تفسیر عثمانی

سُوۡرَةُ النَّازعَات

۱ ۔۔۔     یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کافر کی رگوں میں گھس کر اس کی جان سختی سے گھسیٹ کر نکالیں ۔

۲ ۔۔۔      یعنی جو فرشتے مومن کے بدن سے جان کی گرہ کھول دیں ، پھر وہ اپنی خوشی سے عالم پاک کی طرف دوڑے، جیسے کسی کے بند کھول دیے جائیں تو آزاد ہو کر بھاگتا ہے۔ مگر یاد رہے یہ ذکر روح کا ہے بدن کا نہیں نیک خوشی سے عالم قدس کی طرف دوڑتا ہے، بد بھاگتا ہے، پھر گھسیٹا جاتا ہے۔

 ۴ ۔۔۔       یعنی جو فرشتے روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بے روک ٹوک پانی پر تیر رہے ہیں ۔ پھر ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے تیزی کے ساتھ دوڑ کر آگے بڑھتے ہیں ۔

۵ ۔۔۔      یعنی اس کے بعد ان ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے ہر امر کی تدبیر و انتظام کرتے ہیں یا مطلقاً وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم تکون کی تدبیر و انًظام پر مسلط ہیں ۔ والظاہر ھو الاول۔ "والنازعات"" والنشطت" وغیرہ کی تعیین میں بہت اقوال ہیں ۔ ہم نے مترجم رحمۃ اللہ کے مذاق پر تقریر کر دی۔

۶ ۔۔۔       یعنی زمین میں بھونچال آئے۔ پہلی دفعہ صور پھنکنے سے۔

۷ ۔۔۔      حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ۔ "یعنی لگاتار (یکے بعد دیگرے) بھونچال چلے آئیں ، اور اکثر مفسرین نے " رادفۃ" سے صور کا دوسرا نفخہ مراد لیا ہے۔ واللہ اعلم۔

۹ ۔۔۔      یعنی اضطراب اور گھبراہٹ سے دل دھڑکتے ہوں گے اور ذلت و ندامت کے مارے آنکھیں جھک رہی ہوں گی۔

۱۲ ۔۔۔       یعنی "قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھری ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑ جائے گی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہو گی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا۔ " یہ تمسخر سے کہتے تھے۔ یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں ، نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔

۱ ۴ ۔۔۔  یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہو جائیں گے۔ جہاں ایک ڈانٹ پلائی، یعنی صور پھنکا اسی وقت بلا توقف سب الگے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے آگے اس کی ایک مختصر سی جھڑکی اور معمولی سی ڈانٹ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو دنیا میں ایک بڑے متکبر کو دی گئی تھی۔ یا یوں کہیے کہ ان منکرین کو سنایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے بڑے زبردست منکروں کا کیا حشر ہوا۔

۱۵ ۔۔۔     یہ قصہ کئی جگہ مفصل گزر چکا۔

۱۶ ۔۔۔  یعنی کوہ طور کے پاس۔

۱۹ ۔۔۔     یعنی اگر تجھے سنورنے کی خواہش ہو تو اللہ کے حکم سے سنوار سکتا ہوں اور ایسی راہ بتا سکتا ہوں جس پر چلنے سے تیرے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی کامل معرفت جم جائے کیونکہ خوف کا ہونا بدون کمال معرفت کے متصور نہیں ۔ معلوم ہوا حضرت موسیٰ کی بعثت کا مقصد فرعون کی اصلاح بھی تھی۔ محض بنی اسرائیل کو قید سے چھڑانا ہی نہ تھا۔

۲۰ ۔۔۔     یعنی وہاں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس پر حجت تمام کرنے کے لئے وہ سب سے بڑا معجزہ عصا کے اژدہا بننے کا دکھلایا۔

۲۲ ۔۔۔    یعنی وہ ملعون ماننے والا کہاں تھا۔ اس فکر میں چلا کہ لوگوں کو جمع کرے اور جادو گروں کو تلاش کر کے بلوائے کہ وہ موسیٰ کے معجزات کا مقابلہ کریں ۔

۲ ۴ ۔۔۔       یعنی سب سے بڑا رب تو میں ہوں ۔ یہ موسیٰ کسی کا بھیجا ہوا آیا ہے۔

۲۵ ۔۔۔      یعنی یہاں پانی میں ڈوبا، وہاں آگ میں جلے گا۔

۲۶ ۔۔۔       یعنی اس قصہ میں بہت سی باتیں سوچنے اور عبرت پکڑنے کی ہیں ۔ بشرطیکہ آدمی کے دل میں تھوڑا بہت ڈر ہو۔ (ربط) موسیٰ اور فرعون کا قصہ درمیان میں استطراداً آگیا تھا۔ آگے پھر اسی مضمون قیامت کی طرف عود کرتے ہیں ۔

۲۷ ۔۔۔      یعنی تمہارا قید کرنا (اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد) آسمان و زمین اور پہاڑوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل تو نہیں ۔ جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کا خالق اس کو مانتے ہو، پھر اپنی دوبارہ پیدائش میں کیوں تردد ہے۔

۲۹ ۔۔۔       یعنی آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا، کتنا مضبوط، کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب و منظم ہے، کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس نے سورج کی رفتار سے رات اور دن کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے میں ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔

۳۰ ۔۔۔       آسمان اور زمین میں پہلے کون پیدا کیا گیا؟ اس کے متعلق ہم پیشتر کسی جگہ کلام کر چکے ہیں ۔ غالباً سورہ "فصلت" میں (تنبیہ) "دحیٰ" کے معنی راغب نے کسی چیز کو اس کے مقر (جائے قرار) سے ہٹا دینے کے لکھے ہیں ۔ تو شاید اس لفظ میں ادھر اشارہ ہو جو آجکل کی تحقیق ہے کہ زمین اصل میں کسی بڑے جرم سماوی کا ایک حصہ ہے جو اس سے الگ ہو گیا۔ واللہ اعلم۔

۳۱ ۔۔۔   یعنی دریا اور چشمے جاری کئے۔ پھر پانی سے سبزہ پیدا کیا۔

۳۲ ۔۔۔      جو اپنی جگہ سے جنبش نہیں کھاتے اور زمین کو بھی بعض خاص قسم کے اضطرابات سے محفوظ رکھنے والے ہیں ۔

۳۳ ۔۔۔      یعنی یہ انتظام نہ ہو تو تمہارا اور تمہارے جانوروں کا کام کیسے چلے۔ ان تمام اشیاء کا پیدا کرنا تمہاری حاجت روائی اور راحت رسانی کے لئے ہے۔ چاہیے کہ اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے رہو۔ اور سمجھو کہ جس قادر مطلق اور حکیم برحق نے ایسے زبردست انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری بوسیدہ ہڈیوں میں روح نہیں پھونک سکتا۔ لازم ہے کہ آدمی اس کی قدرت کا اقرار کرے۔ اور اس کی نعمتوں کی شکر گذاری میں لگے ورنہ جب وہ بڑا ہنگامہ قیامت کا آئے گا اور سب کیا کرایا سامنے ہو گا سخت پچھتانا پڑے گا۔

۳۶ ۔۔۔     یعنی دوزخ کو اس طرح منظر عام پر لائیں گے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے گا۔ کوئی آڑ پہاڑ درمیان میں حائل نہ رہے گا۔

۳۸ ۔۔۔    یعنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اسے بہتر سمجھ کر اختیار کیا اور اسے بھلا دیا۔

 ۴۱ ۔۔۔     یعنی جو اس بات کا خیال کر کے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الٰہی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں ۔

 ۴۲ ۔۔۔   یعنی آخر وہ گھڑی کب آئے گی اور قیامت کب قائم ہو گی۔

 ۴ ۴ ۔۔۔      یعنی اس کا وقت ٹھیک متعین کر کے بتلانا آپ کا کام نہیں کتنے ہی سوال جواب کرو۔ آخرکار اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ۔ "پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچنا ہے، پیچھے سب بے خبر ہیں ۔

 ۴۵ ۔۔۔        یعنی آپ کا کام قیامت کی خبر سنا کر لوگوں کو ڈرا دینا ہے۔ اب جس کے دل میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ خوف ہو گا یا خوف آخرت کی استعداد ہو گی وہ سن کر ڈرے گا اور ڈر کر تیاری کرے گا۔ گویا آپ کا ڈرانا نتیجہ کے اعتبار سے صرف ان ہی لوگوں کے حق میں ہوا جو اس سے منتفع ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ ورنہ نا اہل لوگ تو انجام سے غافل ہو کر ان ہی فضول بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ قیامت کس تاریخ، کس دن، کس سن میں آئے گی۔

 ۴۶ ۔۔۔     یعنی اب تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں دیر کیوں ہے جلد کیوں نہیں آ جاتی۔ مگر اس وقت معلوم ہو گا کہ بہت جلد آئی۔ بیچ میں دیر کچھ نہیں لگی۔