اخلاقِ حسنہ

تحریر تحقیق و تخریج : ڈاکٹر مقبول احمد مکی

سخاوتِ مصطفیٰ ﷺ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ النَّبِيُّ ﷺ اَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ، وَکَانَ اَجْوَدَ مَا یَکُوْنُ فِيْ رَمَضَانَ حِیْنَ یَلْقَاہُ جِبْرِیْلُ ، وَکَانَ جِبْرِیْلُ یَلْقَاہُ کُلَّ لَیْلَۃٍ فِيْ رَمَضَانَ؛ حَتّٰی یَنْسَلِخَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِیَہٗ جِبْرِیْلُ کَانَ اَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (البخاري، الصوم باب اجود ما کان النبي ﷺ یکون في رمضان: ۱۹۰۲،مسلم: ۲۳۰۸ )

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ بھلائی کے کاموں میں نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے جب رمضان میں جبریل علیہ السلام آپﷺ کے پاس آتے تو آپ بہت زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ جبریلؑ آپ کے پاس رمضان کے آخر تک ہر رات تشریف لاتے تھے۔ جب جبریل آپ سے ملتے تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رضی اللہ عنہ قَالَ : مَا سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ شَیْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا۔  (بخاري:۶۰۳۴ ومسلم:۲۳۱۱ من حدیث سفیان الثوري بہ۔)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے جو چیز بھی مانگی گئی تو آپ ﷺ نے انکار نہیں کیا۔

عَنْ اَنَسٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِيَّ ﷺ کَانَ لَا یَدَّخِرُ شَیْئًا (ترمذي:۲۳۶۲ عن قتیبۃ بہ وقال : ’’غریب‘‘ وصححہ ابن حبان:۲۱۳۹)

سیدنا انس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کل کے لیے) کوئی چیز بچا کر نہیں رکھتے تھے۔

عَنْ اَنَسٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَسَاَلَہٗ فَاَعْطَاہُ غَنَمًا بَیْنَ جَبَلَیْنِ، فَاَتَی الرَّجُلُ قَوْمَہٗ فَقَالَ : اَسْلِمُوْا فَإِنَّ مُحَمَّدًا یُعْطِيْ عَطَاءَ رَجُلٍ مَا یَخَافُ فَاقَۃً۔(مسلم:۲۳۱۲ من حدیث حماد بن سلمۃ بہ۔[السنۃ :۳۶۹۱])

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر سوال کیا تو آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان (جتنی) بکریاں (تھیں ) اسے دے دیں۔  وہ شخص اپنی قوم کے پاس گیا تو کہا: لوگو! مسلمان ہو جاؤ۔ محمدﷺ اس طرح چیزیں دے دیتے ہیں کہ آپ کو فاقے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَیُثِیْبُ عَلَیْھَا۔

(بخاري:۲۵۸۵ عن حدیث عیسی بن یونس بہ )

سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہدیہ قبول کرتے اور اس کے برابر لوٹا دیتے تھے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ :(( وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ لَوْ اَنَّ عِنْدِيْ اُحُدًا ذَھَبًا لَاَحْبَبْتُ اَنْ لَّا یَاْتِيَ عَلَيَّ ثلَاَثُ لَیَالٍ وَ عِنْدِيْ مِنْہُ دِیْنَارٌ۔  اَجِدُ مَنْ یَّتَقَبَّلُہٗ مِنِّيْ؛ لَیْسَ شَيْئٌ اُرْصِدُہٗ فِیْ دَیْنٍ عَلَيَّ ))۔ (اخرجہ ھمام بن منبہ في صحیفتہ:۸۳،البخاري، التمني باب تمني الخیر: ۷۲۲۸ من حدیث عبدالرزاق بہ۔  [السنۃ ۱۶۵۳])

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ تین راتوں میں اس (سونے) میں سے ایک دینار بھی نہ بچے (اگر) اس کے لینے والے مل جائیں (تو میں انھیں دے دوں ) سوائے اس چیز کے جس سے میں اپنا قرض اتار سکوں۔

عَنْ اَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ اَنَّ نَاسًا مِنَ الْاَنْصَارِ سَاَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ ﷺ ، فَاَعْطَاھُمْ، ثُمَّ سَاَلُوْہُ فَاَعْطَاھُمْ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہٗ، قَالَ : (( مَا یَکُنْ عِنْدِيْ مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ اَدَّخِرَہٗ عَنْکُمْ، وَمَنْ یَّسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ یَّسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ، وَمَا اُعْطِيَ اَحَدٌ عَطَائً ھُوَ خَیْرٌ وَاَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ ))۔ (مالک فی الموطا(۲/۹۹۷ وروایۃ ابي مصعب:۲۱۰۷)البخاري:۴۶۹ ومسلم: ۱۰۵۳ )

سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے مانگا تو آپ نے انھیں دے دیا۔ پھر مانگا تو آپ نے دے دیا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا تو وہ میں تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا جو عفت اختیار کرے گا اللہ اسے عفت عطا کرے گا جو بے نیازی چاہے گا اللہ اسے بے نیاز بنا دے گا جو صبر کرے گا اللہ اسے صبر عطا فرمائے گا۔ کسی شخص کو صبر سے بہترین کوئی چیز بھی نہیں دی گئی۔