تفہیم القرآن

سُوۡرَةُ النّجْم

نام

پہلے ہی لفظ ہی وَالنجم سے ماخوذ ہے ۔ یہ بھی مضمون کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض علامت کے طور پر اس کا نام قرار دیا گیا ہے ۔ 

زمانۂ نزول

بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ اَوَّلُ سَوْرَۃٍ اُنْزِلَتْ فِیھا سجدۃٌ النجم (پہلی سورۃ جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی النجم ہے )۔  اس حدیث کے جو اجزاء اسود بن یزید، ابواسحاق، اور زُہَیر بن معاویہ کی روایات میں حضرت ابن مسعود سے منقول ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی وہ پہلی سورۃ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے ایک مجمع عام میں ( اور ابن مردوؤیہ کی روایت کے مطابق حَرَم میں)سنایا تھا۔ مجمع میں کافر  اور مومن سب موجود تھے ۔آخر میں جب آپ نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ فرمایا تو تمام حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے اور مشرکین کے وہ بڑے بڑے سردار تک، جو مخالفت میں پیش پیش تھے سجدہ کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کفار میں سے سرف ایک شخص امیہ بن خَلَف کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرنے کے بجائے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا کہ میرے لیے بس یہی کافی ہے ۔ بعد میں میری آنکھوں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔

اس واقعہ دے دوسرے عینی شاہد حضرت مُطلب بن ابی وَداعَہ ہیں جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ۔ نسائی اور مُسند احمد میں ان کا اپنی بیان یہ نقل ہوا ہے کہ جب حضورؐ نے سورہ نجم پڑھ کر سجدہ فرمایا اور سب حاضرین آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے تو میں نے سجدہ نہ کیا، اور اسی کی تلافی اب میں اس طرح کرتا ہوں کہ اس سورے کی تلاوت کے وقت سجدہ کبھی نہیں چھوڑتا۔

ابن سعد کا بیان ہے کہ اس سے پہلے رجب ۵ نبوی میں صحابہ کرام کی ایک مختصر سی جماعت حبش میں طرف ہجرت کر چکی تھی۔ پھر جب اسی سال رمضان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے مجمع عام میں سورہ نجم کی تلاوت فرمائی اور کافر و مومن سب آپ کے ساتھ سجدے میں گر گئے، تو حبش کے مہاجرین تک یہ قصہ اس شکل میں پہنچا کہ کفار مکہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سن کر ان میں سے کچھ لوگ شوال ۵ نبوی میں مکہ واپس آ گئے۔مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ظلم کی چکی اسی طرح چل رہی ہے جس طرح پہلے چل رہی تھی، آخر کار دوسرے ہجرت حبشہ واقع ہوئی جس میں پہلی ہجرت سے بھی زیادہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اس طرح یہ بات قریب قریب یقینی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ یہ سورۃ رمضان ۵ نبوی میں نازل ہوئی ہے ۔ 

تاریخی پس منظر

زمانہ نزول کی اس تفصیل سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا حالات تھے جن میں یہ سورہ نازل ہوئی۔ ابتدائے بعثت کے بعد سے پانچ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں ہی میں اللہ کا کلام سنا سنا کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے تھے ۔ اس پوری مدت میں آپ کو کبھی کسی مجمع عام میں قرآن سنانے کا موقع نہ مل سکا تھا، کیونکہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی۔ ان کو اس امر کا خوب اندازہ تھا کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تبلیغ میں کس کمال کی کشش، اور قرآن مجید کی آیات میں کس غضب کی تاثیر ہے ۔اس لیے وہ کوشش کرتے تھے کہ اس کلام کو نہ خود نہیں نہ کسی کو سننے دیں، اور آپ کے خلاف طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلا کر محض اپنے جھوٹے پروپیگنڈے کے زور سے آپ کی دعوت کو دبا دیں۔ اس غرض کے لیے ایک طرف تو وہ جگہ جگہ یہ مشہور کرتے پھر رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہک گئے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ مستقل طریق کار تھا کہ جہاں بھی آپ قرآن سنانے کی کوشش کریں وہاں شور مچا دیا جائے تاکہ لوگ یہ جان ہی نہ سکیں کہ وہ بات کیا ہے جس کی بنا پر آپ کو گمراہ اور بہکا ہوا آدمی قرار دیا جا رہا ہے ۔

ان حالات میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حرم پاک میں جہاں قریش کے لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا، یکایک تقریر کرنے کھڑے ہو گئے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان مبارک پر یہ خطبہ جاری ہوا جو سورہ نجم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔اس کلام کی شدت تاثیر کا حال یہ تھا کہ جب آپ نے اسے سنانا شروع کیا تو مخالفین کو اس پر شور  مچانے کا ہوش ہی نہ رہا، اور خاتمے پر جب آپ نے سجدہ فرمایا تو وہ بھی سجدے میں گر گئے۔ بعد میں انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ہم سے کیا کمزوری سرد ہو گئی، اور لوگوں نے بھی انہیں اس پر مطعون کرنا شروع کیا کہ دوسروں کو تو یہ کلام سننے سے منع کرتے تھے ، آج خود اسے نہ صرف کان لگا کر سنا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سجدہ بھی کر گزرے ۔ آخر کار انہوں نے یہ بات بنا کر اپنا پیچھا چھڑایا کہ صاحب ہمارے کانوں نے تو : اَفَرْءَیْتُمُ اللّٰتَ وَا لْعزّیٰ۔ وَمَنٰوۃَ الثَّا لِثَۃَ الْقُخْریٰ کے بعد محمدؐ کی زبان سے یہ الفاظ سنے تھے تلک الغرانقۃ العُلیٰ، وان شفا گتھنا لتر جیٰ (یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت ضرور متوقع ہے )، اس لیے ہم نے سمجھا کہ محمدؐ ہمارے طریقے پر واپس آ  گئے  ہیں۔ حالانکہ کوئی پاگل آدمی ہی یہ سوچ سکتا تھا کہ اس پوری سورۃ کے سیاق و سباق میں ان فقروں کی بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے جو ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے کانوں نے سنے ہیں(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم،الحج، حواشی ۹۶ تا ۱۰۱ )۔ 

موضوع اور مضمون

تقریر کا موضوع کفار مکہ کو اس رویے کی غلطی پر متنبہ کرنا ہے جو وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے ۔

کلام کا آغاز اس طرح فرمایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم بہکے اور بھٹکے ہوئے آدمی نہیں ہیں، جیسا کہ تم ان کے متعلق مشہور کرتے پر رہے ہو، اور نہ اسلام کی یہ تعلیم اور دعوت انہوں نے خود اپنے دل سے گھڑ لی ہے ، جیسا کہ تم اپنے نزدیک سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ جو کچھ وہ پیش کر رہے ہیں وہ خالص وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے ۔ جن حقیقتوں کو وہ تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں وہ ان کے اپنے قیاس و گمان کی آفریدہ نہیں ہیں بلکہ ان کی آنکھوں دیکھی حقیقتیں ہیں۔ انہوں نے اس فرشتے کو خود دیکھا ہے جس کے ذریعہ سے ان کو یہ علم دیا جاتا ہے ۔ انہیں اپنے رب کی عظیم نشانیوں کا براہ راست مشاہدہ کرایا گیا ہے ۔وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سوچ کر نہیں دیکھ کر کہہ رہے ہیں۔ ان سے تمہارا جھگڑنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی اندھا آنکھوں والے سے اس چیز پر جھگڑے جو اسے نظر نہیں آتی اور آنکھوں والے کو نظر آتی ہے ۔

اس کے بعد علی الترتیب تین مضامین ارشاد ہوئے ہیں:

اوّلاً سامعین کو سمجھایا گیا ہے کہ جس دین کی تم پیروی کر رہے ہو اس کی بنیاد محض گمان اور من مانے مفروضات پر قائم ہے ۔ تم نے لات اور منات اور عزّیٰ جیسی چند دیویوں کے معبود بنا رکھا ہے ، حالانکہ اُلوہیت میں برائے نام بھی ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے رکھا ہے ،حالانکہ خود اپنے لی تم بیٹی کو عار سمجھتے ہو۔ تم نے اپنے نزدیک یہ فرض کر لیا ہے کہ تمہارے یہ معبود اللہ تعالیٰ سے تمہارے کام بنوا سکتے ہیں، حالانکہ تمام ملائکہ، مقربین مل کر بھی اللہ سے اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے ۔ اس طرح کے عقائد جو تم نے اختیار کر رکھے ہیں، ان میں سے کوئی عقیدہ بھی کسی علم اور دلیل پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ کچھ خواہشات ہیں جن کی خاطر تم بعض اوہام کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی غلطی ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہو۔ دین وہی صحیح ہے جو حقیقت کے مطابق ہو۔ اور حقیقت لوگوں کی خواہشات کی تابع نہیں ہوا کرتی کہ جسے وہ حقیقت سمجھ بیٹھیں وہی حقیقت ہو جائے۔ اس سے مطابقت کے لیے قیاس و گمان کام نہیں دیتا، بلکہ اس کے لیے علم درکار ہے ۔ وہ علم تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو اور الٹا اس شخص کو گمراہ ٹھیراتے ہو جو تمہیں صحیح بات بتا رہا ہے ۔ اس غلطی میں تمہارے مبتلا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ، بس دنیا ہی تمہاری مطلوب بنی ہوئی ہے ۔ اس لیے نہ تمہیں حقیقت کو کوئی طلب  ہے ،نہ اس بات کی کوئی پروا کہ جن عقائد کی تم پیروی کر رہے ہو وہ حق کے مطابق ہیں یا نہیں۔

ثانیاً لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ ہی ساری کائنات کا مالک و مختار ہے ۔ راست رو وہ ہے جو اس کے راستے پر ہو، اور گمراہ وہ جو اس کی راہ سے ہٹا ہوا ہو۔ گمراہ کی گمراہی اور راست رو کی راست روی اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ ہر ایک کے عمل کو وہ جانتا ہے اور اس کے ہاں لازماً برائی کا بدلہ برا اور بھلائی کا بدلہ بھلا مل کر رہنا ہے ۔ اصل فیصلہ اس پر نہیں ہوتا کہ تم اپنے زعم میں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو اور اپنی زبان سے اپنی پاکیزگی کے کتنے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہو، بلکہ فیصلہ اس  اس پر ہونا ہے کہ خدا کے علم میں تم متقی ہو یا نہیں۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ چھوٹے چھوٹے قصوروں سے وہ در گزر فرمائے گا۔

ثالثاً، دین حق کے وہ چند بنیادی امور لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں جو قرآن مجید کے نزول سے صدہا برس پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں میں بیان ہو چکے تھے ، تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کوئی نیا اور نرالا دین لے آئے ہیں، بلکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ یہ وہ اصلی حقائق ہیں جو ہمیشہ سے خدا کے نبی بیان کرتے چلے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ان ہی صحیفوں سے یہ بات بھی نقل کر دی گئی ہے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح اور قوم لوط کی تباہی اتفاقی حوادث کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسی ظلم و طغیان کی پاداش میں ان کو ہلاک کیا تھا جس سے باز آنے پر کفار مکہ کسی طرح آمادہ نہیں ہو رہے ہیں۔

یہ مضامین ارشاد فرمانے کے بعد تقریر کا خاتمہ اس بات پر کیا گیا ہے کہ فیصلے کی گھڑی قریب آ لگی ہے جسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے ۔ اس گھڑی کے آنے سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور قرآن مجید کے ذریعہ سے تم لوگوں کو اسی طرح خبردار کیا جا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کے خبردار کیا گیا تھا۔اب کیا یہی وہ بات ہے جو تمہیں انوکھی لگتی ہے ؟ جس کی تم ہنسی اڑاتے ہو؟ باز آ جاؤ اپنی اس روش سے جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اسی کی بندگی کرو۔

یہی وہ مؤثر خاتمہ کلام تھا جسے سن کر کٹے سے کٹے منکرین بھی ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کلام الٰہی کے یہ فقرے ادا کر کے سجدہ کیا تو وہ بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔ 

ترجمہ و تفسیر

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے
قسم ہے تارے (۱)  کی جبکہ وہ غروب  ہوا، تمہارا رفیق (۲) نہ بھٹکا ہے یہ بہکا ہے (۳)۔
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی (۴)ہے ۔ اسے زبر دست قوت والے نے تعلیم دی (۵) ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے ۔ (۶) وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق (۷) پر تھا، پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا (۸)۔  تب اس نے اللہ کے بندے کے وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی (۹)۔ نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا (۱۰)۔ اب کیا  تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ؟
اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اس کو دیکھا جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے (۱۱)۔
اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا (۱۲)۔ نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی(۱۳) اور اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں (۱۴)۔ 
اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اس لات، اور اس عزی، اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟ (۱۵) کیا بیٹے تمہارے لیئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیئے (۱۶)؟ یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی !
دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیئے ہیں۔ ! اللہ نے ان کے لیئے کوئی سند نازل نہیں (۱۷) کی۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں(۱۸)۔حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی (۱۹)ہے ۔ کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیئے وحی حق ہے (۲۰)۔ دینا، اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔ ع

 

۱۔اصل میں لفظ  ’’النّجم‘‘ استعمال ہوا ہے ۔ ابن عباس، مجاہد اور سُفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس سے مراد ثریا(Pleiades) ہے ۔ ابن جریر اور زمخشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے ، کیونکہ عربی زبان میں جب مطلقاً النجم کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً اس سے ثریا ہی مراد لیا جاتا ہے ۔ سدی کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ (Venus) ہے ۔ اور ابو عبیدہ نجوی کا قول ہے کہ یہاں النجم بول کر جنس نجوم مراد لی گئی ہے ، یعنی مطلب یہ ہے جب صبح ہوئی اور سب ستارے غروب ہو گئے۔ موقع و محل کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ آخری قول زیادہ قابل ترجیح ہے ۔

۲۔ مراد ہیں رسول اللہ ﷺ اور مخاطب ہیں قریش کے لوگ۔ اصل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ صَاحِبُکُمْ (تمہارا صاحب)۔ ’’صاحب ‘‘ عربی زبان میں دوست، رفیق، ساتھی، پاس رہنے والے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کو ہوتے ہیں۔ اس مقام پر آپؐ کا نام لینے یا ’’ہمارا رسولؐ‘‘ کہنے کے بجائے ’’’’تمہارا صاحب ‘‘ کہہ کر آپؐ کا ذکر کرنے میں بڑی گہری معنویت ہے ۔ اس سے قریش کے لوگوں کو یہ حساس دلانا مقصود ہے کہ جس شخص کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ تمہارے ہاں بہر سے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی نہیں ہے اس سے تمہاری پہلے کی کوئی جان پہچان نہ ہو۔ تمہاری اپنی قوم کا آدمی ہے ۔ تمہارے ساتھ ہی رہتا بستا ہے ۔ تمہارا بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ کون ہے ، کیا ہے ، کس سیرت و کردار کا انسان ہے ، کیسے اس کے معاملات ہیں، کیسے اس کی عادات و خصائل ہیں، اور آج تک تمہارے درمیان اس کی زندگی کیسی رہی ہے ۔ اسے بارے میں منہ پھاڑ کر کوئی کچھ کہہ دے تو تمہارے اندر ہزاروں آدمی اس کے جاننے والے موجود ہیں جو خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بات اس شخص پر چسپاں ہوتی بھی ہے یا نہیں۔

۳۔ یہ ہے وہ اصل بات جس پر غروب ہونے والے تارے یا تاروں کی قَسم کھائی گئی ہے ۔ بھٹکنے سے مراد ہے کسی شخص کا راستہ نہ جاننے کی وجہ سے کسی غلط راستے پر چل پڑنا اور بہکنے سے مراد ہے کسی شخص کا جان بوجھ کر غلط راستہ اختیار کر لینا۔ ارشاد الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جو تمہارے جانے پہچانے آدمی ہیں، ان پر تم لوگوں کا یہ الزام بالکل غلط ہے کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گئے ہیں۔ در حقیقت وہ نہ بھٹکے ہیں بہکے ہیں۔ اس بات پر تاروں کے غروب ہونے کی قَسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ لے کہ رات کی تاریکی میں جب تارے نکلے ہوئے ہوں، ایک شخص اپنے گردو پیش کی اشیاء کو صاف نہیں دیکھ سکتا اور مختلف اشیاء کی دھندلی شکلیں دیکھ کر ان کے بارے میں غلط اندازے کر سکتا ہے ۔ مثلاً اندھیرے میں دور سے کسی درخت کو دیکھ اسے بھوت سمجھ سکتا ہے ۔ کوئی رسی پڑی دیکھ کر اسے سانپ سمجھ سکتا ہے ۔ ریت سے کوئی چٹان ابھری دیکھ کر یہ خیال کر سکتا ہے کہ کوئی درندہ بیٹھا ہے ۔ لیکن جب تارے ڈوب جائیں اور صبح روشن نمودار ہو جائے تو ہر چیز اپنی اصلی شکل میں آدمی کے سامنے آؔ جاتی ہے ۔ اس وقت کسی چیز کی اصلیت کے بارے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔ ایسا ہی معاملہ تمہارے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا بھی ہے کہ ان کی زندگی اور شخصیت تاریکی میں چھپی ہوئی نہیں ہے بلکہ صبح روشن کی طرح عیاں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ تمہارا یہ ’’صاحب‘‘ ایم نہایت سلیم الطبع اور دانا و فرزانہ آدمی ہے ۔ اس کے بارے میں قریش کے کسی شخص کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی ہے کہ وہ گمراہ ہو گیا ہے ۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہ کمال درجہ کا نیک نیت اور راستباز انسان ہے ۔ اس کے متعلق تم میں سے کوئی شخص کیسے یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر نہ صرف خود ٹیڑھی راہ اختیار کر بیٹھا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اسی ٹیڑھے راستے کی طرف دعوت دینے کے لیے کھڑا ہو گیا ہے ۔

۴۔ مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہو گیا ہے ، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے ، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعوائے نبوت کر دیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا  تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزائے اعمال کی یہ خبریں، کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق، اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے یہ اصول، جو وہ پیش کر رہا ہے ، یہ سب کچھ بھی اس کا اپنا بنایا ہوا کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ خدا نے وحی کے ذریعہ سے اس کو ان باتوں کا علم عطا کیا ہے ۔ اسی طرح یہ قرآن جو وہ تمہیں سناتا ہے ، یہ بھی اس کا اپنا تصنیف کردہ نہیں ہے ، بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا ہے ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ’’ آپؐ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتے بلکہ جو کچھ آپؐ کہتے ہیں وہ ایک وحی ہے جو آپؐ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘، آپؐ کی زبان مبارک سے نکلے والی کن کن باتوں سے متعلق ہے ؟ آیا اس کا اطلاق ان سارے باتوں پر ہوتا ہے جو آپ بولتے تھے ، یا بعض باتوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض باتوں پر نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے اس پر تو اس ارشاد کا اطلاق بدرجہ  اَولیٰ ہوتا ہے ۔ رہیں وہ دوسری باتیں جو قرآن کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے ادا ہوتی تھیں تو وہ لا محالہ تین ہی قسموں کی ہو سکتی تھیں۔

ایک قِسم کی باتیں وہ جو آپ تبلیغ دین اور دعوت الیٰ اللہ کے لیے کرتے تھے ، یا قرآن مجید کے مضامین اس کی تعلیمات اور اس کے احکام و ہدایات کی تشریح کے طور پر کرتے تھے ، یا قرآن ہی کے مقصد و مدعا کو پورا کرنے کے لیے وعظ و نصیحت فرماتے اور لوگوں کو تعلیم دیتے تھے ۔ ان کے متعلق ظاہر ہے کہ یہ شبہ کرنے کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ باتیں معاذاللہ، آپ اپنے دل سے گھڑتے تھے ۔ ان امور میں تو آپ کی حیثیت در حقیقت قرآن کے سرکاری ترجمان، اور اللہ تعالیٰ کے نمائندہ مناز کی تھی۔ یہ باتیں اگرچہ اس طرح لفظاً لفظاً آپؐ پر نازل نہیں کی جاتی تھیں جس طرح قرآن آپ پر نازل کیا جاتا تھا، مگر یہ لازماً تھیں اسی علم پر مبنی جو وحی کے ذریعہ سے آپ کو دیا گیا تھا ان میں اور قرآن میں فرق صرف یہ تھا کہ قرآن کے الفاظ اور معانی سب کچھ اللہ کی طرف سے تھے ، اور ان دوسری باتوں میں معانی و مطالب وہ تھی جو اللہ نے آپ کو سکھائے تھے اور ان کو ادا آپؐ اپنے الفاظ میں کرتے تھے ۔ اسی فرق کی بنا پر قرآن کو وحی جَلی، اور آپؐ کے ان دوستے ارشادات کو وحی خَفِی کہا جاتا ہے ۔

دوسری قِسم کی باتیں وہ تھیں جو آپ اعلائے کلمۃ اللہ کی جد جہد اور اقامت دین کی خدمات کے سلسلے میں کرتے تھے ۔ اس کام میں آپؐ کو مسلمانوں کی جماعت کے قائد و رہنما کی حیثیت سے مختلف نوعیت کے بے شمار فرائض انجام دینے ہوتے تھے جن میں بسا اوقات آپؐ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ بھی لیا ہے ، اپنی رائے چھوڑ کر ان کی رائے بھی مانی ہے ، ان کے دریافت کرنے پر کبھی کبھی یہ صراحت بھی فرمائی ہے کہ یہ بات میں خدا کے حکم سے نہیں بلکہ اپنی رائے کے طور پر کہہ رہا ہوں، اور متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ آپؐ  نے اپنے اجتہاد سے کوئی بات کی ہے اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے خلاف ہدایت آ گئی ہے ۔ اس نوعیت کی جتنی باتیں بھی آپؐ نے کی ہیں، ان میں سے بھی کوئی ایسی نہ تھی اور قطعاً نہ ہو سکتی تھی جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ رہا یہ سوال کہ کیا وہ وحی پر مبنی تھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بجز ان باتوں کے جن میں آپؐ نے خود تصریح فرمائی ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے نہیں ہیں، یا جن میں آپؐ نے صحابہؓ سے مشورہ طلب فرمایا ہے اور ان کی رائے قبول فرمائی ہے ، یا جن میں آپؐ سے کوئی قول و فعل صادر ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف ہدایت نازل فرما دی ہے ، باقی تمام باتیں اسی طرح وحی خفی پر پر مبنی تھیں جس طرح پہلی نوعیت کی باتیں۔ اس لیے کہ دعوت اسلامی کے قائد و رہنما اور جماعت مومنین کے سردار اور حکومت اسلامی کے فرمانروا کا جو منصب آپؐ کو حاصل تھا وہ آپؐ  کا خود ساختہ یا لوگوں کا عطا کردہ نہ تھا بلکہ اس پر آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوئے تھے ، اور اس منصب کے فرائض کی ادائیگی میں آپؐ جو کچھ کہتے اور کرتے تھے اس میں آپؐ کی حیثیت مرضی الٰہی کے نمائندے کی تھی۔ اس معاملے میں آپ نے جو باتیں اپنے اجتہاد سے کی ہیں ان میں بھی آپؐ کا اجتہاد اللہ کو پسند تھا اور علم کی اس روشنی سے ماخوذ تھا جو اللہ نے آپؐ  کو دی تھی۔ اسی لیے جہاں آپؐ کا اجتہاد ذرا بھی اللہ کی پسند سے ہٹا ہے وہاں فوراً وحی جلی سے اس کی اصلاح کر دی گئی ہے ۔ آپؐ کے بعض اجتہادات کی یہ اصلاح بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے باقی تمام اجتہادات عین مرضی الٰہی کے مطابق تھے ۔

تیسری قِسم کی باتیں وہ تھیں جو آپؐ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے زندگی کے عام معاملات میں کرتے تھے ، جن کا تعلق فرائض نبوت سے نہ تھا، جو آپؐ نبی ہونے سے پہلے بھی کرتے تھے اور نبی ہونے کے بعد بھی کرتے رہے ۔ اس نوعیت کی باتوں کے متعلق سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے بارے میں کفار سے کوئی جھگڑا نہ تھا۔ کفار نے ان کی بنا پر آپؐ کو گمراہ اور بد راہ نہیں کہا تھا بلکہ پہلی دو قِسم کی باتوں پر وہ یہ الزام لگاتے تھے ۔ اس لیے وہ سرے سے زیر بحث ہی نہ تھیں کہ اللہ تعالیٰ انکے بارے میں یہ آیت ارشاد فرماتا۔ لیکن اس مقام پر ان کے خارج از بحث ہونے کے باوجود یہ امر واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے کوئی بات اپنی زندگی کے اس نجی پہلو میں بھی کبھی خلاف حق نہیں نکلتی تھی، بلکہ ہر وقت ہر حال میں آپ کے اقوال و افعال ان حدود کے اندر محدود رہتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبرانہ اور متقیانہ زندگی کے لیے آپؐ کو بتا دی تھیں۔ اس لیے در حقیقت وحی کا نور ان میں بھی کار فرما تھا۔ یہی بات ہے جو بعض صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہوئی ہے ۔ مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضورؐ نے فرمایا لا اقول اِلّا حقّاً، ’’ میں کبھی حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا‘‘۔ کسی صحابی نے عرض کیا فانّک تُداعبُنا یا رسول اللہ،’’ یا رسول اللہ، کبھی کبھی آپ ہم لوگوں سے ہنسی مذاق بھی تو کر لیتے ہیں‘‘۔ فرمایا انی لا اقول الا حقّا، ’’ فی الواقع میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا‘‘۔ مسند احمد اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں جو کچھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک سے سنتا تھا وہ لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے محفوظ کر لوں۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے تم ہر بات لکھتے چلے جاتے ہو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انسان ہیں، کبھی غصے میں بھی کوئی بات فرما دیتے ہیں۔ اس پر میں نے لکنا چھوڑ دیا۔ بعد میں اس بات کا ذکر میں نے حضورؐ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا :اکتب فو الذی نفسی بیدہ ما خرج منّی الّا الحق، تم لکھے جاؤ، اس ذات کی قَسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلی ہے ‘‘۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب تفہیمات، حصہ اوّل، مضمون ’’رسالت اور اس کے احکام‘‘)۔

 ۵۔ یعنی کوئی انسان اس کو سکھانے والا نہیں ہے ، جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، بلکہ یہ علم اس کو ایک فوق البشر ذریعہ سے حاصل ہو رہا ہے ۔’’زبردست قوت والے ‘‘ سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عائشہؓ حضرت ابو ہریرہؓ، قتادہ، مجاہد، اور ربیع بن انس جریر، ابن کثیر، رازی اور آلوسی وغیرہ حضرات نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور مولانا اشرف علی صاحب نے بھی اپنے ترجموں میں اسی کی پیروی کی ہے ۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ خود قرآن مجید کی دوسرے تصریحات سے بھی یہی ثابت ہے ۔ سورۃ تکویر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اِنَّہۂ لَقَولُ رَسُوْلٍ کَرِیمٍ، ذِیْقُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ،مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمیْنٍ، وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ،وَلَقَدْرَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِo (آیت ۱۹۔۲۳)۔ ’’در حقیقت یہ ایک بزرگ فرشتے کا بیان ہے جو زبردست قوت والا ہے ، مالک عرش کے ہاں بڑا درجہ رکھتا ہے ، اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہاں وہ معتبر ہے ۔ تمہارا رفیق کچھ دیوانہ نہیں ہے ، وہ اس فرشتے کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھ چکا ہے ‘‘۔ پھر سورہ بقرہ کی آیت ۹۷ میں اس فرشتے کا نام بھی بیان کر دیا گیا ہے جس کے ذریعہ سے یہ تعلیم حضورؐ کے قلب پر نازل کی گئی تھی: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّ الِّجِبْرِیْلَ فَاِنّہٗ نَزَّلَہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ ان تمام آیات کو اگر سورہ نجم کی اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ یہاں زبردست قوت والے معلم سے مراد جبریل امین ہی ہیں نہ کہ اللہ تعالیٰ۔ اس مسئلے پر مفصل بحث آ گئے آ رہی ہے ۔

اس مقام پر بعض حضرات جبریل امین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معلم کیسے قرار دیا جا سکتا ہے ، اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ وہ استاد ہیں اور حضورؐ شاگرد، اور اس سے حضورؐ پر جبریل کی فضیلت لازم آئے گی لیکن یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ جبریل اپنے کسی ذاتی علم سے حضورؐ کو تعلیم نہیں دیتے تھے جس سے آپ پر ان کی فضیلت لازم آئے، بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آپؐ تک علم پہنچانے کا ذریعہ بنایا تھا اور وہ محض واسطہ تعلیم ہونے کی حیثیت سے مجازاً آپ کے معلم تھے ۔ اس سے ان کی افضلیت کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے پانچ وقت نمازیں فرض ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز کے صحیح اوقات بتانے کے لیے جبریل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیجا اور انہوں نے دو روز تک پانچوں وقت کی نمازیں آپ کو پڑھائیں۔ یہ قصہ بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور مُؤطا وغیرہ کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ بیان ہوا ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ مقتدی تھے اور جبریل نے امام بن کر آپ کو نماز پڑھائی تھی۔ لیکن اس طرح محض تعلیم کی غرض سے ان کا امام بنایا جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ آپ سے افضل تھے ۔

۶۔ اصل میں لفظ ذُوْمِرَّۃٍ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ ابن عباس اور قتادہ اس کو خوبصورت اور شاندار کے معنی میں لیتے ہیں۔ مجاہد، حسن بصری، ابن زید اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے معنی طاقت ور کے ہیں۔ سعید بن  مُسَیَّب کے نزدیک اس سے مراد صاحب حکمت ہے ۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا رشاد ہے : لاتھل الصدقۃ لغنی ولا الذی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ۔ اس ارشاد میں ذومرہ کو آپ نے تندرست اور صحیح القویٰ کے معنی میں استعمال فرمایا ہے ۔ عربی محاورے میں یہ لفظ نہایت صائب الرائے اور عاقل و دانا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جبریل علیہ السلام کے لیے یہ جامع لفظ اسی لیے منتخب فرمایا ہے کہ ان میں عقلی اور جسمانی، دونوں طرح کی قوتوں کا کمال لیا جاتا ہے ۔ اردو زبان میں کوئی لفظ ان تمام معنوں کا جامع نہیں ہے ۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمے میں اس کے صرف ایک معنی کو اختیار کیا ہے ، کیونکہ جسمانی قوتوں کے کمال کا ذکر اس سے پہلے کے فقرے میں آ چکا ہے ۔

۷۔ اُفق سے مراد ہے آسمان کا مشرقی کنارا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے ۔ اسی کو سورۃ تکویر کی آیت ۲۳ میں اُفق مبین کہا گیا ہے ۔ دونوں آیتیں  صراحت کرتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جبریل علیہ السلام جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نظر آئے اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے ۔ اور متعدد و معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے ۔ آ گئے چل کر ہم وہ تمام روایات نقل کریں گے جن میں یہ بات بیان کی گئی ہے ۔

۸۔ یعنی آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہونے کے بعد جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ علیہ و سلم کی طرف آ گئے بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ آپؐ کے اوپر آ کر فضا میں معلق ہو گئے۔ پھر وہ آپؐ کی طرف جھکے اور اس قدر قریب ہو گئے کہ آپؐ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ عام طور پر مفسرین نے قَابَ قَوْسَیْن کے معنی ’’ بقدر دو قوس‘‘ ہی بیان کیے ہیں، لیکن حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے قوس کو ذراع(ہاتھ)کے معنی میں لیا ہے اور کَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

اور یہ جو فرمایا کہ فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ فاصلے کی مقدار کے تعین میں اللہ تعالیٰ کو کوئی شک لاحق ہو گیا ہے ۔ در اصل یہ طرز بیان اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ تمام کمانیں لازماً ایک ہی ناپ کی نہیں ہوتیں اور ان کے حساب سے کسی فاصلے کو جب بیان کیا جائے گا تو مقدار فاصلہ میں ضرور کمی بیشی ہو گی۔

۹۔ اصل الفاظ ہیں فَاَوْ حٰٓی اِلیٰ عَبْدِہٖ مَاً اَوْحیٰ۔ اس فقرے کے دو ترجمے ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ’’ اس نے وحی کی اس کے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ اور دوسرا یہ کہ ’’ اس نے وحی کی اپنے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ پہلا ترجمہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جبریلؑ نے وحی کی اللہ کے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کی اپنے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی‘‘۔ دوسرا  ترجمہ کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ اللہ نے وحی کی جبریل کے واسطہ سے اپنے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کرنی تھی۔ مفسرین نے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں۔ مگر سیاق و سباق کے ساتھ زیادہ مناسبت پہلا مفہوم ہی رکھتا ہے اور وہی حضرت حسن بصری اور ابن زید سے منقول ہے ۔اس پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ عبدہٖ کی ضمیر اوحیٰ کے فاعل کی طرف پھرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے پھر سکتی ہے جب کہ آغاز سورۃ سے یہاں تک اللہ کا نام سے سے آیا ہی نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں ضمیر کا مرجع کسی خاص شخص کی طرف سیاق کلام سے صاف ظاہر ہو رہا ہو وہاں ضمیر آپ سے آپ اسی کی طرف پھرتی ہے خواہ اس کا ذکر پہلے نہ آیا ہو۔ اس کی متعدد نظیریں خود قرآن مجید میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اِنَّآ اَنْزَ لْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ ’’ ہم نے اس کو شب قدر میں نازل کیا ہے ‘‘۔ یہاں قرآن کا سے سے کہیں ذکر نہیں آیا ہے ۔ مگر سیاق کلام خود بتا رہا ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن ہے ۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے وَلَوْ یُؤَ اخِذُ اللہُ النَّاسَ بَمَا کَسَبُوْ ا مَا تَرَکَ عَلیٰ ظَھْرِ ھَا مِنْ ھَآ بَّۃٍ۔ ’’ اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑنے لگے تو اس کی بیٹھ پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘‘۔ یہاں آ گئے پیچھے زمین کا ذکر کہیں نہیں آیا ہے ۔ مگر سیاق کلام سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ ’’ اس کی پیٹھ‘‘ سے مراد زمیں کی پیٹھ ہے ۔ سورہ یٰس میں فرمایا گیا ہے وَمَآ عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْلَہٗ۔ ‘‘ہم نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور نہ شاعری اس کو زیب دیتی ہے ۔‘‘۔ یہاں پہلے یا بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی ذکر نہیں آیا ہے مگر سیاق کلام بتا رہا ہے کہ ضمیروں کے مرجع آپؐ ہی ہیں۔ سورہ رحمٰن میں فرمایا کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ، ’’ وہ سب کچھ جو اس پر ہے فانی ہے ‘‘۔ آ گئے پیچھے کوئی ذکر زمین کا نہیں ہے ۔ مگر عبارت کا انداز ظاہر کر رہا ہے کہ علیہا کی ضمیر اسی کی طرف پھرتی ہے ۔ سورہ واقعہ میں ارشاد ہوا اِنَّآ اَنْشَأْ نَا ھُنَّ اِنْشَآ ءً، ’’ ہم نے ان کو خاص طور پر پیدا کیا ہو گا‘‘۔ آس پاس کوئی چیز نہیں جس کی طرف ھُنَّ کی ضمیر پھرتی نظر آتی ہو۔ یہ فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ  مراد خواتین جنت ہیں۔ پس چونکہ اَوْحیٰ اِلیٰ عَبْدِہٖ کا یہ مطلب بہر حال نہیں ہو سکتا کہ جبریلؑ نے اپنے بندے پر وحی کی، اس لیے لازماً اس کے معنی یہی لیے جائیں گے کہ جبریلؑ نے اللہ کے بندے پر وحی کی، یا پھر یہ کہ اللہ نے جبریل کے واسطہ سے اپنے بندے پر وحی کی۔

۱۰۔ یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوا۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے ، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے ، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آ گئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے ۔

اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسے عجیب اور غیر معمولی مشاہدے کے بارے میں قطعاً کوئی شک لاحق نہ ہوا اور آپ نے پورے یقین کے ساتھ جان لیا کہ آپ کی آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں وہ واقعہ حقیقت ہے ، کوئی خیالی ہیولیٰ نہیں ہے اور کوئی جن یا شیطان بھی نہیں ہے ؟ اس سوال پر جب ہم غور کرتے ہیں تو اس کے پانچ وجوہ ہماری سمجھ میں آتے ہیں:

ایک یہ کہ وہ خارجی حالات جن میں مشاہدہ ہوا تھا، اس کی صحت کا یقین دلانے والے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ مشاہدہ اندھیرے میں، یا مراقبے کی حالت میں، یا خواب میں، یا نیم بیداری کی حالت میں نہیں ہوا تھا، بلکہ صبح روشن طلوع ہو چکی تھی، آپ پوری طرح بیدار تھے ، کھلی فضا میں اور دن کی پوری روشنی میں اپنی آنکھوں سے یہ منظر ٹھیک اسی طرح دیکھ رہے تھے جس طرح کوئی شخص دنیا کے دوسرے مناظر دیکھتا ہے ۔ اس میں اگر شک کی گنجائش ہو تو ہم دن کے وقت دریا، پہاڑ، آدمی، مکان، غرض جو کچھ بھی دیکھتے ہیں وہ سب بھی پھر مشکوک اور محض نظر کا دھوکا ہی ہو سکتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ آپ کی اپنی داخلی حالت بھی اس کی صحت کا یقین دلانے والی تھی۔ آپ پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں تھے ۔پہلے سے آپؐ کے ذہن میں اس طرح کا سرے سے کوئی خیال نہ تھا کہ آپ کو ایسا کوئی مشاہدہ ہونا چاہیے یا ہونے والا ہے ۔ ذہن اس فکر سے اور اس کی تلاش سے بالکل خالی تھا۔ اور اس حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آیا۔ اس پر یہ شک کرنے کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ آنکھیں کسی حقیقی نظر کو نہیں دیکھ رہی ہیں بلکہ ایک خیالی ہیولیٰ سامنے آ گئیا ہے ۔

تیسرے یہ کہ جو ہستی ان حالات میں آپ کے سامنے آئی تھی وہ ایسی عظیم، ایسی شاندار، ایسی حسین اور اس قدر منور تھی کہ نہ آپؐ کے وہم و خیال میں کبھی اس سے پہلے ایسی ہستی کا تصور آیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو یہ گمان ہوتا کہ وہ آپؐ کے اپنے خیال کی آفریدہ ہے ، اور نہ کوئی جن یا شیطان اس شان کا ہو سکتا ہے کہ آپ اسے فرشتے کے سوا اور کچھ سمجھتے ۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، میں نے جبریل کو اس صورت میں دیکھ کہ ان کے چھ سو بازو تھے (مسند احمد)۔ ایک دوسری روایت میں ابن مسعودؓ مزید تشریح کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام کا ایک ایک بازو اتنا عظیم تھا کہ افق پر چھایا ہوا نظر آتا تھا (مسند احمد)۔ اللہ تعالیٰ کو اور ان کی شان کو شَدِیْدُالْقُویٰ اور ذُوْمِرَّۃٍ کے الفاظ میں بیان فرما رہا ہے ۔

چوتھے یہ کہ جو تعلیم وہ  ہستی دے رہی تھی وہ بھی اس مشاہدے کی صحت کا اطمینان دلانے والی تھی۔ اس کے ذریعہ سے اچانک جو علم، اور تمام کائنات کے حقائق پر حاوی علم آپ کو ملا اس کا کوئی تصور پہلے سے آپؐ کے ذہن میں نہ تھا کہ آپؐ اس پر یہ شبہ کرتے کہ یہ میرے اپنے ہی خیالات ہیں جو مرتب ہو کر میرے سامنے آ گئے ہیں۔ اسی طرح اس علم پر یہ شک کرنے کی بھی کوئی گنجائش نہ تھی کہ شیطان اس شکل میں آ کر آپ کو دھوکا دے رہا ہے ۔ کیونکہ شیطان کا یہ کام آخر کب ہو سکتا ہے اور کب اس نے یہ کام کیا ہے کہ انسان کو شرک و بُت پرستی کے خلاف توحید خالص کی تعلیم دے ؟ آخرت کی باز پرس سے خبردار کرے ؟ جاہلیت اور اس کے طور طریقوں سے بیزار کرے ؟ فضائل اخلاق کی طرف دعوت دے ؟ اور ایک شخص سے یہ کہے کہ نہ صرف تو خود اس تعلیم کو قبول کر بلکہ ساری دنیا سے شرک اور ظلم اور فسق و فجور کو مٹانے اور ان برائیوں کی جگہ توحید اور عدل اور تقویٰ کی بھلائیاں قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو؟

پانچویں اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کو اپنی نبوت کے لیے چن لیتا ہے تو اس کے دل کو شکوک و شبہات اور وساوس سے پاک کر کے یقین و اذعان سے بھر دیتا ہے ۔ اس حالت میں اس کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں اور اس کے کان جو کچھ سنتے ہیں، اس کی صحت کے متعلق کوئی ادنیٰ سا تردد بھی اس کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ پورے شرح صدر کے ساتھ ہر اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر منکشف کی جاتی ہے ، خواہ  وہ کسی مشاہدے کی شکل میں ہو جو اسے آنکھوں سے دکھایا جائے، یا الہامی علم کی شکل میں ہو جو اس کے دل میں ڈالا جائے، یا پیغام وحی کی شکل میں ہو جو اس کو لفظ بلفظ سنایا جائے۔ ان تمام صورتوں میں پیغمبر کو اس امر کا پورا شعور ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی شیطانی مداخلت سے قطعی محفوظ و مامون ہے اور جو کچھ بھی اس تک کسی شکل میں پہنچ رہا ہے وہ ٹھیک ٹھیک اس کے رب کی طرف سے ہے ۔ تمام خدا داد احساسات کی طرح پیغمبر کا یہ شعور و احساس بھی ایک ایسی یقینی چیز ہے جس میں غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں۔ جس طرح مچھلی کو اپنے تیراک ہونے کا، پرندے کو اپنے پرندہ ہونے کا اور انسان کو اپنے انسان ہونے کا احساس بالکل خدا داد ہوتا ہے اور اس میں غلط فہمی کا کوئی شائبہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پیغمبر کو اپنے پیغمبر ہونے کا احساس بھی خدا داد ہوتا ہے ، اس کے دل میں کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی یہ وسوسہ نہیں آتا کہ شاید اسے پیغمبر ہونے کی غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے ۔

۱۱۔ یہ جبریل علیہ السلام سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دوسری ملاقات کا ذکر ہے جس میں وہ آپ کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے۔ اس ملاقات کا مقام ’’سدرۃ المنتہیٰ ‘‘بتایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے قریب ’’جنت الماویٰ‘‘ واقع ہے ۔

سدرہ عربی زبان میں بیری کے درخت کو کہتے  ہیں، اور منتہیٰ کے معنی ہیں آخری سرا۔’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کے لغوی معنی ہیں‘‘ وہ بیری کا درخت جو آخری یا انتہائی سرے پر واقع ہے ‘‘۔ علامہ آلوسیؒ نے روح المعانی میں اس کی تشریح یہ کی ہے کہ: الیھا ینتہی علم کل عالم وما وراء حا لا یعلمہٗ الا اللہ۔ ’’ اس پر ہر عالم کا علم ختم ہو جاتا ہے ، آ گئے جو کچھ ہے اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘۔ قریب قریب یہی تشریح ابن جریر نے اپنی تفسیر میں، اور ابن اَثیر نے النِّہا یہ فی غریب الحدیث والاثر میں کی ہے ۔ ہمارے لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ اس عالم مأویٰ کی آخری سرحد پر وہ بیری کا درخت کیسا ہے اور اس کی حقیقی نوعیت و کیفیت کیا ہے ۔ یہ کائنات خداوندی کے وہ اسرار ہیں جن تک ہمارے فہم کی رسائی نہیں ہے ۔ بہر حال وہ کوئی ایسی ہی چیز ہے جس کے لیے انسانی زبان کے الفاظ میں ’’سدرہ‘‘ سے زیادہ موزوں لفظ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور کوئی نہ تھا۔

’’جنتُ الماویٰ‘‘ کے لغوی معنی ہیں ’’ وہ جنت جو قیام گاہ بنے ‘‘۔ حضرت حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ یہ وہی جنت ہے جو آخرت میں اہل ایمان و تقویٰ کو ملنے والی ہے ، اور اسی آیت ے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ وہ جنت آسمان میں ہے ۔ قَتادہؒ کہتے ہیں کہ یہ وہ جنت ہے جس میں شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں، اس سے مراد وہ جنت نہیں ہے جو آخرت میں ملنے والی ہے ۔ ابن عباسؓ بھی یہی کہتے ہیں اور اس پر وہ یہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ آخرت جو جنت اہل ایمان کو دی جائے گی وہ آسمان میں نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ یہی زمین ہے ۔

۱۲۔ یعنی اس کی شان اور اس کی کیفیت بیان سے باہر ہے ۔ وہ ایسی تجلیات تھیں کہ نہ انسان ان کا تصور کر سکتا ہے اور نہ کوئی انسانی زبان اس کے وصف کی  متحمل ہے ۔

۱۳۔ یعنی ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کمال تحمل کا حال یہ تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ کی نگاہ میں کوئی چکا چوند پیدا نہ ہوئی اور آپ پورے سکون کے ساتھ ان کو دیکھتے رہے ۔ دوسری طرف آپ کے ضبط اور یکسوئی کا کمال یہ تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ نے ایک تماشائی کی طرح ہر طرف نگاہیں دوڑانی نہ شروع کر دیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو ایک عظیم و جلیل بادشاہ کے دربار میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور وہاں وہ کچھ شان و شوکت اس کے سامنے آتی ہے جو اس کی چشم تصور نے بھی نہ دیکھی تھی۔ اب اگر وہ شخص کم ظرف ہو تو وہاں پہنچ کر بھونچکا رہ جائے گا، اور اگر آداب حضوری سے ناآشنا ہو تو مقام شاہی سے غافل ہو کر دربار کی سجاوٹ کا نظارہ کرنے کے لیے ہر طرف مڑ مڑ کر دیکھنے لگے گا۔ لیکن ایک عالی ظرف، ادب آشنا اور فرض شناس آدمی نہ تو وہاں پہنچ کر مبہوت ہو گا اور نہ دربار کا تماشا دیکھنے میں مشغول ہو جائے گا، بلکہ وہ پورے وقار کے ساتھ حاضر ہو گا اور اپنی ساری توجہ اس مقصد پر مرتکز  رکھے گا جس کے لیے دربار شاہی میں اس کو طلب کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہی خوبی ہے جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے ۔

۱۴۔ یہ آیت اس امر کی تصریح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ اس کی عظیم الشان آیات کو دیکھا تھا۔ اور چونکہ سیاق و سباق کی رو سے یہ دوسری ملا لات (ملاقات) بھی اسی ہستی سے ہوئی تھی جس سے پہلی ملاقات ہوئی، اس لیے لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ افق اعلیٰ پر جس کو آپ نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا وہ بھی اللہ نہ تھا، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جس کو دیکھا وہ بھی اللہ نہ تھا۔ اگر آپ نے ان مواقع میں سے کسی موقع پر بھی اللہ جل شانہ کو دیکھا ہوتا تو یہ اتنی بڑی بات تھی کہ یہاں ضرور اس کی تصریح کر دی جاتی حضرت موسیٰ کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی درخواست کی تھی اور انہیں جواب دیا گیا تھا لَنْ تَرَانِیْ، ’’تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ‘‘ (المائدہ:۱۴۳)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ شرف، جو حضرت موسیٰ کو  عطا نہیں کیا گیا تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا کر دیا  جاتا تو اس کی اہمیت خود ایسی تھی کہ اسے صاف الفاظ میں بیان کر دیا جاتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ حضورؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا، بلکہ واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے سورہ بنی اسرائیل میں بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ ہم اپنے بندے کو اس لیے لے گئے تھے کہ ’’ اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘۔ (لِنُرِیَہٗ مِنْ ایَٰاتِنَا)، اور یہاں سدرۃ المنتہیٰ پر حاضری کے سلسلے میں بھی یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’ اس نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں’’(لَقَدْرَایٰ مِنْ ایٰٰتِ رَبِّہِ الْکُبْریٰ)۔

ان وجوہ سے بظاہر اس بحث کی کوئی گنجائش نہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں مواقع پر اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا یا جبریل علیہ السلام کو؟ لیکن جس وجہ سے یہ بحث پیدا ہوئی وہ یہ ہے کہ اس مسئلے پر احادیث کی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ذیل میں ہم ترتیب وار ان احادیث کو درج کرتے ہیں جو اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرام سے منقول ہوئی ہیں۔

(۱)۔ حضرت عائشہؓ کی روایات:

بخاری، کتاب التفسیر میں حضرت مَسْروق کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا، ’’ اماں جان، کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟’’ انہوں نے جواب دیا ’’ تمہاری اس بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تم یہ کیسے بھول گئے کہ تین باتیں ایسی ہیں جن کا اگر کوئی شخص دعویٰ کرے تو جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ ‘‘ (ان میں سے پہلی بات حضرت عائشہؓ نے یہ فرمائی کہ ) ’’ جو شخص تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹ کہتا ہے ‘‘۔ پھر حضرت عائشہؓ نے یہ آیتیں پڑھیں: لا تُدْرِکُوْالْاَبْصَا رُ (نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں)، اور مَا کَانَ لَبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّاوَحْیاً اَوْمِنْ وَّرَائٍ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَرَسُوْلاً فَیُوْحِیْ بَاِذْنِہٖ مَا یَشآءُ (کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر یا تو وحی کے طور پر، یا پردے کے پیچھے سے ، یا یہ کہ ایک فرشتہ بھیجے اور وہ اس پر اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ وہ چاہے )۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا’’ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا تھا‘‘

اس حدیث کا ایک حصہ بخاری، کتاب التوحید، باب ۴ میں بھی ہے ۔ اور کتاب بدءالخلق میں مسروق کی جو روایت امام بخاری نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کی یہ بات سن کر عرض کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہو گا ثُمَّ دَنیٰ فَتَدَلّیٰ، فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰ؟ اس پر انہوں نے فرمایا’’ اس سے مراد جبریلؑ ہیں۔ وہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے انسانی شکل میں آیا کرتے تھے ، مگر اس موقع پر وہ اپنی اصلی شکل میں آپ کے پاس آئے اور سارا افق ان سے بھر گیا۔‘‘

مُسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر سدرۃ المنتہیٰ میں حضرت عائشہؓ سے مسروق کی یہ گفتگو زیادہ تفصیل کے ساتھ نقل ہوئی ہے اور اس کا سب سے اہم حصہ یہ ہے : حضرت عائشہؓ نے فرمایا ’’جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افترا کرتا ہے ‘‘۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ یہ بات سن کر میں اٹھ بیٹھا اور میں نے عرض کیا، ام المومنین جلدی نہ فرماییئے۔ کیا للہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ وَلَقَدْ رَاٰہُ با لْاُ فُقِ الْمْبِیْنِ؟ اور لَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃًاُخْریٰ؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا اس امت میں سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس معاملے کو دریافت کیا تھا۔ حضور نے فرمایا انماھو جبریل علیہ السلام،لم ارہٗ علیٰ سورتہ التی خلق علیھا غیر ھا تین المرتین، رایتہٗ منھبطامن السمآء سادّا عظم خلقہ مابین السماء والارض۔‘‘وہ تو جبریل علیہ السلام تھے ۔ میں نے ان کو ان کی اس اصلی صورت میں جس پر اللہ نے ان کو پیدا  کیا ہے ، ان دو مواقع کے سوا کبھی نہیں دیکھا۔ ان دو مواقع پر میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، اور ان کی عظیم ہستی زمین و آسمان کے درمیان ساری فضا پر چھائی ہوئی تھی‘‘۔

ابن مَرْدُوْیہ نے مسروق کی اس روایت کو جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں : ’’ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : ’’ سب سے پہلے میں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آپؐ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضور نے جواب دیا نہیں، میں نے تو جبریلؑ کو آسمان سے اترتے دیکھا تھا‘‘۔

(۲) حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایات:

بخاری، کتاب التفیسر، مسلم کتاب الایمان اور ترمذی ابواب التفسیر میں زِرّ بن حُبَیش کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ کی تفسیر یہ بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے ۔

مسلم کی دوسری روایات میں مَا کَذَبَ الْفُؤَ ا دُ مَا رَایٰ اور لَقَدْرَایٰ مِنْ ایَٰاتِرَبِّہَالْکُبْریٰ کی بھی یہی تفسیر زرین حُبیش نے عبداللہ بن مسعود سے نقل کی ہے ۔

 مسند احمد میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ تفسیر زرّ بن حبیش کے علاوہ عبد الرحمٰن بن یزید اور ابووائل کے واسطہ سے بھی منقول ہوئی ہے اور مزید برآں مسند احمد میں زِرّ بن حبیش کی دو روایتیں اور نقل ہوئی ہیں جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْلَۃً اُخریٰ، عِنْدَ سِدْ رَۃِ الْمُنْتَہیٰ  کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رأیت جبریل عند سدرۃالمنتہیٰ علیہ ستمائۃ جناح۔ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے جبریلؑ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو بازو تھے ’’۔ اسی مضمون کی روایت امام احمدؒ نے شقیق بن سلَمہ سے بھی نقل کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زبان سے یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود یہ فرمایا تھا کہ میں نے جبریل علیہ السلام کو اس صورت میں سدرۃ المنتہیٰ پر دیکھا تھا۔

(۳)۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے عطاء بن ابی رباح نے آیت لَقَدْ رَاٰہُ نَزْ لَۃً اُخریٰ کا مطلب پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ رایٰ جبریل علیہ السلام۔’’ حضورؐ نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا‘‘۔ (مسل، کتاب الایمان)۔

(۴) حضرت ابو صر غفاری سے عبداللہ بن شقیق کی دو روایتیں امام مسلم نے کتاب الایمان میں نقل کی ہیں۔ ایک روایت میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ حضورؐ نے جواب دیا : نورٌ اَنّیٰ اراہ۔ اور دوسری روایت میں فرماتے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب آپؐ نے یہ دیا کہ رأیتُ نوراً۔ حضورؐ کے پہلے ارشاد کا مطلب ابن القیم نے زادالمعاد میں یہ بیان کیا ہے کہ ’’ میرے اور رؤیت رب کے درمیان نور حائل تھا ‘‘۔ اور دوسرے ارشاد کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ میں نے اپنے رب کو نہیں بلکہ بس ایک نور دیکھا‘‘۔

نسائی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوذرؓ کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دل سے دیکھا تھا، آنکھوں سے نہیں دیکھا ‘‘۔

(۵) حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے امام مسلم کتاب الایمان میں یہ روایت لائے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا ما انتھیٰ الیہ بصر من خلقہ۔’’اللہ تعالیٰ تک س کی مخلوق میں سے کسی کی نگاہ نہیں پہنچی‘‘۔

(۶) حضرت عبداللہ بن عباس کی روایات:

مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے  مَا کَذَبَ الْفُؤادُمَا رأی، وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْ لَۃً اُخْریٰ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی ہے ۔

ابن مردُویہ نے عطاء بن ابی رَباح کے حوالہ سے ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل سے دیکھا تھا۔

نسائی میں عکرمہ کی روایت ہے کہ ابن عباس نے فرمایا اتعجبون ان تکون الخلۃ لابراہیم والکلام لموسیٰ والرؤیۃُ المحمد؟۔’’ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے خلیل بنایا، موسیٰ علیہ السلام کو کلام سے سر فراز کیا اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو رؤیت کا شرف بخشا‘‘۔ حاکم نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

ترمذی میں شعبی کی روایت ہے کہ ابن عباس نے ایک مجلس میں فرمایا’’ اللہ نے اپنی رؤیت اور اپنے کلام کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دو مرتبہ اس کو دیکھا‘‘۔ ابن عباس کی اسی گفتگو کو سن کر مسروق حضرت عائشہؓ کے پاس گے تھے اور ان سے پوچھا تھا ’’ کیا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’تم نے وہ بات کہی ہے جسے سن کر میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے‘‘۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ اور مسروق کے درمیان وہ گفتگو ہوئی جسے ہم اوپر حضرت عائشہؓ کی روایات میں نقل کر آئے ہیں۔

ترمذی ہی میں دوسری روایات جو ابن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں ان میں سے ایک میں وہ فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ دوسری میں فرماتے ہیں دو مرتبہ دیکھا تھا۔ اور تیسری میں ان کا ارشاد یہ ہے کہ آپ نے اللہ کو دل سے دیکھا تھا۔

مسند احمد میں ابن عباس کی ایک روایت یہ ہے کہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ربی تبارک و تعالیٰ۔ ’’میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا‘‘۔ دوسری روایت میں وہ کہتے ہیں ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال اتانی ربی اللیلۃ فی احسن صورۃ، احسبہ یعنی فی النوم۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا آج رات میرا تب بہترین صورت میں میرے پاس آیا۔میں سمجھتا ہوں کہ حضورؐ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ خواب میں آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا’’۔

طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن عباس سے ایک روایت یہ  بھی نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا، ایک مرتبہ آنکھوں سے اور دوسرے مرتبہ دل سے ۔

(۷)۔ محمد بن کعب القرظی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بعض صحابہ نہ پوچھا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ حضور نے جواب دیا’’ میں نے اس کو دو مرتبہ اپنے دل سے دیکھا‘‘ (ابن ابی حاتم)۔ اس روایت کو ابن جریر نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ میں نے اس کو آنکھ سے نہیں بلکہ دل سے دو مرتبہ دیکھا ہے ‘‘۔

(۸)۔ حضرت انسؓ بن مالک کی ایک روایت جو قصہ معراج کے سلسلے میں شریک بن عبداللہ کے حوالہ سے امام بخاریؒ نے کتاب التوحید میں نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ آتے ہیں: حتّیٰ جَاءَسِدْرَۃَ الْمُنْتَھیٰ و دَنَا لجبار رب العزۃ فتدلّیٰ حتّیٰ کَان منہ قاب قوسین او ادنیٰ فاوحی اللہ فیما اوحیٰ الیہ خمسین صلوٰۃ۔ یعنی ’’ جب آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو اللہ رب العزۃ آپ کے قریب آیا اور آپ کے اوپر معلّق ہو گیا یہاں تک کہ آپ کے اور اس کے درمیان بقدر دو کمان یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا، پھر اللہ نے آپؐ پر جو امور وحی فرمائے ان میں سے ایک ۵۰ نمازوں کا حکم تھا‘‘۔ لیکن علاوہ اُن اعتراضات کے جو اس روایت کی سند اور مضمون پر امام خطابی، حافظ ابن حَجر، ابن حَزم اور حافظ عبدالحق صاحبُ الجمع بین الصحیحین نے کیے ہیں، سب سے بڑا اعتراض اس پر یہ وارد ہوتا ہے کہ یہ صریح قرآن کے خلاف پڑتی ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید دو الگ الگ رؤیتوں کا ذکر کرتا ہے جن میں سے ایک ابتداءًاُفُقِ اعلیٰ پر ہوئی تھی اور پھر اس میں دَنَا فَتَدَ لّیٰ فَکَا نَقَاب َ قَوْسَیْنِاَوْاَدْنیٰ کا معاملہ پیش آیا تھا، اور دوسری سدرۃ المنتہیٰ کے پاس واقع ہوئی تھی۔ لیکن یہ روایت ان دونوں رؤیتوں کو خلط ملط کر کے ایک رؤیت بنا دیتی ہے ۔اس لیے قرآن مجید سے متعارض ہونے کی بنا پر اس کو تو کسی طرح قبول ہی نہیں کیا جا سکتا۔

اب رہیں وہ دوسری روایات جو ہم نے اوپر نقل کی ہیں، تو ان میں سب سے زیادہ وزنی روایتیں وہ ہیں جو حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہؓ سے منقول ہوئی ہیں، کیونکہ ان دونوں نے بالاتفاق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ان دونوں مواقع پر آپ نے اللہ تعالیٰ کو نہیں بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھا تھا، اور یہ روایات قرآن مجید کی تصریحات اور اشارات سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ مزید براں ان کی تائید حضورؐ کے ان ارشادات سے بھی ہوتی ہے جو حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے آپ سے نقل کیے ہیں، اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن عباس سے جو روایات کتب حدیث میں منقول ہوئی ہیں ان میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے ۔ کسی میں وہ دونوں رؤیتوں کو عینی کہتے ہیں، کسی میں دونوں کو قلبی قرار دیتے ہیں، کسی میں ایک کو عینی اور دوسری کو قلبی بتاتے ہیں، اور کسی میں عینی رؤیت کی صاف صاف نفی کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں ہے جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا کوئی ارشاد نقل کر رہے ہوں۔ اور جہاں انہوں نے خود حضورؐ کا ارشاد نقل کیا ہے ، وہاں اول تو قرآن مجید کی بیان کردہ ان دونوں رؤیتوں میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں ہے ، اور مزید برآں ان کی ایک روایت کی تشریح دوسری روایت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضورؐ نے کسی وقت بحالت بیداری نہیں بلکہ خواب میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا۔ اس لیے حقیقت ان آیات کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب روایات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح محمد بن کعب القرظی کی روایات بھی، اگر چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک ارشاد نقل کرتی ہیں، لیکن ان میں ان صحابہ کرام کے ناموں کی کوئی تصریح نہیں ہے جنہوں نے حضورؐ سے یہ بات سنی۔ نیز ان میں سے ایک میں بتایا گیا ہے کہ حضورؐ نے عینی رویت کی صاف صاف نفی فرما دی تھی۔

۱۵۔ مطلب یہ ہے کہ جو تعلیم محمد صلی اللہ علیہ و سلم تم کو دے رہے ہیں اس کو تو تم لوگ گمرہی اور بد راہی قرار دیتے ہو، حالانکہ یہ علم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے اور اللہ ان کو آنکھوں سے وہ حقائق دکھا چکا ہے جن کی شہادت وہ تمہارے سامنے دے رہے ہیں۔ اب ذرا تم خود دیکھو کہ جن عقائد کی پیروی پر تم اصرار کیے چلے جا رہے ہو وہ کس قدر غیر معقول ہیں، اور ان کی مقابلے میں جو شخص تمہیں سیدھا راستہ بتا رہا ہے اس کی مخالفت کر کے آخر تم کس کا نقصان کر رہے ہو۔ اس سلسلے میں خاص طور پر ان تین دیویوں کو بطور مثال لیا گیا ہے جن کو مکہ، طائف، مدینہ، اور نواحی حجاز کے لوگ سب سے زیادہ پوجتے تھے ۔ ان کے بارے میں سوال کیا گیا ہے کہ کبھی تم نے عقل سے کام لے کر سوچا بھی کہ زمین و آسمان کی خدائی کے معاملات میں ان کا کوئی ادنیٰ سا دخل بھی ہو سکتا ہے ؟ یا خداوند عالم سے واقعی ان کا کوئی رشتہ ہو سکتا ہے ؟

لات کا استھان طائف میں تھا اور بنی ثقیبف اس کے اس حد تک معتقد تھے کہ جب ابرہہ ہاتھیوں کی فوج لے کر خانہ کعبہ کو توڑنے کے لیے مکہ پر چڑھائی کرنے جا رہا تھا اس وقت ان لوگوں نے محض اپنے اِس معبود کے آستانے کو بچانے کی خاطر اس ظالم کو مکے کا راستہ بتانے کے لیے بَدْرَقے فراہم کیے تا کہ وہ لات کو ہاتھ نہ لگائے۔ حالانکہ تمام اہل عرب کی طرح ثقیف کے لوگ بھی یہ مانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے ۔ لات کے معنی میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے ۔ ابن جریر طبری کی تحقیق یہ ہے کہ یہ اللہ کی تانیث ہے ، یعنی اصل میں یہ لفظ اللّٰلہۃٌ تھا جسے اللّٰات کر دیا گیا۔ زَمخشری کے نزدیک یہ لَویٰیَلْوی سے مشتق ہے ، جس کے معنی مڑنے اور کسی کی طرف جھکنے کے ہیں۔ چونکہ مشرکین عبادت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کے آ گئے جھکتے اور اس کا طواف کرتے تھے اس لیے اس کو لات کہا جانے لگا۔ ابن عباسؓ اس کو لات بتشدید  تاء پڑھتے ہیں اور اسے لَت یلتُّ سے مشتق قرار دیتے ہیں جس کے معنی متھنے اور لتھیڑنے کے ہیں۔ ان کا اور مجاہد کا بیان ہے کہ یہ دراصل ایک شخص تھا جو طائف کے قریب ایک چٹان پر رہتا تھا اور حج کے لیے جانے والوں کو سَتُّو پلاتا اور کھانے کھلاتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اسی چٹان پر اس کا استھان بنا لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے ۔ مگر لات کی یہ تشریح ابن عباس اور مجاہد جیسے بزرگوں سے مروی ہونے کے باوجود  دو وجوہ سے قابل قبول نہیں ہے ۔ ایک یہ کہ قرآن میں اسے لات کہا گیا ہے نہ کہ لاتّ۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید ان تینوں کو دیویاں بتا رہا ہے ، اور اس روایت کی رو سے لات مرد تھا نہ عورت۔

عزیٰ عزت سے ہے اور اس کے معنی عزت والی کے ہیں۔ یہ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادیِ نخلہ میں حُراض کے مقام پر واقع تھا (نخلہ کی جائے وقوع کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الاحقاف، حاشیہ ۲۳)۔ بنی ہاشم کے حلیف قبیلہ بنی شیبان کے لوگ اس کے مجاور تھے ۔ قریش اور دوسرے قبائل کے لوگ اس کی زیارت کرتے اور اس پر نذریں چڑھاتے اور اس کے لیے قربانیاں کرتے تھے ۔ کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی بدی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔ ابن ہشام کی روایت ہے کہ ابو اُحیحہ جب مرنے لگا تو ابولہب اس کی عیادت کے لیے گیا۔ دیکھا کہ وہ رو رہا ہے ۔ ابولہب نے کہا کیوں روتے ہو ابو اُلحیحہ؟ کیا موت سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ وہ سب ہی کو آنی ہے ۔ اس نے کہا خدا کی قسم میں موت سے ڈر کر نہیں توتا، بلکہ مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ میرے بعد عزیٰ کی پوجا کیسے ہو گی۔ابو لہب بولا۔ اس کی پوجا نہ تمہاری زندگی میں تمہاری خاطر ہوتی تھی اور نہ تمہارے بعد اسے چھوڑا جائے گا۔ ابو الُحیحہ نے کہا اب مجھے اطمینان ہو گیا کہ میرے بعد کوئی میری جگہ سنبھالنے والا ہے ۔

مَناۃ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر تھا اور خاص طور پر خزاعہ اور اوس اور خزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے ۔ اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور اس پر نذر کی قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں۔ زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہو جاتے تو وہیں سے مناۃ کی زیارت کے لیے لبیک لبیک کی صدائیں بلند کر دی جاتیں اور جو لوگ اس دوسرے ’’حج‘‘ کی نیت کر لیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے ۔

۱۶۔ یعنی ان دیویوں کو تم نے اللہ رب العالمین کی بیٹیاں قرار دے لیا اور یہ بیہودہ عقیدہ ایجاد کرتے وقت تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اپنے لیے تو تم بیٹی کی پیدائش کو ذلت سمجھتے ہو اور چاہتے ہو کہ تمہیں اولاد نرینہ ملے ۔ مگر اللہ کے لیے تم  اولاد بھی تجویز کرتے ہو تو بیٹیاں !

۱۷۔ یعنی تم جن کو دیوی اور دیوتا کہتے ہو وہ نہ دیویاں ہیں اور نہ دیوتا، نہ ان کے اندر اُلوہیت کی کوئی صفت پائی جاتی ہے ، نہ خدائی کے اختیارات کا کوئی ادنیٰ سا حصہ انہیں حاصل ہے ۔تم نے بطور خود ان کو خدا کی اولاد اور معبود اور خدائی میں شریک ٹھیرا لیا ہے ۔ خدا کی طرف سے کوئی سند ایسی نہیں آئی ہے جسے تم اپنے ان مفروضات کے ثبوت میں پیش کر سکو۔

۱۸۔ بالفاظ دیگر ان کی گمراہی کے بنیادی وجوہ دو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی چیز کو اپنا عقیدہ اور دین بنانے کے لیے علم حقیقت کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ محض قیاس و گمان سے ایک بات فرض کر لیتے ہیں اور پھر اس پر اس طرح ایمان لے آتے ہیں کہ گویا وہی حقیقت ہے ۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے یہ رویہ دراصل اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اختیار کیا ہے ۔ ان کا دل یہ چاہتا ہے کہ کوئی ایس معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام تو بناتا رہے اور آخرت اگر پیش آنے والی ہی ہو تو وہاں انہیں بخشوانے کا ذمہ بھی لے لے ، مگر حرام و حلال کی کوئی پابندی ان پر نہ لگائے اور اخلاق کے کسی ضابطے میں ان کو نہ کسے ۔اسی لیے وہ انبیاء کے لائے ہوئے طریقے پر خدائے واحد کی بندگی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ان خود ساختہ معبودوں اور معبودنیوں کی عبادت ہی ان کو پسند آتی ہے ۔

۱۹۔ یعنی ہر زمانے میں انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گمراہ لوگوں کو حقیقت بتاتے رہے ہیں اور اب محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے آ کر ان کو بتا دیا ہے کہ کائنات میں  در اصل خدائی کس کی ہے ۔

۲۰۔ اس آیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا انسان کو یہ حق ہے کہ جس کو چاہے معبود بنا لے ؟ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ کیا انسان ان معبودوں سے اپنی مرادیں پا لینے کی جو تمنا رکھتا ہے وہ کبھی پوری ہو سکتی ہے ؟

 

آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے جس کے لیئے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے (۲۱) مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسم کرتے ہیں (۲۲)۔ حالانکہ اس معاملہ کا علم انہیں حاصل نہیں ہے ، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے (۲۳) ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔
پس اے نبی ﷺ جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیر تا ہے (۲۴)، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے ، اسے اس کے حال  پر چھوڑ دو (۲۵)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  (۲۶)ان لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے ۔(۲۷) یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے ، اور زمین اور آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے (۲۸)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ (۲۹) اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نواز ے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے ، جو بڑے بڑے گناہوں(۳۰) اور کھلے کھلے قبیح افعال (۳۱) سے پرہیز کرتے ہیں،  الا یہ کہ کچھ قصور ان سے سرزد (۳۲) ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے (۳۳)۔ وہ تمھیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے زمین سے تمھیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹیوں میں ابھی جنین ہی تھے ۔
پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے ۔

 

۲۱۔ یعنی تمام فرشتے مل کر بھی اگر کسی کی شفاعت کریں تو وہ اس کے حق میں نافع نہیں ہو سکتی، کجا کہ تمہارے ان بناوٹی معبودوں کی شفاعت کسی کی بگڑی بنا سکے ۔ خدائی کے اختیارات سارے کے سارے بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ فرشتے بھی اس کے حضور کسی کی سفارش کرنے کی اس وقت تک جسارت نہیں کر سکتے جب تک وہ انہیں اس کی اجازت نہ دے اور کسی کے حق          میں ان کی سفارش سننے پر راضی نہ ہو۔

۲۲۔ یعنی ایک حماقت تو ان کی یہ ہے کہ ان بے اختیار فرشتوں کو جو اللہ تعالیٰ سے سفارش تک کرنے کا یارا نہیں رکھتے انہوں نے معبود بنا لیا ہے ۔ اس پر مزید حماقت یہ کہ وہ انہیں عورتیں سمجھتے ہیں اور ان کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔ ان ساری جہالتوں میں ان کے مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ آخرت کو نہیں مانتے ۔ اگر وہ آخرت کے ماننے والے ہوتے تو کبھی ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں نہ کر سکتے تھے ۔ انکار آخرت نے انہیں انجام سے بے فکر بنا دیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو ماننے یا نہ ماننے ، یا ہزاروں خدا مان بیٹھنے سے کوئی فرق نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں سے کسی عقیدے کا بھی کوئی اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نکلتا نظر نہیں آتا۔ منکرین خدا ہوں یا مشرکین یا موحدین، سب کی کھیتیاں پکتی بھی ہیں اور جلتی بھی ہیں۔ سب بیمار بھی ہوتے ہیں اور تندرست بھی ہوتے رہتے ہیں۔ ہر طرح کے اچھے اور برے حالات سب پر گزرتے ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ کوئی بڑا اہم اور سنجیدہ معاملہ نہیں ہے کہ آدمی کسی کو معبود مانے یا نہ مانے ،یا جتنے اور جیسے چاہے معبود بنا لے ۔ حق اور باطل کا فیصلہ جب ان کے نزدیک اسی دنیا میں ہونا ہے ، اور اس کا مدار اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج پر ہے ، تو ظاہر ہے کہ یہاں کے نتائج نہ کسی عقیدے کے حق ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتے ہیں نہ کسی دوسرے عقیدے کے باطل ہونے کا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے لیے ایک عقیدے کو اختیار کرنا اور دوسرے عقیدے کو رد کر دینا محض ایک من کی موج کا معاملہ ہے ۔

۲۳۔ یعنی ملائکہ کے متعلق یہ عقیدہ انہوں نے کچھ اس بنا پر اختیار نہیں کیا ے کہ انہیں کسی ذریعہ علم سے یہ معلوم ہو گیا ہے کہو عورتیں ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں، بلکہ انہوں نے محض اپنے قیاس و گمان سے ایک بات فرض کر لی ہے اور اس پر یہ آستانے بنائے بیٹھے ہیں جن سے مرادیں مانگی جا رہی ہیں اور نذریں اور نیازیں ان پر چڑھائی جا رہی ہیں۔

۲۴۔ ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے ، محض نصیحت بھی مراد ہو سکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے ۔

۲۵۔ یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ کیوں کہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اور جس میں  اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں۔

۲۶۔ یہ جملہ معترضہ  ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر پچھلی بات کی تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔

۲۷۔ یعنی یہ لوگ دنیا اور اس کے فوائد سے آ گئے نہ کچھ جانتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں، اس لیے ان پر محنت صرف کرنا لا حاصل ہے ۔

۲۸۔ بالفاظ دیگر کسی آدمی کے گمراہ یا بر سر ہدایت ہونے کا فیصلہ نہ اس دنیا میں ہونا ہے نہ اس کا فیصلہ دنیا کے لوگوں کی رائے پر چھوڑ گیا ہے ۔ اس کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہی زمین و آسمان کا مالک ہے ، اور اسی کو یہ معلوم ہے کہ دنیا کے لوگ جن مختلف راہوں پر چل رہے ہیں ان میں سے ہدایت کی راہ کون سی ہے اور ضلالت کی راہ کون سی۔ لہٰذا تم اس بات کی کوئی پروا نہ کرو کہ یہ مشرکین عرب اور یہ کفار مکہ تم کو بہکا اور بھٹکا ہوا آدمی قرار دے رہے ہیں اور اپنی جاہلیت ہی کو حق اور ہدایت سمجھ رہے ہیں۔ یہ اگر اپنے اسی زعم باطل میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو انہیں مگن رہنے دو۔ ان سے بحث و تکرار میں وقت ضائع کرنے اور سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

۲۹۔ یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہو جاتا ہے جو اوپر سے چلا آ رہا تھا۔ گویا جملہ معترضہ کو چھوڑ کر سلسلہ عبارت یوں ہے : ’’اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے ‘‘۔

۳۰۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء، حاشیہ ۵۳۔

۳۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ ۱۳۰ جلد دوم، النحل حاشیہ ۸۹۔

۳۲۔ اصل الفاظ ہیں اِلَّا اللّٰمَمَ۔ عربی زبان میں لَمَم کا لفظ کسی چیز کی توڑی سی مقدار، یا اس کے خفیف سے اثر، یا اس کے محض قرب، یا اس کے ذرا سی دیر رہنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً کہتے ہیں اَلَمَّ بَالْمَکَانِ، وہ شخص فلاں جگہ تھوڑی  دیر ہی ٹھیرا، یا تھوڑی دیر کے لیے ہی وہاں گیا۔ اَلَمَّ بِا لظَّعَامِ، اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا۔ بِہٖ لَمَمٌم اس جا۔۔۔ ذرا سا کھسکا ہوا ہے ، یا اس میں کچھ جنون کی لٹک ہے ۔ یہ لفظ اس معنی میں بولتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک فعل کا ارتکاب کے ریب تک پہنچ گیا۔ فَرّاء کا قول ہے کہ میں نے عربوں کو اس طرح کے فقرے بولتے سنا ہے ضربہ مالمم القتل، فلاں شخص نے اسے اتنا مارا کہ بس مار ڈالنے کی کسر رہ گئی۔ اور اَلَمّ یفعل، قریب تھا کہ فلاں شخص یہ فعل کر گزرتا۔ شاعر کہاتا ہے اَلَمت فحیّت ثم قَا مت فودعت، ‘‘ وہ بس ذرا کی ذرا آئی سلام کیا، اٹھی اور رخصت ہو گئی‘‘۔

ان استعمالات کی بن پر اہل تفسیر میں بعض نے لمم سے مراد چھوٹے گناہ لیے ہیں۔ بعض جے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آدمی عملاً کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جائے مگر اس کا ارتکاب نہ کرے ۔ بعض اسے کچھ دیر کے لیے گناہ میں مبتلا ہونے اور پھر اس سے باز آ جانے کے معنی میں لیتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی گناہ کا خیال، یا اس کی خواہش، یا اس کا ارادہ تو کرے مگر عملاً کوئی اقدام نہ کرے ۔ اس سلسلے میں صحابہ و تابعین کے اقوال حسب ذیل ہیں :

زید بن اسلم اور ابن زید کہتے ہیں، اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معاصی ہیں جن کا ارتکاب اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں لوگ کر چکے تھے ، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔

ابن عباسؓ کا دوسرا قول یہ ہے ، اور یہی حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللہؓ بن عمرو بن عاص، مجاہدؒ، حسن بصریؒ اور ابوصالحؒ کا قول بھی ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ یا کسی فحش فعل میں کچھ دیر کے لیے ، یا احیاناً مبتلا ہو جانا اور پھر اسے چھوڑ دینا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود اور مسروق اور شعبی فرمانے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی معتبر روایات میں یہ قول منقول ہوا ہے کہ اس سے مراد آدمی کا کسی بڑے گناہ کے قریب تک پہنچ جانا اور اس کے ابتدائی مدارج تک طے کر گزرنا مگر آخری مرحلے پر پہنچ کر رک جاتا ہے ۔ مثلاً کوئی شخص چوری کے لیے جائے، مگر چرانے سے باز رہے ۔ یا اجنبیہ سے اختلاط کرے ، مگر زنا کا اقدام نہ کرے ۔

حضرت عبداللہ بن زبیر، عِکرمہ، قتادہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن کے لیے دنیا میں بھی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور آخرت میں بھی جن پر عذاب دینے کی کوئی وعید نہیں فرمائی گئی ہے ۔

سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے گناہ کا خیال دل میں آنا مگر عملاً اس کا ارتکاب نہ کرنا۔

یہ حضرات صحابہ و تابعین کی مختلف تفسیریں ہیں جو روایات میں منقول ہوئی ہیں۔ بعد کے مفسرین اور ائمہ و فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ یہ آیت اور سورہ نساء کی آیت ۳۱ صاف طور پر گناہوں کو دو بڑی اقسام پر تقسیم کرتی ہیں، ایک کبائر، دوسرے صغائر۔ اور یہ دونوں آیتیں انسان کو امید دلاتی ہیں کہ اگر وہ کبائر اور فواحش سے پرہیز کرے تو اللہ تعالیٰ صغائر سے   در گزر فرمائے گا۔ اگر چہ بعض اکابر علماء نے یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ کوئی معصیت چھوٹی نہیں ہے بلکہ خدا کی معصیت بجائے خود کبیرہ ہے ۔ لیکن جیسا کہ امام غزالیؒ نے فرمایا ہے ، کبائر اور صغائر کا فرق ایک ایسی چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جن ذرائع معلومات سے احکام شریعت کا علم حاصل ہوتا ہے وہ سب اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق کیا ہے اور کس قسم کے گناہ صغیرہ اور کس قسم کے کبیرہ ہیں، تو اس معاملہ میں جس بات پر ہمارا اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ ’’ ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصّ صریح نے حرام قرار دیا ہو، یا اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی گئی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو، یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو‘‘۔ اس نوعیت کے گناہوں کے ماسوا جتنے افعال بھی شریعت کی نگاہ میں نا پسندیدہ ہیں وہ سب صغائر کی تعریف میں آتے ہیں۔ اسی طرح کبیرہ کی محض خواہش یا اس کا ارادہ بھی کبیرہ نہیں بلکہ صغیرہ ہے ۔ حتیٰ کہ کسی بڑے گناہ کے ابتدائی مراحل طے کر جانا بھی اس وقت تک گناہ کبیرہ نہیں ہے جب تک آدمی اس کا ارتکاب نہ کر گزرے ۔ البتہ گناہ صغیرہ بھی ایسی حالت میں کبیرہ ہو جاتا ہے جبکہ وہ دین کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں استکبار  کے جذبہ سے کیا جائے، اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتناء  کے لائق نہ سمجھے جس نے اسے ایک برائی قرار دیا ہے ۔

۳۳۔ یعنی صغائر کے مرتکب کا معاف کر دیا جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ صغیرہ گناہ، گناہ نہیں ہے ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ تنگ نظری اور خوردہ گیری کا معاملہ نہیں فرماتا۔ بندے اگر نیکی اختیار کریں اور کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے رہیں تو وہ ان کی چھوٹ چھوٹی باتوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اپنی رحمت بے پایاں کی وجہ سے ان کو ویسے ہی معاف کر دے گا۔

 

پھر اسے نبی ﷺ تم نے اس شخص کو بھی جو راہ خدا سے پھر گیا اور تھوڑا سا دے کر رک گیا۔ (۳۴) کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے  کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا (۳۵) ہے ؟ کیا اسے ان باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسی کے صحیفوں اور اس ابراہیم کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر(۳۶) دیا؟
"یہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا ئے گا(۳۷)، اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے (۳۸)، اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی (۳۹) اور اس کی پوری جزا سے دی جائے گی، اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے ،
اور یہ کہ اسی نے ہنسا یا اور اسی نے رلایا، (۴۰)،
اور یہ کہ اسی نے موت دی اور اسی نے زندگی بخشی،
اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکا ئی جاتی ہے ، (۴۱)
اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اسی کے ذمہ  ہے (۴۲)،
اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور جائداد بخشی، (۴۳)
اور یہ کہ وہی شغری کا رب ہے (۴۴)
اور یہ کہ اسی نے عاد اولیٰ (۴۵) کو ہلاک کیا، اور ثمود کو ایسا مٹا یا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سر کش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا، پھر چھا دیا ان پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ )کیا چھا دیا۔ (۴۶)۔
پس (۴۷) اے مخاطب، اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرے (۴۸) گا؟
یہ ایک تبنیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے (۴۹)۔ آنے والی گھڑی قریب آ لگی (۵۰) ہے ، اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹا نے والا نہیں (۵۱)۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو (۵۲)؟ ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو (۵۳)؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے (۵۴) ہو؟ جھک جاؤ اللہ کے آ گئے اور بندگی۔  بجا لاؤ(۵۵)۔

 

 

۳۴۔ اشارہ ہے وَلید بن مغیرہ کی طرف جو قریش کے بڑے سرداروں میں ے ایک تھا۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ یہ شخص پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ مگر جب اس کے ایک مشرک دوست کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ تم دین آبائی کو نہ چھوڑو، اگر تمہیں عذاب آخرت کا خطرہ ہے تو مجھے اِتنی رقم دے دو، میں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہارے بدلے وہاں کا عذاب میں بھکت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا، مگر جو رقم اس نے اپنے مشرک دوست کو دینی طے کی تھی وہ بھی جس تھوڑی سے دی اور باقی روک لی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا تھا کہ آخرت سے بے فکری اور دین کی حقیقت سے بے خبری نے ان کو کیسی جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

۳۵۔ یعنی کیا اسے معلوم ہے کہ یہ روش اس کے لیے نافع ہے ؟ کیا وہ جانتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے کوئی اس طرح بھی بچ سکتا ہے ۔؟

۳۶۔ آ گئے ان تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیمؑ کے صحیفوں میں نازل ہوئی تھیں۔ حضرت موسیٰ کے صحیفوں سے مراد توراۃ ہے ۔ رہے حضرت ابراہیمؑ کے صحیفے تو وہ آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں، اور یہود و نصاریٰ کی کتب مقدسہ میں بھی ان کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ صرف قرآن ہی وہ کتاب ہے جس میں دو مقامات پر صُحُفِ ابراہیمؑ کی تعلیمات کے بعض اجزاء نقل کیے گئے ہیں، ایک یہ مقام، دوسرے سورہ الاعلیٰ کی آخری آیات۔

۳۷۔ اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمی داری دوسرے پر نہیں ڈالی جا سکتی الا یہ کہ اس فعل کے صُدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے بھی تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کے لیے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے ۔

۳۸۔ اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پا سکتا الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پا سکتا۔

ان تین اصولوں کو بعض لوگ دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کر کے ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی(Earned Income) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ بات قرآن مجید ہی کے دیے ہوئے متعدد قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے ۔ مثلاً قانون وراثت، جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں اور اس کے جائز وارث قرار پاتے ہیں در آں حال یہ کہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک شیر خوار بچے کے متعلق تو کسی کھینچ تان سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں اس کی محنت کا بھی کوئی حصہ تھا۔ اسی طرح احکام زکوٰۃ و صدقات، جن کی رو سے ایک آدمی کا مال دوسروں کو محض ان کے شرعی و اخلاقی استحقاق کی بنا پر ملتا ہے اور وہ اس کے جائز مالک ہوتے ہیں، حالانکہ اس مال کے پیدا کرنے میں ان کی محنت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن کی کسی ایک آیت کو ہے کر اس سے ایسے نتائج نکالنا جو خود قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوتے ہوں، قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہے ۔

بعض دوسرے لوگ ان اصولوں کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اصولوں کی رو سے ایک شخص کا عمل دوسرے شخص کے لیے کسی صورت میں بھی نافع ہو سکتا ہے ؟ اور کیا ایک شخص اگر دوسرے شخص کے لیے یا اس کے بدلے کوئی عمل کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جا سکتا ہے ؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کر سکے ؟ ان سوالات کا جواب اگر نفی میں ہو تو ایصال ثواب اور حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہو جاتے ہیں، بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار بھی بے معنی ہو جاتی ہے ، کیونکہ یہ دعا بھی اس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جائے۔ مگر یہ انتہائی نقطہ نظر معتزِلہ کے سوا اہل اسلام میں سے کسی نے اختیار نہیں کیا ہے ۔ صرف وہ اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ایک شخص کی سعی دوسرے کے لیے کسی حال میں بھی نافع نہیں ہو سکتی۔ بخلاف اس کے اہل سنت ایک شخص کے لیے دوسرے کی دعا کے نافع ہونے کو تو بالاتفاق مانتے ہیں کیونکہ وہ قرآن سے ثابت ہے ، البتہ ایصال ثواب اور نیابۃً دوسرے کی طرف سے کسی نیک کام کے نافع ہونے میں ان کے درمیان اصولاً نہیں بلکہ صرف تفصیلات میں اختلاف ہے ۔

(۱)۔ ایصالِ ثواب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی نیک عمل کر کے اللہ سے دعا کرے کہ اس کا اجر و ثواب کسی دوسرے شخص کو عطا فرما دیا جائے۔ اس مسئلے میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ خالص بدنی عبادات، مثلاً نماز، روزہ اور تلاوت قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا، البتہ مالی عبادات، مثلاً صدقہ، یا مالی و بدنی مرکب عبادات، مثلاً حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے ، کیونکہ اصل یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے کے لیے نافع نہ ہو، مگر چونکہ احادیث صحیحہ کی رو سے صدقہ کا ثواب پہنچایا جا سکتا ہے اور حج بدل بھی کیا جا سکتا ہے ، اس لیے ہم اسی نوعیت کی عبادات تک ایصال ثواب کی صحت تسلیم کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے خواہ وہ نماز ہو یا روزہ یا تلاوت قرآن یا ذکر یا صدقہ یا حج و عمرہ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آدمی جس طرح مزدوری کر کے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میرے بجائے فلاں شخص کو دے دی جائے، اسی طرح وہ کوئی بیک عمل کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کر سکتا ہے کہ اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کر دیا جائے۔ اس میں بعض اقسام کی نیکیوں کو مستثنیٰ کرنے اور بعض دوسری اقسام کی نیکیوں تک اسے محدود رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ یہی بات بکثرت احادیث سے بھی ثابت ہے :

بخاری، مسلم، مسند احمد،ابن ماجہ، طبرانی (فی الاوسط) مستدرک اور ابن ابی تیبہ میں حضرت، عائشہ، حضرت ابو ہریرہ حضرت جابر بن عباد اللہ، حضرت ابورافع، حضرت ابو طلحہ انصاری، اور حذیفہ بن اُسید الغفاری کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو مینڈھے لے کر ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربان کیا اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے ۔

مسلم، بخاری، مسند احمد، ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کو موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لیے کہتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لیے ہے ؟ فرمایا ہاں۔

مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ہے کہ ان کے داد ا عاص بن وأمِل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی۔ ان کے چچا ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ ذبح کر دیے ۔ حضرت عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ میں کیا کروں۔ حضورؐ نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کر لیا تھا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھو یا صدقہ کرو، وہ ان کے لیے نافع ہو گا۔

مسند احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت حسن بصری کی روایت ہے کہ حضرت سعدؓبن عبادہ نے رسول اللہ صلی الیہ و سلم سے پوچھا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اسی مضمون کی متعدد دورے روایات بھی حضرت عائشہؓ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت بن عباسؓ سے بخاری، مسلم مسند احمد، نسائی ترمذی، ابوداؤد او ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے اور اسے میت کے لیے نافع بتایا ہے ۔

دار قطنی میں ہے کہ ایک شخص نے حضور سے عرض کیا میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا ہوں، ان کے مرنے کے بعد کیسے کروں؟ فرمایا’’ یہ بھی ان کی خدمت ہی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لیے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لیے بھی روزے رکھ‘‘۔ ایک دوسری روایت دارقطنی میں حضرت علیؓ سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نے فرمایا جس شخص کا قبرستان پر گزر ہو اور وہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کراس کا اجر مرنے والوں کو بخش دے تو جتنے مردے ہیں اتنا ہی اجر عطا کر دیا جائے گا۔

یہ کثیر روایات جو ایک دوسری کی تائید کر رہی ہیں، اس امر کی تصریح کرتی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے ، بلکہ ہر طرح کی عبادت اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ہو سکتا ہے اور اس میں کسی خاص نوعیت کے اعمال کی تخصیص نہیں ہے ۔مگر اس سلسلے میں چار باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں:

ایک یہ کہ ایصال اسی عمل کے ثواب کا ہو سکتا ہے جو خالصۃً اللہ کے لیے اور قواعد شریعت کے مطابق کیا گیا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کے لیے یا شریعت کے خلاف جو عمل کیا جائے اس پر خود عمل کرنے والے ہی کو کسی قسم کا ثواب نہیں مل سکتا، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی طرف منتقل ہو سکے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں صالحین کی حیثیت سے مہمان ہیں ان کو تو ثواب کا ہدیہ یقیناً پہنچے گا مگر جو وہاں مجرم کی حیثیت سے حوالات میں بند ہیں انہیں کوئی ثواب پہنچنا متوقع نہیں ہے ۔ اللہ کے مہمانوں کو ہدیہ تو پہنچ سکتا ہے ، مگر امید نہیں کہ اللہ کے مجرم کو تحفہ پہنچ سکے ۔اس کے لیے اگر کوئی شخص کسی غلط فہمی کی بنا پر ایصال ثواب کرے گا تو اس کا ثواب ضائع نہ ہو گا بلکہ مجرم کو پہنچنے کے بجائے اصل عامل ہی کی طرف پلٹ آئے گا۔ جیس مرنی آرڈر اگر مُرسل الیہ کو نہ پہنچے تو مرسل کو واپس مل جاتا ہے ۔

تیسری بات یہ ہے کہ ایصال ثواب تو ممکن ہے مگر ایصال عذاب ممکن نہیں ہے ۔ یعنی یہ تو ہو سکتا ہے کہ آدمی نیکی کر کے کسی دوسرے کے لیے اجر بخش دے اور وہ اس کو پہنچ جائے، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ آدمی گناہ کر کے اس کا عذاب کسی کو بخشے اور وہ اسے پہنچ جائے۔

اور چوتھی بات یہ ہے کہ نیک عمل کے دو فائدے ہیں۔ ایک اس کے وہ نتائج جو عمل کرنے والے کی اپنی روح اور اس کے اخلاق پر مترتب ہوتے ہیں اور جن کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں بھی جزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ دوسرے اس کا وہ اجر جو اللہ تعالیٰ بطور انعام اسے دیتا ہے ۔ ایصال ثواب کا تعلق پہلی چیز سے نہیں ہے بلکہ صرف دوسری چیز سے ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جسے ایک شخص ورزش کر کے کشتی کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سے جو طاقت اور مہارت اس میں پیدا ہوتی ہے وہ بہر حال اس کی ذات ہی کے لیے مخصوص ہے ۔ دوسرے کی طرف وہ منتقل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر وہ کسی دربار کا ملازم ہے اور پہلوان کی حیثیت سے اس کے لیے ایک تنخواہ مقرر ہے تو وہ بھی اسی کو ملے گی، کسی اور کو نہ سے دی جائے گی۔ البتہ جو انعامات اس کی کار کردگی پر خوش ہو کر اس کا سرپرست اسے دے اس کے حق میں وہ درخواست کر سکتا ہے کہ وہ اس کے استاد، یا ماں باپ، یا دوسرے محسنوں کو اس کی طرف سے دے دیے جائیں۔ ایسی ہی معاملہ عمال حسنہ کا ہے کہ ان کے روحانی فوائد قابل انتقال نہیں ہیں، اور ان کی  جزا بھی کسی کو منتقل نہیں ہو سکتی، مگر ان کے اجر و ثواب کے متعلق وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتا ہے کہ وہ اس کے کسی عزیز قریب یا اس کے کسی محسن کو عطا کر دیا جائے۔ اسی لیے اس کو ایصال جزا نہیں بلکہ ایصال ثواب کہا جاتا ہے ۔

(۲)۔ ایک شخص کی سعی کے کسی اور شخص کے لیے نافع ہونے کی دوسری شکل یہ ہے کہ آدمی یا تو دوسرے کی خواہش اور ایماء کی بنا پر اس کے لیے کوئی نیک عمل کرے ، یا اس کی خواہش اور ایماء کے بغیر اس کی طرف سے کوئی ایسا عمل کرے جو در اصل واجب تو اس کے ذمہ تھا مگر وہ خود اسے ادا نہ کر سکا۔ اس کے بارے میں فقہاء حنفیہ کہتے ہیں ک عبادات کی تین قسمیں ہیں۔ ایک خالص بدنی، جیسے نماز۔دوسری خلص مالی، جیسے زکوٰۃ۔ اور تیسری مالی و بدنی مرکب، جیسے حج۔ ان میں سے پہلی قسم میں نیابت نہیں چل سکتی، مثلاً ایک شخص کی طرف سے دوسرا شخص نیابۃً نماز نہیں پڑھ سکتا۔ دوسری قسم میں نیابت ہو سکتی ہے ، مثلاً بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر دے سکتا ہے ۔ تیسری قسم میں نیابت صرف اس حالت میں ہو سکتی ہے جب کہ اصل شخص جس کی طرف سے کوئی فعل کیا جا رہا ہے ، اپنا فریضہ خود ادا کرنے سے عارضی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر عاجز ہو، مثلاً حج بدل ایسے شخص کی طرف سے ہو سکتا ہے جو خود حج کے لیے جانے پر قادر نہ ہو اور نہ یہ امید ہو کہ وہ کبھی اس کے قابل ہو سکے گا۔ مالکہ اور شافیہ بھی اس کے قائل ہیں۔ البتہ امام مالک حج بدل کے لیے یہ شرط لگاتے ہیں کہ اگر باپ نے وصیت کی ہو کہ اس کا بیٹا اس کے بعد اس کی طرف سے حج کرے تو وہ حج بدل کر سکتا ہے ورنہ نہیں۔ مگر احادیث اس معاملہ میں بالکل صاف ہیں کہ باپ کا ایما یا وصیت ہو یا نہ ہو، بیٹا اس کی طرف سے حج بدل کر سکتا ہے ۔

ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ خُثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عرض کیا کہ میرے باپ کو فریضہ حج کا حکم ایسی حالت میں پہنچا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے ، اونٹ کی بیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا فحُجّی عنہ، ’’تو اس کی طرف سے تو حج کر لے ‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی،)۔ قریب قریب اسی مضمون کی روایت حضرت علیؓ نے بھی بیان کی ہے (احمد، ترمذی)۔

حضرت عبداللہؓ بن زبیر قبیلہ خثعم ہی کے ایک مرد کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے بھی اپنے بوڑھے باپ کے متعلق یہی سوال کیا تھا۔ حضورؐ نے پوچھا کیا تو اس کا سب سے بڑا لڑکا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا :ارایت لو کان علیٰ ابیک دین فقضیتہ عنہ اکان یھزی ذٰلک عنہ؟ ’’ تیرا کیا خیال ہے ، اگر تیرے باپ پر قرض ہو اور تو اس کو ادا کر دے تو وہ اس کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟‘‘ اس نے عرض کیا جی ہاں۔ فرمایا: فَاحْجُجْ عنہ۔ ’’بس اسی طرح تو اس کی طرف سے حج بھی کر لے ‘‘۔ (احمد۔ نسائی)۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ اس سے پہلے ہی مر گئی، اب کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا’’ تیری ماں پر اگر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہ کر سکتی تھی؟ اسی طرح تم لوگ اللہ کا حق بھی ادا کرو، اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ کیے ہوئے عہد پورے کیے جائیں‘‘ (بخاری۔ نسائی)۔ بخاری اور مسند احمد میں ایک دوسری روایت یہ ہے کہ ایک مرد نے آ کر اپنی بہن کے بارے میں وہی سوال کیا جو اوپر مذکور ہوا ہے اور حضورؐ نے اس کو بھی یہی جواب دیا۔

ان روایات سے مالی و بدنی مرکب عبادات میں نیابت کا واضح ثبوت ملتا ہے ۔ رہیں خالص بدنی عبادات تو بعض احادیث ایسی ہیں جن سے اس نوعیت کی عبادات میں بھی نیابت کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔ مثلاً ابن عباسؓ کی یہ روایت کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے حضورؐ سے پوچھا ’’ میری ماں نے روزے کی نذر مانی تھی اور وہ پوری کیے بغیر مر گئی، کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟‘‘ حضورؐ نے فرمایا ’’ اس کی طرف سے روزہ رکھ لے ‘‘ (بخاری، مسلم، احمد، نسائی۔ابوداؤد)۔ اور حضرت بریدہؓ کی یہ روایت کہ ایک عورت نے اپنی ماں کے متعلق پوچھا کہ اس کے ذمہ ایک مہینے (یا دوسری روایت کے مطابق دو مہینے ) کے روزے تھے ، کیا میں یہ روزے ادا کر دوں؟ آپ نے اس کو بھی اس کی اجازت دے دی (مسلم، احمد، ترمذی، ابوداؤد)۔ اور حضرت عائشہؓ کی روایت کہ حضورؐ نے فرمایا من مات و علیہ صیام صام عنہ ولیہ، ’’ جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اسکا ولی وہ روزے رکھ لے ‘‘(بخاری، مسلم،احمد۔ بذار کی روایت میں حضورؐ کے الفاظ یہ ہیں کہ فلیصم عنہ ولیہ ان شاء۔ یعنی اس کا علی اگر چاہے تو اس کی طرف سے یہ روزے رکھ لے )۔ انہی احادیث کی بنا پر اصحاب الحدیث اور امام اَوزاعی اور ظاہریہ اس کے قائل ہیں کہ بدنی عبادات میں بھی نیابت جائز ہے ۔ مگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام شافعی اور امام زید بن علی کا فتویٰ یہ ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہیں رکھا جا سکتا ہے جب کہ مرنے والے نے اس کی نذر مانی ہو اور وہ اسے پورا نہ کر سکا ہو۔ مانعین کا استدلال یہ ہے کہ جن احادیث سے اس کے جواز کا ثبوت ملتا ہے ان کے راویوں نے خود اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے ۔ ابن عباس کا فتویٰ نسائی نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ لا یصل احدعن احدٍ، ’’ کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے ‘‘۔ اور حضرت عائشہ کا فتویٰ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ لا تصو موا عن موتٰکم و اطعمو ا عنہم،‘‘ اپنے مردوں کی طرف سے روزہ نہ رکھو بلکہ کھانا کھلاؤ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بھی عبدالرزاق نے یہی بات نقل کی ہے کہ میت کی طرف سے روزہ نہ رکھا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداءً بدنی عبادات میں نیابت کی اجازت تھی، مگر آخری حکم یہی قرار پایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے ۔ ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ احادیث نقل کی ہیں وہ خود ان کے خلاف فتویٰ دیتے ۔

اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نیابۃً کسی فریضہ کی ادائیگی صرف ان ہی لوگوں کے حق میں مفید ہو سکتی ہے جو خود ادائے فرض کے خواہش مند ہوں اور معذوری کی وجہ سے قصر رہ گئے ہوں۔ لیکن اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود قصداً حج سے مجتنب رہا اور اس کے دل میں اس فرض کا احساس تک نہ تھا، اس کے لیے خواہ کتنے ہی حج بدل کیے جائیں، وہ اس کے حق میں مفید نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص نے کسی کا قرض جان بوجھ کر مار کھایا اور مرتے دم تک اس کا کوئی ارادہ قرض ادا کرنے کا نہ تھا۔ اس کی طرف سے خواہ بعد میں پائی پائی ادا کر دی جائے، اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ قرض مارنے والا ہی شمار ہو گا۔ دوسرے کے ادا کرنے سے سبکدوش صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو اپنی زندگی میں ادائے قرض کا خواہش مند ہو اور کسی مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر سکا ہو۔

۳۹۔ یعنی آخرت میں لوگوں کے عمال کی جانچ پڑتا ل ہو گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے ۔ یہ فقرہ چونکہ پہلے فقرے کے معاً بعد ارشاد ہوا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ پہلے فقرے کا تعلق آخرت کی جزا و سزا ہی سے ہے اور ان لوگوں کی بات صحیح نہیں ہے جو اسے اس دنیا کے لیے ایک معاشی اصول بنا کر پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا مطلب لینا صحیح نہیں ہو سکتا جو سیاق و سباق کے بھی خلاف ہو، اور قرآن کی دوسری تصریحات سے بھی متصادم ہو۔

۴۰۔ یعنی خوشی اور غم، دونوں کے اسباب اسی کی طرف  سے ہیں۔ اچھی اور بری قسمت کا سر رشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ کسی کو اگر راحت و مسرت نصیب ہوئی ہے تو اسی کے دینے سے ہوئی ہے ۔اور کسی کو مصائب و آلام سے سابقہ پیش آیا ہے تو اسی کی مشیت سے پیش آیا ہے ۔ کوئی دوسری ہستی اس کائنات میں ایسی نہیں ہے جو قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے میں کسی قسم کا دخل رکھتی ہو۔

۴۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الروم، حواشی ۲۷تا ۳۰۔ جلد چہارم،الشوریٰ، حاشیہ ۷۷۔

۴۲۔ اوپر کی دونوں آیتوں کے ساتھ ملا کر اس آیت کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ترتیب کلام سے خودبخود حیات بعد الموت کی دلیل بھی برآمد ہو رہی ہے ۔ جو خدا موت دینے اور زندگی بخشنے پر قدرت رکھتا ہے ۔اور جو خدا نطفے کی حقیر سی بوند سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے ، بلکہ ایک ہی مادہ تخلیق و طریق پیدائش عورت اور مرد کی دو الگ صنفیں پیدا کر دکھاتا ہے ، اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ دشوار  نہیں ہے ۔

۴۳۔ اصل میں لفظ اَقْنیٰ  استعمال ہوا ہے جس کے مختلف معنی اہل لغت اور مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے اس کے ء معنی اَرْضیٰ (راضی کر دیا) بتائے ہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس سے اس کے عنی قَنَّعَ (مطمئن کر دیا ) نقل کیے ہیں۔امام رازی کہتے ہیں کہ آدمی کی حاجت سے زیادہ جو کچھ بھی اس کو دیا جائے وہ اِقناء ہے ۔ ابو عبیدہ اور دوسرے متعدد اہل لغت کو قول ہے کہ اَقْنیٰ قُنْیَۃٌ سے مشتق  ہے جس کے معنی ہیں باقی اور محفوظ رہنے والا مال، جیسے مکان، اراضی، باغات، مواشی وغیرہ۔ ان سب سے الگ مفہوم ابن زید بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اَقْنیٰ یہاں اَفْقَرَ (فقیر کر دیا) کے معنی میں ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس نے جس کو چاہا غنی کیا اور جسے چاہا فقیر کر دیا۔

۴۴۔ شَعْیٰ آسمان کا روشن ترین تارا ہے جسے مِرْزم الجرزاء، الکلب الاکبر، الکلب الجبار، الشعری العبور وغیرہ ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ انگریزی میں اس کو Sirius اور   Dog Star  اورCanis Majoris  کہتے ہیں۔ یہ سورج سے ۲۳ گنا زیادہ روشن ہے ، مگر زمین سے اس کا فاصلہ آٹھ سال نوری سے بھی زیادہ ہے اس لیے یہ سورج سے چھوٹا اور کم روشن نظر آتا ہے ۔ اہل مصر اس کی پرستش کرتے تھے ،کیونکہ اس کے طلوع کے زمانے میں نیل کا فَیضان شروع ہوتا تھا، اس لیے وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسی کے طلوع کا فَیضان ہے ۔ جاہلیت میں اہل عرب کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ یہ ستارہ لوگوں کی قسمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر یہ عرب کے معبودوں میں شامل تھا، اور خاص طور پر قریش کا ہمسایہ قبیلہ خُزَاعَہ اس کی پرستش کے لیے مشہور تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشا کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری قسمتیں شعریٰ نہیں بناتا بلکہ اس کا رب بناتا ہے ۔

۴۵۔ عاد اُولیٰ سے مراد ہے قدیم قوم عاد جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے ۔ یہ قوم جب حضرت ہودؑ کو جھٹلانے کی پاداش میں مبتلائے عذاب ہوئی تو صرف وہ لوگ باقی بچے جو ان پر ایمان لائے تھے ۔ ان کی نسل کو تاریخ میں عاد اُخریٰ کا عاد ثانیہ کہتے ہیں۔

۴۶۔ اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور ’’ چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا‘‘ سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے ۔

۴۷۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ فقرہ بھی صحف ابراہیم اور صحف موسیٰ کی عبادت کا ایک حصہ ہے ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ فَغَشّٰھَا مَا غَشّیٰ پر وہ عبارت ختم ہو گئی، یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے ۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے پہلا قول ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ بعد کی یہ عبارت کہ ’’ یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ‘‘، اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہاس سے پہلے کی تمام عبارت پچھلی تنبیہات میں سے ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کے صحیفوں میں ارشاد ہوئی تھیں۔

۴۸۔ اصل میں لفظ تَتَمَاریٰ استعمال ہوا ہے جس کے معنی شک کرنے کے بھی ہیں اور جھگڑنے کے بھی خطاب ہر سامع سے ہے ۔ جو شخص بھی اس کلام کو سن  رہا ہو اس کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں پیغمبروں سے جھگڑا کرنے کا جو انجام انسانی تاریخ میں ہو چکا ہے ، کیا اس کے بعد بھی تو اسی حماقت کا ارتکاب کرے گا؟ پچھلی قوموں نے یہی تو شک کیا تھا کہ جن نعمتوں سے ہم اس دنیا میں مستفید ہو رہے ہیں یہ خدائے واحد کی نعمتیں ہیں، یا کوئی اور بھی ان کے مہیا کرنے میں شریک ہے ، یا یہ کسی کی فراہم کی ہوئی نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ فراہم ہو گئی ہیں۔ اسی شک کی بنا پر انہوں نے انبیاء علیہم السلام سے جھگڑا کیا تھا۔ انبیاء ان سے کہتے تھے کہ یہ ساری نعمتیں تمہیں خدا نے ، اور اکیلے ایک ہی خدا نے عطا کی ہیں، اس لیے اسی کا تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اسی کی تم کو بندگی بجا لانی چاہیے ۔ مگر وہ لوگ اس کو نہیں مانتے تھے اور اسی بات پر انبیاء سے جھگڑتے تھے ۔ اب کیا تجھے تاریخ میں یہ نظر نہیں آتا کہ یہ قومیں اپنے اس شک اور اس جھگڑے کا کیا انجام دیکھ چکی ہیں؟ کیا تو بھی وہی شک اور وہی جھگڑا کرے گا جو دوسروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو چکا ہے ؟

اس سلسلے میں یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ عاد اور ثمود اور قوم نوح کے لوگ حضرت ابراہیمؑ سے پہلے گزر چکے تھے اور قوم لوط خود حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں مبتلائے عذاب ہوئی تھی۔ اس لیے اس عبرت کے صحف ابراہیم کا ایک حصہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

۴۹۔ اصل الفاظ ہیں ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِالْاُوْلیٰ۔ اس فقرے کی تفسیر میں مفسرین کے تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ نذیر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس سے مراد قرآن ہے ۔ تیسرے یہ کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کا انجام ہے جس کا مال اوپر کی آیات میں بیان  فرمایا گیا ہے ۔ سیاق کلام کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ تیسری تفسیر قابل ترجیح ہے ۔

۵۰۔ عینی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا  تاخیر فیصلہ کر ڈالیں۔ نہیں، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے ۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے ، ار قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے ۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے۔

۵۱۔ یعنی فیصلے کی گھڑی جب آ جائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے ۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے ، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے ۔

۵۲۔ اصل میں لفظ ھٰذَالْحَدِیْث  استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا  کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟

۵۳۔ یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ۔

۵۴۔ اصل میں لفظ سَا مِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْ طَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا، کانو ایمرون علی النبی صلی اللہ علیہ و سلم غضابا مبرطمین۔ یعنی سُمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں، کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے جب گزر تے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں، اور اسی معنی کے لحاظ سے سایدُون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے مہرضون بیان کیا ہے ۔

۵۵۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس آیت پر سجدہ کرنا لازم ہے ۔ امام مالک اگر چہ خود اس کی تلاوت کر کے سجدے کا التزام فرماتے تھے (جیسا کہ قاضی ابو بکر ابن العربی نے احکام القرآن میں نقل کیا ہے ) مگر ان کا مسلک یہ تھا کہ یہاں سجدہ کرنا لازم نہیں ہے ۔ ان کی اس رائے کی بنا حضرت زید بن ثابت کی یہ روایت ہے کہ ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے سورہ نجم پڑھی اور حضور نے سجدہ نہ کیا‘‘(بخاری، مسلم، احمد، ترمذی،ابوداؤد،نسائی، )۔ لیکن یہ حدیث اس آیت پر سجدہ لازم ہونے کی نفی نہیں کرتے ، کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ حجور نے اس وقت کسی وجہ سے سجدہ نہ فرمایا ہو اور بعد میں  کر لیا ہو۔ دوسری روایات اس بابا میں صریح ہیں کہ اس آیت پر التزاماً سجدہ کیا گیا ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،ابن عباسؓ اور مطلبؓ بن ابی وداعہ کی متفق علیہ روایات یہ ہیں کہ حضورؐ نے جب پہلی مرتبہ حرم میں یہ سورت تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلم و کافر سب سجدے میں گر گئے(بخاری، احمد، نسائی، ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ حجور نے نماز میں سورہ نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور دیر تک سجدے میں پڑے رہے (بیہقی، ابن مردویہ) سبرۃ الجہنی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فجر کی نماز میں سورہ نجم پڑھ کر سجدہ کیا اور پھر اٹھ کر سورہ زلزال پڑھی اور رکوع کیا (سعید بن منصور)۔ خود امام مالک نے بھی مؤطا، باب ماجاء فی سجود القرآن میں حضرت عمر کا یہ  فعل نقل کیا ہے ۔