث میں آتا ہے، ' جس نے جانتے بوجھتے اپنے غیر باپ کی طرف منسوب کیا۔ اس نے کفر کا ارتکاب کیا (صحیح بخاری)

٦۔ (۱)   نبی اپنی امت کے لئے جتنے شفیق اور خیر خواہ تھے، محتاج وضاحت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس شفقت اور خیر خواہی کو دیکھتے ہوئے اس آیت میں آپ کو مومنوں کے اپنے نفس سے بھی زیادہ حق دار، آپ کی محبت کو دیگر تمام محبتوں سے فائق تر اور آپ کے حکم کو اپنی تمام خواہشات سے اہم قرار دیا ہے۔ اس لئے مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان کے جن مالوں کا مطالبہ اللہ کے لئے کریں، وہ آپ پر نچھاور کر دیں چاہے انہیں خود کتنی ہی ضرورت ہو۔ آپ سے اپنے نفسوں سے بھی زیادہ محبت کریں (جیسے حضرت عمر کا واقعہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کو سب پر مقدم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کو سب سے اہم سمجھیں۔ جب تک یہ خود سپردگی نہیں ہو گی (فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ) (النساء۔ ٦٥) کے مطابق آدمی مومن نہیں ہو گا۔ اسی طرح جب تک آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہو گی وہ صحیح مومن نہ ہو گا۔

٦۔ (۲)  یعنی احترام و تکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں

٦۔ (۳) یعنی اب مہاجرت، اخوت کی وجہ سے وراثت نہیں ہو گی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہو گی۔

٦۔(۴) ہاں غیر رشتہ داروں کے لئے احسان اور بر و صلہ کا معاملہ کر سکتے ہو، نیز ان کے لئے ایک تہائی مال میں وصیت بھی کر سکتے ہو۔

٦۔(٥) یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو عارضی طور پر مصلحتاً دوسروں کو بھی وارث قرار دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسے منسوخ کر کے پہلا حکم بحال کر دیا ہے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت تمام محبتوں پر غالب نہیں ہو گی تو لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ۔ کی رو سے مومن نہیں، ٹھیک اسی طرح اطاعت رسول میں کوتاہی بھی لا یومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ کا مصداق بنا دے گی۔

٦۔ (۶) یعنی احترام و تکریم میں اور ان سے نکاح نہ کرنے میں۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مائیں بھی ہیں۔

٦۔ (۷) یعنی اب مہاجرت، اخوت اور موالات کی وجہ سے وراثت نہیں ہو گی۔ اب وراثت صرف قریبی رشتہ کی بنیاد پر ہی ہو گی۔

٦۔(۸)ہان تم غیر رشتے داروں کے لیے احسان اور بر و صلہ کا معاملہ کر سکتے ہو، نیز انکے لیے ایک تہائی مال میں سے وصیت بھی کر سکتے ہو۔

٦۔(۹) یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے گو عارضی طور پر مصلحتاً دوسروں کو بھی وارث قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اللہ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسے منسوخ کر کے پہلا حکم بحال کر دیا گیا ہے۔

٧۔ اس عہد سے مراد ہے ؟ بعض کے نزدیک یہ وہ عہد ہے جو ایک دوسرے کی مدد اور تصدیق کا انبیاء علیہم السلام سے لیا گیا تھا سورۃ آل عمران کی آیت ٨١ میں ہے، بطور خاص پانچ انبیاء علیہم السلام کا نام لیا گیا جن سے ان کی اہمیت و عظمت واضح ہے اور ان میں بھی نبی کا ذکر سب سے پہلے ہے در آں حالیکہ نبوت کے لحاظ سے آپ سب سے متأخر ہیں، اس سے آپ کی عظمت اور شرف کا جس طرح اظہار ہو رہا ہے، محتاج وضاحت نہیں۔

٨۔ یہ لام کئ ہے یعنی یہ عہد اس لئے لیا تھا تاکہ اللہ سچے نبیوں سے پوچھے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوموں تک پہنچایا تھا یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء سے پوچھے کہ تمہاری قوموں نے تمہاری دعوت کا جواب کس طرح دیا؟ مثبت انداز میں یا منفی طریقے سے، اس میں داعیان حق کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ وہ دعوت حق کا فریضہ پوری تن دہی اور اخلاص سے ادا کریں تاکہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہو سکیں، اور ان لوگوں کے لئے بھی وعید ہے جن کو حق کی دعوت پہنچائی جائے کہ اگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے تو عند اللہ مجرم اور مستوجب سزا ہوں گے۔

٩۔ ان آیات میں غزوہ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو ٥ ہجری میں پیش آیا۔ اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز ' مدینہ ' پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینہ کے اندر نہ آ سکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ نے مسلسل بد عہدی کی وجہ سے مدینے سے جلا وطن کر دیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا، اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادہ قتال کیا یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکٹھا کر کے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابو سفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کر لیا ان کی مجموعی تعداد ١٠ ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا۔ جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نے ورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلیمان فارسی کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آ سکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرہ اور دشمن کی متحدہ یلغار سے سخت خوفزدہ تھے، کم و بیش ایک مہینے تک محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا تھے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے پہلے جُنُوداً سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز و تند ہوا سے مراد ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ وہی ہوا ہے۔ جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، (وَّجُنُوْدُ اَلَمْ تَرَوْھَا) سے مراد فرشتے ہیں۔ جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے، انہوں نے دشمن کے دلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کر دی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔

١٠۔ (۱)   اس سے مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے دشمن آ گئے یا اوپر سے مراد غطفان، ہوازن اور دیگر نجد کے مشرکین ہیں اور نیچے کی سمت سے قریش اور ان کے اعوان و انصار۔

١٠۔ (۲)  یہ مسلمانوں کی اس کیفیت کا اظہار ہے جس سے اس وقت دو چار تھے۔

١١۔ یعنی مسلمانوں کو خوف، قتال، بھوک اور محاصرے میں مبتلا کر کے ان کو جانچا پرکھا گیا تاکہ منافق الگ ہو جائیں۔

١٢۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کا وعدہ ایک فریب تھا۔ یہ تقریباً ستر منافقین تھے جن کی زبانوں پر وہ بات آ گئی جو دلوں میں تھی۔

١٣۔ (۱)   یثرب اس پورے علاقے کا نام تھا، مدینہ اسی کا ایک حصہ تھا، جسے یہاں یثرب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا نام یثرب اس لیے پڑا کہ کسی زمانے میں عمالقہ میں سے کسی نے یہاں پڑاؤ کیا تھا جس کا نام یثرب بن عمیل تھا۔

١٣۔ (۲) یعنی مسلمانوں کے لشکر میں رہنا سخت خطرناک ہے، اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ۔

١٣۔ (۳)  یعنی بنو قریظہ کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے یوں اہل خانہ کی جان مال اور آبرو کا خطرے میں ہے۔

١٣۔ (۴) یعنی جو خطرہ وہ ظاہر کر رہے ہیں، نہیں ہے وہ اس بہانے سے راہ فرار چاہتے ہیں۔

١٤۔ یعنی مدینے یا گھروں میں چاروں طرف سے دشمن داخل ہو جائیں اور ان سے مطالبہ کریں کے تم کفر و شرک کی طرف دوبارہ واپس آ جاؤ، تو یہ ذرا توقف نہ کریں گے اور اس وقت گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا عذر بھی نہیں کریں گے بلکہ فوراً مطالبہ شرک کے سامنے جھک جائیں مطلب یہ کہ کفر و شرک ان کو مرغوب ہے اور اس کی طرف لپکتے ہیں۔

١٥۔ (۱)   بیان کیا جاتا ہے کہ یہ منافقین جنگ بدر تک مسلمان نہیں ہوئے۔ لیکن جب مسلمان فاتح ہو کر اور مال غنیمت لے کر واپس آئے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام کا اظہار کیا بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ آئندہ جب بھی کفار سے معرکہ پیش آیا تو وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ضرور لڑیں گے، یہاں ان کو وہی عہد یاد کرایا گیا ہے۔

١٥۔ (۲)  یعنی اسے پورا کرنے کا ان سے مطالبہ کیا جائے گا اور عدم وفا پر سزا کے مستحق ہوں گے۔

١٦۔ یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔

١٧۔ یعنی تمہیں ہلاک کرنا، بیمار کرنا، یا مال و جائداد میں نقصان پہنچانا یا قحط سالی میں مبتلا کرنا چاہے، تو کون ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے ؟ یا اپنا فضل و کرم کرنا چاہے تو وہ روک سکے ؟

١٨۔ (۱)   یہ کہنے والے منافقین تھے، جو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے سے روکتے تھے۔

١٨۔ (۲)  کیونکہ وہ موت کے خوف سے پیچھے ہی رہتے تھے۔

١٩۔ (۱)   یعنی تمہارے ساتھ خندق کھود کر تم سے تعاون کرنے میں یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں یا تمہارے ساتھ مل کر لڑنے میں بخیل ہیں۔

١٩۔ (۲)  یہ ان کی بزدلی اور پست ہمتی کی کیفیت کا بیان ہے۔

 ١٩۔ (۳) یعنی اپنی شجاعت و مردانگی کی ڈینگیں مارتے ہیں، جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، یا غنیمت کی تقسیم کے وقت اپنی زبان کی تیزی و طراری سے لوگوں کو متاثر کر کے زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، غنیمت کی تقسیم کے وقت یہ سب سے زیادہ بخیل اور سب سے زیادہ بڑا حصہ لینے والے اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ بزدل اور ساتھیوں کو بے یارو مددگار چھوڑنے والے ہیں۔

١٩۔ (۳)  یا دوسرا مفہوم ہے کہ خیر کا جذبہ بھی ان کے اندر نہیں ہے۔ یعنی مذکورہ خرابیوں اور کوتاہیوں کے ساتھ خیر اور بھلائی سے بھی وہ محروم ہیں۔

١٩۔(۴) یعنی دل سے بلکہ یہ منافق ہیں، کیونکہ ان کے دل کفر و عناد سے بھرے ہوئے ہیں۔

١٩۔(۵) ان کے اعمال کا برباد کر دینا، یا ان کا نفاق۔

٢٠۔ (۱)   یعنی ان منافقین کی بزدلی، کم ہمتی اور خوف و دہشت کا یہ حال ہے کہ کافروں کے گروہ اگرچہ ناکام و نامراد واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ابھی تک اپنے مورچوں اور خیموں میں موجود ہیں۔

٢٠۔ (۲) یعنی بالفرض اگر کفار کی ٹولیاں دوبارہ لڑائی کی نیت سے واپس آ جائیں تو منافقین کی خواہش یہ ہو گی کہ وہ مدینہ شہر کے اندر رہنے کے بجائے باہر صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوں اور وہاں لوگوں سے تمہاری بابت پوچھتے رہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور اس کے ساتھی ہلاک ہوئے یا نہیں ؟ یا لشکر کفار کامیاب رہا یا ناکام؟

٢٠۔ (۳)  محض عار کے ڈر سے یا ہم وطنی کی حمیت کی وجہ سے۔ اس میں ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو جہاد سے گریز کرتے یا اس سے پیچھے رہتے ہیں۔

٢١۔ (۱)   یعنی اے مسلمانو! اور منافقو! تم سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کے اندر بہترین نمونہ ہے، پس تم جہاد میں اور صبر ثبات میں اسی کی پیروی کرو۔ ہمارا یہ پیغمبر جہاد میں بھوکا رہا حتی کہ اسے پیٹ پر پتھر باندھنے پڑے، اس کا چہرہ زخمی ہو گیا اس کا رباعی دانت ٹوٹ گیا، خندق اپنے ہاتھوں سے کھودی اور تقریبا ایک مہینہ دشمن کے سامنے سینہ سپر رہا۔ یہ آیت اگرچہ جنگ احزاب کے ضمن میں نازل ہوئی ہے جس میں جنگ کے موقعے پر بطور خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے اور اس کی اقتدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حکم عام ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تمام اقوال افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے آپ کی اقتدا ضروری ہے چاہے ان کا تعلق عبادات سے یا معاشرت سے، معیشت سے یا سیاست سے، زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی ہدایات واجب الاتباع ہیں۔ وما اتیٰکم الرسول فخذوہ، ان کنتم تحبون اللہ، کا بھی یہی مفاد ہے۔

٢١۔ (۲) اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اسوہ رسول کو وہی اپنائے گا جو آخرت میں اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ آجکل مسلمان بھی بالعموم ان دونوں وصفوں سے محروم ہیں، اس لئے اسوہ رسول کی بھی کوئی اہمیت ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ ان میں جو اہل دین ہیں ان کے پیشوا پیر اور مشائخ ہیں اور جو اہل دنیا و سیاست ہیں ان کے مرشد و رہنما آقایان مغرب ہیں۔ رسول اللہ سے عقیدت کے زبانی دعوے بڑے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مرشد اور پیشوا ماننے کے لیے ان میں سے کوئی بھی آمادہ نہیں ہے۔ فالی اللہ المشتکی۔

٢٢۔ (۱)   یعنی منافقین نے دشمن کی کثرت تعداد اور حالات کی سنگینی دیکھ کر کہا تھا کہ اللہ اور رسول کے وعدے فریب تھے، ان کے برعکس اہل ایمان نے کہا کہ اللہ اور رسول نے جو وعدہ کیا ہے کہ امتحان سے گزارنے کے بعد تمہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کیا جائے گا، وہ سچا ہے۔

٢٢۔ (۲)  یعنی حالات کی شدت اور ہولناکی نے ان کے ایمان کو متزلزل نہیں کیا، بلکہ ان کے ایمان میں جذبہ اطاعت اور تسلیم و رضا میں مزید اضافہ کر دیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں اور ان کے مختلف احوال کے اعتبار سے ایمان اور اس کی قوت میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے۔

٢٣۔ (۱)   یہ آیت ان بعض صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اس موقع پر جاں نثاری کے عجیب وغریب جوہر دکھائے تھے اور انہیں میں وہ صحابہ بھی شامل ہیں جو جنگ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے لیکن انہوں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اب آئندہ کوئی معرکہ پیش آیا تو جہاد میں بھرپور حصہ لیں گے۔ جیسے نضر بن انس وغیرہ جو بالآخر لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے جسم پر تلوار نیزے اور تیروں کے اسی سے کچھ اوپر زخم تھے، شہادت کے بعد ان کی ہمشیرہ نے انہیں ان کی انگلی کے پور سے پہچانا۔

٢٣۔ (۲) نَحْبہ، نحب کے معنی ہیں عہد، نذر اور موت کے کئے گئے ہیں۔ مطلب ہے کہ ان صادقین میں کچھ نے اپنا وعدہ اور نذر پوری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر لیا ہے۔

٢٣۔ (۳) اور دوسرے وہ ہیں جو ابھی تک عروس شہادت سے ہمکنار نہیں ہوئے ہیں تاہم اس کے شوق میں شریک جہاد ہوتے ہیں اور شہادت کی سعادت کے آرزو مند ہیں اپنی اس نذر یا عہد میں انہوں نے تبدیلی نہیں کی۔

٢٤۔ یعنی انہیں قبول اسلام کی توفیق دے۔

٢٥۔ (۱)   یعنی مشرک جو مختلف طرفوں سے جمع ہو کر آئے تھے تاکہ مسلمانوں کا نشان مٹا دیں۔ اللہ نے انہیں اپنے غیظ و غضب سمیت واپس لوٹا دیا۔ نہ دنیا کا مال متاع ان کے ہاتھ لگا اور نہ آخرت میں ہی اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے، کسی بھی قسم کی خیر انہیں حاصل نہیں ہوئی۔

٢٥۔ (۲)  یعنی مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہوا اور فرشتوں کے ذریعے سے اپنے مومن بندوں کی مدد کا سامان بہم پہنچا دیا۔ اس لئے نبی نے فرمایا (لَا اِلَہَ اَلَّا للّٰہُ وَحْدَہُ، صَدَقَ وَعْدَۃُ، نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ اَعَزَّ جُنْدَہُ، وَحَزَمَ الاَّحْزَابَ وَحْدَہَ، فَلَا شَیْءٍ بَعْدَ ہُ) (صحیح بخاری) ' ' ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اپنے لشکر کو سرخرو کیا، اور تمام گروہوں کو اکیلے اس نے ہی شکست دے دی، اس کے بعد کوئی شئ نہیں ' یہ دعا حج عمرہ، جہاد اور سفر سے واپسی پر پڑھنی چاہئے۔

٢٧۔ (۱)   اس میں غزہ بنی قریظہ کا ذکر ہے جیسے کہ پہلے گزرا کہ اس قبیلے نے نقص عہد کر کے جنگ احزاب میں مشرکوں اور دوسرے یہودیوں کا ساتھ دیا۔ چنانچہ جنگ احزاب سے واپس آ کر رسول اللہ ابھی غسل ہی فرما سکے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آ گئے اور کہا کہ آپ نے ہتھیار رکھ دیئے ؟ ہم فرشتوں نے تو نہیں رکھے ہیں چلئے، اب بنو قریظہ کے ساتھ نمٹنا ہے، مجھے اللہ نے اس لئے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں میں اعلان فرما دیا بلکہ ان کو تاکید کر دی کہ عصر کی نماز وہاں جا کر پڑھنی ہے۔ ان کی آبادی مدینے سے چند میل کے فاصلے پر تھی۔ یہ اپنے قلعوں میں بند ہو گئے، باہر سے مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش پچیس روز جاری رہا۔ بالآخر انہوں نے سعد بن معاذ کو اپنا (ثالث) تسلیم کر لیا کہ وہ فیصلہ ہماری بات پر دیں گے، ہمیں منظور ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں سے لڑنے والے لوگوں کو قتل کر دو اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے، نبی نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا کہ یہی فیصلہ آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا بھی ہے، اس کے مطابق ان کے جنگجو افراد کی گردنیں اڑا دی گئیں اور مدینے کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا (صحیح بخاری) دیکھئے صحیح بخاری باب غزوہ خندق انزل قلعوں سے نیچے اتار دیا، ظاہروھم کافروں کی انہوں نے مدد کی

٢٧۔ (۲) بعض نے اس سے خیبر کی زمین مراد لی ہے کیوں کہ اس کے بعد ہی ٦  ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں نے خیبر فتح کیا ہے بعض نے کہا کہ مکہ ہے اور بعض نے ارض فارس و روم کو اس کا مصداق قرار دیا ہے اور بعض کے نزدیک تمام وہ زمینیں ہیں جو قیامت تک مسلمان فتح کریں گے۔(فتح القدیر)

٢٩۔ فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت پہلے کی نسبت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار اور مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی نان نَفَقَہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ نہایت سادگی پسند تھے، اس لئے ازواج مطہرات کے اس مطالبے پر سخت کبیدہ خاطر ہوئے اور بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی جو ایک مہینہ جاری رہی بالآخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ اس کے بعد سب سے پہلے آپ نے حضرت عائشہ کو یہ آیت سنا کر انہیں اختیار دیا تاہم انہیں کہا کہ اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی بجائے اپنے والدین سے مشورے کے بعد کوئی اقدام کرنا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں آپ کے بارے میں مشورہ کروں ؟ بلکہ میں اللہ اور رسول کو پسند کرتی ہوں یہی بات دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے بھی کہی اور کسی نے بھی آپ کو چھوڑ کر دنیا کے عیش وآرام کو ترجیح نہیں دی۔ اس وقت رسول اللہ کے حبالہ عقد میں ٩ بیویاں تھیں، پانچ قریش میں سے تھیں۔ حضرت عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور چار ان کے علاوہ، یعنی حضرت صفیہ، زینب اور جویریہ تھیں۔ بعض لوگ مرد کی طرف سے اختیار علیحدگی کو طلاق قرار دیتے ہیں، لیکن یہ بات صحیح نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ اختیار علیحدگی کے بعد اگر عورت علیحدگی کو پسند کر لے، پھر تو یقیناً طلاق ہو جائے گی (اور یہ طلاق بھی رجعی ہو گی نہ کہ بائنہ، جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے ) تاہم اگر عورت علیحدگی نہیں کرتی تو پھر طلاق نہیں ہو گی، جیسے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے علیحدگی کی بجائے حرم رسول میں ہی رہنا پسند کیا تو اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا (صحیح بخاری)

٣٠۔ قرآن میں الفَاحِشَۃُ(مُعَرَّف بلام) کو زنا کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن فَاحِشَۃ (نکرہ) کو برائی کے لئے، جیسے یہاں ہے۔ یہاں اس کے معنی بد اخلاقی اور نامناسب رویے کے ہیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بد اخلاقی اور نامناسب رویہ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایذاء پہنچانا ہے جس کا ارتکاب کفر ہے۔ علاوہ ازیں ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن خود بھی مقام بلند کی حامل تھیں اور بلند مرتبہ لوگوں کی معمولی غلطیاں بڑی شمار ہوتی ہیں، اس لئے انہیں دوگنے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

٣١۔ یعنی جس طرح گناہ کا وبال دگنا ہو گا، نیکیوں کا اجر بھی دوہرا ہو گا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِذاًلَّآ ذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیوٰ ۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ) (بنی اسرائیل۔٧٥) ' پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا '

٣٢۔ (۱)   یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں کا سا نہیں ہے۔ بلکہ اللہ نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجیت کا جو شرف عطا فرمایا ہے، اس کی وجہ سے تمہیں ایک امتیازی مقام حاصل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح تمہیں بھی امت کے لئے ایک نمونہ بننا چاہیے چنانچہ انہیں ان کے مقام و مرتبے سے آگاہ کر کے انہیں کچھ ہدایت دی جا رہی ہے۔ اس کی مخاطب اگرچہ ازواج مطہرات ہیں جنہیں امہات المومنین قرار دیا گیا ہے لیکن انداز بیان سے صاف واضح ہے کہ مقصد پوری امت مسلمہ کی عورتوں کو سمجھانا اور متنبہ کرنا ہے اس لیے یہ ہدایات تمام مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔

 ٣٢۔ (۲)  اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود کے اندر مرد کے لئے جنسی کشش رکھی ہے (جس کی حفاظت کے لئے بھی خصو سی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عورت مرد کے لئے فتنے کا باعث نہ بنے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی آواز میں بھی فطری طور پر دلکشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، بنا بریں اس آواز کے لئے بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مردوں سے گفتگو کرتے وقت قصداً ایسا لب و لہجہ اختیار کرو کہ نرمی اور لطافت کی جگہ قدرے سختی اور روکھا پن ہو، تاکہ کوئی بد ظن لہجے کی نرمی سے تمہاری طرف مائل نہ ہو اور اس کے دل میں برا خیال پیدا نہ ہو۔

٣٢۔ (۳) یعنی روکھا پن، صرف لہجے کی حد ہی ہو، زبان سے ایسا لفظ نہ نکالنا جو معروف قائدے اور اخلاق کے منافی ہو۔ اِنِ اتقیتن کہہ کر اشارہ کر دیا کہ یہ بات اور دیگر ہدایات جو آگے آ رہی ہیں متقی عورتوں کے لئے ہیں، کیونکہ انہیں ہی یہ فکر ہوتی ہے کہ ان کی آخرت برباد نہ ہو جائے۔ جن کے دل خوف الٰہی سے عاری ہیں، انہیں ان ہدایات سے کیا تعلق؟ اور وہ کب ان ہدایات کی پروا کرتی ہیں ؟

٣٣۔ (۱)   یعنی ٹک کر رہو اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلو۔ اس کی وضاحت کر دی گئی کہ عورت کا دائرہ عمل امور سیاست اور جہان بانی نہیں، معاشی جھمیلے بھی نہیں، بلکہ گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر امور خانہ داری سرانجام دینا ہے۔

۳۳۔ (۲)  اس میں گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتلا دیئے کہ اگر باہر جانے کی ضرورت پیش آئے تو بناؤ سنگھار کر کے یا ایسے انداز سے جس سے تمہارا بناؤ سنگھار ظاہر ہو مت نکلو۔ جیسے بے پردہ ہو کر جس سے تمہارا سر چہرہ بازو اور چھاتی وغیرہ لوگوں کو دعوت نظارہ دے بلکہ بغیر خوشبو لگائے سادہ لباس میں ملبوس اور باپردہ باہر نکلو تبرج بے پردگی اور زیب و زینت کے اظہار کو کہتے ہیں قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تبرج جاہلیت ہے جو اسلام سے پہلے تھے اور آئندہ بھی جب کبھی اسے اختیار کیا جائے گے یہ جاہلیت ہی ہو گی اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما دل فریب رکھ لیا جائے۔

٣٣۔ (۳)  پچھلی ہدایت، برائی سے اجتناب سے متعلق تھیں، یہ ہدایت نیکی اختیار کرنے سے متعلق ہیں۔

٣٣۔(۴) اہل بیت سے کون مراد ہیں ؟ اس کی تعیین میں کچھ اختلاف ہے، بعض نے ازواج مطہرات کو مراد لیا ہے، جیسا کہ یہاں قرآن کریم کے سیاق سے واضح ہے قرآن نے یہاں ازواج مطہرات ہی کو اہل بیت کہا۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی بیوی کو اہل بیت کہا گیا ہے، بعض روایات کی روح سے اہل بیت کا مصداق صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہم کو مانتے ہیں اور ازواج مطہرات کو اس سے خارج سمجھتے ہیں۔ جبکہ اول الذکر ان اصحاب اربعہ کو اس سے خارج سمجھتے ہیں تاہم اعتدال کی راہ اور نقطہ متوسطہ یہ ہے دونوں ہی اہل بیت ہیں۔ ازواج مطہرات تو اس نص قرآنی کی وجہ سے اور داماد اور اولاد ان روایات کی رو سے جو صحیح سند سے ثابت ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اپنی چادر میں لے کر فرمایا کہ اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں جس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ بھی میرے اہل بیت سے ہیں یا یہ دعا ہے کہ یا اللہ ان کو بھی ازواج مطہرات کی طرح میرے اہل بیت میں شامل فرما دے اس طرح تمام دلائل میں بھی تطبیق ہو جاتی ہے (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے فتح القدیر، للشوکانی)

٣٤۔ یعنی ان پر عمل کرو حکمت سے مراد احادیث ہیں۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ حدیث بھی قرآن کی طرح ثواب کی نیت سے پڑھی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ آیت بھی ازواج مطہرات کے اہل بیت ہونے پر دلالت کرتی ہے، اس لئے کہ وحی کا نزول، جس کا ذکر اس آیت میں ہے، ازواج مطہرات کے گھروں میں ہی ہوتا تھا، بالخصوص حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے گھر میں۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

۳۵۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر صحابیات نے کہا کہ کیا بات ہے اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتا ہے عورتوں سے نہیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسندا٦ /۳۰۱ترمذی نمبر ۳۲۱۱) اس میں عورتوں کی دل داری کا اہتمام کر دیا گیا ہے ورنہ تمام احکام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں سوائے ان مخصوص احکام کے جو صرف عورتوں کے لیے ہیں۔ اس آیت اور دیگر آیات سے واضح ہے کہ عبادت و اطاعت الٰہی اور اخروی درجات و فضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے دونوں کے لیے یکساں طور پر یہ میدان کھلا ہے اور دونوں زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اجر و ثواب کما سکتے ہیں جنس کی بنیاد پر اس میں کمی پیشی نہیں کی جائے گے علاوہ ازیں مسلمان اور مومن کا الگ الگ ذکر کرنے سے واضح ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھ کر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیگر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔

٣٦۔ یہ آیت حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو کہ اصلا عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے حضرت خدیجہ کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہبہ کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کو نکاح کا پیغام بیجھا، جس پر انہیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وضاحت کی بنا پر تامل ہوا، کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار بروئے کار لائے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سر تسلیم خم کر دے چنانچہ یہ آیت سننے کے بعد حضرت زینب وغیرہ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا باہم نکاح ہو گیا۔

٣٧۔ (۱)   لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید کے دامن میں غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم انکو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرما دیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کر دیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کر دیا جائے کہ منہ بولا بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اسکی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت زید پر اللہ کا انعام یہ تھا کہ انھی قبول اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا احسان ان پر یہ تھا کہ انکی دینی تربیت کی۔ انکو آزاد کر کے اپنا بیٹا قرار دیا اور اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی سے ان کا نکاح کرا دیا۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ خوف اگرچہ فطری تھا، اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح ہو گا، جس سے یہ بات سب کے علم کے ہی علم میں آ جائے گی۔

٣٧۔ (۲)  یعنی نکاح کے بعد طلاق دی اور حضرت زینب عدت سے فارغ ہو گئیں۔

٣٧۔ (۳) یعنی یہ نکاح معرفت طریقے کے برعکس اللہ کے حکم سے قرار پا گیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی

 ٣٧۔(۴) یہ حضرت زینب سے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اقتضا لے پالک کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جا سکے۔

۳۷۔(۵) یعنی پہلے سے ہی تقدیر الٰہی میں تھا بہر صورت ہو کر رہنا تھا۔

٣٨۔ (۱)   یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔

٣٨۔ (۲)  یعنی گزشتہ انبیاء علیہم السلام بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔

۳۸۔ (۳) یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

٣٩۔ (۱)   اس لئے کسی کا ڈر یا خوف انہیں صرف اللہ کا پیغام پہنچانے میں مانع بنتا نہ طعن و ملامت کی انہیں کوئی پرواہ ہوتی تھی۔

 ٣٩۔ (۲)  یعنی ہر جگہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے موجود ہے، اس لئے وہ اپنے بندوں کی مدد کے لئے کافی ہے اور اللہ کے دین کی تبلیغ و دعوت میں انہیں جو مشکلات آتیں ان میں وہ چارہ سازی فرماتا اور دشمنوں کے مذموم ارادوں اور سازشوں سے انہیں بچاتا ہے۔

٤۰۔ (۱)   اس لیے وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انہیں مورد طعن بنایا جا سکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا؟ بلکہ ایک زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انہیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتاً وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (ادعوھم لآبائھم) کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہو گئے ان میں سے کوئی بھی عمر رجولیت کو نہیں پہنچا۔ بنابریں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صلبی اولاد میں سے بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جس کے آپ باپ ہوں (ابن کثیر)

٤۰۔ (۲) خاتم مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل ہی کو کہا جاتا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر نبوت و رسالت کا خاتمہ کر دیا گیا آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ نبی نہیں کذاب و دجال ہو گا احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہے قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو گا جو صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے امتی بن کر آئیں گے اس لیے ان کا نزول عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔

٤٤۔ یعنی جنت میں فرشتے اہل ایمان کو یا مومن آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔

٤۵۔بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر و ناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کے اصل لفظ سے معنوی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان سے بھی جو آپ پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہچان لیں گے جو چمکتے ہوں گے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم دیگر انبیاء علیہم السلام کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہو گی۔ اس لئے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمام انبیاء علیہم السلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو احکام قرآنی کے خلاف ہے۔

٤٦۔ جس طرح چراغ سے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور ہو جائیں۔ علاوہ ازیں اس چراغ سے کسب ضیا کر کے جو کمال و سعادت حاصل کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ چراغ قیامت تک روشن رہے۔

٤٩۔ (۱)   نکاح کے بعد جن عورتوں سے ہم بستری کی جاچکی ہو وہ بھی جوان ہوں، ایسی عورتوں کو طلاق مل جائے تو ان کی عدت تین حیض ہے اور جن سے نکاح ہوا ہے لیکن میاں بیوی کے درمیان ہم بستری نہیں ہوئی۔ ان کو اگر طلاق ہو جائے تو عدت نہیں ہے یعنی ایسی غیر مدخولہ مطلقہ بغیر عدت گزارے فوری طور پر کہیں نکاح کرنا چاہے، تو کر سکتی ہے، البتہ ہم بستری سے قبل خاوند فوت ہو جائے تو پھر اسے ٤ ماہ اور دس دن کی عدت گزارنا پڑے گی (فتح القدیر، ابن کثیر) چھونا یا ہاتھ لگانا، یہ کنایہ ہے۔ جماع (ہم بستری) سے نکاح لفظ خاص جماع اور عقد زواج دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں عقد کے معنی میں ہے۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں۔ اس لئے کہ یہاں نکاح کے بعد طلاق کا ذکر ہے۔ اس لئے جو فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں عورت سے میں نے نکاح کیا تو اسے طلاق، تو ان کے نزدیک اس عورت سے نکاح ہوتے ہی طلاق ہو جائے گی۔ اسی طرح بعض جو کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہے کہ میں کسی بھی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق، تو جس عورت سے بھی نکاح کرے گا، طلاق واقع ہو جائے گی۔ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ حدیث میں وضاحت ہے (لاطلاق قبل النکاح) اس سے واضح ہے 'کہ نکاح سے قبل طلاق، ایک فعل عبث ہے جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے

٤٩۔ (۲)  یہ متعہ، اگر مہر مقرر کیا گیا ہو تو نصف مہر ورنہ حسب توفیق کچھ دے دیا جائے۔

٤۹۔ (۳)  یعنی انہیں عزت واحترام سے بغیر کوئی ایذاء پہنچائے علیحدہ کر دیا جائے۔

٥٠۔(۱)   بعض احکام شرعیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو امتیاز حاصل تھا جنہیں آپ کی خصوصیات کہا جاتا ہے مثلاً اہل علم کی ایک جماعت کے بقول قیام اللیل (تہجد) آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر فرض تھا صدقہ آپ پر حرام تھا، اسی طرح کی بعض خصوصیات کا ذکر قرآن کریم کے اس مقام پر کیا گیا ہے جن کا تعلق نکاح سے ہے جن عورتوں کو آپ نے مہر دیا ہے وہ حلال ہیں چاہے تعداد میں وہ کتنی ہی ہوں اور آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا اور جویریہ رضی اللہ عنھا کا مہر ان کی آزادی کو قرار دیا تھا ان کے علاوہ بصورت نقد سب کو مہر ادا کیا تھا صرف ام حبیبہ رضی اللہ عنھا کا مہر نجاشی نے اپنے طرف سے دیا تھا۔

۵۰۔ (۲) چنانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا اور جویریہ ملکیت میں آئیں جنہیں آپ نے آزاد کر کے نکاح کر لیا اور رحانہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا یہ بطور لونڈی آپ کے پاس رہیں۔

۵۰۔ (۳)  اس کا مطلب ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کی اسی طرح انہوں نے بھی مکے سے مدینہ ہجرت کی۔ کیونکہ آپ کے ساتھ تو کسی عورت نے بھی ہجرت نہیں کی تھی۔

۵۰۔(۴) نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا آپ ہبہ کرنے والی عورت، اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس سے نکاح کرنا پسند فرمائیں تو بغیر مہر کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اس اپنے نکاح میں رکھنا جائز ہے۔

٥٠۔(۵) یہ اجازت صرف آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے ہے (دیگر مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ حق مہر ادا کریں، تب نکاح جائز ہو گا۔

٥٠۔ (٦) یعنی عقد کے جو شرائط اور حقوق ہیں جو ہم نے فرض کئے ہیں کہ مثلاً چار سے زیادہ عورتیں بیک وقت کوئی شخص اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا، نکاح کے لئے ولی، گواہ اور حق مہر ضروری ہے۔ البتہ لونڈیاں جتنی کوئی چاہے، رکھ سکتا ہے، تاہم آجکل لونڈیوں کا مسئلہ تو ختم ہے۔

٥٠۔(۷) اس کا تعلق اِ نَّا اَ حْلَلْنَا سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اجازت اس لئے ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کوئی تنگی محسوس نہ ہو اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے کسی کے نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔

٥١۔ (۱)   اس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اختیار دے دیا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جس کی باری چاہیں موقوف کر دیں یعنی اسے نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیں یہ تعلق قائم رکھیں۔

٥١۔ (۲)  یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حاصل ہے۔

٥١۔ (۳) یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلے پر راضی اور مطمن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اختیار ملنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت حضرت عائشہ کے لئے ہبہ کر دی تھی) آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر مقرر کر رکھی تھیں، اسی لیے آپ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ کے پاس گزارے (ان تقر اعینھن) کا تعلق آپ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی اس کے باوجود آپ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس حسن سلوک اور عدل وانصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔

٥٢۔(۴) یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیونکہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لئے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان، نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کر سکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار میں ہی نہیں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث ہو۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے ' یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا اس میں مجھے ملامت نہ کرنا (مسند احمد)

٥٢۔۵ آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد ٩ تھی اور دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے سے منع فرمایا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی نکاح نہیں کیا (ابن کثیر)

۵۲۔ (۶) یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اجازت تھی اور بعض نے (ولاتمسکوا بعصم الکوافر) الممتحنۃ) کے پیش نظر اسے آپ کے لیے حلال نہیں سمجھا (فتح القدیر)

٥٣۔ (۱)   اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت پر حضرت زینب کے ولیمے میں صحابہ کرام تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا اور اخلاق کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں جانے کے لئے نہ کہا (صحیح بخاری) چنانچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہو چکا ہو پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو۔ کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے ورنہ ملطب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔

 ٥٣۔ (۲)  یہ حکم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا (صحیح بخاری)

۵۳۔ (۳)  یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت کے دل ریب و شک سے ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔

۵۳۔(۴)چا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں ان سے بھی اجتناب کرو۔

۵۳۔ (۵) یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حبالہ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کر دیا ہو وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں ؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں لیکن آپ کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں اس لیے یہ محض ایک فرضی شکل ہے علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ کا نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ نے طلاق دے دی دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں (تفسیر ابن کثیر)

٥٥۔ (۱)   جب عورتوں کے لئے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھروں میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے جانے والے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں ؟ چنانچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کر دیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں۔ اس کی تفصیل سورہ نور کی آیت۔٣١ میں بھی گزر چکی ہے، اسے ملاحظہ فرما لیا جائے۔

٥٥۔ (۲)  اس مقام پر عورتوں کو تقویٰ کا حکم دے کر واضح کر دیا کہ اگر تمہارے دلوں میں تقویٰ ہو گا تو پردے کا جو اصل مقصد، قلب و نظر کی طہارت اور عصمت کی حفاظت ہے، وہ یقیناً تمہیں حاصل ہو گا، ورنہ حجاب کی ظاہری پابندیاں تمہیں گناہ میں ملوث ہونے سے نہیں بچاسکیں گی۔

٥٦۔ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو (آسمانوں ) میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلی (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر صلوٰۃ اور سلام بھیجیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہو جائیں۔ حدیث میں آیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں (یعنی التحیات میں السلام علیک ایھا النبی! پڑھتے ہیں ) ہم درود کس طرح پڑھیں ؟ اس پر آپ نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے (صحیح بخاری) علاوہ ازیں احادیث میں درود کے اور بھی صیغے آتے ہیں جو پڑھے جا سکتے ہیں۔ نیز مختصرا صلی اللہ علی رسول اللہ و سلم بھی پڑھا جا سکتا ہے تاہم الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ و سلم! پڑھنا اس لیے صحیح نہیں کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب ہے اور یہ صیغہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عام درود کے وقت منقول نہیں ہے اور تحیات میں السلام علیک ایھا النبی! چونکہ آپ سے منقول ہے اس وجہ سے اس وقت میں پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں مزید برآں اس کا پڑھنے والا اس فاسد عقیدے سے پڑھتا ہے کہ آپ اسے براہ راست سنتے ہیں یہ عقیدہ فاسدہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے اور اس عقیدے سے مذکورہ خانہ ساز درود پڑھنا بھی بدعت ہے جو ثواب نہیں گناہ ہے احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟ جمہور علماء اسے سنت سمجھتے ہیں اور امام شافعی اور بہت سے علماء واجب اور احادیث سے اس کے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے اسی طرح احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے اس لیے نماز کے دونوں تشہد میں درود پڑھنا ضروری اس کے دلائل مختصراً حسب ذیل ہیں

ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا یا رسول اللہ آپ پر سلام کس طرح پڑھنا ہے یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں السلام علیک پڑھتے ہیں ) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپ پر درود کس طرح پڑھیں ؟ تو آپ نے درود ابراہیمی کی تلقین فرمائی (الفتح الربانی) مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبری بیہقی، مستدرک حاکم اور ابن خزیمہ میں بھی ہے اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی تشہد میں اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درود ابراہیمی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیے اور اس کا مقام تشہد ہے اور حدیث میں یہ عام ہے اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے ) دونوں تشہد میں سلام اور درود پڑھا جائے اور جن روایات میں تشہد کا بغیر درود کے ذکر ہے انہیں سورہ احزاب کی آیت صلوا علیہ و سلموا کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے گا لیکن اس آیت کے نزول یعنی ۵ہجری کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرمادیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوۃ(درودشریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہو گیا چاہے وہ پہلا تشہد ہو یا دوسرا اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ (بعض دفعہ) رات کو۹رکعات ادا فرماتے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھتے تو اس میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پوری کر کے تشہد میں بیٹھتے تو اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے اور پھر دعا کرتے پھر سلام پھیر دیتے (السنن الکبری مزید ملائظہ ہو صفۃ صلات النبی للألبانی) اس میں بالکل صراحت ہے کہ نبی نے اپنی رات کی نماز میں پہلے اور آخری دونوں تشہد میں درود پڑھا ہے یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن مذکورہ عمومی دلائل کی آپ کے اس عمل سے تائید ہو جاتی ہے اس لیے اسے صرف نفلی نماز تک محدود کر دینا صحیح نہیں ہو گا۔

٥٧۔ اللہ کو ایذا دینے کا مطلب ان کے افعال کا ارتکاب ہے جو وہ ناپسند فرماتا ہے ورنہ اللہ پر ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے ؟ جسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری) یعنی یہ کہناکہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کر دیا یہ صحیح نہیں اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں زمانے یا فلک کے نہیں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا آپ کی تکذیب آپ کو شاعر کذاب ساحر وغیرہ کہنا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص واہانت کو بھی آپ نے ایذا قرار دیا ہے لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔یعنی ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر بہتان باندھنا ان کی ناجائز تنقیص وتوہین کرنا جیسے روافض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب وشتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔

۵۹۔۱(۱)   جلابیب، جلباب کی جمع ہے جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اس طرح گھونگٹ نکالنا ہے کہ جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظریں جھکا کر چلنے سے اسے راستہ بھی نظر آتا جائے پاک وہند یا دیگر اسلامی ممالک میں برقعے کی جو مختلف صورتیں ہیں عہد رسالت میں یہ برقعے عام نہیں تھے پھر بعد میں معاشرت میں وہ سادگی نہیں رہی جو عہد رسالت اور صحابہ وتابعین کے دور میں تھی عورتیں نہایت سادہ لباس پہنتی تھیں بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کے اظہار کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک بڑی چادر سے بھی پردے کے تقاضے پورے ہو جاتے تھے لیکن بعد میں یہ سادگی نہیں رہی اس کی جگہ تجمل اور زینت نے لے لی اور عورتوں کے اندر زرق برق لباس اور زیورات کی نمائش عام ہو گئی جس کی وجہ سے چادر سے پردہ کرنا مشکل ہو گیا اور اس کی جگہ مختلف انداز کے برقعے عام ہو گئے گو اس سے بعض دفعہ عورت کو بالخصوص سخت گرمی میں کچھ دقت بھی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ ذرا سی تکلیف شریعت کے تقاضوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہں رکھتی تاہم جو عورت برقعے کے بجائے پردے کے لیے بڑی چادر استعمال کرتی ہے اور پورے بدن کو ڈھانکتی اور چہرے پر صحیح معنوں میں گھونگٹ نکالتی ہے وہ یقیناً پردے کے حکم کو بجالاتی ہے کیونکہ برقعہ ایسی لازمی شئی نہیں ہے جسے شریعت نے پردے کے لیے لازمی قرار دیا ہو لیکن آج کل عورتوں نے چادر کو بے پردگی اختیار کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے پہلے وہ برقعے کی جگہ چادر اوڑھنا شروع کرتی ہیں پھر چادر بھی غائب ہو جاتی ہے صرف دوپٹہ رہ جاتا ہے اور بعض عورتوں کے لیے اس کا لینا بھی گراں ہوتا ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ اب برقع کا استعمال ہی صحیح ہے کیوں کہ جب سے برقعے کی جگہ چادر نے لے لی ہے بے پردگی عام ہو گئ ہے بلکہ عورتیں نیم برہنگی پر بھی فخر کرنے لگی ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون بہرحال اس آیت میں نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت پردے کا حکم دیا گیا جس سے واضح ہے کہ پردے کا حکم علماء کا ایجاد کردہ نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگ باور کراتے ہیں یا اس کو قرار واقعی اہمیت نہیں دیتے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے جو قرآن کریم کی نص سے ثابت ہے۔ اس سے اعراض، انکار اور بے پردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ نبی کی ایک بیٹی نہیں تھی جیسا کہ رافضیوں کا عقیدہ ہے بلکہ آپ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں جیسا کہ نص قرآنی سے واضح ہے اور یہ چار تھیں جیسا کہ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔

٥٩۔ (۲)  یہ پردے کی حکمت اور اس کے فائدے کا بیان ہے کہ اس سے ایک شریف زادی اور باحیا عورت اور بے شرم اور بدکار عورت کے درمیان پہچان ہو گی۔ پردے سے معلوم ہو گا کہ یہ خاندانی عورت ہے جس سے چھیڑ خانی کی جرات کسی کو نہیں ہو گی۔ اس کے برعکس بے پردہ عورت اوباشوں کی نگاہوں کا مرکز اور ان کی ابوالہوسی کا نشانہ بنے گی

٦٠۔ مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے منافقین افواہیں اڑاتے رہتے تھے کہ مسلمان فلاں علاقے میں مغلوب ہو گئے، یا دشمن کا لشکر جرار حملہ آور ہونے کے لئے آ رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

٦١۔ یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہو گا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آ گئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر

٦٧۔ یعنی ہم نے تیرے پیغمبروں اور داعیان دین کی بجائے اپنے ان بڑے اور برزگوں کی پیروی کی، لیکن آج ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے ہمیں تیرے پیغمبروں سے دور رکھ کر راہ راست سے بھٹکائے رکھا۔ آبا پرستی اور تقلید فرنگ آج بھی لوگوں کی گمراہی کا باعث ہے کاش مسلمان آیات الٰہی پر غور کر کے ان پگڈنڈیوں سے نکلیں اور قرآن وحدیث کی صراط مستقیم کو اختیار کر لیں کہ نجات صرف اور صرف اللہ اور رسول کی پیروی میں ہی ہے نہ کہ مشائخ واکابر کی تقلید میں یا آبا واجداد کے فرسودہ طریقوں کے اختیار کرنے میں۔

٦٩۔ اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہایت با حیا تھے، چنانچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنو اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ علیہ السلام کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔ پتھر (اللہ کے حکم سے ) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ حتیٰ کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہو گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نہایت حسین و جمیل ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کے اس الزام اور شبہہ سے صفائی کر دی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحیح بخاری) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ قلق اور اضطراب محسوس کریں جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا جب آپ تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کا چہر مبارک سرخ ہو گیا آپ نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا (صحیح بخاری)

٧٠۔ یعنی ایسی بات جس میں کجی اور انحراف ہو، نہ دھوکا اور فریب۔ بلکہ سچ اور حق ہو، یعنی جس طرح تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے تاکہ ٹھیک نشانے پر جا لگے اسی طرح تمہاری زبان سے نکلی ہوئی بات اور تمہارا کردار راستی پر مبنی ہو، حق اور صداقت سے بال برابر انحراف نہ ہو۔

٧١۔ یہ تقویٰ اور قول کا نتیجہ ہے کہ تمہارے عملوں کی اصلاح ہو گی اور مزید تو فیق سے نوازے جاؤ گے اور کچھ کمی کوتاہی رہ جائیگی، تو اسے اللہ معاف فرما دے گا۔

٧٢۔ (۱)   جب اللہ تعالیٰ نے اہل اطاعت کا اجر و ثواب اور اہل مصیت کا وبال اور عذاب بیان کر دیا تو اب شرعی احکام اور اس کی صعوبت کا تذکرہ فرما رہا ہے۔ امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض و واجبات مراد ہیں جن کی ادائیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہو گا۔ جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان اور زمین پر پیش کی گئیں تو وہ اطاعت الٰہی (امانت) کے اجر و ثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کو اٹھانے پر آمادہ ہو گیا۔ احکام شریعہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرما دیا کہ ان کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ اور آسمان اور زمین اور پہاڑوں نے کس طرح اس کا جواب دیا؟ اور انسان نے کس طرح قبول کیا؟ اس کی پوری کیفیت نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ اسے بیان کر سکتے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اپنی ہر مخلوق کیلئے ایک خاص قسم کا احساس و شعور رکھا ہے، گو ہم اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو ان کی بات سمجھنے پر قادر ہے، اس نے ضرور اس امانت کو ان پر پیش کیا ہو گا جسے قبول کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اور یہ انکار انہوں نے سرکشی و بغاوت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس میں یہ خوف کار فرما تھا کہ اگر ہم اس امانت کے تقاضے پورے نہ کر سکے تو اس کی سزا ہمیں بھگتنی ہو گی۔ انسان چونکہ جلد باز ہے۔ اس نے عذاب کے پہلو پر زیادہ غور نہیں کیا اور حصول فضیلت کے شوق میں اسے نے ذمے داری کو قبول کر لیا۔

٧٢۔ (۲)  یعنی بار گراں اٹھا کر اس نے اپنے نفس پر ظلم کا ارتکاب اور اس کے مقتضیات سے اعراض یا اس کی قدرو قیمت سے غفلت کر کے جہالت کا مظاہرہ کیا۔

٧٣۔ اس کا تعلق حَمَلَھَا سے ہے یعنی انسان کو اس امانت کا ذمے دار بنانے سے مقصد یہ ہے کہ اہل نفاق و اہل شرک کا نفاق و شرک اور اہل ایمان کا ایمان ظاہر ہو جائے اور پھر اس کے مطابق انہیں جزا و سزا دی جائے۔