تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الطّلاَق

(سورۃ الطلاق ۔ سورہ نمبر ۶۵ ۔ تعداد آیات ۱۲)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     اے نبی جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو ان کو طلاق دیا کرو ان کی عدت کے لئے اور اچھی طرح شمار کیا کرو عدت (کے زمانے ) کو اور (ہمیشہ) ڈرتے رہا کرو تم لوگ اللہ سے جو کہ رب ہے تم سب کا نہ تو تم ان (عورتوں ) کو ان کے گھروں سے نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ ارتکاب کر بیٹھیں کسی کھلی بے حیائی کا اور یہ حدیں ہیں اللہ کی (مقرر کی ہوئی) اور جو کوئی تجاوز کرے گا اللہ کی (مقرر کردہ ان) حدود سے تو وہ یقیناً خود اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا تم نہیں جانتے (اے طلاق دینے والے ) کہ شاید اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے اس (طلاق) کے بعد (بہتری اور موافقت کی) کوئی صورت

۲۔۔۔     پھر جب وہ پہنچ جائیں اپنی مدت (کے خاتمے ) کو تو پھر تم یا تو ان کو روک رکھو (اپنے عقد نکاح میں رجوع کے ذریعے ) دستور کے مطابق یا ان کو چھوڑ دو دستور کے مطابق اور گواہ بنا لیا کرو تم لوگ (ایسے ہر موقع پر) اپنے میں سے دو معتبر شخصوں کو اور تم اپنی گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ (کی رضا) کے لئے ادا کیا کرو (اے گواہو!) ان باتوں کی نصیحت کی جاتی ہے ہر اس شخص کو جو (سچے دل سے ) ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جو کوئی (سچے دل سے ) ڈرتا رہے گا اللہ سے تو وہ اس کے لئے پیدا فرما دے گا (مشکلات سے ) نکلنے کا راستہ

۳۔۔۔     اور وہ اس کو وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہو گا اور جو کوئی (صحیح معنوں میں ) بھروسہ کرے گا اللہ پر تو وہ اس کو کافی ہے (تمام مہمات کے لئے ) بے شک اللہ پورا کر کے رہتا ہے اپنا کام یقیناً اللہ نے مقرر فرما رکھا ہے ہر چیز کا ایک خاص اندازہ

۴۔۔۔     اور جو عورتیں مایوس ہو جائیں حیض (کے آنے ) سے تمہاری عورتوں میں سے اگر تمہیں ان کے بارے میں شک پڑ جائے تو (جان لو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن عورتوں کو ابھی تک حیض آیا ہی نہ ہو (ان کا حکم بھی یہی ہے ) اور حمل والی عورتوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو کوئی ڈرتا رہے گا اللہ سے تو اللہ آسانی پیدا فرما دے گا اس کے لئے ہر معاملے میں

۵۔۔۔     یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے اتارا ہے تمہاری طرف (اے لوگو!) اور جو کوئی ڈرتا رہے گا اللہ سے تو اللہ دور فرما دے گا اس سے اس کی برائیوں کو اور (مزید یہ کہ) وہ اس کو عطا فرمائے گا بہت بڑا اجر

۶۔۔۔     تم ان مطلقہ عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اس طرح تم ان پر تنگی کرو اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ وضع کر لیں اپنے حمل کو پھر اگر وہ تمہارے لئے (بچے کو) دودھ پلائیں تو تم ان کو ان کی (مقرر کردہ) اجرتیں دے دیا کرو اور آپس میں مناسب طور پر مشورہ کر لیا کرو اور اگر تم آپس میں تنگی کرو گے تو اس کے لئے کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی

۷۔۔۔     گنجائش والے کو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اپنی گنجائش کے مطابق اور جس پر اس کی روزی تنگ کر دی گئی ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ (اپنی حیثیت کے مطابق) اسی میں سے خرچ کرے جو کہ اللہ نے اسے دے رکھا ہے اللہ کسی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اتنا ہی جتنا کہ اس نے اسے دے رکھا ہوتا ہے بعید نہیں کہ اللہ پیدا فرما دے (اپنی عنایت سے ) تنگی کے بعد آسانی

۸۔۔۔     اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جنہوں نے سرکشی (و سرتابی) کی اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں (کی ہدایات) سے سو آخرکار ہم نے ان کا محاسبہ کیا بڑا ہی سخت محاسبہ اور ہم نے ان کو سزا دی (طرح طرح کے عذابوں ) سے بڑی بری سزا

۹۔۔۔     سوانہوں نے چکھا وبال اپنے کئے کا اور انجام کار ان کا معاملہ بڑے ہی خسارے (اور سخت نقصان) کا تھا

۱۰۔۔۔     (اور دنیا کے اسی عذاب پر بس نہیں بلکہ) اللہ نے تیار کر رکھا ہے ان کے لئے (آخرت میں ) ایک بڑا ہی سخت (اور ہولناک) عذاب پس بچو تم لوگ اللہ (کی نافرمانی اور اس کی ناراضگی) سے اے عقل سلیم رکھنے والو جو ایمان لا چکے ہو بلاشبہ اللہ نے اتار دی تمہاری طرف ایک عظیم الشان نصیحت

۱۱۔۔۔     یعنی ایک ایسا عظیم الشان رسول جو پڑھ (پڑھ) کر سناتا ہے تم لوگوں کو اللہ کی ایسی آیتیں جو کھول کر بتانے والی ہیں تاکہ وہ نکال باہر کرے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے (کفر و شرک اور جہل و ضلال کی طرح طرح کی گھٹا ٹوپ) تاریکیوں سے (حق و ہدایت کے ) نور (مبین) کی طرف اور جو کوئی (سچے دل سے ) ایمان لائے گا اللہ پر اور (اس کے مطابق) وہ نیک کام بھی کرے گا تو اللہ داخل فرما دے گا اس کو (اپنے کرم سے ) ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی (عظیم الشان) نہریں جہاں ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے رہنا نصیب ہو گا بے شک اللہ نے اس کو بڑے ہی عمدہ رزق سے نوازا

۱۲۔۔۔     اللہ وہ ہے جس نے پیدا فرمایا (اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے ) سات آسمانوں کو اور زمین سے بھی انہی کے مانند ان سب کے درمیان اتر تے رہتے ہیں اس کے احکام (تکوینی و تشریعی اور تمہیں یہ اس لئے بتا دیا گیا ہے کہ) تاکہ تم لوگ یقین جان لو کہ اللہ (پاک) ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور (تا کہ تم لوگ اس کا بھی یقین کر لو کہ) بلاشبہ اللہ نے ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے علم کے اعتبار سے

تفسیر

 

۱۔۔۔     ۱:ان آیات کریمات کے ذریعہ طلاق سے متعلق پائے جانے والے طرح طرح کے ان ہولناک مفاسد کی اصلاح فرمائی گئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں عام تھے۔ اور جن کا عذاب عورتوں کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اور اس صنف نازک کا کوئی فریاد رس اور پُرسان حال نہیں تھا جب کسی کو غصہ آگیا تو اس نے فوراً طلاق کی گن کھول دی اور ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے ڈالیں، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سو سو اور ہزار ہزار طلاقیں دے ڈالیں۔ اور اس پر مزید ظلم یہ کہ اس کو گھر سے بھی نکال باہر کر دیا۔ کہ جب طلاق ہو گئی تو پھر اس کے اخراجات کا بوجھ کیوں برداشت کیا جائے، اور اس طرح خاندانوں کے خاندان اجڑ جاتے، اور اس کے نتیجے میں مرد، عورت، اور بچوں، وغیرہ سب کو طرح طرح کے مصائب جھیلنے پڑتے تو ایسے میں دین حنیف کی رحمتوں بھری تعلیمات نے لوگوں کو ایسے گوناگوں مصائب سے نجات دلائی۔ اور ان کو ایسی مقدس تعلیمات سے نوازا، اور سرفراز فرمایا، جو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق۔ اور قیامت تک سب دنیا اور تمام انسانیت کو راہ حق و ہدایت سے سرفراز کرنے والی ہیں جن میں سب کے حقوق کی رعایت فرمائی گئی ہے، اور ایسی اور اس طور پر کہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہونے پائے، خاص کر حنیف نازک جن زیادتیوں اور حق تلفیوں کا شکار ہو رہی تھی ان سے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارا مل گیا، و الحمد للہ جل و علا، پھر یہاں پر انداز خطاب کی ندرت کے اس پہلو کو بھی ملاحظہ کیا جائے کہ سورہ کریمہ کا آغاز تو پیغمبر کے خطاب سے فرمایا گیا ہے لیکن اس کے معاً بعد اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ وغیرہ کے صیغے جمع کے لائے گئے ہیں جس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں پر خطاب پیغمبر سے شخصاً نہیں، بلکہ ان کے وکیل امت ہونے کی حیثیت سے ہے البتہ جو احکام اور ہدایات دی جا رہی ہیں وہ ساری امت، اور تمام مسلمانوں کے لئے ہیں، اور پیغمبر کو خطاب کر کے ان کو ارشاد فرمانے سے ان کی عظمت و اہمیت کو واضح فرما دیا گیا، کہ جب ان پر بھی ان کی پابندی لازم ہے تو پھر دوسروں پر تو ان کی پابندی اور بھی زیادہ شدت سے لازم ہو گی۔ کہ انکی پابندی میں سب ہی کا بھلا اور فائدہ ہے،

۲:  یہاں پر دو اصولی ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلق یہ ہدایات کوئی معمولی چیز نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں جن میں سراسر بندوں ہی کا بھلا اور فائدہ ہے، کہ ان میں سب کے مصالح اور حقوق کی رعایت ہے خواہ وہ انفرادی اور شخصی نوعیت کے ہوں، اور خواہ عائلی اور اجتماعی نوعیت کے، اس لئے جو ان حدود کو پھلانگے گا وہی نقصان اٹھائے گا، اور وہ خود اپنی ہی جان پر ظلم کرے گا، اور دوسری خاص ہدایت اس موقع پر یہ فرمائی گئی کہ کوئی نہیں جانتا کہ شاید اللہ تعالیٰ کوئی ایسی بات پیدا کر دے جس سے طرفین کی بہتری اور ان کا بھلا ہو جائے، کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف کے بعد موافقت اور ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہو جائے، اور ان دونوں کا بگاڑ ختم ہو جائے، سو اس ہدایت کا تعلق اوپر ذکر فرمائے گئے اس حکم و ارشاد سے ہے کہ نہ تم لوگ ان طلاق یافتہ عورتوں کو عدت کے دوران ان کے گھروں سے نکالو، اور نہ ہی وہ خود نکلیں کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد بہتری کی کوئی صورت پیدا فرما دے، سبحانہ و تعالیٰ، سو اللہ تعالیٰ او امر و ارشادات کی پابندی وپاسداری میں سراسر لوگوں ہی کا بھلا اور فائدہ ہے، و باللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید، وعلی مایُحِبُّ و یرید، بکل حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ مِّن المواطن فی الحیاۃ،

۲۔۔۔   یعنی یہ ہدایات جو اوپر ارشاد فرمائی گئی ہیں، یہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان کا تقاضا اور اس کے لازمی نتائج میں سے ہیں، اس لئے جو لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، ان پر لازم ہے کہ وہ ان کو حرز جان بنائیں اور انکو صدق دل سے اپنائیں ورنہ ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان کا دعوی بے معنی ہو کر رہ جائے گا والعیاذ باللہ العظیم۔

۳۔۔۔     ۱:سو اس سے تقویٰ و پرہیزگاری کی افادیت، اور اس کی عظمت شان اور اس کی برکات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، کہ اس سے انسان کے لئے مشکلات سے نکلنے کے راستے کھلتے ہیں، کہ ایسوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت کی سعادت نصیب ہوتی ہے گھریلو معاملات اور خاص کر بیوی خاوند کے باہمی تعلقات کو استوار کرنے اور درست رکھنے والی اصل چیز خدا خوفی ہی ہوتی ہے، ورنہ اور کسی کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ اس لئے یہاں پر اس سلسلے میں تقوی ہی پر ابھارا گیا ہے نیز جیسا کہ اوپر بھی اشارہ کیا گیا طلاق دینے کے بعد عورتوں کو گھروں سے نکال دینے کے پیچھے ان لوگوں کا یہی خوف و خدشہ کار فرما تھا کہ اس کے بعد ان کے نان و نفقہ کا بوجھ کیوں اور کیسے اٹھایا جائے؟ تو ایسوں کو اطمینان دلانے کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی اور پاسداری کی خاطر اس بوجھ کو برداشت کرو گے، تو وہ تمہیں وہاں سے رزق و روزی سے نوازے گا، جہاں سے تمہیں اس کا گمان بھی نہیں ہو گا، کہ اس کی رحمت و عنایت اور رزق و روزی کے دروازے اتنے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کا علم انسان کو اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اس کے سامنے کھلتے ہیں تب وہ حیران ہو جاتا ہے کہ خدا کی مدد اور اس کی رحمت اس کے لئے وہاں سے نمودار ہوئی جس کا کبھی اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اَللّٰہُمَّ اَرْزُقْنَا التوفیق لذالک۔

۲:  سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے سرفرازی کے لئے شرط صرف یہ ہے کہ بھروسہ بہر حال اللہ ہی پر رکھا جائے، جو صدق دل سے اس پر بھروسہ و اعتماد رکھے گا وہ ضرور اس کی دستگیری فرمائے گا، اور ایسی کہ کسی کو اس کا گمان بھی نہیں ہو گا، کیونکہ وہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں بلکہ اسباب و وسائل اس کے حکم و ارشاد اور اس کے ارادہ و اشارہ کے تابع ہیں سبحانہ و تعالیٰ لیکن اس ضمن میں یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ جس طرح اس قادر مطلق نے ہر چیز کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، اسی طرح اس نے اپنی نصرت و امداد کے ظہور کے لئے بھی ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس سے اصل مقصود بندے کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے بندے کو اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اطمینان رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے وقت پر بہر حال پورا ہو گا، اس میں دیر اگر ہو گی تو اتنی ہی ہو گی جتنی کہ اس کے امتحان کے لئے ضروری ہے، اور یہ امتحان اسی کے بھلے کے لئے ہوتا ہے اَللّٰہُمَّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْنَا اِلیٰ مَافِیْہِ حُبُّکَ وَ الرضا بِکُلِّ حالٍ من الاحوال، وفی کل موطنٍ من المواطن فی الحیاۃ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیا دی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جو کوئی صدق دل سے اللہ پر بھروسہ رکھے گا اللہ اس کو کافی ہے، اور جس کو اللہ تعالیٰ کی کفایت نصیب ہو جائے، اس کو اور کیا چاہیئے؟ کہ اللہ تعالیٰ تو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے، اور سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ،

۷۔۔۔   اس آیت کریمہ میں ایک تو بطور قاعدہ کلیہ یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی گنجائش سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ بلکہ وہ اس کو اتنا ہی مکلف قرار دیتا ہے جتنا کہ اس نے اس کو دیا ہوتا ہے، پس کشادہ دست اور خوشحال انسان کو اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا ہو گا۔ اور تنگ دست انسان کو اپنی حیثیت کے مطابق لہٰذا نہ تو کشادہ دست اور خوشحال انسان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان عورتوں کو اپنے سے فروتر حال میں رکھے، اور نہ ہی غریب اور تنگدست پر اس کی حیثیت و مقدرت سے بڑھ کر بوجھ ڈالا جائے گا، سو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص پر اس کی حیثیت کے مطابق ہی ذمہ داری ڈالی ہے اور دوسری بات یہاں پر غریبوں کے لئے برسر موقع بطور تسلیہ و تسکین کے لئے یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اگر وہ اپنی حالت پر قانع و صابر رہیں گے اور اپنی تنگدستی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود کی پابندی اور ان کو قائم رکھنے کا اہتمام و التزام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے تنگی کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا، جو لوگ غربت اور احتیاج کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ایثار و قربانی سے کام لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں برکت دیتا ہے اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

۹۔۔۔   ان دونوں آیتوں میں تاریخ کے حوالے سے منکرین و مکذبین کو تنبیہ و تذکیر فرمائی گی ہے کہ کتنی ہی قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں کی ہدایات سے سرکشی و سرتابی کی جس پر ان کو ڈھیل تو ملی جتنی ڈھیل کہ ان کے رب نے ان کے لئے مقرر فرما رکھی تھی لیکن آخرکار اس نے ان سب کو پکڑا ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو بڑے ہی ہولناک عذاب میں پکڑا، ان کو اپنی سرکشی کا انجام بھگتنا پڑا، اور ان کا انجام بڑے ہی خسارے کا تھا۔ اور یہ اس لئے کہ نجات و فلاح کی راہ وہی ہے اور وہی ہو سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بتائی جائے۔ پس جو قومیں اپنے تمرد اور سرکشی کی بناء پر اس راہ حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی برتتی ہیں، وہ لازماً آخرکار ناکامی و نامرا دی اور ہلاکت و تباہی سے دوچار ہو کر رہتی ہیں، اور یہاں پر تاریخ کے اس حوالے سے قوم عاد و ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جن کے حالات و واقعات کو قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر مختلف اسالیب میں بیان فرمایا گیا ہے، تاکہ دنیا عبرت پکڑے اور سبق لے، لیکن دنیا میں سب سے زیادہ نایاب چیز نگاہ عبرت پذیر ہی ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے ہر دور کے لوگوں کے لئے تنبیہ فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت و راہنمائی کے لئے اپنی آیات نازل فرما دی ہیں، اب آگے معاملہ تمہارے اختیار پر ہے، اگر تم نے انکی قدر کی، اور ان مقدس تعلیمات کو صدق دل سے اپنایا تو اس کا فائدہ تم ہی لوگوں کو ملے گا، ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہو گا جو اس سے پہلے کی مذکورہ بالا ان منکر قوموں کا ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بے لاگ اور سب کے لئے یکساں ہے، سبحانہ و تعالیٰ، سو اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کی پابندی وپاسداری میں خود بندوں کا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی کہ اس نے ان کو اس میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی سعادت نصیب ہو گی، اور آخرت کی حقیقی اور اَبَدی زندگی میں بھی کہ وہاں پر اس کو اس سے جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہو گی، جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے، و باللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید، بکل حالٍ من الاحوال،

۱۱۔۔۔   اتنا عمدہ رزق کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، بھلا اس سے بڑھ کر رزق اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان کو نعمتوں بھری ان عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی نصیب ہو جائے۔ جن کی نعمتوں کے بارے میں صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار فرما رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوا اور جہاں ان جنتوں کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی اور جہاں جنت کے ان خوش نصیب باسیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا نصیب ہو گا۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین یہاں پر اس ارشاد سے اصل مقصد اہل ایمان کی حو صلہ افزائی کرنا ہے کہ ایمان اور عمل صالح کی جس دولت عظیم سے ان کو سرفرازی نصیب ہوئی ہے اور جس کو اپنانے کی دعوت حق تعالیٰ کی طرف سے سب دنیا کو دی جا رہی ہے یہ کوئی معمولی چیز نہیں، بلکہ یہ دنیا میں حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) سے بہرہ ور کرنے والی اور آخرت میں ابدی بادشاہی سے سرفراز کرنے والی واحد اور عظیم الشان دولت ہے اسلیے لازم ہے کہ اس کی قدر کی جائے، اس کے تقاضوں کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے و باللہ التوفیق لما یحب و یرید۔

۱۲۔۔۔   سو اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت اور احاطہ علم کے بارے میں آگہی بخشی گئی ہے، سبحانہ و تعالیٰ کہ اس کی قدرت بھی بے پناہ و لا محدود ہے، اور اس کا علم بھی کامل اور محیط کل ہے، جل جَلَالُہ، وہ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کا خالق بھی ہے، اور ان کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں پس اس کی قدرت کی اس وسعت کے ذکر سے واضح فرما دیا گیا کہ تم لوگ یہ گمان نہ کر لینا کہ اس قادر مطلق کی کائنات کی وسعت اتنی ہے جتنی کہ تم لوگوں کو نظر آ رہی ہے، یہ تو اس کی کائنات کا بالکل معمولی اور نہایت محدود حصہ ہے، یہ آسمان جو تم لوگوں کو نظر آ رہا ہے اس جیسے سات آسمانوں اس نے اور بنائے بیں اور یہ زمین جو تم لوگوں کے قدموں کے نیچے بجھی ہوئی ہے، اس جیسی سات زمینیں اس نے اور پیدا فرمائی ہیں، یعنی ہر آسمان کے لئے الگ زمین ہے، کیونکہ آسمان اور زمین میں وہی نسبت ہے، جو ایک مکان کی چھت اور اس کے فرش کے درمیان ہے، تو جب آسمان سات ہوئے تو لازماً زمینیں بھی سات ہونگی، جس طرح آسمان کے بغیر زمین کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح زمین کے بغیر آسمان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، قرآن حکیم میں سات آسمانوں کا ذکر تو کئی جگہ ہوا ہے اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی ان کا ذکر آیا ہے، لیکن سات زمینوں کا ذکر صرف اسی مقام پر ہوا ہے، لیکن آسمان اور زمین کے درمیان حس تلازم کا ذکر ہم نے ابھی اوپر کیا ہے، اس کے مطابق سات آسمانوں کے ساتھ سات زمینوں کا پایا جانا ضروری ہے، رہ گئی یہ بات کہ ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی تفصیلی کیفیت کیا ہے، اور ان میں کس قسم کے قوانین و نوامیس نافذ ہیں؟ تو یہ سب کچھ نہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے، نہ ہم اس کے مکلف ہیں، اور نہ ہی اس کا جاننا ہمارے بس میں ہے ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں ع۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح تمہارے آسمان و زمین کے درمیان خداوند قدوس کے احکام و قوانین کا نزول ہوتا ہے اسی طرح ان دوسرے آسمانوں اور زمینوں کے اندر بھی اس کے احکام نازل ہوتے ہیں، وبہٰذا لقدر نکتفی من التفسیر المختصر لسورۃ الطلاق، و الحمد للہ جل و علا،