دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ القَارعَة

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

 آیت ۱ میں  قیامت کے عظیم حادثہ کو القارعۃ (کھڑ کھڑانے والی آفت) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام اَلْقارِعَۃُ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعوت کے ابتدائی مرحلہ میں  نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

 قیامت کے عظیم حادثہ سے خبر دار کرنا ہے اور اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ اس روز کامیابی و ناکامی کے لیے معیار حسنِ عمل ہو گا۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵  میں  قیامت کی ہولناکی اور اس کے نتیجہ میں  پیدا ہونے والی صورت حال سے خبر دار کیا گیا ہے۔

 

آیت ۶ اور ۷ میں  ان لوگوں  کا حسنِ انجام بیان کیا گیا ہے جن کے عمال میزان عدل میں  بھاری ہوں  گے۔

 

آیت ۸ تا ۱۱ میں  ان لوگوں  کا انجام بیان کیا گیا ہے جن کے اعمال میزان عدل میں  ہلکے ہوں  گے۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کھڑ کھڑانے والی آفت ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی آفت ۲*

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں  کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑانے والی آفت کیا ۳* ہے ؟

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن جب لوگ بکھرے ہوۓ پتنگوں  کی طرح ہوں  گے ۴*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں  گے ۵*

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جس کی میزان بھاری ہو گی ۶*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دل پسند عیش میں  ہو گا۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ، اور جس کی میزان ہلکی ہو گی ۷*

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا ٹھکانہ ’’ہاویہ‘‘ ہو گا ۸*

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں  کیا معلوم کہ وہ کیا ہے ؟

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ دہکتی ہوئی آگ!۹*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ متن میں  لفظ ’’ القارعۃ ‘‘ استعمال ہوا ہے جو قیامت کے مختلف ناموں  میں  سے ایک نام ہے اس کے لفظی معنیٰ ہیں  ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی ، کھڑ کھڑانے والی عظیم آفت۔ قیمات کو ا س نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ظہور بہت بڑی آفت کی صورت میں  ہو گا اور جس طرح کوئی رات میں  آنے والا دروازے کو دستک دیتا ہے اور  سونے والے یکایک جاگ اٹھتے ہیں  اسی طرح یہ آفت اچانک آۓ گی جس کو دیکھ کر لوگ گھبرا اٹھیں  گے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سوال س لیے ہے تکہ لوگ غفلت سے بیدار ہوں۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سوال قیامت کی حقیقت اور اس کی ہولناکی سے آگاہ کرنے کے لیے ہے۔ یعنی اس آفت کو معمولی واقعہ خیال نہ کرو۔

 

قرآن قیامت کا ذکر جس وثوق کے ساتھ کرتا ہے اور اس کے جو احوال تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے وہ اس کی صداقت کی روشن دلیل ہے۔ آج آسمانی کتابوں  میں  کوئی تاب ایسی موجود نہیں  ہے جو قیامت کا اتنا واضح تصور اس تفصیل کے ساتھ پیش کرتی ہو۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن لوگ قبروں  سے متفرق طور پر نکل پڑیں  گے اور ان کے انتشار کا یہ حال ہو گا جیسے بکھرے ہوۓ پتنگے۔ اس انتشار کی تصویر سورہ قمر میں  اس طرح کھینچی گئی ہے :

 

خُشَّعاً اَبْصَارُ ھُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْآحْدَاثِ کَاَ نَّھُمْ جَرَ ا وٌ  مُّنْتَشِرٌ (القمر۔ ۷)

 

’’پست نگاہوں  کے ساتھ قبروں  سے اس طرح نکلیں  گے کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں  ہیں  ‘‘۔

 

انسان جب قبر سے اٹھے گا تو  نہ اس کے ساتھ اس کا خاندان ہو گا اور نہ ذات برادری کے لوگ بلکہ وہ اپنے کو ایک منتشر ہجوم اور ایک نۓ ماحول میں  پاۓ گا اور زمین و آسمان کو بدلا ہوا دیکھ کر اس پر سخت دہشت طاری ہو گی۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح دھنکی ہوئی اُون ریشہ ریشہ ہو کر ہوا میں  اڑتی ہے اسی طرح یہ بڑے بڑے پہاڑ قیامت کے دن ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں  اُڑ رہے ہوں  گے۔ اور جب ہمالیہ جیسے پہاڑ اس روز اُڑ رہے ہوں  تو کونسا قلعہ ، کونسا محل اور کون سی عمارت ہے جو زمین پر باقی رہ سکے گی ؟

 

منکرین قیامت کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ پہاڑ جیسی مضبوط چیز کو کیوں  کر اکھاڑ پھینکا جا سکتا ہے ؟ ان کا یہ تعجب خدا کی قدرت کا صحیح اندازہ نہ کرنے کی بناء پر تھا۔ ظاہر ہے جو خدا پہاڑوں  کو پیدا کرنے اور ان کو زمین میں  گاڑ دینے پر قادر ہے وہ ان کو ریزہ ریزہ کر کے ہوا میں  اڑا دینے پر کیوں  قادر نہ ہو گا ؟ موجودہ سائنسی اکتشافات کے دور میں  تو ان باتوں  کو سمجھنا بالکل آسان ہو گیا ہے۔ اگر یک ذرہ میں  اتنی قوت ہے کہ اس کو توڑنے Splitting کے نتیجہ میں  زبردست دھماکہ ہو سکتا ہے تو پہاڑوں  کے ذرات کو توڑنے Splitting  کے نتیجہ میں  قیامت کیوں  نہیں  برپا ہو سکتی ؟

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن اعمال تولے جائیں  گے اور ان کے تولنے کے لیے میزان (ترازو) قائم کی جاۓ گی۔ اس میزان میں  وہی اعمال وزنی قرار پائیں  گے جو حق کی بنیاد پر انجام دۓ گۓ ہوں  گے کیونکہ قیامت کے دن وزن صرف حق کو حاصل ہو گا جیسا کہ سورہ اعراف میں  فرمایا ہے  

 

وَا لْوَزْنُ یَوْ مَئِذٍالْحَقُّ ؕ ’’ وزن اس روز حق ہو گا۔ ‘‘ (الاعراف۔ ۸)

 

اور کامیابی کے لیے شرط یہ ہو گی کہ یہ میزان بھاری ہو اور کسی شخص کی میزان اسی سورت میں  بھاری ہو گی جب کہ اس نے عملی زندگی حق کی بنیاد پر بسر کی ہو گی اور جس شخص  کی نیکیوں  کی مقدار جتنی زیادہ ہو گی اتنی ہی زیادہ یہ میزان بھاری ثابت ہو گی۔

 

اس میزان عدل کا تعلق احوال آخرت ے ہے اور عالم آخرت کے زمان و مکان اور وہاں  کے پیمانے سب کچھ اس دنیا سے بہت مختلف ہوں  گے اس لیے ہم آخرت کی میزان عدل کی نوعیت کا پوری طرح اس دنیا میں  اندازہ نہیں  کر سکتے لہٰذا ہمیں  قرآن کے اجمالی بیان پر اکتفا کرنا چاہیے۔

 

اعمال کے تولے جانے میں  اگر حیرت کی کوئی بات تھی تو سائنس کی ایجادات نے اس کو بالکل ختم کر دیا ہے۔

 

کیونکہ کیفیتوں  کو ناپنے کے لیے مختلف قسم کے آلات ایجاد ہو گۓ ہیں  چنانچہ جسم کی حرارت کو جو ایک کیفیت ہی ہے تھرمامیٹر کے ذریعہ ناپا جاتا ہے۔ اسی طرح ہوا کے دباؤ کو معلوم کرنے کے یے بیرو میٹر (Barometer) استعمال کیا جتا ہے اور جب انسان کے لیے کیفیتوں  کا ناپنا ممکن ہو گیا ہے تو زمین و آسمان کے خالق کے لیے عمال کو تولنے والی میزان قائم کرنا کیا مشکل ہے ؟

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلکی میزان ان لوگوں  کی ہو گی جنہوں  نے باطل کی بنیاد پر زندگی بسر کی تھی ان کے اعمال خواہ وہ بظاہر کتنے ہی اچھے کیوں  نہ دکھائی دیتے ہوں  آخرت کی میزان عدل میں  بالکل بے وزن ہوں  گے کیونکہ باطل سرے سے کوئی وزن ہی نہیں  رکھتا۔ اسی طرح ’’  سیّئات ‘‘ برائیوں  کے لیے بھی عالم آخرت میں  بے وزنی کی کیفیت ہو گی۔ آج جب کہ یہ بات مشاہدہ میں  آ ہی ہے کہ جو چیز زمین پر وزن رکھتی ہے وہ خلا میں  بالکل بے وزن ہو جاتی ہے یہ باور کرنا کیا مشکل ہے کہ باطل پرستوں  کا ’’ کارنامہ حیات‘‘ دنیا والوں  کی نظروں  میں  کتنا ہی وزنی اور شاندار رہا ہو آخرت کی فضا میں  وہ بالکل بے وزن ثابت ہو جاۓ۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ھاوِیہ‘‘ کے معنیٰ گہرے گڑھے اور کھڈ کے ہیں۔ یہ جہنم کا نام ہے اور اسے اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت گہری ہو گی اور اس میں  دوزخ والوں  کو اوپر سے پھینک دیا جاۓ گا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہنم کا یہ عمیق گڑھا دہکتی ہوئی آگ سے بھرا ہوا ہو گا۔

 

جہنم کی وسعت، اس کی گہرائی اور اس کی غیر معمولی آگ کا حال سن کر کتنے ہی لوگ اسے ناقابل یقین خیال کرتے رہے ہیں  اور آج بھی کرتے ہیں  لیکن در حقیقت یہ ان کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی ہے ورنہ جہنم کا وجود ہر گز باعث حیرت نہیں۔ سورج کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کا درجہ حرارت ۲۷ ملین ڈگری فارن ہائیٹ، اس کا قطر زمین کے قطر سے ۱۰۹ تنا، اور اس کا حجم زمین کے حجم سے تین لاکھ تیتیس ہزار گنا بڑا ہے سورج در اصل گرم گیسوں   (Highly Heated Gases)کا مجموعہ ہے جس میں  زبردست مقناطیسی طوفان اٹھتے رہتے ہیں۔ سائنس کی فراہم کردہ ان معلومات سے سورج کی بے پناہ وسعت، اس کی بے اندازہ گہرائی اور اس کی زبردست حرارت ک بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ گویا سورج دنیا میں  جہنم کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے اور اس کو دیکھتے ہوۓ آخرت کی جہنم نہ صرف ممکن معلوم ہوتی ہے بلکہ اس کا یقین پیدا ہو جاتا ہے۔