تفسیر مدنی

سورة دهر / الإنسَان

(سورۃ الإنسان ۔ سورہ نمبر ۷۶ ۔ تعداد آیات ۳۱)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک دور ایسا نہیں گزرا جب کہ اس کا کوئی نام (و نشان) بھی نہ تھا؟

۲۔۔۔     بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے تاکہ ہم (مکلف بنا کر) اس کی آزمائش کریں سو (اس غرض کے لئے ) ہم نے اس کو بنایا سننے والا دیکھنے والا

۳۔۔۔     ہم نے اس کو راستہ بتا دیا (پھر اس کی مرضی) خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا

۴۔۔۔     بلاشبہ ہم نے تیار کر رکھی ہیں کافروں کے لئے بڑی ہولناک زنجیریں بھاری طوق اور ایک بڑی ہی (خوفناک اور) دہکتی آگ

۵۔۔۔     (اس کے برعکس) نیک لوگ وہاں ایسی شراب کے جام پی رہے ہوں گے جس کی آمیزش کافور سے ہو گی

۶۔۔۔     وہ ایک ایسا عظیم الشان چشمہ ہو گا جس سے (مزے لے لے کر) پی رہے ہوں گے اللہ کے خاص بندے وہ اسے (جدھر چاہیں گے محض اپنے اشاروں سے ) بہا لے جائیں گے

۷۔۔۔     وہ جو (آج دنیا میں ) پورا کرتے ہیں اپنی نذروں کو اور وہ ڈرتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہو گی

۸۔۔۔     وہ کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین یتیم اور قیدی کو

۹۔۔۔     (اور وہ دل میں یا زبان سے کہتے ہیں کہ) ہم تو تمہیں محض اللہ کے لئے کھلا رہے ہیں تم سے نہ کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں نہ کوئی شکریہ

۱۰۔۔۔     ہمیں تو اپنے رب سے ایک ایسے دن کا سخت ڈر لگا رہتا ہے جو بڑا ہی ہولناک اور تلخ دن ہو گا

۱۱۔۔۔     سو (ان کی اس فرمانبرداری و اخلاص مندی کے طفیل) اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہو گا ان کو اس دن کے شر سے اور ان کو نواز دیا ہو گا (اپنے کرم سے ) ایک عظیم الشان تازگی اور سرور (شادمانی) سے

۱۲۔۔۔     اور ان کو سرفراز فرما دیا ہو گا اس نے (اپنی رحمت و عنایت سے ) عظیم الشان جنت اور ریشمی لباس سے اس بناء پر کہ انہوں نے (زندگی بھر) صبر سے کام لیا (راہ حق و صواب پر)

۱۳۔۔۔     اس جنت میں یہ لوگ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے (اس پر کیف منظر میں کہ) نہ وہ وہاں پر دھوپ (کی سختی) دیکھیں گے اور نہ جاڑے کی ٹھر

۱۴۔۔۔     جھکے پڑے ہوں گے ان پر وہاں کے (درختوں کے ) سائے اور پوری طرح ان کے بس (اور اختیار) میں کر دیا گیا ہو گا وہاں کے پھلوں کو

۱۵۔۔۔     ان کے آگے گردش میں لائے جا رہے ہوں گے عظیم الشان برتن چاندی کے اور ایسے عظیم الشان پیا لے جو کہ شیشے کے ہوں گے

۱۶۔۔۔     شیشے بھی وہ جو چاندی کے ہوں گے اور ان کو ساقیوں نے پورے پورے اندازے سے بھرا ہو گا

۱۷۔۔۔     اور انکو وہاں پر پلائے جا رہے ہوں گے شراب کے ایسے جام (پرکیف) جن کی آمیزش سونٹھ کی ہو گی

۱۸۔۔۔     یعنی ایک ایسے عظیم الشان چشمے سے (ان کی یہ تواضع کی جائے گی) جس کا نام وہاں پر سلسبیل ہو گا

۱۹۔۔۔     اور ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے جب تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ موتی ہیں جن کو بکھیر دیا گیا ہے

۲۰۔۔۔     اور وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے تو دیکھو گے کہ وہاں نعمتیں ہی نعمتیں ہیں اور ایک (بے مثل اور) عظیم الشان سلطنت

۲۱۔۔۔     ان (کے بدن) پر سبز رنگ کے (عظیم الشان) کپڑے ہوں گے باریک اور موٹے ریشم کے اور (مزید عظمت شان سے نواز نے کے لئے ) ان کو کنگن پہنائے گئے ہوں گے چاندی کے اور ان کو پلائے گا ان کا رب ایک نہایت ہی عظیم الشان پاکیزہ مشروب

۲۲۔۔۔     (اور انکے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے ان سے کہا جائے گا کہ) بلاشبہ یہ صلہ ہے تمہارا (زندگی بھر کے کئے کرائے کا) اور ٹھکانے لگی تمہاری (عمر بھر کی) محنت

۲۳۔۔۔     بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ پر یہ قرآن (اے پیغمبر اپنی خاص عنایت سے ) تھوڑا تھوڑا کر کے

۲۴۔۔۔     پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم کے مطابق اور (کسی بھی قیمت پر) بات نہیں ماننا ان میں سے کسی بھی بدکار یا منکر حق کی

۲۵۔۔۔     اور یاد کرتے رہا کرو تم نام اپنے رب کا صبح و شام (یعنی ہر وقت)

۲۶۔۔۔     اور رات کا کچھ حصہ بھی اسی کے حضور سجدہ ریز رہا کرو اور رات کا ایک بڑا حصہ اسی کی تسبیح (و تقدیس) میں لگے رہا کرو

۲۷۔۔۔     اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ محبت کرتے ہیں اس جلد ملنے والی چیز (یعنی دنیا) سے اور چھوڑتے (اور نظر انداز کرتے ) ہیں اپنے آگے آنے والے ایک ایسے دن کو جو بڑا ہی بھاری (اور نہایت ہولناک) دن ہے

۲۸۔۔۔     ہم ہی نے پیدا کیا ان کو (اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے ) اور مضبوط کئے ان کے جوڑ بند اور ہم جب چاہیں ان (کو ہلاک کر کے ان) کی جگہ اور لوگ لے آئیں

۲۹۔۔۔     بلاشبہ یہ (جو کچھ مذکور ہوا) ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) ہے سو جس کا جی چاہے راستہ اختیار کر لے اپنے رب کی طرف جانے کا

۳۰۔۔۔     اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کہ اللہ چاہے بے شک اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے

۳۱۔۔۔     وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کے لئے اس نے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی (ہولناک اور) دردناک عذاب

تفسیر

 

۳۔۔۔    ان آیات کریمات میں انسان کی تخلیق و تکوین اس کے مقصد تخلیق و تکوین، اس کے لئے طریق کار اور اس کے نتیجے و انجام جیسے ان تمام اہم اور بنیا دی امور سے متعلق ایسی جامع ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا مدار و انحصار ہے۔ جس کی تفصیلات تو بہت عظیم الشان اور بڑی وقیع ہیں مگر یہاں ان کا احاطہ ممکن نہیں اس لئے پورے اختصار کے ساتھ چند مختصر اشارات ہی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ اس کے اندر مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ میں اَمْشَاج کا جو لفظ آیا ہے یہ جمع مَشِج اور مشیج کی جس کے معنی ملی جلی اور مخلوظ چیز کے آتے ہیں اور پھر امشاج کا لفظ اگرچہ جمع ہے لیکن حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد الفاظ کی صفت کے طور پر آتے ہیں جیسا کہ یہاں پر بھی ہے اور نطفہ کے مشیج یعنی مخلوط ہونے کے اندر یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ یہ مختلف عناصر و قویٰ سے مخلوط و مرکب ہے۔ اور یہ بھی کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کے نطفوں کا امتزاج و اختلاط پایا جاتا ہے۔ اور اس موقع پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی ہے کہ جہاں مختلف عناصر متضاد طبائع اور کئی قسم کے مزاجوں کا اختلاط و امتزاج پایا جاتا ہو۔ وہاں پر ایسا اعتدال اور توازن قائم کرنا اور قائم رکھنا جس سے اصل مقصد کے مطابق صالح نتائج برآمد ہوں اس کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ کام ایک نہایت ہی حکیم و قدیر ہستی کی نگرانی میں ہو۔ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر ایسے حکیمانہ کام کا وجود میں آنا مممکن نہیں۔ سو وہی ہے اللہ وحدہٗ لاشریک جو کہ خالق حکیم اور قادر مطلق ہے سبحانہ و تعالیٰ اور یہ سب کچھ اسی کی قدرت بے پایاں اور اس کی حکمت بے نہایت اور رحمت و عنایت ہے غایت کا نتیجہ و ثمر ہے اب اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور یہ ایسا سوال ہے جو کہ انسانی عقل و فکر کو جھنجھوڑنے والا، اور اس کے قلب و ضمیر پر دستک دینے والا سوال ہے کہ جس قادر مطلق، خالق حکیم و قدیر نے انسان کو تخلیق و تکوین کے ان مختلف مراحل سے گزار کر، اور نہایت پُر حکمت طریقے سے اس کو نقطہ عروج و کمال پر پہنچایا۔ اور اس کو ایک حقیر قطرہ آب سے اٹھا کر اور ترقی دیکر عقل و فکر اور سمع و بصر کی ان عظیم الشان صلاحیتوں سے نوازا اور اس طور پر کہ اس کے نتیجے میں یہ ساری مخلوق کا محذوم و مطاع بن گیا۔ اس خالق کل مالک مطلق رب ذوالجلال والاکرام کا کیا حق شکر اس پر واجب ہوتا ہے؟ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ اور اس مقصد کے حصول کا طریقہ اور اس واہب مطلق خالق ذوالجلال کے حق شکر کی ادائیگی کی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ اور کیا اس انسان کا وجود یونہی عَبَث اور بے کار ہو سکتا ہے؟ جس کو اس قدر اہتمام کے ساتھ پیدا کیا گیا؟ اور یہ کہ کیا جس خالق حکیم نے اس انسان کو نیست سے ہست کیا، معدوم سے موجود بنایا اور اس قدر پر حکمت طریقے سے اس کو پیدا فرمایا کیا وہی اس کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھا سکے گا؟ بَلیٰ وَہُوَا الْخَلَّاقُ الْعَلِیْم۔ یعنی ہاں کیوں نہیں جبکہ وہی ہے سب سے بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جاننے والا سو انہی اہم اور بنیا دی سوالات کے جوابات اور صحیح جوابات سے آگہی کے لئے اس نے اپنے فضل و کرم سے ایک طرف تو انسان کو عقل و فکر کی صلاحیتوں اور قوتوں سے نوازا، اور اس کو سمع و بصر جیسے عظیم الشان آلات علم و ادراک بخشے، اور دوسری طرف اس نے اس کو ہدایت و وحی کے نور مبین سے سرفراز فرمایا، تاکہ اس سے اس کے قوی فکر و بصیرت کو جلا ملے، اور اس کے مدارک علم و فہم کو روشنی نصیب ہو اور اس کے نتیجے میں یہ سعادت دارین سے سرفرازی کی راہ پا سکے۔ اور راہ حق کو اپنا کر یہ اس ابدی بادشاہی اور جنت کی نعیم مقیم کا اہل اور مستحق قرار پاس کے۔ جس کا وعدہ اس کے رب غفور و شکور نے اپنے انبیاء ورسل کے ذریعے فرمایا ہے۔ اب آگے معاملہ اس انسان کے اپنے اختیار پر ہے اگر وہ چاہے تو راہ حق و ہدایت کو اپنا کر اپنے رب کا شا کر بندہ بنے۔ اور چاہے تو اس سے منہ موڑ کر ناشکرا اور کفور بنے۔ اسی کے مطابق آگے اس کو اس کے صلہ و بدلہ سے نوازا جائے گا اور اس کو وہی کچھ ملے گا جس کا یہ اہل اور مستحق ہو گا جس کی تفصیل آگے ذکر و بیان فرمائی جا رہی ہے۔ سو اس سلسلے میں معاملہ انسان کے اپنے ارادہ و اختیار پر ہے کوئی جبر و اکراہ اس سلسلہ میں نہ ہے نہ ہو سکتا ہے۔

۷۔۔۔    اس آیت کریمہ میں اہل جنت کی دو خاص صفتوں کو ذکر و بیان فرمایا گیا ہے، ایک یہ کہ وہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں، نذر اس کو کہتے ہیں کہ کسی نیک کام کو از خود اپنے ذمے لازم کر دیا جائے، اللہ تعالیٰ کے ان وفادار بندوں (ابرار) کے اوصاف میں سے ایفاء نذر کے اس وصف کو بطور خاص نمایاں کر کے ذکر فرمایا گیا ہے، اور یہ اس لئے کہ جو ان نذروں کے ایفاء کا اس قدر اہتمام کریں گے جو انہوں نے از خود اور اپنے طور پر اپنے اوپر لازم کی ہوں گی، تو وہ ان فرائض و واجبات کی ادائیگی کا اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ خیال رکھیں گے جو ان کے رب کی طرف سے ان کے ذمے لازم قرار دیئے گئے ہوں گے، اور دوسری اہم صفت ان بندگان صدق و صفا کی اس آیت کریمہ میں یہ ذکر فرمائی گئی ہے کہ وہ قیامت کے اس ہولناک دن کے شر سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی، یعنی اس کی آفت ایسی عام اور اس قدر ہمہ گیر ہو گی، کہ وہ چھوٹے بڑے امیر و غریب راعی و رعایا، اور عابد و معبود سب پر حاوی، اور ان پر چھائی ہوئی ہو گی، اس کے شر سے بس وہی محفوظ رہ سکیں گے جن کو اللہ محفوظ رکھے گا، اور بس، سو آخرت کا یہ خوف و اندیشہ ہی انسان کو راہ راست پر رکھتا ہے، ورنہ انسان محض ایک حیوان بن کر رہ جاتا ہے، اور ایسا حیوان کہ جس کی زندگی کا مقصد اور محور خواہشات نفس کی تکمیل ہی ہوتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ جوہر عقل کو بھی خواہشات بطن و فرج کا غلام بنا دیتا ہے، اور اسطرح وہ شَرُّ الْبَرِیَّہَ یعنی سب سے بری مخلوق بن جاتا ہے، و العیاذُ باللہ العظیم

۲۲۔۔۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو ان خوش نصیبوں کی قدر افزائی فرمائی گئی ہے اور ان کی خوشی و مسرت کو دوبالا کرنے کا سامان فرمایا گیا ہے کہ اس روز ان سے کہا جائے گا، کہ یہ سب کچھ تمہاری اپنی محنت و مشقت اور زندگی بھر کی کمائی اور راہ حق میں جہد مسلسل کا نتیجہ و ثمرہ ہے کسی اور کی سفارش اور وساطت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تم لوگوں کو کسی دوسرے کی سعی و سفارش کا بار نہیں اٹھانا پڑا، سو اس سے جنت کے ان باسیوں کو جو خوشی و مسرت نصیب ہو گی۔ اس کا اندازہ ہی کون کر سکتا ہے، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَنُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (الاعراف۔۴۲) یعنی اہل جنت کو پکار کر ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہاری وہ جنت جس کا تم لوگوں کو وارث بنا دیا گیا تمہارے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے، یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں اور دوسری طرف اس میں ان بگڑے ہوئے لوگوں پر طنز و تعریض ہے جنہوں نے اپنے خود ساختہ معبودوں، حاجت رواؤں، و مشکل کشاؤں، من گھڑت دیویوں دیوتاؤں، اور فرضی و وہمی ""سرکاروں"" وغیرہ پر تکیہ کر رکھا ہے اور اپنے انہی فرضی اور وہمی سہاروں کی آس و امید پر انہوں نے آخرت کے تقاضوں کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ حالانکہ وقت آنے پر ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے کچھ بھی کام نہیں آ سکے گی پس کام آنے والی چیز انسان کا اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے لیکن جن لوگوں کی مت ان کے کفر و شرک کے نتیجے میں مار دی جاتی ہے ان کو حق اور بالکل وضاح بات بھی سمجھ نہیں آتی والعیاذ باللہ العظیم۔

۲۴۔۔۔ ف۲یہاں پر صبر کے حکم و ارشاد کے "بعدول "کا جو صلہ آیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ صبر کا حکم و ارشاد یہاں پر انتظار کے معنی و مفہوم کو متضمن ہے، سو معنی و مطلب یہ ہو گا کہ آپ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کریں ان ناہنجاروں کی دل آزار باتوں کی پرواہ نہ کریں، جو آپ سے وہ عذاب دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں جس سے قرآن ان کو خبردار کر رہا ہے سو ایسے ہٹ دھرموں اور ناشکروں کا معاملہ آپ اپنے رب ہی کے حوالے کر دیں وہ ان سے خود نبٹ لے گا، اور ایسے اور اس طور پر کہ جو اس کی حکمت بے پایاں کے تقاضوں کے مطابق ہو گا، اور وہی جانتا ہے کہ ان کو کب تک ڈھیل دی جائے، اور ان پر عذاب کیسے اور کس شکل میں لایا جائے، کہ یہ سب کچھ اسی کے علم بیکراں، اور حلم بے پایاں کے تقاضوں پر مبنی و موقوف ہے، جبکہ آپ کا کام عذاب لانا نہیں، بلکہ پیغام حق پہنچانا، اور اس عذاب سے خبردار کرنا ہے جو منکروں کے انکار کے نتیجے میں ان پر آ کر رہنے والا ہے، پس آپ ابلاغ اور تبلیغ حق کی ذمہ داری ادا کرتے رہیں اور ان منکروں کا معاملہ اپنے اسی خالق و مالک کے حوالے کر دیں جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے، اور تبلیغ حق کی یہ ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے، وہ ان سے ٹھیک ٹھیک اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نبھٹ لے گا، پس آپ ان میں سے کسی بھی بدکار، یا ناشکرے کی بات نہ مانیں، یعنی ان میں سے کسی کی بات کی کوئی پرواہ نہ کریں، یہ اپنے اِثْم اور کفر کا بھگتان خود بھگت لیں گے سو اطاعت کا لفظ یہاں پر پرواہ کرنے کے معنی میں ہے۔

۲۹۔۔۔ سو یہ عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی سراسر خود ان ہی لوگوں کے بھلے اور فائدے کے لئے ہے، نہ اس میں اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کا کسی طرح کا کوئی فائدہ ہے، اور نہ ہی اللہ کے رسول کی اس سے کوئی ذاتی عرض وابستہ ہے، یہ خالص بندوں ہی کے بھلے اور فائدے کے لئے ہے، پس اب جس کا جی چاہے وہ اس کو قبول کر کے اپنے رب کی راہ کو اختیار کرے، اور جس کی مرضی اس سے منہ موڑ کر اس انتہائی ہولناک انجام سے دو چار ہونے کی راہ کو اپنائے، جو منکرین و مکذبین کے لئے مقرر ہے اور جس سے یہ کتاب حکیم دنیا کو واضح طور پر آگاہ خبردار کر رہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال۔

۳۱۔۔۔ سو اس سے اس سنت خداوندی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو حضرت خالق حکیم جَلَّ جَلَالُہ، نے توفیق ایمان و ہدایت کے سلسلہ میں مقرر فرما رکھی ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ نور حق و ہدایت اور دولت ایمان و یقین سے انہی لوگوں کو سرفراز فرماتا ہے جو اس کے لئے اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہیں اور نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے وہ اپنے قوائے علم و ادراک سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں اور وہ اپنی ان صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں جو اس واہب مطلق نے ان کے اندر حق و باطل اور خیر و شر کے درمیان فرق و تمیز کے لئے اپنے فضل و کرم سے ودیعت فرما رکھی ہوتی ہیں لیکن اس کے برعکس جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں اور وہ قدرت کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے صحیح طور پر کام لینے کے بجائے الٹا ان کو ضائع کر کے اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں ان کو ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہو سکتی۔ بلکہ وہ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ کے مصداق جہنم کے ایندھن بننے کی راہ پر چل پڑتے ہیں کہ تکذیب و انکار حق کے جس ظلم کا وہ ارتکاب کرتے ہیں اس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم، واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین