تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الطّارق

(سورۃ الطارق ۔ سورہ نمبر ۸۶ ۔ تعداد آیات ۱۷)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     قسم ہے آسمان کی اور رات کو آنے والے کی

۲۔۔۔     اور تم کیا جانو کیا ہے وہ رات کو آنے والا؟

۳۔۔۔     وہ چمکتا ہوا ستارہ ہے

۴۔۔۔     کوئی جان ایسی نہیں جس پر ایک نگہبان مقرر نہ ہو

۵۔۔۔     پس انسان کو اسی میں غور کر لینا چاہے کہ وہ خود کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟

۶۔۔۔     اس کو ایک ایسے اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

۷۔۔۔     جو نکلتا ہے (انسان کی) پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے

۸۔۔۔     بلاشبہ وہ اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی پوری طرح قادر ہے

۹۔۔۔     جس دن جانچ پڑتال کی جائے گی چھپی باتوں کی

۱۰۔۔۔     پھر انسان کو (اپنے بچاؤ کے لیے ) نہ تو خود اپنی کوئی طاقت ہو گی اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا مددگار ہو گا

۱۱۔۔۔     قسم ہے آسمان کی جو کہ بارش برساتا ہے

۱۲۔۔۔     اور قسم ہے زمین کی جو کہ پھٹ جاتی ہے

۱۳۔۔۔     بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک فیصلہ کن کلام ہے

۱۴۔۔۔     اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے

۱۵۔۔۔     (مگر پھر بھی) یہ لوگ (اس کے خلاف) طرح طرح کی چا لیں چل رہے ہیں

۱۶۔۔۔     اور میں اپنی چال چل رہا ہوں

۱۷۔۔۔     پس چھوڑ دو ان کافروں کو (ان کے حال پر) اور مہلت دے دو ان کو تھوڑی سی مہلت

تفسیر

 

۴۔۔۔     یہاں پر حافظ یعنی نگہبان سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے جس کی عنایت اور اس کی حفاظت و نگرانی ہی سے اس کائنات کی ہر چیز موجود اور باقی ہے، ہر چیز کا وجود بھی اسی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمرہ ہے، اور اس کی بقاء بھی اسی کے کرم و احسان سے وابستہ ہے، کوئی بھی چیز اس کی عنایت و ایجاد کے بغیر نہ از خود وجود میں آ سکتی ہے، اور نہ ہی اس کی رحمت و عنایت کے بغیر باقی رہ سکتی ہے۔ وہی ذات اقدس و اعلیٰ جب تک چاہے گی وہ چیز باقی رہے گی کیونکہ اس نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور اس کی حد مقرر فرما رکھی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے اس طرح ارشاد فرمایا گیا قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (الطلاق۔۳) اور النجم کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے مفرد ہے لیکن یہاں اس سے مراد جنس ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ(النحل۔۱۶) اور اس کے ساتھ ثاقب کی صفت لگا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ اس سے مراد وہی ستارے ہیں جن کی روشنی از خود ہم تک پہنچتی ہے اور ان کو دیکھنے کے لئے ہمیں ترقی یافتہ دوربینوں کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بلکہ ہر دیکھنے والا ان کو یونہی دیکھ سکتا ہے اور ان سے وہ سبق حاصل کر سکتا ہے جو قرآن یہاں پر دینا چاہتا ہے سو یہاں پر آسمان اور اس کی تاریکی میں نمودار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھا کر اس حقیقت کو واضح اور مبرہن فرمایا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں جس پر ایک نگہبان موجود نہ ہو۔ سو آسمان میں چمکتے دمکتے اور جھلمل جھلمل کرتے یہ بیحد حساب ستارے روزانہ رات کی تاریکی میں نمودار ہو کر اپنی زبان حال سے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنی زبان حال سے کہتا ہے کہ ایک قادر مطلق اور حکیم مطلق ہستی ایسی ہے جس نے اسے بنایا۔ روشن کیا اور اس کو اسطرح معلق کر دیا اور اسی کی حفاظت و نگرانی سے اس کا وجود اس طرح قائم اور باقی ہے۔ نہ وہ اپنی جگہ سے گرتا ہے۔ اور نہ ہی ان بیحد وحساب ستاروں میں سے کوئی کسی دوسرے ستارے سے ٹکراتا ہے سو وہی قادر مطلق، اور حکیم مطلق رب ذوالجلال ہے جس کی رحمت و عنایت اور نگہبانی و حفاظت سے ہر چیز حیطہ عدم سے نکل کر معرض وجود و شہود پر آئی ہے، اور اسی کے کرم و احسان سے باقی ہے پس اس سے غفلت و لا پرواہی برتنا جہاں بہت بڑی بے انصافی اور ناشکری ہے، وہیں یہ ہلاکت و تباہی کا باعث بھی ہے و العیاذُ  باللہ۔ اَللّٰہُمَّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْنَا اِلیٰ مَافِیْہِ حُبُّکَ وَالرِّضَا بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحوال، وَفِی کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ المواطن فی الحیاۃ، وَفی کُلّ لَحظۃٍ مِّنَ اللحظات۔

۱۷۔۔۔  اس میں منکرین کے انتہائی ہولناک انجام کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا۔ اور پیغمبر کے لئے تسلی وتسکین کے سامان کی طرف بھی سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کو تھوڑی سے مہلت دے دو، یعنی جب یہ اللہ تعالیٰ کے گھیرے میں ہیں تو ان کے بارے میں کچھ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ اس کے احاطے اور گھیرے سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں۔ پس آپ ان کو تھوڑی سی ڈھیل اور دے دو۔ یعنی ان کے طعنوں اور ان کے مطالبات سے تنگ آ کر یہ تمنا نہ کرنا کہ اب ان کو کوئی نشانی عذاب دکھا ہی دی جائے۔ یا سرے سے ان کا قصہ ہی تمام کر دیا جائے۔ اور اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا کے جملے سے اس امر کی وضاحت فرما دی گئی کہ ان لوگوں کے لئے یہ ڈھیل کسی غیر محدود مدت کے لئے نہیں بلکہ یہ تھوڑی سی مدت ہی کے لئے ہے پس ان کی رسی کو ذرہ سا دراز کر دیا جائے۔ تاکہ یہ اپنے ارمان پورے کر لیں۔ آخرکار ان کو اپنے آخری انجام سے دوچار ہونا ہی ہے یہاں پر انداز کلام کا یہ پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ اس میں ڈھیل دینے کی ہدایت پیغمبر کو فرمائی جا رہی ہے۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اب ان لوگوں کی قسمت کی باگ خداوند قدوس نے پیغمبر ہی کے ہاتھ میں دے دی ہے، البتہ وہ پسند یہ فرماتا ہے کہ پیغمبر ان کے عذاب کے لئے جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ ان کو ذرا سی ڈھیل اور دے دیں۔ کیونکہ ان منکرین و مکذبین نے اپنے آخری اور ہولناک انجام کو بہر حال پہنچ کر رہنا ہے۔ وَالعیاذُباللّٰہ العظیم بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاحوال۔