تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الحَاقَّة

(سورۃ الحاقۃ ۔ سورہ نمبر ۶۹ ۔ تعداد آیات ۵۲)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     وہ ہو کر رہنے والی

۲۔۔۔     کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی

۳۔۔۔     اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی

۴۔۔۔     جھٹلایا ثمود اور عاد نے دہلا دینے والے اس حادثہ کبریٰ کو

۵۔۔۔     پھر ثمود کو تو ہلاک کر دیا گیا حد سے بڑھ جانے والی اس ہولناک آفت سے

۶۔۔۔     اور جو عاد تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ایک ایسی تند و تیز اور سرکش (و بے قابو) ہوا سے

۷۔۔۔     جس کو اللہ نے مسلط رکھا ان پر سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار جس کے نتیجے میں اس قوم (کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر تم وہاں ہوتے تو ان لوگوں ) کو تم اس طرح گرا ہوا دیکھتے کہ گویا کہ وہ کھوکھلے (اور بوسیدہ) تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے

۸۔۔۔     تو کیا (اب) تمہیں ان سے میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟

۹۔۔۔     اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور ان الٹی ہوئی بستیوں (کے باشندوں ) نے بھی ارتکاب کیا اسی بڑی (اور ہولناک) خطا کا

۱۰۔۔۔     ان سب نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی سو اس نے پکڑا ان سب کو ایک بڑی ہی سخت (اور ہولناک) پکڑ میں

۱۱۔۔۔     بلاشبہ ہم ہی نے سوار کیا تھا تم کو (اپنی رحمت و عنایت سے نوح کی) اس کشتی میں جبکہ (طوفان کا) پانی کراس کر گیا تھا سب حدوں کو

۱۲۔۔۔     تاکہ ہم اس (واقعہ) کو تمہارے لئے (عبرت پذیری کی) ایک عظیم الشان یادگار بنا دیں اور تاکہ یاد رکھیں اس کو یاد رکھنے والے کان

۱۳۔۔۔     پھر جب (اپنے مقرر وقت پر) پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک ہی بار

۱۴۔۔۔     اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر کوٹ دیا جائے گا سو یہ سب ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ایک ہی چوٹ سے

۱۵۔۔۔     تو اس دن ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی

۱۶۔۔۔     اور پھٹ پڑے گا آسمان سو وہ اس روز (اپنی بندشیں ڈھیلی پڑ جانے سے ) بالکل بودا ہو جائے گا

۱۷۔۔۔     فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اٹھائے ہوں گے تمہارے رب کے عرش کو اپنے اوپر اس روز آٹھ فرشتے

۱۸۔۔۔     اس روز تمہیں پیش کیا جائے گا (اپنے رب کے حضور) اس حال میں کہ چھپی نہ رہے گی تمہاری کوئی بات (اس سے )

۱۹۔۔۔     پھر جس (خوش نصیب) کو دیا گیا ہو گا اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں تو وہ (مارے خوشی کے دوسروں سے ) کہہ رہا ہو گا کہ لو جی ذرا میرا نامہ اعمال پڑھئے گا

۲۰۔۔۔     مجھے تو یہ یقین تھا کہ مجھے بہر حال سابقہ پڑنا ہے اپنے حساب سے

۲۱۔۔۔     پس وہ تو ایک بڑی ہی (عمدہ و پاکیزہ اور) پسندیدہ گزران میں ہو گا

۲۲۔۔۔     یعنی ایک ایسی عالی شان جنت میں

۲۳۔۔۔     جس کے خوشے جھکے پڑ رہے ہوں گے

۲۴۔۔۔     (کہا جائے گا کہ) مزے سے کھاؤ اور پیو تم لوگ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم لوگوں نے گزرے ہوئے دنوں میں (دنیا میں ) کئے تھے

۲۵۔۔۔     اور (اس کے برعکس) جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا ہو گا تو وہ (مارے حسرت و افسوس کے ) کہے گا کہ اے کاش مجھے نہ دیا گیا ہوتا میرا نامہ اعمال

۲۶۔۔۔     اور مجھے اس کی خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے

۲۷۔۔۔     اے کاش وہی (دنیا والی) موت ہی خاتمہ کر دینے والی ہوتی

۲۸۔۔۔     کچھ کام نہ آ سکا مجھے میرا مال

۲۹۔۔۔     ہلاک (اور رخصت) ہو گیا مجھ سے میرا (جاہ و) اقتدار

۳۰۔۔۔     (حکم ہو گا کہ) پکڑو اس کو اور پہنا دو اس کو طوق

۳۱۔۔۔     پھر جھونک دو اس کو (دوزخ کی) دہکتی آگ میں

۳۲۔۔۔     پھر جکڑ دو اس کو ایک ایسی ہولناک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہے

۳۳۔۔۔     کہ یہ ایمان نہیں رکھتا تھا اس اللہ پر جو کہ بڑی ہی عظمتوں والا ہے

۳۴۔۔۔     اور یہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا

۳۵۔۔۔     پس اب نہ تو یہاں اس کا کوئی دوست ہے

۳۶۔۔۔     اور نہ ہی اس کے لئے کھانے کی کوئی چیز ہو گی بجز (دوزخیوں کے ) زخموں کی اس دھوون کے

۳۷۔۔۔     جس کو کوئی نہ کھائے گا بجز ایسے ہی بڑے (بدبخت) گنہگاروں کے

۳۸۔۔۔     پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم لوگ دیکھ رہے ہو

۳۹۔۔۔     اور ان کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے

۴۰۔۔۔     بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک بڑے ہی معزز پیغمبر کا پیش کیا ہوا کلام ہے

۴۱۔۔۔     اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں کم ہی ایمان لاتے ہو تم لوگ

۴۲۔۔۔     اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا قول ہے کم ہی غور کرتے ہو تم لوگ

۴۳۔۔۔     یہ تو سراسر (اور پورے کا پورا) اتارا ہوا ہے پروردگار عالم کی طرف سے

۴۴۔۔۔     اور اگر یہ (پیغمبر) از خود کوئی بات بنا کر ہمارے ذمے لگا دیتے

۴۵۔۔۔     تو ہم یقیناً پکڑ لیتے ان کو داہنے ہاتھ سے

۴۶۔۔۔     پھر سختی کے ساتھ کاٹ ڈالتے ہم ان کی رگ جان کو

۴۷۔۔۔     اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی (ہمیں ) اس سے روکنے والا نہ ہوتا

۴۸۔۔۔     اور بلاشبہ یہ (قرآن) قطعی طور پر ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) ہے پرہیزگاروں کے لئے

۴۹۔۔۔     اور ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے بھی ہیں

۵۰۔۔۔     اور بلاشبہ یہ (کلام حق) قطعی طور پر حسرت (و یاس) ہے کافروں کے لئے

۵۱۔۔۔     اور بلاشبہ یہ قطعی طور پر یقینی حق ہے

۵۲۔۔۔     پس آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کے نام کی جو بڑا ہی عظمت والا ہے

تفسیر

 

۱۔۔۔  سورہ الحاقۃ۔  الحاقۃ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے معنی ہیں ہونی شدنی، اور ہو کر رہنے والی چیز یعنی جس کا ہونا عقل و نقل، اور اخلاق و فطرت ہر اعتبار سے ضروری ہے۔ جو بالکل اٹل اور قطعی ہے۔ پس یہ ایک لفظ پورے ایک جملے کے قائم مقام ہے۔ اس لئے یہاں پر اس کے لئے مبتداء مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس میں مبتداء مقدر ماننا اس کی بلاغت اور اصل مقصد کے تقاضوں کے خلاف ہے کیونکہ اس طرح کے اسلوب میں اصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کی ساری توجہ اسی لفظ کے مضمون اور اس کے مفہوم پر مرکوز رہے۔ یہاں پر الحاقۃ کے بعد ما الحاقۃ کے سوال و استفہام کے ذریعے اس کے ہول اور اس کی دہشت و بے پناہی کو مزید واضح فرما دیا گیا۔ اور پھر وَمَا اَدْرَکَ مَالْحَاقَّۃ کے جملے سے اس کی اس ہولناکی کی مزید وضاحت فرما دی گئی۔ کہ تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہونی شدنی اور ہو کر رہنے والی وہ اٹل حقیقت؟ یعنی اس کی حقیقت کو جاننا اور پوری طرح اس کا اندازہ کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ سو بڑا ہی برا حال ہو گا ان لوگوں کا جو آج اس کو جھٹلا رہے ہیں۔ اور اس کی تکذیب کر کے آج وہ بے فکری اور لاپرواہی کی زندگی گزار رہے ہیں؟ کہ اسطرح ایسے لوگوں کی فرصت عمر یونہی گزر جائیگی، اور ان کو خالی ہاتھ دنیا سے کوچ کرنا پڑے گا، جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے؟ کیونکہ یہ وہ خسارہ ہے جس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہو گی، اور ظاہر ہے کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا، والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے، حیات مستعار کا ایک ایک لمحہ اپنی رضاء و خوشنودی کے لئے صرف کرنے کی توفیق سے نوازے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،

۱۴۔۔۔   عذاب کے تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اس سے ظہور اور وقوع قیامت کا ذکر و بیان فرمایا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ہمیں ان باغی اور سرکش قوموں کو عذاب دینے کے لئے کسی طرح کی کوئی تیاری نہیں کرنی پڑی۔ بلکہ جب چاہا ان کو عذاب میں دھر لیا اسی طرح قیامت کو قائم کرنے کے لئے بھی ہمیں کسی تیاری یا اہتمام کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ اس کے لئے صرف ہمارے ارادہ و اشارہ اور نفخ صور ہی کی دیر ہو گی پس جونہی صور میں ایک پھونک ماری جائے گی قیامت واقع ہو جائے گی۔ اور یہ زمین اور اس میں گاڑھے گئے، پہاڑوں کے یہ عظیم الشان لنگر جن کو آج تم لوگ اپنے خیال میں بڑی چیز سمجھتے ہو اس زمین اور ان پہاڑوں دونوں کو اٹھا کر ایک ہی ضرب ایسی لگائی جائے گی جس سے یہ سب چُورا چُورا اور پاش پاش ہو کر رہ جائیں گے یعنی ایک ہاتھ میں اس زمین کو اٹھایا جائے گا، اور دوسرے میں ان دیو ہیکل پہاڑوں کو اور ان دونوں کو آپس میں اس طرح ٹکرا دیا جائے گا جس طرح کہ شیشے کے دو گلاسوں کو اٹھا کر آپس میں مار دیا جائے جس سے وہ چورا چورا ہو جائیں، سو اسی طرح اس دن اس زمین اور ان پہاڑوں کو چورا چورا کر دیا جائے گا، اور جب ان دیو ہیکل پہاڑوں کا اس روز یہ ال ہو گا تو پھر تمہاری بنائی ہوئی ان بڑی بڑی عمارتوں کی حیثیت ہی کیا ہے جن پر تم لوگوں کو بڑا ناز ہے؟ اور جن کو تم ناقابل شگست سمجھتے ہو، سو پہاڑوں کے اس انجام کو دیکھ کر اپنی ان بڑی بڑی عمارتوں کے بارے میں تم لوگ خود سوچ لو، اور غور کر لو۔

۱۷۔۔۔  زمین اور پہاڑوں کے حال کے ذکر و بیان کے بعد اس سے آسمان کا حال اور اس کا حشر بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ یہ آسمان جو آج تم لوگوں کو اس قدر محکم اور مضبوط نظر آ رہا ہے کہ اس میں ڈھونڈے سے بھی کوئی نقص یا شگاف نظر نہیں آ سکتا اس روز یہ بھی پھٹ پڑے گا۔ اور اس کے نتیجے میں اس روز یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو جائے گا۔ اس کا یہ سب استحکام اور اس میں پایا جانے والا یہ تجاذب و تماس ک سب رخصت ہو جائے گا۔ اور یہ اس روز روئی کے گالوں اور دھوئیں کے بادلوں کی طرح اڑتا پھرے گا۔ فرشتے اس کے کناروں پر ہونگے، اور تمہارے رب کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہو گا، یہ چیز عالم غیب کے ان حقائق میں سے ہے جو متشابہات کی قسم سے ہیں جن کو اس دنیا میں سمجھنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔

۱۸۔۔۔   یعنی اس تمام اتھل پتھل کے نتیجے میں اس روز تم لوگ اپنے رب کے سامنے اس طرح پیش کئے جاؤ گے کہ تمہاری کوئی بھی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ سو اس روز تم سب اپنے رب کے حضور حاضر و موجود ہوؤ گے کیونکہ زمین و آسمان کی اس پوری بساط کو اس دن لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ اس لئے اس روز نہ تو کسی کے لئے کوئی چھپنے کی جگہ ہو گی۔ اور نہ کوئی چھپنے کی چیز۔ بلکہ سب بغیر کسی اوٹ اور آڑ کے اپنے رب کے سامنے موجود ہونگے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ یعنی اس روز یہ سب اللہ کے سامنے موجود ہونگے جو کہ یکتا اور سب پر غالب ہے اور یہ سب اس لئے ہو گا کہ اس طرح ہر کسی کو اس کی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ جس کی تفصیل اس کے متصل بعد بیان فرمائی گئی ہے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں۔

۲۸۔۔۔   یعنی میرا وہ مال جس کو جوڑنے اور جمع کرنے کے لئے میں زندگی بھر لگا رہا، اور جس کے لئے میں دن رات ایک کئے ہوئے تھا، جس کے لئے میں حلال اور حرام کی تمیز تک کی پرواہ نہیں کرتا تھا جس کو میں نے بہت کچھ بلکہ سب سمجھ رکھا تھا، اور جس کو میں جوڑ جوڑ کر اور گن گن کر رکھا کرتا تھا وہ سب وہیں دنیا کے دار فانی میں رہ گیا آج وہ مجھے کچھ بھی کام نہ آ سکا، سو اس طرح وہ حسرت بھرے انداز میں اس کو یاد کرے گا۔ اور کہے گا کہ کاش کہ اس کو میں نے اپنی آخرت کی اس زندگی کے لئے خرچ کیا ہوتا، تاکہ آج وہ مجھے یہاں کام آتا، اور اس عذاب سے بچنے کا ذریعہ بن جاتا، مگر بے وقت اس افسوس اور پچھتاوے کا اس کا اس کو کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہو گا۔ سوائے اس کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے سو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے غیب کے ان عظیم الشان حقائق کو ان کے سامنے اس صراحت و وضاحت کے ساتھ پیش فرما دیا جن کو جاننے کے لئے دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں، مگر اس کتاب حکیم نے ان حقائق سے اس قدر پیشگی آگاہ فرما دیا، تاکہ جنہوں نے انتہائی ہولناک انجام سے بچنا ہو بچ جائیں قیل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے لئے پچھتانا پڑے۔ مگر دنیا ہے کہ غفلت و لا پرواہی میں ڈوبی پڑی ہے، اور وہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں، اِلاّ ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ جل و علا، یہاں پر کلمہ ما نافیہ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اور یہ استفہامیہ بھی ہو سکتا ہے یعنی کس کام آیا میرے میرا وہ مال جو میں جوڑ جوڑ کر رکھا کرتا تھا؟ اور موقع و مقام کے لحاظ سے یہ دوسرا احتمال زیادہ وقیع ہے کہ اس میں یاس و حسرت کا پہلو زیادہ واضح اور نمایاں ہے والعیاذ باللہ، جل و علا۔

۲۹۔۔۔   سلطان کے معنی حکومت و اقتدار کے بھی آتے ہیں، اور حجت و دلیل کے بھی، اور یہ دونوں ہی معنی و احتمال یہاں پر درست ہو سکتے ہیں اور ان دونوں ہی صورتوں میں معنی و مطلب صحیح بنتا ہے کیونکہ دنیا میں یہ دونوں ہی چیزیں تنگ ظرف انسانوں اور بت پندار کے پجاریوں کے لئے محرومی کا باعث بنتی ہیں۔ کسی کے لئے اس کی حکومت و اقتدار کا نشہ محرومی کا باعث بنتا ہے، کہ اس کی مستی میں وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ اور کسی کے لئے اس کی حجت بازی اور طلاقت لسانی محرومی کا باعث بنتی ہے، اور اس کی بناء پر بھی وہ اپنی بڑائی کے زعم و گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور حق کو قبول کرنے اور اس کے آگے جھکنے کے بجائے الٹا اپنی متکبرانہ اور ابلیسی منطق سے صحیح بات کو غلط اور غلط کو صحیح کر کے پیش کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ضلال کے ساتھ اضلال کے جرم کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔ اور اس طرح اس کا جرم دوہرا اور ڈبل ہو جاتا ہے۔ سو اس روز ایسا محروم انسان اپنی محرومی پر حسرت و افسوس کے طور پر کہے گا کہ آج کھو گیا مجھ سے میرا وہ غلبہ و اقتدار جس کی بناء پر میں دنیا مست اور متکبر ہو کر حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوا کرتا تھا اور کہے گا کہ گم ہو گئی مجھ سے میری وہ منطق اور حجت بازی جو میں حق اور اہل حق کے خلاف دنیا میں بگھارا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نور حق و ہدایت سے محروم کا محروم ہی رہا۔ اور اس ہولناک انجام سے دوچار ہوا۔ مگر بے وقت کے اس اقرار و اعتراف کا اس کو اس روز کوئی فائدہ بہر حال نہیں ہو گا۔ سوائے اس کی آتش و یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ اباللہ العظیم، بکل حالٍ من الاحوال، سو آخرت کو بنانے سنوار نے کا موقع اسی دنیاوی زندگی کی فرصت محدود میں، و باللہ التوفیق لمایُحِبُّ و یرید،

۵۲۔۔۔   سو آخر کی ان تین آیات کریمات سے تین اہم حقائق کو واضح فرما دیا گیا، اول یہ کہ کافر لوگ آج تو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں اور اس کتاب حکیم پر ایمان لانے کو تیار نہیں لیکن وقت آئے گا کہ جب یہ چیز ان کے لئے سراسر یاس و حسرت اور ندامت و رسوائی کا باعث ہو گی اور دوسری بات یہ کہ جس سزا و جزا کا یہ لوگ انکار کر رہے ہیں وہ قطعی طور پر ایک یقینی حق ہے اور وہ لازماً ویسے ہی واقع ہو کر رہے گی جیسا کہ قرآن اس کے بارے میں بتا رہا ہے اور تیسری بات یہ کہ تم اپنے اس رب کے نام کی تسبیح کرتے رہا کرو جو بڑا ہی عظمت والا ہے کہ اس کی تسبیح ہی آپ کے لئے حصول صبر و استقامت اور قوت و اعتماد کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وبہٰذا نصل الی نہایۃ المطاف فی ہذا التفسیر المختصر لسورۃ الحاقۃ، و الحمد للہ جل و علا