تفسیر عثمانی

سُوۡرَةُ الهُمَزة

۱ ۔۔۔  یعنی اپنی خبر نہیں لیتا دوسروں کو حقیر سمجھ کر طعنے دیتا ہے اور ان کے واقعی یا غیر واقعی عیب چنتا رہتا ہے۔

۲  ۔۔۔    یعنی طعنہ زنی اور عیب جوئی کا منشاء تکبر اور تکبر کا سبب مال ہے جس کو مارے حرص کے ہر طرف سے سمیٹتا اور مارے بخل کے گن گن کر رکھتا ہے کہ کوئی پیسہ کہیں خرچ نہ ہو جائے یا نکل کر بھاگ نہ جائے۔ اکثر بخیل مالداروں کو دیکھا ہو گا کہ وہ بار بار روپیہ شمار کرتے اور حساب لگاتے رہتے ہیں ۔ اسی میں ان کو مزہ آتا ہے۔

۳ ۔۔۔        یعنی اس کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ مال کبھی اس سے جدا نہ ہو گا، بلکہ ہمیشہ اس کو آفاتِ ارضی و سماوی سے بچاتا رہے گا۔

 ۴ ۔۔۔  یعنی یہ خیال محض غلط ہے۔ مال تو قبر تک بھی ساتھ نہ جائے گا۔ آگے تو کیا کام آتا۔ سب دولت یونہی پڑی رہ جائے گی۔ اور اس بدبخت کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔

۷ ۔۔۔        یعنی یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں ، اللہ کی سلگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، بڑی سمجھدار ہے۔ دلوں کو جھانک لیتی ہے۔ جس دل میں ایمان ہو نہ جلائے، جس میں کفر ہو جلا ڈالے۔ اس کی سوزش بدن کو لگتے ہی فوراً دلوں تک نفوذ کر جائیگی۔ بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہو کر جسموں میں سرایت کرے گی۔ اور باوجودیکہ قلوب و ارواح جسموں کی طرح جلیں گے۔ اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آ کر اس عذاب کا خاتمہ کر دے۔ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہو گی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر و جوہ العذاب۔

۸ ۔۔۔  یعنی کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا۔ ہمیشہ اس میں پڑے جلتے رہیں گے۔

۹ ۔۔۔      یعنی آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی مانند بلند ہوں گے۔ یا یہ کہ دوزخیوں کو لمبے ستونوں سے باندھ کر خوب جکڑ دیا جائے گا کہ جلتے وقت ذرا حرکت نہ کر سکیں ۔ کیونکہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی عذاب میں کچھ برائے نام تخفیف ہو سکتی تھی۔ اور بعض نے کہا کہ دوزخ کے منہ کو لمبے لمبے ستون ڈال کر اوپر سے پاٹ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔