احسن البیان

سُوۡرَةُ المَائدة

١۔ (١) عقود عقد کی جمع ہے جس کے معنی گرہ لگانے کے ہیں اس کا استعمال کسی چیز میں گرہ لگانے کے لیے بھی ہوتا ہے اور پختہ عہد و پیمان کرنے پر بھی۔ یہاں اس سے مراد احکام الٰہی جن کا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عاقل و بالغ ٹھہرایا ہے اور عہد و پیماں کرنے پر معاملات بھی ہیں جو انسان آپس میں کرتے ہیں۔ دونوں کا ایفا ضروری ہے۔

١۔(٢) بھیمہ چوپائے (چار ٹانگوں والے ) جانور کو کہا جاتا ہے۔ اس کا مادہ بہم، ابہام ہے بعض کا کہنا ہے کہ ان کی گفتگو اور عقل وفہم میں چونکہ ابہام ہے اس لیے ان کو بہیمہ کہا کہا جاتا ہے انعام اونٹ، گائے بکری بھیڑ کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی چال میں نرمی ہوتی ہے یہ بھیمتہ الانعام نر اور مادہ مل کر آٹھ قسمیں ہیں جن کی تفصیل (سورہ الانعام آیت نمبر ۱٤۳ میں آئے گی علاوہ ازیں جو جانور وحشی کہلاتے ہیں مثلاً ہرن نیل گائے وغیرہ جن کا عموماً شکار کیا جاتا ہے یہ بھی حلال ہیں۔ حالت احرام میں ان کا دیگر پرندوں کا شکار ممنوع ہے۔ سنت میں بیان کردہ اصول کی رو سے جو جانور ذوناب اور جو پرندے ذومخلب نہیں ہیں وہ سب حلال ہیں جیسا کہ بقرہ آیت نمبر ۱۷۳ کے حاشیے میں تفصیل گزر چکی ہے۔ذوناب کا مطلب ہے وہ جانور جو اپنی کچلی کے دانت سے اپنا شکار پکڑتا ہے اور چیرتا ہو مثلاً شیر چیتا کتا بھیڑیا وغیرہ اور وہ پرندے جو اپنے پنجے سے اپنا شکار جھپٹتا پکڑتا ہو مثلاً شکرہ، باز، شاہیں، عقاب وغیرہ حرام ہیں۔

١۔(٣)  ان کی تفصیل آیت نمبر ٣ میں آ رہی ہے۔

٢۔(١)  شعائر شعیرۃ کی جمع ہے اس سے مراد حرمات اللہ ہیں (جن کی تعظیم و حرمت اللہ نے مقرر فرمائی ہے ) بعض نے اسے عام رکھا ہے اور بعض کے نزدیک یہاں حج و عمرے کے مناسک مراد ہیں یعنی ان کی بے حرمتی اور بے توقیری نہ کرو۔ اسی طرح حج عمرے کی ادائیگی میں کسی کے درمیان رکاوٹ مت بنو، کہ یہ بے حرمتی ہے۔

٢۔(٢) (اشھر الحرام) مراد حرمت والے چاروں مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم) کی حرمت برقرار رکھو اور ان میں قتال مت کرو بعض نے اس سے صرف ایک مہینہ مراد یعنی ماہ ذوالحجہ (حج کا مہینہ) مراد لیا ہے۔ بعض نے اس حکم کو فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم سے منسوخ مانا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں دونوں احکام اپنے اپنے دائرے میں ہیں جن میں تعارض نہیں۔

٢۔(٣) " ھَدی" ایسے جانور کو کہا جاتا ہے جو حاجی حرم میں قربان کرنے کے لئے ساتھ لے جاتے تھے اور گلے میں پٹہ باندھتے تھے جو کے نشانی کے طور پر ہوتا تھا، مزید تاکید ہے کہ ان جانوروں کسی سے چھینا جائے نہ ان کے حرم تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے۔

٢۔(٤)  یعی حج عمرے کی نیت سے یا تجارت و کاروبار کی غرض سے حرم جانے والوں کو مت روکو اور نہ انہیں تنگ کرو، بعض مفسرین کے نزدیک یہ احکام اس وقت کے ہیں جب مسلمان اور مشرک اکھٹے حج عمرہ کرتے تھے۔ لیکن جب یہ آیت انما المشرکون نجس الخ نازل ہوئی تو مشرکین کی حد تک یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ بعض کے نزدیک یہ آیت محکم یعنی غیر منسوخ ہے اور یہ حکم مسلمانوں کے بارے میں ہے۔

٢۔(٥) یہاں مراد اباحت یعنی جواز بتلانے کے لئے ہے۔ یعنی جب تم احرام کھول دو تو شکار کرنا تمہارے لئے جائز ہے۔

٢۔(٦)  یعنی گو تمہیں ان مشرکین نے ٦ ہجری میں مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے روکنے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی والا رویہ اختیار مت کرنا۔ دشمن کے ساتھ بھی حلم اور عفو کا سبق دیا جا رہا ہے۔

٢۔(٧) یہ ایک نہایت اہم اصول بیان کر دیا گیا ہے جو ایک مسلمان کے لئے قدم قدم پر رہنمائی مہیا کر سکتا ہے، کاش مسلمان اس اصول کو اپنا لیں۔

٣۔(١) یہاں سے ان محرمات کا ذکر شروع ہو رہا ہے جن کا حوالہ سورت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ آیت کا اتنا حصہ سورہ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ دیکھیے آیت نمبر ۱۷۳۔

٣۔(۲) گلا کوئی شخص گھونٹ دے یا کسی چیز میں پھنس کر خود گلا گھٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں مردہ جانور حرام ہے۔

٣۔(۳) کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کیے مر گیا۔ زمانہ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھا لیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کر دیا۔ بندوق کا شکار کیے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر کوئی بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائے اور شکار ذبح سے پہلے ہی مر گیا تو اس کا کھانا اس قول کے مطابق حلال ہے۔

٣۔(٤) چاہے خود گرا ہو یا کسی نے پہاڑ وغیرہ سے دھکا دے کر گرایا ہو۔

 ٣۔(۵)  نظیحۃ منطوحۃ کے معنی میں ہے۔ یعنی کسی نے اسے ٹکر مار دی اور بغیر ذبح کیے وہ مر گیا۔

 ٣۔(٦) یعنی شیر چیتا اور بھیڑیا وغیرہ جیسے ذوناب کچلیوں سے شکار کرنے والے درندوں میں سے کسی نے اسے کھایا ہو اور وہ مر گیا ہو۔ زمانہ جاہلیت میں مر جانے کے باوجود ایسے جانور کو کھا لیا جاتا تھا۔

٣۔(۷) جمہور مفسرین کے نزدیک یہ استثنا تمام مذکورہ جانوروں کے لیے ہے یعنی منخنقۃ، موقوذۃ، متردیۃ، نطیحۃ اور درندوں کا کھایا ہوا، اگر تم انہیں اس حال میں پالو کہ ان میں زندگی کے آثار موجود ہوں اور پھر تم انہیں شرعی طریقے سے ذبح کر لو تو تمہارے لیے ان کا کھانا حلال ہو گا۔ زندگی کی علامت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پھڑکے اور ٹانگیں مارے۔ اگر چھری پھیرتے وقت یہ اضطراب و حرکت نہ ہو تو سمجھ لو یہ مردہ ہے۔ ذبح کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی مشروع ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے جانور کے لبے  پر چھری ماری جائے (اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے ) جس سے نرخرہ اور خون کی خاص رگیں کٹ جاتی ہے اور سارا خون بہہ جاتا ہے۔

٣۔(۸) مشرکین اپنے بتوں کے قریب پتھر یا کوئی چیز نصب کر کے ایک خاص جگہ بناتے تھے۔ جسے نصب تھان یا آستانہ کہتے تھے۔ اسی پر وہ بتوں کے نام نذر کیے گئے جانوروں کو ذبح کرتے تھے یعنی یہ وما اھل بہ لغیر اللہ ہی کی ایک شکل تھی اس سے معلوم ہوا کہ آستانوں، مقبروں اور درگاہوں پر جہاں لوگ طلب حاجات کے لیے جاتے ہیں اور وہاں مدفون افراد کی خوشنودی کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں یا پکی ہوئی دیگیں تقسیم کرتے ہیں، ان کا کھانا حرام ہے یہ وماذبح علی النصب میں داخل ہیں۔

٣۔(۹)  وان تستقسموا بالازلام کے دو معنی کیے گئے ہیں ایک تیروں کے ذریعے تقسیم کرنا دوسرے تیروں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا پہلے معنی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ جوئے وغیرہ میں ذبح شدہ جانور کی تقسیم کے لیے یہ تیر ہوتے تھے جس میں کسی کو کچھ مل جاتا، کوئی محروم رہ جاتا۔ دوسرے معنی کی رو سے کہا گیا ہے کہ ازلام سے تیر مراد ہیں جن سے وہ کسی کام کا آغاز کرتے وقت فال لیا کرتے تھے۔ انہوں نے تین قسم کے تیر بنا رکھتے تھے۔ ایک افعل (کر) دوسرے میں لاتفعل (نہ کر) اور تیسرے میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ افعل والا تیر نکل آتا تو وہ کام کر لیا جاتا، لاتفعل والا نکلتا تو نہ کرتے اور تیسرا تیر نکل آتا تو پھر دوبارہ فال نکالتے۔ یہ بھی گویا کہانت اور استمداد بغیر اللہ کی شکل ہے، اس لیے اسے بھی حرام کر دیا گیا استقسام کے معنی طلب قسم تہیں یعنی تیروں سے قسمت طلب کرتے تھے۔

٣۔(۱۰) یہ بھوک کی اضطراری کیفیت میں مذکورہ محرمات کے کھانے کی اجازت ہے بشرطیکہ مقصد اللہ کی نافرمانی اور حد تجاوز کرنا نہ ہو، صرف جان بچانا مطلوب ہو۔

٤۔(۱) اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو حلال ہیں۔ ہر حلال طیب ہے اور ہر حرام خبیث۔

٤۔(۲) جوارح جارح کی جمع ہے جو کاسب کے معنی میں ہے۔ مراد شکار کتا، باز، چیتا، شکرا اور دیگر شکاری پرندے اور درندے ہیں۔ مکلبین کا مطلب ہے شکار پر چھوڑنے سے پہلے ان کو شکار کے لیے سدھایا گیا ہو۔ سکھانے کا مطلب ہے جب اسے شکار پر چھوڑا جائے۔ تو دوڑتا ہوا جائے۔ جب روک دیا جائے تو رک جائے اور بلایا جائے تو واپس آ جائے۔

٤۔(۳)  ایسے سدھارے ہوئے جانوروں کا شکار کیا ہوا جانور دو شرطوں کے ساتھ حلال ہے۔ ایک یہ کہ اسے شکار کے لئے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لی گئی ہو۔ دوسری یہ کہ شکاری جانور شکار کر کے اپنے مالک کے لئے رکھ چھوڑے اور اسی کا انتظار کرے، خود نہ کھائے۔ حتیٰ کے اگر اس نے مار بھی ڈالا ہو، تب بھی مقتول شکار شدہ جانور حلال ہو گا بشرطیکہ اس کے شکار میں سدھائے اور چھوڑے ہوئے جانور کے علاوہ کسی اور جانور کی شرکت نہ ہو (صحیح بخاری کتاب الذبائح والصید مسلم، کتاب الصید)

٥۔(١)  اہل کتاب کا وہی ذبیحہ حلال ہو گا جس میں خون بہہ گیا ہو۔ یعنی ان کا مشینی ذبیحہ حلال نہیں ہی کیونکہ اس میں خون بہنے کی ایک بنیادی شرط مفقود ہے۔

٥۔(٢)  اہل کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت کے ساتھ ایک تو پاکدامن کی قید ہے، جو آج کل اکثر عورتوں میں عام ہے۔ دوسرے اس کے بعد فرمایا گیا جو ایمان کے ساتھ کفر کرے، اس کے عمل برباد ہو گئے اس سے یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اگر ایسی عورت سے نکاح کرنے میں ایمان کی ضیاع کا اندیشہ ہو تو بہت ہی خسارے کا سودا ہو گا اور آج کل اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح میں ایمان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں محتاج وضاحت نہیں۔ در آں حالانکہ ایمان کو بچانا فرض ہے، ایک جائز کے لئے فرض کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس لیے اس کا جواز بھی اس وقت تک ناقابل عمل رہے گا، جب تک دونوں مذکورہ چیزیں مفقود نہ ہو جائیں۔ علاوہ ازیں آج کل کے اہل کتاب ویسے بھی اپنے دین سے بالکل ہی بیگانہ بلکہ بیزار اور باغی ہیں۔ اس حالت میں کیا وہ واقعی اہل کتاب میں شمار بھی ہو سکتے ہیں ؟ واللہ اعلم۔

٦۔(١) منہ دھوؤ، یعنی ایک ایک دو دو یا تین تین مرتبہ دونوں ہتھیلیاں دھونے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کے بعد۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔ منہ دھونے کے بعد ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔

٦۔(۲) مسح پورے سر کا کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے گدی تک لے جائے اور پھر وہاں سے آگے کو لائے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اسی کے ساتھ کانوں کا مسح کر لے۔

٦۔(۳) ارجلکم کا عطف وجوھکم پر ہے یعنی اپنے پیر ٹخنوں تک دھوؤ!

٦۔(٤) جنابت سے مراد وہ ناپاکی ہے جو احتلام یا بیوی سے ہم بستری کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی حکم میں حیض اور نفاس بھی داخل ہے۔ جب حیض اور نفاس کا خون بند ہو جائے تو پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے طہارت یعنی غسل ضروری ہے۔ البتہ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے (فتح القدیر)

٦۔(۵)  اس کی مختصر تشریح اور تیمم کا طریقہ سورۃ نساء کی آیت نمبر ٢٣ میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری میں اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ ایک سفر میں بیداء کے مقام پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا جس کی وجہ سے وہاں پر رکنا یا رہنا پڑا۔ صبح کی نماز کے لئے لوگوں کے پاس پانی نہ تھا اور تلاش ہوئی تو پانی دستیاب بھی نہیں ہوا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے آیت سن کر کہا اے آل ابی بکر! تمہاری وجہ سے اللہ نے لوگوں کے لئے برکتیں نازل فرمائی ہیں یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ (تم لوگوں کے لئے سراپا برکت ہو) (صحیح بخاری)

٦۔(٦) اس لئے تیمم کی اجازت فرما دی ہے۔

٦۔(۷)  اسی لئے حدیث میں وضو کرنے کے بعد دعا کرنے کی ترغیب ہے۔ دعاؤں کی کتابوں سے دعا یاد کر لی جائے

٨۔١پہلے جملے کی تشریح سورۃ نساء آیت نمبر ١٣٥ میں دوسرے جملے کی سورہ المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چنانچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا ' (صحیح بخاری)

١١۔ اس کی شان نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ مثلاً اس اعرابی کا واقعہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر سے واپسی پر ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے، تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس اعرابی نے تلوار پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر سونت لی اور کہنے لگا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلا تامل فرمایا اللہ (یعنی اللہ بچائے گا) یہ کہنا تھا کہ تلوار ہاتھ سے گر گئی۔ بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کے خلاف جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں تشریف فرما تھے، دھوکا اور فریب سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بچایا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کے ہاتھوں غلط فہمی سے جو دو عامری شخص قتل ہو گئے تھے، ان کی دیت کی ادائیگی میں یہودیوں کے قبیلے بنو نفیر سے حسب وعدہ جو تعاون لینا تھا، اس کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے رفقا سمیت تشریف لے گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے یہ سازش تیار کی تھی کہ اوپر سے چکی کا پتھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر گرا دیا جائے، جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی مطلع فرما دیا۔ ممکن ہے سارے ہی واقعات کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ ایک آیت کے نزول کے کئی اسباب و عوامل ہو سکتے ہیں (تفسیر ابن کثیر و فتح القدیر)

۱۲۔ (۱)جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو وہ عہد اور میثاق پورا کرنے کی تاکید کی جو اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے سے لیا اور انہیں قیام حق اور شہادت عدل کا حکم دیا اور انہیں وہ انعامات یاد کرائے جو ان پر ظاہرا وباطنا ہوئے اور بالخصوص یہ بات کہ انہیں حق و ثواب کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی تو اب اس مقام پر اس عہد کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا اور جس میں وہ ناکام رہے۔ یہ گویا بالواسطہ مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ تم بھی کہیں بنو اسرائیل کی طرح عہد و میثاق کو پامال کرنا شروع نہ کر دینا۔

۱۲۔ (۲)  اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جبابرہ سے قتال کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے اپنی قوم کے بارہ قبیلوں بارہ نقیب مقرر فرما دیے تاکہ وہ انہیں جنگ کے لیے تیار بھی کریں، ان کی قیادت و راہنمائی بھی کریں اور دیگر معاملات کا انتظام بھی کریں۔

١٣۔(١)  یعنی اتنے انتظامات عہد موعید کے باوجود بنو اسرائیل نے عہد شکنی کی کہ جس کی بنا پر کہ وہ لعنت الٰہی کے موجب بنے، اس لعنت کے دنیوی نتائج یہ سامنے آئے کہ ایک، ان کے دل سخت کر دیئے گئے جس سے ان کے دل اثر پزیری سے محروم ہو گئے اور انبیاء کے وعظ و نصیحت ان کے لیے بے کار ہو گئے، دوسرے یہ کہ وہ کلمات الٰہی میں تحریف کرنے لگ گئے۔ اسی طرح اپنی بد علت، خود ساختہ مزعومات اور اپنے تاویلات باطلہ کے اثبات کے لیے کلام الٰہی میں تحریف کر ڈالتے ہیں۔

١٣۔(٢) یہ تیسرا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں انہیں کوئی رغبت اور دلچسپی نہیں رہی بلکہ بے عملی اور بد عملی ان کا شعار بن گئی اور وہ پستی کے اس مقام پر پہنچ گئے کہ ان کے دل ٹھیک رہے اور نہ ان کی فطرت مستقیم۔

١٣۔(٣) یعنی شذر خیانت اور مکر ان کے کردار جزو بن گیا ہے جس کے نمونے ہر وقت آپ کے سامنے آتے رہیں گے۔

١٣۔(٤) یہ تھوڑے سے لوگ وہی ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہو گئے تھے اور ان کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔

١٣۔(٥) عفو و و درگزر کا یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ بعد میں اس کی جگہ حکم دیا گیا (قَاتِلُوْ ا الَّذیْنَ لَا یُئْومِنُونَ بِا للّٰہِ وَلَا بِالْیُومِ الْاٰ خِرِ) (التوبہ۔ ٢٩) ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے ' بعض کے نزدیک عفو و درگزر کا یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ 'یہ بجائے خود ایک اہم حکم ہے، حالات کے مطابق اسے بھی اختیار کیا جا سکتا ہے اور اس کے بھی بعض دفعہ وہ نتائج حاصل ہو جاتے ہیں جن کے لئے قتال کا حکم ہے۔

١٤۔(١)  نصاریٰ نصرۃ مدد سے ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوال من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین میں کون میرا مددگار ہے ؟ کے جواب میں ان کے چند مخلص پیروکاروں نے جواب دیا تھا (نحن انصار اللہ) ہم اللہ کے مددگار ہیں اسی سے ماخوذ ہے۔ یہ بھی یہود کی طرح اہل کتاب ہیں۔ ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے عہد لیا، لیکن انہوں نے بھی اس کی پرواہ نہیں کی، اس کے نتیجے میں ان کے دل بھی اثر پذیری سے خالی اور ان کے کردار کھوکھلے ہو گئے۔

١٤۔(٢) یہ عہد الٰہی سے انحراف اور بے عملی کی وہ سزا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر قیامت تک کے لئے مسلط کر دی گئی۔ چنانچہ عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں جو ایک دوسرے سے شدید نفرت و عناد رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکفیر (کافر سمجھتے ) کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہ میں عبادت نہیں کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ پر بھی یہ سزا مسلط کر دی گئی ہے۔ یہ امت بھی کئی فرقوں میں بٹ گئی ہے، جن کے درمیان شدید اختلافات اور نفرت و عناد کی دیواریں حائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔

١٥۔(١) یعنی انہوں نے تورات و انجیل میں جو تبدیلیاں اور تحریفات کیں، انہیں طشت از بام کیا اور جن کو وہ چھپاتے تھے، ظاہر کیا، جیسے سزائے رجم۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔

١٥۔(٢) نور اور کِتَابُ مُّیْن دونوں سے مراد قرآن کریم ہے، ان کے درمیان واو مغایرت مصداق نہیں مغایرت معنی کے لیے ہے اور یہ عطف تفسیری ہے جس کی واضح دلیل قرآن کریم کی اگلی آیت ہے جس میں کہا جا رہا ہے اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے اگر نور اور کتاب یہ الگ الگ چیزیں ہوتیں تو الفاظ (یَّھدِیبِھِمَا اللّٰہَ) ہوتے، یعنی اللہ تعالیٰ ان دونوں کے ذریعے سے ہدایت فرماتا ہے، قرآن کریم کی اس خاص آیات سے واضح ہو گیا کہ نور اور کتاب مبین دونوں سے مراد ایک یہ چیز یعنی قرآن کریم ہے۔ یہ نہیں ہے کہ کہ نور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ جیسا کہ وہ اہل بدعت باور کراتے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بابت نور من نور اللہ کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح اس خانہ ساز عقیدے کے اثبات کے لیے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ اللہ نے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا نور پیدا کیا اور پھر اس نور سے ساری کائنات پیدا کی۔ حالانکہ یہ حدیث، حدیث کے کسی بھی مستند مجموعے میں موجود نہیں ہے علاوہ ازیں یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا محدث البانی لکھتے ہیں "فالحدیث صحیح بلا ریب، وھو من الادلۃ الظاھرۃ علی بطلان الحدیث المشھور "اول ماخلق اللہ نور نبیک یا جابر" مشہور حدیث جابر کہ اللہ نے سب سے پہلے تیرے نبی کا نور پیدا کیا باطل ہے۔

١٧۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور ملکیت تامہ کا بیان فرمایا ہے۔ مقصد عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کا رد و ابطال ہے۔ حضرت عیسیٰ کے عین اللہ ہونے کے قائل پہلے تو کچھ ہی لوگ تھے یعنی ایک ہی فرقہ۔ یعقوبیہ کا یہ عقیدہ تھا لیکن اب تمام عیسائی الوہیت مسیح کے کسی نہ کسی انداز سے قائل ہیں۔ اس لئے مسیحیت میں اب عقیدہ تثلیث یا اقانیم ثلاثہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہرحال قرآن نے اس مقام پر تصریح کر دی کہ کسی پیغمبر اور رسول کو الٰہی صفات سے متصف قرار دینا کفر صریح ہے۔ اس کفر کا ارتکاب عیسائیوں نے، حضرت مسیح کو اللہ قرار دے کر کیا، اگر کوئی اور گروہ یا فرقہ کسی اور پیغمبر کو بشریت و رسالت کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کرے گا تو وہ بھی اسی کفر کا ارتکاب کرے گا،

١٨۔(١) یہودیوں نے حضرت عزیر کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ کہا اور اپنے آپ کو بھی ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے ) اور اس کا محبوب قرار دے لیا۔ بعض کہتے ہیں یہاں ایک لفظ محذوف ہے یعنی اتباع ابناء اللہ ہم اللہ کے بیٹوں (عزیر و مسیح) کے پیروکار ہیں (دونوں مفہوموں میں سے کوئی سا بھی مفہوم مراد لیا جائے۔ اس سے ان کے تفاخر اور اللہ کے بارے میں بے جا اعتماد اظہار ہوتا ہے۔ جس کی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں۔

١٨۔(٢) اس میں ان کے مذکورہ تفاخر کا بے بنیاد ہونا واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ کے محبوب اور چہیتے ہوتے یا محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے تم جو چاہو کرو اللہ تم سے باز پرس نہیں کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں کی پادش میں سزا کیوں دیتا رہا ہے ؟ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی بارگاہ میں دعووں کی بنیاد پر نہیں ہوتا نہ قیامت والے دن ہو گا بلکہ وہ تو ایمان و تقویٰ اور عمل دیکھتا ہے اور دنیا میں بھی اسی کی روشنی میں فیصلہ فرماتا ہے اور قیامت والے دن بھی اسی اصول پر فیصلہ ہو گا۔

١٨۔(٣)  تاہم یہ عذاب یا مغفرت کا فیصلہ اسی سنت اللہ کے مطابق ہو گا، جس کی اس نے وضاحت فرما دی ہے کہ اہل ایمان کے لئے مغفرت اور اہل کفر و فسق کے لئے عذاب، تمام انسانوں کا فیصلہ اسی کے مطابق ہو گا۔ اے اہل کتاب! تم بھی اسی کی پیدا کردہ مخلوق یعنی انسان ہو۔ تمہاری بابت فیصلہ دیگر انسانی مخلوق سے مختلف کیوں کر ہو گا۔

١٩۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ کے درمیان جو تقریباً  ٥٧٠ یا  ٦٠٠ سال کا فاصلہ ہے یہ زمانہ فترت کہلاتا ہے۔ اہل کتاب کو کہا جا رہا ہے کہ اس فترت کے بعد ہم نے اپنا آخری رسول بھیج دیا ہے اب تم یہ بھی نہ کہہ سکو گے کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر و نذیر پیغمبر ہی نہیں آیا۔

٢٠۔(١) بیشتر انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں جن کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم کر دیا گیا اور آخری پیغمبر بنو اسماعیل سے ہوئے۔ اسی طرح متعدد بادشاہ بھی بنی اسرائیل میں ہوئے اور بعض نبیوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ملوکیت (بادشاہت) سے نوازا، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نبوت کی طرح ملوکیت (بادشاہت) بھی اللہ کا انعام ہے، جسے علی الاطلاق برا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر ملوکیت بری چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بادشاہ بناتا نہ اس کا ذکر انعام کے طور پر فرماتا، جیسا کہ یہاں ہے آج کل مغربی جمہوریت کا کا بوس اس طرح ذہنوں پر مسلط ہے اور شاطران، مغرب نے اس کا افسوں اس طرح پھونکا ہے کہ مغربی افکار کے اسیر اہل سیاست ہی نہیں بلکہ اصحاب جبہ و دستار بھی ہیں۔ بہرحال ملوکیت یا شخصی حکومت، اگر بادشاہ اور حکمران عادل ومتقی ہو تو جمہوریت سے ہزار درجے بہتر ہے۔

٢٠۔(٢) یہ اشارہ ہے ان انعامات اور معجزات کی طرف، جن سے بنی اسرائیل نوازے گئے، جیسے من و سلویٰ کا نزول، بادلوں کا سایہ، فرعون سے نجات کے لئے دریا سے راستہ بنا دیا وغیرہ۔ اس لحاظ سے یہ قوم اپنے زمانے میں فضیلت اور اونچے مقام کی حامل تھی لیکن پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد کی رسالت و بعث کے بعد اب یہ مقام فضیلت امت محمدیہ کو حاصل ہو گیا ہے (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران۔١١٠) تم بہترین امت ہو جسے نوع انسانی کے لئے بنایا گیا ہے لیکن یہ بھی مشروط ہے اس مقصد کی تکمیل کے ساتھ جو اسی آیت میں بیان کر دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اس مقصد کے لئے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے خیر امت ہونے کا اعزاز برقرار رکھ سکے۔

٢١۔(١) بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت  المقدس تھا۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے امارات مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہو گئے تھے اور پھر تب سے اس وقت مصر میں ہی رہے، جب تک کہ موسیٰ علیہ السلام انہیں راتوں رات (فرعون سے چھپ کر) مصر سے نکال نہیں لے گئے۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارض مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الٰہی کی بشارت بھی سنائی۔ لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر تیار نہ ہوئے (ابن کثیر)

٢١۔(٢) اس سے مراد وہی فتح و نصرت ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی صورت میں ان سے کر رکھا تھا۔

٢١۔(٣) یعنی جہاد سے اعراض مت کرو۔

٢٢۔ بنو اسرائیل عمالقہ کی بہادری کی شہرت سے مرعوب ہو گئے تھے اور پہلے مرحلے پر ہی ہمت ہار بیٹھے۔ اور جہاد سے دست بردار ہو گئے۔ اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کی کوئی پروا کی اور نہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ نصرت پر یقین کیا وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا۔

٢٣۔ قوم موسیٰ علیہ السلام میں صرف یہ دو شخص صحیح معنوں میں ایماندار نکلے، جنہیں نصرت الٰہی پر یقین تھا انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ تم ہمت تو کرو، پھر دیکھو کس طرح اللہ تمہیں غلبہ عطا فرماتا ہے۔

٢٤۔ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یا رسول اللہ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)

٢٥۔ اس میں نافرمان قوم کے مقابلے میں اپنی بے بسی کا اظہار بھی ہے اور برات کا اعلان بھی۔

٢٦۔ (۱)یہ میدان تیہ کہلاتا ہے جس میں چالیس سال یہ قوم اپنی نافرمانی اور جہاد سے اعراض کی وجہ سے سرگرداں رہی۔ اس میدان میں اس کے باوجود ان پر من و سلویٰ کا نزول ہوا جس سے اکتا کر انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ روز روز ایک ہی کھانا کھا کر ہمارا جی بھر گیا ہے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور دالیں ہمارے لئے پیدا فرمائے۔ یہیں ان پر بادلوں کا سایہ ہوا، پتھر پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی مارنے سے بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے اور اس طرح کے دیگر انعامات ہوتے رہے۔ چالیس سال بعد پھر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہ بیت المقدس کے اندر داخل ہوئے۔

٢٦۔(٢) پیغمبر جب دیکھتا ہے دعوت و تبلیغ کے باوجود میری قوم سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ جس میں اس کے لئے دین و دنیا کی سعادتیں اور بھلائیاں ہیں تو فطری طور پر اس کو سخت افسوس اور دلی صدمہ ہوتا ہے۔ یہی نبی کا بھی حال ہوتا تھا، جس کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ فرمایا لیکن آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے فریضہ تبلیغ ادا کر دیا اور پیغام الہی لوگوں تک پہنچا دیا اور اپنی قوم کو ایک عظیم الشان کامیابی کے نقطہ آغاز پر لا کھڑا کیا۔ لیکن اب وہ اپنی دون ہمتی اور بد دماغی کے سبب تیری بات ماننے کو تیار نہیں تو تو اپنے فرض سے سبک دوش ہو گیا اور اب تجھے ان کے بارے میں غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایسے موقع پر غمگینی تو ایک فطری چیز ہے۔ لیکن مراد اس تسلی سے یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے بعد اب تم عند اللہ بری الذمہ ہو۔

٢٧۔(١)  آدم علیہ السلام کے ان دو بیٹوں کے نام ہابیل اور قابیل تھے۔

٢٧۔(٢) یہ نذرانہ یا قربانی کس لئے پیش کی گئی؟ اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتداء میں حضرت آدم و حوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی۔ دوسرے حمل سے پھر لڑکا اور لڑکی ہوتی، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بھائی بہن سے کر دیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی، جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کی بجائے اپنی ہی بہن کے ساتھ جو خوبصورت تھی نکاح کرے۔ آدم علیہ السلام نے اسے سمجھایا، لیکن وہ نہ سمجھا بالا خر حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو بارگاہ الٰہی میں قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی قبول ہو جائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا جائے گا، ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی، یعنی آسمان سے آگ آئی اور اسے کھا گئی جو اس کے قبول ہونے کی دلیل تھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ویسے ہی دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے طور پر اللہ کی بارگاہ میں نذر پیش کی، ہابیل نے ایک عمدہ دنبہ کی قربانی اور قابیل نے گندم کی بالی قربانی میں پیش کی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر قابیل حسد کا شکار ہو گیا۔

٢٩۔میرے گناہ کا مطلب قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا (صحیح بخاری و مسلم کتاب الفتن)

٣٠۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے (لَا تَقْتُلُ نَفْسً ظُلُماً اِلَّا کَانَ عَلیٰ اِبْنِ آدَمْ کفل من دمہا، لانہ کان اول من سن القتل) (الصحیح بخاری) جو قتل بھی ظلماً ہوتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم کے اس پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں ' کہ ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قابیل کو ہابیل کے قتل ناحق کی سزا دنیا میں ہی فوری طور پر دے دی گئی تھی۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی یہ دونوں گناہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرنے والوں کو دنیا میں ہی جلد سزا دے دے، تاہم آخرت کی سزا اس کے علاوہ اس کے لئے الگ ہو گی جو انہیں وہاں بھگتنی ہو گی۔ قابیل میں یہ دونوں گناہ جمع ہو گئے تھے ' اِنْا للہِ وَ اِنِّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ (ابن کثیر)

٣٢۔(١)  اس قتل ناحق کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر وقیمت کو واضح کرنے کے لئے بنو اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا یہ آیت ہمارے لئے بھی ہے جس طرح بنو اسرائیل کے لئے تھی، انہوں نے فرمایا، ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بنو اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے (تفسیر ابن کثیر)

٣٢۔(٢)  اس میں یہود کو تنبیہ اور ملامت ہے کہ ان کے پاس انبیاء دلائل لے کر آتے رہے۔ لیکن ان کا رویہ ہمیشہ حد سے تجاوز کرنے والا ہی رہا اس میں گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ آپ کو قتل کرنے اور نقصان پہنچانے کی جو سازش کرتے رہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، ان کی ساری تاریخ ہی مکر و فساد سے بھری ہوئی ہے۔ آپ بہرحال اللہ پر بھروسہ رکھیں جو خیرالماکرین ہے۔ تمام سازشوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

٣٣۔ اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں مدینہ سے باہر، جہاں صدقے کے اونٹ تھے، بھیج دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب پیو، اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمائے گا۔ چنانچہ چند روز میں وہ ٹھیک ہو گئے لیکن اس کے بعد انہوں نے اونٹوں کے رکھوالے اور چروا ہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا کر لے گئے۔ جب نبی کو اس امر کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے جو انہیں اونٹوں سمیت پکڑ لائے۔ نبی نے ان کے ہاتھ پیر مخالف جانب سے کاٹ ڈالے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں، (کیونکہ انہوں نے بھی چروا ہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا) پھر انہیں دھوپ میں ڈال دیا گیا حتّیٰ کہ وہیں مر گئے۔ صحیح بخاری میں یہ بھی آتا ہے انہوں نے چوری بھی کی اور قتل بھی کیا، ایمان لانے کے بعد کفر بھی کیا اور اللہ و رسول کے ساتھ محاربہ بھی (صحیح بخاری) یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے۔ اس کا حکم عام ہے یعنی مسلمانوں اور کافروں دونوں کو شامل ہے۔ محاربہ کا مطلب ہے۔ کسی منظم اور مسلح جتھے کا اسلامی حکومت کے دائرے میں یا اس کے قریب صحرا وغیرہ میں راہ چلتے قافلوں اور افراد اور گروہوں پر حملے کرنا، قتل و غارت گری کرنا، سلب و نہب، اغوا اور آبرو ریزی کرنا وغیرہ اس کی جو سزائیں بیان کی گئی ہیں۔ امام خلیفہ وقت کو اختیار ہے کہ ان میں سے جو سزا مناسب سمجھے دے۔ بعض لوگ کہتے ہیں اگر محاربین نے قتل و سلب کیا اور دہشت گردی کی تو انہیں قتل اور سولی کی سزا دی جائے گی اور جس نے صرف قتل کیا، مال نہیں لیا اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے قتل کیا اور مال بھی چھینا اس کا ایک دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اور جس نے نہ قتل کیا نہ مال لیا، صرف دہشت گردی کی اسے جلا وطن کر دیا جائے گا لیکن امام شوکانی فرماتے ہیں پہلی بات صحیح ہے کہ سزا دینے میں امام کو اختیار حاصل ہے۔ (فتح القدیر)

٣٤۔ یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اسلامی حکومت کی اطاعت کا اعلان کر دیں تو پھر انہیں معاف کر دیا جائے، مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ لیکن پھر اس امر میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انہوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا ابرو ریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی یہ جرائم بھی معاف ہو جائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا، بعض علماء کے نزدیک معاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کا قصاص لیا جائے گا۔ (امام شوکانی اور امام ابن کثیر کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انہیں معاف کر دیا جائے گا اور اسی کو ظاہر آیت کا مقتضی بتلایا ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے۔ وہ مستحق سزا ہوں گے۔

٣٥۔ وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔ ' اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو ' کا مطلب ہو گا ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جائے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں ' و سیلہ جو قربت کے معنی میں ہے تقویٰ اور دیگر خصال خیر پر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں، اسی طرح جن باتوں سے روکا گیا ہو ان کا ترک بھی قرب الٰہی کا وسیلہ ہے۔ البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کو عطا فرمایا جائے گا۔ اسی لئے آپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لئے یہ دعائے وسیلہ کرے گا وہ میری شفاعت کا مستحق ہو گا۔(صحیح بخاری)

٣٦۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک جہنمی کو جہنم سے نکال کر اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا ' تو نے اپنی آرام گاہ کیسے پائی '؟ وہ کہے گا ' بدترین آرام گاہ ' اللہ تعالیٰ فرمائے گا"کیا تو زمین بھر سونا فدیہ دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرن پسند کرے گا؟"وہ اثبات میں جواب دے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو دنیا میں اس سے بھی بہت کم کا تجھ سے مطالبہ کیا تھا تو نے وہاں کی پروا نہیں کی اور اسے دوبارہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا (صحیح مسلم)

٣٧۔ یہ آیت کافروں کے حق میں ہے، کیونکہ مومنوں کو بالآخر سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔

٣٨۔ بعض فقہا ظاہری کے نزدیک سرقہ کا یہ حکم عام ہے چوری تھوڑی سی چیز کی ہو یا زیادہ کی۔ اسی طرح محفوظ جگہ میں رکھی ہو یا غیر محفوظ۔ ہر صورت میں چوری کی سزا دی جائے گی۔ جب کہ دوسرے فقہا اس کے لئے حرز اور نصاب کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پھر نصاب کے تعین میں ان کے مابین اختلاف ہے۔ محدثین کے نزدیک نصاب رابع دینار یا تین درہم (یا ان کے مساوی قیمت کی چیز) ہے اس سے کم چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح ہاتھ رسغ (پہنچوں ) سے کاٹے جائیں گے۔ کہنی یا کندھے سے نہیں۔ جیسا کہ بعض کا خیال ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے کتب حدیث و فقہ اور تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے )۔

٣٩۔ اس توبہ سے مراد عند اللہ قبول توبہ ہے۔ یہ نہیں کہ توبہ چوری یا کسی اور قابل حد جرم کی سزا معاف ہو جائے گی حدود، توبہ سے معاف نہیں ہوں گی۔

٤١۔ (١) نبی کریم کو اہل کفر و شرک کے ایمان نہ لانے اور ہدایت کا راستہ نہ اپنانے پر جو قلق اور افسوس ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو زیادہ غم نہ کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں تاکہ اس اعتبار سے آپ کو تسلی رہے کہ ایسے لوگوں کی بابت عند اللہ مجھ سے باز پرس نہیں ہو گی۔

٤١۔(٢) آیت نمبر ٤١ تا ٤٤ کی شان نزول میں دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک تو دو شادی شدہ یہودی زانیوں (مرد عورت) کا۔ انہوں نے اپنی کتاب تورات میں تو رد و بدل کر ڈالا تھا، علاوہ ازیں اس کی کئی باتوں پر عمل بھی نہیں کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک حکم رجم بھی تھا جو ان کی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے لئے تھا اور اب بھی وہ موجود ہے لیکن وہ چونکہ اس سزا سے بچنا چاہتے تھے اس لئے آپس میں فیصلہ کیا کہ محمد کے پاس چلتے ہیں اگر انہوں نے ہمارے ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق کوڑے مارنے اور منہ کالا کرنے کی سزا کا کہا تو مان لیں گے اور اگر رجم کا فیصلہ دیا تو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کی بابت کیا ہے ؟ انہوں نے تورات میں زنا کی سزا کوڑے مارنا اور رسوا کرنا ہے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے، جاؤ تورات لاؤ تورات لا کر وہ پڑھنے لگے تو آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنے لگ گئے حضرت عبد اللہ بن السلام نے کہا یہاں سے ہاتھ ہٹاؤ تو وہ آیت وہاں موجود تھی۔ بالاخر انہیں اعتراف کرنا پڑا۔ چنانچہ دونوں زانیوں کو سنگسار کر دیا (ابن کثیر)۔ ایک دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ یہود کا ایک قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے یہودی قبیلے سے زیادہ معزز اور محترم سمجھتا تھا اور اسی کے مطابق اپنے مقتول کی دیت سو وسق اور دوسرے قبیلے کے مقتول کی پچاس وسق مقرر کر رکھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کے دوسرے قبیلے کو کچھ حوصلہ ہوا جس کے مقتول کی دیت نصف تھی اور اس نے دیت سو وسق دینے سے انکار کر دیا۔ قریب تھا کہ ان کے درمیان اس مسئلے پر لڑائی چھڑ جاتی، لیکن ان کے سمجھدار لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فیصلہ کرانے پر رضامند ہو گئے اس موقعے پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں سے ایک آیت میں قصاص میں برابری کا حکم دیا گیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں ممکن ہے دونوں سبب ایک ہی وقت میں جمع ہو گئے ہوں اور ان سب کے لیے ان آیات کا نزول ہوا ہو۔ (ابن کثیر)

٤٢۔ سَمَّاعُوْن کے معنی ہیں بہت سننے والا اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لئے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لئے سننا، بعض مفسرین نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے۔

٤٤۔(١) (لِلَّذیْنَ ھَادوْ ا) اس کا تعلق یَحُکْمُ سے ہے۔ یعنی یہودیوں سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔

٤٤۔(٢) اَ سْلَمُوْا یہ نبِیِّنّّ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ سارے انبیاء دین اسلام ہی کے پیروکار تھے جس کی طرف محمد دعوت دے رہے ہیں۔ یعنی تمام پغمبروں کا دین ایک ہی رہا ہے۔ اسلام جس کی بنیادی دعوت یہ تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہی دعوت توحید و اخلاص پیش کی۔(وما ارسلنا من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الٰہ الا انا فاعبدون ) (الانبیاء ۲۵) ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، پس تم سب میری ہی عبادت کرو"۔ اسی کو قرآن میں الدین بھی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ سورہ شوریٰ کی آیت ۱۳ (شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا) الایۃ میں کہا گیا ہے جس میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے لیے ہم نے وہی دین مقرر کیا ہے جو آپ سے قبل دیگر انبیا کے لیے کیا تھا۔

٤٤۔(٣) چنانچہ انہوں نے تورات میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا، جس طرح بعد میں لوگوں نے کیا۔

٤٤۔(٤) کہ یہ کتاب کمی بیشی سے محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔

٤٤۔(٥) یعنی لوگوں سے ڈر کر تورات کے اصل احکام پر پردہ مت ڈالو نہ دنیا کے تھوڑے سے مفادات کے لئے ان میں رد و بدل کرو۔

٤٤۔(٦) پھر تم کیسے ایمان کے بدلے کفر پر راضی ہو گئے ہو؟

٤٥۔(١) جب تورات میں جان کے بدلے جان اور زخموں میں قصاص کا حکم دیا گیا تو پھر یہودیوں کے ایک قبیلے (بنو نفیر) کا دوسرے قبیلے (بنو قرظہ) کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ کرنا اور اپنے مقتول کی دیت دوسرے قبیلے کے مقتول کی بنسبت دوگنا رکھنے کا کیا جواز ہے ؟ جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے صفحات میں گزری۔

٤٥۔(۲)یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس قبیلے میں مذکورہ فیصلہ کیا تھا، یہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف تھا اور اس طرح انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ گویا انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ احکاماتِ الہی کو اپنائے اسی کے مطابق فیصلے کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو بارگاہ الہی میں ظالم متصور ہو گا فاسق متصور ہو گا اور کافر متصور ہو گا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے تینوں لفظ استعمال کر کے اپنے غضب اور ناراضگی کا بھرپور اظہار فرما دیا۔ اس کے بعد بھی انسان اپنے ہی خود ساختہ قوانین یا اپنی خواہشات ہی کو اہمیت دے تو اس سے زیادہ بد قسمتی کیا ہو گی؟

٤٦۔(١) یعنی انبیائے سابقین کے فوراً بعد، متصل ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا جو اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، نہ کہ اس کو جھٹلانے والے تھے، جو اس بات کی دلیل تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسی اللہ کے فرستادہ ہیں جس نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائی تھی، تو اس کے باوجود یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب (جھٹلایا) کی بلکہ ان کی تکفیر اور تنقیص و اہانت کی (کفر کا فتویٰ دے کر رسوا کیا)

٤٦۔(٢) یعنی جس طرح تورات اپنے وقت میں لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی۔ اسی طرح انجیل کے نزول کے بعد اب یہی حیثیت انجیل کو حاصل ہو گئی اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد تورات و انجیل اور دیگر کتب آسمانی پر عمل منسوخ ہو گیا اور ہدایت و نجات کا ذریعہ قرآن کریم رہ گیا اور اسی پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم فرما دیا، یہ گویا اس بات کا اعلان ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کی فلاح اور کامیابی اسی قرآن سے وابستہ ہے۔ جو اس سے جڑ گیا سرخرو رہے گا جو کٹ گیا ناکامی و نامرادی اس کا مقدر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ "وحدت ادیان" کا فلسفہ یکسر غلط ہے، حق ہر دور میں ایک ہی رہا ہے، متعدد نہیں۔ حق کے سوا دوسری چیزیں باطل ہیں۔ تورات اپنے دور کا حق تھی۔ اس کے بعد انجیل اپنے دور کا حق تھی انجیل کے نزول کے بعد تورات پر عمل کرنا جائز نہیں تھا۔ اور جب قرآن نازل ہو گیا تو انجیل منسوخ ہو گئی۔ انجیل پر عمل کرنا بالکل جائز نہیں رہا اور صرف قرآن ہی واحد نظام عمل اور نجات کے لیے قابل عمل رہ گیا۔ اس پر ایمان لائے بغیر یعنی نبوت حضرت محمد الصلوٰۃ والسلام کو تسلیم کئے بغیر نجات ممکن نہیں۔ مزید ملاحظہ ہو سورہ بقرہ آیت ۲٦ کا حاشیہ۔

٤٧۔ اہل انجیل کو یہ حکم اس وقت تھا جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دور نبوت بھی ختم ہو گیا۔ اور انجیل کی پیروی کا حکم بھی۔ اب ایماندار وہی سمجھا جائے گا جو رسالت محمدیہ پر ایمان لائے گا اور قرآن کریم کی پیروی کرے گا۔

٤٨۔(١)  ہر آسمانی کتاب اپنے سے ما قبل کتاب کی مصدق رہی ہے جس طرح قرآن پچھلی تمام کتابوں کا مصدق ہے اور تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کتابیں فی الواقع اللہ کی نازل کردہ ہیں۔ لیکن قرآن مصدق ہونے کے ساتھ ساتھ مُھَیْمِنْ (محافظ، امین، شاہد اور حاکم) بھی ہے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف اور تغیر (یعنی کاٹ چھانٹ اور تبدیلی) بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہو گا، جس کو صحیح قرار دے گا وہی صحیح ہے۔ باقی باطل ہے۔

٤٨۔(٢)  اس سے پہلے آیت نمبر ٤٢ میں نبی کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں۔ آپ کی مرضی ہے۔ لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے، کہ ان کے آپس کے معاملات میں بھی قرآن کریم کے مطابق فیصلے فرمائیں۔

٤٨۔(٣) یہ دراصل امت کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب سے ہٹ کر لوگوں کی خواہشات اور آرا یا ان کی خود ساختہ مزعومات و افکار کے مطابق فیصلے کرنا گمراہی ہے، جس کی اجازت جب پیغمبر کو نہیں ہے تو کسی اور کو کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔

٤٨۔(٤)  اس سے مراد پچھلی شریعتیں ہیں جن کے بعض احکامات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ایک شریعت میں بعض چیزیں حرام تو دوسری میں حلال تھیں، بعض میں کسی مسئلے میں تشدید تھی اور دوسرے میں تخفیف، لیکن دین سب کا ایک یعنی توحید پر مبنی تھا۔ اس لئے سب کی دعوت ایک ہی تھی۔ اس مضمون کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے "نحن معاشر الانبیاء اخوۃ لعلات، دیننا واحد"ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں۔ ہمارا دین ایک ہے " علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کی مائیں تو مختلف ہوں باپ ایک ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا دین ایک ہی تھا اور شریعتیں مختلف تھیں۔ لیکن شریعت محمدیہ کے بعد اب ساری شریعتیں بھی منسوخ ہو گئیں ہیں اور اب دین بھی ایک ہے اور شریعت بھی ایک۔

٤٨۔(٥) یعنی نزول قرآن کے بعد اب نجات تو اگرچہ اسی سے وابستہ ہے۔ لیکن اس راہ نجات کو اختیار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جبر نہیں کیا ہے۔ ورنہ وہ چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا، لیکن اس طرح تمہاری آزمائش ممکن نہ ہوتی، جب کہ وہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔

٥٠۔(١)  اب قرآن اور اسلام کے سوا، سب جاہلیت ہے، کیا یہ اب بھی روشنی اور ہدایت (اسلام) کو چھوڑ کر جاہلیت ہی کے متلاشی اور اور طالب ہیں ؟ یہ استفہام، انکار اور توبیخ کے لئے ہے اور ' فا ' لفظ مقدر پر عطف ہے اور معنی ہیں ((یعرضون من حکمک بما انزل اللہ علیک ویتولون عنہ، یبتغون حکم الجاہلیۃ)) تیرے اس فیصلے سے جو اللہ نے تجھ پر نازل کیا ہے یہ اعراض کرتے اور پیٹھ پھیرتے ہیں اور جاہلیت کے طریقوں کے متلاشی ہیں (فتح القدیر)

٥٠۔(٢) حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا 'اللہ کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی ہو اور ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب ہو۔

٥١۔(١) اس میں یہود اور نصاریٰ سے موالات و محبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی گئی جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔ (مزید دیکھئے سورہ آل عمران آیت ٢٨ اور آیت ١١٨ کا حاشیہ)

٥١۔(٢) قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کر سکتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض و عناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔

۵۱۔(۳)  ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی دونوں ہی عہد جاہلیت سے یہود کے حلیف چلے آ رہے تھے۔ جب بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی تو عبد اللہ بن ابی نے بھی اسلام کا اظہار کیا۔ ادھر بنو قینقاع کے یہودیوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد فتنہ برپا کیا اور وہ کس لئے گئے، جس پر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے تو اپنے یہودی حلیفوں سے اعلان براءت کر دیا۔ لیکن عبد اللہ بن ابی نے اس کے برعکس یہودیوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

٥٢۔(١)  اس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔

٥٢۔(٢) یعنی مسلمانوں کو شکست ہو جائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں میں دوستی ہو گی تو ایسے موقع پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔

٥٢۔(٣) یعنی مسلمانوں کو۔

٥٢۔(٤) یہود و نصاریٰ پر جزیہ عائد کر دے یہ اشارہ ہے جو بنو قریظ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنو نضیر کی جلا وطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔

٥٤۔(١) اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق فرمایا، جس کا واقعہ نبی کریم کی وفات کے فوراً بعد ہوا۔ اس فتنہ مرتد کے خاتمے کا شرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقاء کو حاصل ہوا۔

٥٤۔(٢) مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا ان کی چار نمایاں صفات بیان کی جا رہی ہیں،

١۔ اللہ سے محبت کرنا اور اس کا محبوب ہونا

٢۔ اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار پر سخت ہونا

٣۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا،

٤۔ اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان صفات اور خوبیوں کا مظہر اتم تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا و آخرت کی سعادتوں سے مشرف فرمایا اور دنیا میں ہی اپنی رضامندی کی سند سے نواز دیا۔

٥٤۔(٣) یہ ان اہل ایمان کی چوتھی صفت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں داری میں انہیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ ہو گی۔ یہ بڑی اہم صفت ہے۔ معاشرے میں جن برائیوں کا چلن عام ہو جائے ان کے خلاف نیکی پر استقامت اور اللہ کے حکموں کی اطاعت اس صفت کے بغیر ممکن نہیں۔ ورنہ کتنے ہی لوگ ہیں جو برائی، معصیت الٰہی اور معاشرتی خرابیوں سے اپنا دامن بچانا چاہتے ہیں لیکن ملامت گروں کا مقابلہ کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے۔ اسی لئے آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن کو مذکورہ صفات حاصل ہو جائیں تو یہ اللہ کا ان پر خاص فضل ہے۔

٥٥۔ جب یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا گیا تو اب سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ پھر وہ دوستی کن سے کریں ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کے دوست سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ہیں اور پھر ان کے ماننے والے اہل ایمان ہیں۔آگے ان کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔

٥٦۔ یہ حزب اللہ ہے (اللہ کی جماعت) کی نشاندہی اور اس کے غلبے کی نوید سنائی جا رہی ہیں۔ حزب اللہ وہی ہے جس کا تعلق صرف اللہ، رسول اور مومنین سے ہو اور کافروں، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے چاہے وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہوں، وہ محبت و معاملات کا تعلق نہ رکھیں۔ جیسا کہ سورہ مجادلہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ "تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہوں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، ان کے بیٹے ہوں، ان کے بھائی ہوں یا ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہوں، پھر خوشخبری دی گئی کہ "یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جنہیں اللہ کی مدد حاصل ہے، انہیں ہی اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا۔۔ اور یہی حزب اللہ ہے، کامیابی جس کا مقدر ہے

٥٧۔ اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ اور کفار سے مشرکین مراد ہیں۔ یہاں پھر یہی تاکید کی گئی ہے کہ دین کو کھیل مذاق بنانے والے چونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اس لئے ان کے ساتھ اہل ایمان کی دوستی نہیں ہونی چاہئے۔

٥٨۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا 'کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے ؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجت حدیث کا مطلب : حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والے احکام و فرائض پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض ہے، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس و اجتہاد کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعووں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔

٦٠۔ یعنی تم تو (اے اہل کتاب!) ہم سے یوں ناراض ہو جب کہ ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اللہ پر اور قرآن کریم اور اس سے قبل اتاری گئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور یا عیب ہے ؟ یعنی یہ عیب اور مذمت والی بات نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ استثناء منقطع ہے۔ البتہ ہم تمہیں بتلاتے ہیں کہ یہ بدترین لوگ ہیں اور گمراہ ترین لوگ، جو نفرت اور مذمت کے قابل ہیں، کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہوا جن میں سے بعض اللہ تعالیٰ نے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی۔ اور اس آئینے میں تم اپنا چہرا اور کردار دیکھ لو! کہ یہ کن کی تاریخ ہے اور کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو؟

٦١۔ یہ منافقین کا ذکر ہے جو نبی کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت اور آپ کے واعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری سے مقصد ہدایت کا حصول نہیں، بلکہ دھوکہ اور فریب دینا ہوتا ہے، تو پھر ایسی حاضری سے فائدہ بھی کیا ہو سکتا ہے ؟

٦٣۔ یہ علماء و مشائخ دین اور عباد و زہاد پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثریت تمہارے سامنے بدکاری اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے ایسے حالات میں تمہاری یہ خاموشی بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت ہے اور اس کے ترک پر کتنی سخت وعید (سزا) کی گئی ہے۔ احادیث میں بھی یہ مضمون وضاحت اور کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔

٦٤۔(١) یہ وہی بات ہے جو سورۃ آل عمران کی آیت ١٨١ میں کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور اسے اللہ کو قرض حسن دینے سے تعبیر کیا تو ان یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو فقیر ہے ' لوگوں سے قرض مانگ رہا ہے اور وہ تعبیر کے اس حسن کو نہ سمجھ سکے جو اس میں پنہاں تھا۔ یعنی سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کر دینا، کوئی قرض نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کی کمال مہربانی ہے کہ وہ اس پر بھی خوب اجر عطا فرماتا ہے حتیٰ کہ ایک ایک دانے کو سات سات سو دانے تک بڑھا دیتا ہے۔ اور اسے قرض حسن سے اسی لیے تعبیر فرمایا کہ جتنا تم خرچ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا تمہیں واپس لوٹائے گا۔ مغلولۃ کے معنی بخیلۃ (بخل والے کیے گئے۔ یعنی یہود کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اللہ کے ہاتھ واقعتاً بندھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ خرچ کرنے سے روکے ہوئے ہیں۔(ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ہاتھ تو انہی کے بندھے ہوئے ہیں یعنی بخیلی انہی کا شیوہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے۔ خرچ کرتا ہے۔ وہ واسع الفضل اور جزیل العطاء ہے، تمام خزانے اسی کے پاس ہیں۔ نیز اس نے اپنی مخلوقات کے لیے تمام حاجات و ضروریات کا انتظام کیا ہوا ہے، ہمیں رات یا دن کو، سفر میں اور حضر میں اور دیگر تمام احوال میں جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے یا پڑ سکتی ہے، سب وہی مہیا کرتا ہے۔(واتکم من کل ما سالتموہ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا ان الانسان لظلوم کفار) (سورہ ابراہیم ۳٤)"تم نے جو کچھ اس سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔ اللہ کی نعمتیں اتنی ہیں کہ تم گن نہیں سکتے انسان ہی نادان اور نہایت نہ شکرا ہے، حدیث میں بھی ہے نبی نے فرمایا کہ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا ہے لیکن کوئی کمی نہیں آتی، ذرا دیکھو تو، جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کئے ہیں وہ خرچ کر رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ کے خزانے میں کمی نہیں آئی۔

٦٤۔(٢) یعنی یہ جب بھی آپ کے خلاف کوئی سازش کرتے ہیں یا لڑائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو باطل کر دیتا ہے اور ان کی سازش کو انہی پر الٹا دیتا ہے۔ اور ان کو "چاہ کن راچاہ درپیش" کی سی صورت حال سے دوچار کر دیتا ہے "

٦٤۔(٣)  ان کی عادت ثانیہ ہے کہ ہمیشہ زمین میں فساد پھیلانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں در آں حالیکہ اللہ تعالیٰ مفسدین کو پسند نہیں فرماتا۔

٦٥۔ یعنی وہ ایمان، جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے، ان میں سب سے اہم محمد رسول اللہ کی رسالت پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ ان پر نازل شدہ کتابوں میں بھی ان کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ واتقوا اور اللہ کی معاصی سے بچتے جن میں سب سے اہم وہ شرک ہے جس میں وہ مبتلا ہیں اور وہ جحود ہے جو آخری رسول کے ساتھ وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

٦٦۔(١) تورات اور انجیل کے پابند رہنے کا مطلب، ان کے ان حکام کی پابندی ہے جو ان میں انہیں دئے گئے، اور انہی میں ایک حکم آخری نبی پر ایمان لانا بھی تھا۔ اور وَمَا اُنزِ لَ سے مراد تمام آسمانی کتب پر ایمان لانا ہے جن میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے یہ اسلام قبول کر لیتے۔

٦٦۔(٢)  اوپر نیچے کا ذکر یا بطور مبالغہ ہے، یعنی کثرت سے اور انواع و اقسام کے رزق اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا ہے۔ یا اوپر سے مراد آسمان ہے یعنی حسب ضرورت خوب بارش برساتا ہے اور ' نیچے سے مراد ' زمین ہے۔ یعنی زمین اس بارش کو اپنے اندر جذب کر کے خوب پیداوار دیتی۔ نتیجتاً شادابی اور خوش حالی کا دور دورہ ہو جاتا اور فصلوں سے پیداوار حاصل ہوتی۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا "اگر بستیوں والے ایمان لائے ہوتے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوتا تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے۔

٦٦۔(۳) لیکن ان کی اکثریت نے ایمان کا یہ راستہ اختیار نہیں کیا اور وہ اپنے کفر پر مصر اور رسالت محمدی سے انکار پر اڑے ہوئے ہیں۔ اسی اصرار اور انکار کو یہاں برے اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے۔ درمیانہ روش کی ایک جماعت سے مراد عبد اللہ بن سلام جیسے ۸۔۹ افراد ہیں جو یہود مدینہ میں سے مسلمان ہوئے۔

٦٧۔(١)  اس حکم کا مفاد یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے، بلا کم و کاست اور بلا خوف ملامت۔ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کے ایک لاکھ یا ایک لاکھ چالیس ہزار کے جم غفیر میں فرمایا ـ' تم میرے بارے میں کیا کہو گے ؟ انہوں نے کہا (ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام دیا اور ادا کر دیا اور خیر خواہی فرما دی۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اللّھُمّ ھَلْ بَلّغتُ(تین مرتبہ) یا اللّھُم ّفَاشْھَدُ(تین مرتبہ) صحیح مسلم کتاب حج ' یعنی اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ۔ '

٦٧۔(٢) یہ حفاظت اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر بھی فرمائی اور دنیاوی اسباب کے تحت بھی دنیاوی اسباب کے تحت اس آیت کے نزول سے بہت قبل اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کے چچا ابوطالب کے دل میں آپ کی طبعی محبت ڈال دی اور وہ آپ کی حفاظت کرتے رہے، ان کا کفر پر قائم رہنا بھی شاید انہی اسباب کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو شاید سرداران قریش کے دل میں ان کی ہیبت و عظمت نہ رہتی جو ان کے ہم مذہب ہونے کی صورت میں آخر وقت تک رہی۔ پھر ان کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض سرداران قریش کے ذریعے سے اللہ نے وقتاً فوقتاً یہودیوں کے مکر و کید سے مطلع فرما کر خاص خطرے کے مواقع پر بچایا اور گھمسان کی جنگوں میں کفار کے انتہائی پر خطرناک حملوں سے بھی آپ کو محفوظ رکھا۔

٦٨۔ یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے۔ یعنی جس طرح بعض اعمال و اشیاء سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق، عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا ہے ــ' فرما دیجئے یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں (بہرا پن) ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے '"اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے "(القرآن)۔

٦٩۔یہ وہی مضمون ہے جو سورۃ بقرہ کی آیت ٦٢ میں بیان ہوا ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔

٧١۔ یعنی سمجھے تھے کہ کوئی سزا نہ ہو گی۔ لیکن مذکورہ اصول الٰہی کے مطابق یہ سزا ہوئی کہ یہ حق کے دیکھنے سے مزید اندھے اور حق کے سننے سے مزید بہرے ہو گئے اور توبہ کے بعد پھر یہی عمل انہوں نے دہرایا ہے تو اس کی وہی سزا بھی دوبارہ مرتب ہوئی۔

٧٢۔(١) یہی مضمون آیت نمبر ١٧ میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اہل کتاب کی گمراہیوں کے ذکر میں اس کا پھر ذکر فرمایا۔ اس میں ان کے اس فرقے کے کفر کا اظہار ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے عین اللہ ہونے کے قائل ہیں۔

٧٢۔(۲)چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یعنی مسیح ابن مریم نے عالم شیر خوارگی میں سب سے پہلے اپنی زبان سے اپنی عبودیت ہی کا اظہار فرمایا، "انی عبد اللہ اٰتنی الکتاب وجعلنی نبیا" (میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مجھے اس نے کتاب بھی عطا کی ہے ) حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ نہیں کہا میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور عمر کہولت میں بھی انہوں نے یہی دعوت دی "ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم" یہ وہی الفاظ ہیں جو ماں کی گود میں بھی کہے تھے (ملاحظہ ہو سورہ مریم، آیت ۳٦) اور جب قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہو گا، جس کی خبر صحیح احادیث میں دی گئی ہے اور جس پر اہل سنت کا اجماع ہے، تب بھی وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کی طرف ہی بلائیں گے، نہ کہ اپنی عبادت کی طرف۔

٧٢۔(۳)حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی بندگی اور رسالت کا اظہار اللہ کے حکم اور مشیت سے اس وقت بھی فرمایا تھا جب وہ ماں کی گود میں یعنی شیر خوارگی کی حالت میں تھے۔ پھر سن کہولت میں یہ اعلان فرمایا۔ اور ساتھ ہی شرک کی شناعت و قباحت بھی بیان فرما دی کہ مشرک پر جنت حرام ہے اور اس کا کوئی مددگار بھی نہیں ہو گا جو اسے جہنم سے نکال لائے جیسا کہ مشرکین سمجھتے ہیں۔

٧۳۔یہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا ذکر ہے جو تین خداؤں کا قائل ہے، جن کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعبیر و تشریح میں اگرچہ خود ان کے مابین اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ، انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو بھی الٰہ قرار دے لیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھے گا۔ "ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ" (کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟) (المائدۃ۱۱۲) اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ اور مریم علیہما السلام ان دونوں کو عیسائیوں نے الٰہ بنایا، اور اللہ تیسرا الٰہ ہوا، جو ثالث ثلاثہ (تین میں کا تیسرا) کہلایا پہلے عقیدے کی طرح اللہ تعالیٰ نے اسے بھی کفر سے تعبیر فرمایا۔

٧٥۔(١) صِدِّ یْقَۃُ کے معنی مومنہ اور ولیہ کے ہیں یعنی وہ بھی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے والوں اور ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے تھیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ (پیغمبر) نہیں تھیں۔ جیسا کہ بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے اور انہوں نے حضرت مریم علیہا السلام سمیت، حضرت سارہ (ام اسحاق علیہ السلام) اور موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو بھی پیغمبر قرار دیا ہے، قرآن نے صراحت کی ہے کہ ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ مرد تھے (سورہ یوسف۔١٠٩)۔

٧٥۔(۲) یہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام دونوں کی الوہیت کی نفی اور بشریت کی دلیل ہے۔ کیونکہ کھانا پینا، یہ انسانی حوائج و ضروریات میں سے ہے۔ جو الٰہ ہو، وہ تو ان چیزوں سے ماوراء بلکہ وراء الوراء ہوتا ہے۔

٧٦۔ یہ مشرکوں کی کم عقلی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ایسوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ نقصان پہنچانا تو کجا، وہ تو کسی کی بات سننے اور کسی کا حال جاننے کی ہی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ قدرت صرف اللہ ہی کے اندر ہے۔ اس لئے حاجت روا مشکل کشا بھی صرف وہی ہے۔

٧٧۔(١)یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بد قسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتیٰ کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔

٧٧۔(٢) یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

٧٨۔(١) یعنی زبور میں جو حضرت داؤد علیہ السلام پر اور انجیل میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی اور اب یہی لعنت قرآن کریم کے ذریعے سے ان پر کی جا رہی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا۔ لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت اور خیر سے دوری ہے۔

٧٨۔(٢) یہ لعنت کے اسباب ہیں۔ ١۔ عصیان۔ یعنی واجبات کا ترک اور محرمات کا ارتکاب کر کے۔ انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی۔ (۲) ۔ اور اعتداء، یعنی دین میں غلو اور بدعات ایجاد کر کے انہوں نے حد سے تجاوز کیا۔

٧٩۔ وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھے جو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین نے اسی ترک نہی کو عصیان اور اعتدا قرار دیا ہے جو لعنت کا سبب بنا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنا، بہت بڑا جرم اور لعنت غضب الہی کا سبب ہے۔ حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا"سب سے پہلا نقص جو بنی اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا، اللہ سے ڈر اور یہ برائی چھوڑ دے، یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ لیکن دوسرے روز پھر اسی کے ساتھ اسے کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہ ہوتی، (یعنی اس کا ہم نوالہ وہ ہم پیالہ وہم نشین بن جاتا) در آں حالیکہ ایمان کا تقاضا اس سے نفرت اور ترک تعلق تھا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان آپس میں عداوت ڈال دی اور وہ لعنت الہی کے مستحق قرار پائے۔ پھر فرمایا کہ "اللہ کی قسم! تم ضرور لوگوں کو نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے روکا کرو" ظالم کا ہاتھ پکڑ لیا کرو"(ورنہ تمہارا بھی یہی حال ہو گا۔ ایک دوسری روایت میں اس فریضے کے ترک پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ تم عذاب الہی کے مستحق بن جاؤ گے۔ پھر تم اللہ سے دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہیں ہوں گی۔ (مسند احمد جلد ۵۔ص۳۸۸)

٨٠۔ یہ اہل کفر سے دوستانہ تعلق کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور اسی ناراضگی کا نتیجہ جہنم کا دائمی عذاب ہے۔

٨١۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان ہو گا، وہ کافروں سے کبھی دوستی نہیں کرے گا۔

٨٢۔(١)  اس لئے کہ یہودیوں کے اندر عناد و جحود، حق سے اعراض و استکبار اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کا قتل اور ان کی تکذیب ان کا شعار رہا ہے۔ حتیٰ کہ انہوں نے رسول اللہ کے قتل کی بھی کئی مرتبہ سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم سعی کی۔ اور اس معاملہ میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔

٨٢۔(٢)  رُھْبَانُ سے مراد نیک، عبادت گزار اور گوشہ نشین لوگ قَسِّیْسِیْنَ سے مراد علما و خطبا ہیں، یعنی ان عیسائیوں میں علم و تواضع ہے، اس لئے ان میں یہودیوں کی طرح حجود و استکبار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دین مسیح میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، حتیٰ کہ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوئی تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی ان کو پیش کر دو۔ یعنی لڑو مت۔ ان وجوہ سے یہ مسلمان کے، بہ نسبت یہودیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ عیسائیوں کا وصف یہودیوں کے مقابلے میں ہے، تاہم جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے، کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ، اسلام کے خلاف یہ عناد عیسائیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط معرکہ آرائی سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ اور اب تو اسلام کے خلاف یہودی اور عیسائی دونوں ہی مل کر سرگرم عمل ہیں۔ اسی لئے قرآن نے دونوں سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے۔

٨٤۔ حبشے میں، جہاں مسلمان مکی زندگی میں دو مرتبہ ہجرت کر کے گئے۔ اصحمۃ نجاشی کی حکومت تھی، یہ عیسائی مملکت تھی، یہ آیات حبشے میں رہنے والے عیسائیوں کے بارے میں ہی نازل ہوئیں ہیں تاہم روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ علیہ کو اپنا مکتوب دیکر نجاشی کے پاس بھیجا تھا، جو انہوں نے جا کر سنایا، نجاشی نے وہ مکتوب سن کر حبشے میں موجود مہاجرین اور حضرت جعفر بن ابی طالب کو اپنے پاس بلایا اور اپنے علماء اور عباد و زباد کو بھی جمع کر لیا پھر حضرت جعفر کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت جعفر نے سورہ مریم پڑھی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اعجازی ولادت اور ان کی عبدیت و رسالت کا ذکر ہے جسے سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور ایمان لے آئے۔ بعض کہتے ہیں کہ نجاشی نے اپنے کچھ علماء نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا تو بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ایمان لے آئے (فتح القدیر) آیات میں قرآن سن کر ان پر جو اثر ہوا اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ان کے ایمان لانے کا تذکرہ ہے قرآن کریم میں بعض اور مقامات پر اس قسم کے عیسائیوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً (وان من اھل الکتاب لمن یومن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیھم خاشعین للہ (سورہ آل عمران ) یقیناً اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں وغیرھا من الآیات اور حدیث میں آتا ہے کہ جب نجاشی کی موت کی خبر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے فرمایا کہ حبشہ میں تمہارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اس کی نماز جنازہ پڑھو چنانچہ ایک صحرا میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی نماز جنازہ غائبانہ ادا فرائی (صحیح بخاری مناقب الانصار کتاب الجنائز۔صحیح مسلم، کتاب الجنائز) ایک اور حدیث میں ایسے اہل کتاب کی بابت جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت پر ایمان لائے بتلایا گیا ہے کہ انہیں دو گنا اجر ملے گا بخاری۔ کتاب العلم وکتاب النکاح)

٨٧۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ کر کہا کہ یا رسول اللہ! جب میں گوشت کھاتا ہوں تو نفسانی شہوت کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا ہے، جس پر آیت نازل ہوئی، اس طرح سبب نزول کے علاوہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ زہد و عبادت کی غرض سے بعض حلال چیزوں سے (مثلاً عورت سے نکاح کرنے، رات کے وقت سونے، دن کے وقت کھانے پینے سے ) اجتناب کرنا چاہتے تھے۔ نبی کے علم میں یہ بات آئی تو آپ نے انہیں منع فرمایا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے بھی اپنی بیوی سے کنارہ کشی اختیار کی ہوئی تھی، ان کی بیوی کی شکایت پر آپ نے انہیں بھی روکا (کتب حدیث) بہرحال اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کسی بھی چیز کو حرام کر لینا یا اس سے ویسے ہی پرہیز کرنا جائز نہیں ہے چاہے اس کا تعلق کھانے پینے یا مشروبات سے ہو یا لباس سے ہو یا مرغوبات و جائز خواہشات سے۔

 مسئلہ :۔ اس طرح اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے گا تو وہ حرام نہیں ہو گی سوائے عورت کے البتہ اس صورت میں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا اور بعض کے نزدیک کفارہ ضروری نہیں امام شوکانی کہتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے اسی بات کی تائید ہوتی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو بھی کفارہ یمین ادا کرنے کا حکم نہیں دیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ بیان فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی حلال چیز کو حرام کر لینا یہ قسم کھانے کے مرتبے میں ہے جو تکفیر یعنی کفارہ ادا کرنے کا متقاضی ہے لیکن یہ استدلال احادیث صحیحہ کی موجودگی میں محل نظر ہے۔ فالصحیح ما قالہ الشوکانی

٨٩۔(١) قَسَمٌ جس کو عربی میں حَلْفٌ یا یَمِیْنٌ کہتے ہیں جن کی جمع اَحْلَافٌ اور ایمان ہے۔ تین قسم کی ہیں۔ ١۔ لَغْوٌ ٢۔ غَمُوْسٌ، ٣۔ مُعَقَّدَۃٌ ۔

لَغْوٌ: وہ قسم ہے جو انسان بات بات میں عادتاً بغیر ارادے اور نیت کے کھاتا رہتا ہے۔ اس پر کوئی مواخذہ نہیں ۔

غَمُوْسٌ: وہ جھوٹی قسم ہے جو انسان دھوکہ اور فریب دینے کے لئے کھائے۔ یہ کبیرہ گناہ بلکہ اکبر الکبائر ہے۔ لیکن اس پر کفارہ نہیں ۔

مُعَقَّدَۃٌ: وہ قسم ہے جو انسان اپنی بات میں تاکید اور پختگی کے لئے اراداۃً نیۃً کھائے، ایسی قسم اگر توڑے گا تو اس کا وہ کفارہ ہے جو آگے آیت میں بیان کیا جا رہا ہے۔

٨٩۔(٢) اس کھانے کی مقدار میں کوئی صحیح روایت نہیں اس لئے اختلاف ہے۔ البتہ امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے، جس میں رمضان میں روزے کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرنے والے کے کفارہ کا ذکر ہے، ایک مد (تقریباً ٠ ١چھٹانک) فی مسکین خوراک قرار دی ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو کفارہ جماع ادا کرنے کے لئے ١٥ صاع کھجوریں دی تھیں، جنہیں ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کرنا تھا، ایک صاع میں ٤ من ہوتے ہیں، اس اعتبار سے بغیر سالن کے دس مسکینوں کے لئے دس مد (یعنی سوا سیر یا چھ کلو) خوراک کفارہ ہو گی۔ (ابن کثیر)

٨٩۔(٣) لباس کے بارے میں اختلاف ہے۔ بظاہر مراد جوڑا ہے جس میں انسان نماز پڑھ سکے۔ بعض علماء خوراک اور لباس دونوں کے لئے عرف کو معتبر قرار دیتے ہیں (حاشیہ ابن کثیر، تحت آیت زیر بحث )

٨٩۔(٤) بعض علماء قتل خطا کی دیت پر قیاس کرتے ہوئے لونڈی، غلام کے لئے ایمان کی شرط عائد کرتے ہیں۔ امام شوکانی کہتے ہیں، آیت میں عموم ہے مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے۔

٨٩۔(٥) یعنی جس کو مذکورہ تینوں چیزوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے، یہ روزے اس کی قسم کا کفارہ ہو جائیں گے۔ بعض علماء پے درپے روزے رکھنے کے قائل ہیں۔ اور بعض کے نزدیک دونوں طرح جائز ہیں۔

٩٠۔ یہ شراب کے بارے میں تیسرا حکم ہے۔ پہلے اور دوسرے حکم میں صاف طور پر ممانعت نہیں فرمائی گئی۔ لیکن یہاں اسے اور اس کے ساتھ جوا پرستش گاہوں یا تھانوں اور فال کے تیروں کو رجس (پلید) اور شیطانی کام قرار دے کر صاف لفظوں میں ان سے اجتناب کا حکم دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس آیت میں شراب اور جوا کے مزید نقصانات بیان کر کے سوال کیا گیا ہے کہ اب بھی باز آ جاؤ گے یا نہیں ؟ جس مقصود اہل ایمان کی آزمائش ہے۔ چنانچہ، جو اہل ایمان تھے وہ تو منشائے الٰہی سمجھ گئے اور اس کی قطعی حرمت کے قائل ہو گئے اور کہا اُنْتَھَیْنَا رَبَّنَا! اے رب ہم باز آ گئے، لیکن آجکل کے بعض "دانشور" کہتے ہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام کہاں قرار دیا ہے ؟ (برین عقل و دانش بباید گریست)۔ یعنی شراب کو رجس (پلیدی) اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے اجتناب کا حکم دینا نیز اس اجتناب کو باعث فلاح قرار دینا ان مجتہدین کے نزدیک حرمت کے لئے کافی نہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے نزدیک پلید کام بھی جائز ہے شیطانی کام بھی جائز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ اجتناب کا حکم دے وہ بھی جائز ہے اور جس کی بابت کہے کہ اس کا ارتکاب عدم فلاح اور اس کا ترک فلاح کا باعث ہے وہ بھی جائز ہے انا للہ وانا الیہ راجعون

٩١۔یہ شراب اور جوا کے مزید معاشرتی اور دینی نقصانات ہیں، جو محتاج وضاحت نہیں ہیں۔ اس لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے اور جوا بھی ایسی بری لت ہے کہ یہ انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑتی اور بسا اوقات رئیس زادوں اور خاندانی جاگیر داروں کو مفلس و قلاش بنا دیتی ہے اَ عَا ذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا۔

٩٣۔ حرمت شراب کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہمارے کئی ساتھی جنگوں میں شہید یا ویسے ہی فوت ہو گئے۔ جب کہ وہ شراب پیتے رہے ہیں۔ تو اس آیت میں اس شبہے کا ازالہ کر دیا گیا کہ ان کا خاتمہ ایمان و تقویٰ پر ہی ہوا ہے کیونکہ شراب اس وقت تک حرام نہیں ہوئی تھی۔

٩٤۔(١) شکار عربوں کی معاش کا ایک اہم عنصر تھا، اس لئے حالت احرام میں اس کی ممانعت کر کے ان کا امتحان لیا گیا۔ خاص طور پر حدیبیہ میں قیام کے دوران کثرت سے شکار صحابہ کے قریب آتے، لیکن انہی ایام میں ٤ آیات کا نزول ہوا جن کے متعلقہ احکام بیان فرمائے گئے۔

٩٤۔(٢) قریب کا شکار یا چھوٹے جانور عام طور پر ہاتھ ہی سے پکڑ لئے جاتے تھے دور کے یا بڑے جانوروں کے لئے تیر اور نیزے استعمال ہوتے تھے۔ اس لئے صرف ان دونوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن مراد یہ ہے کہ جس طرح بھی اور جس چیز سے بھی شکار کیا جائے، احرام کی حالت میں ممنوع ہے۔

٩٥۔ امام شافعی نے اس سے مراد، صرف ان جانوروں کا قتل لیا ہے جو ماکول اللحم ہیں یعنی جو کھانے کے کام آتے ہیں۔ دوسرے برے جانوروں کا قتل وہ جائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر علماء کے نزدیک اس میں کوئی تفریق نہیں۔ البتہ ان موذی جانوروں کا قتل جائز ہے جن کا ذکر احادیث میں آیا ہے اور وہ پانچ ہیں کوا، چیل، بچھو،چوہا اور باؤلا کتا (صحیح مسلم) حضرت نافع سے سانپ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس کے قتل میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔(ابن کثیر) اور امام احمد اور امام مالک اور دیگر علماء نے بھیڑیئے، درندے، چیتے اور شیر کو کلب عقور میں شامل کر کے حالت احرام میں ان کے قتل کی بھی اجازت دی ہے۔ (ابن کثیر )

٩٥ ۔(٢)۔ "جان بوجھ کر" کے الفاظ سے بعض علماء نے استدلال کیا ہے کہ بغیر ارادہ کے معنی بھول کر قتل کر دے تو اس کے لئے فدیہ نہیں ہے۔ لیکن زیادہ علماء کے نزدیک بھول کر، یا غلطی سے بھی قتل ہو جائے تو فدیہ واجب ہو گا۔ مُتَعَمِّداً کی قید غالب احوال کے اعتبار سے ہے بطور شرط نہیں ہے۔

٩٥۔(٣) مساوی جانور (یا اس جیسے جانور) سے مراد خلقت قدو قامت میں مساوی ہونا ہے۔ قیمت میں مساوی ہونا نہیں ہے۔ مثلاً اگر ہرن کو قتل کیا گیا تو اس کی شکل (مساوی) بکری ہے، گائے کی مثل نیل گائے ہے وغیرہ۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطور فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے۔

٩٥۔(٤) کہ مقتول جانور کی مثل (مساوی) فلاں جانور ہے اور اگر وہ غیر مثلی ہے یا مثل دستیاب نہیں ہے تو اس کی اتنی قیمت ہے۔ اس قیمت سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں فی مسکین ایک مد کے حساب سے تقسیم کر دیا جائے گا۔ احناف کے نزدیک فی مسکین دو مد ہیں۔

٩٥۔(٥) یہ فدیہ، جانور یا اس کی قیمت، کعبہ پہنچائی جائے گی اور کعبہ سے مراد حرم ہے۔ (فتح القدیر) یعنی ان کی تقسیم حرم مکہ کی حدود میں رہنے والے مساکین پر ہو گی۔

٩٥۔(٦) اور یا تخییر کے لئے ہے۔ یعنی کفارہ، اطعام مساکین ہو یا اس کے برابر روزے۔ دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرنا جائز ہے۔ مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کی کمی بیشی ہو گی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہو گی مثلاً محرم (احرام والے ) نے ہرن قتل کیا ہے تو اس کی مسل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو ابن عباس کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے، اگر بارہ سنگھا ہے یا اس جیسا کوئی جانور قتل کیا ہے تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو تیس مساکین کو کھانا یا تیس روزے رکھنے ہوں گے (ابن کثیر)

٩٦۔ صَیْدُ، سے مراد زندہ جانور اور۔طعَامُہُ سے مراد وہ مردہ (مچھلی وغیرہ) جسے سمندر یا دریا باہر پھینک دے یا پانی کے اوپر آ جائے۔ جس طرح کے حدیث میں وضاحت ہے کہ سمندر کا مردار حلال ہے۔ (تفصیل ملاحظہ ہو ابن کثیر)

٩٧۔ کعبہ کو البیت الحرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی حدود میں شکار کرنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔ اسی طرح اس میں اگر باپ کے قاتل سے بھی سامنا ہو جاتا تو اس سے بھی تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اسے قیاما للناس (لوگوں کے قیام اور گزران کا باعث) قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے اہل مکہ کا نظم و انصرام بھی صحیح ہے اور ان کی ضروریات کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح حرمت والے مہینے (رجب، ذوالحجہ اور محرم) اور حرم میں جانے والے جانور ہیں کہ تمام چیزوں سے بھی اہل مکہ مذکورہ فوائد حاصل ہوتے تھے۔

١٠٠۔ خَبِیْثُ(ناپاک) سے مراد حرام، یا کافر یا گناہ گار یا ردی۔ طیب (پاک) سے مراد حلال، یا مومن یا فرماں بردار اور عمدہ چیز ہے یا یہ سارے ہی مراد ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے جس چیز میں خبث (ناپاکی) ہو گی وہ کفر ہو، فسق و فجور ہو، اشیا و اقوال ہوں، کثرت کے باوجود وہ ان چیزوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے جن میں پاکیزگی ہو۔ یہ دونوں کسی صورت میں برابر نہیں ہو سکتے۔ اس لئے پلیدی کی وجہ سے اس چیز کی قیمت اور برکت ختم ہو جاتی ہے جب کہ جس چیز میں پاکیزگی ہو گی اس سے اس کی منفعت اور برکت میں اضافہ ہو گا۔

١٠١۔ یہ ممانعت نزول قرآن کے وقت تھی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہ کو زیادہ سوالات کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ' مسلمانوں میں وہ سب سے بڑا مجرم ہے جس کے سوال کرنے کی وجہ سے کوئی چیز حرام کر دی گئی در آں حالیکہ اس سے قبل وہ حلال تھی۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

١٠٢۔ کہیں اس کوتاہی کے مرتکب تم بھی ہو جاؤ۔ جس طرح ایک مرتبہ نبی نے فرمایا اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص نے سوال کیا ' کیا ہر سال ـ' آپ خاموش رہے، اس نے تین مرتبہ سوال دہرایا پھر آپ نے فرمایا ' اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر ایسا ہو جاتا تو ہر سال حج کرنا تمہارے لئے ممکن نہ ہوتا ' تمہیں جن چیزوں کی بابت نہیں بتایا گیا، تم مجھ سے ان کی بابت سوال مت کرو، اس لئے کہ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا کثرت سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف بھی تھا '۔

١٠٣۔ یہ ان جانوروں کی قسمیں ہیں جو اہل عرب اپنے بتوں کی نذر کر دیا کرتے تھے۔ ان کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں اس کی تفسیر حسب ذیل نقل کی گئی ہے وہ جانور جس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بتوں کے لئے ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اس کے تھنوں کو ہاتھ نہ لگاتا، وہ جانور، جسے بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے اسے نہ سواری کے لئے استعمال کرتے اور نہ بار برداری کے لئے، جس سے پہلی دفعہ مادہ پیدا ہوتی اور اس کے بعد دوبارہ بھی مادہ ہی پیدا ہوتی یعنی ایک مادہ کے بعد دوسری مادہ مل گئی، ان کے درمیان کسی نر سے تفریق نہیں ہوئی، ایسی اونٹنی کو بھی بتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتے تھے، بتوں کے لئے یہ نذر نیاز پیش کرنے کا سلسلہ آج بھی مشرکوں میں بلکہ بہت سے نام نہاد مسلمانوں میں بھی قائم و جاری ہے۔

١٠٥۔ بعض لوگوں کے ذہن میں ظاہری الفاظ سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ اپنی اصلاح اگر کر لی جائے تو کافی ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ضروری نہیں ہے۔ لیکن یہ مطلب صحیح نہیں ہے کیونکہ امر بالمعروف کا فریضہ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ہی ترک کر دے گا تو اسکا تارک ہدایت پر قائم رہنے والا کب رہے گا؟ جب کہ قرآن نے (جب تم خود ہی ہدایت پر چل رہے ہو) کی شرط عائد کی ہے۔ اس لئے جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا ' لوگو! تم آیت کو غلط جگہ استعمال کر رہے ہو، میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ، جب لوگ برائی ہوتے ہوئے دیکھ لیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عذاب کی گرفت میں لے لے۔ اس لئے آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ تمہارے سمجھانے کے باوجود اگر لوگ نیکی کا راستہ اختیار نہ کریں یا برائی سے باز نہ آئیں تو تمہارے لئے یہ نقصان دہ نہیں ہے جب کہ تم خود نیکی پر قائم اور برائی سے مجتنب ہو۔ البتہ ایک صورت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ترک جائز ہے کہ جب کوئی شخص اپنے اندر اس کی طاقت نہ پائے اور اس سے اس کی جان کو خطرہ ہے اس صورت میں فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان کے تحت اس کی گنجائش ہے آیت بھی اس صورت کی متحمل ہے۔

١٠٦۔(۱) تم میں سے ہوں کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے ہوں اور بعض نے کہا ہے (وصیت کرنے والے ) کے قبیلے سے ہوں، اسی طرح(آخران من غیركم) میں دو مفہوم ہوں گے۔ یعنی من غیرکم سے مراد یا غیر مسلم اہل کتاب ہوں گے یا موصی کے قبیلے کے علاوہ کسی اور قبیلے سے۔

١٠٦۔(٢) یعنی سفر میں کوئی ایسا شدید بیمار ہو جائے کہ جسے زندہ بچنے کی امید نہ ہو تو وہ سفر میں دو عادل گواہ بنا کر جو وصیت کرنا چاہے، کر دے۔

١٠٦۔(٣) یعنی مرنے والے موصی کے ورثا کو شک پڑ جائے کہ ان اوصیا نے مال میں خیانت یا تبدیلی کی ہے تو نماز کے بعد یعنی لوگوں کی موجودگی میں ان سے قسم لیں اور وہ قسم کھا کے کہیں ہم اپنی قسم کے عوض دنیا کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ یعنی جھوٹی قسم نہیں کھا رہے۔

١٠٧۔(١) یعنی جھوٹی قسمیں کھائیں ہیں۔

١٠٧۔(٢) اولیان، اولی کا تثنیہ ہے، مراد ہے میت یعنی موصی (وصیت کرنے والا) کے قریب ترین دو رشتے دار من الذین استحق علیہم کا مطلب یہ ہے جن کے مقابلے پر گناہ کا ارتکاب ہوا تھا یعنی جھوٹی قسم کا ارتکاب کر کے ان کو ملنے والا مال ہڑپ کر لیا تھا، الاولیان یہ یا تو ھما مبتدا محذوف کی خبر ہے یا یقومان یا آخران کی ضمیر سے بدل ہے۔ یعنی یہ دو قریبی رشتہ دار، ان کی جھوٹی قسموں کے مقابلے میں اپنی قسم دیں گے۔

١٠٨۔ یہ اس فائدے کا ذکر ہے جو اس حکم میں پنہاں ہے، جس کا ذکر یہاں کیا گیا وہ یہ کہ یہ طریقہ اختیار کرنے میں اوصیا صحیح صحیح گواہی دیں گے کیونکہ انہیں خطرہ ہو گا کہ اگر ہم نے خیانت یا دروغ گوئی یا تبدیلی کا ارتکاب کیا تو یہ کاروائیاں خود ہم پر الٹ سکتی ہیں۔ اس واقعہ کی شان نزول میں بدیل بن ابی مریم کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شام تجارت کی غرض سے گئے، وہاں بیمار اور قریب المرگ ہو گئے، ان کے پاس سامان ایک چاندی کا پیالہ تھا جو انہوں نے دو عیسائیوں کے سپرد کر کے اپنے رشتہ داروں تک پہنچانے کی وصیت کر دی اور فوت ہو گئے، یہ دونوں وصی جب واپس آئے تو پیالہ تو انہوں نے بیچ کر پیسے آپس میں تقسیم کر لئے اور باقی سامان ورثا کو پہنچا دیا۔ سامان میں ایک رقعہ بھی تھا جس میں سامان کی فہرست تھی جس کی رو سے چاندی کا پیالہ گم تھا، ان سے کہا گیا تو انہوں نے جھوٹی قسم کھا لی لیکن بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ پیالہ انہوں نے فلاں صراف کو بیچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ان غیر مسلموں کے مقابلے میں قسمیں کھا کر ان سے پیالے کی رقم وصول کی۔ یہ روایت تو سنداً ضعیف ہے۔(ترمذی بہ تحقیق احمد  شاکر) تاہم ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس سے بھی مختصراً یہ مروی ہے، جسے علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے (صحیح ترمذی)

١٠٩۔ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ان کی قوموں نے اچھا یا برا جو بھی معاملہ کیا، اس کا علم یقیناً انہیں ہو گا لیکن وہ اپنے علم کی نفی یا تو محشر کی کی ہولناکی اور اللہ جل جلالہ کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے کریں گے یا اس کا تعلق ان کی وفات کے بعد کے حالات سے ہو گا۔ علاوہ ازیں باطنی امور کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ اس لئے وہ کہیں گے علام الغیوب تو ہی ہے نہ کہ ہم۔ اس سے معلوم ہوا انبیاء و رسل عالم الغیب نہیں ہوتے، عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے۔ انبیاء کو جتنا کچھ علم ہوتا ہے اولاً تو اس کا تعلق ان امور سے ہوتا ہے جو فرائض رسالت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ثانیاً ان سے بھی ان کو بذریعہ وحی آگاہ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ علام الغیب وہ ہوتا ہے۔ جس کو ہر چیز کا علم ذاتی طور پر ہو، نہ کہ کسی کے بتلانے پر اور جس کو بتلانے پر کسی چیز کا علم حاصل ہو اسے عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ نہ وہ عالم الغیب ہوتا ہی ہے۔ فافھم وتدبر ولا تکن من الغافلین

١١٠۔(١)  اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٨٧ میں گزرا۔

١١٠۔(٢) گود میں اس وقت کلام کیا، جب حضرت مریم علیہا السلام اپنے اس نومولود (بچے ) کو لے کر اپنی قوم میں آئیں اور انہوں نے اس بچے کو دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا اور اس کی بابت استفسار کیا تو اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ نے شیر خوارگی کے عالم میں کلام کیا اور بڑی عمر میں کلام سے مراد، نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد دعوت تبلیغ ہے۔

١١٠۔(٣)  اس کی وضاحت سورہ آل عمران کی آیت نمبر ٤٨ میں گزر چکی ہے۔

١١٠۔(٤)  ان معجزات کا ذکر بھی مذکورہ سورت کی آیت نمبر ٤٩ میں گزر چکا ہے۔

١١٠۔(٥) یہ اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے اور سولی دینے کے لئے تیار کی تھی۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے بچا کر انہیں آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔ ملاحظہ ہو سورۃ  آل عمران آیت ٥٤۔

١١٠۔(٦)  ہر نبی کے مخالفین، آیات الٰہی اور معجزات دیکھ کر انہیں جادو ہی قرار دیتے رہے ہیں، حالانکہ جادو تو شعبدہ بازی کا ایک فن ہے، جس سے انبیاء علیہ السلام کو کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں انبیاء کے ہاتھوں ظاہر ہونے والے معجزات قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت و طاقت کا مظہر ہوتے تھے کیونکہ وہ اللہ ہی کے حکم سے اور اس کی مشیت و قدرت سے ہوتے تھے کسی نبی کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ جب چاہتا اللہ کے حکم اور مشیت کے بغیر کوئی معجزہ صادر کر کے دکھا دیتا اسی لئے یہاں بھی دیکھ لیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہر معجزے کے ساتھ اللہ نے چار مرتبہ یہ فرمایا باذنی کہ ہر معجزہ میرے حکم سے ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مشرکین مکہ نے مختلف معجزات کے دکھانے کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۹۱۔۹۳ میں ذکر کی گئی ہے تو اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہی فرمایا (سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا) میرا رب پاک ہے یعنی وہ تو اس کمزوری سے پاک ہے کہ وہ یہ چیزیں نہ دکھا سکے وہ تو دکھا سکتا ہے لیکن اس کی حکمت اس کی مقتضی ہے یا نہیں ؟ یا کب مقتضی ہو گی؟ اس کا علم اسی کو ہے اور اسی کے مطابق وہ فیصلہ کرتا ہے لیکن میں تو صرف بشر اور رسول ہوں یعنی میرے اندر یہ معجزات دکھانے کی اپنے طور پر طاقت نہیں ہے بہرحال انبیاء کے معجزات کا جادو سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اگر ایسا ہوتا تو جادوگر اس کا توڑ مہیا کر لیتے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے ثابت ہے کہ دنیا بھر کے جمع شدہ بڑے بڑے جادوگر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا توڑ نہ کر سکے اور جب ان کو معجزہ اور جادو کا فرق واضح طور پر معلوم ہو گیا تو وہ مسلمان ہو گئے۔

١١١۔ حَوَارِیِّیْنَ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار ہیں جو ان پر ایمان لائے ان کے ساتھی اور مددگار بنے۔ ان کی تعداد ٢١ بیان کی جاتی ہے۔ وحی سے مراد وہ وحی نہیں ہے جو بذریعہ فرشتہ انبیاء علیہ السلام پر نازل ہوتی تھیں بلکہ یہ وحی الہام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض لوگوں کے دلوں میں کر دی جاتی تھی، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام کو اسی قسم کا الہام ہوا جسے قرآن نے وحی سے ہی تعبیر کیا۔

١١٢۔(١) مَائِدَۃً ایسے برتن (سینی پلیٹ یا ٹرے وغیرہ) کو کہتے ہیں جس میں کھانا ہو۔ اسی لئے دسترخوان بھی اس کا ترجمہ کر لیا جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی کھانا چنا ہوتا ہے۔ سورت کا نام بھی اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں اس کا ذکر ہے۔ حواریین نے مزید اطمینان قلب کے لیے یہ مطالبہ کیا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے احیائے موتی کے مشاہدے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی۔

۱١۲۔(٢) یعنی یہ سوال مت کرو، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش کا سبب بن جائے کیونکہ حسب طلب معجزہ دکھائے جانے کے بعد اس قوم کی طرف سے ایمان میں کمزوری عذاب کا بن سکتی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس مطالبے سے روکا اور انہیں اللہ سے ڈرایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے وحی کے لفظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور حضرت مریم نبی تھیں اس لئے کہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے وحی آ‏ئی تھی صحیح نہیں۔ اس لئے کہ یہ وحی، وحی الہام ہی تھی جیسے یہاں اوحیت الی الحوارین میں ہے یہ وحی رسالت نہیں ہے۔

١١٤۔ اسلامی شریعتوں میں عید کا مطلب یہ نہیں رہا کہ قومی تہوار کا ایک دن ہو جس میں تمام اخلاقی قیود اور شریعت کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بے ہنگم طریقے سے طرب و مسرت کا اظہار کیا جائے، چراغاں کیا جائے اور جشن منایا جائے، جیسا کہ آجکل اس کا یہی مفہوم سمجھ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہاں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس دن عید منانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس سے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم تعریف و تمجید اور تکبیر و تحمید کریں۔ بعض اہل بدعت اس عید مائدہ سے عید میلاد کا جواز ثابت کرتے ہیں حالانکہ اول تو یہ ہماری شریعت سے پہلے کی شریعت کا واقعہ ہے جسے اگر اسلام برقرار رکھنا چاہتا تو وضاحت کر دی جاتی دوسرے یہ پیغمبر کی زبان سے عید بتانے کی خواہش کا اظہار ہوا تھا اور پیغمبر بھی اللہ کے حکم سے شرعی احکام بیان کرنے کا مجاز ہوتا ہے تیسرے عید کا مفہوم و مطلب بھی وہ ہوتا ہے جو مذکورہ بالا سطروں میں بیان کیا گیا ہے جب کہ عید میلاد میں ان میں سے کو‏‏ئی بات بھی نہیں ہے لہذا عید میلاد کے بدعت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں جو اسلام نے مقرر کی ہیں، عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ ان کے علاوہ کوئی تیسری عید نہیں۔

١١٥۔ یہ مَائِدَۃً (خوان طعام) آسمان سے اترا یا نہیں ؟ اس کی بابت کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں۔ اکثر علماء (امام شوکانی اور امام ابن ضریر طبری سمیت) اس کے نزول کے قائل ہیں اور ان کا استدلال قرآن کے الفاظ (اَنَّ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ) سے ہے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو یقیناً سچا ہے لیکن اس اللہ کی طرف سے یقینی وعدہ قرار دینا اس لئے صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ اگلے الفاظ فَمَنْ یَّکْفُرْ اس وعدے کو مشروط ظاہر کرتے ہیں۔ اس لئے دوسرے علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ شرط سن کر کہ انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ جس کے بعد اس کا نزول نہیں ہوا۔ امام ابن کثیر نے ان آثار کی اسانید کو جو امام مجاہد اور حضرت حسن بن بصری سے منقول ہیں صحیح قرار دیا ہے نیز کہا ہے کہ ان آثار کی تائید اس بات سے بھی ہوئی ہے کہ نزول مائدہ کی کوئی شہرت عیسائیوں میں ہے نہ اس کی کتابوں میں درج ہے۔ حالانکہ اگر یہ نازل ہوا ہوتا تو اسے ان کے ہاں مشہور بھی ہونا چاہیے تھا اور کتابوں میں بھی تواتراً ہوتا یا کم از کم آحاد سے نقل ہونا چاہیے تھا۔

١١٦۔(١)  یہ سوال قیامت والے دن ہو گا اور مقصد اس سے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنالینے والوں کی زجر و توبیخ ہے کہ جن کو تم معبود اور حاجت روا سمجھتے تھے، وہ تو اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ حضرت مریم علیہا السلام کو بھی اللہ (معبود) بنالیا ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ من دون اللہ اللہ کے سوا معبود وہی نہیں ہیں جنہیں مشرکین نے پتھر یا لکڑی کی مورتیوں کی شکل میں بنا کر ان کی پوجا کی جس طرح کہ آج کل کے قبر پرست علماء اپنے عوام کو یہ باور کرا کے مغالطہ دیتے ہیں بلکہ وہ اللہ کے نزدیک بندے بھی من دون اللہ میں شامل ہیں جن کی لوگوں نے کسی بھی انداز سے عبادت کی جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مریم کی عیسائیوں نے کی۔

١١٦۔(٢) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کتنے واضح الفاظ میں اپنی بابت علم غیب کی نفی فرما رہے ہیں۔

١١٧۔(١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توحید و عبادت رب کی یہ دعوت عالم شیر خوارگی میں بھی دی، جیسا کہ سورہ مریم میں ہے اور عمر جوانی و کہولت میں بھی۔

١١٧۔(٢) توفیتنی کا مطلب ہے جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا جیسا کہ اس کی تفصیل سورہ آل عمران کی آیت ۵۵ میں گزر چکی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پیغمبروں کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا جاتا ہے یا جن کا مشاہدہ وہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ جب کہ عالم الغیب وہ ہوتا ہے جسے بغیر کسی کے بتلائے ہر چیز کا علم ہوتا ہے اور اس کا علم ازل سے ابد تک پر محیط ہوتا ہے۔ یہ صفت علم اللہ کے سوا کسی اور کے اندر نہیں اس لئے عالم الغیب صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں حدیث میں آتا ہے کہ میدان محشر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آپ کے کچھ امتی آنے لگیں گے تو فرشتے ان کو پکڑ کر دوسری طرف لے جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرمائیں گے ان کو آنے دو یہ تو میرے امتی ہیں فرشتے آ کر بتلائیں گے انک لاتدری ما احدثوا بعدک اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم آپ نہیں جانتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ سنیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں بھی اس وقت یہی کہوں گا جو العبد الصالح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا (وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

۱۱۸۔ یعنی مطلب یہ کہ یا اللہ! ان کا معاملہ تیری مشیت کے سپرد ہے اس لئے کہ تو فعال لما یرید بھی ہے جو چاہے کر سکتا ہے اور تجھ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہے لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون (الانبیاء) اللہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں ہو گی لوگوں سے ان کے کاموں کی باز پرس ہو گی۔ گویا آیت میں اللہ کے سامنے بندوں کی عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہے اور اللہ کی عظمت و جلالت اور اس کے قادر مطلق اور مختار کل ہونے کا بیان بھی اور پھر ان دونوں باتوں کے حوالے سے عفو و مغفرت کی التجا بھی سبحان اللہ! کیسی عجیب و بلیغ آیت ہے اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر نوافل میں اس آیت کو پڑھتے ہوئے ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ بار بار ہر رکعت میں اسے ہی پڑھتے رہے حتی کہ صبح ہو گئی۔ (مسند احمد جلد ۵ ص ۱۱۹)

١١٩۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے معنی یہ بیان فرمائے ہیں، وہ دن ایسا ہو گا کہ صرف توحید ہی موحدین کو نفع پہنچائے گی، یعنی مشرکین کی معافی اور مغفرت کی کوئی صورت نہیں ہو گی۔