اخلاقِ حسنہ

محمد رفیع مفتی

والدین سے حسن سلوک

والدین سے حسن سلوک کا حکم

(٣٢)۔ عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاء َ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِی قَالَ: أُمُّك، قَالَ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ۔ (بخاری،رقم٥٩٧١)، (مسلم، رقم ٦٥٠١)

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے۔ آپ نے فرمایا: تمھاری ماں، اس نے کہا پھر کون ہے آپ نے فرمایا: پھر تمھاری ماں، اس نے کہا پھر کون ہے آپ نے فرمایا: پھر تمھاری ماں، اس نے کہا پھر کون ہے آپ نے فرمایا: پھر تمھارا باپ۔''

 

(٣٣)۔ قَالَ (عبدُاللهِ)۔ سَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَیُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ: الصَّلَاةُ عَلَی وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ: الْجِهَادُ فِی سَبِيلِ اللَّهِ۔ (بخاری، رقم٥٢٧)۔، (مسلم، رقم٢٥٢)

''عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا، پوچھا اس کے بعد، آپ نے فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، پھر پوچھا اس کے بعد، آپ نے فرمایا:اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔''

 

(٣٤)۔ عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ کِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلْ الْجَنّة۔ (مسلم، رقم ٦٥١٠)

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس شخص کے لیے ذلت ہے، اُس شخص کے لیے ذلت ہے، اُس شخص کے لیے ذلت ہے۔لوگوں نے پوچھا: کس کے لیے،یا رسول اللہ؟ آپ نے فرمایا: جس کے ماں باپ یا اُن میں سے کوئی ایک اُس کے پاس بڑھاپے کو پہنچا اور وہ اِس کے باوجود (اُن کی خدمت کر کے)۔ جنت میں داخل نہ ہو سکا۔

 

(٣٥)۔ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ جَاء َ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِی الْجِهَادِ فَقَالَ: أَحَیٌّ وَالِدَاك قَالَ نَعَمْ قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ۔ (بخاری، رقم ٣٠٠٤)

''عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے جہاد کی اجازت چاہی۔ آپ نے پوچھا: تمھارے والدین زندہ ہیں ؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: پھر اُن کی خدمت میں رہو، یہی جہاد ہے۔''

 

(٣٦)۔ عَنْ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ فَقَالَ: هَلْ لكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ قَالَ أَبَوَایَ قَالَ: أَذِنَا لك قَالَ لَا قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا۔ (ابو داؤد، رقم٢٥٣٠)

''ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یمن کے لوگوں میں سے ایک شخص (جہاد کی غرض سے)۔ ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے پوچھا : یمن میں کوئی عزیز ہے؟ عرض کیا: میرے ماں باپ ہیں۔ فرمایا: اُنھوں نے اجازت دی ہے؟ عرض کیا:نہیں۔ فرمایا: جاؤ اور اُن سے اجازت لو، اگر دیں تو جہاد کرو، ورنہ اُن کی خدمت کرتے رہو۔''

 

(٣٧)۔ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهمَةَ السَّلَمِیِّ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاء َ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيركَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ: فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا۔ (نسائی،رقم ٣١٠٦)

''معاویہ اپنے باپ جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ، جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے پوچھا: تمھاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: تو اُس کی خدمت میں رہو، اِس لیے کہ جنت اُس کے پاؤں کے نیچے ہے۔''

 

(٣٨)۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رِضَی الرَّبِّ فِی رِضَی الْوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِی سَخَطِ الْوَالِدِ۔ (ترمذی،رقم ١٨٩٩)

''عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پروردگار کی خوشی باپ کی خوشی میں اور اُس کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔''

 

توضیح:

اِن احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح کیا ہے کہ انسان کے لیے اُس کے والدین کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے، چنانچہ فرمایا :

١۔ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ جہاد جیسے عظیم عمل سے بھی افضل ہے، لہذا، اگر انھیں اولاد سے خدمت کی ضرورت ہے تو پھر انھیں تنہا چھوڑ کر جہاد پر چلے جانا صحیح نہیں ہے۔

 

٢۔ انسان اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرکے آسانی سے جنت حاصل کر سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایکبڑھاپے کی حالت میں اُس کے پاس موجود ہو اور وہ ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہیں کرتا تو وہ یقیناً بد نصیب ہے۔

 

٣۔ حسن سلوک کے حوالے سے ماں کا درجہ باپ سے تین گنا ہے۔

 

٤۔ انسان کی جنت اس کی ماں کے قدموں تلے ہے۔

 

٥۔ اللہ کی خوشی باپ کی خوشی میں اور اُس کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔

 

والدین سے حسن سلوک کا صلہ

(٣٩)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَاء ِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ لِیَ امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّی تَأْمُرُنِی بِطَلَاقِهَا قَالَ أَبُو الدَّرْدَاء ِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ احْفَظْهُ۔ (ترمذی، رقم ١٩٠٠)

''ابو دردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: باپ جنت کا وسطی دروازہ ہے، خواہ تو اسے ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کرے۔''

 

توضیح:

یہاں باپ سے مراد والدین ہیں۔ فرمایا کہ یہ جنت کا وسطییعنی بہترین دروازہ ہیں، انسان ان کی خدمت کرکے نہایت آسانی سے جنت کا اعلیٰ درجہ حاصل کر سکتا ہے۔ چنانچہ یہ بات خود اُس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ابدی زندگی سنوارنے کے لیے کیا کرتا ہے اور کیا نہیں کرتا۔

 

والدین کا حق

(٤٠)۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عمروٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِی مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِی يَحْتَاجُ مَالِی قَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَکُمْ مِنْ أَطْيَبِ کَسْبِکُمْ فَکُلُوا مِنْ کَسْبِ أَوْلَادِکُمْ۔ (ابوداؤد، رقم ٣٥٣٠)

''عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول میرے پاس مال بھی ہے اور اولاد بھی اور میرے باپ کو میرے مال کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے باپ ہی کا ہے۔ (اے لوگو)۔ بے شک تمھاری اولاد تمھاری پاکیزہ کمائی ہے، چنانچہ (تمھارے لیےیہ جائز ہے کہ)۔ تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔''

 

توضیح:

انسان کی اولاد اُس کی کمائی ہے۔ چنانچہ والدین اُن کی کمائی میں سے اپنی ضروریات کے بقدر بلا جھجک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اپنی اولاد کا مال ان کے لیے کسی غیر کا مال نہیں ہوتا۔