اخلاقِ حسنہ

جناب عرفان خلیلی صاحب (صفی پوری)

آپﷺ بہت سخی تھے

نبی اکرمﷺ  سخاوت کے دریا تھے۔ سوال کرنے والے کو خالی ہاتھ واپس کرنا آپﷺ جانتے ہی نہ تھے۔ اگر اس وقت آپﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو آئندہ اُسے دینے کا وعدہ فرما لیتے۔

 

    ایک روز عصر کی نماز پڑھ کر معمول کے خلاف آپﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور پھر فوراً واپس بھی آ گئے۔ صحابہ کو بہت تعجب ہوا۔ آپﷺ نے ان کی حیرت کو دور کرنے کے لیے فرمایا "کچھ سونا گھر میں پڑا رہ گیا تھا۔ رات ہونے کو آئی اس لیے اُسے خیرات کر دینے کو کہنے گیا تھا۔"

 

    ایک بار بحرین سے خراج آیا۔ اس میں اتنی زیادہ رقم تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ حضورﷺ نے مسجد کے صحن میں بیٹھ کر تقسیم کرنا شروع کر دی۔ شام ہونے سے پہلے ہی آپﷺ دامن جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

    آپﷺ کے پاس کوئی بھی کھانے پینے کی چیز آتی، آپﷺ اسے تنہا نہیں کھاتے بلکہ تمام صحابہ کو جو وہاں موجود ہوتے اس میں شریک فرما لیتے تھے۔ 

٭٭٭