اخلاقِ حسنہ

جناب عرفان خلیلی صاحب (صفی پوری)

آپﷺ بیماروں کی عیادت کرتے تھے

رسولﷺ  جب بھی کسی کی بیماری کی خبر سنتے تو اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے جاتے، بڑے چھوٹے اور امیر و غریب میں کوئی فرق نہ کرتے۔

 

    آپﷺ مریض کے پاس تشریف لے جاتے، اس کے سرہانے بیٹھتے، سر اور نبض پر ہاتھ رکھتے، حال دریافت فرماتے، اُسے تسلی دیتے اور پھر صحت کے لئے 7 بار یہ دعا فرماتے:

 

    اسأل اللہ العظیم رب العرش العظیم ان یشفیک

 

    "میں بڑائی والے اللہ سے جو عرش عظیم کا رب ہے، سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے۔"

 

    حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھنا اور شور و غل نہ کرنا سنت ہے۔"

 

    نبی کریمﷺ  نے فرمایا "قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار پڑا اور تو نے میری عیادت نہیں کی؟ بندہ عرض کرےگا" پروردگار! آپ تو ساری کائنات کے رب ہیں، بھلا میں آپ کی عیادت کیسے کرتا؟"۔ اللہ تعالی فرمائے گا:

    "میرا فلاں بندہ بیمار پڑا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تو اس کی عیادت کو جاتا تو مجھے وہاں پاتا۔" (یعنیٰ تجھے میری خوشنودی اور رحمت حاصل ہوتی)۔۔ (مسلم) 

٭٭٭