تفسیر مدنی

سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء

(سورۃ الإسراء ۔ سورہ نمبر ۱۷ ۔ تعداد آیات ۱۱۱)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     پاک ہے وہ ذات،  جو راتوں رات لے گئی اپنے بندہ خاص کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے آس پاس کو ہم نے نواز رکھا ہے طرح طرح (کی خیرات) و برکات سے ، تاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی نشانیوں میں سے (کچھ نشانیاں)، بے شک وہ (اللہ) ہی ہے سننے والا، دیکھنے والا،

۲۔۔۔      اور (اس سے پہلے) ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تھی اور اسے ہم نے ذریعہ ہدایت بنایا تھا بنی اسرائیل کے لئے ، (اس تاکید کے ساتھ) کہ میرے سوا کسی کو اپنا کار ساز نہیں قرار دینا،

۳۔۔۔      اے اولاد ان لوگوں کی، جن کو ہم نے اٹھایا نوح کے ساتھ (ان کی کشتی میں تم بھی اپنے اجداد کی پیروی میں شکر گزاری کو اپناؤ کہ) بلاشبہ وہ بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا،

۴۔۔۔      اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے اپنی کتاب میں آگاہ کر دیا تھا، کہ تم لوگ زمین میں بڑا سخت فساد پھیلاؤ گے دو مرتبہ، اور سرکشی کرو گے بہت بڑی سرکشی،

۵۔۔۔      پھر جب ان دونوں میں سے پہلا موقع آ پہنچے گا تو ہم تم پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دیں گے جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے پھر وہ گھس (گھس) جائیں گے تمہارے گھروں میں ، یہ (اللہ کا) ایک وعدہ ہے جس نے بہر حال پورا ہو کر رہنا ہے ،

۶۔۔۔      پھر (اس کے بعد تمہاری ندامت و توبہ پر) ہم تمہیں دوبارہ غلبہ عطا کر دیں گے ان پر، اور تمہاری مدد کریں گے طرح طرح کے مالوں اور بیٹوں (کی کثرت) سے ، اور بڑھا دیں گے ہم تمہاری (تعداد اور) نفری کو،

۷۔۔۔      (سو) اگر تم نے اچھا کیا تو اپنے ہی لئے کرو گے ، اور اگر تم نے برائی کی تو اس کا وبال بھی خود تم ہی لوگوں پر ہو گا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا (تو ہم تم پر دوبارہ اپنے ایسے بندے مسلط کر دیں گے) تاکہ وہ حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں تمہارے چہروں کا، اور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد میں ، جیسا کہ وہ اس میں داخل ہو گئے تھے پہلی مرتبہ، اور تاکہ وہ تمہیں تہس کر کے رکھ دیں ، ہر اس چیز کو جس پر ان کا قابو چلے (اور ہاتھ پڑے)

۸۔۔۔      ہو سکتا ہے تمہارا رب تم پر رحم فرما دے اور اگر تم نے پھر وہی کچھ کیا (جو اس سے پہلے کیا تھا) تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے (جس کے تم مستحق ہوؤ گے)، اور ہم نے بنا رکھا ہے جہنم کو کافروں کے لئے ایک بڑا ہی ہولناک قید خانہ،

۹۔۔۔     بے شک یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راستے کی جو سب سے زیادہ سیدھا ہے ، اور یہ خوشخبری سناتا ہے ان ایمانداروں کو جو نیک کام کرتے ہیں ، کہ ان کے لئے ایک بڑا ہی عظیم الشان اجر (و ثواب) ہے ،

۱۰۔۔۔      اور یہ کہ بے شک جو لوگ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، ان کے لئے ہم نے ایک بڑا ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ،

۱۱۔۔۔      اور انسان برائی اس طرح مانگتا ہے جس طرح کہ اسے بھلائی مانگنی چاہیے ، اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے ،

۱۲۔۔۔      اور ہم نے بنایا رات اور دن کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) دو عظیم الشان نشانیاں ، پھر رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا (اور مدھم) رکھا، اور دن کی نشانی کو روشن بنا دیا تاکہ تم لوگ تلاش کر سکو اپنے رب کا فضل، اور تاکہ تم لوگ معلوم کر سکو سالوں کی گنتی اور حساب، اور ہر چیز کو ہم نے بیان کر دیا پوری تفصیل سے ،

۱۳۔۔۔      اور ہم نے مڑھ دیا ہر انسان کے شگون کو اس کے گلے میں ، اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے روز ایک ایسی کتاب (اس کے کئے کرائے کی) جسے وہ اپنے سامنے کھلا پائے گا، (اور اس سے کہا جائے گا کہ لے)

۱۴۔۔۔      خود پڑھ لے تو اپنے نامہ اعمال کو، آج تو اپنا حساب لینے کے لئے خود کافی ہے ،

۱۵۔۔۔      (پس) جو کوئی سیدھی راہ پر چلا تو وہ اپنے ہی لئے چلا، اور جو کوئی بھٹک گیا تو اس کا نقصان بھی خود اسی کو اٹھانا ہو گا، اور کوئی بھی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم کبھی سزا نہیں دیتے جب تک ہم نہ بھیج دیں کسی رسول کو،

۱۶۔۔۔      اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو (پہلے) وہاں کے خوشحال لوگوں کو (ایمان و اطاعت) کا حکم دیتے ہیں ، پھر جب وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تو ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے ، تب ہم اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں ،

۱۷۔۔۔      اور (اسی قانون کے مطابق) ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا نوح کے بعد، اور کافی ہے تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے والا، دیکھنے والا

۱۸۔۔۔     جو کوئی (صرف) دنیا ہی چاہتا ہے ، ہم اس کو یہیں دے دیتے ہیں جو کچھ ہمیں دینا ہوتا ہے ، جس کو دینا ہوتا ہے ، پھر جہنم ہی کو اس کا مقسوم بنا دیتے ہیں ، جس میں اسے داخل ہونا ہو گا بدحال اور خوار ہو کر،

۱۹۔۔۔      اور (اس کے برعکس) جو کوئی آخرت کا طلب گار ہو گا، اور اس کے لئے وہ ایسی کوشش بھی کرے گا جیسی کوشش کہ اس کے لئے کرنی چاہیے ، بشرطیکہ وہ ایماندار بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہو گی،

۲۰۔۔۔      (رہی دنیا تو اس میں) ہم (اپنی پروردگاری اور بخشش سے) ہر فریق کو مدد دئیے جا رہے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی، اور تمہارے رب کی بخشش (ان دونوں میں سے کسی فریق پر بھی) بند نہیں ،

۲۱۔۔۔      دیکھو (دنیا میں) ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے ، اور آخرت تو یقیناً اپنے درجات کے اعتبار سے بھی اس سے کہیں بڑی ہے ، اور اس کی فضیلت بھی اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہو گی،

۲۲۔۔۔      اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنانا کہ اس کے نتیجے میں تمہیں بیٹھنا پڑے بد حال اور بے یارو مددگار ہو کر،

۲۳۔۔۔      اور تمہارا رب یہ فیصلہ کر چکا کہ تم نے بندگی نہیں کرنی مگر اسی کی، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے ، اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے ، یا دونوں ، تو تم انہیں اف بھی نہ کہنا، اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں ، اور ان سے بات بھی پورے احترام سے کرنا،

۲۴۔۔۔      اور جھکائے رکھنا اس کے سامنے عاجزی کے بازو و نیاز مندی کی بناء پر، اور (ان کے حق میں) یہ دعاء بھی کرتے رہنا کہ اے میرے رب، رحم فرما ان دونوں پر، جیسا کہ انہوں نے مجھے پالا پوسا بچپن میں ،

۲۵۔۔۔      تمہارا رب جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ تمہارے دلوں کے اندر (موجود) ہے ، اگر تم نیک کردار ہوئے تو (بتقاضائے بشریت سرزد ہو جانے والی کسی ناشدنی سے مایوس نہیں ہو جانا کہ) بے شک وہ سچی توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا ہی بخشنے والا ہے

۲۶۔۔۔      اور رشتہ دار کو اس کا حق دے دیا کرو، اور مسکین اور مسافر کو بھی، پر بے جا خرچ نہیں کرنا،

۲۷۔۔۔      کہ بے جا خرچ کرنے والے یقینی طور پر شیطانوں کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے ،

۲۸۔۔۔     اور اگر کبھی تمہیں ان (اہل حقوق) سے پہلو تہی کرنا پڑے ، اپنے رب کی کسی ایسی رحمت کی تلاش میں جس کی تمہیں امید ہو، تو تم ان سے نرم (اور آسان) بات کہہ دیا کرو،

۲۹۔۔۔      اور نہ تو تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ رکھو، اور نہ ہی اسے اس طرح پورا کھول دو کہ اس کے نتیجے میں تم الزام خوردہ اور تنگ دست ہو کر رہ جاؤ،

۳۰۔۔۔      بے شک تمہارا رب روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے ، اور تنگ فرماتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے)، بے شک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر بھی ہے ، اور سب کچھ دیکھتا (سنتا) بھی،

۳۱۔۔۔      اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا تنگ دستی کے خوف سے ، کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں ان کو بھی، اور تم کو بھی، بلاشبہ (بے گناہوں) کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے

۳۲۔۔۔      اور (خبردار!) زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا بے شک وہ ایک بڑی بے حیائی اور بہت ہی بری راہ ہے ،

۳۳۔۔۔      اور قتل نہیں کرنا کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرام کر رکھا ہو، مگر حق کے ساتھ، اور جس کو قتل کیا گیا ظلم (و زیادتی) کے ساتھ، تو اس کے وارث کو ہم نے ایک بڑا زور (اور غلبہ) دیا ہے ، پس وہ قتل میں حد سے نہ گزرے ، یقیناً اس کی مدد کی جائے گی

۳۴۔۔۔      اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکنا، مگر اس طریقے سے جو کہ سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی (جوانی کی) قوتوں کو، اور پورا کیا کرو تم لوگ اپنے عہد کو، بے شک عہد کی باز پرس ہو گی

۳۵۔۔۔      اور جب تم ناپو تو پورا ناپو، اور (جب تولو تو) ٹھیک ترازو سے تولو، کہ یہ (فی نفسہٖ بھی) اچھی بات ہے ، اور اس کا انجام بھی اچھا ہے ،

۳۶۔۔۔      اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، کہ بلاشبہ کان، آنکھ اور دل، سب ہی کے بارے میں باز پرس ہو گی،

۳۷۔۔۔      اور اکڑ کر نہیں چلنا (اللہ کی) زمین میں ، بے شک نہ تو تم پھاڑ سکتے ہو اس زمین کو (ایڑیاں مار مار کر)، اور نہ ہی تم پہنچ سکتے ہو پہاڑوں کی بلندی کو (اپنی گردن کو تان کر)،

۳۸۔۔۔     ان سب باتوں میں سے ہر ایک کا برا پہلو تمہارے رب کے یہاں ناپسندیدہ ہے ،

۳۹۔۔۔      یہ سب باتیں ہیں اس حکمت (لا یزال) کی، جس کی وحی فرمائی ہے تمہاری طرف تمہارے رب نے (اپنے کرم سے) اور مت ٹھہرانا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، کہ اس کے نتیجے میں تم کو پھینک دیا جائے جہنم میں ملامت زدہ اور راندہ (و محروم کر کے)،

۴۰۔۔۔      تو کیا تمہارے رب نے تمہیں تو چن لیا بیٹوں کے ساتھ، اور خود اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا دیا؟ یقیناً تم لوگ ایک بڑی بھاری بات منہ سے نکالتے ہو

۴۱۔۔۔      اور یقیناً ہم نے طرح طرح سے بیان کیا ہے اس قرآن میں (حق اور حقیقت کو)، تاکہ کہ لوگ سمجھیں ، مگر اس سے ان (بدبخت ہٹ دھرموں) کی نفرت (اور محرومی) ہی میں اضافہ ہوتا گیا،

۴۲۔۔۔      (ان سے) کہو کہ اگر اس (وحدہٗ لا شریک) کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے ، جیسا کہ ان کا کہنا ہے ، تو یقیناً انہوں نے عرش والے تک پہنچنے کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا،

۴۳۔۔۔      پاک ہے وہ (اللہ) اور بہت ہی بلند اور بالا، ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ اس (کی شانِ اقدس) کے بارے میں بنا رہے ہیں

۴۴۔۔۔     اسی کی پاکی بیان کرتے (اور اس کی عظمت کے گن گاتے) ہیں یہ ساتوں آسمان اور زمین، اور اس کے اندر کی سب مخلوق، (خواہ زبان حال سے خواہ زبان قال سے)، اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو تسبیح نہ کرتی ہو، اس کی حمد (و ثناء) کے ساتھ، مگر تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے ، یقیناً وہ نہایت ہی بردبار، بڑا ہی بخشنے والا ہے ،

۴۵۔۔۔      اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارا اور ان لوگوں کے درمیان جو کہ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، ایک مخفی پردہ حائل کر دیتے ہیں ،

۴۶۔۔۔     اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے (ان کی اپنی بد نیتی کی بنا پر) اس بات سے کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بھاری ڈاٹ رکھ دئے (اس سے کہ یہ اسے سنیں)، اور جب تم قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو، تو یہ لوگ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ،

۴۷۔۔۔      ہمیں خوب معلوم ہے وہ غرض جس کے لئے یہ لوگ کان لگا کر سنتے ہیں ، جب کہ یہ تمہاری طرف کان لگائے ہوتے ہیں ، اور جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں ، جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو محض ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو،

۴۸۔۔۔      دیکھو تو سہی (عقل کے دشمن اور نصیب کے کھوٹے) یہ لوگ آپ کے لئے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں ، سو یہ ایسے بھٹکے کہ اب انہیں کوئی راہ دکھائی ہی نہیں دیتی

۴۹۔۔۔      اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے ، تو کیا پھر ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے ؟

۵۰۔۔۔     کہو کہ (ہڈیاں اور چورا تو کیا) تم پتھر یا لوہا ہو جاؤ،

۵۱۔۔۔      یا اور کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جس کا زندہ ہونا تمہارے خیال میں بہت مشکل بات ہو، (پھر بھی تم نے اٹھ کر رہنا ہے)، اس پر یہ کہیں گے کہ (اچھا تو) وہ کون ہے جو ہمیں (اس حالت پر بھی) دوبارہ زندہ کر دے گا؟ کہو وہ وہی ہے جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، (جب کہ تمہارا کوئی نام و نشان تک بھی نہ تھا) اس پر یہ لوگ سر ہلاتے ہوئے یہ سوال کریں گے کہ (اچھا تو) یہ کب ہو گا؟ جواب دو کہ کیا عجب کہ وہ وقت تمہارے قریب ہی آگیا ہو،

۵۲۔۔۔     جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی پکار پر (بلا کسی چوں چرا کے فوراً) چلے آؤ گے اس کی حمد (ثناء) کرتے ہوئے ، اور (آج جلدی مچانے والے منکرو، اس روز) تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم (مدت اس دنیا میں) رہے تھے ،

۵۳۔۔۔      اور کہو میرے بندوں سے (اے پیغمبر!) کہ وہ بات ہمیشہ وہی کریں جو ہر لحاظ سے اچھی ہو، کہ شیطان (ناروا بات کے ذریعے) ان کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش میں رہتا ہے ، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے ،

۵۴۔۔۔      تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے (کہ تم میں سے کون کس قابل ہے ، پس) وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے ، اور اگر چاہے تو تم کو عذاب میں ڈال دے ، اور ہم نے آپ کو (اے پیغمبر!) ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا،

۵۵۔۔۔      اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان سب کو جو کہ آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں موجود ہیں ، اور بلاشبہ ہم نے فضیلت بخشی بعض نبیوں کو بعض پر، اور ہم ہی نے داؤد کو زبور عطا کی تھی،

۵۶۔۔۔      (ان سے) کہو کہ تم لوگ پکار دیکھو اپنے ان (خود ساختہ) معبودوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے ہو، اس (معبود حق) کے سواء وہ نہ تمہاری تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو کچھ پھیر سکتے ہیں ،

۵۷۔۔۔      وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ (اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی، اور وسیلہ جوئی کے لئے) پکارتے ہیں ، وہ (ان کے کام کیا آتے وہ تو) خود اپنے رب کے حضور پہنچنے کے لئے (نیکیوں کے ذریعے) قرب ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں ، کہ کون اس کا زیادہ مقرب بنتا ہے وہ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں ، بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کی چیز،

۵۸۔۔۔      اور کوئی بستی ایسی نہیں ، جسے ہم ہلاک (اور تباہ و برباد) کر دیں قیامت سے پہلے ، یا اسے کوئی سخت عذاب نہ دے دیں ، یہ بات اس کتاب میں لکھی ہوئی ہے ،

۵۹۔۔۔      اور ہمیں ایسی نشانیاں (یعنی فرمائشی معجزات) بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اس طرح کی نشانیوں کو جھٹلا چکے ہیں پہلے لوگ، چنانچہ (نمونے کے طور پر دیکھ لو کہ) ہم نے قوم ثمود کو وہ اونٹنی بخشی آنکھیں کھول دینے والی ایک عظیم الشان نشانی کے طور پر، مگر انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم اپنی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لئے ،

۶۰۔۔۔      اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے رب نے گھیر رکھا ہے ، ان لوگوں کو (اپنے علم اور قدرت سے)، اور (ان عجائب قدرت کا) وہ دیکھنا جو کہ ہم نے آپ کو دکھایا تھا (اپنی قدرت و عنایت سے) اور اس درخت کو جس پر لعنت وارد ہوئی ہے قرآن میں ، (نہیں بنایا ہم نے اس سب کو) مگر آزمائش کا سامان لوگوں کے لئے ، اور ہم انہیں برابر ڈراتے (اور تنبیہ کرتے) رہتے ہیں ، (تاکہ یہ لوگ باز آ جائیں)، مگر اس سب سے ان کی اس بڑی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،

۶۱۔۔۔      اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم سجدہ کرو آدم کے لئے ، تو وہ سب سجدے میں گر پڑے بجز ابلیس کے (کہ اس نے سجدہ نہ کیا)، کہنے لگا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے پیدا کیا ہے مٹی سے ؟

۶۲۔۔۔      مزید کہا کہ بھلا دیکھ تو سہی، یہ جس کو تو نے مجھ پر فوقیت دی ہے اگر تو نے مجھے مہلت دے دی قیامت کے دن تک، تو میں جڑ نکال کر رکھ دوں گا اس کی سب نسل کی، بجز تھوڑے سے لوگوں کے

۶۳۔۔۔      ارشاد ہوا کہ جا (اور جو کچھ تجھ سے ہو سکے کر گزر، پر یاد رکھنا کہ) ان میں سے جو بھی کوئی تیرے پیچھے چلا، تو یقینی طور پر جہنم ہی بدلہ ہو گا تم سب کا پورا پورا بدلہ،

۶۴۔۔۔      اور پھسلا لے تو ان میں سے جس کو بھی پھسلا سکتا ہے ، اپنی آواز (اور چیخ و پکار) سے ، اور دوڑا لے ان پر اپنے سوار اور پیادہ (لشکر)، اور ساجھا کر لے تو ان کے ساتھ ان کے مالوں میں بھی، اور ان کی اولادوں میں ، اور پھانستا جا ان کو اپنے (جھوٹے) وعدوں کے جال میں ، اور شیطان کے وعدے کچھ نہیں ہوتے سوائے دھوکے کے سامان کے ،

۶۵۔۔۔      (پر واضح رہے کہ) میرے خاص بندوں پر یقیناً تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا، اور کافی ہے تمہارا رب کار سازی کیلئے ،

۶۶۔۔۔      تمہارا رب ہی تو ہے جو تمہارے (طرح طرح کے فائدوں کے) لئے کشتیاں (اور جہاز) چلاتا ہے سمندر میں ، تاکہ تم لوگ تلاش کر سکو اس کا فضل، (اور اس کی روزی)، بے شک وہ تم پر بڑا ہی مہربان ہے

۶۷۔۔۔      اور جب تم لوگوں کو سمندر (کی ان ہولناک موجوں) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو گم ہو جاتے ہیں (تمہارے وہ سب خود ساختہ حاجت روا و مشکل کشا) جن کو تم لوگ پکارا کرتے تھے ، سوائے اس (معبود برحق) کے ، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے ، تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو، واقعی انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

۶۸۔۔۔      اچھا تو کیا تم لوگ نڈر (اور بے خوف) ہو گئے ہو اس بات سے کہ وہ کبھی تم کو خشکی کی جانب ہی زمین میں دھنسا دے یا وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی کوئی آندھی، پھر تم نہ پا سکو اپنے لئے کوئی کار ساز

۶۹۔۔۔      کیا تم لوگ نڈر (اور بے خوف) ہو گئے اس سے کہ وہ کبھی تم کو پھر لے جائے سمندر میں ، اور تم پر کوئی سخت طوفانی ہوا بھیج کر تم سب کو اس میں غرق کر دے ، تمہارے کفر (و ناشکری) کی پاداش میں ، پھر تم نہ پا سکو اپنے لئے ہم سے کوئی پوچھنے والا،

۷۰۔۔۔      اور بلاشبہ ہم نے عزت بخشی بنی آدم کو، اور ان کو طرح طرح کی سواریوں سے نوازا خشکی میں بھی اور تری میں بھی اور ہم نے ان کو روزی کا سامان کیا طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے ، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر طرح طرح کی فضیلت (و بزرگی) بخشی،

۷۱۔۔۔      (اور یاد کرو اس ہولناک دن کو کہ) جس دن ہم بلائیں گے لوگوں کے ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ پھر جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (خوش ہو ہو کر) اپنے نامہ اعمال کو پڑھیں گے ، اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہو گا،

۷۲۔۔۔      اور جو کوئی اندھا بن کر رہا ہو گا، اس (دنیا کی زندگی) میں تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گمراہ،

۷۳۔۔۔      اور (اے پیغمبر!) ان لوگوں نے اپنی اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی کہ آپ کو فتنے میں ڈال کر پھیر دیں اس وحی سے جو ہم نے بھیجی ہے آپ کی طرف، تاکہ آپ اس کے خلاف ہماری طرف کسی اور بات کی نسبت کر دیں ، اور اگر ایسا ہو جاتا تو یہ لوگ یقیناً آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے ،

۷۴۔۔۔      اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا، تو بلاشبہ آپ کسی قدر ان کی طرف جھکنے کے قریب ہو جاتے ،

۷۵۔۔۔      اور اگر ایسے ہو جاتا تو ہم یقیناً آپ کو دوہرا عذاب چکھاتے ، دنیاوی زندگی میں بھی، اور موت کے بعد بھی، پھر آپ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پا سکتے

۷۶۔۔۔      اور انہوں نے اس میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ آپ کے قدم اکھاڑ دیں اس سرزمین سے ، تاکہ آپ کو اس سے نکال باہر کر دیں ، (خواہ جبر سے خواہ مکر سے) اور اگر ایسا ہو جاتا تو یہ لوگ بھی آپ کے بعد یہاں نہ ٹھہر سکتے مگر بہت کم،

۷۷۔۔۔      اپنے اس دستور کے مطابق جو ہمارا ان تمام رسولوں کے بارے میں رہا ہے جن کو ہم آپ سے پہلے بھیج چکے ہیں ، اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے ،

۷۸۔۔۔      نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک اور خاص کر فجر کے قرآن پڑھنے کو، بلاشبہ فجر کے قرآن پڑھنے کا وقت حضوری کا وقت ہوتا ہے ،

۷۹۔۔۔      اور رات کے کچھ حصے میں تہجد بھی پڑھا کرو، جو کہ آپ کے لئے ایک زائد عبادت ہے ، بعید نہیں کہ آپ کا رب آپ کو سرفراز فرما دے مقام محمود سے ،

۸۰۔۔۔      اور یہ دعاء کرتے رہا کرو کہ میرے رب! مجھے (جہاں بھی لے جانا ہو) سچائی کے ساتھ لے جانا، اور (جہاں سے بھی نکالنا ہو) سچائی کے ساتھ نکالنا اور مجھے اپنی طرف سے ایسا غلبہ عطا فرما جس کے ساتھ (تیری دائمی) نصرت شامل ہو،

۸۱۔۔۔      اور اعلان کر دو (اے پیغمبر!) کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، اور بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے کی چیز

۸۲۔۔۔      اور ہم اس قرآن کے ذریعے وہ کچھ نازل کرتے ہیں جو سراسر شفاء اور عین رحمت ہے ایمانداروں کے لئے ، مگر ظالموں کے لئے اس سے خسارے کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا،

۸۳۔۔۔      اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے ، اور پیٹھ پھیر لیتا ہے ، اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے ،

۸۴۔۔۔      (ان سے) کہو کہ ہر کوئی اپنے طریقے پر کام کئے جا رہا ہے ، پر آپ کے رب کو خوب معلوم ہے کہ کون سب سے زیادہ سیدھی راہ پر ہے ،

۸۵۔۔۔      اور پوچھتے ہیں آپ سے (اے پیغمبر!) روح کے بارے میں ، تو انہیں بتا دو کہ روح تو میرے رب کے حکم سے ہے ، اور تمہیں جو کچھ بھی علم دیا گیا ہے (اے لوگو) بہت ہی تھوڑا ہے ،

۸۶۔۔۔      اور اگر ہم چاہیں تو چھین لیں آپ سے (اے پیغمبر!) وہ سب کچھ جو ہم نے آپ کو بذریعہ وحی عطا کیا ہے ، پھر آپ کو ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی بھی نہ مل سکے ،

۸۷۔۔۔      مگر (یہ صرف) آپ کے رب کی مہربانی ہے (کہ ایسے نہیں ہوا) بے شک اس کی عنایت آپ پر بہت ہی بڑی ہے ،

۸۸۔۔۔      (اور عظمت قرآن کے اظہار و بیان کے لئے) کہو کہ اگر سارے انسان اور جن مل کر بھی اس قرآن جیسا کوئی کلام لانا چاہیں تو (ہرگز ہرگز) نہیں لا سکیں گے ، اگرچہ وہ سب ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں ،

۸۹۔۔۔      اور بلاشبہ ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں عمدہ مضمون کو طرح طرح سے بیان کیا، مگر لوگوں کی اکثریت (پھر بھی) انکار ہی پر کمربستہ رہی،

۹۰۔۔۔      اور (قرآن حکیم کے اس عظیم معجزے کے باوجود) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے ، یہاں تک کہ آپ پھاڑ نکالیں ہمارے لئے (مکہ کی) اس زمین سے ایک عظیم الشان چشمہ،

۹۱۔۔۔      یا خود آپ کے لئے ایک عظیم الشان باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا، پھر آپ جاری کر دیں اس میں طرح طرح کی نہریں ،

۹۲۔۔۔      یا گرا دیں آپ ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ، جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے ، یا ہمارے سامنے لے آئیں آپ اللہ اور اس کے فرشتوں کو،

۹۳۔۔۔      یا آپ کے لئے ایک عظیم الشان گھر ہو سونے کا، یا آپ چڑھ جائیں آسمان پر، اور آپ کے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ آپ اتار دیں ہم پر ایک کتاب، جس کو ہم خود پڑھیں ، سو آپ (اے پیغمبر! اس کے جواب میں) کہو کہ پاک ہے میرا رب، میں تو صرف ایک بشر (اور انسان) ہوں بھیجا ہوا،

۹۴۔۔۔     اور لوگوں کے پاس جب بھی کبھی ہدایت آئی تو ان کو اس پر ایمان لانے سے اس بات کے سوا اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ کیا اللہ نے ایک بشر (اور انسان) ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا؟

۹۵۔۔۔      (ان سے) کہو کہ اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے ہوتے جو یہاں اطمینان سے (رہتے بستے اور) چل پھر رہے ہوتے ، تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کسی فرشتہ ہی کو رسول بنا کر بھیج دیتے ،

۹۶۔۔۔      (اور ان سے آخری بات کے طور پر) کہہ دو کافی ہے اللہ، میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو، بے شک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر اور سب کچھ دیکھتا ہے

۹۷۔۔۔     جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہے ہدایت پانے والا اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو آپ ایسوں کے لئے حمایتی (اور مددگار) نہیں پا سکیں گے ، اس (وحدہٗ لا شریک) کے سوا، اور ایسے لوگوں کو ہم قیامت کے روز ان کے مونہوں کے بل کھینچ لائیں گے ، اندھے ، گونگے اور بہرے کر کے ، ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا، جب کبھی اس کی آگ بجھنے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکا دیں گے ،

۹۸۔۔۔      ان کی یہ سزا اس وجہ سے ہو گی کہ انہوں نے کفر (و انکار) کا ارتکاب کیا تھا ہماری آیتوں کے ساتھ، اور یہ کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو ہمیں نئے سرے سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟

۹۹۔۔۔      کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسے انسانوں کے دوبارہ پیدا کر دینے پر بھی یقیناً قدرت رکھتا ہے ، اور اس نے ان کے لئے ایک ایسی مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں ، مگر ظالم پھر بھی انکار ہی کئے جا رہے ہیں ،

۱۰۰۔۔۔      (ان سے) کہو کہ اگر کہیں تم لوگ مالک ہو گئے ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے ، تو یقیناً تم ان کو روک رکھتے خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ، واقعی انسان بڑا ہی تنگ دل ہے ،

۱۰۱۔۔۔      اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو عطا کی تھیں نو کھلی نشانیاں ، پس تم پوچھ لو بنی اسرائیل سے کہ جب موسیٰ ان کے پاس آیا تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تجھے یقینی طور پر ایک جادو کا مارا ہوا انسان سمجھتا ہوں ،

۱۰۲۔۔۔      موسیٰ نے جواب میں کہا کہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے مالک کے سوا اور کسی نے نہیں اتارا اور میں تجھے اے فرعون، قطعی طور پر ایک ہلاک ہونے والا انسان سمجھتا ہوں ،

۱۰۳۔۔۔      سو فرعون نے چاہا تھا کہ اکھاڑ پھینکے ان سب کو اس سرزمین سے ، مگر اس کے نتیجے میں ہم نے غرق کر دیا خود فرعون کو اور ان سب کو جو اس کے ساتھ تھے یکجا طور پر،

۱۰۴۔۔۔      اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم لوگ رہو بسو، اس زمین میں ، پھر جب آ پہنچے گا آخرت کے وعدے کا وقت، تو ہم لے آئیں گے تم سب کو اکٹھا کر کے ،

۱۰۵۔۔۔      اور حق ہی کے ساتھ اتارا ہے ہم نے اس (قرآن حکیم) کو اور حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے یہ، اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے پیغمبر!) مگر خوشخبری سنانے والا، اور خبردار کرنے والا بنا کر

۱۰۶۔۔۔      اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا، تاکہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو سنائیں ، اور ہم نے اسے (موقع بموقع) ایک خاص تدریج سے اتارا ہے ،

۱۰۷۔۔۔      کہو کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (اے لوگو! یہ بہر حال حق ہے) بلاشبہ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب یہ انہیں سنایا جاتا ہے ، تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں ،

۱۰۸۔۔۔      اور وہ پکارا اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، بے شک ہمارے رب کے وعدے نے بہر حال پورا ہو کر ہی رہنا تھا،

۱۰۹۔۔۔      اور وہ گر جاتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے اور اس سے ان کے خشوع (اور عاجزی) میں اور اضافہ ہو جاتا ہے ،

۱۱۰۔۔۔      کہو کہ تم (اے لوگو! اپنے رب کو) اللہ کہہ کر پکارو، یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو (خیر ہی خیر ہے کہ یہ) سب اچھے نام اسی (وحدہٗ لا شریک) کے ہیں ، اور اپنی نماز میں نہ تو تم بہت بلند آواز سے پڑھو، اور نہ بالکل پست آواز سے ، بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو

۱۱۱۔۔۔      اور کہو سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لئے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے ، نہ اس کی سلطنت میں اس کا کوئی شریک، اور نہ ہی اس کا کوئی حمایتی (مددگار) ہے عاجزی (اور کمزوری) کی بنا پر، اور اسی کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی۔

تفسیر

 

۱۔۔۔     ۱: سُبْحٰن کا کلمہ تنزیہ کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک، اور منزہ ہے۔ اور اس کا استعمال ایسے مقام پر کیا جاتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی سوئے ظن یا غلط فہمی کا ازالہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں پر چونکہ واقعہ اسراء و معراج کو ذکر فرمایا گیا ہے، جو کہ ایک عظیم الشان معجزہ اور خارق عادت واقعہ تھا جو عام انسانی عقول کے فہم و ادراک سے ایک بالا چیز تھی۔ اس لئے اس کی تمہید سُبْحٰن کے اسی کلمہ تنزیہ سے اٹھائی گئی ہے۔ جس میں منکرین و مکذبین کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ یہ واقعہ اس قادرِ مطلق رب ذوالجلال کی طرف سے ہے جو ہر نقص و عیب اور عجز و قصور سے پاک ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اس کے لئے نہ کچھ مشکل اور نہ اس کی قدرت سے باہر ہو سکتا ہے، کہ اس کی شان کُنْ فیکون کی شان ہے۔ پس وہ اگر اپنے بندہ خاص کو رات کے ایک حصے اور اس کے ایک مختصر سے وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا تو تم لوگوں کو اس سے متعلق کسی طرح کا کوئی اچنبھا اور تعجب نہیں ہونا چاہیئے، کہ اس کی شان نقص و عیب کے ہر شائبہ سے پاک اور اعلیٰ و بالا ہے، سبحانہ و تعالیٰ۔

۲:  سو مسجد اقصیٰ کے آس پاس اور اس کے گرد و پیش یعنی ارض فلسطین کو مادی اور روحانی دونوں ہی طرح کی نعمتوں سے بطور خاص نوازا گیا ہے، چنانچہ اس کی مادی اور ظاہری خیرات و برکات کی عظمت شان کا حال یہ ہے کہ قدیم صحیفوں میں اس کو اَرْضُ الْعَسَلِ واللَّبن یعنی شہد اور دودھ کی سر زمین کہا گیا ہے۔ جو اس کی انتہائی زرخیزی کی تعبیر ہے۔ اور اس کی روحانی خیرات و برکات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جتنے انبیائے کرام کا مولد و مدفن ہونے کا شرف و اعزاز اس سر زمین کو حاصل ہوا ہے۔ وہ پوری روئے زمین پر اس کے سوا اور کسی بھی بقعہ ارض کو حاصل نہیں ہوا۔

۲۔۔۔     سو اس ارشاد سے تصریح فرما دی گئی کہ کتاب موسیٰ یعنی تورات کی بھی اصل اور بنیادی تعلیم یہی تھی کہ کار ساز اور حقیقی معتمد اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کسی کو بھی نہ بنایا جائے، کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید دین حق کی تمام تعلیمات مقدسہ کی اصل اصیل اساس متین اور ان کے لئے مرکز ثقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ دین سے وابستگی اسی وقت تک باقی اور برقرار رہ سکتی ہے، جب تک کہ عقیدہ توحید کے ساتھ وابستگی صحیح معنوں میں باقی و برقرار ہو۔ اگر خدانخواستہ اس مرکز ثقل کے ساتھ وابستگی کمزور پڑ گئی والعیاذ باللہ۔ تو پھر بتدریج سارا دین ہی غارت ہو کر رہ جائے گا، افسوس کہ آج امت مسلمہ کی اکثریت اس حقیقت سے غافل و بے بہرہ ہے۔ اور اس کا تعلق و وابستگی اس مرکز ثقل کے ساتھ کمزور سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اور وہ طرح طرح کی شرکیات میں الجھ اور پھنس کر رہ گئی ہے۔ اِلا ماشاء اللہ والعیاذُ باللہ العظیم، اور عقیدہ توحید کی اسی عظمت و اہمیت کی بناء پر ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اپنی امت کو اسی کی دعوت دی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ ارشاد فرمایا گیا، اور حصر و تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ نُوْحِیْ اِلَیْہِ اَنَّہ، لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنَا فَاَعْبُدُوْنِ (الانبیاء۔۲۵) یعنی ہم نے آپ سے پہلے (اے پیغمبر!) جو بھی پیغمبر بھیجا اس کی طرف ہم نے یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی بھی معبود نہیں، پس تم سب لوگ میری ہی عبادت و بندگی کرو۔

۷۔۔۔     یعنی ایک طویل غلامی کے بعد جب تم لوگوں کو نجات ملی تھی تو اس میں تمہارے لئے یہ درس تھا کہ تم بھلائی کی روش اختیار کرو۔ تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ کہ اگر تم نے بھلائی کی روش اختیار کی تو اس کا بھلا اور فائدہ تم ہی لوگوں کو ملے گا۔ اور اس کے برعکس اگر تم نے برائی اور سرکشی کی روش اختیار کی تو اس کا وبال بھی خود تم ہی لوگوں پر ہو گا، اور اس کا بھگتان بھی خود تم ہی کو بھگتنا ہو گا۔ یہ نوشتہ دیوار بھی تم لوگوں کے لئے موجود تھا۔ اور تمہارے نبیوں نے تم کو اس سے آگاہ بھی کر دیا تھا۔ مگر تم لوگوں نے وہی کیا جس کی پیشین گوئی پہلے کی جا چکی تھی۔ یعنی تم لوگ پھر اسی فساد میں مبتلا ہو گئے جس میں پہلے مبتلا ہوئے تھے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں جب تمہاری سرکوبی کی دوسری میعاد آ گئی، تو ہم نے تم پر اپنے دوسرے زور آور بندے مسلط کر دیئے۔ تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ کر رکھ دیں، اور تاکہ وہ تمہاری مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح کہ وہ اس میں پہلی مرتبہ گھس گئے تھے۔ اور تاکہ وہ ہر اس چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیں جس پر ان کو قابو ملے، اور ان کا زور چلے راجح قول کے مطابق ان دونوں مواقع میں سے پہلے موقع سے مراد بخت نصر کی غارتگری ہے جس سے ان کو نہایت ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑا اور دوسری تباہی سے مراد ان کی وہ ہولناک تباہی ہے جو ان پر ٹیٹس رومی نے ۷٠ ہجری میں ڈھائی تھی مزید تفصیل کے لئے ہماری بڑی تفسیر عمدۃ البیان کی طرف رجوع کیا جائے۔

۸۔۔۔     سو اس ارشاد سے ان یہود کو خطاب فرمایا گیا جو ان آیات کریمات کے نزول کے وقت موجود تھے اور جو قرآن حکیم کی مخالفت میں کفار قریش کی ہمنوائی اور انکی پشت پناہی کر رہے تھے۔ سو ان سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں تمہارے بڑوں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ تم لوگوں کو سنا دیا گیا ہے، پس اب اگر تم لوگ اپنی خیریت چاہتے ہو تو حق اور ہدایت کی اس راہ کو اپنا لو جو اب نبی اُمّی کے ذریعے خداوند قدوس نے اپنے فضل و کرم سے تم لوگوں کو عطاء فرمائی ہے۔ اگر تم نے اس کو اپنا کر توبہ و اصلاح کی روش کو اختیار کیا تو امید ہے اللہ بھی تم پر رحم فرمائے گا، کہ وہ غفور و کریم، رحمان و رحیم اور انتہائی مہربان ہے، اتنا اور اسقدر کہ اس کی مغفرت و بخشش اور اس کی رحمت وعنایت کا کوئی کنارہ نہیں، بس اس کی طرف صدق دل سے رجوع و انابت دارین کی سعادت وسرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید، اور اگر اس کے برعکس تم نے پھر وہی حرکتیں کیں جیسی پہلے کرتے آئے ہو۔ تو پھریاد رکھو کہ اس دنیا میں تم کو جس ذلت و رسوائی سے دو چار ہونا پڑے گا وہ تو ہو گا ہی آگے تم جیسے کافروں کے لئے جہنم کا وہ ہولناک باڑا تیار ہے، جس میں ایسے تمام منکروں اور سرکشوں کو بھر دیا جائے گا۔ اور وہ ایسا ہولناک باڑا ہو گا کہ اس جہاں میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں، پس تم لوگ اگر اس سے بچنا چاہتے ہو تو آج اس کے لئے فکر و کوشش کر لو۔ جس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس دین حق کو صدق دل سے اپنالو۔ جس کو اب نبی آخر الزمان لے کر مبعوث ہوئے ہیں، ورنہ ہمیشہ کے خسارے اور پچھتاوے کے لئے تیار ہو جاؤ، والعیاذُ باللہ۔ سو راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کافر و منکر لوگ اللہ اور اس کے رسول کا اور دین حق کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ بلکہ خود اپنے ہی لئے دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان کریں گے۔ والعیاذُ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہرحال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔

۱۴۔۔۔   طائر کے اصل معنی پرندے کے ہیں، عرب چونکہ پرندوں کے ذریعے فال لیتے تھے جس طرح کہ آج بھی کئی جاہل لوگ ایسا کرتے ہیں، اس لئے کہ اگر پرندہ اس طرف اڑ گیا تو یہ خیر و برکت اور کامیابی کی نشانی ہے اور اگر اس کے برعکس وہ اس طرف اڑ گیا تو یہ نحوست و ناکامی کی نشانی ہے، وغیرہ یہ لفظ قسمت، حظ، اور نصیبے، کے معنی میں استعمال ہونے لگا، سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے شگون اور اس کے نصیبے کا تعلق باہر سے نہیں، بلکہ خود اس کی اپنی ذات اور اس کے اندر سے ہے۔ کیونکہ اس کا اصل دار و مدار انسان کے اپنے قلب و باطن، اس کی نیت و ارادے اور اس کے عمل و کردار پر ہے۔ اس لئے یہ اس کی اپنی شخصیت کا لازمہ، اور اس کے گلے کا ہار ہے اور اسی کے مطابق کل قیامت کو یوم حساب میں اس سے معاملہ کیا جائے گا۔ اور اس کے کئے کرائے کو وہاں پر ایک کھلی کتاب کی شکل میں اس کے سامنے لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے تو اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے۔ اور پھر خود ہی بتا کہ تیرا انجام کیا ہونا چاہیئے۔ تو اپنا حساب لینے کے لئے خود کافی ہے۔ سو انسان دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے خود اپنا محاسبہ کر کے دیکھ لے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ اور کس انجام کا مستحق ہے؟ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ ما یُحِبُّ ویرید۔

۱۵۔۔۔   سو اس سے اللہ تعالیٰ کی اس سنت کو ذکر فرمایا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قوموں کے عذاب کے سلسلے میں ہمیشہ اختیار فرمایا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوموں پر عذاب بھیجنے سے پہلے اتمام حجت کے لئے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ تاکہ اس کے بعد کسی کا اللہ پر کوئی الزام اور حجت باقی نہ رہے، کہ ہمیں بتایا اور خبردار نہیں کیا گیا تھا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا لِئَلاَّ یَکُوْنَ لِنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُل، ال ایۃ (النساء۔ ۱۶۵) سو اس سے ان لوگوں کے لئے تنبیہ فرما دی گئی جو عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ سو ان کو آگاہ فرما دیا گیا کہ تمہارے عذاب کے لئے سنت خداوندی کے مطابق پہلا مرحلہ طے اور تمام ہو گیا کہ اللہ کا رسول تمہارے پاس آ گیا، اور اس نے تم لوگوں کو راہِ حق و ہدایت سے آگاہ کر دیا اور معاملہ پوری طرح تمہارے لئے واضح کر دیا، بس اب اگر تم لوگوں نے اللہ کی بخشی ہوئی مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا، اور تم نے اصلاح احوال پر توجہ نہ دی تو پھر اللہ کا عذاب اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہے گا، اور اس وقت نہ کسی کے لئے اس کو ٹالنے کی کوئی صورت ممکن ہو گی، اور نہ کسی طرح کے گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن ہو سکے گی، پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ عذاب کے لئے جلدی مچانے کے بجائے اپنی روش کی اصلاح پر توجہ دو۔ ورنہ عذاب آنے کے بعد تمہارے لئے اس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہو گی۔ والعیاذُ باللہ جَلَّ وَعَلَا۔

۱۸۔۔۔   سو اس سے طالبین دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے دستور کو واضح فرما دیا گیا ہے، کہ جو لوگ صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں۔ اور وہ اسی کے عارضی، وقتی، اور فانی فوائد و منافع چاہتے ہیں، ان کو اسی میں سے دے دیا جاتا ہے، لیکن اتنا اور ویسا نہیں جتنا اور جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔ بلکہ ان کو اتنا اور ویسا ہی ملتا ہے جتنا اور جیسا کہ اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ اور جس جس کو دینا منظور ہوتا ہے، کہ مشیت تو بہرحال اللہ ہی کی مشیت ہے، سو وہ اپنی مرضی اور اپنی مشیت و حکمت کے مطابق جس کو جو اور جتنا چاہے عطاء فرمائے۔ لیکن اس کے بعد ایسوں کو آخرت میں کچھ نہیں ملتا۔ کہ اس کی انہوں نے خواہش اور چاہت کی ہی نہیں۔ وہاں ان کے لئے دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہو گا جس میں ان کو ذلیل و خوار ہو کر داخل ہونا ہو گا۔ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم

۱۹۔۔۔   سو اس سے طالبین آخرت کے حال و مآل اور ان کی فائز المرامی کے تقاضوں کو واضح فرما دیا گیا۔ سو طالبین دنیا کے مقابلے میں طالبین آخرت کے بارے میں پہلی بات تو یہ واضح فرمائی گئی کہ وہ آخرت کو چاہتے ہوں، اور وہ وہاں کی اصل اور حقیقی کامیابی کے متمنی اور اس کے خواہشمند ہوں۔ اور دوسری بات یہ واضح فرما دی گئی کہ وہ صرف آخرت کے طالب اور اس کے خواہشمند ہی نہ ہوں، بلکہ وہ اس کے لئے سعی و محنت اور کوشش بھی کریں۔ اور سعی و کوشش بھی وہ اور ویسی جو آخرت کے لائق اور اس کے شایان شان ہو۔ اور تیسری بات جو ان سب باتوں کے لئے اصل الاصول، اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایمان بھی رکھتے ہوں۔ کیونکہ ایمان وہ بنیادی حقیقت ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی بھی عمل کی نہ کوئی حقیقت اور حیثیت ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ اس کے یہاں کسی وقعت کے لائق ہو سکتا ہے۔ پس جن کے اندر یہ تینوں شرطیں موجود ہونگی ان کی سعی مقبول، اور ان کی کوشش قابل قدر ہو گی۔ اور ایسے ہی لوگ آخرت میں کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ ما یُحِبُّ ویرید۔

۲۱۔۔۔   سو دنیا چونکہ دارالانعام اور دارالجزاء نہیں، بلکہ دارالعمل اور دارالابتلاء ہے، اس لئے اس میں طالبین دنیا اور طالبین آخرت میں سے ہر گروہ کو اس کا نصیب مقدر ملتا ہے۔ نہ طالبین دنیا کو ان کی خدا فراموشی اور آخرت فراموشی کی بنا پر اس سے محروم کیا جاتا ہے۔ اور نہ طالبین آخرت کو ان کی دنیا سے بے پرواہی برتنے کے سبب سے محروم کیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کو اس دنیا کا نصیب مقدر بھی بھرپور طور پر ملتا ہے اور آخرت میں وہ اپنی مساعیٔ جمیلہ کا بھرپور صلہ و بدلہ پائیں گے، سو جب اصل حقیقت یہ ہے تو پھر فانی دنیا کی عارضی اور فانی لذتوں کے پیچھے لگ کر آخرت کی اَبَدی و لازوال نعمتوں کو فراموش کر دینا کس قدر بڑا اور کتنا ہولناک خسارہ ہے؟ والعیاذُ باللہ، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آخرت کی نعمتوں اور وہاں کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنائے، تاکہ اسطرح وہ وہاں کی اَبَدی نعمتوں کا حقدار بنے۔ اور دنیا میں اس کے لئے جو کچھ مقدر ہے وہ بھی اس کو ملے۔

۲۳۔۔۔   سو اس سے والدین کے حقوق اور انکی عظمت شان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، کہ حضرت حق جَلَّ مَجْدہٗ نے اپنے حق عبادت و بندگی کے متصل بعد ان ہی کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے۔ پس سب سے پہلے اور سب سے مقدم تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی، اور اس کا حق اس کی عبادت و بندگی ہے، پس ہر قسم کی عبادت اور اس کی ہر شکل اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے، اس کے سوا کسی کے لئے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہو گا۔ جو کہ ظلم عظیم ہے۔ بہر کیف اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے اللہ کے حق عبادت و بندگی کو بیان فرمایا گیا، اور پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، اور حسن سلوک کے عموم میں ان کی جسمانی اور مادی ہر قسم کی خدمت داخل ہے۔ سو اس سب کو بجا لانا مطلوب و مامور ہے۔ اور اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حقوق الوالدین یعنی ماں باپ کی نافرمانی کو کبائر بلکہ اکبر الکبائر میں سے قرار دیا ہے۔ اور ایک اور حدیث میں اس کو سبع مُوْبقات یعنی سات تباہ کن گناہوں میں سے اور شرک کے بعد دوسرے نمبر کا بڑا گناہ قرار دیا ہے، وُالعیاذ باللہ العظیم،

۲۸۔۔۔   یعنی کبھی اگر تمہارے حالات ایسے نہ ہوں کہ تم اوپر بیان کئے گئے حقوق کو بروقت ادا کر سکو، اور اس وجہ سے تمہیں ان اہل حقوق کے حقوق کی ادائے گی سے اعراض و رُوگردانی اختیار کرنا پڑے۔ اور تمہیں اس بات کی توقع اور امید ہو کہ مستقبل قریب میں تمہارے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اور اس وقت تم ان کی امداد کر سکو گے تو تم ان سے ہمدردی اور دلداری کی بات کر کے آیندہ کے وعدے پر ان کو رخصت کر دیا کرو۔ تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔ سبحان اللہ! کیسی عظیم الشان اور رحمتوں بھری تعلیم ہے، فللّٰہ الحمد رَبِّ العالمین،

۲۹۔۔۔   سو اس سے اس طریقہ توسط واعتدال کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو افراط و تفریط کی انتہاؤں سے محفوظ اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے،چنانچہ اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نہ تو تم ایسے بخیل اور کنجوس بن کر رہ جاؤ کہ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ لو۔ اور نہ ہی ایسے کشادہ دست اور زیادہ خرچ کرنے والے بن جاؤ کہ سب کچھ دے دلا کر الزام خوردہ اور تنگ دست ہو کر رہ جاؤ۔ بلکہ توسط و اعتدال کی راہ کو اپناتے ہوئے اپنی جائز ضرورتوں پر بھی خرچ کرو۔ اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرو۔ سو اس سے توسط و اعتدال کی عظمت و اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

۳۰۔۔۔   سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی بست و کشاد اور اس کی تنگی و کشادگی کا انحصار انسان کی تدبیروں پر نہیں۔ بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت پر مبنی ہے، وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے لئے روزی کو تنگ کیا جائے، اور کس کے لئے کشادہ، وہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح باخبر بھی ہے، اور ان کا نگران و نگہبان بھی۔ پس وہ اپنی مشیئت و حکمت کے مطابق جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ فرماتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ پس بندے سے مطلوب یہ ہے کہ وہ توسط و اعتدال کی راہ کو اپنا کر اپنی ضروریات پر بھی خرچ کرے، اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے۔

۳۲۔۔۔   سو اس سے زنا کی خطورت اور اس کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے، اس لئے اس کے قریب پھٹکنے سے بھی منع فرما دیا گیا۔ کیونکہ یہ ایسی ہولناک اور اس قدر سنگین برائی ہے جو صالح معاشرے کی بنیاد کو تباہ کرنے والی ہے۔ اس لئے کہ صالح معاشرے کی بنیاد صالح خاندان پر ہے، اور صالح خاندان صحیح فطری جذبات کے ساتھ اسی وقت وجود پذیر ہو سکتا ہے، اور پروان چڑھ سکتا ہے، جبکہ اولاد کا اپنے والدین کے ساتھ تعلق صحیح خون صحیح نسب اور پاکیزہ رحمی جذبات پر استوار ہو، اور اگر یہ چیز مفقود ہو جائے تو پھر خاندان خاندان نہیں رہتا۔ بلکہ وہ فطری اور روحانی جذبات اور عواطف سے محروم و ناآشنا حیوانات کا ایک گلہ بن جاتا ہے، اور ظاہر ہے کہ حیوانات کا کوئی گلہ نہ کسی صالح معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اور نہ اس سے کوئی صالح تمدن وجود پذیر ہو سکتا ہے۔ اس لئے زنا کے قریب پھٹکنے سے بھی اس طرح صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا ہے، والعیاذ باللہ جل وعلا، اسی لئے زنا کے مبادی واسباب سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔

۳۴۔۔۔   سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یتیم کے اولیاء کی طرف سے اس کے مال میں وہی تصرف درست ہے جس میں یتیم کے لئے بہتری اور اس کا بھلا مقصود ہو۔ اور یہ بھی اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اپنی جوانی اور عقل و رشد کی قوتوں کو پہنچتا، پس جب وہ اپنی ان قوتوں کو پہنچ جائے تو پھر اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے، اسی طرح ایفائے عہد کا بھی حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی آگاہ فرما دیا گیا کہ عہد کے بارے میں بہرحال باز پرس ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

۳۵۔۔۔   سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ناپ تول کو پورا کرنا فی الحال بھی بہتر ہے، کہ اس سے معاشی اور معاشرتی لحاظ سے بھی بہتری آتی ہے۔ اور مال و دولت میں بھی خیر و برکت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس سے آگے کئی طرح کے اخلاقی اور روحانی فوائد و ثمرات سے بھی سرفرازی نصیب ہوتی ہے، کہ اکل حلال کو اس میں خاص دخل ہے اور اسی طرح یہ چیز مآل اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت بہتر ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ خداوند قدوس کو پسند ہے، اور جو قوم ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کے ذریعے دوسروں کے احوال کو ہتھیانے اور ہڑپ کرنے کے شیوہ کو اپنا لیتی ہے۔ بظاہر اس کے کچھ افراد اگرچہ اپنے خیال میں نفع کماتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسے لوگ معاشرے کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کر کے یہ لوگ عدل و انصاف کی اس بنیاد ہی کو ڈھا دیتے ہیں جس پر صالح معاشرے اور صالح تمدن کے قیام اور اس کی بقاء کا انحصار ہوتا ہے، والعیاذُ باللہ جَلَّ وَعَلَا

۳۶۔۔۔   سو کان، آنکھ، اور دل، وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتیں اور اس کی عطاء فرمودہ امانتیں ہیں اس لئے ان کے بارے میں پُوچھ ہو گی کہ ان کو کس طرح اور کن مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا؟ پس ان کو صحیح مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دین حنیف کی تعلیماتِ مقدسہ کے مطابق اسلام جس صالح معاشرے کی تشکیل کرنا چاہتا ہے، اس کی بنیاد حسن ظن اور باہمی اعتماد پر قائم ہوتی ہے پس ایسی ہر بات سے پرہیز و احتراز کی ضرورت ہوتی ہے، جو محض ظن و گمان اور افواہ طرازی پر مبنی ہو۔ اسی لئے صحیح حدیث کی رو سے حضرت نبی معصوم علیہ الصلوٰۃُ والسلام نے ہر سنی سنائی بات کو آگے سنا دینے کو کھلا جھوٹ قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کَفیٰ بِالْمَرْءِ کَذِبًا اَنْ بُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ۔ یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے چلتا کر دے، والعیاذ باللہ، پس تحقیق کے بغیر ہر سنی سنائی بات کو آگے چلتا کر دینا ممنوع و محدود ہے بلکہ اس کے بارہ میں تحقیق کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ امر واضح ہو جائے کہ وہ سچ ہے کہ نہیں، ورنہ چھوٹ کا بوجھ اٹھانا پڑے گا، والعیاذ باللہ،

۳۹۔۔۔   سو اس ارشاد سے ایک طرف تو ان ہدایات کی عظمت شان کو واضح فرما دیا گیا جو اوپر ارشاد ہوئی ہیں سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب حکمت کی باتیں ہیں۔ یعنی یہ وہ ٹھوس راسخ اور غیر متزلزل حقیقتیں ہیں جو عقل سلیم، فطرت مستقیم، اور شریعت مطہرہ کی تعلیمات مقدسہ کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں جن سے حضرت حق جَلَّ مَجْدہٗ نے محض اپنے فضل و کرم سے وحی کے ذریعے اور اپنے پیغمبر کے توسط سے دنیا کو نوازا ہے۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگ اپنی زندگیاں سنوار سکیں۔ اور دوسری طرف اس سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ توحید کی حیثیت اس سب کے لئے اساس و بنیاد، اور ان کے لئے حصار اور شہر پناہ کی سی ہے، اس لئے حکمت کی ان باتوں کا آغاز بھی یہاں پر ذکر توحید سے فرمایا گیا۔ اور ان کا خاتمہ بھی اسی پر فرمایا گیا۔ نیز یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ شرک کا انجام بہرحال دوزخ ہے۔ جس میں مشرک لوگوں کو ملامت زدہ اور راندہ ہو کر داخل ہونا ہو گا، والعیاذُ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہر قدم اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین، یا ربَّ العالمین

۴۴۔۔۔   یہاں پر اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے بارے میں تسبیح اور حمد دونوں کا ذکر موجود ہے، سو تسبیح میں تنزیہ وتقدیس کا پہلو پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ وہ ان تمام نسبتوں اور تصورات سے پاک ہے جو لوگ از خود مخلوقوں پر قیاس کر کے اس کے بارے میں قائم کرتے ہیں، سو وہ ایسے تمام شوائب و علائق سے پاک اور اعلیٰ و بالا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اور حمد میں اثبات کا پہلو پایا جاتا ہے۔ یعنی وہ ان تمام اعلیٰ صفات سے موصوف و متصف ہے، جو اس کی شان کے لائق ہیں، کہ اس پوری کائنات میں جو بھی کوئی خوبی پائی جاتی ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ انسان کو ایک خاص دائرے کے اندر جو اختیار بخشا گیا ہے اس سے غلط فائدہ اٹھا کر جو لوگ از خود اور اپنے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف غلط نسبتیں قائم کرتے اور تہمتیں لگاتے ہیں وہ لگاتے رہیں ان کو ان کا بھگتان آخرکار بہرحال بھگتنا ہو گا۔ لیکن حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتقدیس میں مشغول و منہمک ہے، اور کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو اس وحدہٗ لاشریک کی تسبیح و تحمید میں مشغول نہ ہو۔ لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ اور لوگوں کو اس کی جنابِ اقدس و اعلیٰ کے بارے میں ایسی گستاخیوں کے باوجود جو ڈھیل اور چھوٹ ملی ہوئی ہے تو وہ اس لئے ملی ہوتی ہے کہ وہ وحدہٗ لاشریک بڑا ہی حلیم و بردبار اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ۔

۴۶۔۔۔   سو اس سے مشرکوں کی عقیدہ توحید سے چڑ اور ان کی اس سے عداوت وبیزاری کو ذکر و بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو۔ اور ان کے مزعومہ خداؤں اور خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو کوئی درجہ اور اہمیت نہیں دیتے، تو یہ لوگ وحشت زدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ تو پھر ایسے میں ان کو نور حق وہدایت سے سرفرازی آخر نصیب ہو تو کیسے؟ اور کیونکر؟ سو ایسے لوگوں کی اس نفرت وبیزاری اور زیغ وانحراف کے نتیجے میں ان کے قوائے علم وادراک معطل اور ماؤف ہو جاتے ہیں، اور یہ حق کے فہم وادراک سے محروم ہو جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں پر پردے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ اور ان کے کانوں میں ڈاٹ رکھ دیئے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ لوگ حق کو سننے سمجھنے کی اہلیت اور صلاحیت ہی سے محروم ہو جاتے ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کے شروع میں بھی اس کا ذکر فرمایا گیا ہے والعیاذ باللہ، جل وعلا بکل حالٍ من الاحوال

۴۷۔۔۔   سو اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی صحت وفساد اور اس کے بناؤ بگاڑ اور اس کی محرومی وسرفرازی کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن اور اس کی اپنی نیت وارادہ سے ہے، اگر اس کے اندر حق کے لئے طلب صادق موجود ہو گی تو یہ اس سے بہرہ مند وسرفراز ہو گا۔ اور اگر اس کے برعکس اس کے اندر بدنیتی پائی جائے گی تو یہ محروم ہو جائے گا، والعیاذُ باللہ سو ایسے بدطینت لوگ جب قرآن کی طرف کان لگا کر سنتے ہیں تو اس غرض سے سنتے ہیں کہ کوئی ایسی بات مل جائے جس سے حق کے خلاف بدگمانی پھیلانے اور لوگوں کو متنفر کرنے کا کام لیا جائے، چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان کی ان سرگوشیوں کو بھی خوب جانتے ہیں جو ایسے بدبخت لوگ مسلمانوں کو قرآن سے برگشتہ کرنے کے لئے ان سے کہتے ہیں کہ تم لوگ تو محض ایک جادو کے مارے ہوئے انسان کے پیچھے چلتے ہو۔ والعیاذُ باللہ العظیم،

۵۱۔۔۔   سو یہ چھوٹا سا جملہ کہ ان سے کہو کہ تم کو دوبارہ وہی زندہ کرے گا جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا، نہایت مختصر ہونے کے باوجود بڑا ہی بلیغ، موثر، اور انتہائی وقیع جملہ ہے۔ یعنی تم لوگوں کا آج موجود ہونا اور تمہارا یہ موجودہ وجود، خود تمہارے بعث بعدالموت کی دلیل اور اس کا ثبوت ہے۔ آخر جس نے تم کو بطن عدم سے نکال کر یہ وجود بخشا اور تم کو نیست سے ہست کیا، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کر دینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہو سکتا ہے؟ اسی بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے، قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْ اَنْشَآہَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ ہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمٌ (یٰس۔ ۷٩) یعنی ان سے کہو کہ تمہاری ان بوسیدہ ہڈیوں کو وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا اور وہ ہر مخلوق کو پوری طرح جانتا ہے سو انسان کا خود اپنا وجود اس کی بعث بعد الموت کی علامت اور اس کی دلیل ہے،

۵۲۔۔۔   یعنی قیامت تک کی یہ مدت جو آج تم لوگوں کو بہت لمبی لگ رہی ہے اس روز تم کو بہت تھوڑی لگے گی۔ اور تمہیں یوں محسوس ہو گا کہ تم ابھی سوئے تھے۔ اور ابھی جاگ پڑے ہو۔ اور آج جو تم لوگ دعوت حق کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہو رہے ہو، تو کشف حقائق کے اس یوم عظیم میں تمہارے اندر اس طرح کی کسی اینکڑی پینکڑی کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہو گا۔ اور تم اس کی دعوت پر بغیر کسی قیل وقال اور چون وچرا کے اس کی حمد وثنا کے گیت گاتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہوؤ گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز لوگ داعیٔ حق کی دعوت پر اس طرح اس کے پیچھے ہو لیں گے کہ کسی طرح کی کوئی کجی ان کے اندر نہیں ہو گی۔ آوازیں اس روز خدائے رحمان کے حضور اس طرح پست ہو جائیں گی کہ تم بجز پاؤں کی آہٹ کے کچھ سن نہیں سکو گے۔ (طٰہٰ۔ ۱٠٨) مگر یوم حساب کے اس ماننے کا تم لوگوں کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہو گا۔ کہ وہ ماننا کشف حقائق اور ظہور نتائج کے بعد کا ماننا ہو گا جبکہ اصل مطلوب ومقصود وہ ایمان ہے جو بن دیکھے یعنی بالغیب ہو نہ کہ بالشہود، یعنی دیکھنے کے بعد۔

۵۴۔۔۔   کہ آپ ان سے منوا کر اور ان کو راہ حق پر ڈال کر چھوڑیں، کہ یہ نہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے پیغمبر کا کام تو پیغام حق وہدایت کو بلا کم وکاست پہنچا دینا ہوتا ہے اور بس، اس کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، اور اس کے بعد لوگ اپنے کئے کرائے کے ذمے دار خود ہوتے ہیں۔ اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرُ وَّلِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ (الرعد۔۷) سو ہدایت سے نوازنا یا اس سے محروم کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق انسان کے اپنے قلب وباطن سے ہے اور یہ چیز انسان کی نیت اور اس کے ارادے پر موقوف ہے۔ اور دلوں کے حال اور انکی نیتوں کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اس لئے وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے؟ اور کس سے کیا سلوک وبرتاؤ کیا جائے؟ اسی لئے ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب تم لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ پس تمہاری کوئی بھی حالت اور کیفیت اس سے مخفی اور مستور نہیں اس لئے وہ اپنی مشیت اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق چاہے تو تم پر رحم فرمائے اور چاہے تم کو عذاب دے، کہ وہی جانتا ہے کہ تم لوگ کس سلوک کے مستحق ہو۔ پس اصل چیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے قلب وباطن کے تعلق اور اس کے معاملے کو صحیح رکھنا ہے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید، بِکُلِّ حالٍ مِّنَ الْاَحوال۔ وفی کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ المواطن فی الحیاۃ۔

۵۷۔۔۔   یعنی اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ اور مقدس مخلوق میں سے جن ہستیوں کو یہ لوگ خدائی صفات سے متصف وموصوف قرار دے کر اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے بلاتے پکارتے ہیں۔ خواہ وہ فرشتے ہوں یا دوسری مختلف پاکیزہ ہستیاں، ان کی اپنی شانِ عبدیت اور کمال انابت کا عالم یہ ہے، کہ وہ ہمیشہ اور ہرحال میں خداوند قدوس کے قرب کی طلب وتلاش میں سرگرم رہتے ہیں۔ وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے۔ اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، کہ تمہارے رب کا عذاب ہے ہی ایسی چیز جس سے ڈرا اور خوف کھایا جائے۔ خواہ کوئی کتنا ہی بڑا اور عالی مقام کیوں نہ ہو۔ سو اس کے باوجود ان کو خدائی مقام پر بٹھا کر ان کو اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے پکارنا پوجنا کتنی بڑی حماقت اور کس قدر ظلم ہے؟ والعیاذ باللہ۔

۵۸۔۔۔   سو اس سے ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی جا رہی ہے۔ اور ان کے مطالبہ عذاب کا جواب دیا جا رہا ہے جو وقوع عذاب کے لئے جلدی مچا رہے تھے۔ سو ان کے اس مطالبہ کے جواب میں اس سنت الٰہی اور دستور خداوندی کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت وحکمت کے مطابق قوموں کے بارے میں مقرر فرما رکھا ہے۔ اور جو کتابِ الٰہی اور نوشتہ خداوندی میں ثبت ومندرج ہے۔ سو اس کے حوالہ وذکر سے منکرین ومکذبین کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ عذاب کے لئے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قانون الٰہی اور دستور خداوندی کے مطابق یہ بات طے اور مقرر ہے کہ جو بھی بستی کفر وطغیان اور تمرد وسرکشی کی راہ اختیار کرے گی۔ اس کو ہم بہرحال قیامت سے پہلے یا ہلاک کر کے چھوڑیں گے، یا اس کو سخت عذاب دے کر رہیں گے۔ یہ بات کتاب الٰہی اور نوشتہ خداوندی میں مرقوم ہے، کہ فلاں قوم اپنے ارادہ واختیار سے فلاں فلاں جرائم کی مرتکب ہو گی۔ اور اس کی پاداش میں بالآخر اپنے وقت پر وہ اپنے کیفر کردار کو بہرحال پہنچ کر رہے گی، والعیاذُ باللہ العظیم،

۶۰۔۔۔   اوپر ماضی کی قوموں کی ہٹ دھرمی کے بارے میں کچھ نمونے پیش فرمائے گئے اور اب اس ارشاد سے منکرین قریش کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کے کچھ نمونے پیش فرمائے جا رہے ہیں، کہ جب ان سے کہا گیا کہ تمہارے رب نے سب لوگوں کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے، یعنی اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے، تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا کہ تم ڈینگیں مارتے ہو۔ والعیاذُ باللہ، اسی طرح جب ان سے اس رؤیا کا ذکر کیا گیا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا۔ (اے پیغمبر!) یعنی واقعہ اسراء و معراج، تو اس کا بھی انہوں نے انکار واستہزاء کیا، اور تیسری مثال اس سلسلہ میں یہ ذکر فرمائی گئی کہ جب ان سے اس درخت کے بارے میں ذکر کیا گیا جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی ہے، یعنی شجرہ زقوم جو دوزخ کے بیچوں بیچ پیدا ہو گا تو اس کا بھی انہوں نے طرح طرح سے مذاق اڑایا۔ سو ہم تو ان کو ان باتوں کے ذریعے مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتے ہیں، تاکہ یہ ہوش کے ناخن لیں۔ اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں، مگر ان کے عناد وہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ ان سے الٹا ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا ہے والعیاذُ باللہ العظیم، سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذُ باللہ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہرحال میں اپنی رضا وخوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا ربَّ العالمین،

۶۳۔۔۔   یعنی ابلیس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے خدائے پاک سے جو مہلت مانگی تھی وہ اس کو دے دی گئی، اور حق تعالیٰ نے اس ملعون سے فرما دیا کہ تُو ان کو ورغلانے کے لئے جو کچھ کرنا چاہے کر لے، تجھے اس کی پوری آزادی ہے، اور یہ کہ تجھے اور تیری پیروی کرنے والوں کو پورا پورا بدلہ دینے کے لئے جہنم کافی ہے اور ایسی اور اس قدر کافی، کہ اس کے ہوتے ہوئے تمہاری سزا میں کوئی کسر باقی نہیں رہ جائے گی۔ جہنم کی سزا ایسی ہولناک ہو گی کہ وہ ایک ہی ساتھ سب کسر پوری کر دے گی، والعیاذُ باللہ العظیم،

۶۴۔۔۔   ۱: یعنی اپنی ابلیسی آوازوں اور شیطانی شور و غوغا سے، اپنے نت نئے نعروں اور طرح طرح کی ہنگامہ آرائیوں سے، اپنے جلسوں جلوسوں اور گانوں بجانوں سے، اپنے ٹی وی ریڈیوں اور سینماؤں وغیرہ کے ذریعے اپنی لچھے دار تقریروں، اور بھڑکیلے اعلانات سے، اپنے فحش اخبارات اور گمراہ کن رسائل و جرائد اور شرکیہ اور کفریہ اشتہارات وغیرہ سے، سو تو اپنے ان شیطانی وسائل سے جو فائدہ تو اٹھا سکتا ہے اٹھا لے۔ اور ان مختلف وسائل سے ان میں سے جن کے بھی قدم اکھاڑ سکتا ہے اکھاڑ لے، تجھے اس سب کی چھٹی اور آزادی ہے۔ اور اس کا بھگتان تجھے اور تیرے پیروکاروں کو بہرحال جہنم کے اس ہولناک عذاب کی صورت میں بھگتنا ہو گا۔

۲: یعنی مال و اولاد ان کو ان کے خالق و مالک نے بخشے ہونگے تو ان میں ان کا شریک اور ساجھی بن جا۔ جس کے نتیجے میں تیرے پیرو اور پرستار تجھے ان میں شریک اور حصہ دار سمجھیں گے۔ جس سے وہ اپنے مالوں میں تیرا حصہ نکالیں گے۔ اور اپنی اولادوں کے نام بھی تیرے نام پر رکھیں گے، اور یہاں تک کہ ان میں سے بعض ان کو تیرے نام پر قربان بھی کریں گے، سو ابلیس نے یہ سب کچھ کر دکھایا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہ، فَاتَّبَعُوْہُ اِلاَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (سبا۔ ۲٠) یعنی یقیناً ابلیس نے ان کے بارے میں اپنے گمان کو سچا کر دکھایا، سو یہ اس کے پیچھے چل پڑے سوائے اہل ایمان کے ایک گروہ کے

۳: سو شیطان کے وعدے دھوکے کا ایسا سامان ہوتے ہیں جن میں الجھ کر اور پھنس کر انسان کا راستہ ہی غلط ہو جاتا ہے اور وہ اس لعین کی طرف سے دکھائے گئے ایسے وعدوں اور سبز باغوں کی بناء پر زندگی کی حقیقی ذمہ داریوں اور اس کے اصل مقصد سے فارغ اور غافل ہو بیٹھتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ نہایت ہولناک خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سو اس کی اس تغریر اور دھوکہ دہی کی بناء پر یہود ونصاریٰ نے اپنے تئیں یہ دعوی کر لیا کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ اور یہ کہ جنت میں ان کے سوا کوئی جا ہی نہیں سکے گا۔ لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصَاریٰ تو پھر ان کو کسی عمل وغیرہ کی ضرورت ہی کیا؟ اور اسی بناء پر مشرکین عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا۔ اور کہا کہ انہی کا واسطہ ہمیں کافی ہے، یہ ہمیں خدا کا مقرب بنا دیں گی، اسی طرح بہت سے جاہل مسلمانوں کا کہنا اور ماننا ہے کہ ہم نے چونکہ فلاں سرکارکا لڑ پکڑ رکھا ہے اس لئے ہمیں وہی کافی ہے، یا یہ کہ فلاں شخص چونکہ سید اور صاحبزادہ ہے۔ اس لئے وہ جو چاہے کرے اس کو کوئی پرواہ نہیں، وغیرہ وغیرہ سو ایسے تمام وعدے جو انسان کو زندگی کے حقیقی مقصد اور عمل کی اصل ذمہ داریوں سے فارغ کرنے والے ہیں سب شیطان کے وعدے اور اس کے دھوکے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم

۷۰۔۔۔   سو اس ارشاد میں انسان کو ان بعض خاص نعمتوں کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے جن سے قدرت نے اس کو محض اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے، جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان صدق دل سے حضرت حق جَلَّ مَجْدہٗ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرے۔ تاکہ اس طرح یہ اس کے لئے دارین کی سعادت وسرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ووسیلہ بن جائیں، سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔ سو اس کو اس واہب مطلق جَلَّ وعلا شانہ نے اس عظیم الشان عزت و عظمت سے سرفراز فرمایا جس سے یہ ساری مخلوق کا مخدوم و مطاع بن گیا۔ یہاں تک کہ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ اور اس کو خشکی وتری میں طرح طرح کی سواریوں سے نوازا گیا۔ اور ارشاد فرمایا کہ اس کو ہم نے طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی۔ اور ان کو ہم نے اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت اور فضیلت بخشی، سو اس تمام عطاء و بخشش کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کو پا کر اپنے خالق و مالک کے لئے سراسر شکر وسپاس بن جائے کہ یہ اس خالق و مالک سبحانہ و تعالیٰ کا اس پر حق بھی ہے، اور اسی میں اس کا بھلا بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور اَبَدی جہاں میں بھی۔ نہ یہ کہ ان نعمتوں کی بناء پر یہ اکڑنے اور اترانے لگے۔ کیونکہ اکڑنا اور اترانا بنی آدم کا کام نہیں، بلکہ ابلیس کا کام اور اس کا مشورہ ہے، جس سے وہ ہمیشہ کے لئے ملعون اور مطرود ہو گیا، والعیاذُ باللہ۔ وباللّٰہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید، بِکُلِّ حالٍ مِّنَ الْاَحوال

۷۱۔۔۔   سو اس ارشاد سے قیامت کے یوم حساب اور اس کے بعض احوال کی تذکیر و یاد دہانی فرمائی گئی ہے تاکہ انسان اس کے تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھے۔ اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو جو آج اس کو حاصل ومیسر ہے اس کو غنیمت سمجھے، اور اس میں اس یوم حساب کے لئے تیاری کر سکے۔ قبل اس سے کہ یہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے، اور پھر اس کو ہمیشہ کے لئے بچھتانا پڑے۔ والعیاذُ باللہ، سو قیامت کے اس یوم حساب کی تذکیر و یاد دہانی کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن ہم لوگوں کے ہر گروہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ سو نیک بخت اور سعادت مند لوگ اپنے نیک اور صالح پیشواؤں کے ساتھ اور ان کی سربراہی میں حاضر ہونگے۔ اور شقی اور بدبخت لوگ اپنے شقی اور بدبخت لیڈروں کے ساتھ اور ان کی سربراہی میں حاضر ہونگے۔ پھر نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے، اور بُروں کو ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں، سو نیک لوگ اپنے اعمال نامے کو پڑھیں گے۔ یعنی وہ اس کو پڑھ کر خوش ہونگے۔ بلکہ وہ اپنی اس خوشی کے اظہار وبیان کے طور پر دوسروں سے بھی اس کو پڑھنے کے لئے کہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَیَقُوْلُ ہَاؤُمُ اقْرَءُوْا کِتَابِیَہْ (الحاقۃ۔۱٩) یعنی وہ دوسرے سے کہیں گے کہ لیجئے ذرا میرا نامہ اعمال پڑھئے۔ سو اس طرح وہ اپنے سرور کو دوبالا کرنے کا سامان کرے گا۔ اور وہ دیکھے گا کہ اس کے ساتھ ذرا برابر کوئی نا انصافی نہیں کی گئی۔ بلکہ اس کی ایک ایک نیکی اس میں درج ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، سو وہ اپنے رب غفور و شکور کی ذرہ نوازی اور اس کی کرم فرمائی پر شاداں و فرحاں ہو گا۔ سو یہی ہو گی اصل اور حقیقی خوشی جو ایسے خوش نصیبوں کو اس یوم عدل و انصاف اور یوم فصل و تمیز میں نصیب ہو گی۔ اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین،

۷۸۔۔۔   سو اس ارشاد سے ایک طرف تو نماز پنجگانہ کے اوقات مقررہ کی طرف اشارہ فرما دیا گیا، اور دوسری طرف اس میں نماز فجر میں تلاوت قرآن کی بطور خاص تعلیم و ترغیب فرمائی گئی ہے۔ دُلُوْک کے معنی زوال کے ہیں۔ اور زوالِ شمس یعنی سورج کے ڈھلنے کے تین درجے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب وہ سمت راس سے ڈھلتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ جب اس کا سایہ ایک مثل یا دو مثل تک پہنچ جاتا ہے، اور تیسرا یہ کہ جب وہ افق سے غائب ہو جاتا ہے، اور یہ تینوں وقت ظہر، عصر، اور مغرب کی نمازوں کے ہیں۔ اور غسق اللیل سے مراد اول شب کی تاریکی ہے۔ جب وہ گہری اور گاڑھی ہو جاتی ہے اور یہ نماز عشاء کا وقت ہے۔ اور وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اور قرآن سے یہاں پر مراد نماز فجر کی تلاوت ہے، اور اس کو لفظ قرآن سے تعبیر کرنے میں طول قرأت کی طرف اشارہ ہے، سو اس میں تطویل قرأت بطورِ خاص محمود و مطلوب ہے۔ مزید ارشاد فرمایا گیا کہ وہ وقت حضوری کا وقت ہوتا ہے۔ جس میں ایک تو حضور قلب و دماغ بھی ہوتا ہے، جو امام اور مقتدیوں دونوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ وقت حضور ملائکہ کا وقت ہوتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے سو اس آیت کریمہ میں دوسری کئی آیات کریمات کی طرح پنجگانہ نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ تو ہے لیکن اس سے آگے نماز کے بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ان پنجگانہ نمازوں کی شکل کیا ہو۔ سو ان کی تفصیلات تمام کی تمام احادیث کریمہ میں موجود ہیں۔ پس اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حدیث رسول کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھنا ممکن نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن حکیم کے مطالب و مقاصد کو اپنے قول و فعل سے پوری طرح واضح فرما دیا۔ جس کے مطابق آج پوری امت ان نمازوں کو اداء کرتی ہے، پس حدیث رسول قرآن حکیم کی اولین تفسیر و تشریح، اور دین حنیف کی اساس و بنیاد ہے، اس کے بغیر نہ فہم قرآن ممکن ہے، اور نہ تعلیم دین پر عمل کرنا ممکن ہے، پس حجیت حدیث کا انکار دراصل دین حنیف کا انکار ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم

۸۲۔۔۔   سو قرآن حکیم تمام عقلی اور روحانی بیماریوں کا علاج اور ان سے شفاء ہے اور مآل و انجام کے اعتبار سے یہ ایک عظیم الشان اور بے مثال رحمت ہے، لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان رکھتے ہیں، یا جو ایمان لانا چاہتے ہیں، ورنہ جو ظالم لوگ اس سے اعراض اور رُوگردانی برتتے ہیں۔ ان کے لئے یہ ان کے خسارے ہی میں اضافے کا باعث ہے، کہ ایسے لوگ اپنے اوپر اللہ کی حجت تمام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ اپنے آپ کو دنیا و آخرت دونوں میں عذاب شدید کا مستحق بناتے ہیں، مگر ان کی مزید بدبختی یہ ہے کہ ان کو اپنے اس شدید اور ہولناک خسارے کا احساس بھی نہیں۔ حالانکہ یہ وہ ہولناک خسارہ ہے جس کی تلافی اور تدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں سو ایمان و یقین کی دولت وہ عظیم الشان اور بے مثال دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت وسرخروئی سے سرفراز و مالا مال کرتی ہے۔ جبکہ اس سے محرومی وہ سب سے بڑی اور انتہائی ہولناک محرومی ہے، جس جیسی دوسری کوئی محرومی نہیں ہو سکتی۔ والعیاذُ باللہ العظیم۔ وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید۔ بکل حال ٍمن الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ،

۸۷۔۔۔   اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے، کہ وحی کے اصل اور اولین مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں۔ لیکن اس میں روئے سخن دراصل ان لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ پیغمبر پر وحی الٰہی کی عنایت محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اور اس کے انتخاب کا نتیجہ ہے۔ اس میں آپ کی کسی خواہش و ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بلکہ یہ عنایت و نوازش محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ آپ تو اپنے ارادہ و اختیار سے نہ اس کو لا سکتے تھے۔ اور نہ ہی اس کو روک سکتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر ہم چاہیں تو آپ سے اس وحی کو سلب کر لیں جو ہم نے آپ کی طرف کی ہے تو کوئی طاقت ایسی نہیں جو آپ کو اسے دلا سکے، سو یہ محض نصرتِ غیبی اور عنایت ربی ہے کہ یہ چیز آپ کو حاصل ہوئی ہے۔ اور یہ خداوند قدوس کی ایک عظیم الشان رحمت ہے جس سے حضرت واہب مطلق جَلَّ مَجْدہٗ کی طرف سے آپ کو نوازا گیا ہے، سو اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آپ کے رب کا آپ پر بہت بڑا فضل و کرم ہے۔

۸۸۔۔۔   سو اس سے اس کتاب حکیم قرآن مجید کی عظمت شان واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ایسی عظیم الشان اور بے مثال کتاب ہے کہ اگر جن وانس سب مل کر بھی اس جیسی کوئی کتاب لانے کی کوشش کریں، تو ان کے بس میں نہیں کہ وہ ایسا کر سکیں۔ اگرچہ وہ سب مل کر بھی اس کے لئے زور لگا لیں۔ سو اس سے یہ حقیقت ثابت اور واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کلام کسی انسان اور بشر کا کلام نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ساری دنیا اس کے سامنے اس طرح عاجز نہ ہوتی۔ اور قرآن حکیم کا یہ عظیم الشان اور بے مثال چیلنج گزشتہ پندرہ سو برس سے موجود ہے۔ اور تمام عرب و عجم اور جن وانس اس کے مخاطب ہیں۔ مگر آج تک کوئی اس کو قبول کرنے کی جرأت نہیں کر سکا۔ اور اگر کبھی کسی نے ایسی حماقت کی بھی تو اس نے خود اپنی مضحکہ خیزی اور تذلیل کا سامان کیا ہے۔ اور اس کلام معجز نظام کو اس نبی اُمّی نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا ہے جس نے زندگی بھر کبھی کسی انسان سے ایک حرف بھی نہیں پڑھا۔ تو پھر اس سے بڑھ کر اس کی صداقت و حقانیت کی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟ سو آنجناب کی صداقت و حقانیت کا بے مثال اور قطعی ثبوت ہے،

۸۹۔۔۔   تصریف کے معنی پھیرنے بدلنے کے ہیں۔ اسی لئے منی ایکسچینج کرنے والے کو صراف کہا جاتا ہے کہ وہ ایک نقدی کو دوسری سے ادلنے بدلنے کا کاروبار کرتا ہے۔ اسی لئے اس لفظ کا استعمال ایک حقیقت کو مختلف انداز سے اور طرح طرح کے اسالیب میں بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اور ضرب مثل سے مراد حکمت و معرفت کی بات کہنا ہے سو مطلب اس ارشاد کا یہ ہوا کہ اس کتاب حکمت نظام میں حکمت و معرفت سے متعلق ہر عمدہ بات کو ہم نے گو نا گوں اسلوبوں اور مختلف شکلوں میں بیان کیا، جس کے بعد لوگوں کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا، ان پر حجت کو تمام کر دیا گیا اب یہ اس طرح کی کوئی بات نہیں کر سکتے کہ ان کے پاس ہدایت نہیں آئی، یا راہ حق کی تعیین و توضیح میں کوئی کسر باقی رہ گئی مگر ان لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ ان کی اکثریت پھر بھی کفر و انکار ہی پڑ اڑی ہوئی ہے، اور ایسے لوگ حق بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے، سو عناد و ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں، والعیاذ ُباللہ العظیم

۹۳۔۔۔   سو منکرین و مکذبین کے ان مطالبات کے جواب میں پیغمبر کو یہ کہنے اور اس حقیقت کے اظہار اور اعلان کا حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں تو ایک بشر اور رسول ہوں اور بس، یعنی میرے اندر نہ کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ ہے۔ اور نہ ہی میں نے کبھی اس طرح کا کوئی دعوی ہی کیا ہے۔ میرا کام تو صرف یہ ہے، کہ میں تم لوگوں تک خداوند قدوس کے پیغامات کو بلا کم وکاست پہنچا دوں اور بس، اور یہ مطالبات جو تم لوگ مجھ سے کرتے ہو۔ ان کا تعلق تو ان خدائی صفات سے ہے۔ جن میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ ہو سکتا ہے۔ وہ ایسے تمام شوائب سے پاک اور ان سے اعلیٰ و بالا ہے۔ سو سُبْحَانَ رَبِّیْ (پاک ہے میرا رب) کے جملے سے اسی حقیقت کا اظہار و اعلان فرمایا گیا ہے۔ پس اس ارشاد سے نفی و اثبات کے کلمات حصر و تاکید کے ساتھ اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر بشر ہی ہوتے ہیں۔ اور اس حقیقت کو دوسرے مختلف مقامات پر بھی طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت بشریت انبیاء کی اس حقیقت صادقہ کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، اور یہ لوگ اس طرح کی نصوص صریحہ میں طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں، والعیاذُ باللہ العظیم

۹۴۔۔۔   سو اس سے لوگوں کی اعجوبہ پرست ذہنیت اور ان کی محرومی کے ایک بڑے سبب کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک بشر اور انسان رسول نہیں ہو سکتے۔ اس لئے انہوں نے رسولوں کی بشریت طاہرہ کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت ورسالت کا انکار کر دیا، اور اس طرح نور حق و ہدایت سے محروم ہو گئے۔ والعیاذُ باللہ، سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب لوگوں کے پاس ہدایت ایسے واضح انداز میں پہنچ گئی کہ ان کے لئے کسی طرح کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تو ان لوگوں نے بھر بھی یہی کیا کہ کیا اللہ نے کسی بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا؟ یعنی ایسے نہیں ہو سکتا کہ کوئی بشر اللہ کا رسول بن کر آ جائے۔ سو اسی اعجوبہ پرستی اور بہانہ بازی کی بناء پر وہ لوگ ایمان لانے سے محروم، اور اپنے کفر و انکار ہی پر قائم رہے۔ سو کبر و غرور اور اعجوبہ پرستی باعث محرومی ہے والعیاذُ باللہ العظیم

۹۵۔۔۔   سو اس سے اعجوبہ پرست منکرین کی اعجوبہ پرستی کی تردید کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے کسی انسان اور بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا، تقاضائے عقل و فطرت ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ اگر زمین میں انسانوں کے بجائے فرشتے رہتے بستے ہوتے تو ان کے لئے ہم آسمان سے ضرور کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ لیکن جب ایسے نہیں۔ بلکہ زمین میں رہنے بسنے والے سب کے سب بشر اور انسان ہی ہیں، تو ان کے لئے کسی انسان اور بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تقاضائے عقل و فطرت تھا۔ کیونکہ اگر ایسے میں کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو انسانوں کے لئے اس کی اتباع و پیروی ممکن نہ تھی۔ سو پیغمبر کا انسان اور بشر ہونا تقاضائے عقل و فطرت بھی ہے اور قدرت کا ایک عظیم الشان احسان بھی، کہ اس کے بغیر لوگوں کے لئے رسول کی پیروی ممکن نہ تھی۔ اس لئے قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر مِنْہُمْ، مِنَّکُمْ۔ اور مِنْ اَنْفُسِہِمْ اور مِنْ اَنْفُسِکُمْ جیسے کلمات سے اس احسان و انعام کو بار بار اور جگہ جگہ جتلایا گیا ہے۔ کہ انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے انہی میں سے رسول بھیجا گیا، تاکہ وہ ان کے سامنے زندگی کے ہر دائرے سے متعلق عملی نمونہ پیش کرے۔ اور یہ اس کی اتباع اور پیروی کر سکیں فالحمد للہ جل وعلا،

۹۹۔۔۔   سو اس سے منکرین قیامت کے وقوع قیامت کے بارے میں استبعاد واستعجاب کو رفع فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی اس بات میں غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا وہ آخر ان لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیونکر عاجز اور قاصر ہو سکتا ہے؟ سو جس نے اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کو اس پُر حکمت طریقے سے نیست سے ہست کیا۔ اور جو اپنی گوناگوں نعمتوں اور عنایتوں کے ساتھ ان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے، اس کے لئے آخر چند فٹ کے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہو سکتا ہے؟ اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر و بیان فرمایا گیا ہے لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (المؤمن۔۵۷) یعنی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں سو کائنات کی یہ کھلی کتاب ان تمام اہم اور اصولی حقائق کی اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تصدیق کر رہی ہے جن کو قرآن حکیم نے پیش فرمایا ہے۔ کہ ان دونوں کا فیضان حضرت حق جَلَّ مَجْدہٗ ہی کی طرف سے ہے، ایک اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اور دوسرا اس کا کلام، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ لوگ اس بارہ غور نہیں کرتے، اور وہ غفلت میں پڑے ہیں، والعیاذُ باللہ العظیم

۱۰۰۔۔۔          سو اس سے لوگوں کی تنگ ظرفی اور ان کے بخل و کنجوسی کی نفسیات کو واضح فرمایا گیا ہے چنانچہ ان کو خطاب کر کے پیغمبر کی زبان سے ان سے کہلوایا گیا کہ اگر کہیں تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو یقیناً تم ان کو روک لیتے کہ کہیں یہ خرچ اور ختم نہ ہو جائیں۔ مگر میرے رب نے اپنے فضل و کرم سے اپنی رحمت کے خزانوں کو اپنے ہی قبضہ قدرت و اختیار میں رکھا ہے اس نے تم لوگوں کو جن خزف ریزوں کا اہل پایا ان کو تمہارے حوالے کر دیا، اور اپنے جس فضل عظیم کے لئے میرا انتخاب فرمایا اس سے مجھے نواز دیا۔ سبحانہ و تعالیٰ، انسان بڑا تنگ ظرف ہے۔ اس کے ظرف میں سے اتنی گنجائش ہی نہیں کہ وہ دوسروں کے لئے کشادہ دستی دکھا سکے۔ تو پھر تم لوگ خداوند قدوس کی تقسیم پر کوئی اعتراض کیسے اور کیوں کر سکتے ہو؟ اور تمہیں آخر اس کا کیا حق پہنچتا ہے؟

۱۰۳۔۔۔          سو اس ارشاد سے ان لوگوں کو جواب دیا گیا جو طرح طرح کے فرمائشی معجزات کا مطالبہ کرتے تھے، جیسا کہ ابھی اوپر آیت نمبر٩٠ سے آیت نمبر٩۳ تک میں گزر چکا ہے۔ سو اس ارشاد سے ایسے لوگوں کے لئے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و ہدایت کی دولت معجزات و خوارق کے راستے سے نصیب نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یہ طلب صادق کی بناء پر نصیب ہوتی ہے۔ پس طلب صادق اگر نہ ہو تو خوارق و معجزات ہدایت سے سرفرازی کے بجائے الٹا محرومی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ اس کی ایک واضح مثال یہ موجود ہے کہ ہم نے فرعون کی طلب پر حضرت موسیٰ کو نو کھلے کھلے معجزات دیئے۔ مگر فرعون نے ان معجزات کو دیکھنے کے بعد حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں تو تمہیں ایک جادو کا مارا ہوا شخص سمجھتا ہوں۔ یعنی تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے جس سے تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ سو اس طرح اس ملعون کی نحوست اور بدبختی میں اور اضافہ ہوا۔ سو اسی طرح اگر تم لوگوں کو بھی تمہاری فرمائش کے مطابق معجزات دکھا دیئے جائیں تو تم بھی اسی طرح کا کوئی بہانہ بنا لو گے۔ اور جیسا کہ بالفعل کئی مواقع پر ایسے ہوا بھی، پس نور حق و ہدایت سے سرفرازی کا طریقہ معجزات و خوارق نہیں۔ بلکہ طلب صادق ہے، اور اللہ تعالیٰ نور حق و ہدایت سے انہی لوگوں کو نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جو اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہیں وباللہ التوفیق لما یُحِبُّ ویرید، وعلیٰ ما یُحِبُّ ویرید، وہو الہادی الی سواء السبیل،

۱۰۹۔۔۔          سو اس سے اہل کتاب کے اس صالح گروہ کے قرآن پاک کے بارے میں رویے کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنے نبیوں اور اپنے صحیفوں کا پیشین گوئیوں کی بناء پر ایک پیغمبر اور ایک کتاب کے منتظر تھے۔ سوارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو جب قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو یہ بے ساختہ اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑتے ہیں، سو پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ قریش اور بنی اسرائیل کے منکرین و مکذبین سے کہہ دیں کہ تم لوگ ایمان لاؤ یا نہ لاؤ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کہ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کو یہ قرآن سنایا جاتا ہے تو وہ بے ساختہ اللہ پاک کے حضور سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ اور سجدے بھی اپنی ٹھوڑیوں کے بل پر کرتے ہیں، یعنی نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدے کرتے ہیں۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب یقیناً ہمارے رب کے وعدے نے بہر طور پورا ہو کر رہنا تھا۔ اور اسی بناء پر وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور انکے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

۱۱۱۔۔۔          سو اس سے اس سورہ کریمہ کے آخر میں پیمبر کو، اور آپ کے واسطے سے امت کے ہر فرد کو، یہ ہدایت فرمائی گئی کہ منکرین و مکذبین خواہ جس وادی میں بھی بھٹکتے اور دھکے کھاتے پھریں، تم بہرحال یہ اعلان کر دو کہ سب تعریفوں اور ہر قسم کے شکر کا حقدار وہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے جس نے نہ کسی کو اپنی اولاد ٹھہرایا، اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے۔ اور نہ ہی کسی ذلت اور مقہوریت کی بناء پر اس کا کوئی حمایتی اور مددگار ہے۔ وہ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلیٰ و بالا ہے۔ اور اسی کی بڑائی بیان کرو کہ سب سے بڑا وہی وحدہٗ لاشریک ہے، کہ وہی ہے جو سب کا خالق و مالک ہے، جبکہ باقی سب اس کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں۔ وبہٰذا قد تَمَّ التفسیر المختصر لسورۃ بنی اسرائیل، والحمد للہ