تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ القَلَم

(سورۃ القلم ۔ سورہ نمبر ۶۸ ۔ تعداد آیات ۵۲)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔      نٓ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو اس سے وہ لکھتے ہیں

۲۔۔۔     آپ (اے پیغمبر!) اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہیں

۳۔۔۔     اور بلاشبہ آپ کے لئے ایسا عظیم الشان اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں

۴۔۔۔     اور بلاشبہ آپ اخلاق کے بہت بڑے مرتبے پر ہیں

۵۔۔۔     پس عنقریب آپ بھی خود دیکھ لیں گے اور یہ لوگ بھی خود دیکھ لیں گے

۶۔۔۔     کہ تم میں سے جنوں کس کو ہے

۷۔۔۔     بلاشبہ آپ کا رب خوب جانتا ہے اس کو بھی جو کہ بھٹک گیا اس کی راہ سے اور وہی خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو

۸۔۔۔     پس کبھی کہا نہیں ماننا ان جھٹلانے والوں کا

۹۔۔۔     یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے ہو جائیں پھر یہ بھی ڈھیلے پڑھ جائیں

۱۰۔۔۔     اور نہ ہی کبھی کہا ماننا کسی ایسے (بد بخت) کا جو بہت قسمیں کھانے والا گھٹیا انسان ہو

۱۱۔۔۔     جو طعنے دینے والا چغل خور ہو

۱۲۔۔۔     جو روکنے والا ہو خیر سے حد سے بڑھنے والا بڑا بدکار ہو

۱۳۔۔۔     جو جفا کار اور اس سب کے علاوہ وہ بد اصل بھی ہو

۱۴۔۔۔     (اور وہ بھی محض اس لئے ) کہ وہ مال اور اولاد والا ہے

۱۵۔۔۔     جب اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیتیں تو کہتا ہے کہ یہ تو کہانیاں ہیں اگلے لوگوں کی

۱۶۔۔۔     ہم عنقریب ہی ایک نشان لگا دیں گے اس کی سونڈ پر

۱۷۔۔۔     بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کو بھی (اسی طرح) آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح کہ ہم نے (ان سے پہلے ) باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا جب کہ انہوں نے باہم قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم ضرور بالضرور پھل توڑ کر رہیں گے اپنے باغ کے صبح ہوتے (اور پوہ پھٹتے ) ہی

۱۸۔۔۔     اور انہوں نے (اپنے گھمنڈ اور وثوق کے بل بوتے پر) انشاء اللہ بھی نہیں کہا تھا

۱۹۔۔۔     پھر (کیا تھا) رات کو ہی پھیرا لگا لیا تمہارے رب کی طرف سے ایک آفت نے جب کہ یہ لوگ سوئے پڑے تھے

۲۰۔۔۔     جس سے وہ باغ (ختم ہو کر) ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی

۲۱۔۔۔     ادھر صبح ہونے پر یہ ایک دوسرے کو پکارنے لگے

۲۲۔۔۔     کہ (اٹھو) چلو اپنی کھیتی کی طرف اگر واقعی تم نے (حسب قرارداد) پھل توڑنا ہے

۲۳۔۔۔     سو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جا رہے تھے

۲۴۔۔۔     کہ (خبردار!) آج اس باغ میں تمہارے پاس پہنچنے نہ پائے کوئی مسکین

۲۵۔۔۔     اور (اس کے مطابق) وہ صبح سویرے ہی کچھ نہ دینے کا فیصلہ کئے ہوئے اس طرح چل دیئے جیسا کہ وہ اس پر پوری طرح قادر ہیں

۲۶۔۔۔     مگر جب انہوں نے (وہاں پہنچ کر) اپنے باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو بالکل ہی کہیں راستہ بھول گئے ہیں

۲۷۔۔۔     نہیں بلکہ ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی ہے

۲۸۔۔۔     اس وقت بولا وہ شخص جو ان میں سب سے بہتر (اور صائب رائے والا) تھا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ کیوں تسبیح نہیں کرتے (اپنی اس بدنیتی کو چھوڑ کر)

۲۹۔۔۔     اس پر وہ سب پکار اٹھے کہ پاک ہے ہمارا رب بلاشبہ ہم ظالم تھے

۳۰۔۔۔     پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم ملامت کرنے لگے

۳۱۔۔۔     (پھر) سب کہنے لگے ہائے ہماری کم بختی ہم سب ہی (حد سے نکلنے والے اور) سرکش تھے

۳۲۔۔۔     (اب سب مل کر توبہ کرو کہ) شاید ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بھی کوئی بہتر باغ دے دے اب ہم پوری طرح اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

۳۳۔۔۔     اسی طرح ہوتا ہے عذاب (خداوندی) اور آخرت کا عذاب تو یقینی طور پر اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ لوگ جان لیتے

۳۴۔۔۔     بلاشبہ پرہیزگار لوگوں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں ہیں

۳۵۔۔۔     تو کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کر دیں گے ؟

۳۶۔۔۔     تمہیں کیا ہو گیا تم لوگ کیسا فیصلہ کرتے ہو؟

۳۷۔۔۔     کیا تمہارے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

۳۸۔۔۔     کہ تمہیں آخرت میں وہی کچھ ملے گا جو تم خود پسند کرتے ہو؟

۳۹۔۔۔     یا تمہارے لئے ہمارے ذمے کوئی ایسی قسمیں ہیں قیامت تک پہنچنے والی (اس مضمون کی) کہ بلاشبہ کہ تمہیں ضرور وہی کچھ ملے گا جس کا فیصلہ تم کرتے ہو؟

۴۰۔۔۔     ذرا ان سے یہ تو پوچھو کہ ان میں سے کون ذمہ دار ہے اس کا؟

۴۱۔۔۔     یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ایسے ہیں (جنہوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی ہو) سو ایسا ہے تو پھر یہ لے آئیں اپنے ان (خود ساختہ) شریکوں کو اگر یہ لوگ سچے ہیں

۴۲۔۔۔     (اور یاد رکھنے کے لائق ہے وہ دن کہ) جس دن تجلی فرمائی جائے گی ساق کی اور بلایا جائے گا ان لوگوں کو سجدے کی طرف تو (اس روز) یہ لوگ سجدہ نہیں کر سکیں گے

۴۳۔۔۔     (اور اس روز ان کا حال یہ ہو گا کہ) جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں اور چھا رہی ہو گی ان پر ذلت (و رسوائی) اور (یہ اس لئے کہ دنیا میں ) ان کو سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (مگر یہ انکار کرتے تھے ) جب کہ یہ صحیح و سالم ہوتے تھے

۴۴۔۔۔     پس چھوڑ دو تم مجھے اور ان لوگوں کو جو جھٹلاتے ہیں اس کلام (برحق) کو ہم ان کو آہستہ آہستہ (اور کشاں کشاں ) لئے جا رہے ہیں (ان کی ہلاکت اور آخری انجام کی طرف) اس طرح کہ ان کو خبر بھی نہیں

۴۵۔۔۔     اور میں ان کو ڈھیل دیئے جا رہا ہوں بلاشبہ میری چال بڑی ہی سخت ہے

۴۶۔۔۔     تو کیا آپ ان سے کوئی اجر مانگ رہے ہیں کہ یہ لوگ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے چلے جا رہے ہیں ؟

۴۷۔۔۔     کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ خود لکھ لیتے ہیں ؟

۴۸۔۔۔     پس آپ صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم (و فیصلہ) تک اور نہیں ہو جانا مچھلی والے کی طرح (جس کا وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے ) کہ جب اس نے پکارا (اپنے رب کو) اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا

۴۹۔۔۔     (اور) اگر دستگیری نہ کی ہوتی اس کی اس کے رب کی (عنایت و) مہربانی نے تو یقیناً اس کو پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں بڑی بدحالی کے ساتھ

۵۰۔۔۔     مگر اس کو چن لیا اس کے رب نے (مزید عنایات کے ساتھ) اور شامل فرما دیا اس کو (اپنے قرب خاص کے ) سزاواروں میں

۵۱۔۔۔     اور کافر لوگ جب اس ذکر (قرآن) کو سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسا کہ اکھاڑ دیں گے یہ لوگ آپ کے قدم اپنی (ٹیڑھی ترچھی) نگاہوں سے اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو پکا دیوانہ ہے

۵۲۔۔۔     حالانکہ یہ (قرآن) تو محض ایک عظیم الشان نصیحت ہے سب جہان والوں کے لئے

تفسیر

 

۷۔۔۔   اس لئے وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ ذلت کے مستحق ہمیشہ آرام و راحت اور ٹھاٹھ و عیش سے رہیں اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے کہ عزت و سرفرازی کے اہل اور حقیقی حقدار و سزاوار ہمیشہ ظالموں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہیں یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں۔ بلکہ یہ ایک علیم و خبیر خالق حکیم کی پیدا کی ہوئی پُر حکمت کائنات ہے جو اسی کے حکم و ارشاد اور مشیت و قدرت کے مطابق چل رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسا روز عدل و جزاء بپا کرے جس میں ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔ اور وہی ہے قیامت کا یوم عدل و حساب جس نے اپنے وقت پر بہر حال واقع ہو کر رہنا ہے اور بالکل اسی طرح جس طرح آج کے بعد آنے والے کل کا آنا یقینی اور قطعی ہے کہ پس آپ اپنے اسی رب پر بھروسہ رکھو۔ وہ کبھی نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ نہیں فرمائے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ۔

۱۴۔۔۔   اس سے ایسے بدکردار لوگوں کے فساد اور بگاڑ کے اصل سبب کی نشاندہی فرما دی گئی ہے اور یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ ان کے اندر یہ برا کردار کیوں پیدا ہوا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لئے کہ یہ لوگ مال و اولاد والے ہو گئے۔ سو حضرت واہب مطلق جل جلالہٗ نے ان کو مال اور اولاد کی جن نعمتوں سے نوازا تھا ان کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ یہ لوگ صدق دل سے اپنے اس خالق و مالک کے آگے جھک جاتے، اور اس کے بخشے ہوئے مال و دولت کو اس کی رضا جوئی کے لئے صرف کرتے، اور اس کے نتیجے میں یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوتے مگر انہوں نے اس کے برعکس کبر و غرور اور ناشکری کی راہ کو اپنایا۔ اور انہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کر کے ان نعمتوں کو اپنے لئے خسران مبین کا ذریعہ بنایا۔ والعیاذُ باللہ، سو اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو رضا حق کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ شر و فساد کا حضرت واہب مطلق اپنے بندوں کو طرح طرح کی نعمتیں اسی لئے بخشتا ہے کہ وہ دیکھے کہ کیا بندہ ان نعمتوں کو پا کر اس کا شکر گزار بنتا ہے یا کبر و غرور میں مبتلا ہو کر شیطان کا ساتھی بنتا ہے؟ العیاذ باللہ العظیم۔

۱۶۔۔۔   سو اس سے ان لوگوں کے کبر و غرور کے نتیجہ و انجام کو ظاہر فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کو جب اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں کہ یہ ان سے سبق لیں۔ اور راہ حق و ہدایت کو اپنا کر اپنے ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ تو یہ لوگ ان کو سن کر اپنانے اور اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے الٹا اپنے متکبرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے اور ان کی کہانیاں ہیں ہمارے دور اور ہمارے حالات سے ان کا کیا تعلق؟ اور اس طرح یہ اپنی سیاہ بختی کو مزید پکا اور گہرا کرتے ہیں اور ان کو اس کا کوئی احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح یہ کیسے ہولناک انجام کی طرف بڑھے جا رہے ہیں۔ پس استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ محرومیوں کی محرومی ہے سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر شخص کی سونڈ پر ہم عنقریب ہی داغ لگائیں گے پس جو کوئی اپنی ناک کو اونچا رکھنے کے جنون میں اس حد تک مبتلا ہو جائے کہ واضح سے واضح حق کو جھٹلانے میں بھی کوئی عار اور شرم محسوس نہ کرے۔ اس کی ناک ناک نہیں رہتی بلکہ وہ جانور کی سونڈ بن جاتی ہے سو ایسوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب ہی ہم ایسے شخص کی سونڈ پر ذلت کا داغ لگائیں گے جس کو سب دیکھیں گے اور سب کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی ناک بڑھانے کے جنون میں اور اپنے استکبار کی بناء پر حق سے اعراض و انکار برتا تھا سو الجزاءُ من جنس العمل یعنی جزاء عمل کے مطابق اور اسی کی جنس سے ہوتی ہے کے اصول کی بناء پر ایسا شخص ایسے ہی ذلت آمیز اور ہولناک عذاب کا مستحق ہو گا۔ والعیاذ باللہ جل و علا،

۳۳۔۔۔   سو جو لوگ اپنے دنیاوی عیش و عشرت میں مست ومگن اور اپنے انجام و آخرت سے نچنت و بے فکر ہیں، اور وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ان پر عذاب کہاں سے اور کیسے آئے گا، تو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کا عذاب اسی طرح آتا ہے، یعنی ایسے اور وہاں سے آتا ہے جہاں سے انکو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر اسی پر بس نہیں۔ بلکہ ایسے منکر اور سرکش لوگوں کے لئے اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بڑا ہی سخت اور انتہائی ہولناک ہو گا والعیاذ باللہ جل و علا

۳۵۔۔۔   استفہام یہاں پر انکاری ہے یعنی نہیں ایسے نہیں ہو سکتا کہ فرمانبردار اور مجرم دونوں قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک برابر ہو جائیں کہ ایسا ہونا اس وحدہٗ لاشریک کی شان عدل و انصاف، اور اس کی رحمت و عنایت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہونا مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حضرت خالق حکیم سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک نیکوکار و بد کا وفادار، غدار اور و بے ایمان ایماندار دونوں یکساں اور ایک برابر ہیں، اور یہ چیز ظاہر ہے کہ نہ ہے، اور نہ ہو سکتی ہے کہ یہ اس وحدہٗ لاشریک کی تمام اعلیٰ صفات کے خلاف اور ان کے تقاضوں کے منافی ہے۔ لہٰذا ایسا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے کہ فرمانبردار اور مجرم ایک برابر ہو جائیں، کہ یہ بات بالبداہت عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔

۳۶۔۔۔  یعنی تم لوگ جو اس طرح کے فیصلے کرتے ہو آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا؟ کہ تم ایسے فیصلے کرتے ہو، جو بداہت عقل و فطرت کے خلاف ہیں؟ یعنی تم لوگ جو آخرت کے یوم حساب کے منکر ہو، اور تم جزاء و سزا کو نہیں مانتے، اور تمہارے نزدیک اگر زندگی یہی دنیاوی زندگی ہے، اور بس جو یونہی چلتی رہے گی کبھی ختم نہیں ہو گی، یا یہ کہ یہ یونہی بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو جائے گی نہ کسی نیکوکار کو اس کی نیکیوں کا کوئی صلہ و بدلہ ملے، اور نہ کسی بدکار کو اس کی بدکاری کی کوئی سزا ملے، تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حضرت خالق حکیم سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک نیک و بد اور نیکی اور بدی دونوں ایک برابر ہیں۔ حالانکہ یہ بات حضرت خالق حکیم کی صفت عدل و قسط اور اس کی رحمت و عنایت کے یکسر منافی ہے۔ تو پھر یہ کس طرح اور کیونکر ممکن ہو سکتا ہے؟ سو تم لوگ سوچو کہ تمہارا یہ فیصلہ عقل و فطرت سے کتنا بعید اور کس قدر احمقانہ، بلکہ ظالمانہ نہ ہے؟ پس ایسا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے اور حضرت خالق حکیم سبحانہ و تعالیٰ کی شان ایسے تمام تصورات سے پاک اور ان سے علیٰ و بالا ہے لہٰذا وہ لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں جو آخرت کے یوم حساب کو بھلا کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیا کے لئے جی رہے ہیں والعیاذ باللہ العظیم، پس آخرت کے یوم حساب نے بہر حال آ کر اور واقع ہو کر رہنا ہے، تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ مل سکے، اور بھر پور طریقے سے اور بدرجہ تمام و کمال مل سکے، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکے، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکے، کیونکہ اس دنیا میں ایسے نہ ہوتا ہے، اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک تو یہ دنیا اپنی اصل کے اعتبار سے دارالجزاء ہے ہی نہیں، بلکہ یہ دارالعمل اور دارلابتلاء ہے، اور دوسرے اس لئے کہ اس میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ اس میں کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ مل سکے، بلکہ یہ آخرت کے اس جہاں ہی میں ہو سکتا ہے جس کی وسعتیں نا پیدا کنار ہیں، پس آخرت کے اس یوم جزاء وسزا کو اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ ہمیشہ نظر رکھنا ہی تقاضاء عقل و نقل ہے، و باللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید، وعلی مایُحِبُّ و یرید،

۴۵۔۔۔   اور اتنی سخت کہ ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں کہ یہ اس کے پھندے میں پھنستے جا رہے ہیں، سو یہ لوگ استدراج کے اس جال کے اندر ہیں جس سے نکلنے اور چھٹکارا پانے کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں، اور ان کو ڈھیل دی جا رہی ہے تاکہ یہ اپنی جولانیاں دکھا لیں، اور اپنا پورا زور صرف کر لیں۔ اور ان کی رسی دراز کرنے میں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں کہ یہ لوگ کہیں اس قادرِ مطلق کے قابو سے نکل جائیں گے۔ کہ اس کے دائرہ قدرت سے نکلنے کا کسی کے لئے کوئی امکان نہیں سبحانہ و تعالیٰ۔ پس وہ جب چاہے، اور جیسے چاہے ان کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے، اس لئے ایسے لوگوں کو اس کے امہال اور اس کی ڈھیل سے غفلت میں پڑنے، اور لاپرواہی برتنے کے بجائے اپنی روش کی اصلاح کر لینی چاہیے قبل اس سے کہ تلافی و تدارک کی یہ فرصت ان کے ہاتھ سے نکل جائے، اور ان کو ہمیشہ کے لئے بھگتان بھگتنا پڑے، اور سچے دل سے توبہ و استغفار، اور اس کی طرف رجوع کرنے سے وہ رب غفور و رحیم انسان کی گزشتہ تمام کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف کر کے اس کو اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے، کیونکہ جس طرح اس کی پکڑ اور گرفت بڑی سخت ہے، اسی طرح اس کی رحمت و عنایت بھی بڑی وسیع ہے، جیسا کہ اس بارے اس کا صاف و صریح طور پر ارشاد و اعلان ہے، نَبِئْ عِبَادِیْ اَنِّیْ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ، وَاَنَّ عَذَابِیْ ہُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ (الحجر۴٩۔۵٠) یعنی میرے بندوں کو خبر کر دو کہ بلاشبہ میں بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان بھی ہوں، اور یقیناً میرا عذاب بھی بڑا ہی دردناک عذاب ہے، والعیاذباللہ

۴۶۔۔۔   یعنی یہ لوگ جو دعوت حق سے اس طرح منہ موڑتے اور قرآن حکیم سے اعراض و روگردانی برتتے ہیں، تو آخر کیوں؟ اس میں آخر ان کا حرج اور نقصان کیا ہے؟ ان کے اس اعراض و روگردانی کا سبب اور باعث کیا ہے؟ کیا آپ ان سے کوئی اجر اور بدلہ مانگتے ہیں کہ یہ اس کے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہیں؟ جب ایسا نہیں اور یقیناً نہیں۔ نہ آپ ان سے کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی یہ کوئی اجر اور بدلہ دے ہی سکتے ہیں تو پھر یہ اس سے منہ کیوں موڑے ہوئے ہیں؟ فَمَالَہُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَo کَاَنَّہُمْ حُمْرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ (المدثر ۴٩۔۵٠) یعنی ان کو کیا ہو گیا کہ یہ اس عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی سے منہ موڑے ہوئے ہیں گویا کہ یہ وحشی گدھے ہیں جو بھاگ کھڑے ہوئے ہوں کسی شیر کی آمد سے۔ سو اس ارشاد میں جہاں ایک طرف منکرین کی محرومی و بدبختی اور ان کی ناشکری پر اظہار ملامت و افسوس ہے وہیں دوسری طرف اس میں پیغمبر کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان بھی ہے کہ آپ ان سے کسی طرح کا کوئی اجر اور صلہ و بدلہ نہیں مانگتے۔ بلکہ آپ اس آسمانی دولت کو جو کہ سب سے بڑی اور عظیم الشان و بے مثال دولت ہے۔ مفت لٹا رہے ہیں۔ تاکہ خود ان کا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہ اپنے رب کے یہاں سرخرو ہو سکیں۔ سو یہ اگر اس کے باوجود اس سے منہ موڑتے اور اعراض و روگردانی برتتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس ہولناک دن کو پہنچ کر رہیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ تب سب کچھ ان کے سامنے واضح ہو جائے گا، اور یہ اپنے کئے کرائے کا نتیجہ و انجام خود دیکھ لینگے، اور ان کو اصل حقیقت کا پوری طرح پتہ لگ جائے گا، سو یہ معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے آخری جواب ہے کہ ان کو انکے انجام کے حوالے کر دیا جائے، والعیاذ باللہ العظیم

۵۲۔۔۔   سو اس سے منکرین و مکذبین کے اعراض و روگردانی اور ان کی بے قدری و ناشکری کی تصویر پیش فرما دی گئی، کہ یہ لوگ آپ کو اے پیغمبر! اس طرح گھور گھور کر اور ایسی ٹیڑھی اور تیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا کہ اس طرح یہ آپ کو آپ کے مقام سے پھسلا دیں گے۔ اور یہ جوش غضب میں کہتے ہیں کہ یہ شخص تو پکا دیوانہ ہے۔ سو آپ اس سب کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے رہیں کہ آپ بہر حال اور قطعی طور پر راہ حق پر ہیں۔ اور یہ قرآن جو آپ ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں، یہ ایک عظیم الشان اور بے مثال نصیحت و یاد دہانی ہے سب جہانوں کے لئے انہوں نے اگر اس کی قدر نہ پہچانی اور اس سے منہ موڑے ہی رہے تو انہوں نے آخرکار سخت پچھتاتا ہے مگر بے وقت کے اس پچھتاوے کا ان کو کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہو گا، سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے، والعیاذ باللہ العظیم وبہٰذا القدر نکتفی من التفسیر المختصرلسورۃ القلم و الحمد للہ جل و علا۔