تفہیم القرآن

سُوۡرَةُ البَیّنَة

نام

پہلی آیت کے لفظ البیّنہ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانۂ نزول

اس کے بھی مکّی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے۔  بعض مفسّرین کہتے ہیں  کہ جمہور کے نزدیک یہ مکّی ہے اور بعض دوسرے مفسرّین کہتے ہیں  کہ  جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔  ابن الزُّبیر اور عطاء بن یَسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔  ابن عباس اور قَتَادہ کے دو قول منقول ہیں۔  ایک یہ کہ یہ مکّی ہے،   دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔  حضرت عائشہ ؓ اِسے مکّی قرار دیتی ہیں۔  ابو حَیّان صاحبِ  بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفَرَس صاحبِ احکام القرآن اِس کے مکّی ہونے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔  جہاں  تک اِس کے مضمون کا تعلق ہے،  اُس میں  کوئی علامت ایسی  نہیں  پائی جاتی جو اِس کے مکّی  یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔

موضوع اور مضمون

قرآن مجید کی ترتیب میں  اِس کو سورۂ علق اور سورۂ قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔  سورۂ عَلَق میں  پہلی وحی درج کی گئی ہے۔  سورۂ قدر میں  بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی۔ اور اِس  سورہ میں  بتایا گیا ہے کہ اِس کتابِ  پاک کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں  ضروری تھا۔

سب سے پہلے رسول بھیجنے کی ضرورت بیان کی گئی ہے،  اور وہ یہ کہ  دنیا کے لوگ، خواہ وہ اہلِ  کتاب  میں  سے ہوں  یا مشرکین میں  سے،  جس کفر کی حالت میں  مبتلا تھے اُس سے اُن کا نکلنا اِس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایسا رسول بھیجا جائے جس کا وجود خود اپنی رسالت پر دلیلِ  روشن ہو، اور وہ لوگوں  کے سامنے خدا کی کتاب  کو اس کی اصلی صورت میں  پیش کرے جو باطل کی اُن تمام آمیزشوں  سے پاک ہو جن سے پچھلی کتبِ آسمانی کو آلودہ کر دیا گیا ہے اور بالکلراست اور درست تعلیمات پر مشتمل ہو۔

اِس کے بعد  اہلِ کتاب کی گمراہیوں  کے متعلق وضاحت کی گئی ہے کہ  اُن کے اِن مختلف راستوں  میں  بھٹکنے  کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی کوئی رہنمائی نہ کی تھی، بلکہ وہ اِس کے بعد بھٹکے کہ راہِ راست کا بیانِ واضح اُن کے پاس آچکا تھا۔ اِس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی گمراہیوں  کے وہ خود ذمّہ دار ہیں،  اور اب  پھر اللہ کے اِس رسول کے ذریعہ سے بیانِ واضح آ جانے کے بعد بھی اگر وہ بھٹکتے ہی رہیں  گے تو اُن کی ذمّہ داری اور زیادہ بڑھ جائے گی۔

اِسی سلسلے میں  یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انبیاء بھی آئے تھے،  اور جو کتابیں  بھی بھیجی گئی تھیں ،  اُنہوں  نے اِس کے سوا کوئی حکم نہیں  دیا تھا کہ سب طریقوں  کو چھوڑ کر خالص اللہ کی بندگی  کا طریقہ اختیار کیا جائے،  کسی اور کی عبادت و بندگی اور اطاعت و پرستش کو اس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے،  نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔  یہی ہمیشہ سے ایک صحیح دین رہا ہے۔  اِس سے بھی یہ نتیجہ خود بخود برآمد ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب نے اِس اصل دین سے ہٹ کر اپنے مذہبوں  میں  جن نئی نئی باتوں  کا اضافہ کر لیا ہے وہ سب باطل ہیں ،  اور اللہ کا یہ رسول جو اَب آیا ہے اُسی اصل دین کی طرف پلٹنے کی اُنہیں  دعوت دے رہا ہے۔

          آخر میں  صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ جو اہلِ کتاب اور مشرکین اِس رسول کو ماننے سے انکار کریں  گے وہ بدترینِ خلائق ہیں،  اُن کی سزا اَبَدِی جہنّم ہے،  اور جو لوگ ایمان لا کر عملِ صالح کا طریقہ اختیار کر لیں  گے اور دنیا میں  خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں  گے وہ بہترین خلائق ہیں،  اُن کی جزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنّم میں  رہیں  گے،  اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔ 

ترجمہ و تفسیر

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
 اہلِ کتاب اور مشرکین 1 میں  سے جو لوگ کافر تھے 2 (وہ اپنے کُفر سے ) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیلِ روشن نہ آ جائے 3 (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسُول 4 جو پاک صحیفے پڑھ کر سُنائے 5 جن میں  بالکل راست اور درست تحریریں  لکھی ہوئی ہوں۔
پہلے جن لوگوں  کو کتاب دی گئی تھی اُن میں  تفرقہ برپا نہیں  ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس  (راہِ راست کا ) بیانِ واضح آ چکا تھا۔ 6 اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں  دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں  اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے،  بالکل یَکسُو ہو کر، اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ دیں ۔  یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔  7
اہلِ کتاب اور مشرکین میں  سے جن لوگوں  نے کُفر کیا ہے 8 وہ یقیناً جہنّم کی آگ میں  جائیں  گے اور ہمیشہ اس میں  رہیں  گے،  یہ لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔  9 جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں  نے نیک عمل کیے،  وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں۔  10 اُن کی جزا اُن کے ربّ کے ہاں  دائمی قیام کی جنّتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہ رہی ہوں  گی، وہ ان میں  ہمیشہ ہمیشہ رہیں  گے۔  اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔  یہ کچھ ہے اُس شخص کے لے  جس نے اپنے ربّ کا خوف کیا ہو۔ 11  ؏۱

 

1: کفر میں  مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں  گروہوں  کو دو الگ الگ ناموں  سے یاد کیا گیا ہے۔  اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں  جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں  میں  سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں  سہی، موجود تھی اور وہ اُسے مانتے تھے۔  اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں  جو کسی نبی  کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے۔  قرآن مجید میں  اگرچہ اہلِ کتاب کے شِرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے۔  مثلاً عیسائیوں  کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں  اللہ تین خداؤں  میں کا ایک ہے (المائدہ، ۷۳)۔ وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں  (المائدہ، ۱۷)۔ وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں  (التوبہ، ۳۰)۔ اور یہود کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ عُزَیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ( التوبہ، ۳۰)۔  لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں  کہیں  اُن کے لیے  ’’مشرک‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں  کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہلِ کتاب یا  اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ (جن کو کتاب دی گئی تھی)، یا یہود اور نصاریٰ کے الفاظ سے کیا گیا ہے،  کیونکہ وہ اصلِ دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔  بخلاف اِس کے غیر اہلِ  کتاب کے لیے ’’مشرک‘‘ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کال گیا ہے۔  کیونکہ وہ اصلِ دین شرک ہی کو قرار دیتے  تھے اور توحید کے ماننے سے اُن کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق اِن دونوں  گروہوں  کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں  نہیں  بلکہ شریعت  کے احکام میں  بھی ہے۔  اہلِ کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں  کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں،  اور ان کی عورتوں  سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔  اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں  سے نکاح حلال۔

2: یہاں  کفر اپنے وسیع معنوں  میں  استعمال کیا گیا ہے جن میں  کافرانہ رویّہ کی مختلف صورتیں  شامل ہیں۔  مثلاً کوئی اِس معنی میں  کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات، یا خدائ کی صفات و اختیارات میں  کسی نہ کسی طور پر دوسروں  کو شریک ٹھیرا کر اُن کی عبادت بھی کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں  کو نہیں  مانتا تھا اور اُس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا  جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔  کوئی کسی نبی کو مانتا تھا  اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا  تھا۔ خوئی آخرت کا منکر تھا۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں  لوگ مبتلا تھے۔  اور  یہ جو فرمایا   کہ   ’’ اہلِ کتاب اور مشرکین  میں  سے جو لوگ  کافر تھے ‘‘ اِس  کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ ان میں  سے کچھ لوگ کفر میں  مبتلا  نہ تھے،  بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں  مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے۔  ایک اہلِ کتاب،  دوسرے مشرکین۔  یہاں  مِنْ  تبعیض کے لیے نہیں  بلکہ بیان کے لیے ہے۔  جس طرح سورۂ حج آیت ۳۰ میں  فرمایا گیا فَا جْتَنِبُوْ ا ا لرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں  کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں  میں  جو گندگی ہے اُس سے بچو۔ ا سی طرح اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ کا مطب  بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہلِ کتاب اور مشرکین میں  سے ہیں،  نہ یہ کہ اِن دونوں  گروہوں  میں  سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔

3: یعنی اُن کے اِس حالتِ کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اِس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیلِ روشن آ کر اُنہیں  کفر کی ہر صورت کا غلط اور خلافِ حق ہونا سمجھائے اور راہِ راست کو واضح اور مدلّل طریقے سے ان کے سامنے پیش کر دے۔  اِس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ اُس دلیلِ  روشن کے آ جانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آ جانے والے تھے۔  بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں  تو ان کا اِس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی اُن میں  سے جو لوگ اپنے کفر پر قائم رہیں  اُس کی ذمہ داری پھر اُنہی پر ہے،  اس کے بعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں  کر سکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں  کیا۔  یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں  مختلف مقامات پر مختلف طریقوں  سے بیان کی گئی ہے۔  مثلاً سُورۂ نحل میں  فرمایا وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ، ’’سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمّہ ہے ‘‘(آیت۹)۔ سُورۂ  لَیل میں  فرمایا اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی، ’’راستہ بتانا ہمارے ذمّہ ہے ‘‘(آیت۱۲)۔ اِنَّآ اَوْ حَیْنَآ اَلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلیٰ نُوْحٍ وَّ النَّبِیِّیْنَ مِنْم بَعْدِہ ۔ ۔۔۔۔۔ رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِ رِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ، ’’(اے نبی )  ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے نبیوں  کی طرف بھیجی تھی۔ ۔۔۔۔ اِن رسولوں  کو بشارت دینے والا  اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تا کہ رسولوں  کے بعد لوگوں  کے لیے اللہ پر کوئی حجّت نہ رہے ‘‘(النساء، ۱۶۵-۱۶۴)۔ یٰٓاَ ھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآ ءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآ ءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ، فَقَدْ جَآءَکُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ، ’’ اے اہلِ کتاب تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا  نہ خبردار کرنے والا۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور  خبردار کرنے والا آ گیا‘‘(المائدہ۔۱۹)۔

4: یہاں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو بذاتِ خود ایک دلیلِ  روشن کہا گیا ہے،  اس لیے کہ آپ کی نبوّت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی، آپ کا اُمّی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں  کی زندگیوں  میں  غیر معمولی انقلاب رونما ہو جانا،  آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت سُتھری عبادات،  کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا،  آپ کے قول اور عمل میں  پوری پوری مطابقت  کا پایا جانا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں  اور مخالفتوں  کے مقابلے میں  انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں  اس بات کی کھلی علامات تھیں  کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

5: لغت کے اعتبار سے تو صحیفوں  کے معنی ہیں  ’’لکھے ہوئے ‘‘، لیکن قرآن مجید میں  اصطلاحاً یہ لفظ انبیاء  علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتابوں  کے لیے استعمال ہوتا ہے۔  اور پاک صحیفوں  سے مراد ہیں  ایسے صحیفے جن میں  کسی قسم کے باطل، کسی طرح کی گمراہی و ضلالت، اور کسی اخلاقی گندگی کی آمیزش نہ ہو۔ اِن الفاظ  کی پوری اہمیت اُس وقت واضح ہو تی ہے جب انسان قرآن مجید کے مقابلے میں  بائیبل (اور دوسرے مذاہب کی کتابوں  کا بھی) مطالعہ کرتا ہے اور ان میں  صحیح باتوں  کے ساتھ ایسی باتیں  لکھی ہوئی  دیکھتا ہے جو حق و صداقت اور عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہیں  اور اخلاقی اعتبار سے بھی بہت گِری ہوئی ہیں۔  اُن کو پڑھنے کے بعد جب آدمی قرآن  کو دیکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی پاک اور مطہَّر کتا ب ہے۔

6: یعنی اِس سے پہلے اہلِ کتاب جو مختلف گمراہیوں  میں  بھٹک کر بے شمار فرقوں  میں  بٹ گئے  اُس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اُن کی رہنمائی کے لیے دلیلِ روشن بھیجنے میں  کوئی کَسر اٹھا  رکھی تھی، بلکہ یہ روِش اُنہوں  نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آ جانے کے بعد اختیار کی تھی، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ دار تھے،  کیونکہ ان پر حجّت تمام کی جا چکی تھی۔ اِسی طرح اب چونکہ اُن کے صحیفے پاک نہیں  رہے ہیں   اور ان کی کتابیں  بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں  رہی ہیں ،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دلیلِ روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل پیش کر کے ان پر پھر حجت تمام کر تی ہے،  تاکہ اس کے بعد بھی اگر وہ متفرِّق رہیں  تو اس کی ذمہ داری اُنہی پر ہو، اللہ کے مقابلہ میں  وہ کوئی حجّت پیش  نہ کر سکیں۔  یہ بات قرآن مجید میں  بکثرت مقامات پر فرمائی گئی ہے۔  مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، البقرہ، آیات ۲۵۳-۲۱۳۔ آلِ عمران، ۱۹۔ المائدہ، ۴۴ تا ۵۰۔ یونس، ۹۳۔ الشوریٰ، ۱۳ تا ۱۵۔ الجاثیہ، ۱۶ تا ۱۸۔ اس کے ساتھ اگر وہ حوا شی بھی پیشِ نظر رکھے جائیں  جو تفہیم القرآن میں  اِن آیات پر ہم نے لکھے ہیں  تو بات  سمجھنے میں  مزید آسانی ہو گی۔

7: یعنی جس دین کو اب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پیش کر رہے ہیں ،  اِسی دین کی تعلیم اہلِ کتاب کو اُن کے ہاں  آنے والے انبیاء اور ان کے ہاں  نازل ہونے والی کتابوں  نے دی تھی، اور اُن عقائدِ  باطلہ اور اعمالِ فاسدہ میں  سے کسی چیز کا اُنہیں  حکم نہیں  دیا گیا تھا جنہیں  اُنہوں  نے بعد میں  اختیار کر کے مختلف مذاہب بنا ڈالے۔  صحیح اور درست دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالص اللہ بندگی کی جائے،  اُس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے،  ہر طرف سے رُخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابعِ فرمان بن جائے،  نماز قائم کی جائے،  زکوٰۃ ادا کی جائے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم،  الاعراف، حاشیہ ۱۹۔ یونس، حواشی ۱۰۹-۱۰۸۔ جلد سوم، الروم، حواشی ۴۳ تا ۴۷۔ جلد چہارم، الزُّمر، حواشی ۴-۳)۔ اس آیت میں  دین القیّمۃ کے جو الفاظ آئے ہیں  ان کو بعض مفسرین نے دِیْن الملّۃ القیّمۃ یعنی ’’راست رو ملّت کا دین‘‘ کے معنی میں  لیا ہے اور بعض  اسے اضافتِ صفت الی الموصوف قرار دیتے ہیں  اور قیّمۃ کی   ہ  کو علّامہ اور فہّامَہ کی طرح مبالغہ کی ہ قرار دیتے ہیں۔  ان کے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں  جو ہم نے ترجمہ میں  اختیار کیے ہیں۔

8: یہاں  کفر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ماننے سے انکار  کرنا ہے۔  مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور اہلِ کتاب میں  سے جن لوگوں  نے اُس رسول کے آ جانے کے بعد اُ کو نہیں  مانا جس کا وجود خود ایک دلیلِ روشن ہے اور جو بالکل درست تحریروں  پر مشتمل پاک صحیفے  اُن کو پڑھ کر سنا رہا ہے،  اُن کا  انجام وہ ہے جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔

9: یعنی خدا کی مخلوقات میں  اُن سے بد تر کوئی مخلوق نہیں  ہے حتیٰ کہ جانوروں  سے بھی گئے گزرے ہیں ،  کیونکہ جانور عقل  اور اختیار نہیں  رکھے،  اور یہ عقل اور اختیار رکھتے ہوئے حق سے منہ موڑتے ہیں۔

10: یعنی وہ خدا کی مخلوقات میں  سے سے،  حتیٰ کے ملائکہ سے بھی افضل و اشرف ہیں،  کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار نہیں  رکھتے اور یہ اُس کا اختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔ 11:  بالفاظِ دیگر جو شخص خد ا سے بے خوف اور اس کے مقابلہ میں  جری و بے باک بن کر نہیں  رہا بلکہ دنیا میں  قدم قدم پر اِس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ کہیں  مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہو جائے جو خدا کے ہاں  میری پکڑ کا موجب ہو، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے۔