تفہیم القرآن

سُوۡرَةُ الطّارق

نام

پہلی آیت کے لفظ الطّارق کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانۂ نزول

اس کے مضمون کا اندازِ بیان مکّہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں  سے ملتا جُلتا ہے،  مگر یہ اُس زمانے کی نازل شدہ ہے جب کفار مکہ قرآن  اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوت کو زک دینے کے لیے ہر طرح کی چالیں  چل رہے تھے۔ موضوع اور مضمون      اس میں  وہ مضمون بیان کیے گئے ہیں۔  ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد، خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔  دوسرے یہ کہ قرآن ایک قولِ فصیل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں  دے سکتی۔

سب سے پہلے آسمان کے  تاروں  کو اِس بات کی شہادت میں  پیش کیا گیا ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں  ہے جو ایک ہستی کی نگہبانی کے بغیر اپنی جگہ قائم اور باقی رہ سکتی ہو۔ پھر انسان کا خود اس  کی اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح نطفے کی ایک بوند سے اُس کو وجود میں  لایا گیا  اور جیتا جاگتا انسان بنا دیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ جو خدا  اِس طرح اُسے وجود میں  لا یا ہے وہ یقیناً اُس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔  اور یہ دوبارہ پیدائش اِس غرض کے لیے ہو گی کہ انسان کے اُن تمام رازوں  کی جانچ پڑتال کی جائے جن پر دنیا میں  پردہ پڑا رہ گیا تھا۔ اُس وقت اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے سے انسان نہ اپنے بل بوتے پر بچ سکے گا اور نہ کوئی اُس کی مدد کو آ سکے گا۔

          خاتمہ کلام پر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے درختوں  اور فصلوں  کا اُگنا کوئی کھیل نہیں  بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے،  اُسی طرح قرآن میں  جو حقائق بیان کیے گئے ہیں  وہ بھی کوئی ہنسی مذاق نہیں  ہیں  بلکہ پختہ اور اٹل باتیں  ہیں۔  کفار اس غلط فہمی میں  ہیں  کہ اُن کی چالیں  اِس قرآن کی دعوت کو زک دے دیں  گی، مگر انہیں  خبر نہیں  ہے کہ اللہ بھی ایک تدبیر میں  لگا ہوا ہے اور اس کی تدبیر کے آگے کفار کی چالیں سب دھری کی دھری رہ جائیں  گی۔ پھرا یک فقرے میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ تسلی اور درپردہ کفار کو یہ دھمکی دے کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ آپؑ ذرا صبر سے کام لیں   اور کچھ مدت کفار کو اپنی سی کر لینے دیں،  زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ انہیں  خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کی چالیں  قرآن کو زک دیتی ہیں  یا قرآن اُسی جگہ غالب آ کر رہتا ہے جہاں  یہ اُسے زک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

ترجمہ و تفسیر

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
 قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے ؟ چمکتا ہوا تارا۔ کوئی جان ایسی نہیں  ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ 1 پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔  2  ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں  کے درمیان سے نکلتا ہے۔  3 یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔  4 جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہو گی5 اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہو گا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔  قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی 6 اور (نباتات اُگتے وقت) پھَٹ جانے والی زمین کی، یہ ایک جچی تُلی بات ہے،  ہنسی مذاق نہیں  ہے۔  7 یہ لوگ کچھ چالیں  چل رہے ہیں  8 اور میں  بھی ایک چال چل رہا ہوں۔  9 پس چھوڑ دو اے نبیؐ،  اِن کافروں  کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔ 10 ؏۱

 

1: نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین  و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے،  جس کے وجود میں  لانے سے ہر شے وجود میں  آئی ہے،  جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے،  جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے،  اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اُسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمّہ لے رکھا ہے۔  اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں  نمو دار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے،  لیکن مراد اُس سے ایک ہی تارا نہیں  بلکہ تاروں  کی جنس)۔یہ قسم اِس معنی میں  ہے کہ رات کو آسمان میں  یہ بے حدوحساب تارے اُس سیارے  جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں  ان میں  سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اُسے بنایا ہے،  روشن کیا ہے،  فضا میں  معلق رکھ چھوڑا ہے،  اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے،  نہ بے شمار تاروں  کی گردش کے دوران میں  وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا  اس سے ٹکراتا ہے۔

2: عالمِ بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ خود ذرا اپنی ہستی ہی پر غور کر لے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔  کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں  جرثوموں  میں  سے ایک جرثومے اور ماں  کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں  میں  سے ایک بیضے کا انتخاب کر کے دونوں  کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ایک خاص انسان کا استقرارِ حمل واقع ہو جاتا ہے ؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد سے ماں  کے پیٹ میں  درجہ بدرجہ اُسے نشو نما دے کراُسے اس حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں  پیدا ہوتا، پھر کون ہے جو رجم مادر ہی میں  اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں  کا تناسب قائم کرتا ہے ؟ پھر کون ہے جو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک اس کی مسلسل نگہبانی کرتا رہتا ہے ؟ اسے بیماریوں  سے بچاتا ہے۔  حادثات سے بچاتا ہے۔  طرح طرح کی آفات سے بچا تا ہے۔  اس کے لیے زندگی کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جن کا شمار نہیں  ہو سکتا۔ اور اس کے لیے ہر قدم پر دنیا میں  باقی رہنے کے  وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں  سے اکثر کا اُسے شعور تک نہیں  ہوتا کجا کہ وہ انہیں  خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ کیا یہ سب کچھ ایک خدا کی تدابیر اور نگرانی کے بغیر وہ رہا ہے ؟

3: اصل میں  صُلب اور تَرائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  صُلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں،  اور تَرائب کے معنی ہیں  سینے کی ہڈیاں ،  یعنی پسلیاں ۔  چونکہ عورت اور مرد  دونوں  کے مادہ تولید انسا ن کے اُس دھڑ سے خارج ہوتے  ہیں  جو صُلب اور سینے کے درمیان واقع ہے،  اس لیے فرمایا گیا کہ انسان اُس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔  یہ مادّہ اُس صورت میں  بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ہاتھ اور پاؤں  کٹ جائیں،  اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں  ہے کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے۔  درحقیقت جسم کے اعضاء رئیسہ اِس کے ماخذ ہیں ،  اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں  واقع ہیں۔  دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں  کیا گیا کہ صُلب دماغ کا وہ حصہ ہے جس کی بدولت ہی جسم کے ساتھ دماغ کا تعلق قائم ہوتا ہے (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر۴، صفحہ نمبر۵۸۳)۔

4: یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں  لاتا ہے اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے،  یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اُسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں  لا سکتا ہے۔  اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اُسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں  زندہ موجود ہے،  تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جا سکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں  ہے۔  اِس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے  اِس بات کا انکار کرنا ہو گا کہ خدا اُسے وجود میں  لایا ہے،  اور جو شخص اس  کا انکار کرئے اس سے کچھ بعید نہیں  کہ ایک روز اُس کے دماغ کی خرابی اُس سے یہ دعویٰ بھی کرا دے کہ دنیا کی  تمام کتابیں  ایک حادثہ کے طور پر چھپ گئی ہیں،  دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں ،  اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہو گیا تھا جس سے تمام کار خانے بن کر خود بخود چلنے لگے۔  حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں  اور صلاحیتوں  کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا اُن تمام کاموں  سے بدر جہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں  دنیا میں  ہوئے اور ہو رہے ہیں۔  اتنا بڑا پیچیدہ عمل اِس حکمت اور تناسُب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہو سکتا ہو تو پھر کون سی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے ؟

5: پوشیدہ اُسرار سے مراد ہر شخص کے وہ اعمال بھی ہیں  جو دنیا میں  ای راز بن کر رہ گئے،  اور وہ معاملات بھی ہیں  جو اپنی ظاہری صورت میں  تو دنیا  کے سامنے آئے مگر اُن کے پیچھے جو نیتیں  اور اغراض اور خواہشات کام کر رہی تھیں،  اور ان کے جو باطنی محرکات تھے اُن کا حال لوگوں  سے چھپا رہ گیا۔ قیامت کے روز یہ سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا اور جانچ پڑتال صرف اِسی بات کی نہیں  ہو گی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہو گی کہ کس وجہ سے کیا، کس غرض اور کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ساری دنیا سے،  حتیٰ کہ  خود ایک فعل کرنے والے انسان سے بھی مخفی رہ گئی ہے کہ جو فعل اس نے کیا اُس کے کیا اثرات دنیا میں  ہوئے،  کہاں  کہاں  پہنچے،  اور کتنی مدت  تک چلتے رہے۔  یہ راز بھی قیامت ہی کے روز کھُلے گا اور اِس کی پوری جانچ پڑتال ہو گی کہ جو بیج کوئی شخص دنیا میں  بو گیا تھا اس کی فصل کس کس شکل میں  کب تک کٹتی رہی اور کون کون اسے کاٹتا رہا۔

6: آسمان کے لیے ذات الرجع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔  رَجع کے لُغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں،  مگر مجاز اً عربی زبان میں  یہ لفظ بارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،  کیونکہ وہ بس ایک ہی دفعہ بر س کر نہیں  رہ جاتی بلکہ بار بار اپنے موسم میں  اور کبھی خلافِ موسم پلٹ پلٹ کر آتی ہے اور وقتاً فوقتاً برستی رہتی ہے۔  ایک اور درجہ بارش کو رجع کہنے کی یہ بھی ہے کہ زمین کے سمندروں  سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور پھر پلٹ کر زمین ہی پر برستا ہے۔

7: یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں  کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اُگلنا کوئی مذاق نہیں  ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے،  اُسی طرح قرآن مجید جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے،  یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں  ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے،  ایک سنجیدہ حقیقت ہے،  ایک اٹل قولِ حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔

8: یعنی یہ کفار اِ س قران کی دعوت کو شکست دینے کے لیے طرح طرح کی چالیں  چل رہے ہیں۔  اپنی پھونکوں  سے اِس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں۔  ہر قسم کے شبہات لوگوں  کے دلوں  میں  ڈال رہے ہیں۔  ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اِس کے پیش کرنے والے نبی پر لگا رہے ہیں  تا کہ دنیا میں  اُس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جاہلیت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے چھانٹنے کی وہ کوشش کر رہا ہے۔

9: یعنی میں  یہ تدبیر کر رہا ہوں  کہ اِن کی کوئی چال کامیاب نہ ہونے پائے،  اور یہ آخر کار منہ کی کھا کر رہیں،  اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ  بجھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

10: نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین  و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے،  جس کے وجود میں  لانے سے ہر شے وجود میں  آئی ہے،  جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے،  جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے،  اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اُسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمّہ لے رکھا ہے۔  اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں  نمو دار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے،  لیکن مراد اُس سے ایک ہی تارا نہیں  بلکہ تاروں  کی جنس ہے )۔یہ قسم اِس معنی میں  ہے کہ رات کو آسمان میں  یہ بے حدوحساب تارے اُس سیارے  جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں  ان میں  سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اُسے بنایا ہے،  روشن کیا ہے،  فضا میں  معلق رکھ چھوڑا ہے،  اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے،  نہ بے شمار تاروں  کی گردش کے دوران میں  وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا  اس سے ٹکراتا ہے۔