اخلاقِ حسنہ

جناب عرفان خلیلی صاحب (صفی پوری)

آپﷺ بڑے بہادر تھے

انتہائی نرم دل اور رحم دل ہونے کے باوجود نبی اکرمﷺ بہت ہی نڈر اور بہادر تھے۔ اللہ کے ڈر کے سوا اور کسی کا خوف آپﷺ کے دل میں نہ تھا۔ انتہائی بے خوفی کے ساتھ آپ مقابلے کے لیے نکل آتے تھے۔

 

    ایک مرتبہ رات کے وقت مدینہ منورہ میں کچھ شور ہوا۔ مدینہ والے گھبرا گئے۔ سمجھے کہ قریشِ مکہ نے اچانک حملہ کر دیا ہے۔ کسی کو ہمت ہی نہ ہوئی کہ باہر نکل کر حالات معلوم کرے، آخر کار کچھ لوگوں نے ہمت کر کے باہر جانے کا ارادہ کیا۔ مگر دیکھتے کیا ہیں کہ رسول اللہﷺ  تن تنہا واپس تشریف لا رہے ہیں اور سب کو تسلی دیتے جاتے ہیں کہ "گھبراؤ نہیں، میں مدینہ سے باہر جا کر دیکھ آیا ہوں، کوئی اندیشہ کی بات نہیں ہے۔"

 

    غزوہ حنین میں جب مشرکین نے چاروں طرف سے گھیراؤ کر لیا تھا تو ناقہ سے اتر کر آپﷺ نے حملہ آوروں کا جس بہادری سے مقابلہ کیا تھا اسے دیکھ کر صحابہ دنگ رہ گئے تھے۔

 

    مشرکین عرب کا مشہور پہلوان رکانہ جب اسلام قبول کرنے کی یہ شرط رکھتا ہے کہ "محمدﷺ کشتی میں مجھے پچھاڑ دیں گے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔" تو دیکھنے والی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ ایک دو بار نہیں بلکہ مسلسل 3 دفعہ آپﷺ نے اس کو شکست دی۔ آخر کار رُکانہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ 

٭٭٭