تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الرُّوم

(سورۃ الروم ۔ سورہ نمبر ۳۰ ۔ تعداد آیات ۶۰)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     ا لٓ مٓ

۲۔۔۔     مغلوب ہو گئے رومی

۳۔۔۔     قریب کی سرزمین میں اور وہ اپنی اس مغلوبیت کے بعد عنقریب ہی غالب آ کر رہیں گے

۴۔۔۔     یعنی چند ہی سالوں میں (کہ غلبہ و مغلوبیت سمیت) ہر معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے پہلے بھی اور بعد بھی اور اس روز خوش ہو رہے ہوں گے ایمان والے

۵۔۔۔     اللہ کی مدد سے اللہ مدد فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہی ہے (سب پر) غالب انتہائی مہربان

۶۔۔۔     اللہ کا وعدہ ہو چکا اور اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی لیکن لوگوں کی اکثریت جانتی نہیں (حق اور حقیقت کو)

۷۔۔۔     یہ لوگ تو دنیاوی زندگی کا ایک ہی ظاہری (اور مادی) پہلو جانتے ہیں (اور بس) اور آخرت سے بالکل غافل (و بے خبر) ہیں

۸۔۔۔     کیا ان لوگوں نے کبھی غور و فکر سے کام نہیں لیا اپنے دلوں میں کہ اللہ نے نہیں پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی کائنات کو مگر حق کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت تک کے لئے اور بے شک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات (اور اس کے حضور پیشی) کے پکے منکر ہیں

۹۔۔۔     کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (اللہ کی) اس زمین میں تاکہ یہ دیکھ لیتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ لوگ قوت میں ان سے کہیں بڑھ کر سخت تھے انہوں نے (اپنے اغراض و مقاصد کے لئے ) ادھیڑ ڈالا تھا زمین کو اور اس کو انہوں نے اس سے کہیں زیادہ آباد کیا تھا جتنا کہ (آج کے ) ان لوگوں نے آباد کیا ہے اور ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر روشن نشانیاں لے کر آئے تو (انہوں نے اپنی مادی قوت و ترقی کے گھمنڈ میں ان کی تکذیب کی جس پر بالآخر وہ سب پکڑے گئے تو) کہیں اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر کوئی ظلم کرتا مگر وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے

۱۰۔۔۔     آخرکار بڑا ہی برا انجام ہوا ان لوگوں کا جو برائیاں کرتے رہے تھے اس وجہ سے کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے

۱۱۔۔۔     اللہ ہی پہلی مرتبہ پیدا فرماتا ہے اپنی مخلوق کو پھر وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا اس کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ) پھر تم سب لوگوں کو بہر حال اسی کی طرف جانا ہے لوٹ کر

۱۲۔۔۔     اور جس دن قیامت قائم ہو گی (اس دن مارے دہشت و حیرت کے ) ہک دھک رہ جائیں گے مجرم لوگ

۱۳۔۔۔     اور ان کے (من گھڑت) شریکوں میں سے کوئی بھی ان کا سفارشی نہیں بن سکے گا اور خود ہی اپنے ان شریکوں کے منکر ہو جائیں گے

۱۴۔۔۔     اور جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز لوگ (اپنے اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر) بٹ جائیں گے

۱۵۔۔۔     پھر جو ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے تو وہ ایک عظیم الشان اور (بے مثل) باغ میں شاداں و فرحاں ہوں گے

۱۶۔۔۔     اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور انہوں نے جھٹلایا ہو گا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو تو ایسے لوگوں کو (پابجولاں ) عذاب میں حاضر کیا جائے گا

۱۷۔۔۔     بس تم تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو

۱۸۔۔۔     اور اسی کے لئے ہے تعریف آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور (اسی کی تعریف کرو تم لوگ بھی) دن کے پچھلے حصے میں اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہو جاؤ

۱۹۔۔۔     وہی نکالتا ہے جاندار کو بے جان سے اور بے جان کو جاندار سے اور وہی زندگی بخشتا ہے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد اور اسی طرح تم کو بھی نکالا جائے گا (تمہاری قبروں سے )

۲۰۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے پیدا فرمایا تم سب کو (اے لوگو! بے جان) مٹی سے پھر تم یکا یک انسان ہو کر (زمین بھر میں ) پھیلے پھرتے ہو

۲۱۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے (ایک اہم نشانی یہ) ہے کہ اس نے پیدا فرمائیں تمہارے لئے تمہاری بیویاں خود تمہاری ہی جنس سے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کر سکو اور اس نے رکھ دی تمہارے درمیان محبت اور رحمت بے شک اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

۲۲۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے (ایک اہم نشانی) آسمان اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کا پیدا کرنا بھی ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا باہم اختلاف بھی بے شک اس میں بھی بڑی بھاری نشانیاں ہیں علم کی (روشنی) رکھنے والوں کے لئے

۲۳۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں (ایک اہم نشانی) تمہارا یہ سونا (جاگنا) بھی ہے رات اور دن (کے مختلف حصوں ) میں اور تمہارا تلاش کرنا بھی اس کے فضل سے بلاشبہ اس میں بھی بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں (گوشِ ہوش سے )

۲۴۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمہیں دکھاتا ہے (گرجتی چمکتی) بجلی جس سے تمہیں خوف بھی ہوتا ہے اور امید بھی بندھتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے وہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مر چکنے کے بعد بلاشبہ اس میں بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

۲۵۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین قائم ہیں اسی کے حکم (و ارشاد) سے پھر جب وہ تم کو بلائے گا ایک ہی بار زمین سے تو تم سب کے سب یکایک نکل پڑو گے (اپنی اپنی قبروں سے )

۲۶۔۔۔     اور اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے سب ہی اس کے حکم کے بندے ہیں

۲۷۔۔۔     اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جو پہلی بار پیدا فرماتا ہے اپنی مخلوق کو پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا اور یہ اس کے لئے کہیں زیادہ آسان ہے اور اسی کی شان سب سے بلند ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی ہے سب پر غالب نہایت حکمت والا

۲۸۔۔۔     اس نے تمہارے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہے (اے لوگوں !) خود تمہارے اپنے ہی حالات سے کہ کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جن کے تم مالک ہو کچھ ایسے ہیں جو تمہارے اس مال و دولت میں جو کہ ہم نے تم کو دے رکھا ہے تمہارے اس طرح برابر کے شریک ہوں ؟ کہ تم ان سے بھی اسی طرح ڈرو جس طرح کہ اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنی آیتوں (اور احکام) کو ان لوگوں کے (بھلے اور ان کی فہمائش کے ) لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں (مگر یہ لوگ ہیں کہ پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے )

۲۹۔۔۔     بلکہ یہ پیچھے لگے ہوئے ہیں اپنی خواہشات (اور نفسانی اغراض) کے بغیر کسی علم (اور دلیل) کے سو اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے جس کو اللہ ہی گمراہی میں ڈال دے (اس کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی وجہ سے ) اور ایسوں کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا

۳۰۔۔۔     سو آپ سیدھا رکھو اپنا رخ دین کے لئے یکسو ہو کر (اور پیروی کرو) اللہ کی (ودیعت فرمودہ) اس فطرت کی جس پر اس نے پیدا فرمایا ہے اپنی مخلوق کو کوئی تبدیلی نہیں اللہ کی پیدائش میں یہی ہے سیدھا (اور درست) دین لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

۳۱۔۔۔     (تم فطرت الٰہیہ کی اتباع کرو) اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم کرو اور کبھی ان مشرکوں سے نہیں ہو جانا

۳۲۔۔۔     جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہ (اور گروپ) بن گئے ہر فرقہ اپنے اسی طریقے پر نازاں (اور اسی میں مست و مگن) ہے جو اس کے پاس ہے

۳۳۔۔۔     اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو یہ اپنے رب ہی کو پکارتے (بلاتے ) ہیں اسی کی طرف رجوع ہو کر پھر جب وہ ان کو چکھا دیتا ہے اپنی طرف سے کوئی رحمت (و عنایت) تو یکایک ان میں کا ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

۳۴۔۔۔     تاکہ اس طرح یہ لوگ کفر کریں ان نعمتوں کا جو ہم ہی نے ان کو بخشی ہوتی ہیں اچھا تو تم لوگ کچھ مزے کر لو عنقریب تمہیں (سب کچھ) خود ہی معلوم ہو جائے گا

۳۵۔۔۔     کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی سند اتاری ہے جو ان کو اس شرک (کی صحت) کے بارے میں بتا رہی ہو جو یہ لوگ کر رہے ہیں ؟

۳۶۔۔۔     اور جب ہم چکھا دیتے ہیں لوگوں کو کوئی رحمت (و عنایت اپنے فضل و کرم سے ) تو یہ اس پر پھول جاتے ہیں اور اگر کبھی ان کو کوئی تکلیف (اور مصیبت) پہنچتی ہے ان کے اپنے ان کرتوتوں کی بناء پر جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں آگے بھیجے ہوتے ہیں تو یکایک یہ آس توڑ بیٹھتے ہیں

۳۷۔۔۔     تو کیا انہوں نے کبھی اس (حقیقت) پر غور نہیں کیا کہ اللہ ہی روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

۳۸۔۔۔     پس تم (خوشی بخوشی) دے دیا کرو رشتہ دار کو اس کا حق اور مسکین اور مسافر کو بھی یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور ایسے ہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

۳۹۔۔۔     اور جو بھی کوئی زیادتی تم دیتے ہو (اے لوگوں !) تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو (یاد رکھو کہ) یہ اللہ کے یہاں نہیں بڑھتی اور (اس کے مقابلے میں ) جو زکوٰۃ تم دیتے ہو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو ایسے ہی لوگ ہیں (حقیقت میں اپنے مالوں کو) بڑھانے والے

۴۰۔۔۔     اللہ وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر اس نے تمہاری روزی کا بندوبست کیا پھر وہی تم کو موت دیتا ہے (اور دے گا) پھر وہی تم کو زندگی بھی بخشتا ہے (اور بخشے گا) کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کر سکے وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

۴۱۔۔۔     ظاہر ہو گیا (اور پھیل گیا) فساد خشکی اور تری میں لوگوں کے ان اعمال کی وجہ سے جو وہ خود اپنے ہاتھوں کرتے ہیں تاکہ اللہ ان کو چکھائے ان کے اعمال کا کچھ مزہ تاکہ یہ لوگ لوٹ آئیں

۴۲۔۔۔     (ان سے ) کہو کہ تم لوگ چلو پھرو (اللہ کی عبرتوں بھری) اس زمین میں پھر دیکھو کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے اکثر (باغی اور) مشرک ہی تھے

۴۳۔۔۔     پس تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین قیم (و راست) کی طرف اس سے پہلے کہ آ پہنچے وہ دن جس کے ٹالنے (روکنے ) کی کوئی صورت نہ ہو گی اللہ (پاک) کی طرف سے اس دن لوگ پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے

۴۴۔۔۔     جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہو گا اور جس نے نیک کام کئے تو ایسے لوگ بھی خود اپنے ہی لئے سامان کر رہے ہیں

۴۵۔۔۔     تاکہ اللہ بدلہ دے (اپنے کرم اور) اپنی مہربانی سے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے بلاشبہ وہ پسند نہیں کرتا کافروں (اور منکروں ) کو

۴۶۔۔۔     اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے خوشخبری سنانے کو (تاکہ تم خوش ہو جاؤ) اور تاکہ وہ چکھائے تم کہ اپنی رحمت (و عنایت) سے اور تاکہ کشتیاں چلیں اس کے حکم سے اور تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل (و مہربانی) سے اور تاکہ تم شکرگزار بنو

۴۷۔۔۔     اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا ان کی قوموں کی طرف سو وہ بھی ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر پہنچے (مگر جنہوں نے نہیں ماننا تھا انہوں نے نہیں مانا) تو آخرکار ہم نے انتقام لیا ان سے جو (تکذیب و مخالفت حق جیسے ) جرائم کے مرتکب ہوئے اور ہمارے ذمے لازم ہے ایمان والوں کی مدد کرنا

۴۸۔۔۔     اللہ وہی تو ہے جو ہواؤں کو اس طرح بھیجتا ہے کہ وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر اللہ اس (بادل) کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ) اور وہ اس کو تقسیم کر دیتا ہے مختلف ٹکڑیوں کی شکل میں پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے بیچ سے (چھن چھن) کر آ رہی ہوتی ہے پھر وہ جب اس کو اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوشی سے اچھلنے لگتے ہیں

۴۹۔۔۔     جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے کہ یہ بارش ان پر برسائی جاتی یہ بالکل آس توڑے بیٹھے تھے

۵۰۔۔۔     سو تم دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار کو کہ وہ (قادر مطلق اس کے ذریعے ) کس طرح زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے بعد کہ وہ مر چکی ہوتی ہے بلاشبہ وہی ذات زندہ کرنے والی ہے مردوں کو اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

۵۱۔۔۔     اور اگر ہم ان پر کوئی ایسی ہوا بھیج دیں جس کے نتیجے میں یہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں تو اس کے بعد یہ کفر بکنے لگتے ہیں

۵۲۔۔۔     سو آپ (اے پیغمبر !) نہ تو مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ہی آپ بہروں کو اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں جب کہ وہ چل دیں پیٹھ پھر کر

۵۳۔۔۔     اور نہ ہی آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر سیدھی راہ پر ڈال سکتے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو (سچے دل سے ) ایمان رکھتے ہوں ہماری آیتوں پر اور وہ فرمانبردار ہوں

۵۴۔۔۔     اللہ وہی تو ہے جس نے تم سب کو پیدا فرمایا کمزوری (اور ناتوانی) سے پھر اس نے کمزوری کے بعد تم کو قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد اس نے تمہارے اندر (ایک تدریج کے ساتھ) کمزوری بھی رکھ دی اور بڑھاپا بھی اور وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی ہے سب کچھ جانتا پوری قدرت والا

۵۵۔۔۔     اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے اسی طرح (دنیا کی زندگی میں بھی) ان کی مت ماری جا رہی تھی

۵۶۔۔۔     اور جن کو علم اور ایمان کی دولت بخشی گئی ہو گی وہ کہیں گے کہ (غلط کہتے ہو) تم تو اللہ کی کتاب کے مطابق یقیناً حشر کے دن تک رہے ہو سو یہ ہے حشر کا وہ دن (جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) لیکن تم لوگ (اس کو) جانتے (اور مانتے ) نہ تھے

۵۷۔۔۔     سو اس دن ظالموں کو نہ تو ان کی معذرت کچھ کام دے سکے گی اور نہ ہی ان سے معافی مانگنے کو کہا جائے گا

۵۸۔۔۔     اور بلاشبہ ہم نے بیان کی لوگوں (کی فہمائش اور بھلائی) کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مثال اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں تو جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر انہوں نے یقیناً یہی کہنا ہے کہ تم لوگ تو محض باطل پر ہو

۵۹۔۔۔     اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو جانتے (اور مانتے ) نہیں (حق اور حقیقت کو)

۶۰۔۔۔     پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہرگز کبھی آپ کو ہلکا نہ پائیں (اے پیغمبر !) وہ لوگ جو (ایمان و) یقین نہیں رکھتے

تفسیر

۴۔۔۔    پس جو کچھ ہوا وہ بھی اسی کے حکم سے ہوا۔ اور جو کچھ ہو گا وہ بھی اسی کے حکم و ارشاد سے ہو گا۔ کہ معاملہ سب کا سب بہر حال اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور رومیوں کے مغلوب ہونے کے بعد غالب آنے کی یہ پیشین گوئی ایک ایسی پیشین گوئی تھی کہ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے اس کے امکان و وقوع کے دور دور بھی کوئی آثار اور امکانات نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور اس کی قدرت کے کرشمے کے طور پریہ چند ہی سالوں میں پوری ہو گئی۔ اور اس طور پر کہ ایک دنیا کی دنیا حیرت زدہ ہو کر رہ گئی۔ اس کی کچھ تفصیل ہم نے اپنی بڑی تفسیر عمدۃ البیان المعروف تفسیر المدنی الکبیر میں ذکر کر دی ہے، تفصیل کے طالب اسی کی طرف رجوع کر لیں۔

۷۔۔۔    سو یہ لوگ چونکہ دنیا کے صرف ظاہری اور مادی پہلو ہی کو جانتے ہیں اس لئے ایسے ظاہر ہیں اور مادہ پرست لوگ ظواہر و مظاہر ہی کو دیکھتے اور ان ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کو قدرت کے اس دست غیب اور اس کی کارستانی تک رسائی نصیب نہیں ہو سکتی۔ جو ان ظواہر و مظاہر کے پیچھے کارفرما ہے۔ سو اس سے ان ظاہر پرستوں کا اندھا پن ظاہر اور واضح ہو جاتا ہے، پس ان کی نگاہیں اس حقیقت تک پہنچ ہی نہیں سکتیں، کہ اس کائنات میں اصل متصرف کون ہے۔ اور اس کی صفات کیا ہیں اور مزید یہ کہ یہ لوگ آخرت اور اس کے تقاضوں سے یکسر غافل ولا پرواہ ہیں۔ اور آخرت سے غفلت و لاپرواہی ایسی ہولناک محرومی ہے، کہ اس سے انسان کی زندگی کا سارا سلسلہ ہی غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور آخرت کے ایمان و یقین کے بغیر اس کارخانہ قدرت و حکمت کو مبنی بر عدل و حکمت تصور کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ سوآخرت کا انکار محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذُ باللہ العظیم۔

۸۔۔۔    سو اس ارشاد سے لوگوں کو اس اہم اور بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ خود اپنے باطن میں اتر کر دیکھتے، اور صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے، تو ان پریہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ آسمان اور زمین میں اور ان تمام چیزوں میں جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں، ان میں سے کسی بھی چیز کو اللہ تعالیٰ بے مقصد اور بے غایت محض کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں فرمایا۔ بلکہ ہر چیز ایک غایت و مقصد اور ایک مقرر مدت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور جب کائنات کی ہر چیز ایک غایت و مقصد اور مقرر مدت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ انسان جو ایک برتر مخلوق اور اس کائنات کا مخدوم ہے اس کا وجود عبث اور بے کار ہو؟ سو اس چیز کا تقاضا اور لازمی اور بدیہی تقاضا ہے کہ ایک ایسا روز جزا و سزا آئے جس میں اس سے پوچھ ہو۔ اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ ملے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوں۔ سو وہی دن قیامت کا دن ہے جو کہ روز جزا ہے، جس میں ہر کسی سے پوچھ ہو گی۔ یہاں پر آیت کریمہ کے شروع میں اَوْلَمْ یَتَفَکَّرُوْا کے کلماتِ کریمہ اور اس کے انداز استفہام وسوال سے غور و فکر سے کام لینے کے لئے ترغیب و تحریض ہے کہ ان لوگوں کو غورو فکر سے کام لینا چاہیے، اور ان کو اپنے باطن میں اتر کر سوچنا چاہیئے۔ تاکہ ان کو اصل حقیقت تک رسائی حاصل ہو سکے، رہ گئے وہ لوگ جو ادھر سے آنکھیں بند کر کے صرف بطن و فرج کے تقاضوں کی تکمیل ہی کے لئے جی رہے ہیں۔ ان کے لئے اس میں کوئی درس نہیں، کہ انہوں نے کھانے پینے، اور خواہشات نفس کی تکمیل ہی کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین بنا رکھا ہے۔ جو کہ خساروں کا خسارہ ہے، والعیاذُ باللہ العظیم

۱۰۔۔۔    سو اس ارشادِ عالی میں قوموں کی تاریخ کے حوالے سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ دنیا کوئی اندھیری نگری نہیں کہ اس میں انسان جو مرضی کرتا ہے پھرے۔ اور جس طرح کے مظالم ڈھائے اور اس کی کوئی پوچھ نہ ہو۔ سو ایسا نہ ہے، نہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ حضرت خالق جَلَّ مَجْدُہ، کی شان عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے، اس لئے اس کی اس حکمتوں بھری کائنات میں اس طرح کی اندھیر نگری کی کوئی گنجائش نہیں، اور گزشتہ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ خالق حکیم و حلیم نے ان قوموں کو ایک خاص مدت تک مہلت تو دی، لیکن آخرکار اس نے ان کو پکڑا۔ اور ایسا پکڑا کہ ان کے وجود ہی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ سو اسی سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس میں ہر شخص کا محاسبہ ہو۔ اور ہرکسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ ملے، اور بھرپور طور پر ملے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، سو حساب و کتاب کا وہی دن یوم قیامت ہے، جو کہ جزاء و سزا کا دن ہے۔ جس نے اپنے وقت مقرر و موعود پر بہر حال واقع ہو کر رہنا ہے۔ پس وہ لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں جو اس یوم عظیم کے منکر، اور اس کے تقاضوں سے غافل و لاپرواہ ہو کر بے فکری اور لا ابالی کی زندگی گزارتے ہیں، کہ وہ یوم عظیم اور اس کی پرسش و جوابدہی بڑی ہی عظیم، اور نہایت ہی ہولناک چیز ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم

۱۵۔۔۔    رَوْضَۃٍ کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے، یعنی وہ خوش نصیب ایک نہایت ہی عظیم الشان باغ میں ہونگے۔ ایسے عظیم الشان باغ میں کہ اس کی عظمتوں کا تصور کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے بس میں نہیں، اور یُحْبَرُوْنَ حَبْر سے مشتق و ماخوذ ہے جس کے معنی خوش اور مسرور کرنے کے ہوتے ہیں، سو وہ وہاں پر ایک ایسے عظیم الشان اور بے مثال باغ میں ہونگے جہاں ان کے آرام و راحت اور خوشی و مسرت کے تمام اسباب و وسائل فراہم کر دیئے گئے ہونگے، جس سے وہ نہایت مسرور و شاداں ہونگے۔ اور ایسے اور اس طور پر کہ اس دنیا میں انکی کوئی نظیر و مثال ہی ممکن نہیں، اللہ نصیب فرمائے۔ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

۱۶۔۔۔    سو اہل جنت کے انعام کے مقابلے میں اہل دوزخ کے حال بد کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا، کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہو گا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور قیامت کی پیشی کو جھٹلایا ہو گا، ان کو اس روز سزا یافتہ قیدیوں کی طرح باندھ کر اور گھسیٹ کر عذاب میں لایا جائے گا۔ جس سے ان کی ذلت و رسوائی اور ان کی بے بسی سب کے سامنے واضح ہو جائے گی۔ والعیاذ باللہ، دنیا کا یہ کارخانہ جس میں ہم لوگ رہتے بستے ہیں چونکہ ابتلاء و آزمائش کے قانون کے تحت چل رہا ہے۔ اس لئے اس میں نیک وبد، مومن و کافر، مشرک و موحد سب باہم ملے جلے رہتے ہیں۔ اور سب کو ایک ہی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، بلکہ یہاں پر اکثر حالات میں ایسے ہوتا ہے کہ اہل حق مظلوم و مقہور ہی رہتے ہیں، اور اہل باطل غالب و متسلّط اس لئے بصیرت سے محروم لوگوں کو دنیا کا بالحق ہونا نظر نہیں آتا۔ لیکن آخرت کا وہ یوم عظیم چونکہ یوم الفرقان اور یوم فصل و تمیز ہو گا۔ اس لئے اس میں نیک وبد، مومن و کافر، اور موحد و مشرک، سب چھٹ کر اور ایک دوسرے سے کٹ کر الگ ہو جائیں گے۔ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ سے اسی حقیقت کو واضح و آشکار فرمایا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اہل ایمان جنت کی سدا بہار نعمتوں، اور وہاں کی اَبَدی بادشاہی سے سرفراز ہونگے، جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ، اور اہل کفر و باطل دوزخ اور وہاں کے ہولناک عذاب سے دوچار ہونگے، والعیاذ باللہ، اس لئے آخرت کے اس یوم جزاء میں اصل حقیقت سب کے سامنے اور پوری طرح واضح ہو جائیگی۔

۲۰۔۔۔    سو تم لوگ ذرہ سوچو اور غور کرو کہ کہاں تمہارے پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بے جان اور بے حس و حرکت مٹی، اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا عقل و خرد اور طرح طرح کی دوسری صلاحیتیں اور خوبیاں رکھنے والا یہ انسان، جو اس کے اوپر دندناتا پھرتا ہے۔ اس کو خالق حکیم نے پیدا فرما کر پوری زمین پر پھیلا دیا۔ اور ایسا کہ پوری زمین اس سے بھر گئی، اور پورا جہان کا جہاں آباد ہو گیا۔ اپنی اس حقیقت کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود اگر یہ انسان کہتا ہے کہ اس کا وہ خالق قادر و حکیم اسے دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا، تو اس سے بڑھ کر اس کی حماقت اور بلادت اور کیا ہو سکتی ہے؟ قرآنِ حکیم نے اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا لیکن وہ چھوٹتے ہی ہمارا حریف بن کر کھڑا ہو گیا۔ اور اعلانیہ ہماری قدرت کو چیلنج کرنے لگ گیا سو اس سے انسان کی تنگ ظرفی ناشکری اور اس کی بے انصافی کی نفسیات سامنے آتی ہے۔ والعیاذُ باللہ، جل وعلا، بکل حالٍ من الاحوال۔

۲۱۔۔۔    سو اس میں ایک طرف تو اس خالق حکیم کی قدرت مطلقہ حکمت بالغہ اور اس کی رحمت و عنایت شاملہ کے عظیم الشان مظاہر اور دلائل و شواہد پائے جاتے ہیں، کہ اس نے انسان کے اندر اس کے جوڑے کی طلب و تلاش کے لئے بے پناہ ایسے تقاضے اور دواعی رکھ دئیے جن کی بناء پر وہ اپنے جوڑے کا محتاج اور اس کا طلبگار ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے وہ اپنے اندر ایک طبعی پیاس اور جستجو رکھتا ہے، اور دوسری طرف اس نے ان دونوں کے درمیان ایسی محبت اور رحمت پیدا فرما دی کہ اس سے وہ دونوں یک قلب اور دو قالب کے مظہر اور نمونہ بن جاتے ہیں، اور تیسری طرف اس نے اس سے ان دونوں کے لئے یہ عظیم الشان درس عبرت و بصیرت بھی رکھ دیا کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنے جوڑے کی محتاج ہے۔ اسی سے اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہوتی ہے۔ ورنہ وہ ناقص اور ادھوری رہتی ہے۔ سو اسی سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس دنیا کا بھی ایک جوڑا ہے، جس کو آخرت کہا جاتا ہے، پس اس کے مانے اور تسلیم کئے بغیر اس دنیا کا وجود ناقص اور ادھورا ہے۔ آخرت کے وجود ہی سے اس دنیا کے وجود کی قدر و قیمت واضح ہوتی ہے، اور اسی سے اس کی غرض و غایت کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اضداد کے اندر پایا جانے والا پُر حکمت توافق اس بات کی دلیل، اور اس کا کھلا ثبوت ہے، کہ اس کائنات میں ایک ہی ارادہ کار فرما ہے، ورنہ اضداد کے اندر یہ پُر حکمت اور محیرالعقول توافق کبھی نہ پایا جا سکتا، اور نہ برقرار رہ سکتا ہے۔ سو اضداد کے اندر توافق و سازگاری کا یہ پہلو توحید خاوندی کی ایک عظیم الشان دلیل ہے لیکن یہ سب کچھ ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ رہ گئے وہ اندھے اور بہرے لوگ جو ان تمام چیزوں اور موجودات کے ان تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے صرف مادہ اور معدہ کے غلام بن کر جیتے ہیں۔ ان کے لئے ان میں نہ کوئی درس عبرت و بصیرت ہے۔ اور نہ کوئی ایسا سبق، ایسے لوگ تو محروم کے محروم ہی رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، سو انسان کی صحت وسلامتی اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل اور بنیادی تعلق اس کے قلب و باطن سے ہے، اگر وہ نور حق و ہدایت کا طالب ہو گا تو اس کو اس سے سرفرازی نصیب ہو گی اور اگر وہ اس سے اعراض و رُوگردانی برتے گا تو اس کے لئے محرومی ہے والعیاذ باللہ جل وعلا

۲۷۔۔۔    مَثَل کا لفظ یہاں پر صفت کے معنی و مفہوم میں ہے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں تمام اعلیٰ صفات کا اصل حقدار اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے۔ اس میں دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں اور کسی بھی اعتبار سے اس کی شریک وسہیم نہیں، اور وہی ہے جو عزیز یعنی سب پر غالب اور زبردست ہے، اس لئے وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، نہ اس کے لئے کوئی مشکل ہے اور نہ کوئی اس کے ارادے میں حائل اور مزاحم ہو سکتا ہے۔ اور وہ جو بھی کچھ کرتا ہے نہایت حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے اس لئے اس کا ہر کام حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے اور جب اس کی ان صفات و شؤون میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہو سکتا ہے؟ پس اس کا نہ کوئی شریک اور سہیم ہے نہ ہو سکتا ہے بلکہ وہ ہر لحاظ و اعتبار سے یکتا اور وحدہٗ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، سبحانہ و تعالیٰ

۲۸۔۔۔    کہ ایسی مثالوں اور بیانات سے مستفید اور فیضیاب وہی لوگ ہوتے ہیں اور وہی ہو سکتے ہیں، جو عقل و فکر سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں، سو جب تم لوگ اپنے ماتحت غلاموں کو بھی اپنے مالوں میں اپنے برابر کا شریک ماننے کو تیار نہیں ہو۔ حالانکہ اللہ کے بندے اور اس کی مخلوق ہونے میں وہ اور تم سب ایک برابر ہو۔ مگر تم انکو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، جبکہ وہ خالق ہے اور یہ مخلوق اور خالق اور مخلوق میں باہم برابری اور اشتراک کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور پھر جب تم لوگ ان کو اپنے اس مال میں شریک کرنے کو تیار نہیں ہو جس کے تم حقیقی مالک بھی نہیں ہو بلکہ محض مجازی طور پر اور اسباب کے درجے میں مالک ہو، مگر اس سب کے باوجود تم ان کو خداوند قدوس کی ملکیت میں شریک مانتے ہو جو کہ سب کا خالق اور مالک حقیقی ہے آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا؟ اور تمہاری مت کہاں مار دی گئی؟ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ مشرکین اپنے لئے بیٹیاں پسند نہیں کرتے تھے بلکہ بیٹے پسند کرتے تھے۔ مگر اللہ کے لئے بیٹیاں مانتے تھے۔ اسی لئے قرآن حکیم نے اس کو ٹیڑھی تقسیم (قسمت ضِیْزیٰ) قرار دیا (سورہ نجم آیت نمبر۲۲) اور اسی ذہنیت کے مظاہر اور اسی مرضی کے جراثیم جاہل مسلمانوں کے اندر بھی پائے جاتے ہیں، کہ ان کے یہاں جب لڑکا پیدا ہو تو اس کا نام وہ پیراں دِنّہ یعنی پیروں کا دیا ہوا رکھتے ہیں، لیکن جب لڑکی پیدا ہو تو اس کا نام وہ کبھی پیراں دنی یعنی پیروں کی دی ہوئی نہیں رکھتے، بلکہ اس کو اللہ دی ہوئی مانتے ہیں سو یہ اسی مشرکانہ ذہنیت کی عکاسی ہے، والعیاذ باللہ العظیم، سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے کفر و شرک کی نحوست کا۔ کہ اس سے انسان کی مت مار کر رکھ دی جاتی ہے۔ والعیاذُ باللہ جل وعلا بکل حالٍ من الاحوال۔

۳۰۔۔۔    اس آیت کریمہ میں دین حق یعنی اسلام کو یکسو ہو کر اپنانے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، اور بتایا گیا ہے کہ یہی دین دین فطرت ہے، پس یہ کوئی خارج کی چیز نہیں، جس کو تم لوگوں پر اوپر سے لادا گیا ہو، بلکہ یہ تمہارے باطن کی آواز اور تمہاری فطرت کا تقاضا ہے، یہی درست اور سیدھا دین ہے جو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے عین مطابق ہے، اور یہی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سیدھا اور واحد راستہ ہے۔ اور اسی پر انسان کے لئے اس کی دنیا و آخرت کی صلاح و فلاح موقوف ہے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ ویرید، وعلی مایُحِبُّ ویرید، وہو الہادی الی سواء السبیل

۳۲۔۔۔    یعنی ان لوگوں نے اپنی اہواء و اغراض کے مطابق دین فطرت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ اور اس طور پر کہ جس نے ان میں سے جس ٹکڑے کو اپنایا وہ اسی پر مست و مگن ہو کر اسی کو اصل دین بتانے لگا، جس کے نتیجے میں وہ حق بات سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا اور نور حق و ہدایت سے محروم ہی رہتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ مگر ایسوں کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں ہوتا، والعیاذ باللہ العظیم

۳۴۔۔۔    یعنی ان لوگوں کو نعمت تو ملتی ہے اللہ کی طرف سے۔ مگر یہ اس کو منسوب کرتے ہیں دوسروں کی طرف پھر انہی کے گن گاتے اور انہی کے نام جپتے ہیں، اور اس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی دی اور بخشی ہوئی نعمتوں کے ساتھ کفر و انکار کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لئے اس کے بعد ان کو نہایت تند و تیز لہجے میں خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اچھا تم لوگ ہماری دی ہوئی نعمتوں کے ساتھ کفر و انکار اور ناسپاسی و ناشکری کے باوجود کچھ دن اور مزے کر لو۔ اور فائدے اٹھا لو ۔ عنقریب تمہارے کئے کرائے کا نتیجہ و انجام خود تمہارے سامنے آ جائے گا۔ تب تمہیں سب کچھ خود معلوم ہو جائے گا، والعیاذ باللہ العظیم

۳۶۔۔۔    سو دنیا دارالا بتلاء ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا، اور ان کا امتحان لیتا ہے۔ کبھی یہ ابتلاء و آزمائش بندوں کو نعمتیں دے کر کی جاتی ہے اور کبھی ان سے نعمتیں چھین کر۔ نعمت کی صورت میں ان کے شکر کی آزمائش ہوتی ہے، کہ یہ لوگ ان نعمتوں پر حضرت واہب مطلق جَلَّ جَلَالَہ، کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ اور نعمتیں چھین لینے کی صورت میں ان کے صبر کی آزمائش ہوتی ہے۔ کہ ایسے موقع پر یہ لوگ صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں یا نہیں، سو نعمت اور مصیبت کی ہر شکل ابتلاء و آزمائش ہی کی شکل ہوتی ہے۔ پھر نیک اور سعادت مند بندے نعمت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، جس سے وہ نعمت ان کے لئے خیر بن جاتی ہے۔ اور تکلیف و مصیبت پر وہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں، جس سے ان کی وہ مصیبت بھی ان کے لئے خیر بن جاتی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے نیک صالح اور سعادت مند بندوں کے لئے نعمت اور مصیبت کی ہر حالت خیر ہی خیر بن جاتی ہے، اور یہی مضمون صحیح حدیث میں تصریح کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس نور ایمان و یقین سے محروم لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو نعمت ملتی ہے تو وہ مست ہو کر کفران نعمت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی وہ نعمت بھی ان کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہے والعیاذُ باللہ، اور تکلیف و مصیبت پر وہ جزع و فزع اور گھبراہٹ میں مبتلاء ہو کر طرح طرح کی کفریات میں مبتلاء ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ کتنے ہی ان میں ایسے ہوتے ہیں جو خود کشی کر لیتے ہیں، اور اس طرح وہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہو جاتے ہیں سو ایسے لوگ ان کی وہ مصیبت بھی ان کے لئے مصیبت پر مصیبت اور محرومی بالائے محرومی بن جاتی ہے، بہرکیف روزی کی بست و کشاد، اور اس کی تنگی و کشادگی، اللہ تعالیٰ ہی کی حکمت اور اس کی مشیت پر موقوف ہے، پس نہ کسی کے لئے روزی کی کشائس پر اترانا جائز ہے۔ اور نہ ہی اس کی تنگی پر مایوس ہونا، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ کشائس پر انسان اس واہب مطلق جل جلالہ، کا دل و جان سے شکر ادا کرے، اور نہ ملنے پر یا اس کے چھن جانے پر صبر و برداشت سے کام لے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید، بکل حالٍ مان الاحوال،

۳۹۔۔۔    سو ایسے لوگوں کے مالوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کے فضل و کرم سے برکت اور بڑھوتری آتی ہے، جو اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کے لئے زکوٰۃ دیتے ہیں، جس سے ان کی اس دنیاوی زندگی کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں، اور ان کا یہ سرمایہ آخرت کی اس حقیقی اور اَبَدی زندگی کے لئے بھی جمع ہوتا ہے، جو اس دنیاوی زندگی کے بعد آنے والی ہے، کوتاہ نظر اور مادہ پرست انسان اپنے مستقبل کو بہت محدود اور تنگ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس لئے اس کی ساری تگ و دو اسی دنیاوی زندگی اور اس کے عارضی مفادات و لذات ہی تک محدود و مقصور رہتی ہے حالانکہ اصل اور حقیقی زندگی وہی ہے جو اس دنیا کے بعد آنے والی اَبَدی اور دائمی زندگی ہے۔ اسی کا سود و زیاں اصل اور حقیقی سود و زیاں ہے، اس لئے عقل اور نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اسی کے تقاضوں اور وہیں کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنایا جائے، اور اپنے مال و دولت کو آخرت ہی کی کامیابی کے لئے صرف کیا جائے، اور اس کو دنیاوی بنکوں کے بجائے آخرت کے بنکوں میں جمع کیا جائے، تاکہ یہ وہاں کی اس حقیقی اور اَبَدی زندگی میں کام آ سکے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو دین حنیف کی تعلیماتِ مقدسہ کے مطابق اور رضائے خداوندی کے حصول کے لئے خرچ کیا جائے، اور ہمارا رب چونکہ رحمان و رحیم ہے۔ اس لئے وہ اپنی بے پایاں رحمت کے تقاضوں کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ ہماری آخرت کی وہ اصل اور حقیقی زندگی بن جائے۔ جو کہ دائمی ہے، اور جس کی کامیابی اصل اور حقیقی کامیابی ہے، اور ہمارا سرمایہ آخرت کے ان غیر مرئی بنکوں میں جمع ہو جائے، جو وہاں کام دینے والے ہیں، وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلیٰ مایحب ویرید،

۴۱۔۔۔    بحروبر یعنی خشکی اور تری کے یہ دونوں لفظ احاطہ اور عموم و شمول کے اظہار کے لئے استعمال فرمائے گئے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ کائنات کے ہر حصے اور ہر خطے میں فساد پھیل گیا۔ اور زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اس کا تعلق اعتقادی امور سے ہو، یا عملی نظام سے، وہ اس فساد اور خرابی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اور یہ اس لئے کہ فکر و نظر کی صحت وسلامتی کا سارا مدار و انحصار اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی توحید و وحدانیت پر یقین میں ہے۔ اور عمل و کردار کی صحت و استقامت کا تمام تر دارومدار اسلام پر ہے۔ یعنی اس پر کہ انسان دل و جان سے اللہ تعالیٰ کے آگے جھک جائے، کہ یہ اس کے خالق و مالک کا اس پر حق بھی ہے۔ اور اسی میں اس کی اور پورے معاشرے کی بہتری بھی ہے، اور ایمان و اسلام کی یہ دونوں بنیادیں باہم لازم و ملزوم ہیں، ان میں سے ایک کا انہدام دوسرے کا انہدام ہے۔ والعیاذُ باللہ۔ اور جب یہ دونوں منہدم ہو جائیں تو پھر فساد و دمار کے پھیلاؤ کو کون روک کتا ہے؟ ایسی صورت میں فساد و دمار زندگی کےہر شعبے پر حاوی اور مسلط ہو کر رہتا ہے۔ اور ایسے میں اگر زندگی کی کوئی چمک دمک کہیں نظر آتی ہے، تو وہ بالکل عارضی اور بے بنیاد ہوتی ہے۔ اور جو لوگ اس پر قانع ہو جاتے ہیں، وہ دھوکے اور فریب نظر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اور اس دور میں جس سے ہم لوگ گزر رہے ہیں، اس میں تو یہ فساد و بگاڑ اس حد تک بڑھ گیا کہ کفار و فجار، اور طغاۃ واشرار ان بندگان صدق و صفا کے وجود کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جو دنیا کو حق و صدق کی دعوت دیتے ہیں، ایسے پاک طینت علمبرداران حق کو طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فالی اللہ المشتکیٰ وہو المستعان، وعلیہ التکلان فی کلِّ حینٍ واٰن، اور جب مریض ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق دوا لینے کے بجائے الٹا ان کے وجود کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو پھر ان کی صحت و شفایابی کا سوال و امکان ہی کیا باقی رہ جاتا ہے، اور ان کو ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گرنے سے کون بچا سکتا ہے؟

۴۶۔۔۔    سو اس سے نظام ربوبیت کے تقاضے کو واضح فرما دیا گیا جو کہ عبارت ہے شکر خداوندی سے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کی نشانیوں میں سے۔ یعنی اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بارانِ رحمت کی خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے تاکہ تم لوگوں کی خوشی ومسرت کا سامان ہو۔ اور تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت و عنایت سے چکھائے۔ اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں، جن کے ساتھ تمہارے طرح طرح کے فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اور تاکہ اس طرح تم لوگ اس کے فضل و کرم سے ملنے والی روزی بھی تلاش کر سکو۔ اور تم اس کا شکر ادا کرو۔ جس سے تم لوگوں کو اس کی مزید از مزید رحمتیں بھی نصیب ہو سکیں، اور تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہو سکو۔ سو شکر خداوندی اس واہب مطلق جَلَّ جَلَالَہ، کا تم پر حق بھی ہے۔ اور اس میں خود تم لوگوں کا اپنا بھلا بھی ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی، اور آخرت کے اس حقیقی اور اَبَدی جہاں میں بھی کہ جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے۔

۴۷۔۔۔    سو اس سے اوپر والی حقیقت کو تاریخی شواہد کی روشنی میں سے مزید واضح فرما دیا گیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ہے۔ سو وہ حق اور حقیقت کو واضح کرنے والی کھلی کھلی نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے، مگر ان لوگوں نے ان پر ایمان لانے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے الٹا ان کے ساتھ مجرمانہ روّیہ اختیار کیا۔ چنانچہ انہوں نے ان کی تکذیب کی۔ اور وہ قومیں اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی دشمن بن گئیں، تو آخرکار ان کے اس جرم انکار و تکذیب اور عداوت حق کی بناء پر ہم نے ان سے انتقام لیا۔ اور ان کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔ کیونکہ ایمان والوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے۔ سو اس میں ایک طرف تو اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کہ وہ اپنے ایمان و یقین کی دولت کی بناء پر حق تعالیٰ کی نصرت و امداد کے مستحق ہیں۔ اور دوسری طرف اس میں حق اور اہلِ حق کے دشمنوں کے لئے تنبیہ و تہدید ہے۔ کہ اگر یہ لوگ اپنی مجرمانہ روش اور حق دشمنی سے باز نہ آئے، تو ان کا انجام بھی وہی ہو گا جو گزشتہ مجرموں کا ہو چکا، کہ اللہ کا قانون بے لاگ اور سب کے لئے یکساں ہے۔

۴۹۔۔۔    سو اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے ایک اور مظہر کو پیش فرمایا گیا ہے جس کا مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے، اور جس میں عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ ہے کہ وہ ان ہواؤں کو بھیجتا ہے، جو بادلوں کو اٹھاتی ابھارتی ہیں، پھر وہ اپنی قدرت و حکمت سے ان بادلوں کو فضا میں پھیلاتا بکھیرتا ہے۔ پھر وہ ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے اندر سے بارش نکلتی ہے۔ پھر وہ لوگ جو اس رحمت سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں، وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں۔ حالانکہ اس سے کچھ ہی پہلے وہ آس توڑے اور مایوس بیٹھے ہوتے ہیں، سو اسی طرح تم لوگوں کے لئے اللہ پاک کی رحمت کا اچانک ظہور ہو گا تو اس وقت تم خوش ہو جاؤ گے اور جس طرح بارش کے نزول سے پہلے لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں لیکن اچانک اور خلاف توقع رحمت کی گھٹا چھا جاتی ہے۔ اسی طرح اس کی رحمت و عنایت کا ظہور بھی خلاف توقع اور بالکل اچانک ہوتا ہے، نیز اسی سے یہ درس عظیم بھی ملتا ہے کہ جس خالق و مالک نے تم لوگوں کی ظاہری اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے تمہارے لئے ظاہری اور حسی بارش کا اس طرح حکمتوں بھرا نظام قائم فرمایا، کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے معنوی اور روحانی بارش کا سامان نہ کرے؟ حالانکہ روحانی ضرورتیں جسمانی اور مادی ضرورتوں سے کہیں بڑھ کر اہم اور ضروری ہوتی ہیں۔ سو اس نے تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے وحی خداوندی کی معنوی بارش کا بھی بھرپور انتظام فرمایا۔ جو اب قرآن حکیم کی صورت میں اپنی کامل اور آخری شکل میں تمہارے سامنے موجود ہے اور جو قیامت تک سب دنیا کی روحانی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کافی اور ہر لحاظ سے کافی ہے، والحمد للہ جل وعلا۔ بس جو لوگ اس کا انکار کریں گے۔ اور اس سے منہ موڑیں گے وہ بڑے ہی محروم اور بدبخت لوگ ہونگے، والعیاذُ باللہ العظیم

۵۳۔۔۔    پس اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ منکر و معاند لوگ حقیقت کے اعتبار سے زندہ نہیں مردہ ہیں، اور انہوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اپنے ذرائع علم و ادراک کو ضائع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں یہ اندھے اور بہرے بن کر رہ گئے۔ اس لئے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مُردوں کو سنانا، اور ایسے اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لے آنا، آپ کے بس میں نہیں۔ آپ تو بس انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں، اور آپ کی دعوت حق کا فائدہ انہی کو پہنچ سکتا ہے، جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہوں، یا ایمان لانا چاہتے ہوں، اور وہ مطیع و فرمانبردار ہوں، یعنی حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے آمادہ و تیار ہوں، رہ گئے معاند اور ہٹ دھرم لوگ تو ان کو حق و ہدایت کی دعوت سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور سمع و طاعت سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلیٰ مایحب ویرید،

۵۴۔۔۔    سو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت، اس کی رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت و یکتائی، پر استدلال کے لئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم خود اپنے وجود، اور اپنی زندگی، ہی کے مختلف مرحلوں میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے لو، تو تم پر یہ سب کچھ خود بخود اور بتمام و کمال واضح ہو جائے گا، سو اللہ وہی ہے جس نے تم لوگوں کو ضعف و ناتوانی سے پیدا فرمایا، پھر اس نے تم کو کمزوری اور ناتوانی کے بعد، جوانی کی بھرپور قوتوں سے نوازا، پھر جوانی کی اس قوت کے بعد اس نے تم پر کمزوری اور بڑھاپا طاری کر دیا، اور وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور وہی ہے جو پورا علم بھی رکھتا ہے، اور کمال قدرت بھی، اس لئے اس کا ہر کام کمال قدرت و حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے، اور تمہاری زندگی کے ان مختلف مراحل میں تم ایسے بے بس ہوتے ہو، کہ تمہاری جان نہیں کہ تم ان میں سے کسی بھی مرحلے پر اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے سے انکار کر سکو، تو پھر تمہارے لئے کسی کبر و غرور کی آخر کیا گنجائش ہو سکتی ہے؟ اور کیونکر؟سو تم لوگ سوچو اور غور کرو کہ آخر وہ کون ہے جو نہایت ہی پُر حکمت طریقے سے قطرے سے گوہر ہونے تک کے ان سب مراحل کا اسقدر باریکی کے ساتھ اہتمام کرنا ہے، اور انسان کو نطفہ و مضغہ سے اٹھا اور بڑھا کر احسن تقویم اور اشرف المخلوقات کے مراتب و درجات سے سرفراز کرتا ہے، اور انسان کی طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر محض اپنے فضل و کرم، اور اپنی شان کریمی و رحیمی سے کرتا ہے؟ سو وہی ہے اللہ وحدہٗ لاشریک، جو کہ خالق حقیقی اور معبود برحق ہے، سبحانہ و تعالیٰ

۵۸۔۔۔    یعنی اس کتاب حکیم قرآن مجید میں ہر عمدہ اور بہترین مثال کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ اس سے حق اور حقیقت کو پوری طرح واضح فرما دیا گیا، جس کے بعد حق کے بارے میں کسی طرح کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ لیکن جو لگ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا۔ انکے سامنے جو بھی نشانی پیش کی جائے انہوں نے اس کے بعد بھی ماننے کے بجائے یہی کہنا ہے کہ تم لوگ باطل پر ہو۔ کیونکہ ایسے لوگ عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں، اور عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں؟ والعیاذُ باللہ العظیم

۵۹۔۔۔    سو اس سے اللہ تعالیٰ کی اس سنت اور دستور کو واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ حق کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اور وہ اپنے کانوں اور آنکھوں کو بند، اور سمع وبصر کی صلاحیتوں سے اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں پر مہر کر دی جاتی ہے اور اس طرح وہ حق سے یکے محروم ہو جاتے ہیں، والعیاذُ باللہ جل وعلا