تفسیر عثمانی

سُوۡرَةُ القَارعَة

۳ ۔۔۔      مراد قیامت ہے جو قلوب کو سخت فزع اور گھبراہٹ سے اور کانوں کو صوتِ شدید سے کھڑ کھڑا ڈالے گی۔ مطلب یہ ہے کہ حادثہ قیامت کے اس ہولناک منظر کا کیا بیان ہو۔ بس اس کے بعض آثار آگے بیان کر دیے جاتے ہیں جن سے اس کی سختی اور شدت کا قدرے اندازہ ہو سکتا ہے۔

 ۴ ۔۔۔      کہ ہر ایک ایک طرف کو بے تابانہ چلا جاتا ہے۔ گویا پروانوں کے ساتھ تشبیہ ضعف، کثرتِ بیتابی اور حرکت کی بے انتظامی میں ہوئی۔

۵ ۔۔۔     یعنی جیسے دھنیا اون یا روئی کو دھنک کر ایک ایک پھاہا کر کے اڑا دیتا ہے۔ اسی طرح پہاڑ متفرق ہو کر اڑ جائیں گے۔ اور رنگین اون سے شاید اس لئے تشبیہ دی کہ بہت کمزور اور ہلکی ہوتی ہے۔ نیز قرآن میں دوسری جگہ پہاڑوں کے رنگ بھی کئی قسم کے بیان فرمائے ہیں "ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلفا الوانھا وغرابیب سود" (فاطر۔ رکوع۴)

۷ ۔۔۔      یعنی جس کے اعمال وزنی ہوں گے وہ اس روز خاطر خواہ عیش و آرام میں رہے گا اور اعمال کا وزن اخلاص و ایمان کی نسبت سے ہو گا۔ دیکھنے میں کتنا ہی بڑا عمل ہو مگر اخلاص کی روح نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں کچھ وزن نہیں رکھتا۔ "فلا نقیم لھم یوم القیامۃ وزنا۔" (کھف۔ رکوع۱۲)

۱۱ ۔۔۔  یعنی جو عذاب اس طبقہ میں ہے کچھ آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتا بس اتنا سمجھ لو کہ ایک آگ ہے نہایت گرم دہکتی ہوئی جس کے مقابلہ میں گویا دوسری آگ کو گرم کہنا نہ چاہئے۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر وجوہ العذاب بفضلہ و منہ۔