تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ التّوبَة

(سورۃ توبۃ ۔سورہ نمبر ۹ ۔ تعداد آیات ۱۲۹)

 

؂۱۔۔۔     دست برداری کا اعلان ہے ، اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ، ان مشرکوں کو، جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا تھا،

۲۔۔۔      پس چل پھر لو تم لوگ (اے مشرکو!) اس سرزمین میں چار مہینے اور یقین جان لو کہ تم لوگ عاجز نہیں کر سکتے اللہ کو، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بہر حال رسوا کرنے والا ہے کافروں کو،

۳۔۔۔      اور صاف اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں کے لئے حج اکبر کے دن، کہ بے شک اللہ بری الذمہ ہے مشرکوں سے ، اور اس کا رسول بھی، پس اگر تم لوگوں نے توبہ کر لی تو یہ بہتر ہو گا خود تمہارے لئے ، اور اگر تم (پہلے کی طرح اب بھی) پھرے ہی رہے ، تو یقین جان لو کہ تم ایسے نہیں ہو کہ عاجز کر دو اللہ کو، اور خوشخبری سنا دو کافروں کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی،

۴۔۔۔      مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا، پھر انہوں نے نہ تو تمہارے ساتھ اپنے عہد کو نبھانے میں کوئی کمی کی، اور نہ ہی انہوں نے تمہارے خلاف کسی کی کوئی مدد کی، تو ان سے تم پورا کرو ان کا عہد ان کی مدت تک، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے پرہیزگاروں کو،

۵۔۔۔      پھر جب گزر جائیں حرمت والے مہینے تو تم قتل کرو ان مشرکوں کو جہاں بھی انہیں پاؤ انہیں پکڑو، ان کا گھیراؤ کرو، اور ان (کی خبر لینے ) کے لئے بیٹھ جاؤ ہر گھات میں ، پھر بھی اگر یہ لوگ توبہ کر لیں اور (اسلام لا کر) نماز قائم کریں ، اور زکوٰۃ ادا کریں ، تو تم خالی کر دو ان کا راستہ، بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ،

۶۔۔۔      اور اگر ان مشرکوں میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تو آپ اسے پناہ دے دیں ، یہاں تک کہ وہ لے اللہ کا کلام پھر اس کو پہنچا دو اس کی امن کی جگہ، یہ (رعایت) اس لئے ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو جانتے نہیں (حق اور حقیقت کو)

۷۔۔۔      کیسے ہو سکتا ہے مشرکوں کے لئے کوئی عہد اللہ اور اس کے رسول کے یہاں ؟ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس، سو جب تک وہ سیدھے رہیں تمہارے ساتھ تو تم بھی سیدھے رہو ان کے ساتھ، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے پرہیزگاروں کو،

۸۔۔۔      کیسے (اعتبار کیا جا سکتا ہے ان پر) جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں نہ کسی عہد کا، وہ تم کو راضی کرتے ہیں اپنے مونہوں سے ، مگر انکار کرتے ہیں ان کے دل، اور ان کی اکثریت بدکاروں کی ہے ،

۹۔۔۔      انہوں نے اپنا لیا اللہ کی آیتوں کے بدلے میں (دنیائے دوں کے ) تھوڑے سے (اور گھٹیا) مول کو، (اس طرح) وہ رکاوٹ بن گئے اللہ کی راہ میں ، یقیناً بڑے ہی برے یہں وہ کام جو یہ لوگ کر رہے ہیں ،

۱۰۔۔۔      یہ لحاظ نہیں کرتے کسی مومن کے بارے میں نہ کسی قرابت (رشتہ داری) کا، اور نہ کسی عہد (و پیمان) کا، اور یہی لوگ ہیں زیادتی کرنے والے ، (اور حد سے بڑھنے والے )

۱۱۔۔۔     سو اگر یہ لوگ توبہ کر لیں (اپنے کفر و باطل سے ) اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں ، اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنے احکام ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ،

۱۲۔۔۔      اور اگر توڑ دیں یہ لوگ اپنی قسموں کو اپنے عہد کے بعد، اور طعنہ زنی کریں تمہارے دین میں ، تو تم لڑو کفر کے ان پیشواؤں سے ، کوئی اعتبار نہیں ان کی قسموں کا، (اور ان سے لڑو) تاکہ یہ باز آ جائیں (اپنے کفر و باطل سے )

۱۳۔۔۔      کیا نہیں لڑو گے تم ایسے لوگوں سے ؟ جنہوں نے توڑ دیا اپنی قسموں کو، اور انہوں نے ٹھان لی (اپنے گھر سے ) نکال باہر کرنے کی اللہ کے رسول کو، اور انہوں نے ہی پہل کی تم سے زیادتی کرنے میں ، کیا تم اس سے ڈرتے ہو؟ سو اللہ زیادہ حقدار ہے اس کا کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم ایماندار ہو،

۱۴۔۔۔      لڑو تم ان سے ، اللہ ان کو عذاب دے گا خود تمہارے ہاتھوں ، وہ ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا، اور شفا بخشے گا ایمانداروں کے سینوں کو

۱۵۔۔۔     اور دور فرما دے گا ان کے دلوں کی جلن کو، اور وہ توبہ نصیب فرمائے گا جس کو چاہے گا، اور اللہ بڑا ہی جاننے والا، نہایت ہی حکمت والا ہے ،

۱۶۔۔۔      کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو دیکھا نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور انہوں نے اللہ، اس کے رسول، اور مومنوں کے سوا، اور کسی کو جگری دوست نہیں بنایا اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان سب کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو،

۱۷۔۔۔      مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو، (اور ان کے متولی و مجاور بنیں ) در آں حالیکہ وہ خود گواہی دے رہے ہیں اپنے اوپر کفر کی یہ وہ لوگ ہیں جن کے اکارت چلے گئے سارے عمل، اور ان کو ہمیشہ رہنا ہے دوزخ میں ،

۱۸۔۔۔      اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں ، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکوٰۃ، اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے ، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے ،

۱۹۔۔۔      کیا تم لوگوں نے (اے مشرکو!) حاجیوں کے پانی پلانے کو، اور مسجد حرام کی آباد کاری (یعنی اس کے مجاور و خادم بننے ) کو، اس شخص کے برابر ٹھہرا رکھا ہے جو ایمان رکھتا ہو، اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور وہ جہاد کرتا ہو اللہ کی راہ میں ؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے اللہ کے یہاں ، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو،

۲۰۔۔۔     جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے ہجرت کی، اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ، اپنے مالوں سے بھی، اور اپنی جانوں سے بھی، اللہ کے یہاں ان کا درجہ بہت بڑا ہے ، اور یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے ،

۲۱۔۔۔      ان کو خوشخبری سناتا ہے ان کا رب ایک عظیم الشان رحمت کی اپنی طرف سے ، اور ایک بڑی رضامندی، اور ایسی عظیم الشان جنتوں کی، جن میں ان کے لئے دائمی نعمتیں ہوں گی،

۲۲۔۔۔      جن میں ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہو گا ان کو، بے شک اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے ،

۲۳۔۔۔     اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! تم مت بناؤ اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو اپنا دوست، اگر وہ ترجیح دیں کفر کو ایمان پر، اور جو کوئی (اس کے باوجود) تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا، تو ایسے لوگ ظالم ہوں گے ،

۲۴۔۔۔      (ان سے ) کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارا کنبہ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور تمہاری وہ تجارت جس کے ماند پڑ جانے کا تمہیں اندیشہ لگا رہتا ہے ، اور تمہارے وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ سب کچھ) تمہیں زیادہ پیارا ہو اللہ اور اس کے رسول سے ، اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے ، تو تم انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم اور اللہ نور ہدایت سے نہیں نوازتا بدکار لوگوں کو،

۲۵۔۔۔      بلاشبہ اللہ مدد فرما چکا ہے تمہاری (اے مومنو!) بہت سے موقعوں میں ، اور حنین کے دن بھی، جب کہ تم غرے میں آ گئے تھے اپنی کثرت کی بناء پر، پھر تمہاری وہ کثرت تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکی، اور تنگ ہو گئی تم پر زمین اپنی فراخی کے باوجود، پھر تم لوگ بھاگ نکلے پیٹھ دے کر،

۲۶۔۔۔      پھر اللہ نے (اپنے کرم سے ) اتار دی اپنی سکینت اپنے رسول اور دوسرے اہل ایمان پر، اور اس نے اتار دیئے ایسے لشکر جو تمہیں نظر نہیں آ رہے تھے ، اور اس نے سزا دی کافروں کو، اور یہی ہے بدلہ کافروں کا،

۲۷۔۔۔      پھر اللہ توبہ کی توفیق نصیب فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے ، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ،

۲۸۔۔۔      ایمان والو! مشرک لوگ تو نرے پلید ہیں ، پس وہ مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں اپنے اس سال کے بعد، اور اگر تمہیں اندیشہ ہو مفلسی (و تنگدستی) کا، تو اللہ (سے امید رکھو کہ وہ) عنقریب تمہیں غنی بنا دے گا اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، بے شک اللہ بڑا ہی علم والا، نہایت ہی حکمت والا ہے ،

۲۹۔۔۔      تم لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر، اور نہ قیامت کے دن پر، اور نہ وہ حرام جانتے ہیں ان چیزوں کو جن کو حرام فرمایا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے ، اور نہ وہ قبول کرتے ہیں دین حق کو ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ، اور وہ رہیں ماتحت بن کر،

۳۰۔۔۔      اور (ان لوگوں کی شرکیات کا عالم یہ ہے کہ) یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ، اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ، یہ بے حقیقت باتیں ہیں ان کے مونہوں کی، یہ نقل کرتے ہیں ان کافروں کی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ، خدا ان کا ناس کرے ، یہ کدھر الٹے کئے جا رہے ہیں ؟

۳۱۔۔۔      انہوں اپنے عالموں اور اپنے پیروں کو اپنا رب بنا دیا اللہ کے سوا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ ان کو حکم نہیں ہوا تھا مگر اس بات کا کہ یہ لوگ بندگی کریں ایک ہی معبود کی (جو کہ برحق ہے ) کوئی بھی معبود نہیں سوائے اس (وحدہٗ لاشریک) کے ، پاک ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ،

۳۲۔۔۔      یہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں (کی پھونکوں ) سے مگر اللہ انکار کرتا ہے (ہر صورت کا) بجز اس کے کہ وہ پورا کر کے رہے اپنے نور کو، اگرچہ یہ امر برا لگے کافروں کو،

۳۳۔۔۔      وہ (اللہ) وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو غالب کرے تمام دینوں پر، اگرچہ یہ امر برا لگے مشرکوں کو۔

۳۴۔۔۔     ایمان والو، یقیناً بہت سے عالم اور پیر ایسے ہیں جو کھاتے ہیں لوگوں کا مال باطل (اور ناحق) طریقوں سے ، اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے ، اور جو لوگ جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو، اور وہ ان کو خرچ نہیں کر تے اللہ کی راہ میں ، تو خوشخبری سنا دو ان کو ایک دردناک عذاب کی۔

۳۵۔۔۔     جس دن تپایا جائے گا ان کو دوزخ کی آگ میں ، پھر انکے ذریعے داغا جائے گا ان لوگوں کی پیشانیوں ، پیٹھوں ، اور پہلوؤں کو (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ کچھ جو تم لوگ جوڑ جوڑ کر رکھا کر تے تھے اپنی جانوں کے لیے ، سو اب چکھو مزہ تم لوگ اپنی اس دولت کا جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے ۔

۳۶۔۔۔      بلاشبہ مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں ،(اس دن سے ) جس دن کہ پیدا فرمایا اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو، ان میں سے چار مہینے (عزت و حرمت) والے ہیں ، یہی ہے سیدھا دین، پس تم لوگ مت ظلم کرو، ان مہینوں کے بارے میں اپنی جانوں پر، اور لڑو تم مشرکوں سے مل کر، اور یقین جانو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

۳۷۔۔۔     یہ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں (ترقی اور) زیادتی کے سوا کچھ نہیں ، اس کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے عام کافروں کو، یہ اس کو حلال کر لیتے ہیں ایک سال، اور حرام کر لیتے ہیں دوسرے سال، تاکہ اس طرح یہ گنتی پوری کر لیں ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرام قرار دیا، سو اس طرح یہ لوگ حلال ٹھہراتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے حرام قرار دیا، خوشنما بتا دیا گیا ان کے برے اعمال کو، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا کافر لوگوں کو،

۳۸۔۔۔      ایمان والو! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو تم اللہ کی راہ میں ، جہاد و قتال کے لئے تو تم گرے جاتے ہو زمین پر، کیا تم لوگ راضی ہو گئے آخرت کے مقابلے میں اسی (چند روزہ) دنیاوی زندگی پر؟ سو (واضح رہے کہ) دنیاوی زندگی کا یہ متاع فانی تو آخرت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے ،

۳۹۔۔۔      اگر تم لوگ نہیں نکلو گے ، تو اللہ تمہیں مبتلا کر دے گا ایک دردناک عذاب میں ، اور وہ لے آئے گا تمہاری جگہ کسی اور قوم کو تمہارے سوا، اور تم اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے ، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ،

۴۰۔۔۔      اگر تم لوگوں نے پیغمبر کی مدد نہ کی تو اللہ (خود ہی ان کی مدد کو کافی ہے سو وہ) اس وقت بھی ان کی مدد کر چکا ہے جب کہ ان کو نکال دیا تھا کافروں نے (ان کے گھر بار سے ) جب کہ وہ دو میں کے دوسرے تھے ، جب کہ وہ دونوں غار میں تھے ، جب کہ وہ فرما رہے تھے اپنے ساتھی سے ، کہ غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے ، پھر اللہ نے اتار دی ان پر اپنی سکینت اور ان کی مدد فرمائی ایسے لشکروں کے ذریعے جو تم کو نظر نہیں آ رہے تھے ، اور اس نے کر دیا کافروں کے بول کو نیچا، اور اللہ کا بول تو ہے ہی اونچا، اور اللہ سب پر غالب، بڑا ہی حکمت والا ہے ،

۴۱۔۔۔      نکلو تم خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی، یہ خود تمہارے ہی لئے بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو

۴۲۔۔۔      اگر کوئی مال ہوتا نزدیک کا، اور سفر ہوتا ہلکا، تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے لیکن ان کو بہت دور لگا یہ کٹھن راستہ، اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا، تو ہم ضرور نکلتے آپ لوگوں کے ساتھ، یہ لوگ خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اپنے آپ کو اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں ،

۴۳۔۔۔      اللہ نے معاف فرما دیا آپ کو (اے پیغمبر!) آپ نے ان کو کیوں اجازت دے دی یہاں تک کہ کھل کر آپ کے سامنے آ جاتے وہ لوگ جو سچے ہیں اور آپ جان لیتے جھوٹوں کو،

۴۴۔۔۔      وہ لوگ تو آپ سے اجازت مانگتے ہی نہیں جو (صدق دل سے ) ایمان رکھتے ہیں ، اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ، اور اللہ خوب جانتا ہے پرہیزگاروں کو،

۴۵۔۔۔      آپ سے اجازت تو بس وہی لوگ مانگتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر، اور قیامت کے دن پر اور شک (کی دلدل) میں پڑے ہیں ان کے دل، پس اپنے شک میں ہی پڑے بھٹک رہے ہیں ،

۴۶۔۔۔      اور اگر واقعی ان کا نکلنے کا ارادہ ہوتا تو یہ اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان تو ضرور تیار کرتے لیکن اللہ کو اٹھنا پسند نہ تھا تو اس نے بٹھا دیا ان (کے دلوں ) کو، اور کہہ دیا گیا (ان سے تکوینی طور پر) کہ بیٹھے رہو تم بیٹھنے والے (محروم) لوگوں کے ساتھ،

۴۷۔۔۔      اگر وہ تمہارے اندر شامل ہو کر نکلتے بھی تو تمہارے اندر خرابی کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے ، اور وہ ضرور دوڑ دھوپ کرتے تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی، اور اب تمہارے درمیان ان کے لئے سننے والے موجود ہیں ، اور اللہ خوب جانتا ہے ایسے ظالموں کو،

۴۸۔۔۔      انہوں نے یقیناً اس سے پہلے بھی فتنہ پردازی کرنا چاہی تھی، اور یہ الٹ پھیر کر چکے ہیں طرح طرح کی کاروائیوں کا آپ (کی ضرر رسانی) کے لئے ، یہاں تک کہ آگیا حق، اور غالب ہو کر رہا اللہ کا حکم، اور یہ (جلتے اور) کڑھتے ہی رہے ،

۴۹۔۔۔      اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے اجازت دے دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے ، آگاہ رہو کہ فتنے میں تو یہ لوگ واقعی پڑ گئے ہیں ، اور یقیناً جہنم نے پوری طرح گھیرے میں لے رکھا ہے کافروں کو،

۵۰۔۔۔      اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آئے تو ان کو یہ امر برا لگتا ہے اور اگر کوئی مصیبت پڑ جائے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کر لیا تھا، اور یہ لوٹتے ہیں خوشیاں کرتے ہوئے ،

۵۱۔۔۔      (ان احمقوں سے ) کہو کہ ہمیں ہرگز نہیں پہنچاتا مگر وہ کچھ جو کہ اللہ نے ہمارے لئے لکھ رکھا ہے ، وہی ہمارا کار ساز ہے ، اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے ، سب ایمانداروں کو،

۵۲۔۔۔      (ان سے ) کہو کہ تم لوگ ہمارے بارے میں انتظار نہیں کرتے مگر دو بھلائیوں میں سے ایک کا، جب کہ ہم تمہارے بارے میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تم پر واقع کر دے کوئی عذاب (براہ راست) اپنی طرف سے ، یا ہمارے ہاتھوں سے دلوائے ، سو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہیں ،

۵۳۔۔۔      (ان سے ) کہو کہ خواہ تم لوگ خوشی سے خرچ کرو، یا ناگواری سے ، بہرحال تم سے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا کہ تم لوگ پکے کردار کے لوگ ہو

۵۴۔۔۔      اور ان کے دیئے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی وجہ سے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہوں نے کفر کیا اللہ (جل شانہ) کے ساتھ، اور اس کے رسول (برحق) کے ساتھ، اور (اس باطنی کفر کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ) یہ لوگ نماز پڑھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے ، اور یہ خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ،

۵۵۔۔۔      پس تعجب میں نہ ڈالنے پائیں آپ کو ان لوگوں کے مال، اور نہ ہی ان کی اولا دیں ، سوائے اس کے نہیں کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو عذاب دے انہی چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں ، اور ان کا دم نکلے تو کفر ہی کی حالت میں نکلے ،

۵۶۔۔۔      اور یہ لوگ خدا کی قسمیں کھا کھا کر تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ تم ہی لوگوں میں سے ہیں ، حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں ، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ڈرتے ہیں ،

۵۷۔۔۔      (اور یہ مجبور ہیں ورنہ) اگر ان کو مل جائے کوئی پناہ گاہ، یا کوئی غار، یا کوئی گھس بیٹھنے کی جگہ ہی، تو یہ اس کی طرف سرپٹ دوڑ پڑیں ،

۵۸۔۔۔      اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ پر (اے پیغمبر!) عیب لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں ، اگر ان کو ان میں سے (ان کی مرضی کے مطابق) کچھ مال جائے تو یہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو یہ لوگ یکایک بگڑ جاتے ہیں ،

۵۹۔۔۔     اور اگر یہ راضی ہو جاتے اس پر جو ان کو عطا فرمایا تھا اللہ نے اور اس کے رسول نے ، اور کہتے کہ کافی ہے ہم کو اللہ، عنقریب ہی اللہ ہمیں (اور بہت کچھ) دے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی، بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں (تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا)

۶۰۔۔۔      سوائے اس کے نہیں کہ یہ صدقات حق ہیں فقیروں ، مسکینوں ، اور ان کے کارکنوں کا، جو ان کے جمع کرنے پر مقرر ہیں ، اور ان کے لئے کہ جن کی دلجوئی کرنی ہوتی ہے ، اور گردنوں کے چھڑانے ، اور قرضداروں کی مدد میں ، اللہ کی راہ میں ، اور مسافر نوازی میں ، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ کے طور پر، (اس کو ادا کرو) اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے ،

۶۱۔۔۔      اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کے پیغمبر کو اور کہتے ہیں کہ یہ صاحب تو بس نرے کان ہیں ، (ان سے ) کہو کہ وہ کان ہیں خیر کے تمہارے لئے ، ایمان رکھتے ہیں اللہ پر، اور اعتماد کرتے ہیں ایمانداروں پر اور وہ سراسر رحمت ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان (کی دولت) رکھتے ہیں تم میں سے ، اور جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو، ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے ،

۶۲۔۔۔      یہ لوگ تمہارے لئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں ، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس کے کہیں زیادہ حق دار ہیں کہ یہ انہیں راضی کریں اگر یہ ایماندار ہیں ،

۶۳۔۔۔      کیا ان لوگوں کو یہ طے شدہ حقیقت معلوم نہیں کہ جو بھی کوئی مخالفت کرے گا، اللہ اور اس کے رسول کی، تو اس کے لئے دوزخ کی وہ آگ تیار ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہو گا، یہی ہے بڑی رسوائی،

۶۴۔۔۔      منافق لوگ ڈرتے ہیں اس سے کہ کہیں اتار دی جائے مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت جو کہ بتا دے ان (مسلمانوں ) کو ان (منافقوں ) کے دلوں کے بھید (ان سے ) کہو کہ اچھا مذاق اڑا لو تم لوگ بے شک اللہ کھول کر رکھ دے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو،

۶۵۔۔۔      اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ فورا کہہ دیں گے کہ ہم تو یوں ہی گپ شپ اور دل لگی کر رہے تھے  کہو کیا تمہیں اللہ، اس کی آیتوں ، اور اس کے رسول ہی سے دل لگی کرنا تھی؟

۶۶۔۔۔      بہانے مت بناؤ، بے شک تم لوگ (اے منافقو!) کفر کا ارتکاب کر چکے ہو اپنے ایمان کے بعد اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تو ہم ضرور عذاب دے کر رہیں گے دوسرے گروہ کو، کہ وہ قطعی مجرم ہیں ،

۶۷۔۔۔      منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں ، یہ لوگ برائی کا حکم دیتے اور بھلائی سے روکتے ہیں ، اور یہ بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو (ہر کار خیر سے ) یہ بھول گئے اللہ کو، جس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو بھلا دیا بلاشبہ یہ منافق پکے بدکار ہیں

۶۸۔۔۔      اللہ نے وعدہ کیا ہے منافق مردوں ، منافق عورتوں ، اور دوسرے کھلے کافروں سے ، دوزخ کی (اس ہولناک) آگ کا، جس میں ان کو ہمیشہ رہنا ہو گا، وہی کافی ہے ان کو، ان پر پھٹکار پڑ گئی اللہ کی، اور ان کے لئے عذاب ہے ہمیشہ قائم رہنے والا،

۶۹۔۔۔      انہی لوگوں کی طرح جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے جو طاقت میں بھی تم سے کہیں زیادہ سخت تھے ، اور مال و اولاد میں بھی وہ تم سے کہیں بڑھ کر تھے ، سو انہوں نے اپنے حصے کے مزے لوٹ لئے (اسی دنیا میں ) اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے لوٹ لئے ، جیسا کہ ان لوگوں نے لوٹے تھے اپنے حصے کے مزے جو کہ گزر چکے ہیں تم سے پہلے ، اور تم بھی اس طرح گھس گئے کج بحثیوں میں جس طرح کہ وہ گھس گئے تھے ، اکارت چلے گئے ان لوگوں کے سب کام دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور یہی لوگ ہیں خسارے والے ،

۷۰۔۔۔      تو کیا ان کے پاس نہیں پہنچے حالات ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے ، جیسے قوم نوح، عاد، ثمود اور قوم ابراہیم اور مدین والے ، اور وہ لوگ جن کی بستیاں الٹ دی گئی تھیں ، اس سب کے پاس آئے تھے ان کے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ، (مگر انہوں نے مان کر نہ دیا اور بالآخر پہنچ کر رہے وہ اپنے انجام کو) سو اللہ ایسا نہیں کہ ان پر کوئی ظلم کرتا، مگر وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے ،

۷۱۔۔۔      اور (منافقین کے برعکس) مومن اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست (اور مددگار) ہیں ، وہ حکم دیتے ہیں نیکی کا اور روکتے ہیں برائی سے ، اور پابندی کرتے ہیں نماز کی، اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ اور حکم مانتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا، سو ایسوں پر اللہ تعالیٰ ضرور رحمت فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے ،

۷۲۔۔۔      اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے ، ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں سے ، ایسی عظیم الشان جنتوں کا، جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی نہریں ، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہو گا، اور (اس نے ان سے وعدہ فرما رکھا ہے ) ایسے پاکیزہ مکانوں کا جو سدا بہار جنتوں میں ہوں گے ، اور اللہ کی رضا (کی نعمت جو ان کو نصیب ہو گی وہ) ان سب سے کہیں بڑھ کر ہو گی، یہی ہے سب سے بڑی کامیابی،

۷۳۔۔۔      اے پیغمبر! جہاد کرو، کافروں ، اور منافقوں سے اور سختی برتو ان سب کے ساتھ، اور ان سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے ، اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ،

۷۴۔۔۔      یہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (ایسے ) نہیں کہا، حالانکہ انہوں نے یقیناً کفر کی بات کہی، اور انہوں نے کفر کیا اپنے اسلام کے بعد، اور انہوں نے ٹھان لی تھی ایک ایسی بات کی جس کو یہ نہ پا سکے اور انہوں نے بدلہ نہیں لیا مگر اس بات کا کہ ان کو غنی کر دیا اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ، پھر بھی اگر یہ لوگ توبہ کر لیں (سچے دل سے ) تو یہ ان کے لئے بہتر ہے ، اور اگر یہ منہ موڑے ہی رہیں گے ، تو اللہ انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور ان کے لئے (پوری روئے ) زمین میں نہ کوئی یار ہو گا، نہ مددگار،

۷۵۔۔۔      اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے عہد کیا اللہ سے کہ اگر اس نے نواز دیا ہم کو اپنے فضل سے ، تو ہم خوب خیرات کریں گے ، اور بڑے نیک بن جائیں گے ،

۷۶۔۔۔      مگر جب اللہ نے نواز دیا ان کو اپنے فضل سے تو یہ اس میں بخل کرنے لگے ، اور یہ پھر گئے منہ موڑ کر،

۷۷۔۔۔      سو اس کے نتیجے میں اللہ نے نفاق بٹھا دیا ان کے دلوں میں ، اس (ہولناک) دن تک جس دن کہ یہ پیش ہوں گے اس کے حضور اس بناء پر کہ انہوں نے خلاف ورزی کی اللہ سے کئے گئے اپنے وعدے کی، اور اس بناء پر کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے تھے ،

۷۸۔۔۔     کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ پوری طرح جانتا ہے ان کے پوشیدہ رازوں اور چھپی سرگوشیوں تک کو؟ اور یہ کہ اللہ ہی جاننے والا ہے غیبوں کو

۷۹۔۔۔      (اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں ) جو زبان طعن دراز کرتے ہیں ان سچے ایمانداروں پر جو خوشی خوشی خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ، اور یہ مذاق اڑاتے ہیں (ان) غریبوں کا جن کے پاس (خرچ کرنے کو) کچھ نہیں ہوتا، سوائے اپنی مشقت (کی کمائی) کے ، سو یہ تو ان کا مذاق اڑاتے ہیں ، مگر اللہ خود ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے ،

۸۰۔۔۔      آپ (اے پیغمبر!) ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں ، ان کے لئے (ایک برابر ہے کہ) آپ اگر ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں گے تو بھی اللہ نے ان کو ہرگز نہیں بخشنا، یہ اس لئے کہ انہوں نے (جان بوجھ کر) کفر کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ایسے بدکاروں کو،

۸۱۔۔۔      خوش ہو رہے ہیں وہ (بد نصیب) جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا (ان کے اپنے خبث باطن کی بناء پر، وہ خوش ہو رہے ہیں ) اپنے بیٹھ رہنے پر، اللہ کے رسول کے (تشریف لے جانے کے ) بعد، اور ان کو گوارا نہ ہوئی یہ بات کہ یہ جہاد کریں اللہ کی راہ میں ، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، مزید یہ کہ انہوں نے (دوسروں سے بھی) کہا کہ تم لوگ مت نکلو ایسی (سخت) گرمی میں ، (ان سے ) کہو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے ، کاش کہ یہ لوگ سمجھ لیتے (حق اور حقیقت کو)

۸۲۔۔۔      سو ہنس لیں یہ لوگ تھوڑا سا، اور ان کو رونا پڑے گا بہت زیادہ اپنی اس کمائی کے بدلے کے طور پر جو یہ لوگ کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں )

۸۳۔۔۔      سو اگر اللہ آپ کو واپس لے جائے (اے پیغمبر!) ان میں سے کسی گروہ کے پاس، پھر اگر یہ کسی موقع پر آپ سے اجازت مانگیں (جہاد میں ) نکلنے کی، تو ان سے کہئے گا کہ تم اب کبھی بھی میرے ساتھ نہیں نکل سکو گے ، اور نہ ہی تم کبھی میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑ سکو گے ، (کیوں کہ) تم لوگوں نے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا پہلی مرتبہ، سو اب تم (ہمیشہ کے لئے ) بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ،

۸۴۔۔۔      اور ان میں سے کسی پر کبھی نماز بھی نہیں پڑھنا جو مر جائے ، اور نہ ہی کھڑے ہونا اس کی قبر پر، کیوں کہ انہوں نے کفر کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ، اور یہ مرے تو اس حال میں کہ فاسق تھے ،

۸۵۔۔۔      اور تعجب (اور دھوکے ) میں نہ ڈالنے پائیں تم کو ان لوگوں کے مال اور نہ ہی ان کی اولا دیں ، سوائے اس کے نہیں کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کو عذاب میں مبتلا کرے ، انہی چیزوں کے ذریعے دنیا میں ، اور ان کا دم بھی نکلے تو کفر ہی کی حالت میں ،

۸۶۔۔۔      اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت (اس مضمون کی) کہ تم لوگ ایمان لاؤ اللہ پر، اور جہاد کرو (اس کی راہ) میں اس کے رسول کے ساتھ ہو کر، تو آپ سے اجازت مانگنے لگتے ہیں ان میں سے مقدور والے لوگ، (جہاد میں نہ جانے کی) اور کہتے ہیں کہ چھوڑ دیجئے ہمیں کہ ہم رہ جائیں بیٹھنے والوں کے ساتھ،

۸۷۔۔۔      یہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ ساتھ رہیں گھروں میں بیٹھنے والیوں کے ، اور مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر، جس سے یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے (اپنے حقیقی نقصان کو)

۸۸۔۔۔      لیکن اللہ کے رسول اور وہ لوگ جو (صدق دل سے ) ایمان لائے آپ کے ساتھ، انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ، اور یہی لوگ ہیں جن کے لئے سب بھلائیاں ہیں ، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

۸۹۔۔۔      تیار فرما رکھی ہیں اللہ نے ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان اور عدیم المثال) نہریں ، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہو گا، یہی ہے بڑی کامیابی،

۹۰۔۔۔      اور آئے بہانہ باز دیہاتی تاکہ ان کو اجازت دے دی جائے (گھروں میں بیٹھ رہنے کی) اور (اسی طرح) بیٹھے رہے وہ لوگ بھی جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اللہ اور اس کے رسول سے ، عنقریب ہی پہنچ کر رہے گا ایک دردناک عذاب ان لوگوں کو جو ان میں سے اڑ رہے تھے اپنے کفر (و باطل) پر،

۹۱۔۔۔      کوئی تنگی (اور گناہ) نہیں کمزوروں ، اور بیماروں پر، اور نہ ان لوگوں پر، جو کچھ نہیں پاتے خرچ کرنے کو، جب کہ یہ لوگ مخلص ہوں (اپنی وفاداری میں ) اللہ اور اس کے رسول کے لئے ، کوئی الزام نہیں ایسے نیکوکاروں پر اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ،

۹۲۔۔۔      اور نہ ہی ان لوگوں پر (کوئی الزام ہے ) جو آپ کے پاس آئے (اے پیغمبر!) تاکہ آپ انہیں کوئی سواری دے دیں ، مگر آپ نے انہیں جواب دیا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں سوار کر سکوں ، تو یہ لوگ واپس لوٹ گئے اس حال میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، اس غم میں کہ وہ کچھ نہیں پاتے خرچ کرنے کو (اللہ کی راہ میں )

۹۳۔۔۔     الزام تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے ، در آں حالیکہ وہ مالدار ہیں ، وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ وہ رہیں پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ، اور اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر، (ان کے خبث باطن کی بناء پر) سویہ جانتے نہیں (اپنے حقیقی نفع و نقصان کو)۔

۹۴۔۔۔     یہ لوگ بہانے پیش کریں گے تمہارے سامنے جب تم واپس لوٹ کر پہنچو گے ان کے پاس، تو (اس وقت ان سے صاف) کہہ دیجئے گا، کہ بہانے مت پیش کرو ہم کسی بھی طور تمہارا اعتبار نہیں کریں گے ، اللہ نے ہمیں بتا دیے تمہارے حالات،  اور اللہ دیکھ لے گا تمہارے عملوں کو، اور اس کا رسول بھی، پھر تم لوگوں کو بہر حال لوٹ کر جانا ہے اس ذات (اقدس و اعلیٰ) کی طرف، جو ایک برابر جانتی ہے نہاں و عیاں کو، پھر وہ تم کو خبر کر دے گا ان تمام کاموں کی جو تم لوگ کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں ، )

۹۵۔۔۔      یہ لوگ اللہ کی قسم کھائیں گے تمہارے سامنے ، جب کہ تم لوٹ کر واپس پہنچو گے ان کے پاس، تاکہ تم ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر، سو تم چھوڑ دینا ان کو ان کے حال پر کہ یہ تو نرے پلید ہیں ، اور ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے ، ان کے ان اعمال کے بدلے میں جو یہ کماتے رہے تھے ، ف٣

۹۶۔۔۔     یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، سو اگر تم لوگ ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو (کیا ہوا کہ) اللہ تو یقیناً راضی نہیں ہوتا ایسے بدکار لوگوں سے،

۹۷۔۔۔      دیہاتی کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہوتے ہیں ، اور ان کے بارے میں اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ نہ جانیں حدود ان احکام کی، جن کو نازل فرمایا ہے اللہ نے اپنے رسول پر اور اللہ تو سب کچھ جانتا بڑی حکمت والا ہے ،

۹۸۔۔۔      اور ان دیہاتیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں ، جو (اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے ہیں ، اور وہ تمہارے بارے میں انتظار کرتے ہیں زمانے کی گردشوں کا، حالانکہ خود انہی پر مسلط ہے بری گردش اور اللہ ہی سنتا جانتا ہے ،

۹۹۔۔۔      اور کچھ دیہاتی ایسے بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس کو وہ اللہ کے یہاں قرب کا اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں ، آگاہ رہو کہ بے شک ان کا خرچ کرنا ان کے لئے قرب کا ذریعہ ہے ، اللہ ضرور داخل فرمائے گا ان کو اپنی رحمت میں ، بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے ،

۱۰۰۔۔۔      اور سب سے پہلے سبقت لے جانے والے مہاجر و انصار اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی اچھائی (اور اخلاص) کے ساتھ، ف٣ اللہ راضی ہو گیا ان سب سے ، اور یہ راضی ہو گئے اللہ سے ، اور اس نے تیار فرما رکھی ہیں ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں ، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہو گا، یہی ہے سب سے بڑی کامیابی،

۱۰۱۔۔۔     اور تمہارے آس پاس کے دیہاتوں میں بھی بہت سے منافق ہیں ، اور خود اہل مدینہ میں بھی، وہ نفاق میں ایسے طاق ہو گئے ہیں ، کہ آپ بھی (اے پیغمبر) انہیں نہیں جانتے ، ہم ہی جانتے ہیں ان سب کو، ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے ، پھر ان کو لوٹایا جائے گا ایک بڑے (ہی ہولناک) عذاب کی طرف

۱۰۲۔۔۔      اور کچھ دوسرے لوگ (اہل مدینہ میں سے ) ایسے ہیں جنہوں نے اعتراف کر لیا اپنے قصوروں کا، انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے ، کچھ بھلے کچھ برے ، امید ہے اللہ مہربانی فرمائے گا ان پر (ان کی توبہ قبول فرما کر) بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

۱۰۳۔۔۔      آپ ان کے مالوں سے صدقہ لے کر پاک کریں ان کو، اور بابرکت بنا دیں ان کو اس کے ذریعے ، اور دعائے رحمت کریں ان کے حق میں ، بے شک آپ کی دعائے رحمت ان کے لئے سکون (و اطمینان) کا باعث ہے ، اور اللہ سنتا ہے (ہر کسی کی) جانتا ہے (سب کچھ)

۱۰۴۔۔۔      کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے ، اور وہ شرفِ قبولیت سے نوازتا ہے ان کے صدقات کو، اور یہ کہ بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

۱۰۵۔۔۔      اور کہو (ان سے اے پیغمبر!) کہ تم لوگ کام کئے جاؤ، اللہ خود ہی دیکھ لے گا تمہارے کام کو اور اس کا رسول بھی، اور اہلِ ایمان بھی، اور تم سب کو بہر حال لوٹنا ہے اس کی طرف، جو کہ (ایک برابر) جانتا ہے نہاں و عیاں کو، پھر وہ خبر کر دے گا تم کو ان تمام کاموں کی جو تم کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں )

۱۰۶۔۔۔     اور کچھ اور ہیں جن کا معاملہ خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، خواہ وہ انہیں سزا دے اور خواہ معاف فرما دے ، اور اللہ تو سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے ،

۱۰۷۔۔۔      اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایک (نام نہاد) مسجد بنائی، نقصان پہنچانے کے لئے (دعوتِ حق کو) اور کفر (کو فروغ دینے ) کے لئے ، اور پھوٹ ڈالنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان، اور کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو جو اس سے پہلے لڑ چکے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور یہ لوگ تو بہرحال قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کچھ ارادہ نہیں کیا، لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ پر لے درجے کے جھوٹے ہیں ، ف٣

۱۰۸۔۔۔      آپ اس (نام نہاد مسجد) میں کبھی کھڑے بھی نہ ہوں ، البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے ، وہ اس کی زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں ، اور اللہ پسند کرتا ہے پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو، ف

۱۰۹۔۔۔     تو کیا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد، خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی ہو، وہ بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی ایسی کھائی کے گرتے کنارے پر رکھی ہو، جو اسے لے کر سیدھی جا گرے دوزخ کی آگ میں ؟ اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے سرفراز نہیں فرماتا ایسے ظالم لوگوں کو،

۱۱۰۔۔۔      ان کی یہ عمارت جو انہوں نے (اس قدر چاہ سے ) بنائی تھی ہمیشہ کے لئے (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گے ان کے دلوں میں ، الا یہ کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل، اور اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے ،

۱۱۱۔۔۔      بے شک اللہ تعالیٰ نے خرید لیا ہے ایمان والوں سے ان کی جانوں کو بھی، اور ان کے مالوں کو بھی، اس کے بدلے کہ ان کے لئے جنت ہے ، وہ لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں ، پھر وہ مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں ، (اور جنت کا یہ وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ و انجیل میں بھی اور قرآن میں بھی، اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ پس تم لوگ خوش ہو جاؤ (اے ایمان والو!) اپنے اس سودے پر، جو تم نے اس (وحدہٗ لا شریک) سے کیا ہے ، اور یہی ہے سب سے بڑی کامیابی،

۱۱۲۔۔۔      وہ توبہ کرتے رہنے والے ، عبادت گزار، حمد کرنے (اور شکر بجا لانے ) والے ، روزہ رکھنے والے ، رکوع اور سجدہ کرنے والے ، بیکی کی تلقین کرنے والے ، اور برائی سے روکنے والے ، اور حفاظت کرنے والے ، اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی، اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو،

۱۱۳۔۔۔     پیغمبر کو اور دوسرے اہلِ ایمان کو یہ روا نہیں کہ وہ بخشش کی دعاء کریں مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ لوگ دوزخی ہیں ،

۱۱۴۔۔۔     اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے معافی مانگنا تو محض ایک وعدے کی بناء پر تھا، جو کہ وہ اس سے کر چکے تھے مگر جب ان کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے تعلق توڑ دیا، حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے ہی نرم دل، اور بردبار تھے ، ف٣

۱۱۵۔۔۔     اور اللہ ایسا نہیں کہ گمراہی میں ڈال دے کسی قوم کو، ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد، یہاں تک کہ وہ بیان فرما دے ان کے لئے وہ کچھ جس سے انہیں بچنا ہے ، بلاشبہ اللہ کو ہر چیز کا پورا علم ہے ،

۱۱۶۔۔۔      بے شک اللہ ہی کی بادشاہی ہے آسمانوں میں بھی، اور زمین میں بھی، وہی زندگی بخشتا ہے ، اور اسی کا کام ہے موت دینا، اور اس کے سوا تمہارا نہ کوئی یار ہے نہ مدد گار،

۱۱۷۔۔۔      بے شک اللہ کی رحمتیں متوجہ ہو گئیں پیغمبر پر، اور ان مہاجرین و انصار پر، جنہوں نے ان (پیغمبر) کا ساتھ دیا، تنگی کی اس گھڑی میں ، ان کے بعد کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل پھرنے لگے تھے ، مگر اللہ نے ان پر رحمت فرما دی، (جس سے وہ سنبھل گئے ) بے شک وہ ان پر بڑا ہی شفیق، نہایت ہی مہربان ہے ،

۱۱۸۔۔۔      اور ان تین شخصوں پر بھی (رحم فرما لیا) جن کا معاملہ التواء میں رکھ دیا گیا تھا، یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین اپنی وسعت کے باوجود، اور ان پر بوجھ بننے لگیں خود ان کی اپنی جانیں ، اور ان کو یقنی ہو گیا کہ کہیں کوئی پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے (دامانِ رحمت کے ) پھر اس نے توجہ فرمائی ان (کے حال) پر، اپنی (رحمت و عنایت سے ) تاکہ یہ رجوع کریں اس کی طرف، بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا انتہائی مہربان ہے

۱۱۹۔۔۔      ایمان والو! ڈرو تم اللہ سے اور ساتھ دو سچوں کا، (مدینہ والوں کا)

۱۲۰۔۔۔     اور ان کے آس پاس کے دیہاتوں کو یہ روا نہ تھا کہ وہ پیچھے رہتے اللہ کے رسول سے ، اور نہ یہ کہ وہ عزیز رکھتے اپنی جانوں کو ان کی جان سے ، یہ اس لئے بھی کہ راہ حق میں انہیں جو بھی تکلیف بھوک پیاس یا جسمانی تھکاوٹ کی پہنچتی ہے ، یا جو بھی کوئی ایسا راستہ یہ لوگ چلتے ہیں ، جس سے کفار آتشِ غیظ میں جلتے ہیں ، یا کسی بھی دشمن سے یہ کوئی انتقام لیتے ہیں ، تو ان میں سے ایک ایک بات پر ان کے لئے نیک عمل لکھا جاتا ہے ، بے شک اللہ ضائع نہیں کرتا اجر نیکوکاروں کا،

۱۲۱۔۔۔      اور (اسی طرح) یہ لوگ جو بھی کچھ خرچ کرتے ہیں ، خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت، اور جو بھی کوئی وادی یہ طے کرتے ہیں ، (اللہ کی راہ میں ) وہ سب ان کیلئے لکھ دیا جاتا ہے ، تاکہ اللہ انہیں بہتر بدلہ دے ان کے ان کاموں کا جو یہ کرتے ہیں ،

۱۲۲۔۔۔      اور مومنوں کو یہ بھی نہیں چاہیے کہ وہ سب نکل پڑیں ، پس انہوں نے ایسے کیوں نہ کیا کہ ان کی ہر بڑی جماعت چلی جاتی، تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کریں ، اور وہ اپنی قوم کو خبردار کریں جب کہ وہ ان کے پاس لوٹ کر آئیں ، تاکہ وہ بچ سکیں ،

۱۲۳۔۔۔      ایمان والو! لڑو تم ان کافروں سے جو تمہارے آس پاس ہیں ، اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر ایک سختی (اور صلابت) پائیں ، اور یقین جانو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیزگاروں کے ، ف٣

۱۲۴۔۔۔     اور جب اتاری جاتی ہے کوئی سورت، تو ان میں سے بعض (از راہ تمسخر دوسروں سے ) کہتے ہیں کہ (کہئے صاحب!) اس سے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی ہوئی؟ سو ایمان والوں کے ایمان میں تو واقعی ہر صورت سے ترقی ہوتی ہے ، اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں ،

۱۲۵۔۔۔      رہ گئے وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے (نفاق کا) تو ان سے پلیدی میں اور پلیدی ہی کا اضافہ ہوتا ہے ، اور وہ دم بھی توڑتے ہیں تو کفر ہی پر توڑتے ہیں

۱۲۶۔۔۔      کیا یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ہر سال ایک یا دو مرتبہ، پھر بھی نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی یہ کوئی سبق لیتے ہیں

۱۲۷۔۔۔      اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو یہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگ جاتے ہیں ، کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا، پھر یہ چپکے سے نکل بھاگتے ہیں ، اللہ نے پھیر دیا ان کے دلوں کو، اس بناء پر کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں (حق اور حقیقت کو)

۱۲۸۔۔۔      بے شک آ چکے تمہارے پاس (اے لوگو!) ایک عظیم الشان رسول خود تم ہی میں سے ، جن پر بڑا گراں ہے تمہارا مشقت (و تکلیف) میں پڑنا، جو بڑے حریص ہیں تمہاری فلاح (و بہبود) کے ، انتہائی شفیق، اور بڑے مہربان ہیں ایمان والوں پر، ف٣

۱۲۹۔۔۔     پھر بھی اگر یہ لوگ پھرے ہی رہیں (راہ حق و ہدایت سے ) تو کہہ دیجیے کہ کافی ہے مجھے اللہ، کوئی معبود نہیں سوائے اس کے ، میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے ۔ اور وہی ہے مالک عرشِ عظیم کا۔

تفسیر

 

۱. اس سورہ کریمہ کا آغاز چونکہ لفظ براءت سے ہوا ہے، اس لئے اس کا ایک نام سورۂ براءت بھی ہے، نیز اس میں آگے چونکہ بعض حضرات کی توبہ سے متعلق بڑا سبق آموز قصہ بیان ہوا ہے۔ اس لئے اس کا ایک نام سورۂ توبہ بھی ہے۔ جیسا کہ ہمارے مصاحف میں زیادہ تر اس کو اسی نام سے ذکر کیا جاتا ہے اور ہمارے یہاں یہ سورۂ کریمہ زیادہ تر اسی نام سے مشہور و معروف ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی جس کی مفسرین کرام نے کئی وجوہ ذکر کی ہیں۔ لیکن اس سلسلہ میں صحیح بات وہی ہے جو حضرت امام رازی وغیرہ بعض حضرات اہل علم نے ذکر کی ہے کہ چونکہ اس کے آغاز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بسم اللہ خود نہیں لکھوائی تھی۔ اس لئے بعد میں حضرات صحابہ کرام نے بھی نہیں لکھی۔ اس سورۂ کریمہ کے ذریعے مشرکین سے براءت کا یہ اعلان ۹ ھجری میں ہونے والے حج میں جو کہ حضرت ابوبکر صدیق کی امارت میں ہوا تھا حضرت علی نے کیا تھا، جس میں اس سورہ کریمہ کے علاوہ اور اس کے ساتھ مندرجہ ذیل چار باتوں کا بھی اعلان کر وایا گیا تھا۔ نمبر۱، یہ کہ کوئی کافر و منکر جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ نمبر۲، یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کر سکے گا۔ نمبر۳، یہ کہ آئندہ کوئی شخص ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکے گا، اور نمبر۴۔، یہ کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول کے ساتھ نقض عہد کا ارتکاب نہیں کیا ان کی مدت عہد کو پورا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ فتح مکہ کے بعد دور اسلامی کا پہلا حج ٨ ھجری میں قدیم طریقے پر ہوا۔ پھر ٩ ھجری میں دوسرا حج مسلمانوں نے اپنے طریقے سے کیا اور مشرکین نے اپنے طریقے سے اور پھر تیسرا حج ۱٠ ھجری میں خالص اسلامی طریقے پر ہوا۔ اور یہی وہ مشہور حج ہے جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پہلے دو سال حج پر تشریف نہیں لے گئے۔ تیسرے سال جب شرک کا بالکل استیصال ہو گیا۔ اور حرم مقدس شوائب شرک سے بالکل پاک ہو گیا، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا، علیہ الصلوٰۃ والسلام، بہرکیف اس اعلان براءت سے ان تمام معاہدات سے دست برداری کا اعلان فرما دیا گیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے کئے تھے، اور ایسا اس لئے کیا گیا کہ مشرکین اپنے ان عہدوں کو نبھا نہیں رہے تھے۔ بلکہ وہ ان میں طرح طرح کی غداریوں اور عہد شکنیوں سے کام لے رہے تھے۔

۴. اور جن کو اللہ کی محبت نصیب ہو گئی وہ فلاح پا گئے، اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو گئے۔ یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ تقوی و پرہیزگاری سے مراد جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے، انفرادی تقوی و پرہیزگاری نہیں۔ بلکہ اس سے اجتماعی تقویٰ و پرہیزگاری مراد ہے، اور اسلام جس طرح ہر شخص سے انفرادی تقویٰ کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح وہ مسلمانوں سے من حیث الجماعت اجتماعی اور سیاسی تقویٰ کا بھی مطالبہ کرتا ہے، پس مسلمان اجتماعی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ دوسری قوموں سے جو معاملات اور معاہدات کریں، ان میں وہ راست بازی صداقت شعاری اور وفاداری سے کام لیں، اور دوسری قوموں سے کئے گئے اپنے کسی بھی عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہ کریں۔ یہی انکے ایمان و عقیدے اور تقوے کا تقاضا ہے، اور ایسے ہی لوگ متقی و پرہیزگار اور خدا کے محبوب ہیں۔

۵. اَشْہرِ حُرم کا معروف اطلاق انہی مہینوں پر ہوتا ہے۔ جو اس کے لئے مشہور و معروف ہیں اور جن کے لئے یہ لفظ بطور اسم اور علم استعمال ہوتا ہے اور وہ مہینے یہ ہیں۔ ذی القعدہ، ذی الحجہ محرم، اور رجب ان میں سے پہلے تین کا تعلق تو فریضہ حج کی ادائیگی سے ہے۔ اور چوتھے یعنی رجب کا تعلق عمرہ سے، اور یہ چونکہ دو الگ الگ سلسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ یکجا نہیں بلکہ الگ الگ دو موقعوں پر پائے ہیں، اس لئے یہاں پر اشہر حرم سے مراد پہلے تین مہینے ہیں جن کا تعلق زمانہ حج سے ہے، یعنی ذوالقعدۃ ذوالحجہ اور محرم، البتہ اگر ان کے ساتھ حج کی مناسبت سے شوال کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ چار مہینے بن جاتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ حرمت والے مہینے گزر جائیں، تو تم ان ناقضین عہد مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کرو۔ کہ ان کے نقض عہد کا تقاضا یہی ہے۔ والعیاذُ باللہ جل وعلا،       یعنی اس مدت کے گزر جانے کے بعد تم ان لوگوں کے ساتھ ہر قسم کی جنگی کارروائی کرو، اور ہر طرح سے ان کا ناطقہ بند کرو، اور ان کے ساتھ اس قدر شدت کے داروگیر کا یہ حکم و ارشاد اس لئے فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی حیثیت صرف ایک دشمن قوم اور ان کے خلاف کارروائی کی نہیں تھی، بلکہ اس سے دراصل مشرکین عرب کے بارے میں اس سنت الٰہی کا ذکر فرمایا گیا ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لئے ظاہر ہوتی رہی ہے۔ کہ ایسی قوموں کو مدت مہلت ختم ہونے کے بعد مٹا دیا جاتا ہے، کہ ان کا جرم نہایت سنگین ہوتا ہے،

۲: سو اس سے واضح فرما دیا گیا ان کے خلاف اس داروگیر کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ یہ اپنے کفر و شرک سے توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں، اور جس کا عملی ثبوت نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ اقامت صلات اور ادائیگی، زکوٰۃ دراصل ایک جامع تعبیر ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی، سو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام قبول کئے بغیر نہ ان کے ذمی اور معاہد بن کر رہنے کی گنجائش ہے، اور نہ ہی غلام اور لونڈی بن کر رہنے کی۔ پس ان کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ یا اسلام قبول کر لیں۔ یا پھر تلوار ان کا فیصلہ کرے گی۔ والعیاذُ باللہ العظیم، مشرکین عرب کے ساتھ معاملے کی اس سنگینی کا اصل سبب اور باعث جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بھی اشارہ کیا، ان لوگوں کے جرم کی سنگینی تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ان کے اندر انہی میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا۔ انہی کی زبان میں ان پر عظیم الشان کتاب اتاری، پیغمبر نے ۲۳ سال کی نبوت کی پوری زندگی ان کو سمجھانے اور دعوت حق دینے میں صرف فرمائی۔ مگر انہوں نے اس سب کے باوجود مان کر نہیں دیا، والعیاذُ باللہ جل وعلا

۸. اِلّ کے معنی رشتہ و قرابت کے ہیں اور ذمہ سے مراد عہد و پیمان ہے۔ اور اِلّ یعنی رشتہ و قرابت معاشرتی تعلقات کی اساس و بنیاد ہوتی ہے، اور ذمہ یعنی عہد و پیمان سیاسی تعلقات کی اساس و بنیاد، اس لئے ان دونوں کے تقاضوں کو نظر انداز کرنا اور ان کی خلاف ورزی کا ارتکاب معاشرے اور اس کے استحکام کی بنیادوں کو تباہ کر دینے کے مترادف ہے۔ والعیاذُ باللہ، سو ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اگر تم لوگوں پر قابو مل جائے تو یہ ان دونوں میں سے کسی کا بھی پاس و لحاظ نہیں کریں گے نہ کسی قرابت و رشتہ داری کا اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا، تمہارے ساتھ ملاقاتوں کے دوران یہ لوگ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں، وہ محض انکی زبانی کلامی ہمدردی کی نمائش اور تم لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ ان کے دل اس کے انکاری ہوتے ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتا ہے، ان کے دلوں میں تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے، ان کی زبان پر کچھ ہوتا ہے اور دلوں میں کچھ اور ان کی زبانیں ان کے دلوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں، اور ان میں سے اکثر غدار اور عہد شکن ہیں والعیاذ باللہ العظیم۔

۹. سو ان لوگوں کی بدبختی اور محرومی کا عالم یہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت و عنایت سے ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے آسمان سے عظیم الشان کتاب اتاری تاکہ اس کو اپنا کر یہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکیں۔ مگر انہوں نے دنیائے دُوں کے متاع فانی اور حُطامِ زائل کو ترجیح دے کر اس سے منہ موڑا، اور دوسروں کو بھی اس سے روکا اور محروم کیا۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنی بدبختی کی بناء پر ضلال اور اِضْلال کے دوہرے جرم کے مرتکب ہو کر دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہو گئے، جو کہ خساروں کا خسارہ، اور محرومیوں کی محرومی ہے والعیاذُ باللہ جل وعلا۔

۱۱. سو جب ان کافر و مشرک لوگوں کا معاملہ نہ حضرت خالق و مالک جَلَّ مَجْدُہ، کے ساتھ درست ہے اور نہ اس کی مخلوق کے ساتھ، نہ یہ کسی رشتہ و تعلق کی پرواہ کرتے ہیں، اور نہ کسی عہد و پیمان کی، اور یہ لوگ کھلم کھلا حدوں کو پھلانگنے والے، اور حقوق کو تلف کرنے والے ہیں، تو پھر ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا کوئی عہد کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت چونکہ بہت وسیع اور ناپیدا کنارا ہے، اس لئے اس کی طرف سے ان کے لئے رحمت کا ایک دروازہ پھر بھی کھلا ہوا ہے اور وہ ہے توبہ و اصلاح اور رجوع الی اللہ کا دروازہ پس یہ لوگ اگر سچے دل سے توبہ کر کے حق کی طرف رجوع کریں، اور جس کا ظاہری اور عملی ثبوت یہ ہے کہ یہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جو کہ دراصل عبارت ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے سے۔ تو رب رحمان و رحیم کی رحمت و عنایت پھر بھی ان کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے تیار ہے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر انہوں نے ایسے کر لیا تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور اس کے بعد تمہارے حقوق و فرائض ایک برابر ہوں گے۔ اور ہم نے کھول کر بیان کر دیئے اپنے احکام ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ تاکہ اس کے بعد کسی کے لئے کوئی عذر نہ رہے۔ پس جو لوگ جاننا اور ماننا چاہیں ان کے لئے اس بارے میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ اور اس طور پر اس حد تک کہ اب اس بارے کوئی ابہام و اشتباہ باقی نہیں رہا۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکوں کے ساتھ الگ ہو کر اپنے طور پر کوئی معاملہ کرنا چاہا، تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہو گی۔ اور اسی طرح اگر مشرکوں میں سے کسی نے اپنے طور پر الگ کوئی امید لگائی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہو گی۔

۱۳. یعنی اگر تم لوگ واقعی ایماندار ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرو کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ انسان صرف اللہ ہی سے ڈرے، آیت کریمہ کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن روئے سخن دراصل انہی کمزور لوگوں اور منافقوں کی طرف ہے، جو قریش سے جنگ سے بہت خائف اور ہراساں تھے۔ اور اس بناء پر وہ ان لوگوں سے اپنے پرانے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے تھے، اور ایسے لوگ اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوتے تھے، کہ ان کے پچھلے تعلقات اور روابط کو بالکل ختم کر دیا جائے۔ سو ایسے لوگوں سے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ان سے نہ ڈرو، بلکہ اللہ ہی سے ڈرو کہ وہی وحدہٗ لاشریک اس کا حقدار ہے کہ تم لوگ اس سے ڈرو، اور یہی تقاضا ہے تمہارے ایمان کا۔

۱۴. سو اس ارشاد سے مسلمانوں کی عموماً اور کمزور مسلمانوں کی بالخصوص حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ ان ائمہ کفر سے لڑو، اور ان سے جنگ میں کمزوری نہ دکھاؤ، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا۔ اور ان کو رسوا کرے گا۔ اور یہ ارشاد دراصل اس سنت الٰہی اور دستور خداوندی پر مبنی ہے جو حضرات انبیاء و رسل اور ان کو قوموں سے متعلق اللہ تعالیٰ کے یہاں طے ہے، اور وہ یہ ہے کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے تو رسول کی ہجرت کے بعد ان پر لازماً عذاب آتا ہے، آگے اس عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے تو اس صورت میں اس قوم پر عذاب براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے، اور دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے اندر اگر ایمان لانے والوں کی تعداد معتدبہ ہوتی ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ اس بدبخت قوم کو انہی اہل ایمان کے ذریعے عذاب دیتا اور ان کو رسوا کرتا ہے اور ان کی یہ رسوائی بھی اسی عذاب کا خاص حصہ ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی تکذیب کا اصل باعث اور محرک ان کا استکبار ہی ہوتا ہے، اس لئے ان کو رسوائی کی سزا دی جاتی ہے، کفار قریش کے سلسلے میں عذاب الٰہی کی یہی دوسری صورت واقع ہوئی۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی دلداری اور دلجوئی کے لئے ان سے یوں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور ایمانداروں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔ سو یہ ایک قسم کی خوشخبری تھی جس سے ان سچے اہل ایمان کو اس وقت نوازا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ دشمنان اسلام کو ان مظلوموں کے ہاتھوں اسطرح ذلیل و خوار کرے گا کہ ان کے اس عبرتناک انجام کو دیکھ کر ان کے سینوں کو شفا ملے گی، اور ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوں گے، سو یہ ان کے لئے ایک نقد انعام ہو گا،

۱۷. مشرکین مکہ کو یہ زعم اور گھمنڈ تھا کہ وہ بیت اللہ کے مجاور اور اس کے خادم ہیں۔ اور یہ پروپیگنڈہ وہ اس زور و شور سے کرتے تھے کہ بعض سادہ لوح مسلمان بھی اس سے متاثر ہو جاتے تھے۔ سو اس ارشاد سے اس بارے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے منتظم اور متولی بنیں، جبکہ وہ خود اپنے کفر پر قائم اور اس کے گواہ ہیں۔ یہاں پر کفر سے مراد ان کا شرک ہی ہے۔ پس ایسے شرک کو کفر سے تعبیر کرنے میں یہ اہم اور بنیادی درس ہے کہ شرک کے ساتھ اللہ کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے برابر، اور کفر ہی ہے خدا کو وہی ماننا معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو، ایسے لوگوں کے تمام کام اکارت چلے گئے۔ اور انہوں نے ہمیشہ دوزخ ہی میں رہنا ہے کہ کفر و شرک کا انجام یہی ہے والعیاذُ باللہ العظیم

۱۸. مشرکین مکہ کو جو بیت اللہ کی تولیت اور مجاورت کا زعم اور گھمنڈ تھا اس کی تردید کرنے اور اس بارے اس حقیقت کے ذکر و بیان کے بعد کہ یہ لوگ نہ بیت اللہ کے اصل اور حقیقی مجاور و متولی ہیں، اور نہ ہی ان کو اس کا کوئی حق پہنچتا ہے۔ اب اس اصل حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کے متولی اور مجاور کون اور کیسے لوگ ہو سکتے ہیں؟ اور ان کی صفات کیا اور کیسی ہونی چاہیں؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے متولی وہی لوگ ہو سکتے ہیں، اور وہی اس کی تولیت کا حق رکھتے ہیں، جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اور وہ نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہوں، سو یہ چیزیں مسجد کی تولیت کے لئے بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں، پس جن لوگوں کے اندر یہ بنیادی صفات موجود نہ ہوں ان کو اس کا متولی بننے کا حق ہی نہیں۔ چہ جائیکہ وہ اس پر فخر کریں۔ اور دوسروں کو اس سے روکیں، سو جن لوگوں کے اندر مذکورہ بالا صفات پائی جاتی ہونگی، وہی مسجد کی تولیت کے حقدار ہو سکتے ہیں اور انہی کے بارے میں یہ توقع کی جا سکتی ہے، کہ وہ ہدایت یافتہ اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہوں گے۔

۱۹. اس ارشاد سے مشرکین کے اس زعم اور گھمنڈ کی تردید فرمائی گئی ہے جو وہ بیت اللہ اور حاجیوں کی خدمت سے متعلق اپنے اندر رکھتے تھے۔ مثلاً یہ کہ ہم لوگ حاجیوں کو پانی پلاتے ان کی خدمت کرتے ہیں اور بیت اللہ کی عمارت اور اس کی آبادی کا خیال رکھتے اور اہتمام کرتے ہیں، وغیرہ اور اسی بناء پر وہ لوگ اپنے لئے خاص حیثیت اور خصوصی حقوق کے دعویدار بنے ہوئے تھے، سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ اپنی ان مزعومہ خدمات کو اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر سمجھتے ہو؟ سو تم لوگ اگر ایسا سمجھتے ہو تو سمجھتے رہو، لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ کفر و شرک کے ساتھ جو اعمال کئے جاتے ہیں وہ نقش بر آب کی طرح بے حقیقت اور بے بنیاد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی نہ کوئی حیثیت ہو سکتی ہے، اور نہ کوئی وزن و اعتبار جیسا کہ اوپر والی آیت کریمہ میں بھی گزرا۔ اور جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر بھی فرمایا گیا۔ چنانچہ دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا، اور صاف و صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اُولٰائِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِایَٰاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَائِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا (الکہف۔۱٠۵) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیتوں اور اس کے حضور حاضری و پیشی کا، جس کے نتیجے میں اکارت چلے گئے ان کے سب اعمال، پس ہم قیامت کے روز ان کے اعمال کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے، تاکہ وہ اس قابل ہوں گے ہی نہیں،

۲۲. سو ان دونوں آیات کریمات میں حقیقی فائز المرام لوگوں کا پتہ بھی دے دیا گیا، کہ وہ وہ لوگ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں، ہجرت کرتے، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے ہیں سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے یہاں درجہ اور مرتبہ بھی بہت بڑا ہے، اور یہی ہیں فائز المرام لوگ ان کے لئے ان کی رب کی طرف سے عظیم الشان رحمت و رضامندی کی خوشخبری بھی ہے، اور ایسی عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی بھی جن کے اندر سدا بہار نعمتیں ہونگی، اور جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا نصیب ہو گا۔ اور یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی، اللہ نصیب فرمائے۔ اٰمین۔ پس عقل سلیم اور فطرت مستقیم سب کا تقاضا ہے کہ اسی چیز کو اپنا اصل مشن و مقصد اور حقیقی نصب العین بنایا جائے۔ لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ۔وَفِیْ ذَالِکَ فَلْیَتَنَافِسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ وباللّٰہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلیٰ مایحب ویرید،

۲۳. سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اپنے ان باپ دادوں اور بھائیوں وغیرہ کو دوست رکھنا اور اپنا معتمد بنانا جو ایمان کے مقابلے میں کفر کو ترجیح دیتے ہوں ظلم ہے۔ اور ایسا کرنے والے لوگ ظالم ہیں، سو یہ ظالم ہیں اللہ کے حق میں، کہ اس کے ایسے کافروں اور منکروں کو اپنا دوست بناتے ہیں، جو کہ ان کے ایمان باللہ کے تقاضوں کے خلاف ہے نیز ایسے لوگ ظالم ہیں خود اپنی جانوں کے حق میں کہ اس طرح یہ لوگ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بناتے ہیں، اور غلط راستے کو اپناتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ ایسے ظالموں کو اپنا دوست بنانا، اور ان کے ظلم والے اس راستے کو اپنانا اپنے آپ کو ہولناک ہلاکت و تباہی کے راستے پر ڈالنا ہے، جو کہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے، اس لئے یہاں اہل ایمان کو بطور خاص خطاب کر کے اس سے بچنے اور دور رہنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ والعیاذُباللہ العظیم۔

۲۴. کیونکہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے طالب اور قدرداں ہوتے ہیں، پس جو اس کے بے قدرے اور ناشکرے ہوں گے اور وہ اپنے ان رشتوں اور دنیاوی مفادات کو ایمان کے تقاضوں پر مقدم رکھتے اور ترجیح دیتے ہوں گے وہ اس دولت کے سزاوار نہیں ہو سکتے۔ کہ ایسے لوگ درحقیقت کفر اور اسلام دونوں کے درمیان ڈانواں ڈول ہوتے ہیں، فسق کا لفظ اصل لغت کے اعتبار سے خروج کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں پر یہ خروج عن الایمان کے معنی میں ہے۔ اس لئے یہاں پر فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو نور ہدایت سے سرفرازی نصیب نہیں ہو سکتی۔ والعیاذُ باللہ جل وعلا۔ سو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اہل کفر کو اپنا دوست اور معتمد بناتے ہیں، وہ ایمان کے دعوے کے باوجود ایمان سے خارج ہو جاتے ہیں والعیاذ باللہ العظیم اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ اٰمین ثم اٰمین یا رب العالمین

۲۶. سو غزوۂ حنین کے اس واقعے کے حوالے سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسلامی لشکر کا بھروسہ و اعتماد جب اللہ تعالیٰ کے بجائے اسباب و وسائل پر ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد میں کمی آ جاتی ہے، تو وہ فتح کے بجائے شکست سے دو چار ہو جاتا ہے، روایات کے مطابق غزوۂ حنین میں مسلمانوں کا لشکر بارہ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔ اس سے قبل ان کا لشکر کبھی اتنی بڑی تعداد میں جمع نہیں ہوا تھا۔ اور اس سے قبل بارہا ایسے ہوا تھا کہ انہوں نے قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اور معمولی اسلحہ کے ساتھ جنگ کے ذریعے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دی تھی۔ تو ایسے میں اب جبکہ پہلی بار ان کے پاس اتنا بڑا لشکر جرار جمع ہو گیا تھا۔ تو ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا کہ آج ہمارے مقابلے میں کون ٹک سکتا ہے سو اس غلط خود اعتمادی کے نتیجے میں قدرتی طور پر ان کے اندر لاپرواہی پیدا ہو گئی۔ جس کے باعث ان میں سے کئیوں کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف وہ توجہ بھی برقرار نہ رہ سکی جو کہ مامور و مطلوب تھی، اور اخلاص و انابت اور نظم و ضبط میں بھی فرق واقع ہو گیا، تو اس عجب و غرور نے ان کو حنین کے اس معرکے میں شکست سے دو چار کر دیا، ان کے جمے ہوئے پاؤں اکھڑ گئے زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لئے تنگ ہو گئی، اور ان کو پیٹھ دے کر بھاگنا پڑا، سو مومن کا اصل سرمایہ اعتماد علی اللہ اور رجوع الی اللہ ہے۔ نہ کہ مادی اسباب و وسائل وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلی مایُحِبُّ ویرید، بکُلِّ حالٍ مّن الاحوال، وفی کُلِّ موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ،

۲۷. سو یہ اس کی بخشش اور رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے جن کے اندر صلاحیت کی کوئی رمق موجود ہوتی ہے۔ اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور جس کا ایک نمونہ اور مظہر غزوۂ حنین کے اس معرکے میں بھی سامنے آیا جس میں پہلے تنبیہہ اور تذکیر کے طور پر مسلمانوں کو شکست سے دو چار کیا گیا۔ جس سے ان کو پیٹھ دے کر بھاگنا پڑا۔ لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اپنے رسول پر اور سچے اہل ایمان پر سکون و قرار کی کیفیت نازل فرمائی، جس سے اہل ایمان کے لشکر کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سے جم گئے، غزوۂ حنین کے معرکے سے متعلق سیرت و مغازی کی کتابوں میں جو تفصیلات مذکور و مندرج ہیں ان کے مطابق اس موقع پر جب فوج میں بھگدڑ مچ گئی تو صرف اللہ کے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ آپکے کچھ جانثار ساتھی اپنی جگہ پر جمے رہے۔ بالآخر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی اس عزیمت و استقامت نے دوسروں کے اندر ایک نئی روح پھونکی، ان کو حوصلہ ملا، اور اس کے نتیجے میں منتشر شیرازہ از سرنو مجتمع ہو گیا، اور یکدم کایا پلٹ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے اہل حق کو شکست کے بعد فتح سے نوازا، اور اہل ایمان کے ہاتھوں کفار کو وہ شکست ملی جو ان کا مقدر تھا۔ والحمدللہ جَلَّ وَعَلَا

۲۸. یعنی یہ لوگ معنوی اور باطنی طور پر نجس اور ناپاک ہیں کہ یہ کفر و شرک کی اس معنوی نجاست سے لتھڑے ہوئے ہیں جو ظاہری اور حسی نجاست اور ناپاکی سے کہیں بڑھ کر خطرناک اور مہلک ہے۔ اس لئے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس سال کے بعد کبھی مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں۔ فتح مکہ کے بعد مشرکین کا بیت اللہ پر سے تسلط تو ختم ہو چکا تھا لیکن ٩ ھجری تک ان کو یہ مہلت حاصل رہی، کہ وہ حج کے لئے آتے اور اپنے جاہلی طریقے کے مطابق حج کے مراسم بھی ادا کرتے اور تجارتی خرید و فروخت بھی کرتے، لیکن اسی حج کے موقع پر اعلان براءت کے ساتھ جیسا کہ ہم اس سورۂ کریمہ کے شروع کے حواشی میں مختصراً ذکر کر آئے ہیں، یہ اعلان بھی کر دیا گیا تھا کہ آئندہ نہ کوئی مشرک حج کو آ سکے گا، اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کر سکے گا، یہ گویا حجۃ الوداع کی تیاریوں کی تمہید تھی۔ کہ ۱٠ ھجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جب خود حج کرنے تشریف لائیں تو مرکز ابراہیم کفر و شرک کی ہر آزمائش سے پاک ہو چکا ہو، اور بالفعل ایسے ہی ہوا، والحمدللہ جَلَّ وَعَلَا

۲۹. یَدْ کے اصل معنی تو ہاتھ ہی کے ہیں۔ لیکن عرف اور محاورے میں یہ غلبہ و تسلط، اور اختیار و اقتدار، کے معنی میں بھی آتا ہے، سو یہاں پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کی طرف سے جزیہ کی یہ ادائیگی تمہارے غلبہ و اقتدار کے نتیجے میں ہو۔ سو ان سے جنگ کر کے تم ان کے کس بل اس طرح نکال دو کہ یہ تمہارے آگے گھٹنے ٹیک دیں، اور ہاتھ جوڑ کر جزیہ دینے پر راضی ہو جائیں، یعنی تمہاری ماتحتی اور محکومی قبول کریں، اور اس کو غنیمت جانیں، اور یہ جزیہ وہ ٹیکس ہوتا ہے جو ان کی حفاظت کے بدلے میں ان سے لیا جاتا ہے۔ اور یہ ٹیکس انہی لوگوں پر عائد ہوتا ہے جو بالغ اور کمائی کرنے والے ہوتے تھے اور اسی کی بناء پر ان لوگوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کی وہ حفاظت اور امان حاصل ہوتی ہے، جو ان کو اسلامی حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے۔ اور اس کی مقدار افراد کی حیثیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہوتی تھی جس میں رعایت اور چھوٹ کی بھی بڑی گنجائش ہوتی تھی۔ اس سے متعلق تفصیلات کتب فقہ میں مذکور و مسطور ہیں، یہاں پر نہ ان کی ضرورت ہے، اور نہ گنجائش

۳۱. یعنی یہود اور نصاریٰ نے حضرت عزیر اور حضرت مسیح ابن مریم کو خدا کا بیٹا قرار دینے کے اس سنگین جرم اور کھلے شرک کا ارتکاب اس کے باوجود کیا کہ تورات اور انجیل دونوں میں ان کو توحید ہی کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی، اور ان لوگوں سے صاف و صریح طور پر اسی بات کا حکم و ارشاد فرمایا گیا تھا کہ تم لوگ ایک ہی معبود کی عبادت و بندگی کرنا جو کہ معبود برحق ہے اور جو ہر قسم کے شریک اور شرک کے ہر شائبے سے پاک ہے، سبحانہ و تعالیٰ

۳۲. یعنی اللہ نے تو ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے دین حق کا نور ہدایت اتارا، تاکہ اس طرح وہ ان کو کفر و شرک اور جہالت و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے اجالے میں لائے۔ لیکن ان لوگوں کی محرومی اور بدبختی کا عالم یہ ہے کہ یہ الٹا یہ چاہتے ہیں کہ حق و ہدایت کے اسی خورشید تاباں کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں۔ تاکہ اس طرح ان کے اندھیروں کی تاریکی اور بھی گہری ہو جائے۔ جس سے انکی انتہائی بے قدری اور ناشکری کے علاوہ ان کی حماقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے، اور ان کی بدبختی بھی کہ یہ نور حق و ہدایت کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں سو یہ لوگ تو اس طرح نور حق و ہدایت کو مٹانا اور بجھانا چاہتے ہیں مگر اللہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے دین کو پورا کر کے رہے اگرچہ یہ بات کافروں کو بُری لگے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے میں رکاوٹ بننا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ پس ان لوگوں کے لئے ناکامی و نامرادی اور ذلت و خواری ہی مقدر ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم

۳۳. سو اس سے بعثت نبوی اور دین حق کے اتارنے کے اصل اور سب سے بڑے مقصد کو واضح فرما دیا گیا، کہ تاکہ اس کے ذریعے اللہ کی زمین کو کفر و شرک کی ہر آلائش سے پاک کر دیا جائے، اور اس میں دین حق کے سوا کوئی دین دین غالب کے طور پر باقی نہ رہے۔ اور دعائے ابراہیمی کے مطابق ارضِ حرم اور تمام عالم کے لئے رشد و ہدایت اور روشنی کا سامان ہو سکے سو جس طرح اہل کتاب اپنے مونہوں کی پھونکوں سے چراغ الٰہی کو گل نہ کر سکیں گے اسی طرح مشرکین عرب بھی دین حق کو کبھی مغلوب نہ کر سکیں گے انکی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونگی، بلکہ یہ دین اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت اور اسی کی توفیق و عنایت سے ان لوگوں کے علی الرغم غالب ہو کر رہے گا۔ والحمدللہ عزوجل

۳۴. سو جو لوگ سونا اور چاندی جوڑ جوڑ کر رکھتے ہیں، اور ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، ان کے لئے بڑے ہی دردناک عذاب کی وعید ہے، کہ قیامت کے روز ان کے اس جوڑے ہوئے سونے اور چاندی کو گرم کر کے اس سے انکی پیشانیوں ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ اور ان کی تذلیل و تحقیر مزید کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ کچھ جو تم لوگ اپنی جانوں کے لئے جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ پس اب تم لوگ مزہ چکھو اپنے اسی سامان کا جو تم اپنے لئے جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو حضرات صحابہ کرام اس کی وعید سے سخت ڈر گئے تو اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرات صحابہ کرام کی اس تشویش کے بارے میں عرض کیا، تو اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ اسی لئے فرض کی ہے کہ اس سے تمہارے باقی ماندہ مال پاک ہو جائیں، (ابوداؤد، کتاب ال زکوٰۃ باب فی حقوق المال) اور سنن بیہقی اور طبرانی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ زکوٰۃ کی عبادت کتنی بڑی اور کیسی عظیم الشان عبادت ہے جو انسان کے مال کو اسطرح پاک کرتی اور اس کو عذاب دوزخ سے بچا کر نعیم جنت سے سرفراز کرتی ہے۔ فالحمدللہ ربِّ العالمین،

۳۶. کتاب اللہ سے یہاں پر مراد وہ خدائی کتاب ہے جس میں حضرت حق جَلَّ مَجْدُہ، نے اپنی کائنات سے متعلق تمام احکام و قوانین درج فرمائے ہیں۔ سو اسی کتاب عظیم میں یہ حکم بھی مندرج ہے کہ قمری مہینوں کے اعتبار سے سال بارہ مہینوں کا ہو گا جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، جن میں لڑنا بھڑنا جائز نہیں، سو قدرت کی طرف سے مقرر کردہ ان مہینوں میں کمی بیشی کرنا۔ یا ان کے بارہ میں کسی طرح کی تقدیم و تاخیر سے کام لینا، اس خدائی تقویم میں خلل ڈالنا ہے جس کو حضرت خالق جَلَّ مَجْدُہ، نے اپنے علم و حکمت سے مقرر فرمایا ہے۔ والعیاذُ باللہ جل وعلا، سو اس سے قمری مہینوں کی عظمت و اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ کہ یہی مہینے کائناتی آفاقی اور خدائی مہینے ہیں، اس لئے کہ ان کی تعیین کے لئے قدرت نے خود اپنی اس کائنات کے اندر ایک محکم نظام قائم فرما دیا ہے، جو پوری باقاعدگی کے ساتھ اس کائنات میں کار فرما اور جاری و ساری ہے، اور جس سے سالوں اور مہینوں کا ایک ایسا پُر حکمت اور واضح نظام سامنے آتا ہے، جس کو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے، اور وہ اس سے پوری طرح استفادہ کر سکتا ہے، اور بالفعل کرتا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا، اور اسی نے چاند کو روشن بنایا، اور اس کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں، تاکہ تم لوگ سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔ (سورہ یونس آیت نمبر۵) سو یہی خدائی تقویم ہے۔ جو خدائی کتاب کے اندر مندرج و مسطور ہے۔ اور یہ اس دن سے جاری و ساری اور نافذالعمل ہے جس دن حضرت خالق جَلَّ مَجْدُہ، نے آسمانوں اور زمین کی اپنی اس کائنات کی تخلیق فرمائی، اور اس کو وجود بخشا۔ اور اس طرح کی کائناتی شہادت ان دوسری تقویموں میں سے کسی کے لئے بھی موجود نہیں، جو انسانوں نے از خود بنائی ہیں سو یہ عظیم الشان اور بے مثال خدائی کیلنڈر ہر مہینے افق پر نمایاں ہوتا ہے اور پوری باقاعدگی کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ اور اپنے ہر روز کے ادلتے بدلتے نمایاں اور چمکدار نشانوں کے ذریعے دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب بتاتا رہتا ہے، اور اس قدر پابندی اور ایسی باریکی اور صحت و صفائی کے ساتھ کہ اس میں کسی طرح کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ سو اگر بنظر غور دیکھا جائے تو اس سے حضرت خالق جَلَّ مَجْدُہ، کی قدرت بے پایاں، اس کی حکمت بے نہایت، اور اس کی رحمت و عنایت بے غایت کے عظیم الشان مظاہر نظر آئیں گے۔ سو یہی قمری جنتری اصل دینی جنتری ہے، کہ اس کی شہادت آفاق و انفس میں موجود ہے، اور اسی آفاقی جنتری اور فطری نظام پر نمازوں، روزوں، اور حج، وغیرہ دینی احکام و عبادت کی ادائیگی کا نظام قائم ہے، سو جس طرح ہماری کھیتی باڑی میں فصلوں اور موسموں کا اعتبار ہوتا ہے، اسی طرح دینی امور میں بھی اوقات، ایام اور سالوں کا اعتبار ہے، پس جس طرح بے وقت کی زراعت لاحاصل اور بے برکت ہو کر رہ جاتی ہے، اسی طرح بے وقت کی نماز، بے وقت کا روزہ، اور بے وقت کا حج سب کچھ لاحاصل ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے یہ امر ضروری ہوا کہ اس قمری اور خدائی جنتری کو شرعی اور دینی حیثیت حاصل ہو تاکہ اس کے مطابق شرعی عبادات کی ادائیگی صحیح طور پر اور صحیح وقت میں ہو۔ اسی لئے اس جنتری کو دین قیم فرمایا گیا ہے کہ یہ بھی دین کا ایک حصہ اور نہایت اہم حصہ ہے اس لئے اس میں کسی قسم کی تعبیر اور تبدیلی سے کام لینا دین میں تحریف کے ہم معنی ہو گا، والعیاذُ باللہ، و الحمدللہ جل وعلا بکل حالٍ من الاحوال وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ،

۳۸. اتنی قلیل اور اس قدر تھوڑی کہ آخرت کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں پس جو لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم رکھتے اور اس کو ترجیح دیتے ہیں، اور اس کی فانی لذتوں کی بناء پر وہ آخرت اور اس کے تقاضوں سے غفلت اور لاپرواہی برتتے ہیں، وہ بڑے ہی ہولناک خسارے کا ارتکاب کرتے ہیں جس کی حقیقت ان لوگوں کے سامنے اس وقت کھلے گی جب آخرت کا وہ جہان غیب ان کے سامنے آ جائے گا، لیکن اس وقت ان کے اس ہولناک خسارے کی تلافی و تدارک کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ ہو گی۔ اور یہ ہمیشہ کے لئے اس انتہائی ہولناک خسارے میں گھر کر رہیں گے، والعیاذُ باللہ العظیم

۳۹. پس تم لوگ اگر اس کی راہ میں نہیں نکلو گے تو نہ اس کا کچھ بگڑے گا۔ اور نہ اس کے دین کا نہ وہ تمہاری مدد و امداد کا محتاج ہے اور نہ اس کا دین تم پر موقوف ہے۔ وہ اگر چاہے تو تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے اور اس وقت تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے، جیسا کہ سورۂ محمد میں اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تم لوگ پھر گئے تو وہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تم لوگوں جیسے نہیں ہوں گے (محمد۔۳٨) پس وہ اگر تم لوگوں کو اپنے دین کی خدمت کے لئے کہتا بلاتا ہے، تو خود تمہارے ہی بھلے کیلئے، کہ اس میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کا سامان اور حقیقی فوز و فلاح ہے۔ اور آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ وہ نہ اپنے کسی ارادے اور سکیم کی تکمیل کے لئے کسی کا محتاج ہے۔ اور نہ ہی وہ تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لا بسانے سے عاجز ہے۔ اور نہ ہی وہ اپنے باغیوں اور سرکشوں کو شکنجہ عذاب میں کسنے سے عاجز ہے، وہ عجز و قصور کےہر شائبے سے پاک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ۔ اس کی قدرت و حکمت بہر کیف لامحدود و بے مثال ہے۔ اَللّٰہُمَّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْتنَا اِلیٰ مَافِیِہِ حُبُّکَ وَرَضَاکَ۔یَامَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلُّ شَیْءٍ وَہُوَ یُجِیٍرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ، جَلَّ وَعلَا شَانَہ، سبحانہ وتعالیٰ،

۴۰. یہ اشارہ ہے واقعہ ہجرت کی طرف، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لیکر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کے لئے نکلے تھے، اور اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم غار ثور میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ آپ صرف دو تھے، تیسرا کوئی اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نہیں تھا، روایات کے مطابق جب کفار آپ کی تلاش میں غار ثور تک پہنچ گئے اور وہ عین اس کے دھانے پر کھڑے ہو گئے، تو اس موقع پر حضرت صدیق اکبر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ کے نبی اگر انہوں نے اپنے قدموں کی طرف دیکھا تو یہ ہمیں دیکھ لیں گے، تو اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا ابوبکر ! کیا خیال ہے تمہارا ان دو کے بارے میں جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو؟ تو اس سے حضرت ابوبکر کا خوف جاتا رہا، اور ان کا دل مطمئن ہو گیا، سو اسی کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، جو اس بارے نازل ہوئی (صحیح بخاری، کتاب التفسیر سورۃ التوبۃ، صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ) سو اس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کے شرف کی تصریح فرما دی گئی ہے۔ اسی لئے حضرات علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر کی صحابیت کا منکر کافر ہے کہ یہ آیت کا انکار ہو گا (قرطبی، مدارک التنزیل، محاسن التاویل، کشاف، اور ابن کثیر، وغیرہ) مگر اس کے باوجود ام مسلمہ کے اندر کچھ دجال ایسے موجود ہیں جو حضرت صدیق اکبر کے بارے میں اس کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حَذَلَہُمُ اللّٰہُ وَقَاتَلَہُمْ وَجَعَلَ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہِمْ

۴۲.    ۱: سو یہ لوگ اپنی تقصیر اور کوتاہی کا اعتراف کرنے کے بجائے الٹا قسمیں کھا کھا کر تم لوگوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کریں گے، اور تم لوگوں میں سے ایک ایک کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر کہیں گے کہ جہاد میں شرکت نہ کرنے کی وجہ ہماری بزدلی یا منافقت نہیں تھی، بلکہ ہماری بے بسی اور وسائل کی عدم دستیابی تھی۔ ورنہ اگر ہمارے پاس سامان ہوتا تو ہم کبھی پیچھے نہ رہتے، بلکہ ضرور تمہارے ساتھ چلتے اور جہاد میں شریک ہوتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو وحی کے ذریعے ان کے نفاق و جھوٹ اور ان کی اصل حقیقت سے آگہی بخش دی۔

          ۲: سو یہ لوگ تو اپنے جھوٹے حیلے بہانے پیش کر کے اپنے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اچھا کرتے ہیں، اور یہ اپنے باطنی کفر و نفاق کو چھپانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح یہ لوگ خود اپنے آپ کو ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں جھونک رہے ہیں اور یہ اس لئے کہ نفیر عام کی صورت میں جہاد سے فرار کی سزا بڑی سخت ہے، اور اپنے جرم و قصور کے وبال سے بچنے کا صحیح طریقہ اقرار جرم، ندم و توبہ، اور اصلاح احوال ہے، مگر اس کے بجائے جھوٹی قسموں کو اپنے لئے ڈھال بنانا، اور اپنے جرم کو چھپانے کی کوشش کرنا، دراصل اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی کے مزید عمیق اور ہولناک گڑھے میں پھینکنا ہے، سو جس چیز کو ایسے لوگ اپنی مت ماری کی بناء پر اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں، وہی ان کی ہلاکت و تباہی کا گڑھا ہے۔ والعیاذُ باللہ جل وعلا

۴۳. غزوۂ تبوک کے لئے اس سفر کے موقع پر جہاد سے فرار کے لئے منافق لوگ طرح طرح کے بہانے پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے پیچھے رہنے، اور اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے کے لئے اجازت مانگتے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی عظیم الشان کریم النفسی اور چشم پوشی کی بناء پر ایسے لوگوں سے درگزر فرماتے اور ان کو اجازت دے دیتے، سو اس طرح ایسے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس بے مثال کریم النفسی اور چشم پوشی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے اس لئے اس ارشاد ربانی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بارے متنبہ فرمایا گیا اور یہ تنبیہ بھی نہایت لطیف اور دلنواز انداز میں فرمائی گئی۔ کہ بات کا آغاز ہی عفو و درگزر کے ذکر سے فرمایا گیا۔ تاکہ اس سے یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اس خطاب سے مقصود سرزنش اور عتاب نہیں۔ بلکہ اصل مقصود توجہ دلانا ہے، تاکہ منافق لوگ آپ کی کریم النفسی سے آگے ناجائز فائدے نہ اٹھا سکیں، اور ان کی مکاری کا دروازہ بند ہو جائے۔ سو اس بناء پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کو اس وقت تک پیچھے رہنے کی اجازت نہ دیں جب تک کہ آپ کے سامنے یہ بات واضح نہ ہو جائے کہ ان میں سے سچے کون ہیں، اور جھوٹے کون، کون صحیح اعذار والے ہیں، اور کون دھوکہ دہی سے کام لینا چاہتے ہیں،

۴۴. سو اس سے مخلص اور منافق لوگوں کے درمیان فرق و تمیز سے متعلق ایک معیار واضح فرما دیا گیا کہ مخلص مومن جو صدق دل سے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو جہاد سے پیچھے رہنے کی درخواستیں دیتے ہی نہیں، بلکہ وہ تو جہاد میں شرکت کے طالب اور متمنی ہوتے ہیں، جہاد سے ملنے والے ان فوائد اور انعامات کی بناء پر، جو اس میں شرکت پر اہل ایمان کو ملتے ہیں جہاد سے پیچھے رہنے کے لئے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جن کے دلوں میں شک اور نفاق کا روگ ہوتا ہے۔ جو زبانی کلامی دعووں کے باوجود ایمان سے محروم ہیں پس ایسے لوگ اپنے شک ہی میں پڑے بھٹک رہے ہیں، سو نور ایمان و یقین سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم

۴۷. سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان منافقوں کا اہل ایمان کے لشکر کے ساتھ نہ نکلنا ان کے لئے بہتر ہی تھا، کیونکہ یہ لوگ اگر مسلمانوں کے ساتھ نکلتے تو ان کے اندر فساد ہی پھیلاتے، اور وہ ان کی صفوں کے اندر فتنہ انگیزی ہی سے کام لیتے، مزید ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے اندر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان منافقوں کی باتیں سننے اور ماننے والے ہیں۔ اس سے اشارہ ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف ہے جو اگرچہ منافق نہیں تھے۔ لیکن وہ اپنی سادہ لوحی کی بناء پر منافقوں کے چکمے میں آ جاتے تھے سو ان دو لفظوں سے بڑے ہی لطیف انداز میں اس طرف اشارہ فرما دیا گیا کہ مسلمان اپنے اندر کے ان لوگوں سے بھی محتاط اور خبردار رہیں۔ تاکہ کہیں ایسے سادہ لوح مسلمانوں کی سادگی کی بناء پر اجتماعی کاز کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے، والعیاذ باللہ

۴۹. سو کافر لوگ اپنے کفر کی بناء پر اور اس کے نتیجے میں جہنم کے احاطے اور گھیرے میں ہیں اس سے یہ لوگ کسی طرح نکل نہیں سکیں گے، اس آیت کریمہ میں منافقوں کے ایک اور بہانے، اور بہانہ بازی کی ایک اور قسم کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے، جو کہ متقیانہ نوعیت کی تھی۔ جس کے مطابق ایسے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے یہ بہانہ پیش کیا کہ چونکہ ہم عورتوں کے معاملے میں بہت بے صبرے واقع ہوئے ہیں، اس لئے ہم رومی عورتوں کے حسن و جمال کی بناء پر ان سے صبر نہیں کر سکیں گے، لہٰذا ہمیں اس سفر جہاد میں جانے سے معذور سمجھا جائے، یہ بہانہ چونکہ ان لوگوں نے تقوی کی ملمع سازی کے ساتھ پیش کیا تھا، اس لئے قرآن حکیم نے اس کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ تاکہ مسلمانوں کو شیطان کے اس خاص حربے سے بھی آگاہ کر دیا جائے، جو کہ وہ تقوی کے بھیس میں کرتا ہے، سو یہ اسی طرح کا بہانہ ہے جو ہمارے یہاں بعض نمائشی تقویٰ والے جماعت کے ساتھ نماز نہ اداء کرنے کے سلسلہ میں کرتے رہتے ہیں، اور وہ اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ ریا کے فتنے سے بچنے کے لئے مسجدوں میں نہیں جاتے، سو ان منافقوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ رومی عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہونے کی نوبت تو بعد میں آئیگی لیکن یہ لوگ تو اپنے اس طرح کے بہانوں سے فتنہ کے اندر ابھی پڑ چکے ہیں، اس لئے کہ اس طرح کے حیلے بہانے اپنا کر دینی احکام و فرائض سے روگردانی اور فرار اختیار کرنا، بجائے خود ایک ایسا فتنہ ہے، جس کے بعد ان کی ہلاکت و محرومی کے لئے کسی اور فتنے کی ضرورت نہیں رہتی، ان کی ہلاکت کے لئے یہی فتنہ کافی ہے کہ اس طرح کے حیلوں بہانوں سے دینی فرائض سے رُوگردانی و فرار کفر ہے جو کہ ہلاکتوں کی ہلاکت ہے، اور ایسے کافروں کو جہنم نے اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، والعیاذُ باللہ العظیم، بہرکیف اس سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دینی فرائض سے گریز و فرار کے لئے بہانہ بازی سے کام لینا فتنے میں پڑنا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ کفر کا ارتکاب ہے، اسی لئے اس آیت کریمہ کے آخر میں اس حقیقت کی تصریح فرمائی گئی، اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمائی گئی کہ یقیناً دوزخ ایسے کافروں کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ پس یہ لوگ دوزخ سے کسی طرح نکل نہیں سکیں گے، اس لئے ان کو اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہو گا۔ والعیاذ باللہ العظیم

۵۳. خداوند قدوس کے یہاں انفاق تو انہی لوگوں کا قبول ہوتا ہے جو مخلص اور وفادار ہوں۔ اور وہ اپنا مال اللہ کی راہ میں، اور اس کی رضا کے لئے صدق و اخلاص کے ساتھ پیش کریں۔ تو پھر ایسے منافقوں اور ریاکاروں کا مال اس کے یہاں شرف قبولیت کس طرح پا سکتا ہے جو بد عہد اور غدار ہوں؟ اور وہ اپنا مال صدق و اخلاص کے بجائے، محض دکھاوے کے لئے یا مارے بندھے مجبوری کے طور پر دیں؟ وہ وحدہٗ لاشریک کسی کے مال کا محتاج تھوڑا ہی ہے؟ کہ جس طرح کوئی اٹھا کر دے دے وہ اس کو قبول کر لے؟ وہ تو بس انہی لوگوں کے انفاق کو شرف قبولیت سے نوازتا ہے، جو سچے ایمان اور صدق و اخلاص کے ساتھ اس کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں سبحانہ و تعالیٰ۔

۵۵. سو اموال و اولاد بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتیں ہیں، جن سے وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے نوازتا ہے، کہ انہی کے ذریعے انسان اپنی دنیا بھی سنوار سکتا ہے، اور اپنی آخرت بھی بنا سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے، جبکہ انسان صدق و اخلاص، اور ایمان و یقین، کی دولت سے مالا مال ہو۔ اور وہ ان کو اپنے خالق و مالک کی تعلیمات و ہدایات کے مطابق عمل میں لائے، ورنہ یہی چیزیں اس کے ہاتھوں کے بندھن اور ان کے گلے کا پھندا بن جاتی ہیں۔ اور وہ انہی کے حصول، اور پھر انہی کی بقاء و بڑھوتری کے جال میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ دنیا میں طرح طرح کے آلام و مصائب میں مبتلا رہتا ہے، ظاہری اسباب و وسائل کی موجودگی کے باوجود ایسے لوگوں کی زندگی ایک سخت قسم کی گھٹن کا شکار رہتی ہے اور یہاں تک کہ حیات دنیا کی یہ مختصر و محدود فرصت یونہی گزارنے کے بعد ایسے لوگ آخرت کے اَبَدی اور ہولناک عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور اسطرح وہ انتہائی خسارے کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے نکلنے اور گلوخلاصی کی ان کے لئے پھر کوئی بھی صورت ممکن نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔

۵۷. سو ان دونوں آیات کریمات سے اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ نفاق کے یہ روگی، اہل ایمان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر ان کو یقین دلاتے ہیں، کہ یہ ان ہی میں سے ہیں، اور یہ ایک نفسیاتی امر ہے کہ جو لوگ ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور عمل و کردار کی پونجی سے عاری اور خالی ہوتے ہیں، وہ اپنا اعتبار قائم کرنے، اور اپنا وزن بنانے کی غرض سے اکثر جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ چنانچہ قرآن حکیم میں منافقوں کے بارے میں کئی جگہ اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے اخلاقی خلا کو پر کرنے کے لئے اپنی جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں سو یہاں بھی ان لوگوں کے اسی منافقانہ طریقے کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی تردید و تکذیب کے لئے قرآن نے فرمایا کہ یہ لوگ تم میں سے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ محض اپنے اندرونی ڈر اور خوف کی بناء پر، اور وقتی مفادات کی غرض سے تمہارے ساتھ نتھی ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ اب ان کے لئے کوئی راہ فرار باقی نہیں رہی، کفار و مشرکین کا حشر یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں یہود و نصاریٰ کا انجام بھی ان سے مخفی نہیں، اس لئے یہ نہایت درد اور کرب کے عالم میں تمہارے ساتھ رہ رہے ہیں، ورنہ ان کا حال یہ ہے کہ آج اگر ان کو کوئی جائے پناہ، یا کوئی غار، یا گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ مل جائے تو یہ فوراً اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوں، مگر یہ مجبور ہیں سو اس سے ان کے اندرونی عذاب کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، والعیاذُ باللہ العظیم

۵۹. سو اس ارشاد سے ان لوگوں کو اس صحیح روش کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، جو اہل ایمان کے لائق اور ان کے شایان شان ہے۔ کہ ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر اعتماد کو اپنانا چاہئے، نہ کہ اعتراض و نکتہ چینی کو، سو اگر یہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا، اور اس کے رسول نے مال غنیمت اور صدقات میں سے ان کو دیا بخشا تھا، اور یہ کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور آئندہ کسی اور موقع پر ہمیں اللہ اپنے فضل سے عطاء کر دے گا، اور اس کا رسول بھی، اور یہ کہ ہم سب بہرحال اللہ ہی کی طرف راغب ہیں، تو یہ خود ان ہی کے لئے بہتر ہوتا، صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے پاس تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، تو بنو تمیم میں سے ذوالخویصرۃ نامی ایک شخص آیا، تو اس نے کہا اللہ کے رسول! عدل و انصاف سے کام لو، تو اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا تیرا ناس ہو، اگر میں بھی انصاف نہیں کرتا تو پھر اور کون انصاف کرے گا؟ اس پر حضرت عمر نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کی گردن اتار دوں، تو اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو، اس کے اور بھی ایسے ساتھی پیدا ہوں گے، جن کی نمازوں کے سامنے تم میں سے ایک شخص اپنی نمازوں کو حقیر سمجھے گا۔ اور ان کے روزوں کے سامنے وہ اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح کہ تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ (بخاری کتاب الادب، باب ماجاء فی قول الرجل ویلک، مسلم کتاب الزکوٰۃ) سو اس میں پیغمبر کے دینے کا جو ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد وہ دینا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ میں تھا، اور اسباب کے درجے میں یعنی صدقات اور مالِ غنیمت وغیرہ کا دینا نہ کہ ہر چیز کا دینا اور ہمیشہ کے لئے دینا۔ جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ بعض زائغین نے سمجھا، ورنہ ہمیشہ اور ہر حال میں دینا تو اللہ تعالیٰ ہی کا کام، اور اسی کی صفت و شان ہے جس کی یہاں پر بھی اسی کے ساتھ حَسْبُنَا اللّٰہُ کے کلمات کریمہ سے تصریح فرما دی گئی، یہی اس ارشاد کا صاف اور سیدھا مطلب ہے جو سیاق و سباق کے لائق اور عقل و نقل کے تقاضوں کے مطابق ہے اور اسی کی تصریح جمہور علماء و مفسرین کرام اور ثقہ اہل علم نے فرمائی ہے ملاحظہ ہو۔ ابن جریر ابن کثیر مدارک، محاسن، مظہری، مراغی اور خازن وغیرہ۔

۶۱. اس آیت کریمہ میں منافقوں کا ایک اور منافقانہ نمونہ بھی سامنے آتا ہے، اور پیغمبر کی عظمت شان کے بعض اہم پہلو بھی، سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ پیغمبر کے بارے میں ان بدبختوں کا کہنا تھا کہ یہ صاحب تو نرے کان ہیں، جو بات سنیں اس کو مان لیتے ہیں۔ سو انکی تردید کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تمہاری خیر کے لئے سراپا گوش ہیں۔ ان کے کان ہر وقت اس تمنا میں کھلے ہوئے ہیں، کہ ان میں تمہاری اچھی باتوں، اچھے کاموں، اور اچھے ارادوں، سے متعلق خبریں پڑیں۔ اور وہ ان سے مسرور ہوں، وہ تمہاری بُری خبروں، بُری سرگوشیوں، اور بُری حرکتوں کے سننے کے متمنی نہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور انہی لوگوں کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں جو سچا پکا ایمان رکھتے ہیں۔ اور وہ سراپا رحمت ہیں تم میں سے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں، اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذاء پہنچاتے ہیں، ان کے لئے بڑا ہی دردناک عذاب ہے۔ والعیاذُباللہ العظیم بکل حالٍ من الاحوال،

۶۳. یُحَادِدْ کا لفظ محادۃ سے ماخوذ و مشتق ہے۔ اور اس کے معنی کسی کے مقابلے میں دشمن بن کر اٹھنے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں ایسا کرنا کفر ہے۔ اسی لئے یہاں پر ایسے لوگوں کی وہی سزا بیان کی گئی ہے جو کھلے کافروں کے لئے مقرر ہے یعنی خلود فی النار، والعیاذُ باللہ العزیز الغفار، سو اس میں منافقین کے مذکورہ بالا پروپیگنڈے پر ان کے لئے تہدید ہے، کہ یہ لوگ اپنے جرم پر معافی مانگنے اور اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی کوشش کے بجائے الٹا اپنی جھوٹی قسموں کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کے اندر مہم چلا رہے ہیں، جس سے یہ لوگ اپنی اس پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف بنائی ہے، تاکہ اس طرح یہ بدبخت اپنا کام اور موثر طریقے سے کر سکیں۔ تو کیا اتنی طویل تذکیر و تبلیغ کے باوجود ان لوگوں پر یہ حقیقت واضح نہیں ہو سکی۔ کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اور ان کے حریف بن کر کھڑے ہو تے ہیں، ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں ان کو ہمیشہ کے لئے رہنا ہو گا۔ اور یہی ہے سب سے بڑی رسوائی والعیاذُ باللہ العظیم۔ سواس سے ان لوگوں کو سبق لینا اور ہوش میں آنا چاہئے۔ قبل اس سے کہ اصلاح احوال کی فرصت اور اس کا موقع ان کے ہاتھ سے نکل جائے، اور ان کو ہمیشہ کا بھگتان بھگتنا پڑے۔

۶۴. یعنی منافقوں کو اپنے کرتُوتوں کے نتیجے میں ہر وقت اس بات کا خوف اور ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے تمام اسرار اور مخفی رازوں کو بے نقاب کر کے رکھ دے۔ اسی لئے انہوں نے اپنی جھوٹی قسموں کے سہارے اپنی صفائی کی مہم چلا رکھی تھی۔ سو اس سے متعلق حکم ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اب تمہاری اس طرح کی پیش بندیاں تم لوگوں کو کچھ کام نہیں آ سکیں گی۔ حق اور اہل حق کے بارے میں جتنا مذاق تم لوگوں نے اڑانا ہے اڑا لو۔ اب وقت آگیا ہے کہ جن چیزوں کے بے نقاب ہونے سے تم ڈر رہے ہو ان کو بے نقاب کر دیا جائے۔ تاکہ حقیقت اپنی اصل شکل میں سب کے سامنے آ جائے۔ پس اب اللہ تعالیٰ ان کو بہرحال بے نقاب کر کے رہے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ۔ سو اس سے منافقوں کے بارے میں فیصلہ کن پالیسی کا اعلان فرما دیا۔ تاکہ اس کی روشنی میں یہ لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں، اور کسی ایک طرف کو اختیار کر لیں،

۶۵. اس سے منافقوں کے ایک اور منافقانہ رویے کو ذکر فرمایا گیا ہے جو عذر گناہ، بدتر از گناہ کی مثال تھا۔ کہ یہ لوگ اپنی مجلسوں میں اللہ تعالیٰ، اس کی آیتوں، اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے اور جب ان سے اس بارہ پوچھا جاتا کہ تم ایسے کیوں کرتے ہو؟ اور تم نے ایسی اور ایسی حرکات کیوں کیں؟ تو یہ اس کے جواب میں کہتے، کہ نہیں صاحب ! ہم تو بس یونہی ہنسی مذاق اور دل لگی کرتے تھے، سو اسی پر ان کی گرفت کرتے ہوئے۔ اور ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں کی ہنسی مذاق اور دل لگی کے لئے اللہ اور اس کی آیتیں اور اس کے رسول ہی رہ گئے تھے؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ سو ایمان و یقین کی دولت اور اس کے نور سے محرومی کے بعد انسان کا حال یہی ہو جاتا ہے کہ اس کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے اور وہ ایک سے ایک بڑھ کر حماقتیں کرنے لگتا ہے والعیاذ باللہ العظیم، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ

۶۸. سو اس ارشاد عالی میں اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ منافقین اور کھلے کافروں کا انجام ایک برابر ہے، کہ یہ دونوں کفر میں باہم شریک ہیں۔ منافق لوگ جو زبانی کلامی طور پر ایمان و اسلام کے دعویدار بنے ہوئے ہیں، اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اور اپنے اس طرح کے جھوٹے دعوی ایمان کی بناء پر یہ لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے، بلکہ ان کو بھی دوسرے کھلے کفار کی طرح بھی ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اور جہنم کا وہ دائمی ٹھکانا ان کے لئے کافی ہے، جو ان کی سب کون کسر پوری طرح نکال دے گا۔ اور اس طور پر کہ مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں رہے گی، اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت اور پھٹکار ہو گی جس کے نتیجے میں ان کے لئے امید کے سب دروازے بند ہو جائیں گے۔ ایک ایسا ہولناک اور دائمی عذاب ان پر مسلط ہو جائے گا۔ جس سے چھٹکارا ان کے لئے کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہو گا، والعیاذُ باللہ العظیم۔

۶۹. سو اس ارشاد سے منکرین و منافقین کی اس غلط فہمی پر چوٹ لگائی گئی ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے مال و اولاد وغیرہ کی کثرت کی بناء پر لاحق ہوتی ہے، کہ ہمیں جب یہ سب کچھ ملا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم خدا کے یہاں مبغوض نہیں۔ بلکہ ہم اس کے محبوب اور پیارے ہیں، اور ہمارا طور طریقہ غلط نہیں صحیح ہے۔ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا؟ سو ایسوں پر اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ تم لوگوں کو اس بناء پر غرہ اور دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ کہ یہ محض ایک شیطانی دھوکہ اور ابلیسی فریب ہے جس میں تم مبتلا ہو، تم لوگوں سے پہلے بھی جو قومیں گزری ہیں ان کو بھی قدرت نے یہ سب کچھ دے رکھا تھا۔ بلکہ تم لوگوں سے زیادہ ہی دے رکھا تھا۔ انہوں نے جب اس دنیا سے اتنا فائدہ اٹھا لیا جتنا کہ ان کے لئے مقدر تھا، تو آخرکار ان کو ان کے کفر و انکار کی پاداش میں ہلاک کر دیا گیا۔ سو اسی طرح تم لوگوں نے بھی اپنے حصے کا فائدہ اٹھا لیا۔ اور تم بھی اسی طرح کی موشگافیوں اور کٹ حجتیوں میں لگے ہوئے ہو، جس طرح کہ وہ لوگ لگے ہوئے تھے۔ تو اس کے نتیجے میں تمہاری ہلاکت و تباہی کی گھڑی آ پہنچی ہے جس طرح کہ ان کی ہلاکت و تباہی کا وقت آگیا تھا اور جس طرح ان کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں اکارت چلے گئے تھے۔ اسی طرح تمہارے اعمال بھی دنیا و آخرت دونوں اکارت چلے گئے ہیں، سو اصل چیز مال و اولاد اور اس کی کثرت و بہتات نہیں۔ بلکہ اصل چیز ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے، فیصلے کا دارو مدار اسی پر ہے۔ مال و اولاد تو اللہ تعالیٰ منکرین و اشرار کو بھی دیتا ہے سبحانہ و تعالیٰ۔

۷۰. سو اس ارشاد سے اوپر والے اجمال کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے کہ ماضی میں جو قومیں اپنے کفر و انکار کی بناء پر ہلاک ہوئی تھیں۔ اور وہ ہمیشہ کے لئے مٹ مٹا کر قصہ پارینہ بن گئیں، وہ یہ اور یہ تھیں، اور ساتھ ہی ان کے اس ہولناک انجام اور ان کی ہلاکت و تباہی کے سبب اور اس کے باعث کی بھی تصریح فرما دی گئی، کہ ان کے رسول ان کے پاس کھلے دلائل کے ساتھ آئے مگر انہوں نے ان کی دعوت کو مان کر نہ دیا۔ جس کے نتیجے میں آخرکار وہ منکر قومیں اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کرتے رہے تھے پس اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے اعراض و انکار کرنے والے دراصل خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ والعیاذُ باللہ العظیم،

۷۱. اوپر منافق مردوں اور منافق عورتوں کے کردار اور ان کے انجام کو واضح فرمایا گیا تھا اس کے مقابلے میں اس سے مومن مردوں اور مومن عورتوں کی صفات اور ان کے کردار کو ذکر و بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ان کے اس عظیم الشان انعام کو بھی جس سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو نوازے گا۔ یہاں پر مومن مردوں کے ساتھ مومن عورتوں کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ وہ بھی ایسی پاکباز اور عمدہ خصال کی مالک ہوتی ہیں، کہ راہ حق میں مومن مردوں کی معاون اور مددگار ہوتی ہیں، اور جب مومن مرد اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کے لئے نکلتے ہیں، تو وہ ان کے پاؤں کی زنجیر، اور گلے کا پھندا بننے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، اور وہ اپنے ایثار و قربانی، اپنی دعاؤں اور اپنی سچی اور بے لوث وفاداری و امانت داری سے ان کے جہاد میں ان کا تعاون کرتی، اور ان کا حوصلہ بڑھاتی ہیں، اس طرح وہ خود بھی جہاد کے اجر و ثواب میں شریک ہوتی، اور اس میں حصے دار بنتی ہیں۔ سو ایسے صدق شعاروں کو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے گا۔ بیشک اللہ بڑا ہی زبردست ہے وہ جو اور جیسا کرنا چاہے، اس کے لئے نہ کوئی مشکل ہے نہ رکاوٹ لیکن وہ چونکہ حکیم بھی ہے، اس لئے جو کچھ کرتا ہے اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہی کرتا ہے سبحانہ و تعالیٰ۔

۷۲. سو اس سے اس رحمت اور انعام کی تفصیل بیان فرما دی گئی جس سے اللہ تعالیٰ ایماندار مردوں اور عورتوں کو نوازتا ہے، اور نوازے گا۔ جس سے ایک بات تو یہ واضح فرما دی گئی کہ جنت اور اس کی نعیم مقیم سے سرفرازی کا تعلق کسی خاندان اور حسب و نسب سے نہیں۔ بلکہ اس کا اصل دار و مدار انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور اس کا تعلق کسی بھی نسل اور نسب سے ہو۔ اور دوسری اہم حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ اہل ایمان کا ان نعمتوں سے سرفراز ہونا قطعی اور یقینی ہے کیونکہ اس کا اللہ نے ان سے وعدہ فرما رکھا ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر سچا وعدہ اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔ کقولہ سبحانہ و تعالیٰ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا۔ اور تیسری اہم حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ ان خوش نصیبوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی نعمت سے سرفرازی نصیب ہو گی، جو کہ ان تمام نعمتوں کی اصل اور ان سب سے بڑھ کر ہے، سو جس طرح اوپر کفار و منافقین کے لئے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار کا ذکر فرمایا گیا تھا۔ جو کہ تمام نعمتوں سے محرومی اور ایسے لوگوں کی ابدی محرومیوں کی ایک جامع تعبیر ہے، اسی طرح اہل ایمان کے لئے رضوان الٰہی سے سرفرازی کا مژدہ سنایا گیا ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی تمام رحمتوں اور اس کی لازوال و بے پایاں نعمتوں اور مسرتوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی لئے اس کے ساتھ اور اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بہت بڑی چیز اور سب سے بڑی کامیابی ہے، اور چوتھی اہم حقیقت اس ارشاد سے یہ واضح فرما دی گئی، کہ یہی ہے اصل حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی، جس کو ہمیشہ کے لئے اپنے پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ دنیائے فانی کا وہ متاع فانی اور حُطامِ زائل جس کو ابنائے دنیا نے اپنا مقصد اور نصب العین بنا رکھا ہے، کہ وہ سب کچھ عارضی، فانی اور زائل ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلی ما یُحِبُّ ویرید، بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الاحوال،

۷۴. سو اس ارشاد میں ان منافقین کے لئے صحیح طریقے کی ہدایت و راہنمائی بھی ہے۔ اور ان کے لئے تہدید اور دھمکی بھی، راہ راست کے لئے ہدایت اور راہنمائی تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کرتُوتوں کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے اور اس کے لئے جھوٹ بولنے کے بجائے صدق دل سے توبہ کریں، اس طرح ان کے جرائم کو بھی معاف کر دیا جائے گا۔ اور یہ اپنے اس انجام اور عتاب سے بھی بچ جائیں گے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا دیا ہے پس یہ طریقہ خود ان ہی کے لئے بہتر ہو گا۔ اور اس کا فائدہ ان کو دنیا میں بھی ملے گا، اور آخرت میں بھی اور اس کے برعکس اگر یہ لوگ پھرے ہی رہے، اور اپنی غلط روی ہی پر قائم رہے، تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی، اور ان کے لئے نہ کوئی ایسا یار ہو گا نہ مددگار جو ان کو انکے ہولناک انجام اور دردناک عذاب سے چھڑا اور بچا سکے۔ اور جن کے ساتھ ان کا ساز باز ہے وقت آنے پر وہ سب نفسی نفسی کے اس عالم میں مبتلا ہوں گے۔ کہ ان کو دوسرے کسی کا ہوش بھی نہیں رہے گا۔ پس ایسے لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہیں، مگر ان کو اس کا شعور نہیں والعیاذ باللہ العظیم

۷۶. سو اس سے منافقین کے ایک اور نمونے کو پیش فرمایا گیا ہے کہ جب یہ لوگ غریب اور نادار تھے تو اس وقت یہ اللہ سے عہد کرتے اور اپنی اس تمنا اور شوق کا اظہار کرتے تھے کہ اگر اللہ ہمیں بھی مال دے دے تو ہم بھی اللہ کی راہ میں خوب خرچ کر کے اور دین کی بڑی بڑی خدمت میں صرف کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی تمنا پوری کر دی۔ اور ان کو اپنے فضل کرم سے دنیاوی مال و دولت سے نواز دیا۔ تو یہ پھر گئے، اور اس طرح منہ پھیر کر چل دیئے کہ گویا کہ انہوں نے اللہ سے کوئی عہد و پیماں اور قول و قرار کیا ہی نہیں تھا۔ اور انہوں نے اسطرح پیٹھ پھیر دی کہ پھر مڑ کر دیکھنے کو بھی تیار نہ ہوئے والعیاذُ باللہ جَلَّ وَعَلَا

۷۷. سو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کرنا، اور جھوٹ بولنے کا ارتکاب کس قدر ہولناک اور کتنا سنگین جرم ہے، کہ اس کی بناء پر اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ اس قدر ہولناک انجام سے دوچار ہوئے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے وعدے کی اس طرح خلاف ورزی کی، اور یہ برابر جھوٹ بولتے رہے، تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے اندر نفاق کی ایسی جڑ جمادی۔ جو ان سے اس دن تک نہیں نکلے گی جس دن کہ یہ اللہ سے ملیں گے، سو اس دن جب جزائے اعمال کا مرحلہ پیش آئے گا، اور یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے، تو اسی دن وہ اس سے نکل سکے گی، یعنی یہ چیز اچانک ان کے اندر نہیں گھس آئی۔ بلکہ یہ بدبخت ایک مدت تک اپنے اس نفاق کی رضاعت اور پرورش کرتے رہے، یہ دانستہ طور پر نقض عہد اور طویل عرصے تک جھوٹ اور فریب سے کام لیتے رہے۔ جس کی پاداش میں نفاق نے ان کے دلوں کے اندر جڑ پکڑ لی۔ جو اب قیامت کے یوم حساب تک ان سے نہیں نکلے گی۔ پس ان لوگوں کے بارے میں اب یہ توقع نہ رکھو کہ ان کو توبہ اور اصلاح کی توفیق نصیب ہو گی۔ اب تو ان کے دلوں کا یہ کثیف پردہ اسی وقت ہٹے گا جبکہ یہ اصل حقیقت کو سورج کی طرح اپنے سامنے دیکھ لیں گے۔ اور اپنے کئے کرائے کی پاداش اور اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ اور ظاہر ہے کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ نہ ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم،

۷۹. ان کے کفر و نفاق کی پاداش میں، سویہ لوگ تو اپنی منافقت اور بدبختی کی بناء پر اہل حق کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اور اس طور پر کہ ان کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں۔ سو وہ اپنے کرم بے پایاں اور حلم بے نہایت کے تقاضوں کے مطابق ان کی رسی دراز کئے جا رہا ہے جس سے یہ اپنی بدمستی میں اور آگے بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ آخرکار ان کو وہاں سے پکڑے گا۔ جہاں سے ان کو اپنے پکڑے جانے کا سان و گمان بھی نہیں ہو گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ o وَ اُمْلِیْ لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ (القلم۔ ۴۴۔ ۴۵) والعیاذُ باللہ العظیم بکل حالٍ من الاحوال ومن کل شائبۃ من شوائب الزیغ واضلال۔

۸۰. اس سے ان منافقوں کی شقاوت و بدبختی کی انتہاء کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اس سلسلے میں اس درجے کو پہنچ گئے ہیں کہ اگر آپ بھی اے پیغمبر! بایں ہمہ عظمت شان اور رفعت مقام ان کے لئے مغفرت و بخشش کی دعاءِ کریں یا نہ کریں، ان کے لئے ایک برابر ہے۔ اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشیں گا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ اگر ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو بھی اللہ انکی بخشش نہیں فرمائے گا۔ اور ستر کا عدد یہاں پر گنتی کے لئے نہیں، بلکہ یہ کثرت کے لئے استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور یہ عدد عرف اور محاورے کے طور پر عربی زبان میں کثرت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ محاورہ صرف عربی زبان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی ہر زندہ زبان میں پایا جاتا ہے۔ اور خود ہماری زبان میں بھی اس کا استعمال موجود ہے۔ اور منافقوں کی اس درجہ محرومی اور بدبختی کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان لوگوں نے کفر کیا ہے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ یعنی یہ ایماندار ہیں ہی نہیں، بلکہ کافر ہیں، اور یہ اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹے ہیں یہاں سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے، کہ یہاں پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کے لئے جتنا بھی استغفار کریں اللہ نے ان کو ہرگز، اور کبھی نہیں بخشنا، سو مختارِ کل اللہ وحدہٗ لاشریک ایک ہی ہے۔ وہی ہے فعال لما یرید۔ کہ جو چاہے کرے۔

۸۲. سو اس آیت کریمہ سے چند اہم بنیادی حقائق واضح ہو جاتے ہیں ایک یہ کہ اس میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کو مخلّف کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، جس کے معنی ہوتے ہیں وہ شخص جس کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہو۔ سو یہ لوگ تو اپنے جھوٹے حیلوں بہانوں کے ذریعے پیچھے رہ جانے پر خوش ہو رہے تھے، اور اس کو اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھ رہے تھے، مگر حقیقت میں یہ انکی محرومی اور بدبختی تھی کہ انکی بدنیتی کی بناء پر ان کو جہاد کے اس مبارک سفر سے محروم کر دیا گیا تھا، اور قدرت کی طرف سے ان کو پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ سو بدبختی، اور بد باطنی، انسان کی محرومی کا باعث ہے والعیاذُ باللہ، اور دوسری بات اس سے واضح فرمائی گئی کہ ان لوگوں نے صرف اپنے تخلف اور پیچھے رہنے ہی پر اکتفاء نہیں کیا، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے محروم کرنے اور پیچھے رکھنے کی کوشش کی۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ یہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کہ تم لوگ اس گرمی میں نہ نکلو۔ حالانکہ اس طرح کر کے انہوں نے اپنے لئے دوزخ کی آگ کو اپنایا، مگر ان کو اس حقیقت کا احساس و شعور ہی نہیں۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ دوزخ کی آگ تو اس گرمی سے کہیں زیادہ سخت ہو گی۔ کاش کہ یہ لوگ سمجھ جاتے۔ یعنی سمجھ جاتے حق اور حقیقت کو۔ اور اس کے نتیجے میں یہ دنیاوی دھوپ اور اس کی گرمی سے بچنے کی فکر سے کہیں بڑھ کر دوزخ کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرتے، سو آخرت کا ایمان و یقین اور حق و حقیقت کا فہم و ادراک اصلاحِ احوال کی اولین اساس ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید،

۸۳. سو اس سے ان لوگوں کے تخلف کے نتیجے میں ان کے توفیق خیر سے محرومی کا ذکر و بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس سفر سے واپسی کے بعد اگر آئندہ کے لئے یہ لوگ کسی سفر کے لئے نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ان سے صاف طور پر کہہ دیں کہ اب نہ تم لوگ کسی سفر میں میرے ساتھی بن سکتے ہو۔ اور نہ ہی میرے ساتھ کسی دشمن سے جنگ کر سکتے ہو، تم جس طرح پہلی مرتبہ گھروں میں بیٹھے رہے تھے۔ اسی طرح اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ سو اس طرح ان کو سب سے بڑی جماعت کی معیت کے شرف اور ان کے ساتھ نکلنے کی سعادت سے حکماً روک دینے کی ہدایت فرمائی گئی تاکہ اس طرح یہ رسوا اور ذلیل و خوار ہوں، سو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حیلوں بہانوں کے ذریعے راہ حق سے پیچھے رہ جانے کا انجام کتنا بُرا، کس قدر ہولناک، اور کتنی بڑی محرومی کا باعث ہوتا ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطن من الموطن فی الحیاۃ

۸۴. سو اس سے ان کو جماعت سے کاٹ پھینکنے کی ایک اور سخت تر بلکہ آخری صورت اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔ اوپر آیت نمبر ٨٠ میں تو ان کے لئے استغفار کی ممانعت فرمائی گئی تھی، لیکن اب اس آیت کریمہ سے ان کی نماز جنازہ پڑھنے، اور ان کی قبروں پر دعاء استغفار کے لئے کھڑے ہونے کی بھی ممانعت فرمائی گئی ہے، جس سے گویا زندگی اور موت دونوں صورتوں میں ان سے قطع تعلق کا اعلان فرما دیا گیا۔ جماعتی زندگی سے انسان کا آخری تعلق اور رشتہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اپنے جماعتی بھائیوں کے ہاتھوں دفن ہو۔ اور ان کی دعاؤں کا زادِ راہ لیکر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو، سو اس ممانعت نے ان کا پیغمبر سے تعلق، اور اہل ایمان کے ساتھ آخری رشتہ بھی کاٹ دیا۔ جس سے بڑھ کر دوسری کوئی محرومی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا ربَّ العالمین۔

۸۵. سو اس سے اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور دستور کو بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے اموال و اولاد کی بنیاد پر، اور انہی میں لگ کر اپنے خالق و مالک اور اپنی آخرت و انجام کو بھول جاتے ہیں، اور ان کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، اس کی پاداش میں ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہو جاتے ہیں، والعیاذُ باللہ جل وعلا۔ سو ایسے لوگوں کے اموال اور ان کی اولادیں ان کے لئے خوشی کا سامان نہیں، بلکہ عذاب کا باعث ہیں، جو ان کو کشاں کشاں ان کے ہولناک انجام کی طرف لئے جاتے ہیں۔ تو پھر ایسوں کے اموال و اولاد پر تعجب کا کیا سوال؟ ایسے لوگ اپنے کئے کرائے کے حال میں خود پھنسے ہوئے ہیں۔ اور پھنستے جا رہے ہیں، اور ایسے اور اس حد تک کہ ان کو اس کا کوئی احساس و شعور ہی نہیں، والعیاذ باللہ،

۸۸. سو اس سے سچے پکے اہل ایمان کا کردار بھی بیان فرما دیا گیا اور ان کا نتیجہ و انجام بھی، سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان محروم اور بدبخت لوگوں کے برعکس اللہ کے رسول اور ان لوگوں کی جو کہ ان کے ساتھ ایمان لائے شان اور صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے جہاد کرتے ہیں، اپنے مالوں کے ساتھ بھی، اور اپنی جانوں کے ساتھ بھی۔ انہی کے لئے سب بھلائیاں ہیں، اور یہی لوگ ہیں فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے۔ سو صدق ایمان، اخلاص نیت، اور اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت و فرمانبرداری، انسان کے لئے سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ،

۸۹. جو کہ اصل حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی ہے، اسی کو اپنے پیش نظر رکھنا، اور زندگی کا مقصد اور نصب العین قرار دینا، تقاضا ہے عقل اور نقل دونوں کا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور تحریک و تحریض کے طور پر ارشاد فرمایا گیا لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ (الصافات۔ ۶۱) یعنی ایسے ہی مقصد کے لئے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو نیز ارشاد فرمایا گیا کہ اسی میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہیے منافسہ اور مقابلہ کرنے والوں کو۔ سو اہل ایمان کے لئے عمل اور منافسہ و مقابلہ کا اصل میدان یہ ہے نہ کہ وہ جس کو ابنائے دنیا نے سمجھ اور اختیار کر رکھا ہے، یعنی دنیائے دُوں کا متاع فانی اور حُطامِ زائل کہ یہ سب کچھ فانی اور عارضی وبے حقیقت ہے اور اسی کو اپنا اصل مقصد بنا لینا سب سے بڑا خسارہ اور ضیاع ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم بکل حالٍ مِّنَ الاحوال۔ ہاں اس کی قدر و قیمت، اور اس کا وزن و اعتبار اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ بنایا جائے، کہ اس صورت میں یہ دنیاوی مال و دولت بھی خیر، اور حصول خیر کا ذریعہ و وسیلہ بن جاتا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطنٍ من الموطن فی الحیاۃ۔

۹۰ سو ایسوں کو یہ دردناک عذاب ملے گا ان کے کفر و انکار کی پاداش میں، والعیاذُ باللہ، مُعَذِّر اور مُعْتَذِر دونوں لفظ عذر سے مشتق و ماخوذ ہیں لیکن آگے ان دونوں کے درمیان عرف اور محاورے کے اعتبار سے یہ فرق ہے کہ معتذر کا عذر جھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور بعض حالات میں سچا بھی لیکن معذّر اسی کو کہا جاتا ہے جو نرا بہانے باز ہو، اور اعراب اعرابی کی جمع ہے۔ جو دیہاتی اور بدوی عربوں کو کہا جاتا ہے، یہاں پر اس سے مراد اطراف مدینہ کے صحرائی علاقوں کے رہنے والے بادیہ نشین ہیں، جن کی اکثریت اسلام کی اصل حقیقت اور اس کی سچی تعلیمات سے ناآشنا تھی۔ سو یہاں سے انہی کے حالات کا ذکر فرمایا جا رہا ہے، ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو اپنے جھوٹے حیلے بہانے پیش کرنے کے لئے رسول اللہ کے پاس آتے تھے، اور کچھ اپنے گھروں ہی میں بیٹھے رہنے والے تھے، سو یہاں پر ان دونوں قسم کے دیہاتیوں، اور انکے احوال و کوائف کو ذکر و بیان فرمایا گیا ہے،

۹۲. سو اس سے حقیقی معذوروں کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ اور ان کے حکم عذر کو بھی بیان فرمایا گیا، چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ نہ کمزوروں اور معذوروں پر کوئی تنگی اور الزام ہے۔ اور نہ ان ناداروں پر جو جہاد کے لئے تو بے قرار ہیں لیکن اس کے لئے وہ کوئی سواری نہیں پاتے اور وہ سواری کا سوال لیکر آپ کے پاس آتے ہیں (اے پیغمبر!) تو آپ بھی ان کے لئے کسی سواری کا انتظام نہیں کر سکتے، اس پر وہ آزردہ خاطر ہو کر۔ اور اپنے آنسو گراتے ہوئے واپس جاتے ہیں، اس غم میں کہ وہ اپنے پاس وہ کچھ نہیں پاتے جس کو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر سکیں۔ سو ایسوں پر کوئی الزام نہیں کہ یہ حقیقی معذور ہیں۔ یہ اگر جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ بشرطیکہ یہ لوگ اللہ کے دین اور اس کے رسول کے خیر خواہ ہوں۔ اور یہ اس لئے کہ بہت سے مریض اور غریب ایسے بھی ہوتے ہیں، جو اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھی اپنی ریشہ دوانیوں اور فتنہ پردازیوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو اس قسم کے لوگ گناہ سے بری نہیں ہو سکتے، اس سے بری صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ جو اس کے برعکس حق اور اہل حق کے بارے میں مخلص ہوں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید۔ والحمدللہ ربِّ العالمین

۹۴. سو اس سے اہل ایمان کو ان لوگوں کے بارے میں آگہی بخشی گئی جو سفر تبوک سے واپسی پر ان کے سامنے اور ان کو راضی کرنے کے لئے مختلف قسم کے جھوٹے حیلے بہانے پیش کرنے والے تھے، اور ان کے بارے میں پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ایسوں سے کہیے گا کہ ہمارے سامنے اس طرح کے حیلے بہانے مت پیش کرو۔ ہم کسی بھی طور تمہاری باتوں کا اعتبار کرنے والے نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تم لوگوں کے بارے میں پیشگی سب کچھ پوری طرح بتا دیا ہے۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے جو ایک برابر جاننے والا ہے نہاں و عیاں کا۔         سو اس سے ان حیلے بازوں کو منافقت کے ان طور طریقوں سے باز آ کر حق اور حقیقت کی صحیح راہ اپنانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ تم لوگ ایسے حیلے بہانے تراشتے، اور جھوٹی قسموں کو اپنی سپر بنانے کے بجائے اپنے عمل و کردار سے اپنی راست بازی اور وفاداری کا ثبوت دو، اللہ بھی تمہارے ان اعمال کو دیکھ لے گا۔ اور اس کا رسول بھی، ایسے میں تم لوگوں کو یہ جھوٹے حیلے بہانے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اور پھر معاملہ یہیں بس نہیں۔ بلکہ ایک دن تم سب کی پیشی اس ذات اقدس و اعلیٰ کے حضور ہونی ہے۔ جو نہاں اور عیاں کو ایک برابر جاننے والی ذات ہے، اور وہاں پر تمہارا خالق و مالک تم لوگوں کو ان تمام کاموں کی خبر کر دے گا جو تم زندگی بھر کرتے رہے تھے، سو اصل فکر و کوشش اس یوم حساب کی گرفت و پکڑ سے بچنے کے لئے کرنی چاہیئے، اور وہاں پر صرف حق اور سچ ہی کام آ سکے گا، نہ کہ تمہارے یہ جھوٹے حیلے بہانے۔

۹۵. سو اس سے اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے، کہ یہ لوگ تمہارے سامنے جھوٹے حیلے بہانے پیش کریں گے کہ تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو تم ان سے اعراض اور روگردانی ہی سے کام لینا، کہ یہ نرے پلید ہیں، اور گندگی اور نجاست سے بچنا اور اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جہاں انہوں نے اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ پا کر کر رہنا ہے والعیاذ باللہ۔

۹۶. سو اس سے منافقوں کی مت ماری اور ان کی بدبختی کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ یہ لوگ صرف انسانوں کو راضی کرنے کی فکر و کوشش میں ہوتے ہیں اور بس، خدا کو راضی کرنے کی طرف ان کی توجہ نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کی یہی روش جب سے ابتک برابر موجود ہے کہ ان کی تمام کوششوں کا محور و مدار یہی ہوتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بلکہ آج تو حال یہ ہو گیا ہے کہ کتنے ہی نام نہاد مسلمان ایسے ہیں جو کفار کو راضی کرنے کی فکر و کوشش میں رہتے ہیں۔ اگرچہ اس کے لئے ان کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو بھی توڑنا پڑے، اور وہ بالفعل اللہ اور اس کے رسول کے کھلے اور صریح احکام کو توڑ کر دین کے دشمنوں کو راضی کرنے کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں۔ خاص کر مسلمانوں کا حکمران طبقہ جو کفار اشرار کو راضی کرنے اور ان کی آشیر باد حاصل کرنے کے لئے مسلمان پر طرح طرح کے مظالم ڈھانے میں مصروف ہے، جس کی کھلی مثالیں یہاں اور وہاں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف یہاں پر مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم لوگ ان سے راضی ہو جاؤ۔ سو تم لوگ اگر ان سے راضی ہو بھی گئے تو اس سے ان کو کیا فائدہ اور حاصل؟ اللہ تو ایسے بدکار لوگوں سے راضی نہیں ہو گا۔ سو اصل چیز اللہ تعالیٰ ہی کی رضا و خوشنودی ہے، جس سے سرفرازی کا طریقہ سچی توبہ و انابت اور رجوع الی اللہ ہے کیونکہ وہ خالق و مالک اگر راضی ہو گیا تو سب کام بن گیا۔ اور پھر سب لوگ بھی راضی ہو جائیں گے ورنہ کچھ بھی نہیں لیکن منافق لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ، ہرحال میں، اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، اور ہر قدم اپنی رضا کی راہوں پر اٹھانے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین

۹۸. سو اس سے ایسے لوگوں کی بدبختی کا اور نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ کہ اول تو یہ لوگ اپنے سوئے باطن کی بناء پر اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرنے ہی کو تیار نہیں ہوتے۔ اور اگر کہیں حالات کی مجبوری کی بناء پر کچھ خرچ کرنا پڑ بھی جائے تو یہ اس کو اپنے اوپر ایک تاوان اور چٹی سمجھتے ہیں۔ جس سے یہ دوہرے نقصان میں مبتلا ہوتے ہیں کہ مال بھی گیا اور اجر و ثواب سے بھی محروم رہے۔ اور مزید برآںیہ کہ ان کی مسلمانوں کے بارے میں یہ تمنا ہوتی ہے کہ کہیں ان پر کوئی گردش آ جائے تاکہ اس طرح ان سے جان چھوٹ جائے، حالانکہ گردش اور وہ بھی بُری گردش خود انہی پر ہے، اور اللہ سمیع اور علیم ہے وہ ان سے جو بھی معاملہ فرماتا ہے یا فرمائے گا وہ سب اس کے سمع و بصر اور علم و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔ اور مبنی ہو گا۔ اس لئے اس میں کسی تقصیر و کوتاہی کا کوئی خدشہ و امکان نہیں ہو سکتا۔ کہ وہ اس طرح کے جملہ شوائب سے پاک ہے سبحانہ و تعالیٰ۔

۹۹. سو اس ارشاد سے مخلص اعراب کی بعض اہم صفات اور ان کے انعام کو ذکر و بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان اَعراب یعنی دیہاتیوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو سچا پکا ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں، اور اس کی رضا کیلئے، اس کو وہ تاوان سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا سے سرفرازی اور رسول کی دعاؤں کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آگاہ رہو کہ واقعی وہ ان کے لئے قرب و رضاء خداوندی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اللہ عنقریب ہی ان کو اپنی خاص رحمت میں داخل فرمائے گا۔ کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا۔ انتہائی مہربان ہے۔

۱۰۰.  ۱: سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اسلامی معاشرے کے گل سر سبد اور اس کے اصل سرمایہ یہ لوگ ہیں۔ چنانچہ ان کا ہر اول دستہ مہاجرین و انصار میں سے وہ سابقوں اولون ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہا۔ اور انہوں نے اسلام کی اس دعوت حق کو اس وقت قبول کیا جس وقت ایک قدم بھی اس طرف بڑھانا گوناگوں خطرات کو مول لینے کے مترادف تھا۔ اور دوسرے درجے میں وہ لوگ ہیں جو اگرچہ اوّلیت اور اَسْبقیّت کا درجہ حاصل نہیں کر سکے تھے، لیکن انہوں نے ان سابقین اولین کے نقش قدم کی پورے صدق و اخلاص اور راست بازی کے ساتھ پیروی کی تھی۔ جس کو یہاں پر احسان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی سابقین اولین کی اس پیروی میں انہوں نے نہ کسی طرح کی نمائش اور ریاکاری و ظاہر داری سے کام لیا، اور نہ کسی دنیاوی غرض اور ذاتی مفاد کو سامنے رکھا، اور نہ ہی انہوں نے کسی طرح کے کسی تذبذب کو اس راہ میں دخل انداز ہونے دیا۔ بلکہ وہ اس صدق و اخلاص، عزم و ہمت اور جوش و جذبہ سے ایسے آگے بڑھے، کہ پھر کسی مرحلے پر پیچھے مڑنے کا کام بھی نہ لیا۔  

۲:  سو اس سے ان مخلصین کو دیئے جانے والے عظیم الشان انعام کو ذکر فرما دیا گیا کہ اللہ ان سے راضی ہو گیا ان کے صدق و اخلاص صبر و ثبات اور عزیمت و استقامت کی بناء پر، اور جب اللہ راضی ہو گیا تو دنیا و آخرت کی سب خیر اور بھلائی مل گئی کہ کائنات ساری اور دنیا و آخرت دونوں کا خالق و مالک وہی وحدہٗ لاشریک ہے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں تیار فرما رکھی ہیں، جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جہاں ان خوش نصیبوں کو ہمیشہ رہنا نصیب ہو گا، یہی ہے اصل حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی، اللہ نصیب فرمائے، اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ اٰمین ثم اٰمین یارب ِّالعالمین ویا ارحم الراحمین۔ اس آیت کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حضرات صحابہ کرام سے بغض و عناد رکھنے والے نہ مسلمان ہو سکتے ہیں۔ اور نہ جنت کے حقدار، کیونکہ یہاں پر فائز المرام لوگوں کے بارے میں بتا دیا گیا کہ وہ تین ہی گروہوں میں منحصر ہیں، مہاجرین، انصار اور ان کے سچے پیروکار، پس بغض صحابہ رکھنے والوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں۔

۱۰۳. پیچھے آیات نمبر۵۳،۵۴ میں اللہ کے رسول کو منافقین کے صدقات قبول نہ کرنے، اور ان سے اعراض و بے رخی برتنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان میں سے بعض کے صدقات رد بھی فرما دیتے تھے۔ اسی طرح آیت نمبر٨۴ سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ اس میں آپ کو ان کے لئے استغفار کی بھی ممانعت فرما دی گئی تھی۔ لیکن اب اس ارشاد سے یہ واضح فرمایا جا رہا ہے، کہ جن کو معافی دے دی گئی، ان کے لئے برکت و رحمت کے ان دنوں دروازوں کو بھی کھول دیا گیا ہے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پیش کردہ صدقات بھی قبول کر لیا کرو۔ اور یہ اس لئے کہ اسی سے تم ان کو رذائل سے پاک اور فضائل سے آراستہ کرو گے۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کے لئے دعاء بھی کرتے رہا کرو۔ اس لئے کہ تمہاری دعا ہی ہے جو ان کے لئے سرمایہ سکینت بنے گی۔ یہاں پر تطہیر اور تزکیہ کے دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ تطہیر میں غالب پہلو ظاہری اور باطنی نجاستوں اور رذائل سے پاک و صاف کرنے کا ہے۔ جبکہ تزکیہ میں رذائل سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ باطنی صلاحیتوں اور خوبیوں کو نشوونما دینے۔ اور فضائل اخلاق سے آراستہ کرنے کا مفہوم بھی شامل ہے۔

۱۰۵. سو اس سے ایک تو ان لوگوں کو جن کی توبہ قبول فرمائی گئی، اس بات کی ہدایت فرمائی گئی ہے، کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی اس معافی پر قانع اور مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جانا۔ بلکہ آئندہ اپنے عمل سے ثابت کرو، کہ واقعی تم لوگ سچے دل سے اللہ کی طرف رجوع ہوئے ہو۔ اللہ تمہارے عمل پر نگاہ رکھے گا، اور اس کے رسول اور سارے اہل ایمان بھی، اور اس کے ساتھ ہی ان کو دوسری تنبیہ یہ بھی فرمائی گئی کہ اگر تم لوگ اللہ کے رسول، اور اہل ایمان سے اپنی کوئی حرکت چھپانے میں کامیاب ہو بھی گئے تو کیا۔ اللہ سے تو تمہاری کوئی بھی حرکت چھپ نہیں سکتی کہ وہ نہاں اور عیاں کو ایک برابر جاننے والا ہے۔ اور اس کے یہاں تو تم سب کو آخرکار اور بہرحال حاضر ہونا ہے اس لئے تم لوگ ہمیشہ اس بنیادی بات کو پیش نظر رکھا کرو کہ تمہارا معاملہ ہمیشہ اس وحدہٗ لاشریک کے ساتھ صحیح رہے، کہ اس کی رضا و خوشنودی ہی اصل مقصود اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، وباللہ التفویق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطنٍ لمن المواطن فی الحیاۃ، وہو الہادی الی سواء الصراط، جل وعلا شانہ

۱۰۷. یہ مسجد جس کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے چونکہ دعوت حق کو نقصان پہچانے کے لئے بنائی گئی تھی۔ اس لئے اس کا نام ہی مسجد ضرار پڑ گیا۔ اس کو منافقین نے مسجد قبا کے نزدیک بنایا تھا، تاکہ اسلام کے دشمنوں کے لئے ایک اڈہ مہیا کیا جائے اور مزید دھوکہ دہی کی غرض سے ان لوگوں نے اللہ کے رسول سے بھی عرض کیا کہ آپ بھی اس میں نماز پڑھیں۔ تاکہ اس طرح اس کو مسجد کا پورا تقدس حاصل ہو سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سفر تبوک سے واپسی پر ایسا کرنے کا وعدہ فرما لیا۔ لیکن واپسی پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو وحی کے ذریعے اس کی اصل حقیقت سے آگہی بخش دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ صرف یہ کہ اس میں نماز پڑھنے سے انکار فرما دیا۔ بلکہ اس کے گرانے کا بھی حکم و ارشاد فرما دیا، جس سے اس کو گرا کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی گئی۔ کہ یہ مسجد نہیں بلکہ شرک کا ایک اڈا تھا۔ اس آیت کریمہ میں ان اغراض خبیثہ کو بے نقاب کر دیا گیا، جن کے پیش نظر کفر و شرک کے اس اڈے کو مسجد کے نام سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اور یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ تو قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے تو نیکی اور بھلائی ہی کے قصد و ارادہ سے یہ مسجد بنائی ہے لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔

۱۰۸ یہ مسجد جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جو کہ مسجد ضرار کے قریب پہلے ہی سے موجود تھی۔ اس ارشاد عالی میں اس مسجد کی بھی تعریف فرمائی گئی اور اس کے اندر نماز پڑھنے والوں کی بھی سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کے قیام کی اصل حقدار اور اس کے لائق وہ مسجد ہے جس کی بنیاد اول روز ہی سے تقوے پر رکھی گئی تھی، جس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ایسے پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ سو اس میں مسجد ضرار اور اس کے بانیوں پر بھی تعریض ہے کہ نہ اس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی تھی۔ اور نہ ہی اس کے نام نہاد نمازی ہی کوئی پاکیزہ انسان ہیں۔ لہٰذا نہ ان لوگوں کی بنائی ہوئی اس عمارت کو مسجد کا تقدس حاصل ہو سکتا ہے، اور نہ ہی ان لوگوں کے اندر اس طرح کی کسی خیر اور نیکی کا کوئی وجود اور شائبہ ہے جس کی بناء پر ان کی کسی طرح کی کوئی تعریف کی جا سکے، یہاں سے ایک اور حقیقت یہ بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مسجد کی بنیاد دراصل زمین پر نہیں بلکہ اس کے بانیوں کے دلوں پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بانیوں کے دلوں کے اندر تقوی ہو۔ اور وہ اس تقوے ہی پر مسجد کی بنیاد رکھیں، تو وہ مسجد ہے اور اس کو مسجد کا تقدس حاصل ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر ان لوگوں کے دلوں کے اندر شر و فساد ہو، تو وہ مسجد نہیں بلکہ ایک بت خانہ ہوتا ہے جس نے بالآخر اپنے بانیوں اور پجاریوں سمیت جہنم میں جا گرنا ہوتا ہے، جیسا کہ آگے اس کے بارے میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم

۱۱۰. سو اس سے مسجد ضرار کے بنانے کے اس گھناؤنے جرم کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے جس کا ارتکاب ان منافقوں نے کیا تھا۔ چنانچہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس جرم کے ارتکاب سے ان لوگوں نے نفاق کی جڑ کو اپنے اندر اس قدر مضبوط اور پختہ کر دیا تھا۔ کہ اب یہ ان کے دلوں سے کبھی نکل نہیں سکے گا۔ کہ یہ ان لوگوں کی ایک ایک رگ میں اپنی جڑیں جما چکا ہے۔ اب یہ ان کے اندر سے کبھی نکل نہیں سکے گا، اِلاَّ یہ کہ ان کے دل ہی پاش پاش ہو جائیں۔ جس طرح کہ محاورے کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ اب یہ داغ تو اس کپڑے کے ساتھ ہی جائے گا۔ اسی طرح یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے اندر کا یہ کفر و نفاق ان کے دلوں کے پاش پاش ہو جانے ہی پر جائے گا، والعیاذ باللہ، سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عمل عمل کے اثرات و نتائج میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو نفاق کا ہر عمل اپنے اندر بڑے خبیث اور زہریلے اثرات رکھتا ہے۔ لیکن مسجد ضرار جیسا فتنہ کھڑا کر دینا ایک ایسا ہولناک جرم ہے جس کے اثرات و نتائج سے جان چھڑانا پھر کسی طرح ممکن نہیں رہتا۔ کہ اس طرح کا خبیث مرض جسم کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے اور ایسا اور اس طور پر کہ اس کی جڑیں پکی ہو جاتی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اٰمین ثم اٰمین، ان ارشادات سے ایک اور اہم حقیقت یہ واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی اصلاح و فساد، اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن ہی سے ہے خاص کر اس کے ارادہ و نیت سے، کہ اس کا جیسا بھی ارادہ ہو گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اسی کی توفیق ملے گی، پس انسان کو ہر وقت اور ہر حال میں اپنے توجہ اپنے قلب و باطن کی اصلاح ہی پر مرکوز رکھنی چاہیے، وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحوال، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر قسم کے مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین

۱۱۲. سو اس آیت کریمہ سے سچے اہل ایمان کی خاص صفات کو ذکر و بیان فرما دیا گیا ہے، جس سے ایک طرف تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایمان صرف زبانی کلامی دعووں کا نام نہیں بلکہ وہ عبارت ہے اخلاق و کردار اور اعلیٰ اور عمدہ و پاکیزہ صفات سے، تاکہ اس طرح ہر کوئی اس آئینے میں اپنے مرتبہ و مقام کو جان اور پہچان سکے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ یہی عمدہ خصال و صفات انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت کا اہل اور مستحق بناتی ہیں۔ اور پھر ایسے سچے اہل ایمان کے لئے خوشخبری سنا دینے کا کا حکم و ارشاد فرمایا گیا، کہ ان کو خوشخبری سنا دو۔ لیکن وہ بھی اس طور پر کہ مُشَرْبِہٖ کو ذکر نہیں فرمایا گیا۔ یعنی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو کس چیز کی خوشخبری سنائی جائے، جس سے عموم و شمول کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ یعنی ایسے خوش نصیبوں کے لئے ہر خیر سے بہرہ مندی اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی خوشخبری ہے، وباللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ ویرید، وعلی ما یُحِبُّ ویرید، بِکُلِّ حالٍ مَّنْ الْاَحْوال، وفی کل مَوْطِنٍ مِّنَ المواطن فی الحیاۃ۔

۱۱۳. سو اس سے یہ اہم اور بنیادی ہدایت دی گئی ہے کہ پیغمبر اور دوسرے اہل ایمان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت و بخشش کی دعا کریں۔ خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد کہ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہو کہ وہ لوگ دوزخی ہیں۔ اور یہ اس لئے کہ ایمان و عقیدہ اور دین کا رشتہ سب سے بڑا۔ اور سب سے مقدم رشتہ ہے۔ دوسرے تمام رشتے اس کے مقابلے میں ہیچ اور صفر ہیں۔ البتہ ان کے لئے ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے، وہ اس کے منافی نہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا گیا کہ اس کے بعد کہ ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ وہ دوزخی ہیں۔ کہ دوزخیوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا جائز نہیں۔ اور پیغمبر کو یہ بات وحی کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے کہ کون دوزخی ہے، اور کون دوزخی نہیں، لیکن ان کے بعد کسی کے لئے یہ جاننا چونکہ ممکن نہیں، اس لئے دوسرے لوگ کفار و مشرکین کے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں، تاکہ ان کو ہدایت کی دولت نصیب ہو سکے، لیکن جن کی موت کفر و شرک ہی پر ہو جائے ان کے لئے دعائے خیر جائز نہیں، کہ ایسی صورت میں ان کا دوزخی ہونا قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کیونکہ اس آیت کریمہ سے صاف اور صریح طور پر واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کو مشرکین کے لئے دعا کی اجازت نہیں۔

۱۱۴. اس ارشاد سے ایک شبہے کا ازالہ فرما دیا گیا وہ یہ کہ جب کسی پیغمبر کے لئے مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں، تو پھر حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ آزر کے لئے ایسی دعا کیوں اور کیسے کی تھی؟ سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم کی وہ دعاء بھی محض ایفائے عہد کے لئے تھی، کیونکہ آنجناب نے اپنے باپ کی دھمکی کے جواب میں اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے اعلان کے موقع پر اس سے کہا تھا سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔ (مریم۔۴۷) یعنی یہ کہ ابا جان میں آپ کے لئے اپنے رب سے مغفرت و بخشش کی دعا کرتا رہوں گا، بیشک وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ اور یہ اس لئے کہ حضرت ابراہیم بڑے ہی درد مند، غمگسار، اور رقیق القلب انسان تھے اور یہ بھی اسی وقت تک تھا کہ جبکہ حضرت ابراہیم کو اپنے باپ کی ہدایت کی امید تھی۔ لیکن جب ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو پھر حضرت ابراہیم نے اس سے صاف طور پر اعلان براءت کر دیا۔ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام

۱۱۷. تَابَ یَتُوْبُ تَوْبًا وَّتَوْبَۃً وَمَتَّایًا کے اصل معنی لوٹنے اور واپس ہونے کے ہوتے ہیں، پھر جب اس کی نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے تو اس وقت اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلط، روی کو ترک کر کے اللہ کی طرف رجوع ہو گیا۔ اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے، تو اس وقت اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کی توبہ کو قبول فرما لیا۔ اور جب اس کے ساتھ علیٰ کا صلہ بھی آ جاتا ہے جیسا کہ یہاں پر ہے، تو اس وقت یہ رحمت کے مضمون کو بھی متضمن ہو جاتا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر نظر رحمت فرما دی۔ اور اس کو اپنی عنایات سے نواز دیا۔ جس کا لازم معنی یہ ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے بندے کی توبہ کو شرف قبولیت سے نواز دیا۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی مفہوم کے اظہار کی کوشش کی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ سو اس ارشاد سے اس عام بشارت کا اعلان فرمایا گیا ہے جو رحمت کی گھٹا بن کر ان لوگوں پر برسی، جنہوں نے اپنے صدق و اخلاص، اور عزم و ہمت، سے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا تھا۔ جن میں سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر فرمایا گیا، کہ اس پاکیزہ معاشرے کے گل سر سبد اور مرکز و محور آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی تھے۔ اور دوسرے درجے میں اس ضمن میں ان حضرات مہاجرین و انصار کا ذکر فرمایا گیا ہے، جو تنگی اور آزمائش کی اس گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت و اتباع کے شرف سے مشرف ہوئے تھے جبکہ تنگی اور آزمائش کے اس موقع پر کچھ حضرات سے بشری تقاضوں کی بناء پر کچھ کمزوری بھی سرزد ہو گئی تھی۔ لیکن تنبیہ کے بعد وہ بھی متنبہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں لے لیا۔ کہ بیشک وہ ان سب پر بڑا ہی شفیق، نہایت ہی مہربان ہے، سبحانہ و تعالیٰ

۱۱۸. قبولیت توبہ کی اس عام بشارت کے بعد جس کا ذکر ابھی اوپر ہوا۔ اب اس ارشاد سے ان تین حضرات کی توبہ کی قبولیت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ جن کے بارے میں اوپر آیت نمبر۱٠۶ میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا معاملہ ابھی التواء میں رکھ دیا گیا ہے، یہ تینوں حضرات سچے اور مخلص صحابہ کرام میں سے تھے۔ لیکن تبوک کے اس سفر کے موقع پر یہ اپنے صدق و اخلاص کے باوجود اپنی سستی اور کاہلی کی بناء پر شریک سفر نہ ہو سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی واپسی کے موقع پر جبکہ دوسرے لوگ مختلف قسم کے حیلے بہانے پیش کر رہے تھے، تو انہوں نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر پوری سچائی کے ساتھ عرض کیا کہ اللہ کے رسول! اگر بات کسی اور کے سامنے کی ہوتی، تو ہم بھی بہت کچھ حیلے بہانے کر سکتے تھے۔ لیکن چونکہ آپ کے ساتھ ہے اس لئے ہم بغیر کسی حیل و حجت اور قبل و قال کے عرض کرتے ہیں کہ ہم سے محض سستی کی بناء پر کوتاہی ہو گئی۔ پس آپ ہمارے بارے میں جو فیصلہ فرمائیں ہمیں منظور ہے۔ تو اللہ کے رسول نے ان سے سوشل بائیکاٹ کا حکم و ارشاد فرما دیا۔ جس کے مطابق انہوں نے پچاس دن اس طرح گزارے کہ سب لوگوں نے ان سے منہ پھیر لیا۔ بیگانے بے گانے ہو گئے، عزیزوں رشتہ داروں وغیرہ سب نے ان سے قطع تعلقی اختیار کر لی، یہاں تک کہ پچاس دن کے بعد ان کو قبولیت توبہ کی بشارت سنائی گئی، اس سلسلہ میں بڑی عبرت انگیز تفصیلات ہیں، جو بڑی تفسیروں میں درج ہیں۔ ہم نے بھی اپنی بڑی تفسیر میں ان کو کافی حد تک درج کیا ہے۔ وہیں دیکھ لیا جائے، یہاں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں، والحمد للہ جل و علاعلی کل حال

۱۲۰. سو جب راہ حق میں نکلنے سے خیر ہی خیر ملتی ہے۔ اور اجر ہی اجر نصیب ہوتا ہے، اس راہ میں بندہ جس مشکل سے بھی گزرتا ہے، جو چوٹ بھی وہ کھاتا ہے، اور جو زخم بھی دشمن کی طرف سے اس کو لگتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بدلے میں ان کے لئے ایک عمل صالح لکھا جاتا ہے۔ جس پر جزاء کے دن میں ان کو ہر عمل صالح پر بہتر سے بہتر بدلہ ملے گا۔ تو پھر ایسے میں ان کے لئے یہ بات آخر کس طرح روا ہو سکتی ہے کہ یہ لوگ سفر جہاد میں اللہ کے رسول سے پیچھے رہیں، اور اپنی جان کو ان کی جان پر مقدم جانیں؟ اور ایسے میں یہ طریقہ کس قدر خسارے کا باعث ہے؟ والعیاذ باللہ جل وعلا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ تو اپنی شان کرم کے مطابق کئ گنا بڑھا کر اجر و ثواب سے نوازا، سبحانہ و تعالیٰ

۱۲۲. سو اس سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ علم دین حاصل کرنے، اور اس میں فہم و بصیرت پیدا کرنے کے لئے نکلے۔ پھر وہ لوگ اپنی قوم میں واپس آنے کے بعد ان کو سکھائیں اور بتائیں تاکہ وہ راہ راست پر آئیں، اور غلط روی اور اس کے انجام سے بچیں۔ پیغمبر کی موجودگی میں تو اس کے لئے ایسے لوگ یعنی حضرات صحابہ کرام ان ہی کی مجلس میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ اس لئے کہ اس وقت مصدر فیض اور منبع رُشد و ہدایت ان ہی کی ذات اقدس تھی، اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ میں سے بعض نے مجلس نبوی میں حاضری کے لئے باریاں مقرر کر رکھی ہوتی تھیں، تاکہ اس طرح وہ باہمی تعاون سے اپنے اپنے کام کاج بھی جاری رکھ سکیں۔ اور مجلس نبوی کے فیوض و برکات سے بھی مستفید و فیضیاب ہو سکیں۔ اور دور نبوت کے بعد ایسے حضرات اس غرض کے لئے اپنے اپنے وقت کے اہلِ علم و فضل کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اور یہ سلسلہ جب سے اب تک جاری ہے۔ اور قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ ان شاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ۔ سو دین متین کی تعلیمات مقدسہ کا حصول، اور ان کی تعلیم و تبلیغ کا فریضہ امت کا ایک اہم اور اجتماعی فریضہ اور انکے فرض منصبی کا تقاضا ہے۔ جس کے لئے حتی المقدور اہتمام و انتظام لازم ہے۔

۱۲۳. یعنی وہ ان کے ساتھ ہے اپنی نصرت و امداد کے اعتبار سے۔ یعنی اس معیت سے یہاں پر مراد معیت خاصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے۔ جبکہ اس کی معیت عامہ جو کہ عبارت ہے اس کے کمال علم و قدرت سے، وہ مومن و کافر سب کے ساتھ ہے۔ یہ آیت کریمہ اس پوری سورہ کریمہ کے اصل مضمون کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے کی مختلف آیات کریمات سے کفار و مشرکین پر اتمام حجت کر دیا گیا۔ اور ان کے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔ تو پھر ان سے اعلان برأت، اور اب اعلان جنگ ہے۔ اور وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً کے حکم و ارشاد سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اب تمہارا یہ عمل ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے جس سے ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اب تمہارے اندر ان کے لئے موالات اور دوستی و محبت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی ہے۔ بلکہ جس طرح وہ تمہارے اور تمہارے دین کے من حیث القوم مخالف اور دشمن ہیں، اسی طرح تم بھی من حیث الجماعت ان کے اور ان کے دین کے دشمن بنو۔ اب تک وہ تمہارے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پاتے تھے، مگر اب اس کا وقت گزر گیا۔ اس لئے اب تم لوگ اپنی غلظت و صلابت اور اپنی سختی اور پختگی سے ان کے سامنے واضح کر دو کہ اب ان کے لئے اس طرح کسی نرم گوشے کی تمہارے دلوں کے اندر کوئی گنجائش نہیں۔

۱۲۵.  سو قرآن حکیم کی جو بھی کوئی نئی سورت اور نیا حکم نازل ہوتا ہے تو اس سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، وہ اس سے خوش ہوتے ہیں، کہ خداوند قدوس کی رحمت کی ایک نئی گھٹا برس گئی۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا روگ ہوتا ہے اس سے ان کی نجاست پر مزید نجاست کے ردے چڑھے چلے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کی زندگی کے کسی مرحلے میں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی یہاں تک کہ ان کی موت بھی کفر ہی کی حالت میں آتی ہے۔ اور وہ ہمیشہ کے لئے فی النَّار والسَّقر ہو جاتے ہیں، والعیاذُ باللہ العظیم۔

۱۲۶. سو ان کی اس بدبختی اور قساوت قلبی کا نتیجہ ہے کہ نہ ان کے دل توبہ کی طرف مائل ہوتے ہیں اور نہ ان کی عقلیں کوئی سبق لیتی ہیں۔ سو ایسے لوگوں کے برے اعمال کی بناء پر ان کے دل قاسی، اور ان کی عقلیں ماؤف ہو جاتی ہیں لَایَتُوْبُوْنَ اور لَا یَذَّکَّرُوْنَ کے ان دو فعلوں سے ان دونوں حقیقتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور یہ اس لئے کہ توبہ دل کا فعل ہے۔ اور تذکر عقل کا سو یہ بدبخت ان دونوں سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذُ باللہ العظیم۔ نہ یہ توبہ کرتے ہیں، اور نہ ہی اپنی عقلوں سے کام لیتے ہیں۔ اس لئے یہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم

۱۲۸. سو اس سے اس عظیم الشان احسان اور اس کے تقاضوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ جو کہ نعمتوں کی نعمت، اور احسانوں کا احسان ہے۔ اور جس سے حضرت حق جَلَّ مَجْدُہ، نے محض اپنے فضل و کرم سے دنیائے انسانیت کو نوازا ہے، یعنی حضرت امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت و تشریف آوری کی نعمت، جو کہ دارین کی سعادت سے سرفرازی کی ضامن و کفیل ہے۔ اور جس سے اعراض و رُوگردانی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین، وبہٰذا قد تم التفسیر المختصر لسورۃ التوبۃ، والحمدللہ جل وعلا