تفسیر عثمانی

سُوۡرَةُ النَّمل

۴ ۔۔۔  یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مردِ طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔

 (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مواضع میں اضلال و ختم و طبع وغیرہ کی نسبت اس کی طرف ہوئی ہے۔ سورہ "نمل" کی ان ابتدائی آیات کا مضمون سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات سے بہت مشابہ ہے ان کو ایک مرتبہ مطالعہ کر لیا جائے۔

۵ ۔۔۔  یعنی وہاں سب سے زیادہ خسارہ میں یہ ہی لوگ ہوں گے۔

۶ ۔۔۔   یعنی اب بدبختوں کو تیہ ضلالت میں بھٹکنے دو۔ جب انہوں نے قرآن مبین کی قدر نہ پہچانی اور اس کی ہدایات و بشارات سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ ہی حشر ہونا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو خدا کا شکر کیجئے کہ اس علیم و حکیم کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو مرحمت کی گئی ہے جس سے ہر وقت تازہ باتازہ فوائد پہنچ رہے ہیں جس میں مومنین کے لیے بشارتیں ہیں اور مکذبین کو عبرتناک واقعات سنائے گئے ہیں تاکہ سچوں کا دل مضبوط و قوی ہو اور جھوٹ کی حمایت کرنے والے اپنی بدانجامی پر مطلع ہو جائیں۔ چنانچہ ان ہی اغراض کے لیے آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے۔

۷ ۔۔۔    ۱: یہ "مدین" سے جاتے ہوئے وادی "طویٰ" کے قریب پہنچ کر کہا جبکہ سخت سردی کی اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے مفصل واقعہ سورہ "طہٰ" کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کر لیا جائے۔

۲: یعنی راستہ کی خبر لاتا ہوں اگر آگ کے پاس کوئی موجود ہو ورنہ کم از کم سینکنے تاپنے کے لیے ایک انگارا لے آؤں گا۔

۸ ۔۔۔   ۱: وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ دنیا کی آگ نہیں، بلکہ غیبی اور نورانی آگ ہے جس کے اندر نورِ الٰہی ظاہر ہو رہا تھا، یا اس کی بجلی چمک رہی تھی۔ شاید وہ ہی ہو جس کو حدیث میں فرمایا "حِجَابُہُ النَّار" یا "حِجَابُہُ النُّوْرُ" پھر غیب سے آواز آئی۔ "اَنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا۔" یعنی زمین کا یہ ٹکڑا مبارک، آگ میں جو تجلی ہے وہ بھی مبارک، اور اس کے اندر یا اس کے آس پاس جو ہستیاں ہیں مثلاً فرشتے یا خود موسیٰ علیہ السلام وہ سب مبارک ہیں۔ یہ غالباً موسیٰ علیہ السلام کو مانوس کرنے کے لیے بطور اعزاز و اکرام کے فرمایا۔

۲: یعنی مکان، جہت، جسم، صورت اور رنگ وغیرہ سماعت حدوث سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ آگ میں اس کی تجلی کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ اس کی ذات پاک آگ میں حلول کر آئی؟ آفتابِ عالمتاب قلعی دار آئینہ میں متجلی ہوتا ہے لیکن کون احمق کہہ سکتا ہے کہ اتنا بڑا کرہ شمسی چھوٹے سے آئینہ میں سما گیا؟

۹ ۔۔۔  یعنی اس وقت تجھ سے کلام کرنے والا میں ہوں، یہ سب واقعہ مفصلاً سورہ "طہٰ" میں گزر چکا۔

۱۰ ۔۔۔  ۱: شاید ابتداء میں پتلا ہو گا، یا سرعت حرکت میں تشبیہ ہو گی، صغر جثہ میں نہیں۔

۲: یہ خوف طبعی تھا جو منافی نبوت تھا۔

۳: یعنی اس مقام حضور و اصطفاء میں پہنچ کر ایسی چیزوں سے ڈرنے کا کیا مطلب۔ مرسلین کو لائق نہیں کہ ہماری بارگاہِ قرب میں پہنچ کر لاٹھی یا سانپ یا کسی مخلوق سے ڈریں۔ وہاں تو دل کو انتہائی سکون و طمانیت حاصل ہونا چاہیے۔

۱۱ ۔۔۔   یہ استثناء منقطع ہے یعنی خدا کے حضور میں پہنچ کر خوف و اندیشہ صرف اس کو ہونا چاہیے جو کوئی زیادتی یا خطاء و تقصیر کر کے آیا ہو۔ اس کے متعلق بھی ہمارے ہاں یہ قاعدہ ہے کہ برائی کیے بعد اگر دل سے توبہ کر کے اپنی روش درست کر لی اور نیکیاں کر کے برائی کا اثر مٹا دیا تو حق تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "موسیٰ علیہ السلام سے چوک کر ایک کافر کا خون ہو گیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں، ان کو وہ معاف کر دیا۔"

۱۲ ۔۔۔    نو نشانیوں کا بیان سورہ "بنی اسرائیل" کی آیت "وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسیٰ تِسْعَ ایٰاتٍم بَیِّنَاتٍ فاَسْئَلْ بَنِی اِسْرَائیْلَ اِذَ جَآءَھمْ" الخ کے تحت میں دیکھو۔

۱۴ ۔۔۔  یعنی جب وقتاً فوقتاً ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے وہ نشانیاں دکھلائی گئیں تو کہنے لگے کہ یہ سب جادو ہے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ موسیٰ علیہ السلام سچے ہیں اور جو نشانیاں دکھلا رہے ہیں یقیناً خدائی نشان ہیں۔ جادو، شعبدہ اور نظر بندی نہیں مگر محض بے انصافی اور غرور تکبر سے جان بوجھ کر اپنے ضمیر کے خلاف حق کی تکذیب اور سچائی کا انکار کر رہے تھے، پھر کیا ہوا چند روز بعد پتہ لگ گیا کہ ایسے ہٹ دھرم مفسدوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ سب کو بحر قلزم کی موجوں نے کھا لیا، کسی کو گور و کفن بھی نصیب نہ ہوا۔

۱۵ ۔۔۔   ۱: حضرت سلیمان حضرت داؤد علیہ السلام کے صاحبزادہ ہیں۔ باپ بیٹے میں سے ہر ایک کو اس کی شان کے لائق اللہ تعالیٰ نے علم کا خاص حصہ عطا فرمایا۔ شرائع و احکام اور اصول سیاست و حکمرانی وغیرہ کے علوم سب اس لفظ کے تحت میں داخل ہو گئے۔

۲: حق تعالیٰ نے جو علم داؤد سلیمان علیہما السلام کو دیا تھا اسی کا اثر یہ تھا کہ حق تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرتے تھے۔ کسی نعمت الٰہی پر شکر ادا کرنا اصل نعمت سے بڑی نعمت ہے۔

۳:  "بہت سے" اس لیے کہا کہ بہت بندگانِ خدا کو ان پر فضیلت دی گئی ہے۔ باقی تمام مخلوق پر فضیلت کلی تو سارے جہان میں ایک ہی بندے کو حاصل ہوئی جن کا نام مبارک ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم۔

۱۶ ۔۔۔   ۱: یعنی داؤد کے بیٹوں میں سے ان کے اصل جانشین حضرت سلیمان علیہ السلام ہوئے جن کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہت دونوں جمع کر دیں اور وہ ملک عطا فرمایا جو ان سے قبل یا بعد کسی کو نہ ملا۔ جن، ہوا، اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر فرما دیا۔ جیسا کہ سورہ "سبا" میں آئے گا۔

۲:  اس بات کا انکار کرنا بداہت کا انکار ہو گا کہ پرندے جو بولیاں بولتے ہیں ان میں ایک خاص حد تک افہام و تفہیم کی شان پائی جاتی ہے۔ ایک پرند جس وقت اپنے جوڑے کو بلاتا یا دانہ دینے کے لیے اپنے بچوں کو آواز دیتا یا کسی چیز سے خوف کھا کر خبردار کرتا ہے، ان تمام حالات میں اس کی بولی اور لب و لہجہ یکساں نہیں ہوتا چنانچہ اس کے مخاطبین اس فرق کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے احوال و ضروریات کے وقت بھی ان کے چہچہوں میں (گو ہمیں کتنے ہی متشابہ و  متقارب معلوم ہوں) ایسا لطیف و خفیف تفاوت ہوتا ہو گا، جسے وہ آپس میں سمجھ لیتے ہوں گے۔ تم کسی پوسٹ آفس میں چلے جاؤ اور تار کی متشابہ کھٹ کھٹ گھنٹوں سنتے رہو، تمہارے نزدیک محض بے معنی حرکات و اصوات سے زیادہ وقعت نہ ہو گی۔ لیکن ٹیلیگراف ماسٹر فوراً بتا دے گا کہ فلاں جگہ سے فلاں آدمی یہ مضمون کہہ رہا ہے یا فلاں لیکچرار کی تقریر انہی تاروں کی کھٹکھٹاہٹ میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ کیونکہ وہ ان "فقرات تلغرافیہ" کی دلالت وضعیہ سے پوری طرح واقف ہے۔ علیٰ ہذا القیاس کیا بعید ہے کہ واضح حقیقی نے نغماتِ طیور کو بھی مختلف معانی و مطالب کے اظہار کے لیے وضع کیا ہو۔ اور جس طرح انسان کا بچہ اپنے ماں باپ کی زبان سے آہستہ آہستہ واقف ہوتا رہتا ہے، طیور کے بچے بھی اپنی فطری استعداد سے اپنے بنی نوع کی بولیوں کو سمجھنے لگتے ہوں اور بطور ایک پیغمبرانہ اعجاز کے حق تعالیٰ کسی نبی کو بھی ان کا علم عطا فرما دے۔ حیوانات کے لیے جزئی ادراکات کا حصول تو پہلے سے مسلم چلا آتا ہے لیکن یورپ کی جدید تحقیقات اب حیوانات کی عاقلیت کو آدمیت کی سرحد سے قریب کرتی جاتی ہے حتی کہ حیوانات کی بولیوں کی "ابجد" تیار کی جا رہی ہے۔ قرآن کریم نے خبر دی تھی کہ "ہر چیز اپنے پروردگار کی تسبیح و تحمید کرتی ہے جسے تم سمجھتے نہیں اور ہر پرندہ اپنی صلوٰۃ و تسبیح سے واقف ہے۔" احادیث صحیحہ میں حیوانات کا تکلم، بلکہ جماداتِ محضہ کا بات کرنا اور تسبیح پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اپنے خالق کی اجمالی مگر صحیح معرفت ہر چیز کی فطرت میں تہ نشین کر دی گئی ہے۔ پس ان کی تسبیح و تحمید یا بعض محاورات و خطابات پر بعض بندگانِ خدا کا بطور خرق عادت مطلع کر دیا جانا از قبیل محالاتِ عقلیہ نہیں۔ ہاں عام عادت کے خلاف ضرور ہے۔ سو اعجاز و کرامت اگر عام عادت اور معمول کے موافق ہوا کرے تو اعجاز و کرامت ہی کیوں کہلائے (خوارق عادت پر ہم نے مستقل مضمون لکھا ہے اسے ملاحظہ کر لیا جائے) بہرحال اس رکوع میں کوئی معجزے اس قسم کے مذکور ہیں۔ جن میں زائغین نے عجیب طرح کی رکیک اور لچر تحریفات شروع کر دی ہیں، کیونکہ بعض طیور کا اپنی بولی میں آدمیوں کے بعض علوم کو ادا کرنا، چیونٹیوں کا آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب بنانا اور سلیمان پیغمبر کا ان کو سمجھ لینا یہ سب باتیں ان کے نزدیک ایسی لغو اور احمقانہ ہیں جن پر ایک بچہ بھی یقین نہیں کر سکتا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ لاکھوں محققین اور علمائے سلف و خلف کی نسبت خیال کرتا کہ وہ ایسی کچی، لغو اور بدیہی البطلان باتوں کو جنہیں ایک بچہ اور گنوار بھی نہیں مان سکتا تھا۔ بلا تردید و تکذیب بیان کرتے چلے آئے اور ان اوہام کو رد کر کے مضمون آیات کی صحیح حقیقت جو تم پر آج منکشف ہوئی ہے کسی نے بیان نہ کی؟ یہ خیال ان باتوں سے بھی بڑھ کر لغو اور احمقانہ ہے جن کی لغویت کو تم تسلیم کرانا چاہتے ہو۔ علماء سے ہر زمانہ میں غلط فہمی یا خطاء و تقصیر ہو سکتی ہے، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ شب و روز کی جن محسوسات اور پیش پا افتادہ حقائق کو انسان کا بچہ بچہ جانتا ہے وہ صدیوں تک بڑے بڑے عقلمند اور محقق علماء کو ایک دن بھی نظر نہ آئی ہوں۔ یاد رہے کہ ہم اسرائیلی خرافات کی تائید نہیں کر رہے۔ ہاں جس حد تک اکابر سلف نے بلا اختلاف کلام الٰہی کا مدلول بیان کیا ہے اس کو ضرور تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ اسرائیلی روایات کے موافق پڑ جائیں یا مخالف۔

۳:  یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت و نبوت کے لیے جو چیزیں اور سامان درکار تھے وہ عطا فرمائے۔

۱۷ ۔۔۔  یعنی سلیمان علیہ السلام جب کسی طرف کوچ کرتے تو جن، انس، طیور تینوں قسم کے لشکروں میں سے حسب ضرورت و مصلحت ساتھ لیے جاتے تھے۔ اور ان کی جماعتوں میں خاص نظم و ضبط قائم رکھا جاتا تھا۔ مثلاً پچھلی جماعتیں تیز چل کر یا اڑ کر اگلی جماعتوں سے آگے نہیں نکل سکتی تھیں۔ نہ کوئی سپاہی اپنے مقام اور ڈیوٹی کو چھوڑ کر جا سکتا تھا۔ جس طرح آج بری، بحری اور ہوائی طاقتوں کو ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ کام میں لایا جاتا ہے۔

۱۸ ۔۔۔  ۱: یعنی سلیمان کا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایسے میدان کی طرف گزر ہوا جہاں چیونٹیوں کی بڑی بھاری بستی تھی۔ (تنبیہ) جہاں چیونٹیاں مل کر خاص سلیقہ سے اپنا گھر بناتی ہیں اسے زبان عرب میں "قریتہ النمل" کہتے ہیں۔ (چیونٹیوں کی بستی) مفسرین نے مختلف بلاد میں کئی ایسی وادیوں کا پتہ بتلایا ہے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت تھیں، ان میں سے کسی ایک پر حسب اتفاق حضرت سلیمان علیہ السلام کا گزر ہوا۔

۲: یعنی یہ ایسے تو نہیں جو جان بوجھ کر تم کو ہلاک کریں، ہاں ممکن ہے بے خبری میں پس جاؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "چیونٹی کی آواز کوئی (آدمی) نہیں سنتا، انہیں (سلیمان علیہ السلام کو) معلوم ہو گئی" یہ ان کا معجزہ ہوا۔ (تنبیہ) علمائے حیوانات نے سالہا سال جو تجربے کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حقیر ترین جانور اپنی حیاتِ اجتماعی اور نظام سیاسی میں بہت ہی عجیب اور شؤن بشریہ سے بہت قریب واقعہ ہوا ہے۔ آدمیوں کی طرح چیونٹیوں کے خاندان اور قبائل ہیں ان میں تعاون باہمی کا جذبہ، تقسیم عمل کا اصول اور نظام حکومت کے ادارات نوع انسانی کے مشابہ پائے جاتے ہیں۔ محققین یورپ نے مدتوں ان اطراف میں قیام کر کے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت ہیں بہت قیمتی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ افسوس ہے ان مختصر فوائد میں ان کی گنجائش نہیں۔ محض مقام کی مناسب سے "دائرۃ المعارف المصریہ" کے آخری جملے نقل کرتا ہوں۔ "فَمَتیٰ دَاہَمَ عَدُّوٌّ قَرْیَۃً لِلنَّمْلِ اِخْتَفَتِ الْنَمَلَۃُ وَخَرَجَتِ الْجُنُودُ لِلْقِتَالِ وَالنِّضَالِ فَیَخْرُجُ اَوْلَا وَاحِدٌ مِّنْہَا لِلْاِسْتِطْلاَعِ ثُمَّ یَعُودُ مُخْبِراً بِمَارَأ ی وَبَعْدَ ہَنِیْہَۃٍ تَخْرُجُ ثَلاَثَۃٌ اَوْ اَرْبَعْۃٌ یَتْبَعُہَا عَدَدٌ کَثِیْفٌ مِنَ الْجُیُوشِ بَادِیَۃً عَلَیْہِمْ عَلآئِمُ الْحَنَقِ فَتَلْدَعُ کُلَّ مَاصَادَفَتْہُ وَلَاتَفْلَتُ مَنْ تَلْدَغُہ، وَلَوْقَطَعَتْ اَرْباً ارباً فَاِذاً اِنْتَہیٰ الْقِتَالُ رَجَعَ الْفَعَلَۃُ فَاَعَادُوْ بِنَآء مَاتَہَدَّمَ یَتَخَلَّلُہَا عَدَدٌ مِنَ الْجُنُودِ لِلْحَرَاسَۃِ لَا لِلْعَمَلِ۔" متذکرہ جملوں میں بتلایا ہے کہ خطرہ کی آہٹ پا کر اول ایک چیونٹی باہر نکلتی اور واپس جا کر اپنی قوم کو اپنی معلومات سے آگاہ کرتی ہے۔ باقی سلیمان علیہ السلام کا پتہ لگا لینا اور سلیمان کا اس کی بات پر مطلع ہو جانا بطریق خرق عادت تھا۔

۱۹ ۔۔۔  ۱: اس چیونٹی کی بات سمجھ کر تعجب ہوا اور فرطِ سرورو نشاط سے ادائے شکر کا جذبہ جوش میں آیا۔

۲:  یعنی حیران ہوں تیرے انعاماتِ عظیمہ کا شکر کس طرح ادا کروں، پس آپ ہی سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے پورا شاکر بنا دیجئے زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں (جو انبیاء و مرسلین ہیں) محشور فرمائیے۔

۲۰ ۔۔۔    کسی ضرورت سے سلیمان علیہ السلام نے اڑنے والی فوج کا جائزہ لیا، ہدہد ان پر نظر نہ پڑا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد کو میں نہیں دیکھتا۔ آیا پرندوں کے جھنڈ میں مجھ کو نظر نہیں آیا، یا حقیقت میں غیر حاضر ہے؟ (تنبیہ) پرندوں سے حضرت سلیمان مختلف کام لیتے تھے مثلاً ہوائی سفر میں ان کا پرے باندھ کر اوپر سایہ کرتے ہوئے جانا، یا ضرورت کے وقت پانی وغیرہ کا کھوج لگانا، یا نامہ بری کرنا وغیرہ۔ ممکن ہے اس وقت ہدہد کی کوئی خاص ضرورت پیش آئی ہو۔ مشہور ہے کہ جس جگہ زمین کے نیچے پانی قریب ہو ہدہد کو محسوس ہو جاتا ہے اور یہ کچھ مستبعد نہیں کہ حق تعالیٰ کسی جانور کو کوئی خاص حاسہ انسانوں اور دوسرے جانوروں سے تیز عنایت فرما دے۔ اسی ہدہد کی نسبت معتبر ثقات نے بیان کیا کہ زمین میں جس جگہ مٹی کے نیچے کینچوا ہو اسے محسوس کر کے فوراً نکال لیتا ہے حتی کہ کبھی کبھی ایک دو بالشت زمین کھودتا ہے تب وہاں سے کینچوا نکلتا ہے۔

۲۱ ۔۔۔  ۱: مثلاً اس کے بال و پر نوچ ڈالوں گا۔

۲:  یعنی اپنی غیر حاضری کا واضح عذر پیش کرے۔

۲۲ ۔۔۔  حضرت سلیمان کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا۔ اب پہنچا۔ سبا ایک قوم کا نام ہے ان کا وطن عرب میں تھا "یمن" کی طرف (موضح القرآن) گویا ہدہد کے ذریعہ سے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ بڑے سے بڑے انسان کا علم بھی محیط نہیں ہو سکتا دیکھو جن کی بابت خود فرمایا تھا "وَلَقَدْ اٰتَیْنَادَاؤدَ وَسُلَیْمَانَ عِلْماً" ان کو ایک جزئی کی اطلاع ہدہد نے کی۔

۲۳ ۔۔۔   ۱: ہر ایک چیز میں، مال، اسباب، فوج، اسلحہ، اور حسن و جمال سب آگیا۔

۲:  یعنی اس ملکہ کے بیٹھنے کا تخت ایسا مکلف و مرصع اور بیش قیمت تھا کہ اس وقت کسی بادشاہ کے پاس نہ تھا، مفسرین ملکہ کا نام "بلقیس" لکھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

۲۴ ۔۔۔  یعنی وہ قوم مشرک آفتاب پرست ہے۔ شیطان نے ان کی راہ مار دی، اور مشرکانہ رسوم و اطوار کو ان کی نظر میں خوبصورت بنا دیا۔ اسی لیے وہ راہ ہدایت نہیں پاتے۔ ہدہد نے یہ کہہ کر گویا سلیمان علیہ السلام کو اس قوم پر جہاد کرنے کی ترغیب دی۔

۲۵ ۔۔۔  غالباً یہ ہُد ہُد کے کلام کا تتمہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جانور اپنے خالق کی صحیح معرفت فطرۃً رکھتے ہیں۔ یا بطور خرق عادت اسی ہدہد کو اس طرح کی تفصیلی معرفت عطا کی گئی ہو۔ خدا چاہے تو ایسی معرفت ایک خشک لکڑی میں پیدا کر دے۔ باقی جانوروں میں فطری طور پر اس قسم کی عقل و معرفت کا موجود ہونا جسے صدر شیرازی نے "اسفار اربعہ" میں "علم حضوری" یا "شعورِ بسیط" سے تعبیر کیا ہے اس کو مستلزم نہیں کہ ان کی طرف انبیاء مبعوث ہوں۔ کیونکہ یہ فطری معرفت کسبی نہیں، جبلی ہے۔ اور بعث انبیاء کا تعلق کسبیات سے ہوتا ہے نیز یہ صحیح نہیں کہ جس چیز میں کوئی درجہ عقل و شعور کا ہو وہ مکلف بھی ہو۔ مثلاً شریعت حقہ نے صبی کو مکلف قرار نہیں دیا۔ حالانکہ قبل از بلوغ اس میں خاصا درجہ عقل کا موجود ہے، اسی سے حیوانات کی عاقلیت کا اندازہ کر لو۔ (تنبیہ) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا۔ نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔" شاید اسی لیے یُخْرِجُ الْخَبْ کا خاص طور پر ذکر کیا۔ واللہ اعلم۔

۲۶ ۔۔۔  یعنی اس کے عرشِ عظیم سے بلقیس کے تخت کو کیا نسبت۔

۲۷ ۔۔۔  یعنی تیرے جھوٹ سچ کا امتحان کرتا ہوں۔

۲۸ ۔۔۔   یعنی سلیمان نے ایک خط لکھ کر ہدہد کے حوالہ کیا کہ ملکہ "سبا" کو پہنچا دے اور جواب لے کر آ۔ اور دیکھنا خط پہنچا کر وہاں سے ایک طرف ہٹ جانا۔ کیونکہ قاصد کا وہیں سر پر کھڑا رہنا آدابِ شاہانہ کے خلاف ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "یعنی آپ کو چھپا، لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ، ہدہد خط لے گیا، بلقیس جہاں اکیلی سوتی تھی۔ روزن میں سے جا کر اس کے سینہ پر رکھ دیا۔" (موضح)

۳۰ ۔۔۔    بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں اور درباریوں کو جمع کیا، کہنے لگی کہ میرے پاس یہ خط عجیب طریقہ سے پہنچا ہے جو ایک بہت بڑے معزز و محترم بادشاہ (سلیمان) کی طرف سے آیا ہے۔ غالباً حضرت سلیمان کا نام اور ان کی بے مثال حکومت و شوکت کا شہرہ پہلے سے سن چکی ہو گی۔

۳۱ ۔۔۔  ایسا مختصر، جامع اور پر عظمت خط شاید ہی دنیا میں کسی نے لکھا ہو۔ مطلب یہ تھا کہ میرے مقابلہ میں زور آزمائی سے کچھ نہ ہو گا۔ خیریت اسی میں ہے کہ اسلام قبول کرو اور حکم بردار ہو کر آدمیوں کی طرح سیدھی انگلیوں میرے سامنے حاضر ہو جاؤ۔ تمہاری شیخی اور تکبر میرے آگے کچھ نہ چلے گی۔

۳۲ ۔۔۔   یعنی مشورہ دو کیا جواب دیا جائے اور کیا کارروائی کی جائے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے میں کسی اہم معاملہ کا فیصلہ بدون تمہارے مشورہ کے نہیں کرتی۔

۳۳ ۔۔۔  یعنی ہمارے پاس زور و طاقت اور سامانِ حرب کی کمی نہیں۔ نہ کسی بادشاہ سے دبنے کی ضرورت، تیرا حکم ہو تو ہم سلیمان سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آگے تو مختار ہے سوچ سمجھ کر حکم دے۔ ہماری گردن اس کے سامنے خم ہو گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کی صلاح لڑائی کرنے کی تھی مگر ملکہ نے اس میں تعجیل مناسب نہ سمجھی اور ایک بین بین صورت اختیار کی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

۳۵ ۔۔۔  معلوم ہوتا ہے کہ مضمونِ خط کی عظمت و شوکت اور دوسرے قرائن و آثار سے بلقیس کو یقین ہو گیا کہ اس بادشاہ پر ہم غالب نہیں آ سکتے اور کم از کم اس کا قوی احتمال تو ضرور تھا۔ اس نے بتلایا کہ ایسی شان و شکوہ رکھنے والے بادشاہ سے لڑنا کھیل نہیں۔ اگر وہ غالب آ گئے (جیسا کہ قوی امکان ہے) تو ملوکِ و سلاطین کی عام عادت کے موافق تمہارے شہروں کو تہ و بالا کر کے رکھ دیں گے۔ اور وہ انقلاب ایسا ہو گا جس میں بڑے عزت والے سرداروں کو ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔ لہٰذا میرے نزدیک بہتر ہے کہ ہم جنگ کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ ان کی طاقت، طبعی، رجحانات، نوعیت حکومت اور اس بات کا پتہ لگائیں کہ ان کی دھمکیوں کی پشت پر کون سی قوت کار فرما ہے۔ اور یہ کہ واقعی طور پر وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں، اگر کچھ تحائف و ہدایا دے کہ ہم آنے والی مصیبت کو اپنے سر سے ٹال سکیں تو زیادہ اچھا ہو گا ورنہ جو کچھ رویہ معلوم ہو جائے گا ہم اس کے مناسب کارروائی کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ "بلقیس نے چاہا کہ اس بادشاہ کا شوق دریافت کرے کس چیز سے ہے۔ مال، خوبصورت آدمی، یا نادر سامان، سب قسم کی چیزیں تحفہ میں بھیجی تھی۔"

۳۶ ۔۔۔  یعنی یہ تحفہ تمہیں ہی مبارک رہے، کیا تم نے مجھے محض ایک دنیاوی بادشاہ سمجھا جو مال و متاع کا لالچ دیتے ہو، تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے جو روحانی و مادی دولت مجھے عطا فرمائی ہے وہ تمہارے ملک و دولت سے کہیں بڑھ کر ہے ان سامانوں کی ہمیں کیا پروا۔

۳۷ ۔۔۔  یعنی قیدی بنیں گے، جلا وطن ہوں گے اور ذلت و خواری کے ساتھ دولت و سلطنت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زور تھا جو یہ فرمایا۔

۳۸ ۔۔۔  قاصد نے واپس جا کر پیغام جنگ پہنچا دیا۔ بلقیس کو یقین ہو گیا کہ یہ کوئی معمولی بادشاہ نہیں ان کی قوت خدائی زور سے ہے۔ جدال و قتال سے کچھ فائدہ نہ ہو گا، نہ کوئی حیلہ اور زور ان کے روبرو چل سکتا ہے آخر اظہارِ اطاعت و انقیاد کی غرض سے بڑے سازو سامان کے ساتھ حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے روانہ ہو گئی۔ جب ملک شام کے قریب پہنچی، حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں سے فرمایا "کوئی ہے جو بلقیس کا تخت شاہی اس کے پہنچنے سے پیشتر میرے سامنے حاضر کر دے۔" اس میں بھی حضرت سلیمان کو کئی طرح بلقیس پر اپنی خدا داد عظمت و قوت کا اظہار مقصود تھا۔ تاکہ وہ سمجھ لے کہ یہ نرے بادشاہ نہیں، کوئی اور فوق العادت باطنی طاقت بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ (تنبیہ) "قَبْلَ اَنْ یَّاتُونِی مُسْلِمِیْنَ" سے معلوم ہوا کہ اسلام و انقیاد سے پہلے حربی کا مال مباح ہے۔

۳۹ ۔۔۔   ۱: حضرت سلیمان کا دربار روزانہ ایک معین وقت تک لگتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ آپ دربار سے اٹھ کر جائیں، میں تخت کو حاضر کر سکتا ہوں، مگر اس کو پھر کچھ عرصہ لگتا۔ حضرت سلیمان اس سے بھی زیادہ جلدی چاہتے تھے۔

۲:   "زور آور" ہوں، یعنی اپنی قوتِ بازو سے بہت جلد اٹھا کر لا سکتا ہوں، اللہ نے مجھ کو قدرت دی ہے اور "معتبر ہوں" یعنی اس میں خیانت نہ کروں گا۔ کہتے ہیں تخت بہت بیش قیمت تھا، سونے چاندی کا اور لعل و جواہر جڑے تھے۔

۴۰ ۔۔۔  ۱: راجح یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت سلیمان کا صحابی اور وزیر آصف بن برخیا ہے جو کتب سماویہ کا عالم اور اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر سے واقف تھا، اس نے عرض کیا کہ میں چشم زدن میں تخت کو حاضر کر سکتا ہوں۔ آپ کسی طرف دیکھئے، قبل اس کے آپ ادھر سے نگاہ ہٹائیں تخت آپ کے سامنے رکھا ہو گا۔

۲:  یعنی یہ ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا اللہ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے، جن سے ایسی کرامات ظاہر ہونے لگیں۔ اور چونکہ ولی کی خصوصاً  صحابی کی کرامت اس کے نبی کا معجزہ اور اس کے اتباع کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے حضرت سلیمان پر بھی اس کی شکر گزاری عائد ہوئی۔ (تنبیہ) معلوم ہوا کہ اعجاز و کرامت فی الحقیقت خداوند قدیر کا فعل ہے جو ولی یا نبی کے ہاتھ پر خلافِ معمول ظاہر کیا جاتا ہے۔ پس جس کی قدرت سے سورج یا زمین کا کرہ ایک لمحہ میں ہزاروں میل کی مسافت طے کر لیتا ہے اسے کیا مشکل ہے کہ تخت بلقیس کو پلک جھپکنے میں "مارَب" سے "شام" پہنچا دے۔ حالانکہ تخت بلقیس کو سورج اور زمین سے ذرہ اور پہاڑ کی نسبت ہے۔

۳: حضرت سلیمان ہر ہر قدم پر حق تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے اور ہمہ وقت شکر گزاری کے لیے تیار رہتے تھے گویا یہ "اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاؤدَ شُکْراً"کے حکم کی تعمیل تھی۔

۴:  یعنی شکر گذاری کا نفع شاکر ہی کو پہنچتا ہے کہ دنیا و آخرت میں مزید انعامات مبذول ہوتے ہیں، ناشکری کرے گا تو خدا کا کیا نقصان، وہ ہمارے شکریوں سے قطعاً بے نیاز اور بذاتِ خود کامل الصفات اور منبع الکمالات ہے۔ ہمارے کفرانِ نعمت سے اس کی کسی صفت کمالیہ میں کمی نہیں آ جاتی۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ ناشکروں کو فوراً سزا نہیں دیتا۔ ایسے کریم کی ناشکری کرنے والا پرلے درجہ کا بے حیا اور احمق ہے۔

۴۱ ۔۔۔  یعنی تخت کا رنگ روپ تبدیل کر دو۔ اور اس کی وضع و ہیئت بدل ڈالو، جسے دیکھ کر بلقیس باآسانی نہ سمجھ سکے۔ اس سے بلقیس کی عقل و فہم کو آزمانا تھا کہ ہدایت پانے کی استعداد اس میں کہاں تک موجود ہے۔

۴۲ ۔۔۔  ۱: نہ کہا کہ ہاں وہ ہی ہے اور نہ بالکل نفی کی، جو حقیقت تھی ٹھیک ٹھیک ظاہر کر دی تخت وہ ہی ہے مگر کچھ اوصاف میں فرق آگیا۔ اور فرق چونکہ متعدبہ نہیں اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ گویا وہ ہی ہے۔

۲: یعنی اس معجزہ کی حاجت نہ تھی، ہم کو پہلے ہی یقین ہو چکا تھا کہ سلیمان محض بادشاہ نہیں۔ اللہ کے مقرب بندہ ہیں اور اسی لیے ہم نے فرمانبرداری اور تسلیم و انقیاد کا راستہ اختیار کیا۔

۴۳ ۔۔۔  عنی حق تعالیٰ نے یا سلیمان علیہ السلام نے حق تعالیٰ کے حکم سے ملکہ بلقیس کو آفتاب وغیرہ کی پرستش سے روک دیا۔ جس میں وہ بمعیت اپنی قوم کے مبتلا تھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے تک جو اعلانیہ اسلام کا اظہار نہیں کیا اس کا سبب یہ ہے کہ جھوٹے معبودوں کے خیال اور قوم کفار کی تقلید و صحبت نے اس کو ایسا کرنے سے روک رکھا تھا۔ نبی کی صحبت میں پہنچ کر وہ روک جاتی رہی۔ ورنہ سلیمان علیہ السلام کی صداقت کا اجمالی علم اس کو پہلے ہی ہو چکا تھا۔

۴۴ ۔۔۔  ۱: یعنی پانی میں گھسنے کے لیے پائنچے چڑھا لیے جیسے عام قاعدہ ہے کہ پانی کی گہرائی پوری طرح پر معلوم نہ ہو تو گھسنے والا شروع میں پائنچے چڑھا لیتا ہے۔

۲: حضرت سلیمان علیہ السلام دیوان خانہ میں بیٹھے تھے۔ اس میں پتھروں کی جگہ شیشے کا فرش تھا۔ صاف شیشہ دور سے نظر آتا کہ پانی لہرا رہا ہے۔ اور ممکن ہے شیشہ کے نیچے واقعی پانی ہو، یعنی حوض کو شیشہ سے پاٹ دیا ہو۔ اس نے پانی میں گھسنے کے لیے پنڈلیاں کھولیں۔ سلیمان نے پکارا کہ یہ شیشے کا فرش ہے پانی نہیں۔ اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان کی عقل کا کمال معلوم ہوا۔ سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہ ہی صحیح ہو گا۔ اور یہ بھی پتہ لگ گیا کہ جس سازو سامان پر اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بڑھ کر سامان موجود ہے۔ گویا سلیمان علیہ السلام نے اس کو متنبہ فرما دیا کہ آفتاب و ستاروں کی چمک پر مفتون ہو کر انہیں خدا سمجھ لینا ایسا دھوکہ ہے جیسے آدمی شیشہ کی چمک دیکھ کر پانی گمان کر لے۔

۳:  یعنی اے پروردگار! میں تیری حکم بردار ہو کر سلیمان کا راستہ اختیار کرتی ہوں، اب تک میں نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا کہ شرک و کفر میں مبتلا رہی، اب اس سے تائب ہو کر تیری بارگاہ ربوبیت کی طرف رجوع کرتی ہوں۔

۴۵ ۔۔۔  یعنی ایک ایمان والے اور ایک منکر، جیسے مکہ کے لوگ پیغمبر کے آنے سے جھگڑنے لگے۔ قوم "ثمود" کے جھگڑنے کی قدرے تفصیل سورہ "اعراف" کی ان آیات میں گزر چکی۔ "قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ" الخ (اعراف، رکوع۱۰،آیت ۷۵)

۴۶ ۔۔۔  حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو بہت سمجھایا۔ ہر طرح فرمائش کی اور آخر میں عذاب کی دھمکی دی۔ جس پر وہ کہنے لگے "یَا صَالِحُ ائتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ" (اعراف، رکوع۱۰،آیت ۷۷) یعنی سچا ہے تو عذاب الٰہی ہم پر لے آ، دیر کس بات کی ہے۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ کم بختو! ایمان و توبہ اور بھلائی کی راہ تو اختیار نہیں کرتے جو دنیا و آخرت میں کام آئے۔ الٹے برائی طلب کرنے میں جلدی مچا رہے ہو۔ برا وقت آ پڑے گا تو ساری طمطراق ختم ہو جائے گی۔ ابھی موقع ہے کہ گناہوں سے توبہ کر کے محفوظ ہو جاؤ۔ کیوں توبہ و استغفار نہیں کرتے جو حق تعالیٰ عذاب کی جگہ اپنی رحمتیں تم پر نازل فرمائے۔

۴۷ ۔۔۔  ۱: یعنی جب سے تیرا منحوس قدم آیا ہے اور یہ باتیں شروع کی ہیں ہم پر قحط وغیرہ کی سختیاں پڑتی جاتی ہیں اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔

۲: یعنی یہ سختیاں یا برائیاں میری وجہ سے نہیں۔ تمہاری بدقسمتی سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری شرارتوں اور بد اعمالیوں کے سبب سے مقدر کی ہیں۔

۳: یعنی کفر کی شامت سے تم پر سختی پڑی ہے کہ دیکھیں سمجھتے ہو یا نہیں۔

۴۸ ۔۔۔  یہ نو شخص شاید نو جماعتوں کے سردار ہوں گے جن کا کام ملک میں فساد پھیلانے اور خرابی ڈالنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اصلاح و درستی کی طرف ان کا قدم کبھی نہ اٹھتا تھا۔ مکہ میں بھی کافروں کے نو سردار تھے جو ہمہ وقت اسلام کی بیخ کنی اور پیغمبر کی دشمنی میں ساعی رہتے تھے۔ بعض مفسرین نے ان کے نام لکھے ہیں۔

۴۹ ۔۔۔  یعنی آپس میں معاہدے اور حلف ہوئے کہ سب مل کر رات کو حضرت صالح کے گھر پر ٹوٹ پڑو اور کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ پھر جب کوئی ان کے خون کا دعویٰ کرنے والا ہو تو کہہ دینا ہمیں خبر نہیں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ اس کے گھر کی تباہی ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھی۔ گویا ہم خود تو ایسی حرکت کیا کرتے اس وقت موقع پر موجود بھی نہ تھے۔ اس طرح کی متفقہ سازش اور دروغ گوئی سے ہم میں ایک بھی ملزم نہ ٹھہر سکے گا جس سے ان کے حمایتی خون بہا وصول کریں۔

۵۰ ۔۔۔  ان کا مکر تو وہ جھوٹی سازش تھی اور خدا کا مکر تھا ان کو ڈھیل دینا کہ خوب دل کھول کر اپنی شرارتوں کی تکمیل کر لیں تاکہ مستحق عذابِ عظیم ہونے میں کوئی حجت و عذر باقی نہ رہے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم حضرت صالح کا قصہ ختم کر رہے ہیں، یہ خبر نہ تھی کہ اندر اندر ان ہی کی جڑ کٹ رہی ہے اور ان ہی کا قصہ ختم ہو رہا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "ان کی ہلاکت کے اسباب پورے ہونے تھے، شرارت جب تک حد کو نہ پہنچے ہلاکت نہیں آتی۔"

۵۱ ۔۔۔  ان نو اشخاص نے اول اتفاق کر کے اونٹنی کو ہلاک کیا۔ حضرت صالح نے فرمایا کہ اب تین دن سے زیادہ مہلت نہیں عذاب آ کر رہے گا۔ تب آپس میں ٹھہرایا کہ ہم تو خیر تین دن کے بعد ہلاک کیے جائیں گے ان کا تین دن سے پہلے ہی کام تمام کر دو۔ چنانچہ شب کے وقت حضرت صالح کے گھر پر چھاپہ مارنے اور ان کو مع اہل و عیال کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ نو آدمی اس ناپاک مقصد کے لیے تیار ہو کر نکلے باقی کفار ان کے تابع یا معین تھے۔ حق تعالیٰ نے حضرت صالح کی حفاظت فرمائی۔ فرشتوں کا پہرہ لگا دیا، آخر وہ تو عذاب سماوی سے تباہ ہوئے اور اپنے ساتھ قوم کو بھی تباہ کرایا۔

۵۲ ۔۔۔  ۱: مکہ والے شام کا سفر کرتے تو راستہ پر "وادی القریٰ" میں ثمود کی بستیوں کے کھنڈر دیکھتے تھے۔ "فَتِلْکَ بُیُوتُہُمْ خَاوِیَۃ" الخ میں ان ہی کی طرف اشارہ ہے۔

۲:  یعنی جانے والوں کو چاہیے کہ ان واقعات ہائلہ سے عبرت حاصل کریں۔

۵۳ ۔۔۔    یعنی حضرت صالح کے رفقاء جو ایمان لائے اور کفر و عصیان سے بچتے تھے۔ ہم نے ان کو عذاب کی لپیٹ سے بچا دیا۔ خدا کی قدرت ہے تو چن چن کر کافروں کو ہلاک کرتا ہے مومن کو نہیں چھوتا۔

۵۴ ۔۔۔  یعنی دیکھتے ہو کیسا برا اور گندہ کام ہے۔

۵۵ ۔۔۔   یعنی تم سمجھتے نہیں کہ اس بے حیائی کا انجام کیا ہونے والا ہے، پرلے درجہ کے جاہل اور احمق ہو۔

۵۶ ۔۔۔  یعنی اپنے کو بڑا پاک و صاف بنانا چاہتے ہیں۔ پھر ہم نا پاکوں میں ان کا کیا کام۔

۵۷ ۔۔۔   ۱: یعنی انہیں تباہ کر کے انہیں بچا لیا۔

۲:  یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو ان بدمعاشوں کی اعانت کرتی تھی وہ بھی ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ڈھیر ہو گئی۔

۵۸ ۔۔۔   یعنی آسمان سے پتھر برسائے اور شہر کا تختہ الٹ دیا۔ حضرت شاہ صاحب مذکورہ بالا تین قصوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان کے قصہ میں فرمایا "ہم لائیں گے لشکر جس کا سامنا نہ کر سکیں گے، وہ ہی بات ہوئی رسول میں اور مکہ والوں میں۔ اور حضرت صالح پر نو شخص متفق ہوئے کہ رات کو جا پڑیں۔ اللہ نے ان کو بچایا اور ان کو غارت کیا۔ مکہ کے لوگ بھی یہ ہی چاہ چکے، لیکن نہ بن پڑا، جس رات حضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کی، کتنے کافر حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا گھر گھیرے بیٹھے تھے کہ صبح کو اندھیرے میں نکلیں تو سب مل کر مار لیں (کسی ایک کو خون بہا نہ دینا پڑے) حضرت صلی اللہ علیہ و سلم صاف بچ کر نکل گئے۔ ان کو نہ سوجھا۔ اور قوم لوط نے چاہا کہ پیغمبر کو شہر سے نکال دیں، یہ ہی مکہ والے بھی چاہ چکے۔ اللہ نے آپ سے نکلنا بتایا کہ خود اپنے اختیار سے شہر چھوڑ کر نکل جاؤ۔ اور اسی میں کام نکالا۔"

۵۹ ۔۔۔   ۱: قصص سے فارغ ہو کر آگے " اللّٰہُ خَیْراً مَّا یُشْرِکُونَ" سے توحید کا بیان فرمانا ہے۔ یہ الفاظ بطور خطبہ کے تعلیم فرمائے جو بیان شروع کرنے سے قبل ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ "اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔" (موضح) اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے جو کمالات و احسانات اوپر بضمن قصص مذکور ہوئے ہیں ان پر پیغمبر کو حکم ہوا کہ اللہ کی حمد و ثنا کریں اور شکر بجا لائیں اور اس کے مقبول بندوں پر جن میں سے بعضوں کا اوپر نام لیا گیا ہے۔ سلام بھیجیں۔

۲:  یہاں سے توحید کا وعظ شروع کیا گیا ہے یعنی قصص مذکورہ بالا سن کر اور دلائل تکوینہ و تنزیلیہ میں غور کر کے تم ہی بتلاؤ کہ ایک خدائے وحدہٗ لا شریک لہٗ کا ماننا بہتر اور نافع اور معقول ہے یا اس کی خدائی میں اس کی عاجز ترین مخلوق کو شریک ٹھہرانا۔ یہ مسئلہ اب کچھ ایسا مشکل تو نہیں رہا جس کا فیصلہ کرنے میں کچھ وقت ہو یا دیر لگے۔ تاہم مزید تذکیر و تنبیہ کی غرض سے آگے اللہ تعالیٰ کی بعض شؤن و صفات بیان کی جاتی ہیں جو توحید پر دال ہیں۔

۶۰ ۔۔۔  ۱: سرے سے درختوں کا اگانا تمہارے اختیار میں نہیں۔ چہ جائیکہ اس کا پھل پھول لانا اور بار آور کرنا۔

۲: یعنی تمام دنیا جانتی ہے اور خود یہ مشرکین بھی مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنا، بارش برسانا، درخت اگانا بجزاللہ تعالیٰ کے کسی کا کام نہیں۔ چنانچہ دوسری جگہ قرآن میں ان کا اقرار و اعتراف مذکور ہے پھر یہاں پہنچ کر راستہ سے کیوں کترا جاتے ہیں۔ جب اللہ کے سوا کوئی ہستی نہیں جو خلق و تدبیر کر سکے یا کسی چیز کا مستقل اختیار رکھے تو اس کی الوہیت و معبودیت میں وہ کس طرح شریک ہو جائے گی۔ "عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے سو وہ اس کی ہونی چاہیے جو انتہائی درجہ میں کامل اور با اختیار ہو۔ کسی ناقص یا عاجز مخلوق کو معبودیت میں خالق کے برابر کر دینا انتہائی ظلم اور ہٹ دھرمی ہے۔

۶۱ ۔۔۔  ۱: یعنی آدمی اور جانوروں کی قیام گاہ ہے۔ آرام سے اس پر زندگی بسر کرتے اور اس کے محاصل سے منتفع ہوتے ہیں۔

۲: یعنی پہاڑ رکھ دیے تاکہ ٹھہری رہے کپکپائے نہیں۔

۳:  اس کی تحقیق قریب ہی سورہ "فرقان" میں گزر چکی۔ آیت "وَہُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ہَذٰا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَہَذٰا مِلْحٌ اُجَاجٌ، وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخاً وَّحِجْراً مَّحْجُوْراً۔"( الفرقان، رکوع ۵،آیت ۵۳ کا فائدہ ملاحظہ کر لیا جائے۔)

۴:  یعنی کوئی اور با اختیار ہستی ہے جس سے یہ کام بن پڑیں اور اس بناء پر وہ معبود بننے کے لائق ہو۔ جب نہیں تو معلوم ہوا کہ یہ مشرکین محض جہالت اور نا سمجھی سے شرک و مخلوق پرستی کے غار عمیق میں گرتے چلے جا رہے ہیں۔

۶۲ ۔۔۔  ۱:یعنی جب اللہ چاہے اور مناسب جانے تو بے کس اور بیقرار کی فریاد سن کر سختی کو دور کر دیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ "فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ۔" (انعام، رکوع۴، آیت ۴۱) گویا اسی نے دعا کو بھی اسباب عادیہ میں سے ایک سبب بنایا ہے۔ جس پر مسبب کا ترتب بمشیت الٰہی استجماعِ شروط اور ارتفاعِ موانع کے بعد ہوتا ہے اور علامہ طیبی وغیرہ نے کہا کہ آیت میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ سخت مصائب و شدائد کے وقت تو تم بھی مضطر ہو کر اسی کو پکارتے ہو اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتے ہو، پھر فطرت اور ضمیر کی اس شہادت کو امن و اطمینان کے وقت کیوں یاد نہیں رکھتے۔

۲:  یعنی ایک قوم یا نسل کو اٹھا لیتا اور اس کی جگہ دوسری کو آباد کرتا ہے جو زمین میں مالکانہ اور بادشاہانہ تصرف کرتے ہیں۔

یعنی پوری طرح دھیان کرتے تو دور جانے کی ضرورت نہ پڑتی انہی اپنی حوائج و ضروریات اور قوموں کے ادل بدل کو دیکھ کر سمجھ سکتے تھے جس کے ہاتھ میں ان امور کی باگ ہے تنہا اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔

۶۳ ۔۔۔   ۱: یعنی خشکی اور دریا کی اندھیریوں میں ستاروں کے ذریعہ سے تمہاری راہنمائی کرتا ہے۔ خواہ بلاواسطہ یا بالواسطہ قطب نما وغیرہ آلات کے۔

۲:  یعنی بارانِ رحمت سے پہلے ہوائیں چلاتا ہے جو بارش کی آمد آمد کی خوشخبری سناتی ہیں۔

۳:  یعنی کہاں وہ قادرِ مطلق اور حکیم برحق اور کہاں عاجز و ناقص مخلوق، جسے اس کی خدائی کا شریک بتلایا جا رہا ہے۔

۶۴ ۔۔۔   ۱: ابتداء پیدا کرنا تو سب کو مسلم ہے کہ اللہ کا کام ہے۔ موت کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کو بھی اس سے سمجھ لو۔ منکرین "بعث بعد الموت" بھی اتنا سمجھتے تھے کہ اگر بالفرض دوبارہ پیدا کیے گئے تو یہ کام اسی کا ہو گا جس نے اول پیدا کیا تھا۔

۲:  کون ہے جو آسمانی اور زمینی اسباب کے ذریعہ سے اپنی حکمت کے موافق تم کو روزی پہنچاتا ہے۔

۳:  یعنی اگر اتنے صاف نشانات اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی تم خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی قباحت کو تسلیم نہیں کرتے تو جو کوئی دلیل تم اپنے دعوے باطل کے ثبوت میں رکھتے ہو پیش کرو۔ ابھی تمہارا جھوٹ سچ کھل جائے گا۔ مگر وہاں دلیل و برہان کہاں محض اندھی تقلید ہے۔ "وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہاً اٰخَرَ لاَ بُرْہَانَ لَہ، بِہٖ فَاِنَّمَا حِسَابُّہ، عِنْدَ رَبِّہٖ" (مومنون، رکوع۶، آیت ۱۱۷)

۶۵ ۔۔۔  ۱: اس آیت میں مضمون سابق کی تکمیل اور مضمون لاحق کی تمہید ہے۔ شروع پارہ سے یہاں تک حق تعالیٰ کی قدرتِ تامہ اور ربوبیت کاملہ کا بیان تھا۔ یعنی جب وہ ان صفات و شؤن میں منفرد ہے تو الوہیت و معبودیت میں بھی منفرد ہونا چاہیے۔ آیت حاضرہ میں اس کی الوہیت پر دوسری حیثیت سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ یعنی معبود وہ ہو گا جو قدرتِ تامہ کے ساتھ علمِ کامل و محیط بھی رکھتا ہو۔ اور یہ وہ صفت ہے جو زمین و آسمان میں کسی مخلوق کو حاصل نہیں، اسی رب العزت کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس اس اعتبار سے بھی معبود بننے کی مستحق اکیلی اس کی ذات ہوئی۔ (تنبیہ) کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں، نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطائے الٰہی کے ہو سکتا ہے اور نہ مفاتیح غیب (غیب کی کنجیاں جن کا ذکر سورہ "انعام" میں گزر چکا) اللہ نے کسی مخلوق کو دی ہیں۔ ہاں بعض بندوں کو بعض عیوب پر باختیار خود مطلع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرما دیا، یا غیب کی خبر دے دی۔ لیکن اتنی بات کی وجہ سے قرآن و سنت نے کسی جگہ ایسے شخص پر "علم الغیب"، "فلان یعلم الغیب" کا اطلاق نہیں کیا۔ بلکہ احادیث میں اس پر انکار کیا گیا ہے۔ کیونکہ بظاہر یہ الفاظ اختصاص علم الغیب بذات الباری کے خلاف موہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے علمائے محققین اجازت نہیں دیتے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بندہ پر اطلاق کیے جائیں۔ گو لغۃً صحیح ہوں جیسے کسی کا یہ کہنا کہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَعْلَمُ الْغَیْبَ (اللہ کو غیب کا علم نہیں) گو اس کی مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے کوئی چیز غیب ہی نہیں، سخت ناروا اور سوءِ ادب ہے۔ یا کسی کا حق سے موت اور فتنہ سے اولاد اور رحمت سے بارش مراد لے کر یہ الفاظ کہنا "انی اکرہُ الحَق وَاُحِبُّ الْفِتْنَۃُ وَافِرُّ مِنَ الرَّحْمَۃِ" (میں حق کو برا سمجھتا ہوں اور فتنہ کو محبوب رکھتا ہوں اور رحمت سے بھاگتا ہوں) سخت مکروہ اور قبیح ہے، حالانکہ باعتبار نیت و مراد کے قبیح نہ تھا۔ اسی طرح فلان عالم الغیب وغیرہ الفاظ کو سمجھ لو اور واضح رہے کہ علم غیب سے ہماری مراد محض ظنون و تخمینات نہیں اور نہ وہ علم جو قرائن و دلائل سے حاصل کیا جائے۔ بلکہ جس کے لیے کوئی دلیل و قرینہ موجود نہ ہو وہ مراد ہے۔ سورہ انعام و اعراف میں اس کے متعلق کسی قدر لکھا جا چکا ہے۔ وہاں مراجعت کر لی جائے۔

۲: یعنی قیامت کب آئے گی جس کے بعد مردے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اس کی خبر کسی کو نہیں۔ پہلے سے مبداء کا ذکر چلا آتا تھا۔ یہاں سے معاد کا شروع ہوا۔

۶۶ ۔۔۔  یعنی عقل دوڑا کر تھک گئے، آخرت کی حقیقت نہ پائی۔ کبھی شک کرتے ہیں کبھی منکر ہوتے ہیں (موضح) اور بعض مفسرین نے یوں تقریر کی ہے کہ آخرت کے ادراک تک ان کے علم کی رسائی نہ ہوئی اور عدم علم کی وجہ سے صرف خالی الذہن رہے بلکہ اس کے متعلق شک و تردد میں پڑ گئے، اور نہ صرف شک و تردد بلکہ ان دلائل و شواہد سے بالکل آنکھیں بند کر لیں جن میں غور و تأمل کرتے تو شک رفع ہو سکتا تھا۔

۶۸ ۔۔۔  یعنی پہلے ہمارے بڑوں سے یہ ہی وعدے کیے گئے تھے۔ جو پہلے کہہ گئے ان ہی کی نقل آج یہ پیغمبر بھی اتار رہے ہیں۔ لیکن کتنے قرن گزر چکے ہم نے تو آج تک نہ دیکھا نہ سنا کہ کوئی مردہ مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہو اور اس کو سزا ملی ہو۔

۶۹ ۔۔۔   یعنی کتنے مجرموں کو دنیا ہی میں عبرتناک سزائیں مل چکی ہیں اور پیغمبروں کا فرمانا پورا ہو کر رہا۔ اسی پر قیاس کر لو کہ بعث بعد الموت اور عذابِ اخروی کی جو خبر انبیاء دیتے چلے آئے ہیں یقیناً پوری ہو کر رہے گی یہ کارخانہ یوں ہی بے سرا نہیں کہ اس پر کوئی حاکم نہ ہو، وہ اپنی رعایا کو یوں ہی مہمل نہ چھوڑے گا جب سب مجرموں کو یہاں پوری سزا نہیں ملتی تو یقیناً کوئی دوسری زندگی ہو گی جہاں ہر ایک اپنی کیف کردار کو پہنچے اگر تمہاری یہ ہی تکذیب رہی تو مکذبین کا جو انجام دنیا میں ہوا تمہارا بھی ہو سکتا ہے۔

۷۰ ۔۔۔    یعنی ان کو سمجھا کر اور بدی کے انجام پر متنبہ کر کے الگ ہو جائیے اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ بہت زیادہ غم و تاسف نہ کریں اور نہ ان کے مکرو فریب اور حق کے خلاف تدبیریں کرنے سے تنگدل اور خفا ہوں آپ اپنا فرض ادا کر چکے، اللہ تعالیٰ ایسے ضدی مجرموں سے خود نبٹ لے گا اور جس طرح پہلے مجرموں کو سزائیں دی گئی ہیں ان کو بھی دے گا۔

۷۱ ۔۔۔  یعنی آخر وہ قیامت کب آئے گی؟ اور جس عذاب کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کب نازل ہو گا؟

۷۲ ۔۔۔   یعنی گھبراؤ نہیں، وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ وعدہ کا کچھ حصہ قریب ہی آ لگا ہو (چنانچہ زیادہ دن نہ گزرے کہ "بدر" میں سزا کی ایک قسط پہنچ گئی) رہی قیامت کبریٰ، سو اس کے بھی بعض آثار و علامات ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔

۷۳ ۔۔۔  یعنی حق تعالیٰ اپنے فضل سے اگر عذاب میں تاخیر کرتا ہے تو چاہیے تھا اس مہلت کو غنیمت سمجھتے اور اس کی مہربانی کے شکر گزار ہو کر ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرتے لیکن وہ اس کے خلاف ناشکری کرتے اور اپنے منہ سے عذاب مانگتے ہیں۔

۷۵ ۔۔۔  یعنی تمہارے ظاہری و پوشیدہ اعمال، دلوں کے بھید نیتیں، ارادے اور زمین و آسمان کے چھپے سے چھپے راز سب اللہ تعالیٰ کے علم میں حاضر اور اس کے دفتر میں درج ہیں۔ ہر بات اسی کے موافق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہو گی۔ جلدی مچانے یا دیر لگانے سے کچھ حاصل نہیں۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے جلد یا بدیر اپنے وقت پر آئے گی اور ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت و عزم کے موافق پھل مل کر رہے گا۔

۷۷ ۔۔۔  یعنی ابھی عملی فیصلہ کا وقت نہیں آیا، البتہ قرآن قولی و عملی فیصلہ کے لیے آیا ہے۔ اس وقت سماوی علوم اور مذہبی چیزوں کے سب سے بڑے عالم "بنی اسرائیل" سمجھے جاتے تھے مگر عقائد، احکام اور قصص و روایات کے متعلق ان کے شدید اختلافات کا فیصلہ کن تصفیہ بھی قرآن نے سنایا۔ فی الحقیقت قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے دنیا کو خداوند قدوس کا آخری پیغام پہنچایا۔ اور ایمان لانے والوں کی رہبری کی تاکہ لوگ اس دن کے لیے تیاری کر رکھیں۔ جبکہ ہر معاملہ کا عملی فیصلہ ہو گا۔

۷۸ ۔۔۔  یعنی قرآن تو آیا ہے سمجھانے اور آگاہ کرنے کو، باقی تمام معاملات کا حکیمانہ اور حاکمانہ فیصلہ خدائے قادر و توانا کرے گا۔

۷۹ ۔۔۔  یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی کے اختلاف و تکذیب سے متاثر نہ ہوں۔ خدا پر بھروسہ کر کے اپنا کام کیے جائیں۔ جس صحیح و صاف راستہ پر ہو اور خدائے واحد پر بھروسہ رکھے پھر کیا غم ہے۔

۸۱ ۔۔۔   ‍۱: یعنی جس طرح ایک مردہ کو خطاب کرنا یا کسی بہرے کو پکارنا خصوصاً  جبکہ وہ پیٹھ پھیرے چلا جا رہا ہو اور پکارنے والے کی طرف قطعاً ملتفت نہ ہو ان کے حق میں سودمند نہیں یہ ہی حال ان مکذبین کا ہے جن کے قلوب مر چکے ہیں اور دل کے کان بہرے ہو گئے ہیں اور سننے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے کہ ان کے حق میں کوئی نصیحت نافع اور کارگر نہیں۔ ایک نپٹ اندھے کو جب تک آنکھ نہ بنوائے تم کس طرح راستہ یا کوئی چیز دکھلا سکتے ہو۔ یہ لوگ بھی دل کے اندھے ہیں اور چاہتے بھی نہیں کہ اندھے پن سے نکلیں۔ پھر تمہارے دکھلانے سے وہ دیکھیں تو کیسے دیکھیں۔

۲:   یعنی نصیحت سنانا ان کے حق میں نافع ہے جو سن کر اثر قبول کریں۔ اور اثر قبول کرنا یہ ہی ہے کہ خدا کی باتوں پر یقین کر کے فرماں بردار بنیں۔

۸۲ ۔۔۔  حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "قیامت سے پہلے صفا پہاڑ مکہ کا پھٹے گا اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک ہے اور سچے ایمان والوں کو اور چھپے منکروں کو نشان دے کر جدا کر دے گا۔" (موضح) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل آخر زمانہ میں طلوع الشمس من المغرب کے دن ہو گا۔ قیامت تو نام ہی اس کا ہے کہ عالم کا سب موجودہ نظام درہم برہم کر دیا جائے لہٰذا اس قسم کے خوارق پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے جو قیامت کی علاماتِ قریبہ اور اس کے پیش خیمہ کے طور پر ظاہر کی جائیں گی۔ شاید "دابۃ الارض" کے ذریعہ سے یہ دکھلانا ہو کہ جس چیز کو تم پیغمبروں کے کہنے سے نہ مانے تھے، آج وہ ایک جانور کی زبانی ماننی پڑ رہی ہے۔ مگر اس وقت کا ماننا نافع نہیں۔ صرف مکذبین کی تجہیل و تحمیق مقصود ہے۔ ماننے کا جو وقت تھا گزر گیا۔ (تنبیہ) "دابۃ الارض" کے متعلق بہت سے رطب و یابس اقوال و روایات تفاسیر میں درج کی گئی ہیں۔ مگر معتبر روایات سے تقریباً اتنا ہی ثابت ہے جو حضرت شاہ صاحب نے لکھا۔ واللہ اعلم۔

۸۳ ۔۔۔   ہر گناہ والوں کے جتھے اور جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے "فَہُمْ یُوزَعُونَ" کے معنی روکنے کے لیے ہیں۔ یعنی ہر امت کے مکذبین کو محشر کی طرف لے چلیں گے اور وہ اتنی کثرت سے ہوں گے کہ پیچھے چلنے والوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے گا۔ جیسے انبوہ کثیر میں انتظام قائم رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

۸۴ ۔۔۔  یعنی پوری طرح سمجھنے اور تمام اطراف و جوانب پر نظر ڈالنے کی کوشش بھی نہ کی، پہلے ہی جھٹلانا شروع کر دیا۔ یا بولو! ،یہ نہیں تو اور کیا کرتے تھے۔" یعنی اس کے سوا تمہارا کام ہی کیا تھا۔ اور ممکن ہے یہ مطلب ہو کہ بے سوچے سمجھے تکذیب ہی کی تھی؟ یا بولو! اس کے سوا اور بھی کچھ گناہ سمیٹے تھے۔

۸۵ ۔۔۔  یعنی ان کی شرارتوں کا یقینی ثبوت ہو چکا اور خدا کی حجت تمام ہو چکی۔ اب آگے وہ کیا بول سکتے ہیں۔ باقی بعض آیات میں جو ان کا عذر پیش کرنا مذکور ہے وہ شاید اس سے پہلے ہو چکے گا۔ بہرحال نفی و اثبات کو اختلاف مواطن پر حمل کیا جائے۔

۸۶ ۔۔۔  یعنی کیسے کھلے کھلے نشان اللہ تعالیٰ نے دنیا میں دکھلائے، پر ذرا بھی غور نہ کیا۔ ایک رات دن کے روزانہ ادل بدل ہی میں غور کر لیتے تو اللہ کی توحید پیغمبروں کی ضرورت اور بعث بعد الموت، سب کچھ سمجھ سکتے تھے۔ آخر وہ کون ہستی ہے جو ایسے مضبوط و محکم انتظام کے ساتھ برابر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کو نمودار کرتا ہے اور جس نے ہماری ظاہری بصارت کے لیے شب کی تاریکی کے بعد دن کا اجالا کیا، کیا وہ ہماری باطنی بصیرت کے لیے اوہام و اہواء کی تاریکیوں میں معرفت و ہدایت کی روشنی نہ بھیجتا۔ پھر رات کیا ہے؟ نیند کا وقت ہے جسے ہم موت کا ایک نمونہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد دن آیا پھر آنکھیں کھول کر ادھر ادھر پھرنے لگے۔ اسی طرح اگر حق تعالیٰ ہم پر موت طاری کرے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھا لے تو اس میں کیا استحالہ ہے۔ غرض یقین کرنے والوں کے لیے اسی ایک نشان میں تمام ضروری چیزوں کا حل موجود ہے۔

۸۷ ۔۔۔  ۱: صور پھونکنے والا فرشتہ اسرافیل ہے جو حکم الٰہی کے انتظار میں صور لیے تیار کھڑا ہے۔

۲: بعض روایات میں ہے کہ "اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰہُ" جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت ہیں۔ اور بعض نے شہداء کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔

۳:  حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں "ایک بار صور پھونکے گا جس سے خلق مر جائے گی۔ دوسرا پھونکے گا تو جی اُٹھیں گے اس کے بعد پھونکے گا تو گھبرا جائیں گے ، پھر پھونکے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے اور پھر پھونکے گا تو ہشیار ہوں گے۔ صور پھونکنا کئی بار ہے۔" (موضح) اور بہت سے علماء صرف دو نفخے مانتے ہیں یعنی کل دو مرتبہ پھونکے گا۔ اور سب احوال کو انہی دو میں درج کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

۸۸ ۔۔۔    ۱: یعنی جن بڑے بڑے پہاڑوں کو تم اس وقت دیکھ کر خیال کرتے ہو کہ ہمیشہ کے لیے زمین میں جمے ہوئے ہیں کبھی اپنی جگہ سے جنبش نہ کھا سکیں گے، قیامت کے دن یہ روئی کے گالوں کی طرح فضا میں اڑتے پھریں گے اور بادل کی طرح تیز رفتار ہوں گے۔ "وبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسّاً فَکَانَتْ ہَبَآءً مُّنْبَثّاً (واقعہ، رکوع۱،آیت ۶،۵) "وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنْفُوْشِ۔" (القارعہ، رکوع۱،آیت ۵) "فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّی نَسْفاً" (طہٰ، رکوع۵،آیت ۱۰۵) (تنبیہ) آیت ہذا کو زمین کی حرکت و سکون کے مسئلہ سے کچھ علاقہ نہیں جیسا کہ بعض متنورین نے سمجھا ہے۔

۲: یعنی جس نے ہر چیز کو نہایت حکمت سے درست کیا اسی نے آج پہاڑوں کو ایسا بھاری اور مضبوط بنایا ہے اور وہی ان کو ایک دن ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔ وہ اڑانا محض تباہ کرنے کی غرض سے نہ ہو گا بلکہ عالم کو توڑ پھوڑ کر اس درجہ پر پہنچانا ہو گا جہاں پہنچانے کے لیے ہی اسے پیدا کیا ہے۔ تو یہ اسی صانع حقیقی کی کاریگری ہوئی جس کا کوئی تصرف حکمت سے خالی نہیں۔

۳:  یعنی اس توڑ پھوڑ اور انقلاب عظیم کے بعد بندوں کا حساب کتاب ہو گا اور چونکہ حق تعالیٰ بندوں کے ذرہ ذرہ عمل سے خبردار ہے تو ہر ایک کو ٹھیک اس کے عمل کے موافق جزا و سزا دی جائے گی۔ نہ ظلم ہو گا نہ حق تلفی ہو گی۔ آگے اسی کے قدرے تفصیل ہے۔

۸۹ ۔۔۔  ۱: یعنی ایک نیکی کا بدلہ کم از کم دس نیکیوں کے حساب سے دیا جائے گا۔ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

۲:  یعنی بڑی گھبراہٹ سے کما قال تعالیٰ "لَایَحْزُنُہُمُ الْفَزْعُ الْاَکْبَرُ" (انبیاء، رکوع۷) اگر کم درجہ کی گھبراہٹ ہو تو اس آیت کے منافی نہیں۔

۹۰ ۔۔۔   یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ زیادتی نہیں۔ جو کرنا، سو بھرنا، خود کردہ را چہ علاج۔

۹۱ ۔۔۔   ۱: شہر سے مراد ہے مکہ معظمہ جسے خدا تعالیٰ نے معظم و محترم بنایا۔ اسی تخصیص و تشریف کی بناء پر رب کی اضافت اس کی طرف کی گئی ورنہ یوں ہر چیز کا رب اور مالک وہ ہی ہے۔

۲:  یعنی ان لوگوں میں رہوں جو حق تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنے والے اور اپنے کو ہمہ تن اس کے سپرد کر دینے والے ہیں۔

۹۲ ۔۔۔   ۱: یعنی بذاتِ خود اللہ کی بندگی اور فرمانبرداری کرتا رہوں اور دوسروں کو قرآن سنا کر اللہ کا راستہ بتلاتا رہوں۔

۲: یعنی میں نصیحت کر کے فارغ الذمہ ہو چکا، نہ سمجھو تو تمہارا ہی نقصان ہے۔

۹۳ ۔۔۔  ۱: یعنی اللہ کا ہزاراں ہزار شکر جس نے مجھ کو ہادی و مہتدی بنایا۔ فی الحقیقت تعریف کے لائق اسی کی ذات ہے۔ جس کو خوبی یا کمال ملا وہیں سے ملا۔

۲: یعنی آگے چل کر حق تعالیٰ تمہارے اندر یا تم سے باہر اپنی قدرت کے وہ نمونے اور میری صداقت کے ایسے نشان دکھلائے گا جنہیں دیکھ کر سمجھ لو گے کہ بیشک یہ اللہ کی وہ ہی آیات ہیں جن کی خبر پیغمبر نے دی تھی باقی اس وقت کا سمجھنا تم کو نافع ہو یا نہ ہو، جداگانہ چیز ہے۔ علامات قیامت وغیرہ سب اس کے تحت میں آ گئیں۔

۳: یعنی جو عمل اور معاملہ تم کرتے ہو، سب اس کی نظر میں ہے۔ اسی کے موافق آخرکار بدلہ ملے گا۔ اگر سزا وغیرہ میں تاخیر ہو تو نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ ہماری کرتوت سے بے خبر ہے، تم سورۃ النمل وللّٰہ الحمد والمنہ۔