تفسیر عثمانی

سُوۡرَةُ الاٴنفَال

یہ سورہ مدنی ہے، جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ مکہ کی سیزدہ ۱۳ سالہ زندگی میں مشرکین نے جو دردناک اور ہوشربا مظالم مٹھی بھر مسلمانوں پر روا رکھے اور مظلوم مسلمانوں نے جس صبر واستقلال اور معجز نما استقامت و للہیت سے مسلسل تیرہ برس تک ان ہولناک مصائب و نوائب کا تحمل کیا، وہ دنیا کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔ قریش اور ان کے حامیوں نے کوئی صورت ظلم و ستم کی اٹھا کر نہ رکھی۔ تاہم مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے ان وحشی ظالموں کے مقابلہ میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔ صبر و تحمل کے امتحان کی آخری حد یہ تھی کہ مسلمان مقدس وطن، عزیز و اقارب، اہل و عیال، مال و دولت سب چیزوں کو خیر باد کہہ کر خالص خدا و رسول کی خوشنودی کا راستہ طے کرنے کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔ جب مشرکین کا ظلم و تکبر اور مسلمانوں کی مظلومیت و بے کسی حد سے گزر گئی۔ ادھر اہل ایمان کے قلوب وطن و قوم، زن و فرزند، مال و دولت غرض ہر ایک "ماسوی اللہ کے تعلق سے خالی اور پاک ہو کر محض خدا اور رسول کی محبت اور دولت توحید و اخلاص سے ایسے بھرپور ہو گئے کہ گویا غیر اللہ کی ان میں گنجائش ہی نہ رہی۔ تب ان مظلوموں کو جو تیرہ برس سے برابر کفار کے ہر قسم کے حملے سہہ رہے تھے اور وطن چھوڑنے پر بھی امن حاصل نہ کر سکے تھے، ظالموں سے لڑنے اور بدلہ لینے کی اجازت دی گئی۔ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِاَنَّہُمْ ُظلِمُوْا وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ نَصْرِھمْ لَقَدِیْرُ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِ ھمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا اَن یَّقُولُوا رَبُّنَا اللّٰہُ (الحج، رکوع۶، آیت:۳۹،۴۰) مکہ کا ادب مانع تھا کہ مسلمان ابتداء وہاں چڑھ کر جائیں اس لیے ہجرت کے بعد تقریباً ڈیڑھ سال تک لائحہ عمل یہ رہا کہ مشرکین "مکہ" کے تجارتی سلسلوں کو جو شام و یمن وغیرہ سے قائم تھے، شکست دے کر ظالموں کی اقتصادی حالت کمزور اور مسلمانوں کی مالی پوزیشن مضبوط کی جائے۔ ہجرت کے پہلے سال "ابواء" بواط، عشیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے غزوات و سرایا جن کی تفصیل کتب احادیث و سیر میں ہے، اسی سلسلہ میں وقوع پذیر ہوئے۔ ۳ ہجری میں آپ کو معلوم ہوا کہ ایک بھاری تجارتی مہم ابو سفیان کی سرکردگی میں شام کو روانہ ہوئی ہے۔ ابو سفیان کا یہ تجارتی قافلہ جس کے ساتھ تقریباً ساٹھ قریشی، ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار کا مال تھا، جب شام سے مکہ کو واپس ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر پہنچی، صحیح مسلم کی ایک روایت کے موافق آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ آیا اس جماعت سے تعرض کیا جائے، طبری کے بیان کے موافق بہت سے لوگوں نے اس مہم میں جانے سے پہلو تہی کی۔ کیونکہ انہیں کسی بڑی جنگ کا خطرہ نہ تھا جس کے لیے بڑا اجتماع و اہتمام کیا جائے۔ دوسرے "انصار" کی نسبت عموماً یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے نصرت و حمایت کا معاہدہ صرف اسی صورت میں کیا ہے کہ کوئی قوم مدینہ پر چڑھائی کرے یا آپ پر حملہ آور ہو۔ ابتداء اقدام کر کے جانا خواہ کسی صورت میں ہو، ان کے معاہدہ میں شامل نہ تھا۔ مجمع کا یہ رنگ دیکھ کر ابوبکر و عمر اور رئیس انصار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم نے حوصلہ افزاء تقریریں کیں۔ آخر حضور تین سو سے کچھ زائد آدمیوں کی جمیعت لے کر قافلہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ چونکہ کسی بڑے مسلح لشکر سے مڈ بھیڑ ہونے کی توقع نہ تھی۔ اس لیے روایت میں حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ "جو لوگ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ان پر کوئی عتاب نہیں ہوا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف تجارتی مہم کے ارادے سے نکلے تھے۔ اتفاقاً خدا نے باقاعدہ جنگ کی صورت پیدا فرما دی۔" ابو سفیان کو آپ کے ارادہ کا پتہ چل گیا۔ اس نے فوراً مکہ آدمی بھیجا۔ وہاں سے تقریباً ایک ہزار کا لشکر جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار تھے، پورے سازوسامان کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ حضور مقام صفراء میں تھے جب معلوم ہوا کہ ابوجہل وغیرہ بڑے بڑے أئمۃ الکفر کی کمانڈ میں مشرکین کا لشکر یلغار کرتا چلا آ رہا ہے اس غیر متوقع صورت کے پیش آ جانے پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اطلاع کی کہ اس وقت وہ جماعتیں تمہارے سامنے ہیں۔ تجارتی قافلہ اور فوجی لشکر، خدا کا وعدہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک پر تم کو مسلط کرے گا۔ تم بتلاؤ کہ کس جماعت کی طرف بڑھنا چاہتے ہو؟ چونکہ اس لشکر کے مقابلہ میں تیاری کر کے نہ آئے تھے اس لیے اپنی تعداد اور سامان وغیرہ کی قلت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کرنا زیادہ مفید اور آسان ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس رائے سے خوش نہ تھے۔ حضرت ابوبکر و عمر اور مقداد بن الاسود نے ولولہ انگیز جوابات دئیے اور اخیر میں حضرت سعد بن معاذ کی تقریر کے بعد یہ ہی فیصلہ ہوا کہ فوجی مہم کے مقابلہ پر جوہر شجاعت دکھلائے جائیں۔ چنانچہ مقام بدر میں دونوں فوجیں بھڑ گئیں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عنایت فرمائی۔ کافروں کے ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ستر قید ہوئے۔ اس طرح کفر کا زور ٹوٹا اس سورہ میں عموماً اسی واقعہ کے اجزاء و متعلقات کا بیان ہوا ہے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم شروع ہی سے فوجی لشکر کے مقابلہ میں نکلے تھے جو "مدینہ" پر از خود اقدام کرتا ہوا چلا آ رہا تھا، تجارتی قافلہ پر حملہ کرنے کی نیت آپ نے اول سے آخر تک کسی وقت نہیں کی۔ وہ فی الحقیقت اپنے ایک خود ساختہ اصول پر تمام ذخیرہ حدیث و سیر اور اشاراتِ قرآنیہ کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔ یہ منطق ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ کفار محاربین جن کی دست برد سے مسلمانوں کی جان و مال کوئی چیز نہ بچی اور نہ آئندہ بچنے کی توقع تھی، ان کو جانی و بدنی نقصان پہنچانا تو جائز سمجھا جائے لیکن تجارتی اور مالی نقصان پہنچانا خلاف تہذیب و انسانیت ہو یعنی ان کی جانیں تو ظلم و شرارت اور کفر و طغیان کی بدولت محفوظ نہیں ہیں مگر اموال بدستور محفوظ ہیں گویا زندگی کے حق سے محروم ہو جائیں تو ہو جائیں، پر سامانِ زندگی سے محروم نہ ہوں۔ اِنْ ہٰذَا اِلَّا شَیْءٌ عُجَابٌ باقی یہ دعویٰ کہ جو لوگ حملہ آور نہ ہوئے ہوں، ان پر مسلمانوں کو از خود حملہ کرنا جائز نہیں کیونکہ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ کے خلاف ہو گا۔ قطع نظر اس سے کہ یہ مسئلہ موجودہ واقعہ سے بے تعلق ہے، کیونکہ کفار مکہ پہلے ہر قسم کے مظالم اور حملے مسلمانوں پر کر چکے تھے اور آئندہ کے لیے باقاعدہ دھمکیاں دے رہے تھے بلکہ اس بارے میں ان کی سازشیں اور مراسلتیں جاری تھیں۔ فی نفسہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ آیت ابتدائے ہجرت میں اتری تھی جس کے بعد دوسری آیات جن میں مطلق قتال کا حکم ہے نازل ہوئیں۔ پھر یہ بھی قابل غور ہے کہ صرف اتنا کہنے سے کہ حملہ آوروں کی مدافعت کرو۔" یہ لازم نہیں آتا کہ کسی حالت میں حملہ کرنے کی اجازت نہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل میرے عزیز مولوی محمد یحییٰ سلمہٗ نے جو تحریر فوائد میں میرے معین ہیں اپنے رسالہ "الجہاد الکبیر" میں لکھی ہے اور احقر نے کچھ خلاصہ رسالہ "ا لشہاب" میں درج کیا ہے اور موقع بہ موقع فوائد میں بھی لکھا جائے گا۔ انشاء اللہ!

۴ ۔۔۔  "بدر" میں جو مالِ غنیمت ہاتھ آیا اس کے متعلق صحابہ میں نزاع تھی۔ نوجوان جو آگے بڑھ کر لڑے تھے وہ کل مالِ غنیمت کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ پرانے لوگ نوجوانوں کی پشت پر تھے، کا یہ کہنا تھا کہ ہمارے سہارا لگانے سے فتح ہوئی۔ لہٰذا غنیمت ہم کو ملنی چاہیے۔ ایک جماعت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی حفاظت کرتی رہی تھی وہ اپنے کو اس مال کا مستحق سمجھتی تھی۔ ان آیات میں بتلا دیا کہ فتح صرف اللہ کی مدد سے ہے کسی کا سہارا اور زور پیش نہیں جاتا سو مال کا مالک خدا ہے پیغمبر اس کے نائب ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت حکم دے، اسی کے موافق غنیمت تقسیم ہونی چاہیے (اس حکم کی تفصیل آگے آئے گی) پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ ہر معاملہ میں خدا سے ڈریں۔ آپس میں صلح و آشتی سے رہیں، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے نہ ڈالیں، اپنی آراء و جذبات سے قطع نظر کر کے محض خدا اور رسول کا حکم مانیں، جب خدا کا نام درمیان میں آ جائے ہیبت و خوف سے کانپ اٹھیں، آیات و احکامِ الٰہی سن کر ان کا ایمان و یقین زیادہ مضبوط ہوتا رہے۔ اس قدر مضبوط و قوی ہو جائے کہ ہر معاملہ میں ان کا اصلی بھروسہ اور اعتماد بجز خدا کے کسی پر باقی نہ رہے۔ اس کے سامنے سر عبودیت جھکائیں، اسی کے نام پر مال و دولت خرچ کریں۔ غرض عقیدہ، خلق، عمل اور مال ہر چیز سے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں رہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو سچا اور پکا ایماندار کہا جا سکتا ہے جو خدا کے یہاں اپنے اپنے درجہ کے موافق بڑے بڑے مقامات و مراتب قرب پر فائز ہوں گے۔ جنہیں معمولی کوتاہیوں سے درگزر کر کے عزت کی روزی سے سرفراز کیا جائے گا۔ رزقنا اللہ منہ بفضلہ ومنہ۔

۶ ۔۔۔  یعنی سوچو کہ اس جنگ (بدر) میں شروع سے آخر تک کس طرح حق تعالیٰ کی تحریک و تائید اور امداد اور توفیق مسلمانوں کے حق میں کارفرما رہی۔ خدا ہی تھا جو نصرتِ دین اسلام کے حق (سچے) وعدے کر کے اپنے نبی کو ایک امر حق یعنی کفار کے ساتھ جہاد کرانے کے لیے مدینہ سے باہر بدر کے میدان میں اس وقت لے آیا جبکہ ایک جماعت مسلمانوں کی لشکر قریش سے نبرد آزمائی کرنے پر راضی نہ تھی۔ یہ لوگ ایسی سچی اور طے شدہ چیز میں پس و پیش کر رہے اور حجتیں نکال رہے تھے جس کی نسبت بذریعہ پیغمبر انہیں ظاہر ہو چکا تھا وہ یقیناً خدا کی فرمائی ہوئی اٹل بات ہے (یعنی اسلام و پیرانِ اسلام کا بذریعہ جہاد غالب و منصور ہونا) ابوجہل کے لشکر سے مقابلہ کرنا ان کو اس قدر شاق اور گراں تھا جیسے کسی شخص کو آنکھوں دیکھتے موت کے منہ میں جانا مشکل ہے۔ تاہم خدا اپنی توفیق سے ان کو میدان جنگ میں لے گیا اور اپنی امداد سے مظفر و منصور واپس لایا۔ پس جیسے خدا ہی کی مدد سے ازل اول تا آخر یہ مہم سر ہوئی، مال غنیمت بھی اس کا سمجھنا چاہیے وہ اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے جہاں بتلائے وہاں خرچ کرو۔ (تنبیہ) کَمَا اَخْرَجَکَ الخ کے کاف، کو میں نے اپنی تقریر میں صرف تشبیہ کے لیے نہیں لیا، بلکہ ابو حیان کی تحقیق کے موافق معنی تعلیل پر مشتمل رکھا ہے جیسے وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدَأکُمْ میں علماء نے تصریح کی ہے اور اخرجک ربک من بیتک الیٰ آخر الآیات کے مضمون کو میں نے اَ لْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ کا ایک سبب قرار دیا ہے۔ ابو حیان کی طرح "اعزک اللہ" وغیرہ مقدر نہیں مانا۔ نیز تقریر آیت میں صاحب "روح المعانی" کی تصریح کے موافق اشارہ کر دیا ہے کہ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنم بَیْتِکَ میں صرف آنِ خروج من البیت مراد نہیں بلکہ خروج من البیت سے دخول فی الجہاد تک کا ممتد اور وسیع زمانہ مراد ہے جس میں "وَاِنَّ فَرِیْقاً مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکَارِھوْنَ یُجَادِلُوْنَکَ فِیْ الْحَقِّ" وغیرہ سب احوال کا وقوع ہوا۔ ایک فریق کی کراہیت تو عین خروج من المدینہ ہی کے وقت ظاہر ہو گی جسے ہم صحیح مسلم اور طبری کے حوالے سے سورۃ الانفال کے پہلے فائدہ میں بیان کر چکے ہیں اور مجادلہ کی صورت غالبًا آگے چل کر لشکر کی اطلاع ملنے پر مقام صفراء میں پیش آئی۔ اس کے سمجھ لینے سے بعض مبطلین کے مغالطات کا استیصال ہو جائے گا۔

۸ ۔۔۔  مسلمان چاہتے تھے کہ "تجارتی قافلہ" پر حملہ ہو، کہ کانٹا نہ چبھے اور بہت سا مال ہاتھ آ جائے لیکن خدا کی مرضی یہ تھی کہ اس چھوٹی سی بے سرو سامان جماعت کو کثیر التعداد اور مرتب و پر شوکت لشکر سے بھِڑا کر اپنی باتوں سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کفار مکہ کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ اس طرح اس کے وعدوں کی سچائی حیرت انگیز طریقہ پر ظاہر ہو کر سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ ہونا کفار کے علی الرغم صاف صاف آشکارا ہو جائے۔ چنانچہ یہ ہی ہوا۔ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے جن میں ابوجہل بھی تھا اور ستر ہی قید ہوئے۔ اس طرح کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین مکہ کی بنیادیں ہل گئیں۔ فللہ الحمد والمنہ۔

۱۰ ۔۔۔  اسی طرح کی آیت "آل عمران" پارہ "لن تنالوا" کے ربع پر گزر چکی ہے۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔ البتہ اس جگہ فرشتوں کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی تھی اگر واقعہ ایک ہے تو کہا جائے گا کہ اول ایک ہزار کا دستہ آیا ہو گا۔ پھر اس کے پیچھے دوسرے دستے آئے ہوں، جن کی تعداد تین سے پانچ ہزار تک پہنچی۔ شاید لفظ "مردِفین" میں اسی طرف اشارہ ہو۔

۱۱ ۔۔۔  "بدر کا معرکہ فی الحقیقت مسلمانوں کے لیے بہت ہی سخت آزمائش اور عظیم الشان امتحان کا موقع تھا۔ وہ تعداد میں تھوڑے تھے، بے سروسامان تھے، فوجی مقابلہ کے لیے تیار ہو کر نہ نکلے تھے، مقابلہ پر ان سے تگنی تعداد کا لشکر تھا۔ جو پورے سازو سامان سے کبرو غرور کے نشہ میں سرشار ہو کر نکلا تھا، مسلمانوں اور کافروں کی یہ پہلی ہی قابل ذکر ٹکر تھی، پھر صورت ایسی پیش آئی کہ کفار نے پہلے سے اچھی جگہ اور پانی وغیرہ پر قبضہ کر لیا مسلمان نشیب میں تھے، ریت بہت زیادہ تھی جس میں چلتے ہوئے پاؤں دھنستے تھے، گردو غبار نے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ پانی نہ ملنے سے ایک طرف غسل و وضوء کی تکلیف، دوسری طرف تشنگی ستا رہی تھی۔ یہ چیزیں دیکھ کر مسلمان ڈرے کہ بظاہر آثار شکست کے ہیں۔ شیطان نے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ اگر واقعی تم خدا کے مقبول بندے ہوتے تو ضرور تائید ایزدی تمہاری طرف ہوتی اور ایسی پریشان کن اور یاس انگیز صورت حال پیش نہ آتی۔ اس وقت حق تعالیٰ نے قدرت کاملہ سے زور کا مینہ برسایا جس سے میدان کی ریت جم گئی، غسل و وضوء کرنے اور پینے کے لیے پانی کی افراط ہو گئی، گرد وغبار سے نجات ملی۔ کفار کا لشکر جس جگہ تھا وہاں کیچڑ اور پھسلن سے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا۔ جب یہ ظاہری پریشانیاں دور ہوئیں تو حق تعالیٰ نے مسلمانوں پر ایک قسم کی غنودگی طاری کر دی۔ آنکھ کھلی تو دلوں سے سارا خوف و ہراس جاتا رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر صدیق رات بھر "عریش" میں مشغول دعا رہے۔ اخیر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر خفیف سی غنودگی طاری ہوئی، جب اس سے چونکے تو فرمایا خوش ہو جاؤ کہ جبرائیل تمہاری مدد کو آ رہے ہیں۔ عریش سے باہر تشریف لائے تو سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَالدُّبُرَ زبان مبارک پر جاری تھا۔ بہرحال اس بارانِ رحمت نے بدن کو احداث سے اور دلوں کو شیطان کے وساوس سے پاک کر دیا۔ اِدھر ریت کے جم جانے سے ظاہری طور پر قدم جم گئے اور اندر سے ڈر نکل کر دل مضبوط ہو گئے۔

۱۴ ۔۔۔  جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردارِ اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابوجہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ یہ واقعہ آگے آئے گا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو وسوسے ڈال کر خوفزدہ کر رہے ہیں تو تم مظلوم و ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔ ادھر تم ان کی ہمت بڑھاؤ گے اُدھر میں کفار کے دلوں میں دہشت اور رعب ڈال دوں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ ہو کر ان ظالموں کی گردنیں مارو اور پور پور کاٹ ڈالو۔ کیونکہ آج ان سب جنی و انسی کافروں نے مل کر خدا اور رسول سے مقابلہ کی ٹھہرائی ہے۔ سو انہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کے مخالفوں کو کیسی سخت سزا ملتی ہے۔ آخرت میں جو سزا ملے گی اصل تو وہ ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کا تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیں اور عذابِ الٰہی کا کچھ مزہ چکھ لیں۔ روایات میں ہے کہ بدر میں ملائکہ کو لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان کے مارے ہوئے کفار کو آدمیوں کے قتل کئے ہوئے کفار سے الگ شناخت کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے یہ ایک نمونہ دکھا دیا کہ اگر کبھی شیاطین الجن والانس ایسے غیر معمولی طور پر حق کے مقابل جمع ہو جائیں تو وہ اہل حق اور مقبول بندوں کو ایسے غیر معمولی طریقہ سے فرشتوں کی کمک پہنچا سکتا ہے۔ باقی ویسے تو فتح و غلبہ بلکہ ہر چھوٹا بڑا کام خدا ہی کی مشیت و قدرت سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ فرشتوں کی احتیاج ہے نہ آدمیوں کی، اور اگر فرشتوں ہی سے کوئی کام لے تو ان کو وہ طاقت بخشی ہے کہ تنہا ایک فرشتہ بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر پٹک سکتا ہے۔ یہاں تو عالم تکلیف و اسباب میں ذرا سی تنبیہ کے طور پر شیاطین کی غیر معمولی دوڑ دھوپ کا جواب دینا تھا اور بس۔

۱۵ ۔۔۔  رار من الزحف" (جہاد میں سے نکل کر بھاگنا اور لڑائی میں کفار کو پیٹھ دکھانا) بہت سخت گناہ اکبر الکبائر میں سے ہے اگر کافر تعداد میں مسلمانوں سے دگنے ہوں اس وقت تک فقہاء نے پیٹھ پھیرنے کی اجازت نہیں دی۔

۱۶ ۔۔۔  یعنی اگر پسپائی کسی جنگی مصلحت سے ہو، مثلاً پیچھے ہٹ کر حملہ کرنا زیادہ موثر ہے یا ایک جماعت سپاہیوں کی مرکزی فوج سے جدا ہو گئی وہ اپنے بچاؤ کے لیے پسپا ہو کر مرکز سے ملنا چاہتی ہے، تو ایسی پسپائی جرم نہیں۔ گناہ اس وقت ہے جبکہ پسپائی محض لڑائی سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے ہو۔

۱۷ ۔۔۔  جب جنگ کی شدت ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مٹھی کنکریاں لشکر کفار کی طرف پھینکیں اور تین مرتبہ شاہت الوجوہ فرمایا۔ خدا کی قدرت سے کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچے، وہ سب آنکھیں ملنے لگے اِدھر سے مسلمانوں نے فوراً دھاوا بول دیا۔ آخر بہت سے کفار کھیت رہے، اسی کو فرماتے ہیں کہ گو بظاہر کنکریاں تم نے اپنے ہاتھ سے۔ پھینکی تھیں لیکن کسی بشر کا یہ فعل عادۃً ایسا نہیں ہو سکتا کہ مٹھی بھر کنکریاں ہر سپاہی کی آنکھ میں پڑ کر ایک مسلح لشکر کی ہزیمت کا سبب بن جائیں، یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر سنگریزوں سے فوجوں کے منہ پھیر دئیے، تم بے سروسامان قلیل التعداد مسلمانوں میں اتنی قدرت کہاں تھی کہ محض تمہارے زورِ بازو سے کافروں کے ایسے ایسے مُنڈ مارے جاتے، یہ تو خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے ایسے متکبر سرکشوں کو فنا کے گھاٹ اتارا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بظاہر کام تمہارے ہاتھوں سے لیا گیا اور ان میں وہ فوق العادت قوت پیدا کر دی جسے تم اپنے کسب و اختیار سے حاصل نہ کر سکتے تھے، یہ اس لیے کیا گیا کہ خدا کی قدرت ظاہر ہو اور مسلمانوں پر پوری مہربانی اور خوب طرح احسان کیا جائے۔ بیشک خدا مومنین کی دعاء و فریاد کو سنتا اور ان کے افعال و احوال کو بخوبی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ مقبول بندوں پر کس وقت کس عنوان سے احسان کرنا مناسب ہے۔

۱۸ ۔۔۔ یعنی اس وقت بھی خدا نے کفارِ مکہ کے سب منصوبے خاک میں ملا دئیے اور آئندہ بھی ان کی تدبیروں کو سست کر دیا جائے گا۔

۱۹ ۔۔۔  یہ خطاب کفارِ مکہ کو ہے، وہ ہجرت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کرتے تھے مَتیٰ ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ یعنی ہمارے تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب ہو گا؟ سو پورا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا مگر ایک طرح کا فیصلہ آج میدان بدر میں بھی تم نے دیکھ لیا کہ کیسے خارق عادت طریق سے تم کو کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا ملی۔ اب اگر نبی علیہ السلام کی مخالفت اور کفر و شرک سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔ ورنہ اگر پھر اسی طرح لڑائی کرو گے تو ہم بھی پھر اسی طرح مسلمانوں کی مدد کریں گے اور انجام کار تم ذلیل و خوار ہو گے۔ جب خدا کی تائید مسلمانوں کے ساتھ ہے تو تمہارے جتھے اور جماعتیں خواہ کتنی ہی تعداد میں ہوں کچھ کام نہ آئیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل وغیرہ نے مکہ سے روانگی کے وقت کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خداوندا! دونوں فریق میں جو اعلیٰ و اکرام ہو اسے فتح دے اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر فقد جاءَ کم الفتح میں اس کا بھی جواب ہو گیا کہ جو واقعی "اعلیٰ و افضل" تھے، ان کو فتح مل گئی اور مفسد ذلیل و رسوا ہوئے۔

۲۰ ۔۔۔   پہلے فرمایا تھا کہ "اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے" اب ایمان والوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہہ ان کا معاملہ خدا اور رسول کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے؟ جس سے وہ خدا کی نصرت و حمایت کے مستحق ہوں۔ سو بتلا دیا کہ ایک مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ ہمہ تن خدا اور رسول کا فرمانبردار ہو۔ احوال و حوادث خواہ کتنا ہی اس کا منہ پھیرنا چاہیں مگر خدا کی باتوں کو جب وہ سن کر سمجھ چکا اور تسلیم کر چکا، تو قولاً و فعلاً کسی حال ان سے منہ نہ پھیرے۔

۲۱ ۔۔۔    یعنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سننا ہی کیا جو آدمی سیدھی سی بات کو سن کر سمجھے نہیں یا سمجھ کر قبول نہ کرے۔ پہلے یہودیوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا "سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا" (ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں) مشرکین مکہ کا قول آگے آتا ہے۔ "قَدْسَمِعْنَا لَوْنَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھذَا" یعنی جو قرآن آپ سناتے ہیں بس ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو اسی جیسا کلام بنا کر لے آئیں۔ مدینہ کے منافقین کا تو شیوہ یہ تھا کہ پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے سامنے زبانی اقرار کر گئے اور دل سے اسی طرح منکر رہے۔ بہرحال مومن صادق کی شان اور یہود اور مشرکین و منافقین کی طرح نہ ہونی چاہیے۔ اس کی شان یہ ہے کہ دل سے، زبان سے، عمل سے، حاضر و غائب احکام الٰہیہ اور فرامین نبویہ پر نثار ہوتا رہے۔

۲۲ ۔۔۔ جنہیں خدا نے بولنے کو زبان سننے کو کان اور سمجھنے کو دل و دماغ دیئے تھے پھر انہوں نے یہ سب قوتیں معطل کر دیں۔ نہ زبان سے حق بولنے اور حق کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔ غرض خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اس اصلی کام میں صرف نہ کیا۔ جس کے لیے فی الحقیقت عطا کی گئی تھیں۔ بلاشبہ ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

۲۳ ۔۔۔  یعنی اصل یہ ہے کہ ان لوگوں میں بھلائی کی جڑہی نہیں کیونکہ حقیقی بھلائی انسان کو اس وقت ملتی ہے جب اس کے دل میں طلب حق کی سچی تڑپ اور نور ہدایت قبول کرنے کی لیاقت ہو۔ جو قوم طلب حق کی روح سے یکسر خالی ہو چکی اور اس طرح خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کر چکی ہو، رفتہ رفتہ اس میں قبولِ حق کی لیاقت و استعداد بھی نہیں رہتی۔ اسی کو فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں قبولِ خیر و ہدایت کی لیاقت نہیں دیکھی۔ اگر ان میں کچھ بھی لیاقت دیکھتا تو اپنی عادت کے موافق ضرور ان کو اپنی آیتیں سنا کر سمجھا دیتا۔ باقی بحالت موجودہ اگر انہیں آیات سنا اور سمجھا دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی تسلیم اور قبول کرنے والے نہیں۔

۲۴ ۔۔۔  ۱: یعنی خدا اور رسول تم کو جس کام کی طرف دعوت دیتے ہیں (مثلاً جہاد وغیرہ) اس میں از سرتاپا تمہاری بھلائی ہے۔ ان کا دعوتی پیغام تمہارے لیے دنیا میں عزت و اطمینان کی زندگی اور آخرت میں حیاتِ ابدی کا پیغام ہے۔ پس مومنین کی شان یہ ہے کہ خدا اور رسول کی پکار پر فوراً لبیک کہیں۔ جس وقت اور جدھر وہ بلائیں سب اشغال چھوڑ کر ادھر ہی پہنچیں۔

۲: یعنی حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید تھوڑی دیر بعد دل ایسا نہ رہے اپنے دل پر آدمی کا قبضہ نہیں بلکہ دل خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جدھر چاہے پھیر دے۔ بیشک وہ اپنی رحمت سے کسی کا دل ابتداء نہیں روکتا نہ اس پر مہر کرتا ہے۔ ہاں جب بندہ امتثالِ احکام میں سستی اور کاہلی کرتا رہے تو اس کی جزاء میں روک دیتا ہے یا حق پرستی چھوڑ کر ضد وعناد کو شیوہ بنا لے تو مہر کر دیتا ہے۔ کذا فی الموضح بعض نے "یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ" کو بیان قرب کے لیے لیا ہے یعنی حق تعالیٰ بندہ سے اس قدر قریب ہے کہ اس کا دل بھی اتنا قریب نہیں "نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ"(ق، رکوع۳، آیت :۱۶) تو خدا کی حکم برداری سچے دل سے کرو۔ خدا تم سے بڑھ کر تمہارے دلوں کے احوال و سرائر پر مطلع ہے۔ خیانت اس کے آگے نہیں چل سکے گی۔ اسی کے پاس سب کو جمع ہونا ہے وہاں سارے مکنونات و سرائر کھول کر رکھ دیئے جائیں گے۔

۲۵ ۔۔۔  یعنی فرض کیجئے ایک قوم کے اکثر افراد نے ظلم و عصیان کا وتیرہ اختیار کر لیا، کچھ لوگ جو اس سے علیحدہ رہے انہوں نے مداہنت برتی، نہ نصیحت کی نہ اظہار نفرت کیا تو یہ فتنہ ہے جس کی لپیٹ میں وہ ظالم اور یہ خاموش مداہن سب آ جائیں گے۔ جب عذاب آئے گا تو حسب مراتب سب اس میں شامل ہوں گے کوئی نہ بچے گا۔ اس تفسیر کے موافق آیت سے مقصود یہ ہو گا کہ خدا و رسول کی حکم برداری کے لیے خود تیار رہو اور نا فرمانوں کو نصیحت و فہمائش کرو نہ مانیں تو بیزاری کا اظہار کرو۔ باقی حضرت شاہ صاحب نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ مسلمانوں کو ایسے فساد (گناہ) سے بالخصوص بچنا چاہیے جس کا خراب اثر گناہ کرنے والے کی ذات سے متعدی ہو کر دوسروں تک پہنچتا ہے۔ پہلے فرمایا تھا کہ خدا اور رسول کا حکم ماننے میں ادنیٰ تاخیر اور کاہلی نہ کرے کہیں دیر کرنے کی وجہ سے دل نہ ہٹ جائے۔ اب تنبیہ فرماتے ہیں کہ اگر نیک لوگ کاہلی کریں گے تو عام لوگ بالکل چھوڑ دیں گے تو رسمِ بد پھیلے گی۔ اس کا وبال سب پر پڑے گا۔ جیسے جنگ میں دلیر سستی کریں تو نامرد بھاگ ہی جائیں۔ پھر شکست پڑے تو دلیر بھی نہ تھام سکیں۔

۲۶ ۔۔۔   یعنی اپنی قلت و ضعف کو خیال کر کے خدا کا حکم (جہاد) ماننے میں سستی مت دکھلاؤ۔ دیکھو۔ ہجرت سے پہلے بلکہ اس کے بعد بھی تمہاری تعداد تھوڑی تھی، سامان بھی نہ تھا۔ تمہاری کمزوری کو دیکھ کر لوگوں کو طمع ہوئی تھی کہ تم کو ہضم کر جائیں۔ تمہیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا تھا کہ دشمنانِ اسلام کہیں نوچ کھسوٹ کر نہ لے جائیں۔ مگر خدا نے تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا، انصار و مہاجرین میں عدیم النظیر رشتہ مواخات قائم کر دیا۔ پھر معرکہ بدر میں کیسی کھلی ہوئی غیبی امداد پہنچائی۔ کفار کی جڑ کاٹ دی، تم کو فتح الگ دی، مالِ غنیمت اور فدیہ اساریٰ الگ دیا، غرض حلال طیب ستھری چیزیں اور انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اس کے شکر گزار بندے بنے رہو۔

۲۷ ۔۔۔    خدا و رسول کی خیانت یہ ہے کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔ زبان سے اپنے کو مسلمان کہیں اور کام کفار کے کریں یا جس کام پر خدا و رسول نے مامور کیا ہو اس میں دَغل فصَل کیا جائے۔ یا مالِ غنیمت میں چوری کی جائے۔ ونحو ذالک۔ بہرحال ان تمام امانتوں میں جو خدا اور رسول یا بندوں کی طرف سے تمہارے سپرد کی جائیں، خیانت سے بچو۔ اس میں ہر قسم کے حقوق العباد آ گئے۔ روایات میں ہے کہ یہود "بنی قریظہ" نے جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے صلح کی درخواست کی اور یہ کہ ان کے ساتھ وہ ہی معاملہ کیا جائے جو بنی النضیر کے ساتھ ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا۔ "نہیں، میں تم کو اتنا حق دیتا ہوں کہ سعد بن معاذ کو حکم بنا لو، جو فیصلہ وہ تمہاری نسبت کر دیں وہ منظور ہونا چاہیے انہوں نے حضرت ابولبابہ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت لے کر اپنے یہاں بلایا اور دریافت کیا کہ تمہاری اس معاملہ میں کیا رائے ہے؟ ہم سعد بن معاذ کی تحکیم منظور کریں یا نہ کریں۔ ابولبابہ کے اموال اور اہل و عیال بنی قریظہ کے یہاں تھے، اس لیے وہ ان کی خیر خواہی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے حلقوم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی اگر سعد بن معاذ کی تحکیم قبول کی تو ذبح ہو جاؤ گے۔ ابولبابہ اشارہ تو کر گزرے مگر معًا متنبہ ہوا کہ میں نے خدا و رسول کی خیانت کی۔ واپس آ کر اپنے کو ایک ستون سے باندھ دیا اور عہد کیا کہ نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا حتی کہ موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے۔ سات آٹھ دن یونہی بندھے رہے۔ فاقہ سے غشی طاری ہو گئی۔ آخر بشارت پہنچی کہ حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ کہا خدا کی قسم میں اپنے کو نہ کھولوں گا جب تک خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے دست مبارک سے میری رسی نہ کھولیں۔ آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے اپنے قیدی کو آزاد کیا۔ الیٰ آخر القصہ ابن عبدالبر کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی بناء پر پیش آیا تھا واللہ اعلم۔

۲۸ ۔۔۔ آدمی اکثر مال و اولاد کی خاطر خدا کی اور بندوں کی چوری کرتا ہے۔ اس لیے متنبہ فرمایا کہ امانتداری کی جو قیمت خدا کے یہاں ہے، وہ یہاں کے مال و اولاد وغیرہ سب چیزوں سے بڑھ کر ہے۔

۲۹ ۔۔۔  یعنی اگر خدا سے ڈر کر راہ تقویٰ اختیار کرو گے تو خدا تم میں اور تمہارے مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا۔ دنیا میں بھی، کہ تم کو عزت دے گا اور ان کو ذلیل یا ہلاک کرے گا جیسے بدر میں کیا اور آخرت میں بھی، کہ تم نعیم دائم میں رہو گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا۔ وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ (یس، رکوع۴، آیت:۵۹) ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ (المرسلات، رکوع۱، آیت:۳۸) دوسری بات یہ ہے کہ تقویٰ کی برکت سے حق تعالیٰ تمہارے دل میں ایک نور ڈال دے گا جس سے تم ذوقاً و وجداناً حق و باطل اور نیک و بد کا فیصلہ کر سکو گے۔ اس کے علاوہ ایک بات حضرت شاہ صاحب نے لکھی ہے کہ "شاید فتح بدر میں مسلمانوں کے دل میں آیا ہو کہ یہ فتح اتفاقی ہے حضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے مخفی کافروں پر احسان کریں کہ ہمارے گھر بار اور اہل و عیال کو مکہ میں نہ ستاویں، سو پہلی آیت میں خیانت کو منع فرمایا اور دوسری آیت میں تسلی دی کہ آگے فیصلہ ہو جائے گا، تمہارے گھر بار کافروں میں گرفتار نہ رہیں گے۔

۳۰ ۔۔۔  ہجرت سے پیشتر کفارِ مکہ نے دارالندوہ میں جمع ہو کر مشورہ کیا، کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کے متعلق کیا کیا جائے۔ انہوں نے ساری قوم کو پریشان کر رکھا ہے اور باہر کے کچھ لوگ ان کے دام میں پھنستے جاتے ہیں کہیں رفتہ رفتہ بڑی طاقت اکٹھی نہ کر لیں جس کا مقابلہ دشوار ہو۔ اس وقت رائیں مختلف تھیں، کوئی کہتا تھا، قید کیا جائے اور خوب زخمی کیے جائیں، کسی کی رائے تھی کہ انہیں وطن سے نکال دیا جائے تاکہ ہمیں ہر وقت کے خرخشہ سے نجات ملے۔ اخیر میں ابوجہل کی رائے پر فیصلہ ہوا کہ تمام قبائل عرب میں سے ایک ایک جوان منتخب ہو اور وہ سب مل کر آنِ واحد میں ان پر تلوار کا ہاتھ چھوڑیں، تاکہ بنی ہاشم سارے عرب سے لڑائی نہ کر سکیں اور دیت دینی پڑے تو تمام قبائل پر تقسیم ہو جائے۔ یہاں تو وہ اشقیاء یہ تدبیریں گانٹھ رہے تھے، اُدھر ان کے توڑ میں خدا کی بہترین اور لطیف تدبیر تھی، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو فرشتہ نے اطلاع کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے بستر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو لٹا کر اسی مجمع کی آنکھوں میں جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کے لیے جمع ہوا تھا خاک جھونکتے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اور حضرت علی کا بال بیکا نہ ہوا اور دشمن خائب و خاسر رہے۔ پھر جنہوں نے آپ کے قتل کا مشورہ دیا تھا بدر میں وہ ہی قتل کیے گئے۔ اس سے بتلا دیا کہ جب خدا ساتھی ہو تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور جس طرح اس نے اپنے پیغمبر کو بچا لیا، تمہارے گھر بار اور اہل وعیال کی بھی جو مکہ میں ہیں حفاظت کر سکتا ہے، دشمن اگر قوی است نگہبان قوی تراست۔

۳۱ ۔۔۔  نضر بن الحارث کہا کرتا تھا کہ ہم چاہیں تو قرآن جیسا کلام بنا لائیں اس میں قصے کہانیوں کے سوا کیا رکھا ہے۔ مگر قرآن تو سب جھگڑوں کا فیصلہ اسی بات پر رکھتا تھا۔ پھر چاہا کیوں نہیں؟ کسی نے کہا تھا کہ میرا گھوڑا اگر چلے تو ایک دن میں لندن پہنچے، مگر چلتا نہیں۔ بہرحال پچھلی قوموں کے احوال سن کر کہا کرتے تھے کہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ اب بدر میں دیکھ لیا کہ محض افسانے نہ تھے، وعدہ عذاب تم پر بھی آیا جیسا پہلوں پر آیا تھا۔

۳۲ ۔۔۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے انتہائی جہل اور شقاوت و عناد کا اظہار ہے یعنی وہ کہتے تھے کہ خداوندا اگر واقعی یہ ہی دین حق ہے جس کی ہم اتنی دیر اور اس قدر شدومد سے تکذیب کر رہے ہیں تو پھر دیر کیوں ہے؟ گزشتہ اقوام کی طرح ہم پر بھی پتھروں کا مینہ کیوں نہیں برسا دیا جاتا۔ یا اسی طرح کے کسی دوسرے عذاب میں مبتلا کر کے ہمارا استیصال کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کہتے ہیں کہ یہ دعاء ابوجہل نے مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی۔ آخر جو کچھ مانگا تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا۔ وہ خود مع ۳۹ سرداروں کے کمزور اور بے سروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ ستر سردار اسیری کی ذلت میں گرفتار ہوئے۔ اس طرح خدا نے ان کی جڑ کاٹ دی۔ بیشک قوم لوط کی طرح ان پر آسمان سے پتھر نہیں برسے لیکن ایک مٹھی سنگریزے جو خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے پھینکے تھے وہ آسمانی سنگباری کا چھوٹا سا نمونہ تھا۔ فَلَمْتقْتُلُوْھمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمیٰ۔

۳۳ ۔۔۔   ۱: سنت اللہ یہ ہے کہ جب کسی قوم پر تکذیب انبیاء کی وجہ سے عذاب نازل کرتے ہیں تو اپنے پیغمبر کو ان سے علیحدہ کر لیتے ہیں خدا نے جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مکہ سے علیحدہ کر لیا تب مکہ والے بدر کے عذاب میں پکڑے گئے۔

۲:  نزولِ عذاب سے دو چیزیں مانع ہیں ایک ان کے درمیان پیغمبر کا موجود رہنا۔ دوسرے استغفار۔ یعنی مکہ میں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قدم سے عذاب تک اٹک رہا تھا۔ اب ان پر عذاب آیا۔ اسی طرح جب تک گنہگار نادم رہے اور توبہ کرتا رہے تو پکڑا نہیں جاتا اگرچہ بڑے سے بڑا گناہ ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ گنہگاروں کی پناہ دو چیزیں ہیں۔ ایک میرا وجود، اور دوسرے استغفار، کذا فی الموضح (تنبیہ) وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبُہُمْ کے جو معنی مترجم محقق قدس اللہ روحہٗ نے کئے، بعض مفسرین کے موافق ہیں، لیکن اکثر کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس قسم کا خارق عادت عذاب طلب کر رہے تھے جو قوم کی قوم کا دفعۃً استیصال کر دے ان پر ایسا عذاب بھیجنے سے دو چیزیں مانع ہیں ایک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود باوجود کہ اس کی برکت سے اس امت پر خواہ "امت دعوت" ہی کیوں نہ ہو ایسا خارق عادت مستاصل عذاب نہیں آتا۔ یوں کسی وقت افراد و آحاد پر آ جائے وہ اس کے منافی نہیں۔ دوسرے استغفار کرنے والوں کی موجودگی خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم جیسا کہ منقول ہے کہ مشرکین مکہ بھی تلبیہ و طواف وغیرہ میں "غفرانک، غفرانک" کہا کرتے تھے۔ باقی غیر خارق معمولی عذاب (مثلاً قحط یا وباء یا قتل کثیر وغیرہ) اس کا نزول پیغمبر یا بعض مستغفرین کی موجودگی میں بھی ممکن ہے آخر جب وہ لوگ شرارتیں کریں گے تو خدا کی طرف سے تنبیہ کیوں نہ کی جائے گی۔ آگے اسی کو بیان فرمایا ہے۔

۳۴ ۔۔۔  یعنی عذاب کا نہ آنا ان دو سبب سے ہے جو اوپر مذکور ہوئے، ورنہ تمہاری شرارتیں اور ظلم و شقاوت تو ایسی چیزیں ہیں کہ فوراً عذاب آ جانا چاہیے۔ اس سے زیادہ ظلم کیا ہو گا کہ موحدین کو حرم شریف میں آنے یا عبادت کرنے سے طرح طرح کے حیلے تراش کر روکا جائے بلکہ ان کے وطن (مکہ معظمہ) سے نکال کر ہمیشہ کے لیے کوشش کی جائے کہ یہ خدا کے پاکباز اور عبادت گزار بندے یہاں نہ آنے پائیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس ظلم کے جواز کے لیے یہ سند پیش کی جاتی ہے کہ ہم حرم شریف کے متولی با اختیار ہیں جس کو چاہیں آنے دیں جسے چاہیں روک دیں، یہ ہمارا حق ہے۔ حالانکہ اول تو یہ حق متولی کو بھی نہیں کہ مسجد میں لوگوں کو نماز و عبادت سے روکے۔ دوسرے حق تولیت ان کو پہنچتا بھی نہیں۔ حرم شریف کے متولی صرف متقی اور پرہیزگار بندے ہو سکتے ہیں مشرک اور بدمعاش اس کے حقدار نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان میں اکثر اپنی جہالت سے یوں سمجھ رہے ہیں کہ ہم اولادِ ابراہیم ہیں اور فلاں قبیلہ سے ہیں تولیت کعبہ ہمارا موروثی حق ہے جس کے لیے کوئی خاص شرط و قید نہیں۔ سو بتلا دیا کہ اولاد ابراہیم میں جو پرہیزگار ہو اسی کا حق ہے۔ ایسے بے انصافوں کا حق نہیں کہ جس سے وہ آپ ناخوش ہوئے نہ آنے دیا۔

۳۵ ۔۔۔ یعنی حقیقی نمازیوں کو مسجد سے روکتے ہیں اور خود ان کی نماز کیا ہے؟ کعبہ کا برہنہ ہو کر طواف کرنا اور ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجانا مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ہوتا تھا یا از راہِ استہزاء تمسخر ایسا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔

۳۶ ۔۔۔  ۱: بدر میں بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا۔ چنانچہ دس اونٹ روزانہ کسی ایک کی طرف سے ذبح کیے جاتے تھے۔ پھر جب شکست ہو گئی تو ہزیمت خوردہ مجمع نے مکہ پہنچ کر ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارتی قافلہ لایا ہے، وہ سب محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چنانچہ سب اس پر راضی ہو گئے۔ اسی طرح کے خرچ کرنے کا یہاں ذکر ہے۔

۲:  جب دنیا میں مغلوب و مقہور اور آخرت میں معذب ہوں گے، تب افسوس و حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے کہ مال بھی گیا اور کامیابی بھی نہ ہوئی۔ چنانچہ اول بدر میں احد وغیرہ میں سب مالی اور جسمی طاقتیں خرچ کر دیکھیں کچھ نہ کر سکے آخر ہلاک یا رسوا ہوئے یا نادم ہو کر کفر سے توبہ کی۔

۳۷ ۔۔۔  ۱: موضح القرآن میں ہے کہ آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرے گا اس درمیان میں کافر اپنا جان و مال کا زور خرچ کر لیں گے۔ تاکہ نیک و بد جدا ہو جاوے۔ یعنی جن کی قسمت میں اسلام لکھا ہے وہ سب مسلمان ہو چکیں اور جن کو کفر پر مرنا ہے وہی اکٹھے دوزخ میں جائیں۔

          ۲: یعنی دنیاوی و اخروی دونوں قسم کا نقصان اور خسارہ اٹھایا۔

۳۸ ۔۔۔    ۱: یعنی اگر اب بھی کفر و طغیان اور عداوت اسلام سے باز آ جائیں اور پیغمبر علیہ السلام کی حلقہ بگوشی اختیار کر لیں تو پہلے حالت کفر میں جو گناہ کر چکے، وہ سب معاف کر دیئے جائیں گے۔اَلْاِسْلَامُ یَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہٗ (حقوق العباد معاف نہ ہوں گے، ان کا مسئلہ علیٰحدہ ہے)

۲: یعنی جس طرح اگلے لوگ پیغمبروں کی تکذیب و عداوت سے تباہ ہوئے، ان پر بھی تباہی آئے گی یا یہ مطلب ہے کہ جیسے بدر میں ان کے بھائی بندوں کو سزا دی گئی انہیں بھی سزا دی جائے گی۔

۳۹ ۔۔۔ ۱: یعنی کافروں کا زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو موت کی دھمکی دے سکیں۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو غلبہ ہوا، مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑ گیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کس طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنایا گیا۔ بہرحال جہاد و قتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام مامون و مطمئن ہو کر خدا کی عبادت کر سکیں اور دولت ایمان و توحید کفار کے ہاتھوں سے محفوظ ہو ( چنانچہ فتنہ کی یہ ہی تفسیر ابن عمر وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کتب حدیث میں منقول ہے)

۲:  یہ "جہاد" کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان پر غالب آ جائے۔ (لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ) خواہ دوسرے باطل ادیان کی موجودگی میں جیسے خلفائے راشدین وغیرہم کے عہد میں ہوا، یا سب باطل مذاہب کو ختم کر کے، جیسے نزول مسیح کے وقت ہو گا۔ بہرحال یہ آیت اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد و قتال خواہ ہجومی ہو یا دفاعی، مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک برابر مشروع ہے جب تک یہ دونوں مقصد حاصل نہ ہو جائیں۔ اسی لیے حدیث میں آ گیا۔ اَلْجِہَادُ مَاضٍ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃ (جہاد کے احکام و شرائط وغیرہ کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے)

۳:  یعنی جو ظاہر میں اپنی شرارت اور کفر سے باز آ جائیں، ان سے قتال نہیں۔ ان کے دلوں کا حال اور مستقبل کی کیفیات کو خدا کے سپرد کیا جائے گا۔ جیسا کام وہ کریں گے خدا کی آنکھ سے غائب ہو کر نہیں کر سکتے۔ مسلمان صرف ظاہر حال کے موافق عمل کرنے کے مکلف ہیں وفی الحدیث اُمِرْتُ اَنَاقَاتِلَ النَّاسَ حَتّیٰ یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فَاِذَا قَالُوْہَا عَصَمُوْا مِنِّی دِمَآءَ ہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلَّا بِحَقِّہَا وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔

۴۰ ۔۔۔  یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ خدا کی مدد اور حمایت پر بھروسہ کر کے جہاد کریں۔ کفار کی کثرت اور ساز وسامان سے مرعوب نہ ہوں۔ جیسے "جنگ بدر" میں دیکھ چکے کہ خدا نے مسلمانوں کی کیا خوب امداد و حمایت کی۔

۴۱ ۔۔۔  ۱: آغاز سورت میں فرمایا تھا "قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ" یہاں اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جو مال غنیمت کافروں سے لڑ کر ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ خدا کی نیاز ہے، جسے خدا کی نیابت کے طور پر پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام وصول کر کے پانچ جگہ خرچ کر سکتے ہیں۔ اپنی ذات پر اپنے ان قرابت داروں (بنی ہاشم و بنی المطلب) پر جنہوں نے قدیم سے خدا کے کام میں آپ کی نصرت و امداد کی اور اسلام کی خاطر یا محض قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیا اور مد زکوٰۃ وغیرہ سے لینا ان کے لیے حرام ہوا۔ یتیموں پر، حاجت مند مسلمانوں پر، مسافروں پر۔ پھر غنیمت میں جو چار حصے باقی رہے، وہ لشکر پر تقسیم کئے جائیں۔ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد خمس کے پانچ مصارف میں سے "حنفیہ" کے نزدیک صرف تین اخیر کے باقی رہ گئے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی رحلت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کا خرچ نہیں رہا اور نہ اہلِ قرابت کا وہ حصّہ رہا جو ان کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نصرت قدیمہ کی بناء پر ملتا تھا البتہ مساکین اور حاجت مندوں کا جو حصہ ہے اس میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قرابت دار مساکین اور اہل حاجت کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ بعض علماء کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد امیر المومنین کو اپنے مصارف کے لیے خمس الخمس ملنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ بعض روایات میں ہے کہ جب "غنیمت" میں سے خمس (اللہ کے نام کا پانچواں حصہ) نکالا جاتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اول اس کا کچھ حصہ بیت اللہ (کعبہ) کے لیے نکالتے تھے۔ بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ جہاں سے کعبہ بعید ہے، وہاں مساجد کے لیے نکالنا چاہیے۔

۲:  فیصلہ کے دن" سے مراد "یومِ بدر" ہے جس میں حق و باطل کی کشمکش کا کھلا ہوا فیصلہ ہو گا۔ اس دن حق تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر فتح و نصرت اتاری۔ فرشتوں کی امدادی کمک بھیجی۔ اور سکون و اطمینان کی کیفیت نازل فرمائی۔ تو جو لوگ خدا پر اور اس کی تائید غیبی پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کو غنیمت میں سے خدا کے نام کا پانچواں حصہ نکالنا بھاری نہیں ہو سکتا۔

۳:  جیسے اس دن تم کو مظفر و منصور کیا، وہ قادر ہے کہ آئندہ بھی تم کو غلبہ اور فتوحات عنایت فرمائے۔

۴۲ ۔۔۔  ۱: "ورلے کنارے" سے مراد میدان جنگ کی وہ جانب ہے جو مدینہ طیبہ سے قریب تھی۔ اسی طرح "پرلا کنارہ" وہ ہو گا جو مدینہ سے بعید تھا۔

۲:  یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ نیچے کی طرف ہٹ کر سمندر کے کنارے کنارے جا رہا تھا۔ قافلہ اور مسلمانوں کے درمیان قریش کی فوج حائل ہو چکی تھی۔

۳:   یعنی اگر فریقین پہلے سے لڑائی کا کوئی وقت ٹھہرا کر جانا چاہتے تو ممکن تھا اس میں اختلاف ہوتا، یا وعدہ کے وقت پہنچنے میں ایک فریق پس و پیش کرتا۔ کیونکہ ادھر مسلمان کفار کی تعداد اور ظاہری ساز و سامان سے خائف تھے۔ اُدھر کفار مسلمانوں کی حقانیت، خدا پرستی اور بے جگری سے مرعوب رہتے تھے۔ دونوں کو جنگ کی ذمہ داری لینے یا شرکت کرنے میں تردد اور تقاعد ہو سکتا تھا۔

۴: یعنی قریش اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اور تم قافلہ پر حملہ کرنے کو، قافلہ بچ گیا اور دو فوجیں ایک میدان کے دو کناروں پر آ پڑیں۔ ایک کو دوسرے کی خبر نہیں۔ یہ تدبیر اللہ کی تھی۔ اگر تم قصداً جاتے تو ایسا بروقت نہ پہنچتے۔ اور اس فتح کے بعد کافروں پر صدق پیغمبر کا کھل گیا۔ جو مرا وہ بھی یقین جان کر مرا اور جو جیتا رہا وہ بھی حق پہچان کر۔ تاکہ اللہ کا الزام پورا ہو۔ کذافی الموضح۔ اور ممکن ہے مرنے اور جینے سے کفر و ایمان مراد ہوں۔ یعنی اب جو ایمان لائے اور جو کفر پر جما رہے دونوں کا ایمان یا کفر وضوح حق کے بعد ہو۔

۵: یعنی اللہ کمزور مظلوموں کی فریاد سننے والا ہے اور جانتا ہے کہ کس طریقہ سے ان کی مدد کی جائے، دیکھو بدر میں مسلمانوں کی فریاد کیسی سنی اور کیسی مدد فرمائی۔

۴۳ ۔۔۔  ۱: یعنی مسلمان کو چاہیے کہ خدا کی مدد اور حمایت پر بھروسہ کر کے جہاد کریں، کفار کی کثرت اور سازو سامان سے مرعوب نہ ہوں جیسے جنگ بدر میں دیکھ چکے کہ خدا نے مسلمانوں کی کیاخوب امداد اور حمایت کی۔

۲:  یعنی انہیں زیادہ سمجھ کر کوئی لڑنے کی ہمت نہ کرتا۔ اس طرح اختلاف ہو کر کام میں کھنڈت پڑ جاتی۔ لیکن خدا نے پیغمبر علیہ السلام کو خواب میں تھوڑی تعداد دکھلا کر اس بزدلی اور نزاع باہمی سے تم کو بچا لیا وہ خوب جانتا ہے کہ کس چیز سے دلوں میں ہمت و شجاعت پیدا ہوتی ہے اور کس بات سے جبن و نامردی۔

۴۴ ۔۔۔  پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے نظر آئے اور مسلمانوں کو مقابلہ کے وقت تاکہ جرأت سے لڑیں۔ پیغمبر کا خواب غلط نہیں، ان میں کافر رہنے والے کم ہی تھے، اکثر وہ تھے جو پیچھے مسلمان ہوئے اور خواب کی تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تھوڑی تعداد سے مقصود ان کی مغلوبیت کا اظہار ہو۔ باقی کفار کی نظر میں جو مسلمان تھوڑے دکھلائی دیے تو وہ واقعی تھوڑے تھے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دونوں فوجیں اول آمنے سامنے ہوئیں۔ پھر جب مسلمانوں نے دلیرانہ حملے کیے اور فرشتوں کا لشکر مدد کو پہنچا اس وقت کفار کو مسلمان دگنے نظر آنے لگے کما فی" آل عمران" واُخْریٰ کَافِرَۃٌ یَّرَوْنَہُمْ مِثْلَیْہِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ (آل عمران، رکوع۳)

۴۵ ۔۔۔  اس میں نماز، دعا، تکبیر اور ہر قسم کا ذکر اللہ شامل ہے۔ "ذکر اللہ" کی تاثیر یہ ہے کہ ذاکر کا دل مضبوط اور مطمئن ہوتا ہے جس کی جہاد میں سب سے زیادہ ضرورت ہے صحابہ رضی اللہ کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہی تھا۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلاَبِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبِ (رعد، آیت۳۸)

۴۶ ۔۔۔  ۱: یعنی ہوا خیزی ہو کر اقبال و رعب کم ہو جائے گا۔ بد رعبی کے بعد فتح و ظفر کیسے حاصل کر سکو گے۔

۲:  جو سختیاں اور شدائد جہاد کے وقت پیش آئیں ان کو صبر و استقامت سے برداشت کرو ہمت نہ ہارو، مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو بتلا دیا گیا کہ کامیابی کی کنجی کیا ہے؟ معلوم ہوا کہ دولت، لشکر اور میگزین وغیرہ سے فتح و نصرت حاصل نہیں ہوتی۔ ثابت قدمی، صبر و استقلال، قوت و طمانینت قلب، یاد الٰہی، خدا و رسول اور ان کے قائم مقام سرداروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور باہمی اتفاق و اتحاد سے حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر بے ساختہ جی چاہتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق "ابن کثیر" کے چند الفاظ نقل کر دوں جو اخلاص و ایمان کی انتہائی گہرائی سے نکلے ہوئے ہیں۔ وَقَدْ کَانَ لِلصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فِی بَابِ الشُّجَاعَۃِ وَالاِئتِمَارِ بِمَا اَمَرَہُمُ اللّٰہُ وَرَسُولُہٌ بِہٖ وَامْتِثَالُ مَا اَرْشَدَہُمْ اِلَیْہِ مَالَمْ یَکَنْ لِاَ حَدٍ مِّنَ الْاُمَمِ وَالْقُرُونِ قَبْلَہُمْ وَ لَا یَکُونُ لِاَ حَدٍ مِّمَّنْ بَعْدَ ہُمْ فَاِنَّہُمْ بِبَرَکَۃِ الرَّسُولٍ صَلْعَمَ وَطَاعْتِہٖ فِیْمَا اَمْرَہُمْ فَتَحَوا الْقُلُوبُ وَالْا قَالِیم شَرْقاً وَّغَرْباً فِی الْمُدَّۃٍ الیَسِیْرَۃِ مَعَ قلۃ عددھم بالنسبۃ الی جیوش سائر الاقالیم من الروم والفرس وَالتُّرْکِ وَالصَّقَالِبَۃِ وَالْبَرْبَرِوَالْحُبُوشِ وَاصْنَافِ السُّودَ انِ وَالْقِبْطِ وَطَوَائِفِ بَنِی اٰدَمَ قَہَرُوا الْجَمِیْعٌ حَتّیٰ عَلَتْ کَلِمَۃُ اللّٰہِ وَظَہَرَ دِیْنُہٗ عَلَی سَآئِرِ الْاَدْیَانِ وَاَمْتَدَتْ الْمَمَالِکِ الِاسْلَامِیَۃِ فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا فِیْ اَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِیْنَ سَنَۃَ فَرَضِیَ اللّٰہٗ عَنْہُمْ وَاَرْضَاہُمْ اَجْمَعِیْنَ وَحَشَرْنَا فِیْ زُمْرتِہِمْ اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَوَّابٌ۔

۴۷ ۔۔۔   ابوجہل لشکر لے کر بڑی دھوم دھام اور با جے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان مرعوب ہو جائیں اور دوسرے قبائل عرب پر مشرکین کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اس کو ابوسفیان کا پیام پہنچا کہ قافلہ سخت خطرہ سے بچ نکلا ہے۔ اب تم مکہ کو لوٹ جاؤ۔ ابوجہل نے نہایت غرور سے کہا کہ ہم اس وقت واپس جا سکتے ہیں جبکہ بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد کر لیں۔ گانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں، شرابیں پئیں، مزے اڑائیں اور تین روز تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا انتظام کریں، تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے ہماری یادگار رہے۔ اور آئندہ کے لیے ان مٹھی بھر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں کہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کریں۔ اسے کیا خبر تھی کہ جو منصوبے باندھ رہے ہیں اور تجویزیں سوچ رہے ہیں وہ سب خدا کے قابو میں ہیں چلنے دے یا نہ چلنے دے۔ بلکہ چاہے تو انہی پر الٹ دے۔ چنانچہ یہ ہی ہوا۔ بدر کے پانی اور جام شراب کی جگہ انہیں موت کا پیالہ پینا پڑا۔ محفل سرود و نشاط تو منعقد نہ کر سکے ہاں نوحہ و ماتم کی صفیں "بدر" سے "مکہ" تک بچھ گئیں جو مال تفاخر و نمائش میں خرچ کرنا چاہتے تھے وہ مسلمانوں کے لیے لقمہ غنیمت بنا۔ ایمان و توحید کے دائمی غلبہ کا بنیادی پتھر بدر کے میدان میں نصب ہو گیا۔ گویا ایک طرح اس چھوٹے سے قطعہ زمین میں خدا تعالیٰ نے روئے زمین کو ملل و اقوام کی قسمتوں کا فیصلہ فرما دیا۔ بہرحال اس آیت میں مسلمانوں کو آگاہ فرمایا کہ جہاد محض ہنگامہ کشت و خون کا نام نہیں، بلکہ عظیم الشان عبادت ہے۔ عبادت اتراوے یا دکھانے کو کرے تو قبول نہیں۔ لہٰذا تم فخر و غرور اور نمود و نمائش میں کفار کی چال مت چلو۔

۴۸ ۔۔۔    قریش اپنی قوت و جمعیت پر مغرور تھے لیکن بنی کنانہ سے ان کی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔ خطرہ یہ ہوا کہ کہیں بنی کنانہ کامیابی کے راستے میں آڑے نہ آ جائیں۔ فوراً شیطان ان کی پیٹھ ٹھونکنے اور ہمت بڑھانے کے لیے کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنی ذریت کی فوج لے کر نمودار ہوا اور ابوجہل وغیرہ کو اطمینان دلایا کہ ہم سب تمہاری امداد و حمایت پر ہیں۔ "کنانہ کی طرف سے بے فکر رہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب بدر میں زور کارن پڑا اور شیطان کو جبرائیل وغیرہ فرشتے نظر آئے تو ابوجہل کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر الٹے پاؤں بھاگا۔ ابوجہل نے کہا، سراقہ! عین وقت پر دغا دے کر کہاں جاتے ہو، کہنے لگا میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ مجھے وہ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ جو تم کو نظر نہیں آتیں (یعنی فرشتے) خدا کے (یعنی اس خدائی فوج کے) ڈر سے میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ اب ٹھہرنے کی ہمت نہیں۔ کہیں سخت عذابِ آفت میں نہ پکڑا جاؤں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ملعون نے جھوٹ بولا، اس کے دل میں خدا کا ڈر نہ تھا۔ ہاں وہ جانتا تھا کہ اب قریش کا لشکر ہلاکت میں گھر چکا ہے کوئی قوت بچا نہیں سکتی۔ یہ اس کی قدیم عادت ہے کہ اپنے متبعین کو دھوکہ دے کر اور ہلاکت میں پھنسا کر عین وقت پر کھسک جایا کرتا ہے۔ اسی کے موافق یہاں بھی کہا یَعِدُہُمْ وَیُمَنِّیْہِمُ وَمَا یَعِدُہُمْ الشَّیْطَانُ اِلَّاغُرُوْراً (نساء آیت ۱۳۰) کَمَثَلِ الشَّیطَانِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّی بَرِی ءٌ مِّنْکَ اِنِّی اَخَافُ اﷲرَبَّ الْعَالِمَیْنَ (الحشر، آیت ۱۶) وَقَالَ الشَّیْطَنُ لَمَّاقُضِیَ الْاَمْرُ اَنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعَدَالْحَقِّ وَوَعَدتُّکُمْ فَاخْلَفْتُکُمْ وَمَاکَانَ لِی عَلَیْکُمْ مِنْ سُلْطَانٍ اِلَّا اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِی فَلاَ تَلُوْمُونِی وَلُوْمُوآ اَنْفُسَکُمْ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ اِنِّی کَفَرْتُ بِمَا اَشْرَکْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظَّالِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ابراہیم، آیت ۳۳)

۴۹ ۔۔۔  مسلمانوں کی تھوڑی جمعیت اور بے سروسامانی اور اس پر ایسی دلیری و شجاعت کو دیکھتے ہوئے منافقین اور ضعیف القلب کلمہ گو کہنے لگے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین اور حقانیت کے خیال پر مغرور ہیں جو اس طرح اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرور نہیں، توکل ہے۔ جس کو خدا کی زبردست قدرت پر اعتماد ہو اور یقین رکھے کہ جو کچھ اُدھر سے ہو گا عین حکمت و صواب ہو گا، وہ حق کے معاملہ میں ایسا ہی بے جگر اور دلیر ہو جاتا ہے۔

۵۰ ۔۔۔  یعنی مار کر کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ لو، اور عذاب جہنم کا مزہ آئندہ چکھنا۔ بہت سے مفسرین نے اس کو بھی بدر کے واقعہ میں داخل کیا ہے یعنی اس وقت جو کافر مارے جاتے تھے ان کے ساتھ فرشتوں کا یہ معاملہ تھا۔ مگر الفاظ آیت کے سب کافروں کو عام ہیں اس لیے راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عالم برزخ کا ہوا۔ اب بدر کے واقعات سے تعلق یہ ہو گا کہ دنیا میں ان کافروں کی یہ گت بنی۔ برزخ میں یہ ہو گا اور آخرت کے عذاب کا تو کہنا ہی کیا ہے۔

۵۱ ۔۔۔ یعنی یہ سب تمہاری کرتوت کی سزا ہے ورنہ خدا کے یہاں ظلم کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اگر معاذ اللہ ادھر سے رتی برابر ظلم کا امکان ہو تو پھر وہ اپنی عظمت شان کے لحاظ سے ظالم نہیں ظلام ہی ٹھہرے کیونکہ کامل کی ہر صفت کامل ہی ہونی چاہیے۔

۵۲ ۔۔۔ یعنی قدیم سے یہ ہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ آیات اللہ کی تکذیب و انکار یا انبیاء سے جنگ کرنے پر مصر ہوئے تو اللہ نے ان کو کسی نہ کسی عذاب میں پکڑ لیا۔

۵۳ ۔۔۔   یعنی جب لوگ اپنی بے اعتدالی اور غلط کاری سے نیکی کے فطری قویٰ اور استعداد کو بدل ڈالتے ہیں اور خدا کی بخشی ہوئی داخلی یا خارجی نعمتوں کو اس کے بتلائے ہوئے کام میں ٹھیک موقع پر خرچ نہیں کرتے بلکہ الٹے اس کی مخالفت میں صرف کرنے لگتے ہیں تو حق تعالیٰ اپنی نعمتیں ان سے چھین لیتا ہے اور شانِ انعام کو انتقام سے بدل دیتا ہے۔ وہ بندوں کی تمام باتوں کو سنتا اور تمام احوال کو جانتا ہے کوئی چیز اس سے پردہ میں نہیں۔ لہٰذا جس سے جو معاملہ کرے گا نہایت ٹھیک اور برمحل ہو گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "نیت اور اعتقاد جب تک نہ بدلے تو اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔" گویا "مَابِاَنْفُسِہِمْ" سے خاص نیت اور اعتقاد مراد لیا ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ واللہ اعلم۔

۵۴ ۔۔۔   فرعونیوں اور ان سے پہلی قوموں کو ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کیا۔ اور خصوصیت کے ساتھ فرعونیوں کا بیڑا غرق کر دیا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب انہوں نے خدا سے بغاوت اور شرارت کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیے۔ ورنہ خدا کو کسی مخلوق سے ذاتی عداوت نہیں۔

۵۶ ۔۔۔  جو لوگ ہمیشہ کے لیے کفر اور بے ایمانی پر تل گئے اور انجام سے بالکل بے خوف ہو کر غداری اور بدعہدی کے خوگر ہو رہے ہیں، وہ خدا کے نزدیک بدترین جانور ہیں۔ فرعونیوں کا حال بدعہدی اور غداری میں یہ ہی تھا۔ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزَ قَالُوا یَا مُوسیٰ ادْعُ لَنَارَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُوْمِنَنَّ لَکَ وَلنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِی اِسْرَآئِیْل فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلیٰ اَجَلٍ ہُمْ بَالِغُوہُ اِذَاہُمْ یَنْکُثُونَ (اعراف، آیت ۱۳۴) اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں یہود بنی قریظہ وغیرہ کی یہ ہی خصلت تھی۔ آپ سے عہد کر لیتے کہ ہم مشرکین مکہ کو مدد نہ دیں گے، پھر ان کی امداد کرتے اور کہہ دیتے کہ ہم کو عہد یاد نہ رہا تھا۔ بار بار ایسا ہی کرتے تھے۔ آگے بتلایا ہے کہ ایسے غداروں کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے۔

۵۸ ۔۔۔  یعنی اگر یہ دغا باز غدار معاہدوں کو اعلانیہ پس پشت ڈال کر آپ کے مقابل میدان جنگ میں آ جائیں تو ان کو ایسی سخت سزا دیجئے، جسے دیکھ کر ان کے پیچھے رہنے والے یا ان کے بعد آنے والی نسلیں بھی عبرت حاصل کریں اور عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ کر سکیں اور اگر ایک قوم نے اعلانیہ دغا بازی نہیں کی، ہاں آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ عہد شکنی پر آمادہ ہے تو آپ کو اجازت ہے کہ مصلحت سمجھیں تو ان کا عہد واپس کر دیں اور معاہدہ سے دستبرداری کی اطلاع کر کے مناسب کارروائی کریں۔ تاکہ فریقین پچھلے معاہدات کی نسبت شک و اشتباہ میں نہ رہیں۔ دونوں مساویانہ طور پر آگاہ و بیدار ہو کر اپنی تیاری اور حفاظت میں مشغول ہوں۔ آپ کی جانب سے کوئی چور اور خیانت نہ ہو سب معاملہ صاف صاف ہو۔ حق تعالیٰ خیانت کی کارروائی کو خواہ کفار کے ساتھ ہو پسند نہیں کرتا۔ سنن میں روایت ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روم میں میعادی معاہدہ تھا، میعاد کے اندر امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو روم کی سرحد کی طرف بڑھانا شروع کیا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کی سرحد سے اس قدر قریب اور پہلے سے تیار رہیں کہ میعاد معاہدہ گزرتے ہی فوراً دھاوا بول دیا جائے۔ جس وقت یہ کارروائی جاری تھی، ایک شیخ سواری پر یہ کہتے ہوئے آئے۔ "اللہ اکبر اللہ اکبر وفائً لاغدرًا" یعنی عہد پورا کرو عہد شکنی مت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہو جائے۔ یا فریق ثانی کو مساویانہ حیثیت میں معاہدہ واپس کیا جائے۔ معاویہ کو جب یہ خبر پہنچی تو الٹے واپس آ گئے۔ پھر جو دیکھا تو وہ شیخ حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔

۵۹ ۔۔۔  نبذ عہد کا جو حکم اوپر مذکور ہوا، ممکن تھا کہ کفار اس کو مسلمانوں کی سادہ لوحی پر حمل کر کے خوش ہوتے کہ جب ان کے یہاں خیانت و غدر جائز نہیں تو ہم کو خبردار اور بیدار ہونے کے بعد پورا موقع اپنے بچاؤ اور مسلمانوں کے خلاف تیاری کرنے کا ملے گا۔ اس کا جواب دے دیا کہ کتنی ہی تیاری اور انتظامات کر لو۔ جب مسلمانوں کے ہاتھوں خدا تم کو مغلوب و رسوا کرنا اور دنیا یا آخرت میں سزا دینا چاہے گا، تو تم کسی تدبیر سے اس کو عاجز نہ کر سکو گے۔ نہ اس کے احاطہ قدرت و تسلط سے نکل کر بھاگ سکو گے۔ گویا مسلمانوں کی تسلی کر دی کہ وہ خدا پر بھروسہ کر کے اس کے احکام کا امتثال کریں تو سب پر غالب آئیں گے۔

۶۰ ۔۔۔  ۱: یعنی خدا پر بھروسہ کرنے کے معنی یہ نہیں کہ اسباب ضروریہ مشروعہ کو ترک کر دیا جائے۔ نہیں، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جہاں تک ضرورت ہو سامان جہاد فراہم کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں گھوڑے کی سواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی وغیرہ کی مشق کرنا، سامان جہاد تھا۔ آج بندوق، توپ، ہوائی جہاز، آبدوز کشتیاں، آہن پوش کروزر وغیرہ کا تیار کرنا اور استعمال میں لانا اور فنونِ حربیہ کا سیکھنا، بلکہ ورزش وغیرہ کرنا سب سامانِ جہاد ہے۔ اسی طرح آئندہ جو اسلحہ و آلات حرب و ضرب تیار ہوں، انشاء اللہ وہ سب آیت کے منشاء میں داخل ہیں، باقی گھوڑے کی نسبت تو آپ خود ہی فرما چکے۔ "اَلْخَیْل مَعْقُودُ فِی نَوَاصِیْہَا الْخَیرِ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ" کہ قیامت تک کے لیے خدا نے اس کی پیشانی میں خیر رکھ دی ہے اور احادیث میں ہے کہ "جو شخص گھوڑا جہاد کی نیت سے پالتا ہے، اس کے کھانے پینے بلکہ ہر قدم اٹھانے میں اجر ملتا ہے اور اس کی خوراک وغیرہ تک کا قیامت کے دن ترازو میں وزن کیا جائے گا۔

۲:  یعنی یہ سب سامان اور تیاری دشمنوں پر رعب جمانے اور دھاک بٹھلانے کا ایک ظاہری سبب ہے۔ باقی فتح و ظفر کا اصلی سبب تو خدا کی مدد ہے جو پہلے بیان ہو چکا۔ اور وہ لوگ جن کو بالیقین تم نہیں جانتے منافقین ہیں جو مسلمانی کے پردہ میں تھے یا یہود "بنی قریظہ" یا روم و فارس وغیرہ وہ سب قومیں جن سے آئندہ مقابلہ ہونے والا تھا۔إ

          ۳: یہ مالی جہاد کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جہاد کی تیاری میں جس قدر مال خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ یعنی ایک درہم کے ساتھ دو درہم وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ اور بسا اوقات دنیا میں بھی اس سے کہیں زیادہ معاوضہ مل جاتا ہے۔

۶۱ ۔۔۔  مسلمانوں کی تیاری اور مجاہدانہ قربانیوں کو دیکھ کر بہت ممکن ہے کہ کفار مرعوب ہو کر صلح و آشتی کے خواستگار ہوں تو آپ کو ارشاد ہے کہ حسب صوابدید آپ بھی صلح کا ہاتھ بڑھا دیں۔ کیونکہ جہاد سے خونریزی نہیں، اعلائے کلمۃ اللہ اور دفع فتنہ مقصود ہے۔ اگر بدون خونریزی کے یہ مقصد حاصل ہو سکے تو خواہی نخواہی خون بہانے کی کیا حاجت ہے اگر یہ احتمال ہو کہ شاید کفار صلح کے پردہ میں ہم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو کچھ پروا نہ کیجئے اللہ پر بھروسہ رکھئے وہ ان کی نیتوں کو جانتا اور ان کے اندرونی مشوروں کو سنتا ہے اس کی حمایت کے سامنے ان کی بدنیتی نہ چل سکے گی آپ اپنی نیت صاف رکھئے۔

۶۲ ۔۔۔  اگر صلح کر کے وہ لوگ دغا بازی اور عہد شکنی کا ارادہ کر لیں تو فکر نہ کیجئے۔ خدا آپ کی مدد کے لیے کافی ہے ان کے سب فریب خدا بیکار کر دے گا۔ اسی نے بدر میں آپ کی غیبی امداد فرمائی، اور ظاہری طور پر جاں نثار سرفروش مسلمانوں سے آپ کی تائید کی۔"

۶۳ ۔۔۔  اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا بازار گرم تھا۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائل آپس میں ٹکراتے رہتے تھے۔ دو جماعتوں میں جب لڑائی شروع ہو جاتی تو صدیوں تک اس کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی تھی مدینہ کے دو زبردست قبیلوں "اوس" و "خزرج" کی حریفانہ نبرد آزمائی اور دیرینہ عداوت و بغض کا سلسلہ کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت و آبرو کے بھوکا تھے۔ ان حالات میں آقائے نامدار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالمگیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے۔ لوگوں نے انہیں بھی ایک فریق ٹھہرا لیا اور سب نے مل کر خلاف و شقاق کا رخ ادھر پھیر دیا۔ پرانے کینے اور عداوتیں چھوڑ کر ہر قسم کی دشمنی کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات قدسی صفات کو مطمح نظر بنا لیا۔ وہ آپ کی پند و نصیحت سے گھبراتے تھے اور آپ کے سایہ سے بھاگتے تھے۔ دنیا کی کوئی طاقت نہ تھی جو درندوں کی بھیڑ اور بہائم کے گلہ میں معرفت الٰہی اور حب نبوی کی روح پھونک کر اور شراب اور توحید کا متوالا بنا کر سب کو ایک دم اخوت و الفت باہمی کی زنجیر میں جکڑ دیتی اور اس مقدس ہستی کا درہم ناخریدہ غلام اور عاشق جاں نثار بنا دیتی جس سے زیادہ چند روز پہلے ان کے نزدیک کوئی مبغوض ہستی نہ تھی بلاشبہ روئے زمین کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہ کیا جا سکتا تھا جو اللہ کی رحمت و اعانت سے ایسی سہولت کے ساتھ حاصل ہو گیا۔ خدا نے حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک کی الفت دوسرے کے دل میں ڈال دی۔ اور پھر سب کی الفتوں کا اجتماعی مرکز حضور انور کی ذات منبع البرکات کو بنا دیا۔ قلوب کو دفعۃً ایسا پلٹ دینا خدا کے زور قدرت کا کرشمہ ہے اور ایسی شدید ضرورت کے وقت سب کو محبت و الفت کے ایک نقطہ پر جمع کر دینا اس کے کمال حکمت کی دلیل ہے۔

۶۴ ۔۔۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اے پیغمبر! خدا تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو کافی ہے۔ یعنی قلت عدد اور بے سروسامانی سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اور بعض علماء نے یہ معنی لیے ہیں کہ اے پیغمبر! تجھ کو فی الحقیقت اکیلا خدا کافی ہے اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے مخلص مسلمانوں کی جماعت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو کافی ہے۔ پہلے جو فرمایا تھا۔ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہ وَبِالْمُوْمِنِیْنَ گویا یہ اسی کا خلاصہ ہوا۔

۶۵ ۔۔۔  ۱: یہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی کہ تھوڑے بھی ہوں تو جی نہ چھوڑیں خدا کی رحمت سے دس گنے دشمنوں پر غالب آئیں گے سبب یہ ہے کہ مسلمان کی لڑائی محض خدا کے لیے ہے۔ وہ خدا کو اور اس کی مرضی کو پہچان کر اور یہ سمجھ کر میدان جنگ میں قدم رکھتا ہے کہ خدا کے راستہ میں مرنا اصلی زندگی ہے اس کو یقین ہے کہ میری تمام قربانیوں کا ثمرہ آخرت میں ضرور ملنے والا ہے خواہ میں غالب ہوں یا مغلوب۔ اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جو تکلیف میں اٹھاتا ہوں وہ فی الحقیقت مجھ کو دائمی خوشی اور ابدی مسرت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ مسلمان جب یہ سمجھ کر جنگ کرتا ہے تو تائید ایزدی مددگار ہوتی ہے اور موت سے وحشت نہیں رہتی۔ اسی لیے پوری دلیری اور بے جگری سے لڑتا ہے۔ کافر چونکہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے محض حقیر اور فانی اغراض کے لیے بہائم کی طرح لڑتا ہے اور قوت قلبی اور امداد غیبی سے محروم رہتا ہے۔ بناء علیہ خبر اور بشارت کے رنگ میں حکم دیا گیا کہ مومنین کو اپنے سے دس گنے دشمنوں کے مقابلہ میں ثابت قدمی سے لڑنا چاہیے۔ اگر مسلمان بیس ہوں تو دو سو کے مقابلہ سے نہ ہٹیں اور سو ہوں تو ہزار کو پیٹھ نہ دکھلائیں۔

۲: بیس اور سو، دو عدد شاید اس لیے بیان فرمائے کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے "سریہ" میں کم از کم بیس اور "جیش" میں ایک سو سپاہی ہوتے ہوں گے۔ اس لیے سریہ کم از کم ایک سو کا اور جیش ایک ہزار کا ہو گا۔ دونوں آیتوں میں بیان نسبت کے وقت اعداد کا یہ تفاوت ظاہر کرتا ہے کہ اگلی آیت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی مردم شماری بڑھ گئی تھی۔

۶۶ ۔۔۔   بخاری میں ابن عباس سے منقول ہے کہ گذشتہ آیت جس میں مسلمانوں کو دس گنا کافروں کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنے کا حکم تھا، جب لوگوں کو بھاری معلوم ہوئی تو اس کے بعد یہ آیت اتری۔اَلْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ الخ یعنی خدا نے تمہاری ایک قسم کی کمزوری اور سستی کو دیکھ کر پہلا حکم اٹھا لیا۔ اب صرف اپنے سے دوگنی تعداد کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا حرام ہے یہ کمزوری یا سستی جس کی وجہ سے حکم میں تخفیف ہوئی، کئی وجوہ سے ہو سکتی ہے۔ ابتدائے ہجرت میں گنے چنے مسلمان تھے جن کی قوت و جلادت معلوم تھی، کچھ مدت کے بعد ان میں سے بہت افراد بوڑھے اور کمزور ہو گئے اور جو نئی پود آئی ان میں پرانے مہاجرین و انصار جیسی بصیرت، استقامت اور تسلیم و تفویض نہ تھی، اور تعداد بڑھ جانے سے کسی درجہ میں اپنی کثرت پر نظر اور "توکل علی اللہ" میں قدرے کمی ہوئی ہو گی۔ اور ویسے بھی طبیعت انسانی کا خاصہ ہے کہ جو سخت کام تھوڑے آدمیوں پر پڑ جائے تو کرنے والوں میں جوش عمل زیادہ ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی بساط سے بڑھ کر ہمت کرتا ہے لیکن وہی کام جب بڑے مجمع پر ڈال دیا جائے تو ہر ایک دوسرے کا منتظر رہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ آخر کچھ میں ہی تنہا تو اس کا ذمہ دار نہیں۔ اسی قدر جوش، حرارت اور ہمت میں کمی ہو جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ "اول کے مسلمان یقین میں کامل تھے، ان پر حکم ہوا تھا کہ اپنے سے دس گنے کافروں پر جہاد کریں، پچھلے مسلمان ایک قدم کم تھے، تب یہی حکم ہوا کہ دوگنوں پر جہاد کریں۔ یہی حکم اب بھی باقی ہے لیکن اگر دگنے سے زیادہ پر حملہ کریں تو بڑا اجر ہے۔ حضرت عمر کے وقت میں ہزار مسلمان اسی ہزار سے لڑے ہیں۔ "غزوہ موتہ" میں تین ہزار مسلمان دو لاکھ کفار کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔ اس طرح کے واقعات سے اسلام کی تاریخ بحمد اللہ بھری پڑی ہے۔

۶۷ ۔۔۔  بدر کی لڑائی سے ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو کر آئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق دو صورتیں مسلمانوں کے سامنے پیش کیں۔ قتل کر دینا، یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس شرط پر کہ آئندہ سال اسی تعداد میں تمہارے آدمی قتل کیے جائیں گے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ان دو صورتوں کا انتخاب کے لیے پیش کرنا، امتحان و آزمائش کے طریقہ پر تھا کہ ظاہر ہو جائے کہ مسلمان اپنی رائے اور طبیعت سے کس طرف جھکتے ہیں۔ جیسے ازواج مطہرات کو دو صورتوں میں تخییر دی گئی تھی۔ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اِلَی آخِر الایۃ (الاحزاب، رکوع۴) یا معراج میں آپ کے سامنے خمر و لبن (دودھ اور شراب) کے دو برتن پیش کیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دودھ کو اختیار فرمایا۔ جبرائیل نے کہا کہ اگر بالفرض آپ شراب کو اختیار فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت بہک جاتی۔ بہرحال آپ نے صحابہ سے اس معاملہ میں رائے طلب کی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ یہ سب قیدی اپنے خویش و اقارب اور بھائی بند ہیں۔ بہتر ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس نرم سلوک اور احسان کے بعد ممکن ہے کچھ لوگ مسلمان ہو کر وہ خود اور ان کی اولاد و اتباع ہمارے دست و بازو بنیں اور جو مال بالفعل ہاتھ آئے اس سے جہاد وغیرہ دینی کاموں میں سہارا لگے۔ باقی آئندہ سال ہمارے ستر آدمی شہید ہو جائیں تو مضائقہ نہیں درجہ شہادت ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا میلان بھی فطری رحم دلی اور شفقت و صلہ رحمی کی بنا پر اسی رائے کی طرف تھا۔ بلکہ صحابہ کی عام رائے اسی جانب تھی۔ بہت سے تو ان ہی وجوہ کی بنا پر جو ابوبکر نے بیان فرمائیں اور بعض محض مالی فائدہ کو دیکھتے ہوئے اس رائے سے متفق تھے۔ (کما یظہر من قولہٗ تعالیٰ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا) صرح بہ الحافظ ابن حجر و ابن القیم رحمہا اللہ) حضرت عمر اور سعد بن معاذ نے اس سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یا رسول اللہ! یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں ان کو ختم کر دیا جائے تو کفر و شرک کا سر ٹوٹ جائے گا، تمام مشرکین پر ہیبت طاری ہو جائے گی، آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور خدا کے راستہ سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا۔ اور خدا کے آگے مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہو جائے گا کہ ہم نے خدا کے معاملہ میں اپنی قرابتوں اور مالی فوائد کی کچھ پروا نہیں کی اس لیے مناسب ہے کہ ان قیدیوں میں جو کوئی ہم میں سے کسی کا عزیز و قریب ہو، وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ الغرض بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابوبکر کے مشورہ پر عمل ہوا، کیونکہ کثرت رائے ادھر تھی اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم طبعی رافت و رحمت کی بناء پر اسی طرف مائل تھے اور ویسے بھی اخلاقی اور کلی حیثیت سے عام حالات میں وہ ہی رائے قرین صواب معلوم ہوتی ہے لیکن اسلام اس وقت جن حالات میں سے گزر رہا تھا، ان پر نظر کرتے ہوئے وقتی مصالح کا تقاضا یہ تھا کہ کفار کے مقابلہ میں سخت کمر شکن کارروائی کی جائے۔ تیرہ سال کے ستم کشوں کو طاغوت کے پرستاروں پر یہ ثابت کر دینے کا پہلا موقع ملا تھا کہ تمہارے تعلقات قرابت اموال جتھے اور طاقتیں اب کوئی چیز تم کو خدا کی شمشیر انتقام سے پناہ نہیں دے سکتی ابتداءً ایک مرتبہ ظالم مشرکین پر رعب و ہیبت بٹھلا دینے کے بعد نرم خوئی اور صلہ رحمی کے استعمال کے لیے آئندہ بہتیرے مواقع باقی رہتے تھے۔ ادھر ستر مسلمانوں کے آئندہ قتل پر راضی ہو جانا معمولی بات نہ تھی۔ اسی لیے اس رائے کو اختیار فرمانا وقتی مصالح اور ہنگامی حیثیت سے حق تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہ ہوا "ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض" میں اسی ناپسندیدگی کی طرف اشارہ ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ ایک سخت خطرناک اجتہادی غلطی قرار دی گئی۔ اور جن بعض لوگوں نے زیادہ تر مالی فوائد پر نظر کر کے اس سے اتفاق کیا تھا ان کو صاف طور پر "تریدون عرض الدنیا" سے خطاب کیا گیا۔ یعنی تم دنیا کے فانی اسباب پر نظر کر رہے ہو، حالانکہ مومن کی نظر انجام پر ہونی چاہیے۔ خدا کی حکمت مقتضی ہو تو وہ تمہارا کام اپنے زورِ قدرت سے ظاہری سامان کے بدون بھی کر سکتا ہے۔ بہرحال فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس وقت کے حالات کے اعتبار سے بڑی بھاری غلطی قرار دی گئی۔ اتنا یاد رکھنا چاہیے کہ روایات سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ محض صلہ رحمی اور رحم دلی کی بناء پر آپ کا رجحان اس رائے کی طرف تھا۔ البتہ صحابہ میں بعض صرف مالی فوائد کو پیش نظر رکھ کر اور اکثر حضرات دوسری مصالح دینیہ اور اخلاقی داعیہ کے ساتھ مالی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے یہ رائے پیش کر رہے تھے۔ گویا صحابہ کے مشورہ میں کلاً یا جزءً مالی حیثیت ضرور زیر نظر تھی کسی درجہ میں مالی فوائد کے خیال سے "بغض فی اللہ" میں کوتاہی کرنا اور اصل مقصد "جہاد" سے غفلت برتنا اور ستر مسلمانوں کے قتل کیے جانے پر اپنے اختیار سے رضامند ہو جانا صحابہ جیسے مقربین کی شان عالی اور منصب جلیل کے منافی سمجھا گیا۔ اسی لیے ان آیات میں سخت عتاب آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ لڑائی میں ایک شخص کے سر پر زخم آیا، اسے غسل کی حاجت ہوئی۔ پانی سر پر استعمال کرنا سخت مہلک تھا۔ ساتھیوں سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تیرے لیے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ اس نے غسل کر لیا اور فوت ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی فرمایا "قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ" الحدیث اس سے ظاہر ہوا کہ اجتہادی غلطی اگر زیادہ واضح اور خطرناک ہو تو اس پر عتاب ہو سکتا ہے۔ گویا یہ سمجھا جاتا ہے کہ مجتہد نے پوری قوت اجتہاد صرف کرنے میں کوتاہی کی۔

۶۸ ۔۔۔  یعنی یہ غلطی تو فی حدذاتہ ایسی تھی کہ سخت سزا ان لوگوں کو دی جاتی جنہوں نے دنیاوی سامان کا خیال کر کے ایسا مشورہ دیا مگر سزا دہی سے وہ چیز مانع ہے جو خدا پہلے سے لکھ چکا اور طے کر چکا ہے۔ اور وہ کئی باتیں ہو سکتی ہیں۔ (۱) مجتہد کو اس قسم کی اجتہادی خطاء پر عذاب نہیں ہو گا (۳) جب تک خدا امراً و نہیاً کسی چیز کا صاف حکم بیان نہ فرمائے اس وقت تک اس کے مرتکب کو عذاب نہیں دیتا (۳) اہل بدر کی خطاؤں کو خدا معاف فرما چکا ہے (۴) غلطی سے جو رویہ قبل از وقت اختیار کر لیا گیا یعنی فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا خدا کے علم میں طے شدہ تھا کہ آئندہ اس کی اجازت ہو جائے گی۔ اما منا بعد واما فداءً" (۵) یہ بھی طے شدہ ہے کہ جب تک پیغمبر علیہ السلام ان میں موجود ہیں یا لوگ صدق دل سے استغفار کرتے ہیں، عذاب نہ آئے گا (۶) ان قیدیوں میں سے بہت کی قسمت میں اسلام لانا لکھا گیا تھا۔ الغرض اس قسم کے موانع اگر نہ ہوتے تو یہ غلطی اتنی عظیم و ثقیل تھی کہ سخت عذاب نازل ہو جانا چاہیے تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس قولی تنبیہ کے بعد وہ عذاب جو اس طرح کی خوفناک غلطی پر آ سکتا تھا آپ کے سامنے نہایت قریب کر کے پیش کیا گیا۔ گویا یہ قولی تنبیہ کو زیادہ موثر بنانے کی ایک صورت تھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس منظر کو دیکھ کر وقف گریہ و بکا ہو گئے۔ حضرت عمر نے سبب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا ہے یعنی جس کا آنا ان پر ممکن تھا اگر موانع مذکورہ بالا نہ ہوتے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کے سامنے یہ پیش کرنا اسی قسم کا تھا جیسے صلوٰۃ کسوف ادا کرتے وقت آپ کے سامنے جنت و دوزخ دیوار قبلہ میں متمثل کر دی گئی تھی۔ یعنی اس متوقع عذاب کا نظارا کرانا تھا اور بس۔

۶۹ ۔۔۔  پچھلے عتاب و تہدید سے مسلمان ڈر گئے کہ مال غنیمت کو جس میں فدیہ اساری بھی شامل ہے، اب ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ اس آیت میں تسلی فرما دی کہ وہ اللہ کی عطاء ہے خوشی سے کھاؤ، ہاں جہاد کے سلسلہ میں مال غنیمت وغیرہ کو مطمح نظر بنانا یا اس قدر اہمیت دینا نہیں چاہیے کہ مقاصد عالیہ اور مصالح کلیہ سے اغماض ہونے لگے۔ بیشک وقتی حالات و مصالح کے اعتبار سے تم نے ایک غلط طریقہ کار اختیار کیا۔ مگر نفس مال میں کوئی خبث نہیں۔ خدا سے ڈرتے رہو گے تو وہ اپنی رحمت سے غلطیوں کو معاف فرما دے گا۔

۷۱ ۔۔۔  بعض قیدیوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا (مثلاً حضرت عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ) ان سے کہا گیا کہ اللہ دیکھے گا کہ واقعی تمہارے دل میں ایمان و تصدیق موجود ہے تو جو کچھ زر فدیہ اس وقت تم سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر تم کو مرحمت فرمائے گا، اور پچھلی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ اور اگر اظہار اسلام سے صرف پیغمبر کو فریب دینا مقصود ہے یا دغا بازی کرنے کا ارادہ ہے تو پیشتر خدا سے جو دغا بازی کر چکے ہیں، یعنی فطری عہدالست کے خلاف کفر و شرک اختیار کیا یا بعض "بنی ہاشم" جو ابوطالب کی زندگی میں عہد کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت پر متفق ہوئے تھے۔ اب کافروں کے ساتھ ہو کر آئے اس کا انجام آنکھوں سے دیکھ لیا کہ آج کس طرح مسلمانوں کی قید اور قابو میں ہیں۔ آئندہ بھی دغا بازی کی ایسی ہی سزا مل سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ سے اپنے دلوں اور نیتوں کو چھپا نہیں سکتے اور نہ اس کے حکیمانہ انتظامات کو روک سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "خدا کا وعدہ پورا ہوا، ان میں جو مسلمان ہوئے حق تعالیٰ نے بیشمار دولت بخشی، جو نہ ہوئے وہ خراب ہو کر تباہ ہو گئے۔"

۷۲ ۔۔۔  قیدیوں میں بعض ایسے تھے جو دل سے مسلمان تھے، مگر حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مکہ سے ہجرت نہ کر سکے اور بادل نخواستہ کفار کے ساتھ ہو کر بدر میں آئے۔ ان آیات میں یہ بتلانا ہے کہ ایسے مسلمانوں کا حکم کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت کے اصحاب دو فرقے تھے "مہاجرین" اور "انصار" مہاجرین کنبہ اور گھر چھوڑنے والے اور انصار جگہ دینے والے اور مدد کرنے والے۔ ان دونوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم کر دیا تھا آیت کا مضمون یہ ہوا کہ جتنے مسلمان حضرت کے ساتھ حاضر ہیں ان سب کی صلح و جنگ ایک ہے، ایک کا موافق سب کا موافق، ایک کا مخالف سب کا مخالف، بلکہ آغازِ ہجرت میں رشتہ مواخاۃ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ترکہ کا وارث بھی ہوتا تھا۔ اور جو مسلمان اپنے ملک میں رہے جہاں کافروں کا زور اور تسلط ہو۔ یعنی دارالحرب سے ہجرت نہ کی ان کی صلح و جنگ میں "دارالاسلام" کے رہنے والے مسلمان (مہاجرین و انصار) شریک نہیں۔ اگر دارالحرب کے مسلمانوں نے صلح و معاہدہ کسی جماعت کفار سے کر لیا تو دارالاسلام کے آزاد مسلمان اس معاہدہ کے پابند نہیں ہو سکتے، بلکہ ان سے حسب مصلحت جنگ کر سکتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ دارالحرب کے مسلمان جس وقت دینی معاملہ میں آزاد مسلمانوں سے مدد طلب کریں تو ان کو اپنے مقدور کے موافق مدد کرنا چاہیے۔ مگر جس جماعت سے ان آزاد مسلمانوں کا معاہدہ ہو چکا اس کے مقابلہ میں تابقائے عہد دارالحرب کے مسلمانوں کی امداد نہیں کی جا سکتی۔ نیز توریث باہمی کا سلسلہ جو مہاجرین و انصار میں قائم کیا گیا تھا، اس میں بھی دارالحرب کے مسلمان شامل نہیں تھے۔

۷۳ ۔۔۔  یعنی کافر و مسلم میں نہ حقیقی رفاقت ہے نہ ایک دوسرے کا وارث بن سکتا ہے۔ ہاں کافر، کافر کا رفیق و وارث ہے بلکہ سب کفار تم سے دشمنی کرنے کو آپس میں ایک ہیں، جہاں پائیں گے ضعیف مسلمانوں کو ستائیں گے اس کے بالمقابل اگر مسلمان ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار نہ ہوں گے یا کمزور مسلمان اپنے کو آزاد مسلمانوں کی معیت و رفاقت میں لانے کی کوشش نہ کریں گے تو سخت خرابی اور فتنہ بپا ہو جائے گا۔ یعنی ضعیف مسلمان مامون نہ رہ سکیں گے ان کا ایمان تک خطرہ میں ہو گا۔

۷۴ ۔۔۔ یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سردار کے ساتھ والے مسلمان اعلیٰ ہیں گھر بیٹھنے والوں سے۔ آخرت میں ان کے لیے بڑی بھاری بخشش ہے اور دنیا میں عزت کی روزی یعنی غنیمت اور دوسرے فائق حقوق۔

۷۵ ۔۔۔  ۱: یعنی مہاجرین میں جتنے بعد کو شامل ہوتے جائیں وہ سب باعتبار احکام "مہاجرین اولین" کی برادری میں منسلک ہیں ہجرت کے تقدم و تاخر کی وجہ سے صلح و جنگ یا توریث وغیرہ کے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہاں اگر قدیم مہاجرین کا کوئی رشتہ دار پیچھے مسلمان ہو یا بعد میں ہجرت کر کے آیا تو وہ اس قدیم مہاجر کی میراث کا زیادہ حق دار ہے اگرچہ رفاقت قدیم اوروں سے ہے۔

۲:   وہی جانتا ہے کہ کس کا کس قدر حق ہونا چاہیے لہٰذا اس کے احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں۔