تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ المَاعون

(سورۃ الماعون ۔ سورہ نمبر ۱۰۷ ۔ تعداد آیات ۷)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     کیا تم نے دیکھا (نہیں ) اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے روز جزاء کو؟

۲۔۔۔     سو ایسا ہی شخص (بے رحمی اور بے دردی سے ) دھکے دیتا ہے یتیم کو

۳۔۔۔     اور وہ (دوسروں کو بھی) ابھارتا نہیں مسکین کے کھانے پر

۴۔۔۔     پھر بڑی خرابی (اور ہلاکت) ہے ان نمازیوں کے لئے

۵۔۔۔     جو غافل (و بے خبر) ہیں اپنی نمازوں سے

۶۔۔۔     جو دکھلاوا کرتے ہیں اپنے کاموں میں

۷۔۔۔     اور وہ روکتے ہیں برتنے کی معمولی چیزوں کو

تفسیر

 

۷ ۔۔۔ اس سورہ کریمہ میں روز جزاء کی تکذیب کے اثر و نتیجہ اور اس کے انجام کو واضح فرمایا گیا ہے کہ ایسا شخص رحم و ترس اور ہمدردی خلائق جیسی پاکیزہ صفات و خصال سے محروم ہو کر ایک قاسی القلب انسان بن جاتا ہے جس سے کسی کے لئے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص دھکے دیتا ہے یتیم کو۔ اور وہ دوسروں کو مسکین کے کھانے پر نہیں ابھارتا۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ جو شخص آخرت اور روز جزا و سزا کا منکر ہو گا اس کے اندر مخلصانہ انفاق کا کوئی داعیہ اور محرک سرے سے باقی رہ ہی نہیں جاتا۔ کہ وہ خالص اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اور محض خدمت خلق کے جزبے، اور غرباء و مساکین کی ہمدردی کے لئے اپنا مال خرچ کرے۔ ایسا شخص اگر کچھ خرچ کرتا بھی ہے تو اپنی کسی ذاتی غرض اور دنیاوی مفاد ہی کے لئے کرتا ہے بے غرض فیاضی وہی کر سکتا ہے جو آخرت کی جزاء و سزا پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہے سو ایسے لوگوں کی نماز بھی دکھلاوے ہی کی ہوتی ہے جو ان کے لئے اجر و ثواب کے بجائے وَیْل یعنی خرابی اور ہلاکت کا باعث بنتی ہے اور ایسے لوگ اسقدر بخیل اور کنجوس ہوتے ہیں کہ یہ دینے برتنے کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی دینے سے منع کرتے ہیں۔ سو عقیدہ آخرت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ و العیاذُ باللہ العظیم