تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ المُمتَحنَة

(سورۃ الممتحنۃ ۔ سورہ نمبر ۶۰ ۔ تعداد آیات ۱۳)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم اپنا دوست مت بناؤ میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو تم ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ وہ کھلا کفر (اور انکار) کر چکے ہیں اس دین حق کا جو تمہارے پاس آ چکا ہے (تمہارے خالق و مالک کی طرف سے ) اور وہ نکالتے ہیں اللہ کے رسول کو اور خود تم کو (تمہارے گھروں سے ) محض اس بناء پر کہ تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو کہ رب ہے تم سب کا (پس تم ایسوں کو اپنا دوست مت بناؤ) اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا جوئی کی خاطر نکلے ہو تم ان کی طرف چھپا کر دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے وہ سب کچھ بھی جو کہ تم لوگ چھپا کر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جو کہ تم اعلانیہ طور پر کرتے ہو اور (جان لو کہ) تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ یقیناً بھٹک گیا سیدھی راہ سے

۲۔۔۔     (ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر ان کو تم پر قابو مل جائے تو وہ (فوراً) تمہارے ساتھ دشمنی کا کام شروع کر دیں اور اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ تمہاری طرف دراز کر دیں وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر ہی کرنے لگو

۳۔۔۔     قیامت کے دن نہ تو تمہاری رشتہ داریاں تمہیں کچھ کام دے سکیں گی اور نہ ہی تمہاری اولا دیں اس روز اللہ فیصلہ فرما دے گا تمہارے درمیان اور اللہ خوب دیکھتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کر رہے ہو

۴۔۔۔     بلاشبہ تمہارے لئے بڑا عمدہ نمونہ ہے ابراہیم اور ان لوگوں (کی زندگیوں ) میں جوان کے ساتھ تھے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم قطعی طور پر بیزار ہیں تم سے بھی اور تمہارے ان جملہ معبودوں سے بھی جن کو تم لوگ پوجتے (پکارتے ) ہو اللہ کے سوا ہم نے (ڈنکے کی چوٹ) کفر (و انکار) کیا تم سب سے اور ظاہر ہو گئی تمہارے اور ہمارے درمیان عداوت (و دشمنی) اور بغض(و بیر) ہمیشہ کے لئے یہاں تک تم ایمان لاؤ اللہ واحد پر مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اس سے مستثنیٰ ہے ) کہ میں آپ کے لئے (اپنے رب سے ) معافی کی درخواست تو ضرور کروں گا مگر میں آپ کے لئے اللہ کی طرف سے کسی بھی بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتا (اور اس اعلان بیزاری کے بعد ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے یوں دعاء کی کہ) اے ہمارے پروردگار ہمارا بھروسہ تجھ ہی پر ہے ہم نے تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے (ہم سب نے )

۵۔۔۔     اے ہمارے پروردگار ہمیں فتنہ (اور آزمائش کا سامان) نہ بنانا کافروں کے لئے اور بخشش فرما دے ہم سب کی اے ہمارے رب بلاشبہ تو ہی ہے سب پر غالب بڑا ہی حکمت والا

۶۔۔۔     بلاشبہ تمہارے لئے (اے مسلمانو!) بڑا عمدہ نمونہ ہے ان لوگوں (کی زندگیوں ) میں یعنی ہر اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہو اللہ (سے ملنے ) کی اور قیامت کے دن (کے آنے ) کی اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو (وہ یقیناً اپنا ہی نقصان کرے گا کہ) بے شک اللہ (سب سے اور ہر طرح سے ) غنی (و بے نیاز اور) اپنی ذات میں آپ محمود ہے

۷۔۔۔     بعید نہیں کہ اللہ محبت ڈال دے تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے آج تمہاری دشمنی ہے کہ اللہ بڑی ہی قدرت والا ہے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

۸۔۔۔     اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا سلوک کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے نہ تو دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور نہ ہی انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا بلاشبہ اللہ پسند فرماتا (اور محبت کرتا) ہے انصاف کرنے والوں سے

۹۔۔۔     اللہ تو تمہیں تو روکتا ہے ان لوگوں (کی دوستی) سے جنہوں نے تم سے جنگ کی دین کے معاملے میں اور انہوں نے تمہیں نکال باہر کیا تمہارے اپنے گھروں سے اور انہوں نے تمہارے اخراج کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی اور (یہ روکنا بھی اس لئے ہے کہ) جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہوں گے

۱۰۔۔۔     اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو تم ان کی جانچ پڑتال کر لیا کرو اللہ تو خوب جانتا ہے ان کے ایمان (کی حقیقت) کو (پر تمہیں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ) پس اگر تمہیں وہ مومن معلوم ہوں تو تم انہیں کفار کی طرف واپس نہیں کرنا (کیونکہ) نہ تو یہ عورتیں ان (کفار) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں البتہ ان کے شوہروں نے جو کچھ (ان کے مہر وغیرہ میں ) خرچ کیا ہو وہ تم ان کو دے دو اور ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم ان کو ان کے مہر دے دیا کرو اور تم خود بھی کافر عورتوں کی عصمتوں کو اپنے قبضے میں نہ رکھو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو وہ (ان کافروں سے ) مانگ لیا کرو اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو وہ ان کو مانگ لینا چاہیے یہ اللہ کا حکم ہے وہ خود تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے

۱۱۔۔۔     اور اگر تمہاری (کافر) بیویوں (کے مہروں ) میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے پھر تمہاری باری آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہوں تم ان کو اتنی رقم ادا کر دو جتنی کہ انہوں نے خرچ کی ہو اور ڈرتے رہا کرو تم اس اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو

۱۲۔۔۔     اے نبی جب مومن عورتیں آپ کے پاس ان باتوں پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ نہ تو وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک ٹھہرائیں گی نہ چوری کریں گی نہ زنا کریں گی نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ ہی وہ کوئی ایسا بہتان لائیں گی جس کو وہ گھڑیں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان اور نہ ہی وہ آپ کی نافرمانی (اور حکم عدولی) کریں گی نیکی کے کسی بھی کام میں تو آپ ان کی بیعت کو قبول کر لیا کریں اور ان کے لئے اللہ سے بخشش کی دعاء کیا کریں بلاشبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے

۱۳۔۔۔     اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو تم دوستی نہیں کرنا ان لوگوں سے جن پر غضب نازل ہو چکا اللہ کا وہ یقیناً آخرت سے ایسے ہی مایوس ہو گئے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار مایوس ہو گئے ہیں

تفسیر

 

۱۔۔۔   سو اس آیت کریمہ سے ایمان کے اس اہم اور بنیا دی تقاضے کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے کبھی دوستی نہ رکھی جائے۔ ان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا جبکہ وہ اس پیغام حق و ہدایت کے منکر ہوں جو اللہ کی طرف سے آ چکا ہے۔ اور خاص کر جبکہ وہ اللہ کے رسول اور ایمان والوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے درپے ہوں محض اس بناء پر کہ ایمان والے اس اللہ پر ایمان لائے ہیں جو کہ سب کا رب اور ان کا پالنہار ہے تو ایسی صورت میں ایسوں سے دوستی رکھنا ایمان کے تقاضوں کے یکسر منافی ہے سو اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی دونوں چیزیں یکجا نہیں ہو سکتیں، کہ ان کے درمیان تضاد اور منافات ہے، درآنحالیکہ اللہ تمہارے ظاہر اور باطن دونوں کو جانتا ہے اور ایک برابر اور پوری طرح جانتا ہے۔ پس جو لوگ جانتے بوجھتے ایسا کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے ساتھ اس کے دشمنوں کی محبت و موالات کو یکجا کرنا چاہیں گے وہ یقیناً حق و ہدایت کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ کیونکہ ایمان و یقین اور دشمنان اسلام سے دوستی اور محبت کبھی یکجا نہیں ہو سکتے، افسوس کہ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو ایمان و اسلام کے بلند بانگ دعووں کے باوجود دشمنان اسلام سے دوستی رکھتے، اور ان کے ساتھ محبت و موالات کی پینگیں بڑھاتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اللہ اور رسول کے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل اور خونریزی کے انتہائی سنگین جرم میں ملوث اور اس کے مرتکب ہوتے ہیں مجاہدین کو یہ لوگ دہشت گرد قرار دے کر سرکاری فوجوں کے ذریعے دشمنوں کے اشاروں پر کچلنے کے لئے بھرپور فوجی قوت استعمال کرتے ہیں ان پر ہر طرح کی بمباری کرتے اور ان کے گھروں کو مسمار کرتے ہیں، یعنی ان پر یہ لوگ بعینہ وہی مظالم ڈھا رہے ہیں جو یہود و نصاریٰ اور ہندو وغیرہ کھلے دشمن ڈھا رہے ہیں اور پھر بھی اپنے مسلمان ہونے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ اپنے آپ کو اہل حق اور انکے علماء و صلحاء تک سے بہتر مسلمان قرار دیتے ہیں، فالی اللہ المشتکی وہو المستعان، اور پھر مجاہدین پر ایسے لرزہ خیز مظالم ڈھا کر یہ لوگ اپنے اسلام اور مسلمان دشمن آقاؤں سے اشیرباد لے کر اس پر خوش ہوتے ہیں اور اس کو اپنے لئے حسن کارکردگی کا تمغہ قرار دیتے ہیں اور ایسی باتوں کی مختلف ذرائع ابلاغ سے تشہیر کرتے اور اس پر خوش ہوتے ہیں، کہ اسلام کے فلاں بڑے اور کھلے دشمن نے ہمیں شاباش دی ہے کہ تم نے مجاہدین پر ایسے مظالم ڈھا کر بڑا کارنامہ انجام دیا ہے وغیرہ وغیرہ، والعیاذ باللہ العظیم، اور پھر بھی دعوی ہے ایمان و اسلام کا حالانکہ نبی معصوم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا مَنْ مَشیٰ مَعَ ظَالِمِ لِیُقَوَّیَۃَ وَہُوَ یَعْلَمُ اَنَّہ، ظَالِمَ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلَامِ۔ یعنی جس نے جان بوجھ کر ظالم کی تقویت کے لئے اس کا ساتھ دیا تو وہ یقیناً اسلام سے خارج ہو گیا والعیاذ باللہ۔ مگر اس کے باوجود ظالموں کے یہ ایجنٹ اور آلہ کار ہیں کہ اس قدر مظالم کے باوجود اپنے ایمان اور اسلام کے بلند بانگ دعوے کرتے تھکتے نہیں۔ فَاِلَی اللّٰہِ المشتکی وہو المستعان جل و علا سبحانہ و تعالیٰ، اللہ مجاہدین، اور مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے، اور ان کی نصرت و حمایت کے لئے غیب سے اسباب پیدا فرمائے، اور ظالموں کو ہدایت دے، اور جن کے نصیب میں ہدایت نہیں ان کا بیڑا غرق کرے، اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِہِمْ یاذالجلال والاکرام۔

۵۔۔۔   یہ بھی حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی اس دعاء کا حصہ ہے جس کا ذکر اوپر ہوا جس میں ایک عرض و گزارش تو اللہ تعالیٰ کے حضور یہ پیش کی گئی کہ ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنانا۔ یعنی تو ان ظالموں کو اتنی ڈھیل اور موقع نہ دینا کہ یہ ہمیں اپنے مظالم کا نشانہ اور تختہ مشق بنا لیں اور ہمیں ان کے مقابلے میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھنا۔ اور دوسری عرض و التجا اس میں اپنے رب کے حضور یہ پیش کی گئی ہے کہ اے ہمارے رب ہماری بخشش فرمانا، یعنی ہماری ان کمزوریوں، کوتاہیوں، خطاؤں، لغزشوں، اور گناہوں کو معاف فرما دینا، جو ہم سے بتقاضائے بشریت سرزد ہو جائیں، ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پا کر ہمیں اپنی ستم رانیوں کا ہدف بنا لیں، سو اس فقرے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آئی تو وہ ہمارے اپنے اعمال کی پاداش ہی میں پیش آئے گی۔ والعیاذ باللہ۔ اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے پس تو ہمارے گناہوں کی بخشش فرما دے، تاکہ ہم ان کے وبال سے بچ جائیں، تو ہر چیز پر غالب ہے جو چاہے اور جیسا چاہے کرے نہ کوئی تیرے ارادے میں حائل ہو سکتا ہے اور نہ کوئی تیرا راستہ روک سکتا ہے اور ساتھ ہی تو چونکہ بڑا ہی حکمت والا بھی ہے اس لئے تیرا ہر کام کمال علم و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے ہم اپنا معاملہ کلیۃً تیرے حوالے کرتے ہیں تو جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، تیرا ہر کام کامل علم و حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اس لئے اسی میں خیر و برکت اور حکمت و مصلحت ہے سو اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا جملہ کامل تفویض کا جملہ ہے۔ و الحمد للہ جل و علا۔

۶۔۔۔  یعنی حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان و عداوت میں بڑا عمدہ نمونہ ہے اور یہ سب کے لئے عام ہے مگر اس سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کی امید بھی رکھتے ہوں۔ اور وہ آخرت کے یوم عظیم کے ظہور کے بھی متوقع ہوں ایسے لوگ اس عزم و ہمت کے مالک ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کے لئے جان و مال کی ہر قربانی پیش کر سکیں، کیونکہ اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے اپنے گھر در، اموال و املاک ملک و وطن، اور قوم قبیلہ وغیرہ چھوڑ دینا، اور ان سے دست بردار ہو کر اللہ کے لئے اٹھ کھڑا ہونا کوئی آسان کام نہیں، یہ انہی خوش نصیبوں کی شان اور انہی کا کام ہو سکتا ہے، جو اپنے خالق و مالک کی نصرت و امداد، اور آخرت کے یوم جزاء و سزا پر راسخ ایمان رکھتے ہوں۔ ایسے ہی لوگ اس کی راہ میں ہر قربانی دے سکتے ہیں۔ سو نجات و فلاح کی راہ بہر حال یہی ہے کہ تم لوگ صدق دل سے حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرو۔ اس میں سراسر تم ہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے اور جو ہمیشہ کا اور ابدی جہاں ہے، لیکن یاد رکھو کہ جو اس سے منہ موڑیں گے وہ سراسر اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے وہ ہر کسی سے اور ہر اعتبار سے غنی و بے نیاز ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے اس کو نہ کسی کی حمد و ثنا کی ضرورت ہے اور نہ اس کی خدائی کہیں دوسروں کے سہارے کھڑی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ، اللّٰہُمَّ فَکُنْ لَنَا وَلَا تَکُنْ عَلَیْنَا، وَخُذْنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلیٰ مَافِیْہِ حُبُّکَ وَالرِّضَا بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَالِ،

۱۰۔۔۔   اس آیت کریمہ میں مکے سے ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے بارے میں بعض خاص ہدایات دی گئی ہیں، جن سے متعلق سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ تم لوگ ان کا امتحان لے لیا کرو، یعنی ان کے ایمان و اسلام کے بارے میں جانچ پڑتال کر لیا کرو، یعنی ان کو اسلامی معاشرے میں شامل کر دینے کے لئے محض اتنی بات کافی نہیں کہ وہ ہجرت کر کے آ گئیں، بلکہ اس بارے تحقیق کرنا ضروری ہے، تاکہ اصل اور حقیقی صورت حال واضح ہو جائے، اور جب تحقیق حال اور جانچ پڑتال کے بعد یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ صحیح مسلمان ہیں، اور واقعی دین ہی کی خاطر ہجرت کر کے آئی ہیں تو تم ان کو اپنے اندر شامل کر لو، اور ان کو کفار کی طرف واپس مت کرو، کہ ایسی صورت میں نہ یہ عورتیں ان کفار کے لئے حلال ہیں، اور نہ ہی وہ ان کے لئے حلال ہیں اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ کے جملہ معترضہ سے یہاں پر اس حقیقت کو واضح کر دیا گیا کہ اللہ ان کے ایمان کو پوری طرح جانتا ہے پس تم لوگ اگر ان کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں پوری کوششیں کے باوجود صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکے تو تم عند اللہ معذور ہو، تم پر کوئی گناہ اور مؤاخذہ نہیں، اور اگر انہوں نے تم کو دھوکہ دیا تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ ان کے ایمان و کفر سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے، ایسے میں یہ اس کی گرفت و پکڑ سے بہر حال نہیں بچ سکیں گی، والعیاذ باللہ جل و علا، اور ان عورتوں سے متعلق ایک منصفانہ ہدایت یہ فرمائی گئی کہ اگر ان مہاجر عورتوں میں سے کوئی مکے میں کسی کافر کی زوجیت میں رہی ہو، تو مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے اس کافر شوہر نے جو مہر اس کو دیا ہو وہ مسلمانوں کی طرف سے اس کو ادا کر دیا جائے۔ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کے ادا کئے جانے کی عملی شکل یہی ہو سکتی ہے کہ اس واپسی کا انتظام مسلمانوں کا بیت المال کرے۔ اور ان سب مراحل کے طے ہو جانے کے بعد اگر کوئی مسلمان ان سے نکاح کرنا چاہے تو وہ بلا تکلف کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کا مہر ادا کر دے یعنی جو مہر اس کے سابق شوہر کو دیا گیا ہے وہی کافی نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس عورت کو بھی اس نئے نکاح کا مہر دینا ہو گا، جو کہ نکاح کرنے والا دے گا۔ اس کے علاوہ اس ضمن میں ایک اور خاص ہدایت یہ دی گئی کہ جن لوگوں کی بیویاں مکے ہی میں رہ گئی ہوں۔ اور وہ بدستور اپنے کفر ہی پر قائم ہوں تو مسلمانوں کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ اس کے باوجود ان کو اپنے عقد نکاح میں باندھے رکھیں، بلکہ ان مسلمان شوہروں کو چاہیے کہ وہ ان کو آزاد کر دیں۔ تاکہ وہ جس سے چاہیں نکاح کر لیں۔ اور ان کے مہروں کا آپس میں تبادلہ کر لیا جائے۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیا دی اصول واضح ہو جاتا ہے کہ ایمان و کفر کے اختلاف کے ساتھ اہل ایمان کا اہل کفر کے ساتھ نکاح اور رشتہ زوجیت نہ قائم ہو سکتا ہے، نہ باقی رہ سکتا ہے، کہ ان دونوں کے راستے بھی الگ ہیں، اور ان کے آپس میں انجام بھی مختلف ہیں، کہ ایمان والے جنت کے راہی اور اسی کے طالب وخواستگار ہیں، جبکہ کفر وشرک والے دوزخ کے راستے پر، اور اسی کے اہل اور مستحق ہیں، تو پھر ان دونوں کے درمیان رشتہ زوجیت کسطرح قائم ہو سکتا ہے؟ والعیاذُ باللہ العظیم جل و علا،

۱۲۔۔۔   اس ارشاد سے پیغمبر کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جو عورتیں آپ کے پاس بیعت کے لئے آئیں تو آپ ان سے اسلامی زندگی کے تمام معروفات پر بیعت لیں۔ اگر وہ اس ذمہ داری کو اٹھانے کا عہد کریں تو آپ ان سے بیعت لیں۔ ورنہ نہیں، کیونکہ اسلام کا پاکیزہ اور مقدس معاشرہ ایسا نہیں کہ اس میں ہر قسم کے لوگوں کو بھرتی کر لیا جائے۔ بلکہ اس میں شامل ہونے کا استحقاق صرف انہی لوگوں کو حاصل ہو سکتا ہے، جو ایمان و اسلام کے مطالبات کو پورا کرنے کا عہد کریں، سو ان ہدایات سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اسلام کے ساتھ غیر اسلام کا جوڑ قائم نہیں ہو سکتا، کہ یہ عقل و فطرت دونوں کے خلاف ہے، اس لئے تعلقات کے ہر گوشے سے متعلق جانچ پڑتال ہونی چاہیئے، تاکہ نفاق کی کوئی آلائش کہیں باقی نہ رہنے پائے، سو جس طرح مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں کے ساتھ دوستی رکھیں، اسی طرح ان کے لئے یہ بات بھی جائز نہیں کہ وہ مشرکات کے ساتھ کوئی رشتہ منَاکحت رکھیں۔ اب تک جو ہوا سو ہوا۔ کہ وہ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ کے زمرے میں آتا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس طرح کا ہر رشتہ کاٹ دیا جائے۔

۱۳۔۔۔   اس سورہ کریمہ کی اس آخری آیت کریمہ میں پھر اسی مضمون کو دوہرا گیا ہے جس سے اس کا آغاز فرمایا گیا تھا کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کو کبھی اپنا دوست نہیں بناتا، کہ یہ چیز تمہارے ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اب آخر میں پھر ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں سے دوستی نہیں کرنا جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ یعنی یہود سے کیونکہ صفت کے طور پر غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ کے ان الفاظ کا استعمال قرآن پاک میں یہود ہی کے لئے ہوا ہے۔ اور مغضوب علیہم ان ہی کی صفت آئی ہے۔ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ یعنی یہ لوگ آخرت سے مایوس ہو گئے۔ سو زبانی کلامی طور پر یہ لوگ اگرچہ آخرت کا اقرار کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دنیا پرستی، ان کی ہوس زر و زمین، اور موت سے ان کا فرار وغیرہ امور اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ لوگ آخرت کی توقع نہیں رکھتے، اگر یہ آخرت کی توقع رکھتے ہوتے تو ان کے لچھن یہ نہ ہوتے، اور یہ ایسی حرکتوں کے مرتکب نہ ہوتے جن کے یہ مرتکب ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی شدید تنبیہات کے باوجود یہ باز نہ آئے۔ سو یہ لوگ دوبارہ اٹھنے سے اسی طرح مایوس اور اس کے منکر ہیں جس طرح کہ دوسرے کھلے کافر اس سے مایوس و منکر ہیں، سو انکار آخرت کے معاملے میں یہ دونوں ایک ہی سطح پر ہیں، اسی لئے قرآن حکیم میں جا بجا یہود اور دوسرے کھلے کفار کی باہمی مشابہت کو واضح فرمایا گیا ہے تاکہ جو لوگ یہود کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے کسی حسن ظن میں مبتلا تھے ان کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کی غلط فہمی رفع ہو جائے، اور ان کے سامنے واضح ہو جائے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بدتر ہے۔ وبہٰذا قدتم التفسیر المختصر لسورۃ الممتحنۃ