تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الحَدید

(سورۃ الحدید ۔ سورہ نمبر ۵۷ ۔ تعداد آیات ۲۹)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی ہے بڑا زبردست نہایت حکمت والا

۲۔۔۔     اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور وہی ہے ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا

۳۔۔۔     وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی ہے ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا

۴۔۔۔     وہ (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو چھ دنوں (کی مدت) میں پھر وہ مستوی (و جلوہ افروز) ہوا عرش پر وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ داخل ہوتا ہے زمین میں اور وہ سب کچھ بھی جو کہ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ کہ اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں اور وہ بہر حال تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو گے اور اللہ پوری طرح دیکھ رہا ہے ان تمام کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو۔

۵۔۔۔     اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب امور

۶۔۔۔     وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور دن کو داخل کرتا ہے رات میں اور وہی ہے جاننے والا دلوں کے رازوں کو

۷۔۔۔     ایمان لاؤ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس مال میں سے جس میں اللہ نے تم کو جانشین بنایا ہے (اپنے فضل و کرم سے) پھر جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئے اور انہوں نے خرچ بھی کیا تو ان کے لئے ایک بہت بڑا اجر ہے

۸۔۔۔     اور تمہیں کیا ہوا (اے لوگوں !) کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر جب کہ اس کا رسول تمہیں بلا رہا ہے کہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر اور وہ (وحدہٗ لاشریک) تم سے پختہ عہد بھی لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو

۹۔۔۔     وہ (اللہ) وہی ہے جو نازل فرماتا ہے اپنے بندہ خاص پر کھلی کھلی آیتیں تاکہ وہ تمہیں نکالے (اپنے کرم سے) طرح طرح کے اندھیروں سے (حق و ہدایت کے) نور کی طرف اور بے شک اللہ تم سب پر (اے لوگوں !) یقینی طور پر بڑا ہی شفیق اور انتہائی مہربان ہے

۱۰۔۔۔     اور تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں ؟ حالانکہ اللہ ہی کے لئے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی برابر نہیں ہو سکتے تم میں سے وہ لوگ (جو فتح کے بعد خرچ کریں گے اور جہاد کریں گے ان لوگوں کے) جنہوں نے خرچ کیا فتح سے پہلے اور وہ لڑے (راہ حق میں) ایسے لوگ درجہ کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور وہ لڑے اور یوں اللہ نے ان سب سے وعدہ فرما رکھا ہے بھلائی کا اللہ پوری طرح باخبر ہے ان سب کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔

۱۱۔۔۔     کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض تاکہ اللہ اسے اس کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے ایک بڑا ہی عمدہ اجر ہے

۱۲۔۔۔     جس دن کہ تم ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور دوڑ رہا ہو گا ان کے آگے اور ان کے دائیں (اور ان سے کہا جائے گا کہ) خوشخبری ہو تمہیں آج کے دن ایسی عظیم الشان جنتوں کی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہیں طرح طرح کی عظیم الشان نہریں ان میں تم ہمیشہ رہو گے یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔

۱۳۔۔۔     جس روز کہ منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہہ رہے ہوں گے کہ ذرا ہماری طرف بھی نظر کرو تاکہ ہم بھی آپ کے نور سے کچھ فائدہ اٹھا لیں جواب ملے گا کہ اپنے پیچھے لوٹ کر جاؤ اور وہاں کوئی نور تلاش کرو پھر ان کے درمیان حائل کر دی جائے گی ایک ایسی دیوار جس میں ایک دروازہ ہو گا اس کے اندر کی طرف تو رحمت ہو گی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہو گا۔

۱۴۔۔۔     وہ لوگ ایمان والوں کو پکار پکار کر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ وہ جواب دیں گے ہاں ضرور لیکن تم لوگوں نے خود فتنے میں ڈال رکھا تھا اپنے آپ کو تم (موقع اور فرصت کی) تاک میں لگے رہتے تھے تم شک میں مبتلا رہتے تھے اور تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا آرزوؤں نے یہاں تک کہ پہنچا اللہ کا حکم اور تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا اللہ کے بارے میں اس بڑے دھوکے باز نے ۔

۱۵۔۔۔     سو اب نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جو کھلم کھلا کفر کرتے رہے تھے تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری یار (اور تمہارا ٹھکانا) ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

۱۶۔۔۔     کیا وقت نہیں آیا ان لوگوں کے لئے جو (زبانی کلامی) ایمان لائے اس بات کا کہ جھک جائیں ان کے دل اللہ کے ذکر کے آگے ؟ اور اس حق (کی عظمت) کے سامنے جو نازل ہو چکا (ان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے ؟) اور یہ کہ وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی تو سخت ہو گئے ان کے دل اور ان میں زیادہ تر لوگ فاسق ہیں ۔

۱۷۔۔۔     یقین جانو تم (اے لوگوں !) کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مر چکنے کے بعد بے شک ہم نے کھول کر بیان کر دیں تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو

۱۸۔۔۔     بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنہوں نے قرض دیا اللہ (پاک سبحانہ و تعالیٰ) کو اچھا قرض ان کو وہ کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لئے ایک بڑا ہی عمدہ اجر ہے

۱۹۔۔۔     اور جو لوگ (سچے دل سے) ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر یہی لوگ ہیں صدیق اور شہید ان کے رب کے یہاں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہ دوزخی ہیں

۲۰۔۔۔     یقین جانو (اے لوگوں !) کہ یہ دنیاوی زندگی تو محض ایک کھیل اور تماشا ہے اور ایک زیبائش اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا (اس کی مثال ایسے ہی ہے) جیسے بارش برستی ہے اور اس سے اگنے والی پیداوار دل موہ لیتی ہے کافروں کے پھر چندے بعد وہ خشک ہو جاتی ہے تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئی ہے پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ جاتی ہے آخرت میں بڑا سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف ایک عظیم الشان بخشش بھی، اور اس کی رضا بھی، اور دنیاوی زندگی تو دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔

۲۱۔۔۔     (پس) تم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو (اے لوگوں !) اپنے رب کی بخشش اور اس عظیم الشان جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے برابر ہے جسے تیار کیا گیا ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ عطاء فرماتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے ۔

۲۲۔۔۔     جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے خواہ وہ زمین کے (کسی حصے) میں ہو یا خود تمہاری جانوں میں پیش آئے وہ ثبت (و مندرج) ہے ایک عظیم الشان کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں بے شک ایسا کرنا اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں

۲۳۔۔۔     (اور ہم نے یہ تمہیں اس لئے بتلا دیا کہ) تاکہ نہ تو تم لوگ کسی ایسی چیز پر غم کھاؤ جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے اور نہ ہی کسی ایسی چیز پر اترانے لگو جو اللہ تمہیں عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا کسی بھی خود پسند شیخی باز کو

۲۴۔۔۔     جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کوئی اللہ سے منہ موڑے گا تو یقیناً اللہ (کا اس سے کچھ بھی نہیں بگڑے گا کہ وہ یقیناً) ہر کسی سے بے نیاز اور ہر طرح کی خوبی اور حمد کا سزاوار ہے

۲۵۔۔۔     بلاشبہ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو کھلی نشانیوں کے ساتھ اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری اور میزان بھی تاکہ لوگ انصاف قائم کریں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں بہت زور بھی ہے اور لوگوں کے لئے طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی (تاکہ لوگ اس سے طرح طرح سے مستفید ہوں) اور تاکہ اللہ دیکھ لے کہ کون مدد کرتا ہے اللہ کی اور رسولوں کی بن دیکھے بے شک اللہ بڑا ہی قوت والا نہایت ہی زبردست ہے ۔

۲۶۔۔۔     اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا (اس سے پہلے) نوح اور ابراہیم کو پیغمبر بنا کر اور ان ہی دونوں کی نسل میں ہم نے نبوت بھی رکھ دی اور کتاب بھی پھر ان میں سے کچھ تو راہ راست پر رہے مگر ان میں سے زیادہ تر پھر بھی بدکار ہی رہے

۲۷۔۔۔     پھر ان کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد آخر میں ہم نے عیسیٰ بیٹے مریم کو بھیجا اور ان کو انجیل دی اور ان لوگوں کے دلوں میں کہ جنہوں نے آپ کی پیروی کی ہم نے ایک خاص قسم کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور ترک دنیا (رہبانیت) کی وہ بدعت جسے ان لوگوں نے خود ایجاد کر لیا تھا ہم نے ان پر مقرر نہیں کی تھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر ہی ایجاد کیا تھا مگر وہ خود اسے نباہ نہ سکے جیسا کہ اس کے نباہنے کا حق تھا پھر ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوں تو ہم نے ان کا اجر دے دیا مگر ان میں سے زیادہ تر بدکار ہی رہے ۔

۲۸۔۔۔     اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ڈرو تم اللہ سے اور (سچے دل سے) ایمان لاؤ اس کے رسول پر اللہ عطا فرمائے گا تم کو اپنی رحمت سے دوہرا حصہ اور وہ نوازے گا تم کو ایک ایسے عظیم الشان نور سے جس کے ذریعے تم چلو گے (حق و ہدایت کی سیدھی شاہراہ پر) اور (مزید یہ کہ) وہ تمہاری بخشش فرمائے گا اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے ۔

۲۹۔۔۔     (اور ایمان پر یہ انعامات اور ان کی اس طرح پیشگی خبر اس لئے دی جا رہی ہے کہ) تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ ہے اور) مسلمان اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے اور یہ کہ فضل تو بلاشبہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے ۔

تفسیر

۲۔۔  سو اس سے حضرت حق جل مجدہ کی عظمت شان اور کمال قدرت کو واضح فرمایا گیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لئے اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، پس زمین و آسمان کی اس پوری کائنات کا خالق و مالک، اور اس میں حاکم و متصرف، اور بادشاہ حقیقی، وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اور دنیا کے جس خطے اور ملک میں بھی کسی کو حکومت و اقتدار ملتا ہے، وہ اسی کی عطاء و بخشش سے ملتا ہے۔ زندگی و موت بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے، اور جب اس کی ان شوؤں و صفات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہو سکتا ہے؟ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ، اس میں کسی بھی اور ہستی کو کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں اس کا شریک جانتا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے، اور جو اکبر الکبائر اور نارجحیم کا باعث ہے، والعیاذُ باللہ العظیم،

۶۔۔  سو رات اور دن کی آمدو رفت اور ان کے ادلنے بدلنے کا یہ پُر حکمت سلسلہ جو اس قدر پابندی اور باقاعدگی سے جاری و ساری ہے، نہ از خود چلتا ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے اختیار میں ہے، بلکہ یہ سب کچھ اسی وحدہٗ لاشریک کی قدرت و حکمت اور اسی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ و ثمرہ ہے، اور وہ خالق کل اور مالک مطلق ہر چیز کو جانتا ہے، اور پوری طرح جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے احاطہ علم و قدرت سے باہر نہیں ہو سکتی، یہاں تک کہ وہ سینوں کے چھپے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے، پس وہی معبود برحق ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ۔

۷۔۔  سو اس سے ایمان کے دعویداروں کو ایمان کے اصل اور حقیقی تقاضے پورے کرنے کی دعوت دی گئی ہے، کہ ایمان محض زبانی کلامی دعووں سے حاصل ہونے کی چیز نہیں، بلکہ اس کے لئے عملی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، کہ اس کے لئے حسب ضرورت و موقع جان اور مال میں سے جس کی بھی قربانی کی ضرورت پیش آئے، صدق دل سے اس کو دیا جائے سو ایسے لوگوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ سچے دل سے ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کی راہ میں اور اس کی رضا و خوشنودی کے لئے خرچ کرو تم اپنے ان مالوں میں سے جن میں اس نے تم لوگوں کو محض اپنے فضل و کرم سے جانشین بنایا ہے، پس یہ مال جس طرح دوسروں سے منتقل ہو کر تم لوگوں کے پاس آئے ہیں۔ اسی طرح یہ تم لوگوں کے پاس بھی ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ اپنے وقت پر یہ اسی طرح تمہارے ہاتھوں سے نقل ہو کر اوروں کی طرف منتقل ہو جائیں گے، اس لئے تم لوگ اس موقع اور فرصت کو غنیمت جان کر ان کو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کر لو، قبل اس سے کہ یہ تمہارے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کی طرف منتقل ہو جائیں، اور تم ہمیشہ کے خسارے اور دائمی محرومی میں مبتلا ہو جاؤ، والعیاذ باللہ جل وعلا، پس جو لوگ تم میں سے سچے دل سے ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ بھی کیا ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

۹۔۔  سو دین حنیف کی یہ نعمت عظمیٰ اور اس کی یہ تعلیمات مقدسہ جن سے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے تم لوگوں کو نوازا ہے، اس کی بہت بڑی رحمت و عنایت ہے جس سے اس نے تمہیں سرفراز فرمایا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے وہ تم لوگوں کو طرح طرح کے گمبھیر و گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ایمان و یقین اور نقاء و صفائے باطن کے نور اور اجالے کی طرف لے آئے ظلمات یعنی اندھیروں میں کفر و باطل کے وہ گمبھیر اندھیرے بھی داخل ہیں جو کہ انسان کے لئے دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہیں۔ لیکن یہاں پر قرینہ مقام اور سیاق و سباق کی دلیل کی بناء پر ان ظلمات سے مراد شہوات نفس اور حب دنیا کی وہ تاریکیاں ہیں، جو انسان کو راہِ راست سے ہٹا دیتی ہیں، اور ان کا علاج اور واحد علاج انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے خرچ کرنا ہے۔ اسی بناء پر یہاں پر نور سے مراد وہ خاص نور ہے جو مومن صادق کے قلب و باطن میں انفاق فی سبیل اللہ سے پیدا ہوتا ہے، اور جس کا ذکر آگے آیت نمبر۱۲ میں آ رہا ہے۔ اور جس کے نتیجے میں اس کا مال و دولت اس کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ بن جاتا ہے وباللہ التوفیق لما یحب و یرید، وعلی ما یحب و یرید، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ،

۱۲۔۔  سو اس سے ان مومنین صادقین کے صلہ و ثمرہ کے بعض اہم پہلوؤں کو واضح فرما دیا گیا جو صدق و اخلاص کے ساتھ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے تھے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز یعنی قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا یوم عظیم ہو گا، اس دن تم دیکھو گے کہ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کا نور یعنی ان کا وہ نور جو کہ ان کو ان کے صدق ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کے صلے میں نصیب ہو گا، وہ ان کے آگے اور ان کے دائیں چل رہا ہو گا اور ان کے سرور کو دو بالا کرنے کے لئے ان سے کہا جا رہا ہو گا، کہ خوشخبری ہو آپ لوگوں کو ایسی عظیم الشان جنتوں کی جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہیں۔ جہاں آپ لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا نصیب ہو گا، اور یہ بشارت صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خوشخبری فرشتوں کے ذریعے ان کو دی جائے، اور پھر فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے بڑی کامیابی یعنی جو کہ اصل حقیقی اور اَبَدی کامیابی ہے نہ کہ دنیائے دُوں کی وہ عارضی اور فانی کامیابیاں جن پر ابنائے دنیا مست و مگن ہیں اور جن کے حصول کے لئے وہ رات دن ایک کئے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ سب کچھ عارضی فانی اور وقتی ہے، پس جن لوگوں کو دنیاوی مال ودولت نصیب ہو ان کو چاہیے کہ وہ اس کو اسی راہ میں صرف کریں کہ یہی تقاضائے عقل و نقل اور موجب اجر ہے لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ، اللہ توفیق بخشے آمین ثم آمین یا ربَّ العالمین۔

۱۳۔۔  سو اہل ایمان کے حال کو بیان کرنے کے بعد اس ارشاد سے ان منافقوں کا حال بیان فرمایا گیا ہے جو کہ دنیا میں اپنی منافقت کو اپنی بڑی ہوشیاری اور چالاکی سمجھا کرتے تھے سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں منافق مرد اور منافق عورتیں اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں گے، کیونکہ دنیا کے دارالعمل میں صدق ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کی وہ دولت انہوں نے کمائی تھی ہی نہیں، جس کے نتیجے میں ان کو وہاں پر روشنی نصیب ہوتی، اس لئے وہاں کے ہولناک اندھیروں میں ڈوبے جب وہ سچے اور مخلص ایمانداروں کو دیکھیں گے کہ وہ اس عظیم الشان روشنی سے سرشار و سرفراز ہیں، جو ان اندھیروں میں ان کی راہنمائی کر رہی ہے، تو وہ نہایت حسرت و لجاجت کے ساتھ ان سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہماری طرف بھی دیکھئے تاکہ ہم بھی آپ کی روشنی سے کچھ فائدہ اٹھا سکیں، تو وہ اس کے جواب میں ان سے کہیں گے کہ پیچھے پلٹ کر روشنی تلاش کرو۔ مطلب یہ کہ اس روشنی کے حصول کی جگہ اور اس کے موقع و مقام کو تم لوگ پیچھے چھوڑ آئے ہو، یعنی دنیا میں، اب اس کے پانے کا موقع کہاں اور کیسے نصیب ہو سکتا ہے؟ اب تمہارے لئے یاس و حسرت اور ندامت و محرومی کے سوا کچھ بھی نہیں، کہ کسب و اکتساب کا موقع دنیاوی زندگی کی فرصت ہی میں تھا جس کو تم لوگوں نے کفر و نفاق میں ضائع کر دیا، اب اس کا موقع کہاں اور کیسے نصیب ہو سکتا ہے؟ پس اب تمہارے لئے ہمیشہ کی ندامت و محرومی اور دائمی عذاب کے سوا کچھ نہیں۔ اس جواب کے فوراً بعد ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی، جس میں صرف ایک دروازہ ہو گا جس کے اندر کے حصے میں رحمت ہی رحمت ہو گی، اور اس کے باہر والی جانب میں عذاب ہی عذاب ہو گا، اہل ایمان اس کے رحمتوں والے حصے میں چلے جائیں گے، اور اہل کفر و نفاق عذاب کے حصے میں، اور وہ اس کی تاریکی میں گھر جائیں گے، والعیاذُ باللہ العظیم، اور اس طرح ان کے درمیان ہمیشہ کے لئے علیحدگی اور جدائی واقع ہو جائے گی۔ اور منافق لوگ اپنے کفر و نفاق کے نتیجے میں ہمیشہ کے عذاب اور دائمی خسارے میں مبتلا ہو جائیں گے، والعیاذُ باللہ جل وعلا،

۱۵۔۔  سو اس سے ایک تو اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا یا کہ منافقت اور کھلا کفر دونوں ایک برابر ہیں، اور دونوں کا نتیجہ و انجام دوزخ ہی ہو گا، والعیاذُ باللہ، نفاق والے ایمان اور اس کے لئے محض زبانی کلامی دعووں کا اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ کوئی وزن ہے نہ کوئی قدر و قیمت، اس لئے اس روز ان منافقوں سے کہا جائے گا کہ اب نہ تم لوگوں سے کسی طرح کا کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ دوسرے کھلے کافروں سے، تم دونوں گروہ ایک برابر ہو۔ اس لئے تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تم سب کا ماویٰ و ملجا اور دائمی ٹھکانا ہے، اب تمہارے لئے اس سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہو سکتی، تم نے ہمیشہ اسی میں رہنا ہے اب نہ تمہارے لئے خداوند قدوس کے یہاں رسائی اور داد و فریاد کی کوئی گنجائش ہو سکتی ہے اور نہ ہی تمہارے لئے اب کسی طرح کی شنوائی کا کوئی موقع و امکان ہے، اب تم سب کا مرجع اور ٹھکانا بہر حال دوزخ ہے، تم جو کچھ پاؤ گے اسی سے پاؤ گے اس سے نکلنے اور چھٹکارا پانے کی تمہارے لئے اب کوئی صورت ممکن نہیں اور یہ سب اس لئے کہ تم کو اس صورت حال سے پوری طرح آگاہ کر دیا گیا تھا، اور تم پر حجت پوری کر دی گئی تھی، مگر تم نے پھر بھی راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر کفر و نفاق کی راہ کو اپنایا تھا، والعیاذُ باللہ العظیم

۱۶۔۔  اس آیت کریمہ میں لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد وہی منافقین ہیں، جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے، اور جن کا روّیہ یہاں پر زیر بحث ہے، وہ چونکہ زبانی کلامی طور پر ایمان کے دعویدار تھے اس لئے ان کا یہاں پر اسی صفت سے ذکر فرمایا گیا، اور ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے متعلق ارشاد فرمایا گیا، کہ کیا ان لوگوں کے لئے اس بات کا وقت نہیں آیا، کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کے ذکر اور اس حق کے آگے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو چکا ہے، یعنی قرآن حکیم کے آگے، جو کہ عظیم الشان ذکر بھی ہے، اور صاف و صریح حق بھی، یعنی جب دعوت حق کی صداقت و حقانیت اور اس کے غلبہ کے اتنے آثار اور دلائل و شواہد نمایاں ہو چکے ہیں، تو ان کو حق کے آگے صدق دل سے جھک جھک جانا چاہیئے، نہیں تو ان کا حال بھی ان یہود کی طرح ہو جائے گا جو ان سے پہلے گزر چکے کہ وہ بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات میں پڑے رہے، یہاں تک کہ اسی حالت میں ان پر ایک مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ایسے اور اس حد تک کہ ان کے اندر سے حق کی روئیدگی کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی، اور قانون قدرت کے مطابق ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محرومی اور ہلاکت کا شکار ہو گئے، پس ان مدعیان ایمان کو حق کے آگے صدق دل سے جھک جانا چاہیئے، ورنہ ان کا حال بھی وہی ہو گا جو ماضی کے ان بدبختوں کا ہو چکا، کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بے لاگ اور سب کے لئے یکساں ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، سو اللہ تعالیٰ کے حضور صدق دل سے رجوع ہونا، اور رجوع رہنا ہی باعث سعادت اور ذریعہ فوز و فلاح ہے اس علیم بذات الصدور کے یہاں صرف ظاہر داری سے کام نہیں چل سکے گا، بلکہ اس کے یہاں ظاہر و باطن دونوں اور ظاہر سے پہلے باطن کا معاملہ درست ہونا چاہیئے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید، وعلی مایُحِبُّ و یرید، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ مِّن المواطن فی الحیاۃ،

۲۰۔۔  اس آیت کریمہ میں ان ابنائے دنیا کی تنبیہ و تذکیر کے لئے دنیا کی بے ثباتی کو واضح فرمایا گیا ہے، جو اسی پر ریجھے ہوئے ہیں، اور وہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ دنیا کی زندگی یعنی اس کے لہو و لعب، زیب و زینت، اور مال و اولاد کی تکثیر، اور اس کے لئے دوڑ بھاگ اور معیار زندگی کو ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند کرنے کی کوششیں وغیرہ کوئی خوش انجام چیز نہیں، بلکہ یہ سب کچھ محض دھوکے کا سامان ہے، اس کی مثال تو ایسے ہے جیسے اچھی بارش ہو، اور اس کے نتیجے میں فصل خوب لہلہا اٹھے، اور اس کو دیکھ کر تنگ ظرف ابنائے دنیا لوگ پھولے نہ سمائیں، مگر کچھ ہی دیر بعد وہ پک کر زرد پڑ جائے، اور آخرکار وہ چورا چورا ہو کر رہ جائے۔ سو یہی حال ابنائے دنیا کی ان سرگرمیوں کا ہونے والا ہے، جن کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات بنا رکھا ہے۔ کہ دنیا کی یہ سب زیب و زینت، اور تمام سامان ہائے عیش و عشرت، محض وقتی، عارضی، اور چند روزہ سامان ہے اور بس، سو اس پر ریجھ کر آخرت کی اپنی اصل حقیقی اور اَبَدی زندگی کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ ُباللہ العظیم

 یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں کہ دنیاوی زندگی ختم ہو جائے اور جان چھوٹ جائے بلکہ اصل معاملہ تو اس کے بعد آخرت اور وہاں کی حقیقی اور اَبَدی زندگی کا ہے اور وہاں پر دو میں سے ایک بات سے لازماً واسطہ پڑنا ہے کہ وہاں پر ایک طرف تو عذاب شدید ہو گا، والعیاذُ باللہ، اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی رضا و خوشنودی ہو گی، پس جن لوگوں نے آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو بھلا کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیائے دُوں کے وقتی فائدوں اور اس کی مادی لذات ہی کو اپنا مقصد اور نصب العین بنایا ہو گا۔ ان کو وہاں پر عذاب شدید کا بھگتان بھگتنا ہو گا، جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے والعیاذُ باللہ، اور اس کے برعکس جنہوں نے دنیا کے مادی فوائد و منافع اور وقتی لذّات کو پس پشت ڈال کر آخرت کی کامیابی ہی کو اپنا اصل مقصد بنایا ہو گا، ان کو وہاں پر اپنے خالق و مالک کی طرف سے مغفرت و بخشش اور اس کی رضا و خوشنودی کی سعادت سے سرفرازی نصیب ہو گی، جو کہ اصل حقیقی دائمی اور سدا بہار کامیابی اور ہمیشہ کے آرام و راحت کی ضامن ہو گی، پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ آخرت اور وہاں کی کامیابی ہی کو اپنا اصل مقصد بنایا جائے، نہ کہ دنیائے فانی کے متاع فانی اور اس کے حُطامِ زائل کو کہ متاع دنیا دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور نفس و شیطان کے ہر دھوکے سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، یہاں پر یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ مذمت اسی صورت میں ہے جبکہ یہ آخرت سے غفلت کا باعث بنے کہ اس صورت میں یہ واقعی بڑے ہولناک خسارے کا باعث ہے، لیکن جب اس کو آخرت کی کمائی اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ بنایا جائے تو اس صورت میں یہ نہ صرف یہ کہ مذموم نہیں بلکہ محمود و مطلوب ہے، کہ اس صورت میں یہ آخرت کی کمائی کے لئے کھیتی اور سراسر خیر بن جاتی ہے۔ سو اصل چیز اور بنیادی حقیقت اس بارے میں انسان کی اپنی نیت اور اس کا ارادہ ہے، کہ وہ دنیا و آخرت دونوں میں سے ترجیح کس کو دیتا ہے، مقدم کس کو سمجھتا ہے اور موخر کس کو رکھتا ہے، قرآن حکیم میں اس اہم اور بنیادی حقیقت کو مختلف مقامات پر طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید،

۲۲۔۔  یہاں پر فِی الْاَرْضِ کے الفاظ سے ان مصیبتوں اور آفتوں کی طرف اشارہ ہے جو زمین کی پیداوار کو لاحق ہوتی ہیں، اور فِیْ اَنْفُسِکُمْ سے مراد وہ تکالیف و مصائب ہیں جو انسان کے جسم و جان کو لاحق ہوتی ہیں۔ والعیاذُ باللہ العظیم۔ اور اس دنیا میں انسان کو جو بھی مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں وہ انہی دو راستوں سے پیش آتی ہیں سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو ان دونوں راستوں سے جو بھی کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے، وہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک عظیم الشان کتاب میں ثبت و مندرج ہے، پس انسان کے لئے نہ یہ جائز ہے کہ وہ اللہ سے اپنے مال کو چرائے، اور نہ ہی اس کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اس سے اپنی جان کو چرانے کی کوشش کرے، کہ یہ سب کچھ اسی کا دیا بخشا، اور اسی کی رحمت و عنایت سے باقی و محفوظ ہے، ورنہ انسان از خود ان میں سے کسی بھی چیز کو خداوند قدوس سے بچانے پر قادر نہیں۔ اور یہ حقیقت تم لوگوں کو ہمیشہ یاد اور اپنے پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ تم کو جانی اور مالی جو بھی کوئی مصیبت پیش آنی ہے وہ بہر حال پیش آ کر رہے گی، اس سے از خود بچنا اور نکل بھاگنا کسی کے لئے ممکن نہیں، ہر دکھ اور سکھ کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی ایک عظیم الشان کتاب میں لکھ رکھا ہے اور کسی کے بس میں نہیں کہ وہ نوشتۂ تقدیر کو بدل سکے۔ بس کسی انسان کو کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے، کہ جو بھی کوئی مال و دولت اس کو حاصل ہے وہ اس کی اپنی تدبیر کا نتیجہ ہے، اور نہ ہی کسی کو اس طرح کی کسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا چاہیے کہ اس کو زندگی کی جو عظیم الشان نعمت عطاء ہوئی ہے اس کا محافظ وہ خود ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی عطاء و بخشش، اور اسی کی رحمت و عنایت، اور حفظ امان کا نتیجہ و ثمرہ ہے، سبحانہ و تعالیٰ۔ پس انسان کے ذمے لازم ہے کہ وہ اس اہم اور بنیادی حقیقت کا احساس و اعتراف کرتے ہوئے، ایک طرف تو ہمیشہ اس کے ذکر و شکر سے سرشار رہے، اور دوسری طرف وہ اسی سے اپنے لئے حفظ و امان کی دعا و درخواست کرتا رہے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید، وعلیٰ مایُحِبُّ و یرید، بکل حالٍ من الاحوال

 یعنی تم لوگ تو اپنے محدود علم و ادراک کی وجہ سے اس کا تصور نہیں کر سکتے کہ ایک ایک فرد کی زندگی میں جو بھی کچھ پیش آتا ہے وہ کس طرح ایک کتاب میں محفوظ و مندرج ہو سکتا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے اعتبار سے یہ کچھ بھی مشکل نہیں، وہ اپنی اس پوری کائنات کا خالق و مالک بھی ہے۔ اور اس کا علم بھی اس پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کو محیط ہے، وہ ہر ایک کے بارے میں جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ وہ کن کن مزاحم سے ہوتا ہوا کس منزل تک پہنچے گا۔ پس اس کے لئے ہر ایک کے احوال کو ایک کتاب میں مندرج کر دینا کچھ بھی مشکل نہیں، اس لئے اس نے ہر کسی کے زندگی بھر کے کئے کرائے کو پوری طرح محفوظ کر رکھا ہے، جو قیامت کے یوم حساب میں پورے کا پورا اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا تاکہ وہ اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پاس کے، اور عدل و انصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکیں، اس لئے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح اور صاف رکھنے کی ضرورت ہے وباللہ التوفیق لما یحب و یرید، وعلی ما یحب و یرید، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے، اور ہر قدم اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں ہی پر اٹھانے کی توفیق بخشے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،

۲۶۔۔  سو اس سے تمام انبیاء و رسل کرام کی بعثت و تشریف آوری کی اصل غرض و غایت کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ اور اس سے متعلق ان کی اولاد و ذریت کے رویے اور ان کی روش کو بھی واضح فرما دیا گیا، چنانچہ اس سے اول تو اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاء و رسل مبعوث فرمائے ان سب کی بعثت و تشریف آوری کا اصل مقصد اور اس کی حقیقی اور بنیادی غرض و غایت یہ تھی کہ لوگوں کے درمیان عدل و قسط قائم ہو۔ اسی لئے ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری گئی اور میزان عدل و قسط بھی اور آگے ان کی اولاد میں بھی نبوت و کتاب کی دولت رکھ دی گئی۔ تاکہ اس سے وہ ہدایت و راہنمائی حاصل کریں۔ لیکن آگے ان کی نسل میں سے کچھ نے تو ان کی ہدایت کے مطابق راہ حق کو اپنایا لیکن ان کی اکثریت راہ حق و ہدایت سے منحرف اور فاسق و بدکار ہی رہی اور وہ راہ حق و ہدایت سے ہٹ کر اپنی اہواء ہی کے پیچھے چلتی رہی۔ یہاں پر حضرات رسل کرام میں سے نام کی تصریح کے ساتھ صرف دو ہی ہستیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ایک حضرت عیسیٰ کہ ان کی حیثیت آدم ثانی کی ہے اور دوسرے ابوالانبیاء حضرت ابراہیم کہ آپ بنو اسرائیل اور بنو اسماعیل کی دونوں شاخوں اور ان کے اندر مبعوث ہونے والے تمام انبیاء و رسل کے جدِّ امجد اور ان کے مورثِ اعلیٰ تھے۔ اس لئے ان دونوں حضرات کے ذکر سے گویا تمام ہی انبیاء و رسل کا ذکر ہو گیا۔ علی نبینا وعلی سائرہم الصلوٰۃ والسلام۔

۲۹۔۔  سو ان دونوں میں سے پہلی آیت کریمہ میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد نصاریٰ ہی کے وہ اہل ایمان ہیں جن کا ذکر اوپر فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے، یعنی جب بات ان کے ذکر تک پہنچ گئی تو انہی کے حوالے سے موجودہ دور کے ان نصاریٰ کو نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان کی دعوت کی گئی ہے، سو ان میں سے جن کے اندر ایمان کی رمق موجود تھی ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو (یعنی اپنے پیغمبر حضرت عیسیٰ پر) تم لوگ اللہ سے ڈرو۔ اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر (یعنی اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر) اس پر اللہ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے بھی دے گا، اور تم کو ایک ایسے عظیم الشان نور سے سرفراز فرمائے گا، جس کے ساتھ تم لوگ چلو گے۔ اور وہ تمہاری بخشش بھی فرمائے گا، کہ وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے پس تم لوگ نبی آخر الزمان پر ایمان لا کر اپنے لئے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرو۔ اور ان حاسد یہود کو ان کے اس حسد میں چلنا چھوڑ دو، جس میں وہ نبی اُمّی اور ان پر ایمان لانے والوں کی عداوت کی بناء پر مبتلا ہیں جس کا اصل باعث ان لوگوں کا یہ زعم باطل اور جھوٹا گھمنڈ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے نسلی تفاخر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا اجارہ دار سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ کا فضل اسی کے ہاتھ میں ہے وہ اس سے جس کو چاہے نواز دے سبحان اللہ تعالیٰ وبہٰذا قد تم التفسیر المختصر لسورۃ الحدید۔