اخلاقِ حسنہ

جناب عرفان خلیلی صاحب (صفی پوری)

آپﷺ ایثار کے عادی تھے

سخاوت کا سب سے اونچا درجہ ایثار کہلاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی ضرورت روک کر دوسرے کی ضرورت پوری کر دینا۔ خود بھوکا رہے اور دوسروں کو کھلائے، خود تکلیف اٹھائے اور دوسروں کو آرام پہنچانے کی کوشش کرے، اس سے آپس کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اللہ بھی خوش ہوتا ہے۔

    رسولﷺ  کی مبارک زندگی اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ایک دفعہ ایک مسلمان عورت نے اپنے ہاتھ سے ایک چادر بُن کر حضورﷺ کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کی۔ اس وقت آپﷺ کو چادر کی سخت    ضرورت تھی۔ آپﷺ نے اس تحفہ کو قبول فرما لیا۔ اسی وقت ایک صحابی نے عرض کیا "یا رسول اللہ ! یہ چادر تو بہت خوبصورت ہے، مجھے عنایت فرما دیں تو بڑا اچھا ہو۔" پیارے نبیﷺ  نے ایثار سے کام لیا اور فوراً وہ چادر ان صحابی کو دے دی حالانکہ آپ کو خود ضرورت تھی مگر آپ نے ان کی ضرورت کو مقدم سمجھا۔

 

    ایسی ہی مثالیں ہمارے لئے اندھیرے کا چراغ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

٭٭٭