تفہیم القرآن

سُوۡرَةُ العَلق

نام

دوسری آیت کے لفظ عَلَقَ کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ 

زمانۂ نزول

اس سورۃ کے دو حصّے ہیں ۔  پہلا حصّہ اِقْراْ سے شروع ہو کر پانچویں  آیت کے الفاظ  مَا لَمْ یَعْلَمْ  پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصّہ کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغیٰ سے شروع ہو کر آخر سُورۃ تک چلتا ہے۔  پہلے حصّے کے متعلق علمائے امّت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ  یہ سب سے پہلے وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر نازل ہوئی۔ اِس معاملہ میں  حضرت عائشہؓ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے سُن کر آغازِ وحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔  اِس کے علاوہ ابن عباسؓ،  ابو موسیٰ اشعریؓ اور صحابہ کی ایک جماعت سے یہی بات منقول ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو حضور ؐ پر نازل ہوئیں   وہ یہی تھیں۔  دوسرا حصّہ بعد میں  اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے حَرَم میں  نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو دھمکیاں  دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی۔

آغازِ وحی

محدّثین نے آغازِ وحی کا قصّہ اپنی اپنی سندوں   کے ساتھ امام زُہْری سے،  اور انہوں  نے حضرت عُروَہ بن زُبَیر سے اور انہوں  نے اپنی خالہ حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر وحی کی ابتدا سچّے (اور بعض روایات میں  ہے اچھے ) خوابوں  کی شکل میں  ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں  دیکھ رہے ہیں۔  پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور کئی کئی شب و روز غارِ حرا میں  رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہؓ نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زُہْرِی نے تعبُّد سے کی ہے۔  یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے،  کیونکہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ  کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں  بتایا گیا تھا)۔ آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے  جا کر وہاں  چند روز گزارتے،  پھر حضرت خَدِیجہؓ کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کر دیتی تھیں۔  ایک روز جبکہ آپ غارِ حرا میں  تھے،  یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آ کر آپ سے کہا پڑھو۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا قول نقل کرتی ہیں  کہ میں  نے کہا’’ میں  تو پڑھا ہو انہیں  ہوں۔ ‘‘ اس پر فرشتے  نے مجھے پکر کر بھینچا یہاں  تک کہ میری قوتِ  برداشت جواب دیے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں  نے کہا ’’میں  تو پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔ ‘‘ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوتِ  برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں  نے پھر کہا ’’میں   تو پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔ ‘‘ اس نے تیسری بار مجھے بھینچا یہاں  تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ (پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا) یہاں  تک کہ مَا لَمْ یَعْلَمْ ( جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت  عائشہ ؓ  فرماتی ہیں  کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کانپتے  لرزتے ہوئے وہاں  سے پلٹے اور حضرت خَدِیجہؓ کے پاس پہنچ کر کہا’’ مُجھے اُڑھاؤ،  مجھے اُڑھاؤ ‘‘۔ چنانچہ آپ کو اڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوفزدگی کی کیفیت دور ہو گئی تو  آپ نے فرمایا ’’اے خدیجہؓ،  یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ ‘‘ پھر سارا قصّہ آپ نے اُن کو سنایا اور کہا ’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ ‘‘ انہوں  نے کہا’’ ہر گز نہیں،  آپ خوش ہو جائیے،  خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں  سے نیک سلوک کرتے ہیں،  سچ بولتے ہیں ،  (ایک روایت میں  یہ اضافہ ہے کہ امانتیں  ادا کرتے ہیں )، بے سہارا لوگوں   کا بار برداشت کرتے ہیں،  نادار لوگوں  کو کما کر دیتے ہیں،  مہمان نوازی کرتے ہیں،  اور نیک کاموں  میں  مدد کرتے ہیں۔ ‘‘  پھر وہ حضورؐ کو ساتھ لے کر وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس گئیں   جو اُن کے چچا زاد بھائی تھے،  زمانۂ جاہلیت میں  عیسائی ہو گئے تھے،  عربی اور عبرانی میں  انجیل لکھتے تھے،  بہت بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔  حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا  بھائی جان،  ذرا اپنے بھتیجے کا قصّہ سُنیے۔  وَرَقَہ نے حضورؐ سے کہا بھتیجے  تم کو کیا نظر آیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ وَرَقَہ نے کہا ’’یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰؑ پر نازل کیا تھا۔ کاش میں  آپ کے زمانۂ نبوت میں  قوی جوان ہوتا۔ کاش میں  اُس وقت زندہ رہوں  جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا ’’کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں  گے ؟‘‘ وَرَقَہ نے کہا ’’ہاں،  کبھی ایسا نہیں  ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں  اور اُس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں  نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں  آپ کی پُر زور مدد کروں  گا۔‘‘  مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ   ورقہ کا انتقال ہو گیا۔

یہ قصّہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔  اِس چیز کا طالب یا مُتَوَقِّع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں  بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ  آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اِس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا پہلا تاثُر آپ کے اوپر  وہی ہوا جو ایک بے خبر انسان پر اِتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہو سکتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو مکّہ کے لوگوں  نے آپ  پر ہر طرح کے  اعتراضات کیے،  مگر اُن میں  کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں  کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں  کر رہے تھے۔

اس قصّے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ  نبوّت سے پہلے آپ کی زندگی کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔ حضرت خدیجہ ؓ کوئی کم سن خاتون نہ تھیں  بلکہ اِس واقعہ کے وقت اُن کی عمر ۵۵ سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضورؐ کی شریکِ زندگی تھیں۔  بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں  رہ سکتی۔ انہوں  نے اِس طویل ازدواجی زندگی میں  آپ کو اِتنا عالی مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضورؐ نے اُن کو غارِ حراء میں  پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامُل انہوں  نے یہ تسلیم کر لیا کہ فی الواقع  اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا تھا۔ اِسی طرح وَرَقہ بن نَوفَل بھی مکّہ کے ایک بوڑھے باشندے تھے،  بچپن سے حضورؐ کی زندگی دیکھتے چلے آرہے تھے،  اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔  اُنہوں  نے بھی جب یہ واقعہ سُنا تو اِسے کوئی وَسْوَسہ نہیں  سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اِس کے  معنی یہ ہیں  کہ ان کے نزدیک بھی آپ اِتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابلِ تعجب امر نہ تھا۔

دوسرے حصہ کا شانِ نزول

اِس سُورہ کا دوسرا حصّہ اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حَرَم میں  اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو ڈرا دھمکا کر اِس سے روکنا چاہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اِس کے کہ حضورؐ اسلام کی عَلانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے،  آپ نے حَرَم میں  اُ س طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی،  اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیرو ہو گئے ہیں۔  دوسرے لوگ تو اِسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے،  مگر ابو جہل کی رگِ جاہلیت اِس پر پھڑک اُٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کر دیا کہ اِس طریقے پر حرم میں  عبادت نہ کریں۔  چنانچہ اس سلسلے میں  کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں  جن میں  ابو جہل کی اِن بیہودگیوں  کا ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں  سے پوچھا ’’کیا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹِکاتے ہیں ؟‘‘ لوگوں  نے کہا ہاں۔  اس نے کہا’’ لات اور عُزّیٰ کی قسم، اگر میں  نے ان کو اِس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں  رکھ دوں  گا اور ان کا منہ زمین میں  رگڑ دوں  گا۔‘‘ پھر ایسا ہوا کہ حضورؐ کو نماز پڑھتے  دیکھ کر وہ آگے بڑھا  تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں  رکھے،  مگر یکایک لوگوں  نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔  اُس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہو گیا؟ اس نے کہا میرے اور اُن کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پَر تھے۔  رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اُس کے چیتھڑے اڑا دیتے (احمد، مسلم، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُویَہ، ابو نُعَیم اصفہانی، بَیْہَقی)۔

ابن عبارؓ کی روایت ہے کہ ابو جہل نے کہا اگر میں  نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اُن کی گردن پاؤں  تلے دبا دوں  گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اُسے آپکڑیں  گے (بخاری، تِرْمِذِی، نَسائی، ابن جریر، عبد الرزاق، عبد بن حُمَید، ابن المُنذِر، ابن مَرْدُوْیَہ)۔

ابن عباسؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔  ابو جہل کا اُدھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا  اے محمدؐ، کیا میں  نے تم کو اِس سے منع نہیں  کیا تھا؟ اور اس نے آپ کو دھمکیاں  دینی شروع کیں ۔  جواب میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اِس پر اس نے کہا اے محمدؐ، تم کس بل پر مجھے ڈرا رہے ہو۔ خدا کی قسم، اِس وادی میں  میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔  (احمد، تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی شَیْبَہ، ابن المُنذِر، طَبرَانی، ابن مَرْدُوْیَہ)۔

انہی واقعات پر اِس سورہ کا وہ حصّہ نازل ہوا جو کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغیٰ سے شروع ہو تا ہے۔  قدرتی طور پر اِس حصّے کا مقام وہی ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اِس سورۃ میں  رکھا گیا ہے۔  کیونکہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد اِسلام کا اوّلین اظہار حضورؐ نے غار ہی سے کیا تھا، اور کفّارِ  سے آپ کی مُڈبھیڑ کا آغاز بھی اِسی واقعہ سے ہوا تھا۔

ترجمہ و تفسیر

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
 پڑھو 1 (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ 2 جس نے پیدا کیا، 3 جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ 4 پڑھو، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، 5 انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ 6
ہرگز نہیں،  7 انسان سرکشی کرتا ہے اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے 8 (حالانکہ) پلٹنا یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف ہے۔  9 تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ  وہ نماز پڑھتا ہو؟ 10 تمہارا  کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھُٹلاتا اور مُنہ موڑتا ہو؟ کیا وہ نہیں  جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟ 11 ہرگز نہیں،  12 اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اُسے کھینچیں  گے،  اُس پیشانی کو جو جھُوٹی اور سخت خطاکار ہے۔  13 وہ بُلا لے اپنے حامیوں  کی ٹولی کو، 14 ہم بھی عذاب کے فرشتوں  کو بُلا لیں  گے۔  15ہرگزنہیں،  اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے ربّ کا) قرب حاصل کرو۔ 16 ؏۱  السجدۃ

 

1: جیسا کہ  ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے،  فرشتے نے جب حضور ؑ سے کہا کہ پڑھو، تو حضورؐ نے جواب دیا کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں  آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور اُنہیں  پڑھنے کے لیے کہا تھا۔  کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں  بولتا جاؤں  آپ اسی طرح پڑھتے جائیں،  تو حضورؐ  کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔

2: یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اِس وحی کے آنے سے پہلے ہی صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب جانتے  اور مانتے تھے۔  اسی لیے یہ کہنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں  آئی کہ آپ کا رب کون ہے،  بلکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔

3: مطلقاً ’’پیدا کیا‘‘ فرمایا گیا ہے،  یہ نہیں   کیا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اِس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اُس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے،  جس نے ساری کائنات  اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔

4: کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اُس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اُسے پورا انسان بنایا۔ عَلَق جمع ہے عَلَقَہ کی جس کے معنی جمے ہوئے  خون کے ہیں۔  یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرارِ حمل کے بعد پہلے چند دنوں  میں  رونما ہوتی ہے،  پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج اس میں  انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج، آیت۵ حواشی ۵ تا ۷)۔

5: یعنی یہ اُس کا انتہائی کرم ہے کہ اِس حقیر ترین حالت سے ابتدا کر کے اُس نے انسان کو صاحبِ علم بنا یا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے،  اور صرف صاحبِ علم ہی نہیں  بنایا، بلکہ اُس کو قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت، ترقی اور نسلا ًبعد نسل اُس کے بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اُسے نشو نما پانے،  پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا۔

6: یعنی انسان اصل میں  بالکل بے علم تھا۔ اُسے جو کچھ بھی علم حاصل ہو ا اللہ کے دینے سے حاصل ہوا۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اُس پر کھُلتے چلے گئے۔  یہی بات ہے جو آیۃ الکرسی میں  اِس طرح فرمائی گئی ہے کہ وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ءٍ مِنْ عِلْمِہٖٓ اِلّا بِمَاشَآءَ۔’’اور لوگ اُس کے علم میں  سے کسی چیز کا احاطہ نہیں  کر سکتے سوائے اُس کے جو وہ خود چاہے ‘‘(البقرہ۔۲۵۵) جن جن چیزوں  کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے،  درحقیقت وہ پہلے اس کے علم نہیں  نہ تھیں،  اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا اُن کا علم اُسے دیا بغیر اس کے کہ انسان یہ محسوس کرتا کہ یہ علم اللہ اُسے دے رہا ہے۔  یہاں  تک وہ آیات ہیں  جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر نازل کی گئی۔  جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ  کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے،  یہ پہلا تجربہ اتنا سخت تھا کہ حضور ؑ اِس سے زیادہ کے متحمّل نہ ہو سکتے تھے۔  اس لیے اس وقت صرف یہ بتا نے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ رب جس کو آپ پہلے سے جانتے اور مانتے ہیں،  آپ سے براہ راست مخاطب ہے،  اس کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،  اور آپ کو اس نے اپنا نبی بنا لیا ہے۔  اِس کے ایک مدت بعد سورہ مدّثِّر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں  جن میں  آپ کو بتایا گیا کہ نبّوت پر مامور ہونے کے بعد اب آپ کو کام کیا کرنا ہے۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدّثِّر، دیباچہ) 

7: یعنی ایسا ہر گز نہ ہونا چاہیے کہ جس خدائے کریم نے انسان پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں  وہ جہالت برت کر وہ رویّہ اختیار کرے جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

8: یعنی یہ دیکھ کر کہ مال، دولت، عزّت و جاہ اور جو کچھ بھی دنیا  میں  وہ چاہتا تھا وہ اسے حاصل ہو گیا ہے،  شکر گزار ہونے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آتا ہے اور حدّ بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔

9: یعنی خواہ کچھ بھی اس نے دنیا میں  حاصل کر لیا ہو جس کے بل پر وہ تمُّرد اور سرکشی کر رہا ہے،  آخر کار اسے جان تو تیرے رب ہی کے پاس ہے۔  پھر اسے معلوم ہو جائے گا کہ اِس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔

10: بندے سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہیں۔  اس طریقے سے حضور ؑ کا ذکر قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔  مثلاً سُبْحٰنَ الّذیٰ اَسْریٰ بِعَبْدِہ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاقْصٰے (بنی اسرائیل۔۱)’’پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف‘‘۔اَلْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الکِتٰبَ(الکہف۔۱)’’تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی‘‘۔وَاِنَّہُ لَمَا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْ ا یَکُوْ نُوْنَ عَلَیْہِ لِبَداً(الجن۔۱۹) ’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہو ا تو  لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیّار ہو گئے۔ ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص محبت کا انداز ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنی آناب میں  اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر فرماتا ہے۔  علاوہ بریں  اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔ اُس طریقے کا  ذکر قرآن مجید میں  کہیں  نہیں  ہے کہ اے نبی تم اِس طرح نماز پڑھا کرو۔ لہٰذا یہ اِس امر کا ایک  اور ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صرف وہی  وحی نازل نہیں  ہوتی  تھی جو قرآن مجید میں  درج ہے،  بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسی باتوں  کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن مجید میں  درج نہیں  ہیں۔

 11:  بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں  ہر انصاف پسند شخص مخاطب ہے۔  اُس سے پو چھا جا رہا ہے کہ تم نے دیکھی اُس شخص کی حرکت جو خدا کی عبادت کرنے سے ایک بندے کو روکتا ہے ؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو، یا لوگوں  کو خدا سے ڈرنے اور برے کاموں  سے روکنے کی کوشش کرتا ہو، اور یہ منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور اُس سے منہ موڑتا ہو، تو اُس کی یہ حرکت کیسی ہے ؟ کیا یہ شخص یہ روش اختیار کر سکتا تھا اگر اِسے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے کو بھی دیکھ رہا ہے جو نیکی کا کام کرتا ہے اور اِس کو بھی دیکھ رہا ہے جو حق کو جھُٹلانے اور اُس سے روگردانی کرنے میں  لگا ہوا ہے ؟ ظالم کے ظلم کے اور مظلوم کی مظلومی کو اللہ تعالیٰ کا دیکھنا خود اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ظالم کو سزا دے گا اور مظلوم کی دادرسی کرے گا۔

12: یعنی یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نماز پڑھیں  گے تو وہ ان کی گردن کو پا ؤں  سے دبا دے گا، یہ ہر گز ایسا نہ کر سکے گا۔

13: پیشانی سے مراد یہاں  پیشانی والا شخص۔

14: جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے ابو جہل کے دھمکی دینے پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو جھِڑک دیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اے محمدؐ، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو،  خدا کی قسم  اس وادی میں  میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔  اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بلا لے اپنے حمایتیوں  کو۔

15: اصل میں   زَبانیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتادہ کی تشریح کے مطابق کلامِ عرب میں  پولیس کے لیے بولا جاتا ہے۔  اور زَیَن کے اصل معنی دھکا دینے کے ہیں۔  بادشاہوں  کے ہاں  چوبدار بھی اِسی غرض کے لیے ہوتے تھے کہ جس پر بادشاہ ناراض ہوا سے وہ دھکّے دے کر نکال دیں۔  پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے حمایتیوں  کو بلا لے،  ہم اپنی پولیس، یعنی ملائکہ عذاب کو بلا لیں  گے کہ وہ اِس کی اور اس کے حمایتیوں  کی خبر لیں۔ 1: جیسا کہ  ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے،  فرشتے نے جب حضور ؑ سے کہا کہ پڑھو، تو حضورؐ نے جواب دیا کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں  آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور اُنہیں  پڑھنے کے لیے کہا تھا۔  کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں  بولتا جاؤں  آپ اسی طرح پڑھتے جائیں،  تو حضورؐ  کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔