تفہیم القرآن

سُوۡرَةُ القَلَم

نام

اس کا نام سورہ "ن" بھی ہے اور "القلم" بھی۔ دونوں  الفاظ سورۃ کے آغاز ہی میں  موجود ہیں۔ 

زمانۂ نزول

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سُورتوں  میں  سے ہے،  مگر اس کے مضمون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اُس زمانے میں  نازل ہوئی تھی جب مکہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی۔

موضوع اور مضمون

اس میں  تین مضامین بیان ہوئے ہیں۔  مخالفین کے اعتراضات کا جواب،  اُن کو تنبیہ اور نصیحت،  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو صبر و استقامت کی تلقین۔

آغازِ کلام  میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے ارشاد ہوا ہے کہ یہ کفار تم کو دیوانہ کہتے ہیں،  حالانکہ جو کتاب تم پیش کر رہے ہو اور اخلاق کے جس اعلیٰ مرتبے پر تم فائز ہو وہ خود ان کے اس جھوٹ کی تردید کے لیے کافی ہے۔  عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب سب ہی دیکھ لیں  گے کہ دیوانہ کون تھا اور فرزانہ کون۔ لہٰذا مخالفت کا جو طوفان تمہارے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اس کا دباؤ ہر گز قبول نہ کرو۔ دراصل یہ ساری باتیں  اِس لیے کی جا رہی  ہیں  کہ تم کسی نہ کسی طرح دب کر ان سے مصالحت (Compromise) کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

پھر عوام کی آنکھیں  کھولنے کے لیے نام لیے بغیر مخالفین میں  سے ایک نمایاں  شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے جسے اہلِ مکہ خوب جانتے تھے۔  اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی پاکیزہ اخلاق بھی سب کے سامنے تھے،  اور ہر دیکھنے والا یہ بھی  دیکھ سکتا تھا کہ آپ کی مخالفت میں  مکہ کے جو سردار پیش پیش ہیں  اُن میں  کسی سیرت و کردار کے لوگ شامل ہیں۔

اس کے بعد آیت ۱۷ سے ۲۳ تک ایک باغ والوں  کی مثال پیش کی گئی ہے جنہوں  نے اللہ سے نعمت پا کر اُس کی نا شکری کی اور اُن کے اندر جو شخص سب سے بہتر تھا اس کی نصیحت بر وقت نہ مانی، آخر کار وہ اُس نعمت سے محروم ہو گئے اور اُن کی آنکھیں  اُس وقت کھلیں  جب اُن کا سب کچھ بر باد کر چکاتھا۔ یہ مثال دے کر اہلِ مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی بعثت سے تم بھی اُسی آزمائش میں  پڑ گئے ہو جس میں  وہ باغ والے پڑے تھے۔  اگر ان کی بات نہ مانوگے تو دنیا میں  بھی عذاب بھگتو گے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔

پھر آیت ۳۴ سے ۴۷ تک مسلسل کفار کو فہمائش کی گئی ہے جس میں  کہیں  تو خطاب براہ راست اُن سے ہے اور کہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل تنبیہ اُن کو کی گئی ہے۔  اس سلسلہ میں  جو باتیں  ارشاد ہوئی ہیں  ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی لازماً اُنہی لوگوں  کے لیے ہے جنہوں  نے دنیا میں  خدا ترسی کے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔  یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں  فرمانبرداروں  کا  انجام وہ ہو جو مجرموں  کا ہو نا چاہیے۔  کفار کی یہ غلط فہمی قطعی بے بنیاد ہے کہ خدا اُن کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جو وہ خود اپنے لیے تجویز کرتے ہیں،  حالانکہ اِس کے لیے اُنہیں  کوئی ضمانت حاصل نہیں  ہے۔ جن لوگوں  کو دنیا میں  خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ اس سے انکار کرتے ہیں،  قیامت کے روز وہ سجدہ کرنا چاہیں  گے بھی تو نہ کر سکیں  گے اور ذلت کا انجام انہں ی دیکھنا پڑے گا۔ قرآن کو جھٹلا کو وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں  سکتے۔  اُنہیں  جو ڈھیل دی جا رہی ہے اس سے وہ دھوکے میں  پڑ گئے ہیں۔  وہ سمجھتے ہیں  کہ اس تکذیب کے با وجود جب اُن پر عذاب نہیں  آرہا ہے تو وہ صحیح راستے پر ہیں،  حالانکہ وہ بے خبری میں  ہلاکت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔  اُن کے پاس رسول کی مخالفت کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں  ہے،  کیونکہ وہ ایک بے غرض مبلغ ہے،  اپنی ذات کے لیے اُن سے کچھ نہیں   مانگ رہا ہے،  اور وہ یہ دعویٰ بھی نہیں  کر سکتے  کہ اُنہیں  اُس کے رسول نہ ہونے اور اُس کی باتوں  کے غلط ہونے کا علم حاصل ہے۔

          آخر میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فیصلہ آنے تک جو سختیاں  بھی تبلیغ دین کی راہ میں  پیش آئیں  اُن کو صبر کے ساتھ برداشت کرتے  چلے جائیں   اور اُس بے صبری سے بچیں  جو یونس علیہ السلام کے لیے ابتلا کی موجب بنی تھی۔

ترجمہ و تفسیر

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں،  1 تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں  ہو۔ 2 اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔  3 اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔ 4 عنقریب تم بھی دیکھ لو گے  اور وہ بھی دیکھ لیں  گے کہ  تم میں  سے کون جنُون میں  مبتلا ہے۔   تمہارا ربّ اُن لوگوں  کو بھی خُوب جانتا ہے  جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ،   اور وہی اُن کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو  راہِ راست پر ہیں۔   لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں  کے دباؤ میں  ہر گز نہ آؤ۔ یہ تو چاہتے ہیں  کہ کچھ تم مداہنت کرو  تو یہ بھی مداہنت کریں۔  5 ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں  کھانے والا بے وقعت آدمی ہے،  6 طعنے دیتا ہے چُغلیاں  کھاتا پھرتا ہے،  بھلائی سے روکتا ہے،  7 ظلم و زیادتی میں  حد سے گزر جانے والا ہے،  سخت بد اعمال ہے،  جفا کار ہے،  8 اور اِن سب عیوب کے ساتھ  بد اصل ہے،  9 اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔  10 جب ہماری آیات اُس کو سُنائی جاتی ہیں  تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں  کے افسانے ہیں۔  عنقریب ہم اُس کی سُونڈ پر داغ لگائیں  گے۔  11
ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں  ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں  کو آزمائش  میں  ڈالا تھا، 12 جب اُنہوں  نے قسم کھائی کے صبح و سویرے  ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں  گے اور وہ کوئی استثناء نہیں  کر رہے تھے۔  13 رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے ربّ کی طرف سے ایک بلا اُس باغ پر پھر گئی اور اُس کا ایسا حال ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ صبح اُن لوگوں  نے ایک دوسرے کو پُکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں  تو سویرے سویرے  اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ 14 چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں   چُپکے چُپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کو ئی مسکین تمہارے باغ میں  نہ آنے پائے۔  وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی 15 اس طرح وہاں  گئے جیسے کہ وہ ( پھل توڑنے پر )قادر ہیں۔  مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ’’ ہم راستہ بھُول گئے، ۔۔۔۔نہیں،  بلکہ ہم محروم رہ گئے۔ ‘‘ 16 اُن میں  جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا ’’میں  نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح  کیوں  نہیں  کرتے ؟ ‘‘ 17 وہ پکار اُٹھے پاک ہے ہمارا ربّ،  واقعی ہم گنہگار تھے۔  پھر اُن میں  سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔ 18 آخر کو اُنہوں  نے کہا’’افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے۔  بعید نہیں  کہ ہمارا ربّ ہمیں  بدلے میں  اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے،  ہم اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ‘‘ ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے،   کا ش یہ لوگ اُس کو جانتے۔   ؏۱

 

1: امام تفسیر مُجاہد کہتے کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر، یعنی قرآن لکھا جا رہا تھا۔ اِس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چیز جو لکھی جا رہی تھی اُس سے مراد قرآن مجید ہے۔

2: یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔  مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو کا تبین وحی ے ہاتھوں  سے ثبت ہو رہا ہے،  بجائے خود کفار کے اس بہتا ن کی تردید  کے لیے کافی ہے کہ معاذ اللہ  رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم مجنون ہیں۔  حضورؐ کے دعوائے نبوت سے پہلے تو اہلِ مکہ آپ  کو اپنی قوم کا بہترین آدمی مانتے تھے اور آپ کی دیانت  و امانت اور عقل و فراست ہر اعتماد  رکھتے تھے۔  مگر جب آپ نے اُن کے سامنے قرآن  پیش کرنا شروع کیا تو وہ آپ کو دیوانہ قرار دینے لگے۔  اس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ہی اُن کے نزدیک وہ سبب تھا جس کی بنا پر اُنہوں  نے آپ پر دیوانگی کی تہمت لگائی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قرآن ہی اِس تُہمت کی تردید کے لیے کافی ثبوت ہے۔  یہ اعلیٰ درجہ کا فصیح و بلیغ کلام، جو ایسے بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہے،  اِ س کا پیش کرنا تو اس بات کی دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر اللہ کا خاص فصل ہوا ہے،  کجا کہ اسے اس امر کی دلیل بنا یا جائے کہ آپ معاذ اللہ دیوانے ہو گئے  ہیں۔  اس مقام پر بات نگاہ میں  رہنی چاہیے کہ یہاں  خطاب تو بظاہر نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے،  لیکن اصل مقصود و کفار کو ان کی تُہمت کا جواب دینا ہے۔  لہٰذا کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ آیت حضورؐ کو یہ اطمینان دلانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ مجنون نہیں  ہیں۔  ظاہر ہے کہ حضورؐ کو اپنے متعلق تو ایسا کوئی شبہ نہ تھا کہ اسے دُور کرنے کے لیے آپ کو یہ اطمینان دلانے کی ضرورت ہوتی۔ مدعا کفار سے یہ کہنا ہے کہ تم جس قرآن کی وجہ سے اُس کے پیش کرنے والے کو مجنون کہہ رہے ہو وہی تمہارے اس الزام کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ طور، حاشیہ۲۲)۔

3: یعنی آپ کے لیے اِس بات پر بے حساب اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلقِ خدا کی ہدایت کے لیے جو کوششیں  کر رہے ہیں  اُن کے جواب میں  آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں  سُننی پڑ رہی ہیں  اور پھر بھی آپ اپنے اِس فرض کو انجام دیے چلے جا رہے ہیں۔

4: اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔  ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں  اسی وجہ سے آپ ہدایتِ خلق کے کام میں  یہ اذیتیں  بر داشت کر رہے ہیں،  ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں  کر سکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں  کہ کفار آپ  پر دیوانگی کی جو تُہمت رکھ رہے ہیں  وہ سراسر جھوٹی ہے،  کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی،  دونوں  ایک جگہ جمع نہیں  ہو سکتیں۔  دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازُن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں  اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے بر عکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں  کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور  سلیم الفطرت ہے اور اُس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ مُتوازن ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے اخلاق جیسے کچھ تھے،  اہلِ مکہ اُن سے  نا واقف نہ تھے۔  اس لیے اُن کی طرف محض اشار ہ کر دینا ہی اِ س بات کے لیے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ وہ لوگ کس قدر بے شرم ہیں  جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں۔  اُن کی یہ بیہودگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے لیے نہیں  بلکہ خود اُن کے لیے نقصان دہ تھی کہ مخالفت کے جوش میں  پاگل ہو کر وہ آپ کے متعلق ایسی بات کہہ رہے تھے جسے کوئی ذی فہم آدمی قابل تصور نہ مان سکتا تھا۔ یہی  معاملہ اُن مدعیانِ علم و تحقیق کا بھی ہے جو اِس زمانے میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر مِرگی اور جنون کی تہمت رکھ رہے ہیں۔  قرآن پاک دنیا میں  ہر جگہ مل سکتا ہے،  اور حضور کی سیرت بھی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ لکھی ہوئی موجود ہے۔  ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو لوگ اِس بے مثل کتاب کے پیش کرنے والے اور ایسے بلند اخلاق اکھنے والے انسان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں  وہ عداوت کے اندھے جذبے سے مغلوب ہو کر کیسی لغو بات کہہ رہے ہیں۔            رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہؓ نے اپنے اس قول میں  فرمائی ہے کہ کان خلقہ القراٰن۔ ’’قرآن آپ کا اخلاق تھا‘‘۔امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ اُن کا یہ قول متعدد سندوں  سے نقل کی ہے۔  اس کے معنی یہ ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے دنیا کے سامنے  محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہں ا کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھادیا تھا۔ جس  چیز کا قرآن میں  حکم دیا گیا آپ ؐ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں  روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اُس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں  فضیلت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات اُن سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں  نا پسندیدہ ٹھیرا یا گیا سب سے زیادہ آپ اُن سے پاک تھے۔  ایک اور روایت میں  حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں  کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے کبھی کسی خادم کونہیں  مارا،  کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اُٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں  مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں  لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حُرمتوں  کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اُس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دوکوموں  میں  سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے،  الّا یہ کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ دور رہتے تھے ‘‘(مسند احمد)۔حضرت انسؓ کہتے ہیں  کہ’’میں  نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی ہے۔  آپ نے کبھی میری کسی بات پر اُف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا  کہ تو نے  یہ کیوں  کیا، اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں  فرمایا کہ تو نے یہ کیوں  نہ کیا‘‘۔(بخاری ومسلم)۔ 

5: یعنی تم اسلام کی تبلیغ میں  کچھ ڈھیلے پڑ جاؤ تو یہ بھی تمہاری مخالفت میں  کچھ نرمی اختیار کر لیں،  یا تم ان کی گمرائیوں  کی رعایت کر کے اپنے دین میں  کچھ ترمیم کرنے پر آمادہ  ہو جاؤ تو یہ تمہارے ساتھ مصالحت کر لیں۔

6: اصل میں  لفظ مَھِیْن استعمال ہوا ہے  جو  حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔  درحقیقت یہ بہت قسمیں  کھانے والے آدمی کی لازمی صفت ہے۔ وہ بات بات پر اس لیے قسم کھاتا ہے کہ اُسے خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں  اور اس کی اس بات پر اُ س وقت تک یقین نہیں  کریں  گے جب تک وہ قسم نہ کھائے۔  اس بنا پر وہ اپنی نگاہ میں  خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور معاشرے میں  بھی اس کی کوئی وقعت نہیں  ہوتی۔

7: اصل میں  مَنَّاعٍ لِلْخَیْر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  خیر عربی زبان میں  مال کو بھی کہتے ہیں  اور بھلائی کو بھی۔  اگر اس کو مال  کے معنی میں  لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ سخت بخیل اور کنجوس آدمی ہے،  کسی کو پھوٹی کوڑی دینے کا بھی روادار نہیں ۔  اور اگر خیر کو نیکی اور بھلائی کے معنی میں  لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہر نیک کام میں  رکاوٹ ڈالتا ہے،  اور یہ بھی کہ وہ اسلام  سے لوگوں  کو روکنے میں  بہت سرگرم ہے۔

8:  اصل میں  لفظ عُتُل استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں  ا یسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو خوب ہٹا کٹا اور بہت کھانے پینے والا ہو، اور اس کے ساتھ نہایت بُد خُلق، جھگڑالو اور سفّاک ہو۔

9: اصل میں  لفظ زَنِیْم استعمال ہوا ہے۔  کلامِ عرب میں  یہ لفظ  اُس ولد الزنا کے لیے  بولا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں  شامل ہو گیا ہو۔ سعید بن جُبَیر ا ور شعبی کہتے ہیں  کہ یہ لفظ اُس شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو لوگوں  میں  اپنے شر کی وجہ سے معروف و مشہور ہو۔            اِن آیت میں  جس شخص کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں  اُس کے بارے میں  مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔  کسی نے کہا ہے کہ یہ شخص وَلید بن مغیرہ تھا۔ کسی نے اَسْود بن عَبدِ لَغُیوث کا نام لیا ہے۔  کسی نے اَخْنَس بن شُرَیق کو اس کا مصداق ٹھیرا یا ہے۔  اور بعض لوگوں  نے کچھ دوسرے اشخاص کی نشاندہی کی ہے۔  لیکن قرآن مجید میں  نام لیے بغیر صرف اُس کے اوصاف بیان کر دیے گئے ہیں۔  اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں  وہ اپنے اِن اوصاف کے لیے اتنا مشہور تھا کہ اس کا نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کی یہ صفات سنتے ہی ہر شخص سمجھ سکتا تھا کہ اشارہ کس کی طرف ہے۔

10: اس فقرے کا تعلق اُوپر کے سلسلہ کلام سے بھی ہو سکتا ہے اور بعد کے فقرے سے بھی۔  پہلی صورت میں  مطلب یہ ہو گا کہ ایسے آدمی کو دھونس اس بنا پر قبول نہ کرو کہ وہ بہت مال اولاد رکھتا ہے۔  دوسری صورت میں  معنی یہ ہوں  گے کہ بہت مال اولاد والا ہونے کی بنا پر وہ مغرور ہو گیا ہے،  جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں  تو کہتا ہے یہ اگلے وقتوں  کے افسانے ہیں۔

 11: چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ہے۔  اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل  ہے۔  یعنی ہم دنیا اور آخرت میں  اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں  گے کہ ابد تک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔

12: چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا ہے۔  اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل  ہے۔  یعنی ہم دنیا اور آخرت میں  اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں  گے کہ ابد تک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔

13: یعنی انہیں  اپنی قدرت اور اپنی اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بے تکلّف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں  گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں  کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں  گے۔

 14: کھیتی کا لفظ غالباً اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باغ میں  درختوں  کے درمیان کھیت بھی تھے۔

 15: اصل الفاظ ہیں  عَلیٰ حَرْد۔ عربی زبان میں  روکنے اور نہ دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے،  قصد اور طے شدہ فیصلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے،  اور سُرعت کے معنی میں  بھی مستعمل ہے۔  اسی لیے ہم نے ترجمے میں  تینوں  معنوں  کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔

 16: یعنی پہلے تو انہیں  باغ کو دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ انہی کا باغ ہے اور کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول کر کسی اور جگہ نکل آئے ہیں،  پھر جب غور کیا اور معلوم ہوا کہ یہ ان کا اپنا باغ ہی ہے تو چیخ اٹھے کہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔

17: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل توڑ اُس وقت اِس شخص نے ان کو تنبیہ کی تھی کہ تم خدا کو بھول گئے،  ان شاء اللہ کیوں  نہیں  کہتے ؟ مگر انہوں  نے اس کی پروا نہ کی۔ پھر جب وہ مسکینوں  کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کر رہے تھے اُس وقت بھی اس نے انہیں  نصیحت کی کہ اللہ کو یاد کر و اور اس بُری نیت سے باز آ جاؤ، مگر وہ اپنی بات پر جمے رہے۔

 18: یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اُس کے بہکانے سے ہم اِس خدا فراموشی اور بد نیتی میں  مبتلا ہوئے۔

 

19 یقیناً خدا ترس لوگوں  کے لیے اُن کے ربّ  کے ہاں  نعمت بھری جنّتیں  ہیں۔   کیا ہم فرماں  برداروں  کا حال مجرموں  کا سا کر دیں ؟ تم لوگوں  کو کیا ہو گیا ہے،  تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ 20 کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے 21 جس میں  تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے ضرور وہاں  وہی کچھ ہے  جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ یا پھر کیا تمہارے لیے روزِ قیامت  تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں  کہ تمہیں  وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟ اِن سے پوچھو تم میں  سے کون اِس کا ضامن ہے ؟ 22 یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں  نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں  اپنے شریکوں  کو اگر یہ سچے ہیں۔  23
جس روز سخت وقت آ پڑے گا 24 اور لوگوں  کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا  تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں  گے،  اِن کی نگاہیں  نیچی ہوں  گی، ذِلّت اِن پر چھا رہی ہو گی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں  سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا(اور یہ انکار کرتے تھے )۔ 25
پس اے نبیؐ،  تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں  کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ 26 ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں  گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔ 27 میں  اِن کی رسّی دراز کر رہا ہوں ،  میری چال 28 بڑی زبردست ہے۔
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چَٹّی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں ؟ 29 کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ 30 پس اپنے ربّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو 31 اور مچھلی والے (یونسؑ )کی طرح نہ ہو جاؤ، 32 جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہو۱ تھا۔ 33 اگر اس کے ربّ کی مہربانی اُس کے شاملِ حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموُم ہو کر چَٹیل میدان میں  پھینک دیا جاتا۔ 34 آخر کار اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ فرما لیا اور اُسے صالح بندوں  میں  شامل کر دیا۔
جب یہ کافر لوگ کلامِ نصیحت (قرآن)سُنتے ہیں  تو تمہیں  ایسی نظروں  سے دیکھتے ہیں  کہ  گویا تمہارے قدم اُکھاڑ دیں  گے،  35 اور کہتے ہیں  کہ یہ ضرور دیوانہ ہے،  حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں  کے لیے ایک نصیحت ہے۔   ؏۲

 

19: مکّہ کہ بڑے بڑے سرادر مسلمانوں  سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں  جو دنیا میں  مل رہی ہیں ،  یہ خدا کے ہاں  ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں،  اور تم جس بد حالی میں  مبتلا ہو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہٰذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا کہ تم کہتے ہو، تو ہم وہاں  بھی مزے کریں  گے اور عذاب تم پر ہو گا نہ کہ ہم پر۔  اس کا جواب اِن آیات میں  دیا گیا ہے۔

 20: یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا کا فرمانبردار اور مجرم میں  تمیز نہ کرے۔  تمہاری سمجھ میں  آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں  دیکھے گا کہ کن لوگوں   نے دنیا میں   اس کے احکام کی اطاعت کی اور بُرے کاموں  سے پرہیز کیا، اور کون لوگ تھے جو اُس سے بے خوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے ؟ تم نے ایمان لانے والوں  کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور اُن کے  اخلاق و اعمال کا فرق نہیں  دیکھا اور بے تکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں  اِن فرمانبرداروں  کے ساتھ تو مجرموں  کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں  کو جنت عطا کر دی جائے گی۔

21: یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب۔

22: اصل میں  لفظ زَعِیْم استعمال ہوا ہے۔  کلامِ عرب میں  زعیم اس شخص کو کہتے ہیں  جو کفیل، یا ضامن یا کسی قوم کی طرف  سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں  سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے۔

 23: یعنی تم اپنے حق میں  جو حکم لگا رہے ہو اس کے لیے سرے سے کوئی بنیاد نہیں  ہے۔  یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔  خدا کی کسی کتاب میں  بھی تم یہ لکھا ہوا نہیں  دکھا سکتے۔  تم میں  سے کوئی یہ دعویٰ بھی نہیں  کر سکتا کہ اُس نے خدا سے ایسا کوئی عہد لے لیا ہے۔  اور جن کو تم  نے معبود بنا رکھا ہے اُن میں  ے بھی کسی سے تم یہ شہادت نہیں  دلوا سکتے  کہ خدا کے ہاں  تمہیں  جنت دلوا دینے کا وہ ذمّہ لیتا ہے۔  پھر یہ غلط فہمی آخر تمہیں  کہاں  سے لاحق ہو گئی؟

24: اصل الفاظ ہیں  یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ، ’’جس روز پنڈلی کھولی جائے گی‘‘۔صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔  عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشفِ ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔  حضرت عبداللہ بن عباس نے بھی اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں  اور ثبوت میں  کلامِ عرب سے استشہاد کیا  ہے۔  ایک اور اقوال جو ابن عباس اور ربیع بن انس سے منقول ہے اس میں  کشفِ ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے۔  اس تاویل کی رو سے معنی یہ ہوں  گے کہ جس روز تمام حقیقتیں  بے نقاب ہو جائیں  گی اور لوگوں  کے اعمال کھل کر سامنے آ جائیں  گے۔

 25: یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا کا فرمانبردار اور مجرم میں  تمیز نہ کرے۔  تمہاری سمجھ میں  آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں  دیکھے گا کہ کن لوگوں   نے دنیا میں   اس کے احکام کی اطاعت کی اور بُرے کاموں  سے پرہیز کیا، اور کون لوگ تھے جو اُس سے بے خوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے ؟ تم نے ایمان لانے والوں  کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور اُن کے  اخلاق و اعمال کا فرق نہیں  دیکھا اور بے تکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں  اِن فرمانبرداروں  کے ساتھ تو مجرموں  کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں  کو جنت عطا کر دی جائے گی۔

26: یعنی ان سے نمٹنے کی فکر میں  نہ پڑو۔ ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔

 27: بے خبری میں  کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں  نعمتوں  سے نوازا جائے،  صحت،  مال،  اولاد اور دنیوی کامیابیاں  عطا کی جائیں ،  جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں  جو کچھ کر رہا ہوں  خوب کر رہا ہوں،  میرے عمل میں  کوئی غلطی نہیں  ہے۔  اس طرح وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں  زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور نہیں  سمجھتا کہ جو نعمتیں  اسے مل رہی ہیں  وہ انعام نہیں  ہیں  بلکہ درحقیقت یہ اس کی ہلاکت کا ساما ن ہے۔

 28: اصل میں  لفظ کَیْد استعمال ہوا ہے جس کے معنی کسی کے خلاف خفیہ تدبیر کرنے کے لیے ہیں۔  چیز صرف اُس صورت میں  ایک بُرائی ہوتی ہے جب یہ ناحق کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ہو۔ ورنہ بجائے خود اِس میں  کوئی برائی نہیں  ہے، خصوصاً جب کیس ایسے شخص کے خلاف یہ طریقہ اختیار کی جائے جس نے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا لیا ہے۔

29: سوال بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کیا جا رہا ہے،  مگر اصل مخاطب وہ لوگ ہیں  جو آپ کی مخالفت میں  حد سے گزرے جا رہے تھے۔  اُن سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ہمارا سول تم سے کچھ مانگ رہا ہے کہ تم اس پر اتنا بگڑ رہے ہو؟ تم خود جانتے ہو کہ وہ ایک بے غرض آدمی ہے اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے صرف اس لیے کر رہا ہے کہ اس کے نزدیک اسی میں  تمہاری  بھلائی ہے۔  تم نہیں  ماننا چاہتے تو نہ مانو، مگر اِس تبلیغ پر آخر اتنے چراغ پاکیوں  ہوئے جا رہے ہو؟(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورہ طور، حاشیہ۳۱)۔

30: یہ دوسرا سوال بھی بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے ہے مگر دراصل آپ کے مخالفین اس کے مخاطب ہیں ۔  مطلب یہ ہے کہ کیا تم لوگوں  نے پردہ غیب کے پیچھے جھانک کر دیکھ لیا ہے کہ یہ رسول  فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا رسول نہیں  ہے اور جو حقیقتیں  یہ تم سے بیان کر رہا ہے وہ بھی غلط ہیں،  اس لیے تم اس کو جھٹلانے  میں  اتنی شدت برت  رہے ہو؟( مزید تشریح  کے لیے ملاحظہ ہو ،  تفسیر سورہ طور، حاشیہ ۳۲)۔

31: یعنی وہ وقت ابھی دور ہے جب اللہ تعالیٰ تمہاری فتح و نصرت اور تمہارے اِن مخالفین کی شکست کا فیصلہ فرما دے گا۔ اُس وقت کے آنے تک جو تکلیفیں  اور مصیبتیں  بھی اس دین کی تبلیغ میں  پیش آئیں  انہیں  صبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ۔

32: یعنی یونس علیہ السلام کی طرح بے صبری سے کام نہ لوجو اپنی بے صبری کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ پہنچا دیے گئے تھے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو اللہ کا فیصلہ آنے تک صبر کی تلقین کرنے کے  بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ یونس علیہ السلام کی طرح نہ ہو جاؤ، خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں  نے اللہ کا فیصلہ آنے سے پہلے بے صبری سے کوئی کام کیا تھا جس کی بنا پر وہ عتاب کے مستحق ہو گئے تھے۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، آیت۹۸، حاشیہ۹۹۔جلدسو۔، الانبیاء، آیات۸۷۔۸۸۔ حواشی ۸۲ تا ۸۵۔  جلد چہارم،  الصّافات، آیات۱۳۹تا ۱۴۸، حواشی۷۸ تا ۸۵)۔

33: سورہ انبیاء میں  اس کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ مچھی۹ کے پیٹ اور سمندر کی تاریکیوں  میں  حضرت یونس علیہ السلام نے پکارا تھا لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ، "کوئی خدا نہیں  تیری پاک ذات کے سوا، میں  واقعی خطا وار ہوں "۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد سن لی اور ان کو غم سے نجات دی(آیات۸۷۔۸۸)۔

34: اس آیت کو سُورہ صافّات کی آیات ۱۴۲ تا ۱۴۶ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں  ڈالے گئے تھے اُس وقت تو وہ ملامت میں  مبتلا تھے،  لیکن جب انہوں  نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کا لیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں  ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے،  مگر وہ اُس وقت مذمت میں  مبتلا نہ تھے،  بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اُس جگہ ایک بیلدار درخت اُگا دیا، تاکہ اُس کے پتّے ان پر سایہ بھی کریں  اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کر سکیں۔

 35: یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اُردو میں  کہتے ہیں  کہ فلاں  شخص نے اسے ایسی نظروں  سے دیکھا  جیسے اُس کو کھا جائے گا۔ کفار مکہ کے اس جذبہ غیظ و غضب کی کیفیت سورہ بنی اسرائیل،  آیات۷۳ تا۷۷ میں  بھی بیان ہوئی ہے۔