احسن البیان

سُوۡرَةُ الانشقاق

١۔ یعنی جب قیامت برپا ہو گی۔

٢۔ یعنی اس کے یہ لائق ہے کہ سنے اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پر غالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہے ؟

٣۔ یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کر دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔

٤۔ یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔

٩۔ یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا مراد وہ حور عین اور دلدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔

١٣۔ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا،

١٥۔ یعنی اس سے اس کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں تھا۔

١٦۔ ١ شفق جو سورج غروب ہونے پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔

١٧۔ اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔

١٩۔ یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہو گی (یہ جواب قسم ہے )

٢١۔ احادیث سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔

٢٢۔ یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلا رہے ہیں۔