تفسیر مدنی

سُوۡرَةُ الزُّمَر

(سورۃ الزمر ۔ سورہ نمبر ۳۹ ۔ تعداد آیات ۷۵)

 

اللہ کے (پاک) نام سے شروع کرتا ہوں جو کہ بڑا مہربان، نہایت ہی رحم فرمانے والا ہے ۔

 

۱۔۔۔     اتارا گیا ہے اس کتاب (حکیم) کو اللہ کی طرف سے جو سب پر غالب نہایت حکمت والا ہے

۲۔۔۔     بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ (اے پیغمبر !) پس تم بندگی کرو اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لئے دین کو

۳۔۔۔     آگاہ رہو کہ اللہ ہی کے لئے ہے دین خالص اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور سرپرست (و کارساز) بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم تو ان کی بندگی و پوجا صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ رسائی کرا دیں ہماری اللہ تک بے شک اللہ ہی فیصلہ فرمائے گا ان کے (اور اہل حق کے) درمیان ان تمام باتوں کا جن میں یہ باہم اختلاف کرتے ہیں بلاشبہ اللہ ہدایت سے سرفراز نہیں فرماتا کسی ایسے شخص کو جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو

۴۔۔۔     اگر اللہ اولاد بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا (اس غرض کے لئے) خود ہی چن لیتا پاک ہے وہ وہی ہے اللہ یکتا انتہائی زبردست

۵۔۔۔     اسی نے (اور تنہا اسی نے) پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کو حق کے ساتھ اسی کی ہستی ہے جو رات کو لپیٹ دیتی ہے دن پر اور دن کو رات پر اور اسی نے کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند (کے ان عظیم الشان کروں) کو ان میں سے ہر ایک چلے جا رہا ہے ایک مقررہ مدت تک آگاہ رہو وہی ہے زبردست انتہائی درگزر کرنے والا

۶۔۔۔     جس نے پیدا فرمایا تم سب کو ایک ہی جان سے پھر اسی نے بنایا اس جان سے اس کا جوڑا اور اسی نے اتارے تمہارے لئے مویشیوں میں سے (نر و مادہ کے) آٹھ جوڑے وہی تمہیں پیدا فرماتا ہے تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں (اس طور پر کہ) وہ تمہیں ایک پر ایک شکل دئیے چلا جاتا ہے تین تاریکیوں میں یہ ہے اللہ رب تم سب کا اسی کی ہے بادشاہی (اور فرمان روائی) کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس کے پھر تم لوگ کہاں (اور کیسے) پھر جاتے ہو راہ حق و صواب سے ؟

۷۔۔۔     اگر تم لوگ کفر کرو گے تو (اس کا کچھ نہیں بگاڑو گے کہ) بے شک اللہ ہر طرح سے غنی (و بے نیاز) ہے تم سب سے (اے لوگوں !) مگر وہ پسند نہیں فرماتا اپنے بندوں کے لئے کفر (کی ظلمتوں) کو اور اگر تم شکر کرو گے تو اس کو وہ پسند فرماتا ہے تمہارے لیے (اور یاد رکھو کہ) کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ نہیں اٹھائے گا کسی دوسرے کا پھر (یہ حقیقت بھی یاد رکھو کہ) اپنے رب ہی کی طرف بہر حال لوٹ کر جانا ہے تم سب کو تب وہ بتا دے گا تم لوگوں کو وہ سب کچھ جو تم کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں) بے شک وہ پوری طرح جانتا ہے دلوں بھیدوں کو

۸۔۔۔     اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ (سب فرضی معبودوں کو بھول کر) اپنے رب ہی کو پکارتا ہے اسی کی طرف رجوع ہو کر مگر جب وہ اس کو (تکلیف کی بجائے) نواز دیتا ہے اپنی طرف سے کسی نعمت سے تو یہ بھول جاتا ہے اس (مصیبت و تکلیف) کو جس کی طرف وہ اس کو بلا (اور پکار) رہا تھا اس سے پہلے اور (اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ) وہ اللہ کے لئے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (اس طرح) وہ بہکائے اللہ کی راہ سے (دوسروں کو سو ایسوں سے) کہہ دو کہ تم مزے کر لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑا سا عرصہ بلاشبہ (انجام کار) تم دوزخیوں میں سے ہو

۹۔۔۔     کیا (یہ شخص اور وہ ایک برابر ہو سکتے ہیں ؟) جو فرمانبردار ہو (اپنے رب کا) جو رات کی گھڑیاں (اپنے رب کی رضا کیلئے) سجدے اور قیام کی حالت میں گزارتا ہو جو آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو (کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟) کہو (اتنا تو سوچو کہ) کیا باہم برابر ہو سکتے ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ؟ (نہیں اور ہرگز نہیں) نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقل سلیم رکھتے ہیں

۱۰۔۔۔     کہہ دو) میری طرف سے کہ (اے میرے وہ بندوں جو ایمان لائے ہو ڈرتے رہو تم اپنے رب سے جنہوں نے نیکی) اور اچھائی) کی اس دنیا میں ان کے لئے عظیم الشان بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے بے شک صبر کرنے والوں کو پورا دیا جائے گا ان کا اجر بغیر کسی حساب کے

۱۱۔۔۔     کہو کہ بے شک مجھے بس تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے دین کو

۱۲۔۔۔     نیز مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار بنوں

۱۳۔۔۔     کہو میں تو سخت ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے

۱۴۔۔۔     کہو کہ (میں تو بہرحال) اللہ ہی کی عبادت (و بندگی) کرتا رہوں گا اسی کے لئے خالص کر کے اپنے دین کو

۱۵۔۔۔     سو (میرا یہ اعلان سننے کے بعد) تمہاری مرضی کہ تم جس کی چاہو عبادت (و بندگی) کرو اس کے سوا کہو کہ حقیقت بہر حال یہی ہے کہ اصل (اور حقیقی) خسارے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے (حق سے منہ موڑ کر) خسارے میں ڈالا ہو گا اپنے آپ کو اور اپنے تعلق داروں کو قیامت کے روز آگاہ رہو کہ یہی ہے کھلا ہوا خسارہ (اور نقصان)

۱۶۔۔۔     ان کے لئے آتش دوزخ کی ہولناک چھتریاں ہوں گی ان کے اوپر سے بھی اور ان کے نیچے سے بھی یہی ہے وہ انجام جس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو (اپنی رحمت و عنایت سے) اے میرے بندوں تم مجھ ہی سے ڈرو

۱۷۔۔۔     اور اس کے برعکس جو لوگ بچتے ہیں طاغوت کی پوجا (و بندگی) سے اور وہ (صدق دل سے) رجوع کئے رہتے ہیں اللہ کی طرف ان کے لئے بڑی خوشخبری ہے سو خوشخبری سنا دو میرے ان بندوں کو

۱۸۔۔۔     جو غور سے سنتے ہیں ہماری بات کو پھر وہ پیروی کرتے ہیں اس کے بہترین پہلو کی یہی ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے نوازا ہدایت (کی دولت) سے اور یہی ہیں عقولِ سلیمہ رکھنے والے (خوش نصیب)

۱۹۔۔۔     کیا جس شخص پر پکی ہو چکی ہو بات عذاب کی تو کیا آپ (اس کو نواز سکتے ہیں ہدایت کی دولت سے ؟ اور کیا آپ) بچا سکتے ہیں اس کو جو پڑا ہو (دوزخ کی) اس ہولناک آگ میں

۲۰۔۔۔     لیکن جو لوگ ڈرتے رہے ہوں گے اپنے رب سے ان کیلئے منزل پر منزل بنی ہوئی ایسی عالی شان عمارتیں ہوں گی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں اللہ کے فرمائے گئے وعدہ کے مطابق (اور) اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی

۲۱۔۔۔     کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ (کس حیرت انگیز نظام کے تحت) اتارتا ہے آسمان سے پانی پھر اس کو چلا دیتا ہے وہ زمین کے اندر سوتوں چشموں اور دریاؤں کی شکل میں پھر اس کے ذریعے وہ نکالتا ہے (قسما قسم کی) رنگا رنگ کھیتیاں آخر میں وہ (لہلہاتی) کھیتیاں ایسی سوکھ جاتی ہیں کہ تم ان کو زرد پڑی ہوئی دیکھتے ہو آخرکار اللہ تعالیٰ اس کو چورا چورا کر کے رکھ دیتا ہے بے شک اس میں بڑی بھاری نصیحت (اور یاد دہانی کا سامان) ہے عقولِ سلیمہ رکھنے والوں کیلئے

۲۲۔۔۔     تو کیا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہو اسلام (کی حقانیت) کے لئے جس کے باعث وہ ایک عظیم الشان نور پر قائم ہو اپنے رب کی طرف سے (تو کیا ایسا شخص اور وہ سنگ دل انسان باہم برابر ہو سکتے ہیں ؟ جو اس نور سے محروم ہو؟) سو بڑی خرابی (اور ہلاکت) ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل سخت (اور محروم) ہو گئے اللہ کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) سے ایسے لوگ پڑے ہیں کھلی گمراہی میں

۲۳۔۔۔     اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے سب سے عمدہ کلام ایک ایسی عظیم الشان کتاب کی شکل میں جو باہم ملتی جلتی دوہرے بیان والی ہے جس سے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے پھر نرم ہو جاتے ہیں ان کے بدن اور موم ہو کر جھک پڑتے ہیں ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف یہ ہے اللہ کی ہدایت جس کے ذریعے وہ راہنمائی فرماتا ہے (راہ حق و صواب کی) جس کو وہ چاہتا ہے (اس کی طلب صادق کی بنا پر) اور جس کو اللہ ہی ڈال دے گمراہی میں (اس کے خبث باطن کی بناء پر) تو اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا

۲۴۔۔۔     تو کیا (اس شخص کی حرمان نصیبی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ؟) جو اپنے چہرے کے ذریعے اپنا بچاؤ کرنے پر مجبور ہو گا قیامت کے روز (وہاں کے) اس برے عذاب سے ؟ اور (مزید یہ کہ اس روز) کہا جائے گا ایسے ظالموں سے (ان کی توبیخ و تذلیل کے لئے) کہ اب چکھو مزہ تم لوگ اپنی اس کمائی کا جو تم (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

۲۵۔۔۔     ان لوگوں نے بھی جھٹلایا (حق اور ہدایت کو) جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے سو (آخرکار) ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں سے ان کو خیال (و گمان) بھی نہ تھا

۲۶۔۔۔     اس طرح اللہ نے چکھا دیا ان لوگوں کو مزہ رسوائی کا دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو یقینی طور پر اس سے کہیں بڑھ کر (ہولناک اور رسوا کن) ہو گا کاش کہ یہ لوگ جان لیتے

۲۷۔۔۔     اور بلاشبہ ہم نے بیان کیا لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون تاکہ یہ سبق لیں (اور نصیحت حاصل کریں)

۲۸۔۔۔     ایسے عظیم الشان قرآن کی شکل میں جو کہ عربی زبان میں ہے اور جس میں کوئی کجی نہیں تاکہ یہ لوگ بچ سکیں

۲۹۔۔۔     اللہ تعالیٰ نے (موحد اور مشرک کے بارے میں) ایک مثالی بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص تو وہ ہے جس (کی ملکیت) میں کئی ضدی قسم کے مالک شریک ہوں اور ایک پورے کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہو کیا ان دونوں کا حال ایک برابر ہو سکتا ہے ؟ الحمد اللہ (کہ حق ثابت اور واضح ہو گیا) لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

۳۰۔۔۔     بے شک آپ کو بھی مرنا ہے (اے پیغمبر !) اور ان سب کو بھی بہر حال مرنا ہے

۳۱۔۔۔     پھر یہ بھی ایک قطعی حقیقت ہے کہ قیامت کے روز تم سب (دوبارہ زندہ ہو کر) اپنے رب کے یہاں اپنا مقدمہ پیش کرو گے

۳۲۔۔۔     پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو جھوٹ باندھے اللہ پر؟ اور وہ جھٹلائے سچائی کو جب کہ وہ پہنچ چکی ہو اس کے پاس کیا جہنم میں (دائمی) ٹھکانہ نہ ہو گا ایسے کافروں کے لئے ؟

۳۳۔۔۔     اور جو سچی بات لے کر آیا اور (جنہوں نے) اس کی تصدیق کی تو یہی لوگ ہیں پرہیزگار

۳۴۔۔۔     ان کو اپنے رب کے یہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا

۳۵۔۔۔     تاکہ اللہ (اپنے کرم سے) مٹا دے ان سے ان کے وہ برے عمل جو (بتقاضائے بشریت) ان سے سرزد ہو گئے ہوں گے اور وہ ان کو بہترین بدلہ دے ان کے ان کاموں کا جو یہ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

۳۶۔۔۔     کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کو؟ اور یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان (جھوٹے معبودوں) سے جو اس کے سوا (انہوں نے از خود گھڑ رکھے) ہیں اور جس کو اللہ ڈال دے گمراہی (کے گڑھے) میں اس کو کوئی راہ پر نہیں لا سکتا

۳۷۔۔۔     اور جس کو اللہ راہ پر لے آئے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا کیا اللہ سب پر غالب اور بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

۳۸۔۔۔     اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین (کی اس کائنات) کو؟ تو یہ سب کے سب ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی نے (تو ان سے) کہو کہ اچھا تو پھر یہ بتاؤ کہ جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا کیا ان میں اس کی کوئی طاقت ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو یہ اس تکلیف کو دور کر سکیں ؟ یا وہ اگر مجھ پر کوئی رحمت (اور عنایت) فرمانا چاہے تو کیا یہ (اس بل بوتے کے مالک ہیں کہ یہ) اس کو روک دیں ؟ کہو کافی ہے مجھے اللہ اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے

۳۹۔۔۔     کہو (ان سے اے پیغمبر! کہ) اے میری قوم کے لوگوں تم اپنی جگہ کام کئے جاؤ میں اپنا کام کرتا رہوں گا عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا

۴۰۔۔۔     کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اس کو رسوا کر کے رکھ دے اور کس پر اترتا ہے ہمیشہ رہنے والا عذاب

۴۱۔۔۔     بلاشبہ ہم ہی نے اتاری آپ کی طرف (اے پیغمبر !) یہ کتاب سب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے حق کے ساتھ پھر جس نے (اس کے مطابق) راہِ راست کو اپنایا تو اس نے اپنا ہی بھلا کیا اور جو بھٹک گیا تو اس کے بھٹکنے کا وبال بھی یقیناً خود اسی کے سر ہو گا اور آپ ان کے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں

۴۲۔۔۔     اللہ ہی سب کی روحیں قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان کی بھی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہوتا ان کی نیند (کی حالت) میں پھر ان جانوں کو تو وہ روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہوتا ہے اور دوسری جانوں کو وہ چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ مدت تک بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں

۴۳۔۔۔     کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سفارشی بنا رکھے ہیں (بغیر کسی سند اور دلیل کے ؟ تو ان سے) کہو کہ کیا یہ (تمہارے خود ساختہ شفیع و سفارشی) تمہاری سفارش کریں گے اگرچہ یہ نہ کچھ اختیار رکھتے ہوں اور نہ ہی یہ کچھ سمجھتے (بوجھتے) ہوں ؟

۴۴۔۔۔     کہو کہ اللہ ہی کے لئے (اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں) ہے ہر طرح کی سفارش اسی کے لئے ہے بادشاہی (اور فرمانروائی) آسمانوں اور زمین (کی اس ساری کائنات) کی پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب لوگوں کو

۴۵۔۔۔     اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو (شرک کے ماروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ) کڑھنے (اور بگڑنے) لگتے ہیں دل ان لوگوں کے جو ایمان (و یقین) نہیں رکھتے آخرت پر اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا دوسروں کا تو یکایک کھل کھلا اٹھتے ہیں (شرک کے یہ روگی)

۴۶۔۔۔     کہو اے اللہ پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے (بغیر کسی سبقِ مثال کے اور ایک برابر) جاننے والے نہاں و عیاں کے تو ہی (آخری) فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان ان تمام باتوں کا جن کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

۴۷۔۔۔     اور (اس وقت حال یہ ہو گا کہ) اگر ظالم لوگوں کے لئے وہ سب کچھ بھی ہو جائے جو کہ زمین میں موجود ہے اور اسی کے برابر اس کے ساتھ اور بھی تو یقینی طور پر یہ لوگ قیامت کے دن اس سب کو اس برے عذاب سے بچنے کے لئے دینے کو تیار ہو جائیں گے اور اللہ کی طرف سے انہیں وہ معاملہ پیش آئے گا جس کا انہیں گماں بھی نہ تھا

۴۸۔۔۔     اور وہاں پر ظاہر ہو چکے ہوں گے ان کے سامنے برے نتائج ان کی اس کمائی کے جو یہ لوگ (زندگی بھر) کرتے رہے تھے اور گھیر لیا ہو گا ان کو اسی چیز (کی اصل حقیقت) نے جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

۴۹۔۔۔     پھر اس انسان (کی تنگ ظرفی) کا عالم یہ ہے کہ جب اس کو چھو جاتی ہے کوئی تکلیف تو یہ ہم ہی کو پکارتا ہے لیکن جب ہم اس کو عطا کر دیتے ہیں اپنی طرف سے کوئی نعمت تو یہ (اکڑ کر اور بپھر کر) کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم (و ہنر) کی بناء پر ملی ہے (نہیں) بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

۵۰۔۔۔     یہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں مگر (شامت آنے پر) ان کے کچھ کام نہ آ سکی ان کی وہ کمائی جو وہ کرتے رہے تھے

۵۱۔۔۔     سو ان کو پہنچ کر رہے برے نتائج ان کی اس کمائی کے جو وہ کرتے رہے تھے اور ان لوگوں میں سے جو اڑے رہیں گے اپنے ظلم (و باطل) پر ان کو بھی پہنچ کر رہیں گے برے نتائج ان کی اس کمائی کے جو یہ کئے جا رہے ہیں اور یہ اس بل بوتے کے مالک نہیں کہ عاجز کر دیں (ہم کو اپنی گرفت و پکڑ سے)

۵۲۔۔۔     اور کیا ان لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہوا کہ اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور وہی تنگ فرماتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے اپنے علم و حکمت کی بناء پر؟ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

۵۳۔۔۔     کہو (ان سے میری طرف سے کہ) اے میرے وہ بندو! جنہوں نے زیادتی کی اپنی جانوں پر کہ مایوس نہ ہوؤ تم اللہ کی رحمت سے بے شک اللہ (اپنے کرم و عنایت سے) بخشش فرماتا ہے سب گناہوں کی بے شک وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

۵۴۔۔۔     اور رجوع کرو تم لوگ اپنے رب کی طرف اور اسی کے حوالے کر دو اپنے آپ کو اس سے پہلے کہ آ پہنچے تم کو اس کا عذاب پھر تمہیں (کہیں سے بھی) کوئی مدد نہ مل سکے

۵۵۔۔۔     اور پیروی کرو تم سب اس سب سے عمدہ کتاب کی جو اتاری گئی ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اس سے پہلے کہ آ پہنچے تم پر اس کا عذاب ایسا اچانک کہ تم کو اس کا خیال (و گمان) بھی نہ ہو

۵۶۔۔۔     (اور ہر وقت اس کے لئے تیار رہا کرو تاکہ) کہیں کوئی شخص یوں نہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے اللہ (پاک) کی جناب میں کی اور میں (غفلت میں پڑا) مذاق ہی اڑاتا رہ گیا

۵۷۔۔۔     یا کوئی یوں کہنے لگے کہ اگر اللہ نے مجھے (نور) ہدایت سے نوازا ہوتا تو یقیناً میں بھی ہو جاتا پرہیزگاروں میں سے

۵۸۔۔۔     یا کوئی عذاب کو دیکھ کر یوں کہنے لگے کہ اے کاش اگر مجھے ایک مرتبہ پھر لوٹ کر جانے کا موقع مل جائے تو میں بھی ہو جاؤں نیکوکاروں (اور فرمانبرداروں) میں سے

۵۹۔۔۔     (اور اس وقت اس کو یہ جواب ملے کہ) کیوں نہیں یقیناً آئیں تیرے پاس میری آیتیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور تو اپنی (جھوٹی) بڑائی کے گھمنڈ میں ہی مبتلا رہا اور تو کافروں ہی میں شامل رہا

۶۰۔۔۔     اور قیامت کے دن تم دیکھو گے ان لوگوں کو کہ جنہوں نے (دنیا میں) جھوٹ باندھا ہو گا اللہ پر کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے کیا جہنم میں ٹھکانہ نہیں ایسے متکبروں کا؟

۶۱۔۔۔     اور (اس کے برعکس) اللہ نجات دے دے گا ان (خوش نصیبوں) کو جنہوں نے تقوی (و پرہیزگاری) کی زندگی گزاری ہو گی ان کی کامیابی کی بناء پر نہ تو ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے

۶۲۔۔۔     اللہ ہی ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے ہر چیز پر نگہبان

۶۳۔۔۔     اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کے ساتھ وہی ہیں خسارے والے

۶۴۔۔۔     کہو کیا پھر بھی تم لوگ مجھے کہتے (اور مجھ سے یہ توقع رکھتے) ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں ؟ اے جہالت کے مارو؟

۶۵۔۔۔     اور بلاشبہ وحی کی گئی آپ کی طرف (اے پیغمبر !) اور ان (تمام انبیاء کرام) کی طرف بھی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ اگر تم نے بھی (بالفرض) شرک کا ارتکاب کر لیا تو یقیناً اکارت چلے جائیں گے تمہارے سب عمل اور یقیناً تم ہو جاؤ گے (ہمیشہ کے لئے) خسارہ اٹھانے والوں میں سے

۶۶۔۔۔     (پس تم کبھی شرک نہیں کرنا) بلکہ اللہ ہی کی بندگی کرتے رہنا اور ہمیشہ اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہونا

۶۷۔۔۔     اور انہوں نے قدر نہیں پہچانی اللہ کی جیسا کہ اس کی قدر پہچاننے کا حق ہے حالانکہ (اس کی قدر و عظمت کا عالم یہ ہے کہ) زمین ساری کی ساری اس کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور آسمان (تمام کے تمام) لپٹے ہوئے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں پاک اور برتر ہے وہ ہر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

۶۸۔۔۔     اور پھونک مار دی جائے گی صور میں جس کے نتیجے میں بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے وہ سب جو کہ آسمانوں میں ہیں اور وہ سب بھی جو کہ زمین میں ہیں مگر جسے اللہ چاہے پھر ایک اور مرتبہ صور پھونکا جائے گا جس کے باعث یہ سب کے سب یکایک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے

۶۹۔۔۔     اور جگمگا اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور (بے کیف) سے اور (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جائے گا اس کے نامہ اعمال کو اور لا حاضر کیا جائے گا تمام نبیوں اور گواہوں کو اور فیصلہ کر دیا جائے گا سب لوگوں کے درمیان (ٹھیک ٹھیک) حق (و انصاف) کے عین مطابق اور ان پر (کسی طرح کا) کوئی ظلم نہیں ہو گا

۷۰۔۔۔     اور پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا ہر کسی کو اس کے (زندگی بھر کے) کئے (کرائے) کا اور وہ (وحدہٗ لاشریک) پوری طرح جانتا ہے ان کے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کرتے رہے تھے (اپنی دنیاوی زندگی میں)

۷۱۔۔۔     اور ہانک کر لے جایا جائے گا دوزخ کی طرف ان لوگوں کو جو اڑے رہے تھے (دنیا میں) اپنے کفر (و باطل) پر گروہ در گروہ کر کے یہاں تک کہ جب یہ (بدبخت) اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو کھول دئیے جائیں گے (ان کے لئے) اس کے دروازے اور اس کے کارندے ان (کی تو بیخ و تقریع کے لئے ان) سے کہیں گے کہ کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس ایسے رسول جو خود تم ہی میں سے تھے ؟ اور جو تم کو (پڑھ) پڑھ کر سنایا کرتے تھے تمہارے رب کی آیتیں ؟ اور تمہیں (ڈراتے اور) خبردار کیا کرتے تھے تمہارے اس (ہولناک) دن (کے آنے اور اس) کی پیشی سے ؟ تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہاں (یہ سب کچھ ضرور ہوا تھا) لیکن پکی ہو چکی تھی عذاب کی بات (ہم جیسے) تمام کافروں پر

۷۲۔۔۔     کہا جائے گا کہ اب داخل ہو جاؤ تم سب دوزخ کے دروازوں میں جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہو گا پس بڑا ہی برا ٹھکانا ہو گا وہ متکبر لوگوں کے لئے

۷۳۔۔۔     ادھر (اعزاز و اکرام کے ساتھ) لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جو ڈرتے رہے تھے اپنے رب سے (اپنی دنیاوی زندگی میں) جنت کی طرف گروہ در گروہ کر کے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور وہاں کے محافظ ان سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر بہت اچھے رہے تم پس داخل ہو جاؤ اب تم اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے

۷۴۔۔۔     اور وہ (فرط مسرت میں) کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے سچ کر دکھایا ہم سے اپنا وعدہ اور ہم کو وارث بنا دیا (جنت کی) اس سرزمین کا جس میں ہم جہاں چاہیں اپنا ٹھکانا بنا سکتے ہیں سو کیا ہی عمدہ بدلہ ہو گا کام کرنے والوں کا

۷۵۔۔۔     اور فرشتوں کو تم وہاں دیکھو گے اس حال میں کہ وہ گھیرا ڈالے ہوں گے عرش کے گرد تسبیح کرتے ہوئے اپنے رب کی حمد (و ثنا) کے ساتھ اور فیصلہ کر دیا جائے گا تمام لوگوں کے درمیان بالکل حق (و انصاف) کے ساتھ اور صدا بلند ہو گی کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کا

تفسیر

 

۲۔۔  سو اس سے ایک تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ کتاب حکیم سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے، اس اللہ کی طرف سے جو کہ سب پر غالب، نہایت حکمت والا ہے، پس اس کی اتاری ہوئی یہ کتاب حکیم عزت و حکمت اور اصل اور حقیقی عزت و حکمت کا منبع و مصدر ہے۔ اور واحد اور حقیقی منبع و مصدر۔ پس جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور اس سے منہ موڑ کر عزت و حکمت کے طلبگار بنتے ہیں وہ تو سراسر دھوکے اور سخت خسارے میں ہیں، اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرمائی گئی ہے کہ اس کا اتارنا بھی سراسر حق اور صدق کے ساتھ ہے اور جو کچھ اس میں فرمایا اور بتایا گیا ہے وہ بھی سراسر حق اور صدق ہے، اور جس مقصد کے لئے اس کو اتارا گیا ہے وہ مقصد بھی سراسر حق و صدق اور عظیم الشان مقصد ہے، اور تیسری اہم حقیقت اس میں یہ بیان فرمائی گئی کہ اس کا مرکزی مضمون اور اس کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ عبادت و بندگی اور اطاعت مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ خالق و مالک بھی سب کا وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اور اپنی اس کائنات میں حاکم مطلق اور فرمانروائے حقیقی بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے، اور جب کائنات کی تخلیق و ابداع اور اس کی حکمرانی و فرمانروائی میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی اور اس کی اطاعت مطلقہ میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہو سکتا ہے؟ سبحانہ و تعالیٰ پس معبود برحق بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور مطاع مطلق بھی وہی۔ سبحانہ و تعالیٰ۔

۳۔۔      سو اصل حقیقت جو کہ حقیقتوں کی حقیقت اور اصل الاصول ہے، وہ تو بہر حال یہی اور صرف یہی ہے کہ معبود حقیقی اور مطاع مطلق بہر حال اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے، لیکن اس کے باوجود جن لوگوں نے اپنی مشرکانہ ذہنیت اور اپنے خود ساختہ مشرکانہ فلسفے کی بناء پر دوسرے طرح طرح کے خودساختہ معبود اور مشرکانہ وسائط گھڑ کر شرک کا ارتکاب کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ان کی پُوجا صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا تک پہنچا دیں۔ اور اس کے یہاں ہمارے تقرب کا ذریعہ و وسیلہ بنیں۔ سو اس طرح انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا پس ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔ یعنی عملی طور پر اور آخری فیصلہ جو کہ قیامت کے یوم فصل و تمیز ہی میں ہو گا۔ اور اس بارے میں یہ اصولی اور بنیادی بات واضح رہنی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو کامیاب اور بامراد نہیں کرتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو۔ جھوٹے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ پر یہ جھوٹ باندھا ہو کہ اس نے فلاں فلاں کو اپنا شریک بنالیا ہے اور ان کو اس نے فلاں اور فلاں اختیارات دے دیئے ہیں، جیسا کہ مشرک لوگ اپنی اس طرح کی مشرکانہ ذہنیت کی بناء پر اسی طرح کی باتیں کہتے اور کرتے رہتے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں وہ طرح طرح کے جھوٹے اور من گھڑت آستانے کھڑے کرتے سرکاریں بناتے۔ ان کیلے من گھڑت اور جھوٹے افسانے پھیلاتے۔ ان کے آگے جھکتے ان کے لئے نذریں مانتے، نیازیں دیتے۔ چڑھاوے چڑھاتے۔ اور ان کے گرد طواف کرتے ہیں، اور صاف اور بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے، وغیرہ وغیرہ والعیاذ باللہ جل وعلا، اور کَفَّار یعنی ناشکرے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو نعمتیں تو سب اللہ دیتا ہے کہ دینے اور بخشنے والا سب کو بہر حال وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ مگر وہ ان کو منسوب دوسروں کی طرف کرتے ہیں کہ یہ فلاں دیوی یا دیوتا، یا فلاں حضرت یا سرکار، کی دین و عطاء ہے اسی بناء پر مشرک لوگ اپنی اولادوں کے نام بھی اپنی اسی مشرکانہ ذہنیت کے مطابق رکھتے ہیں۔ اور ان کو انہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرک بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اور وہ بھی طرح طرح کے شرکیہ نام رکھتے ہیں سو ایسے کاذب و کَفَّار لوگ جب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہی نہیں۔ ان کا سب تکیہ و بھروسہ غیر اللہ ہی پر ہوتا ہے، اور یہ انہی کے گن گاتے ہیں، تو پھر ایسوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے سرفرازی اور مقصد و مراد کی کامیابی آخر نصیب ہی کیسے ہو سکتی ہے؟ جبکہ ہدایت سے سرفرازی کا سارا دارو مدار ہی طلب صادق اور رجوع الی اللہ کے جوہر پر ہے۔ سو کتنا سچا، اور کس قدر مطابق حال ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول و ارشاد کہ وہ کسی ایسے شخص کو نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں کرتا۔ اور اس کو با مراد نہیں فرماتا جو چھوٹا اور بڑا ناشکرا (کفار) ہو۔ سو کِذْب و دروغ گوئی، اور کفر و ناشکری محرومی کی جڑ بنیاد ہے، والعیاذُ باللہ، اللہ تعالیٰ کذب و ناشکری کے ہر شائبے سے محفوظ۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے ذکر و شکر سے سرشار وسرفراز رکھے۔ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا ربُّ العالمین، یامَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْءٍ وَہُوَ یُجِیْرُوْ لَایُجَارُ علیہ۔

۸۔۔      سو اس سے ناشکرے اور تنگ ظرف انسان کی تنگ ظرفی اور ناشکری کی نفسیات کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ جو کہ انتہائی قابل افسوس امر ہے۔ اور اس کے نتیجہ و انجام کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے تنگ ظرف اور ناشکرے انسان کو جب کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے تو یہ اپنے خود ساختہ خداؤں اور من گھڑت حاجت روؤں اور مشکل کشاؤں کو بھول کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے لیکن جب وہ اس کو اس کی اس تکلیف کی جگہ کسی نعمت سے نواز دیتا ہے۔ تو یہ مست و مگن ہو کر اپنی اس تکلیف اور مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کے لئے وہ اس سے پہلے اس کو پکارتا پلاتا تھا۔ اور یہ خدا سے بے نیاز بن جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی دی (بخشی) نعمت کو یا تو اپنے خود ساختہ معبودوں من گھڑت حاجت رواؤں و مشکل کشاؤں یا کسی دیوی دیوتا، اور فرضی وہمی سرکار، کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، کہ یہ سب اسی کا کرم و احسان ہے اور پھر وہ اسی کے لئے بکرے چھترے کاٹنے لگتا ہے، اور اسی کے لئے نیازیں دینے اور دیگیں پکانے لگتا ہے وغیرہ وغیرہ اور یا وہ اس کو اپنی قابلیت اور ذہانت کا نتیجہ قرار دینے لگتا ہے اور اس طرح وہ خود شریک خدا بن جاتا ہے، والعیاذُ باللہ سو ایسوں کے بارے میں پیغمبر کو ہدایت فرمائی گئی کہ ایسے شخص سے کہو کہ تم اپنی اس ناشکری کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے کچھ فائدہ اٹھا لو ۔ آخرکار تم نے جہنم کا ایندھن بننا ہے۔ اس سے سب کسر پوری ہو جائے گی، والعیاذُ باللہ العظیم،

۹۔۔  سو اس سے فائز المرام و با مراد، اور ناکام و نامراد دونوں گروہوں کی تعیین و تشخیص بھی فرما دی گئی، اور ان کے مآل و انجام کو بھی واضح فرما دیا گیا، ان میں سے پہلے گروہ کا ذکر تو صراحۃً فرما دیا۔ جبکہ دوسرے کو محذوف و مقدر رکھا گیا کہ تقابل و تضاد کے قرینے سے وہ خود بخود واضح ہو جاتا ہے، اور اس کے محذوف و مقدر رکھنے میں یہ درس بھی ہے کہ وہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو ذکر کرنے کے بھی لائق نہیں، سو پہلے گروہ یعنی فائز المرام، اور سعادت مند لوگوں کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا جو شخص پوری نیاز مندی، فروتنی اور عاجز کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہو، کبھی سجدے کی حالت میں اور کبھی قیام کی صورت میں، وہ آخرت سے ڈرتا، اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، کیا وہ اور دوسرا وہ تشخص باہم برابر ہو سکتے ہیں جس کے اندر ان میں سے کوئی بات بھی نہ ہو؟ وہ اپنی خرمستی میں مست و مگن، نہ اپنے خالق و مالک کے آگے جھکتا ہو، نہ وہ آخرت کا کوئی خوف و اندیشہ رکھتا ہو اور نہ ہی وہ خدا کی رحمت کا امیدوار ہو، تو کیا یہ دونوں قسم کے لوگ باہم برابر ہو سکتے ہیں؟ جب نہیں اور یقیناً اور قطعاً نہیں، تو پھر ان دونوں کا مآل و انجام کس طرح باہم برابر ہو سکتا ہے؟ پس آخرت کے یوم جزاء میں ان کا نتیجہ و انجام بہر طور مختلف اور یکسر جدا ہو گا، ایک کو سدا بہار نعمتوں اور دائمی کامیابیوں سے سرفرازی نصیب ہو گی، اور دوسرے کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان نہایت ہولناک شکل میں بھگتنا ہو گا۔ والعیاذ باللہ العظیم، سو ایسی سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت کا قائم ہونا ضروری ہے، تاکہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے درمیان عملی طور پر فیصلہ ہو، اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، ایمان والوں اور فرمانبرداروں کو ان کے ایمان و عمل کا صلہ و بدلہ ملے، اور منکروں اور باغیوں کو ان کے کفر و انکار اور بغاوت وسرکشی کی سزا ملے، اور یہ سب قیامت کے اس یوم فصل و تمیز ہی میں ہو سکتا ہے،

۱۲۔۔    سو اس سے پیغمبر کو منکرین و معاندین کے علی الرغم اپنے اصل منصب و مقام، اور اس کے تقاضے کے اعلان و اظہار، کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ مجھے تو بہر حال یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ ہی کی عبادت و بندگی کروں۔ خالص اسی کی اطاعت کیلئے، اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا اسلام لانے والا بنوں، کہ یہی حق و ہدایت کا راستہ ہے۔ اور میں اسی کا پابند ہوں قطع نظر اس سے کہ تم لوگ یا دوسرے لوگ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، کہ حق اور حقیقت بہر حال یہی اور صرف یہی ہے، کہ اطاعت مطلق و خالص اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ معبود برحق اور مطاع مطلق بہر حال وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ میں نے تو اپنا رویہ اور اپنا راستہ واضح کر دیا۔ میں بہر حال اسی پر قائم ہوں اور قائم رہوں گا، کہ یہ میرے فریضہ منصبی کا تقاضا ہے۔ اب جس کی مرضی میرا ساتھ دے، اور راہِ حق و ہدایت کو اپنائے اور جو یہ نہ چاہے وہ اپنا انجام خود دیکھ لے۔ یہاں پر یہ امر واضح رہنا چاہئیے کہ پیغمبر کے فرض منصبی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ جس دین و ایمان کی لوگوں کو دعوت دیتا ہے اس کو سب سے پہلے خود قبول کرتا ہے۔ اسی لئے اس کا درجہ و مقام اَوَّل المومنین اور اول المسلمین کا درجہ اور مقام ہی ہوتا ہے کہ وہ سب کے لئے نمونہ و مثال ہوتا ہے، علی نبینا وعلی سائر الانبیاء والمرسلین ازکی الصلوات واطیب التسلیمات

۱۵۔۔  اور ایساکھلا ہوا اور ہولناک خسارہ جس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں ہو سکتا۔ کہ یہ خسارہ ہمیشہ ہمیشہ کا خسارہ ہے، اور ایسا کہ اس کی تلافی و تدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہو سکتی۔ سو اس ارشادِ عالی سے ایک طرف تو فوز و فلاح اور اصل حقیقی اور دائمی فوز و فلاح کی راہ کو واضح فرما دیا گیا۔ جو کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اسی کی اطاعت مطلقہ کی راہ ہے۔ جو کہ انسان کو دارین کی سعادت وسرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔ اور جو کہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور دوسری طرف اس سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ راہ حق و ہدایت کو اپنانے اور اختیار کرنے کے سلسلہ میں انسان پر کوئی جبر و اکراہ نہیں۔ بلکہ یہ اس کے اپنے ارادہ و اختیار پر موقوف ہے۔ اور یہی چیز اساس و بنیاد ہے ابتلاء اور آزمائش کی۔ سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ راہ حق تو بہر حال یہی ہے جو میں نے تم لوگوں کو بتا دی۔ اب تمہاری مرضی تم اس وحدہٗ لاشریک کے سوا جس کی چاہو عبادت و بندگی کرو۔ کہ اس کی تم لوگوں کو بہر حال آزادی اور اختیار ہے، اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا تم اور جن کی بھی عبادت و بندگی کرو گے، اس سے اس کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا کہ معبود برحق تو بہر حال وہی وحدہٗ لاشریک ہے، البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم اور واضح ہے کہ غیر اللہ کی پوجا و بندگی کا نتیجہ و انجام بہر حال دائمی ہلاکت و تباہی ہے، پس اس کے بعد تم لوگ اپنے کئے کرائے کے خود ذمہ دار ہو۔ تم جانو تمہارا کام۔ اپنے انجام کے بارے میں تم خود سوچ لو۔ البتہ یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح رہے کہ خسارے والے اور اصل اور حقیقی خسارے لوگ وہی لوگ ہیں جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے روز خسارے میں ڈالا۔ سو آگاہ رہو۔ اور کان کھول کر سن لو کہ یہی ہے سب سے بڑا اور نہایت کھلا ہوا خسارہ۔ والعیاذُ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے، ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت رہنے کی توفیق بخشے، اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،

۱۹۔۔    استفہام یہاں پر انکاری ہے یعنی ایسے شخص کو دوزخ کی آگ سے بچا لینا آپ کے بس میں نہیں، کہ عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ پس آپ ان لوگوں کے اعراض و انکار۔ اور ان کی بے رخی و لاپرواہی، کی بناء پر افسردہ و آزردہ خاطر نہ ہوں۔ فَلَا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ یہ لوگ اپنے عناد و ہٹ دھرمی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ اللہ کے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہو چکا ہے اور یہ فی الواقع عذاب کے اندر پڑے ہوئے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ دنیا کے اس دارالامتحان میں وہ عذاب پردہ خفاء میں ہے۔ عام لوگوں کو نظر نہیں آ رہا، کہ یہی تقاضائے امتحان ہے، اور اسی بناء پر لوگ غفلت اور لاپرواہی میں پڑے ہیں، لیکن کل قیامت کے اس یوم عظیم میں جو کہ کشف حقائق، اور ظہور نتائج کا جہاں ہو گا، اس میں جب تمام چیزیں اپنی اصل اور حقیقی شکل میں سامنے آ جائیں گی تو ان کو پتہ چل جائے گا، اور کلمہ عذاب سے یہاں پر مراد عذاب کا وہ کلی فیصلہ ہے، جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے میں تیرے سمیت جہنم کو ان سب سے بھر دوں گا۔ سو ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ صادر ہو چکا ہے جو کہ قطعی اور اٹل ہے۔ اور ایسے لوگ جو اس کی زد میں آ چکے ہیں لازماً دوزخی ہیں۔ پس ان کو دوزخ سے نکال باہر کرنا کسی کے بس اور اختیار میں نہیں ہو سکتا، والعیاذُ باللہ العظیم

۲۱۔۔  یعنی ان لوگوں کے لئے جن کی عقلیں ہر قسم کی میل کچیل، اور زیغ و ضلال کے جملہ شوائب سے پاک صاف اور اپنی فطرت پر ہیں۔ سو ایسے لوگوں کے لئے قدرت کے اس عظیم الشان اور حکمتوں بھرے نظام میں یقیناً بڑی بھاری نصیحت، اور یاد دہانی ہے۔ جس سے ایک طرف تو حضرت خالق جَلَّ مَجْدُہٗ کی قدرت بے پایاں اس کی حکمت بے نہایت۔ اور اس کی رحمت و عنایت بے غایت کے عظیم الشان مظاہر سامنے آتے ہیں، اور ایسے عظیم الشان کہ ان کو دیکھ کر ایک سلیم الفطرت انسان دل و جان سے اپنے اس خالق مالک کے حضور جھک جھک جاتا ہے۔ اور اس طور پر کہ وہ بے ساختہ پکار اٹھتا ہے رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار۔ یعنی اے ہمارے رب یہ نہیں ہو سکتا کہ تو اس سب کو بے کار اور بے مقصد پیدا کرے۔ تیری شان اس سے پاک اور بہت بلند ہے، پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جس خالق و مالک نے اپنے بندوں کی پرورش کے لئے یہ عظیم الشان اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا۔ اس کی اس پُر حکمت اور رحمتوں بھری پروردگاری کا طبعی تقاضا، اور لازمی مقتضی ہے کہ اس کے بندے اسی کے شکر گزار بنیں۔ اور اس کی عبادت و شکر گزاری میں اور کسی کو اس کا شریک و شامل نہ کریں۔ کہ جب زمین و آسمان کی اس عظیم الشان اور حکمتوں اور رحمتوں بھری کائنات کے خلق و ابداع، اس کے وجود و بقاء، اور اس کے اندر حکم و تصرف، میں کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی اور اس کے حق شکر و اطاعت میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہو سکتا ہے؟ سو وہی وحدہٗ لاشریک معبود برحق بھی ہے۔ اور مطاع مطلق بھی، نیز اس پُر حکمت نظام تربیت میں یہ درس عظیم بھی پایا جاتا ہے، کہ جب آسمان سے لیکر زمین تک کی ہر چیز انسان کی خدمت میں سرگرم عمل ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ پوری کائنات کا مخدوم و مطاع یہ انسان عبث و بیکار ہو؟ اور اس سے اس کے اچھے برے عمل کے بارے میں کوئی پُرسش نہ ہو؟ اور اس تذکیر و یاد دہانی کا ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ ایک ایسا یوم حساب بپا ہو جس میں ہر انسان سے اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کی پوچھ ہو۔ جس کے نتیجے میں نیکوکاروں اور شکر گزاروں کو ان کے اجر و ثواب سے نواز جائے، اور اس کے برعکس ناشکروں اور نا فرمانوں کو ان کی ناشکری اور نافرمانی کی سزا ملے۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں، سو وہی یوم حساب یوم قیامت ہے۔ جس کا بپا ہونا عقل و فطرت سب کا تقاضا ہے۔ نیز اس میں تذکیر و یاد دہانی کا ایک اور بڑا اور اہم پہلو یہ ہے کہ زمین کی یہ تمام عظیم شانیں، اور اس کی طرح طرح کی یہ رونقیں، سب عارضی فانی اور وقتی ہیں۔ جو اس کائنات کی بے ثباتی اور اس کی فنا کا درس دے رہی ہیں، کہ عقلمند انسان اس کو اپنا اصل مقصد نہ بنائے۔ اور اس پر ریجھنے کے بجائے وہ اس خالق و مالک کی ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف متوجہ ہو اور ہمیشہ اسی کی طرف متوجہ رہے۔ اور دل و جان سے اسی کا بن کر رہے جس نے اس پوری کائنات کو۔ اور اس کی ان تمام رونقوں اور شانوں کو وجود بخشا۔ اور وہی ان کو قائم اور برقرار رکھے ہوئے ہے یہ اس وحدہٗ لاشریک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان سب کا خود اپنا بھلا بھی ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی۔ اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی، جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور بالکل ایسے جیسے آج کے بعد آنے والے کل تے آنا اور بپا ہو کر رہنا ہے سو کائنات کی اس کھلی کتاب میں تذکیر و یاددہانی کے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں، لیکن یہ سب کچھ انہی لوگوں کے لئے ہے جو عقل سلیم کی دولت رکھتے ہیں، ورنہ ان اندھوں اور بہروں کے لئے اس میں نہ کوئی درس ہے نہ ہو سکتا ہے، جن کی عقلیں کفر و شرک، الحاد و بے دینی، اور اتباع ہَویٰ وغیرہ کی میل سے میلی ہو کر ماؤف ہو چکی ہیں، اور جن کو ان لوگوں نے تفکر و تدبر کے بجائے بطن و فرج کی شہوات و خواہشات کی تحصیل و تکمیل کے پیچھے لگا دیا ہے، اور انہوں نے اس کو انہی کا غلام بنا دیا، سو ان کی عقلیں عقول سلیمہ نہیں، عقول مریضہ بن کر رہ گئیں، والعیاذُ باللہ العظیم،

۲۴۔۔    سو اس سے ان متکبرین کی بے بسی اور تذلیل کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے جنہوں نے اپنے کبر و غرور کی بناء پر دعوت حق و ہدایت کو جھٹلایا، اور آخرت کی جزاء و سزا کی تکذیب کی تھی، سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جزاء وسزا کے اس یوم عظیم میں وہاں کے اس بُرے عذاب سے بچنے کے لئے یہ لوگ اپنے چہروں کو ڈھال اور بچاؤ کے طور پر استعمال کریں گے، چہرہ انسان کا وہ اشرف و اعلیٰ عضو ہے جس کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے انسان ہر چیز کو قربان کرنے کی کوشش کرتا ہے، کہ اس کو کسی طرح کی کوئی گزند نہ پہنچنے پائے، لیکن ان منکروں کی بے بسی کا اس حال یہ ہو گا کہ اس دن یہ اسی کو اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کرنے پر مجبور ہو گا، اور اسی پر بس نہیں، بلکہ ایسے ظالموں سے مزید کہا جائے گا کہ چکھو تم لوگ مزہ اپنی اس کمائی کا جو تم زندگی بھر کرتے رہے تھے، سو اس سے ان کے قلوب و  بواطن کے غیر مرئی آگ اور بھڑکے گی، اور ساتھ ساتھ اس سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ تم لوگوں کی اپنی ہی کمائی کا نتیجہ ہے، والعیاذُ باللہ العظیم، سو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آخرت کے انکار اور اس کی تکذیب کا جرم کتنا بڑا، اور کس قدر سنگین جرم ہے، اور اس کا نتیجہ و انجام کس قدر ہولناک اور باعث خسران ہو گا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین،

۳۲۔۔    استفہام یہاں پر تقریری ہے، یعنی ہاں ایسے ہی ہے۔ اور یقیناً ایسے ہی ہونا چاہئیے، کہ ایسے کافروں اور منکروں کا ٹھکانا دوزخ ہی میں ہو۔ سو اس ارشاد سے دوزخیوں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی، ان کے جرم کی بھی وضاحت فرما دی گئی۔ اور ان کے ہولناک انجام کی بھی تصریح فرما دی گئی۔ سو ان کا جرم کذب علی اللہ یعنی اللہ پر چھوٹ باندھنا، اور تکذیب صدق یعنی سچ کو جھٹلانا ہے۔ کذب علی اللہ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد ہے شرک، کیونکہ شرک سب سے بڑا جرم کذب اور ظلم عظیم ہے، اور مشرکین اپنے مزعومہ اور من گھڑت شرکاء و شفعاء سے متعلق جو جھوٹ موٹ دعوے کرتے ہیں کہ اس وحدہٗ لاشریک نے ان کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے، تو یہ سب سراسر جھوٹ ہے۔ جس کی کوئی اساس و بنیاد نہ ہے نہ ہو سکتی ہے، پھر اس سے بھی سنگین جرم ان لوگوں کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس سنگین جرم کی اصلاح کے لئے اپنی کتاب ہدایت اتاری، تو انہوں نے اس کو اپنا کر اپنی اصلاح کرنے، اور اپنی بگڑی بنانے کے بجائے، الٹا اس کو بھی جھٹلا دیا۔ اور اس طرح انہوں نے کذب علی اللہ کے ساتھ ساتھ تکذیب حق و صدق کے مزید ہولناک جرم کا بھی ارتکاب کیا۔ اور اسطرح یہ جرم بالائے جرم کے مرتکب ہوئے، اور نار دوزخ کے مستحق بنے۔ تو کیا ایسے کافروں اور منکروں کا دائمی ٹھکانا دوزخ نہیں؟ یعنی ہاں اور ضرور ایسوں کا ٹھکانا ضرور بالضرور دوزخ ہی ہے اور وہی ہونا چاہیے جہاں انہوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں جلنا اور اپنے کفر و انکار کا پھل پانا ہے، والعیاذُ باللہ العظیم

۳۴۔۔  سو اس سے ہالکین اور دائمی بدبختوں کے بالمقابل ان فائزین و مفلحین کے انجام کو ظاہر فرما دیا گیا، جو اپنے خالق و مالک کی طرف سے دائمی انعام واحسان کے مستحق اور اس کے اہل ٹھہریں گے۔ سو ان کی نشاندہی بھی فرما دی گئی کہ یہ کون اور کیسے لوگ ہوں گے۔ ان کی فیروز مندی اور فائز المرامی کے اسباب و اوصاف کیا ہوں گے۔ اور انکے نتیجے میں ان کو کیسے عمدہ انجام، اور کس طرح کے انعامات سے نوازا جائے گا۔ سو ان کی تعیین و تشخیص کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو صدق یعنی سچائی کو لایا، یعنی پیغمبر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و صدق کا پیغام لے کر تشریف لائے، اور انہوں نے دنیا کو راہ حق و ہدایت سے آگہی بخشی۔ اور اس کے بعد دوسرے درجے پر وہ لوگ ہیں جنہوں نے پیغمبر کے لائے ہوئے اس پیغام حق و ہدایت کی، تصدیق کی اور اس کو صدق دل سے اپنایا۔ یہاں پر صدق کے بعد کا صلہ لایا گیا ہے، جو اس بات کا قرینہ اور ثبوت ہے کہ انہوں نے صدق دل سے اس کو مانا اور اپنایا۔ اور صدق دل سے ماننے اور ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انہوں نے اس کے مطابق عمل بھی کیا۔ سو ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، کذب علی اللہ، اور تکذیب صدق جیسے سنگین جرائم سے بچ کر رہے ہوں گے، تو یہی ہیں متقی اور پرہیزگار جو انپے خالق و مالک کی معصیت و نافرمانی سے بچ کر رہے جس کے نتیجے میں وہ اس کی گرفت وپکڑ سے بچ کر اس کے عظیم الشان دائمی اور بے مثال اجر و صلہ کے مستحق ہوں گے سو ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو ان کے رب کے یہاں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے۔ انکی خواہشوں اور چاہتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو گی۔ ان کی ہر خواہش اور آرزو پوری ہو گی۔عِنْدَ رَبِّہِمْ کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بندوں کے لئے سب سے بلند مرتبہ خداوند تعالیٰ کا قرب ہی ہو سکتا ہے اور بس، یہ نہیں کہ وہ اس کی ذات اقدس میں ضم ہو جائیں۔ جیسا کہ حلولیوں اور گمراہ صوفیوں وغیرہ کا کہنا ہے کہ اس کی ذات اقدس و اعلیٰ حلول و اتحاد کے ایسے تمام شوائب اور جملہ تصورات سے پاک اور اعلیٰ و بالا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اور آیت کریمہ کے آخر میں ذَالِکَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِیْنَ کے ارشاد سے ایک تو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس جزاء و صلہ کے حقدار وہی لوگ ہیں جو محسن اور نیکوکار ہوں۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ اور دوسرے اس حقیقت کو بھی آشکارا فرما دیا گیا کہ قرآن پر ایمان کا ہر مدعی اس کا حقدار نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے حقدار وہی لوگ ہوں گے۔ جو ایمان کے ساتھ احسان کی صفت بھی اپنے اندر رکھتے ہوں گے۔ وباللہ التوفیق لما یحب و یرید، وعلی ما یحب و یرید،

۴۰۔۔    سو اس سے معاندین کے لئے آخری جواب کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ان سے کہو کہ اگر تم لوگ حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں ہوتے، تو تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ تم اپنے طور طریقے پر کام کرتے رہو۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا رہوں گا۔ نتیجہ و انجام عنقریب ہی سامنے آ جائے گا۔ اور تم خود دیکھ لو گے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اس کو رسوا کر کے رکھ دے۔ اور کس پر آتا ہے ٹک کر رہنے والا دائمی عذاب۔ سو یہ ان منکرین و معاندین کے لئے آخری جواب ہے جو حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہ ہوتے ہوں۔ کہ ایسے ہٹ دھرموں سے الجھنے اور ان کو منہ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پس ایسے ہٹ دھرموں کو ان کے انجام کے حوالے کر دیا جائے تاکہ یہ اپنا انجام خود دیکھ لیں۔

۴۱۔۔  معاندین و منکرین سے اعلان برأت اور اظہارِ بیزاری کے بعد اس سے پیغمبر کو تسلی دی گئی ہے سو آپ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کتاب کو سب لوگوں کے لئے حق کے ساتھ اتارا ہے، کہ اس میں جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی سراسر حق و صدق ہے۔ اور جس مقصد کے لئے اور جس طریقے سے اس کو اتارا گیا ہے وہ بھی سب حق اور صدق ہے۔ بالحق کا عموم ان سب ہی امور کو عام اور شامل ہے، پس جو لوگ اس کتاب حکیم کو صدق دل سے اپنا لیں گے ان کا خود اپنا ہی بھلا ہو گا، کہ اس سے وہ اپنی دنیا کو بھی سنوارنے بنانے کا سامان کریں گے، اور اپنی آخرت کو بھی بنانے سنوارنے کا۔ اور اس کے برعکس جو لوگ اس کی تکذیب کریں گے وہ خود اپنی ہی محرومی، اور اپنی ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپنائیں گے۔ اور وہ اپنے آپ کو نور حق و ہدایت سے محروم کر کے طرح طرح کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کے حوالے کریں گے۔ سو اس طرح وہ بہر حال اپنا ہی نقصان کریں گے، حق یا داعی حق کا کچھ نہیں بگاڑیں گے، پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام حق کو پہنچا دینا ہوتا ہے، اور بس اس کے بعد ان کا ذمہ فارغ آگے ان سے منوا لینا۔ اور ان کو راہ حق پر ڈال دینا نہ پیغمبر کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور نہ ہی ان کے بس میں ہے، اور تبلیغ حق کا یہ فریضہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پورا کر دیا۔ اور باحسن طریق پورا کر دیا۔ آگے ان سے حساب لینا ہمارا کام اور ہمارے ذمے ہے، اِنْ عَلیْکَ اِلاَّ الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ۔ سو اس سے پیغمبر کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ آپ نے اپنا فریضہ تبلیغ پورا کر لیا۔ اب سب ان کے بارے میں فکر مند نہ ہوں،

۴۲۔۔  سو اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ زندگی اور موت کا سلسلہ تمام کا تمام اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، پس جس کی اجل مقرر پوری ہو جاتی ہے اللہ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، اور جس کی موت کا وقت مقرر نہیں آیا ہوتا، اس کو وہ ہر روز اور بیداری کی صورت میں اور بعث بعد الموت کی تذکیر و یاد دہانی کراتا ہے، سو انسان کی نیند موت کا نمونہ ہوتی ہے اور نیند کے بعد اس کی بیداری بعث بعد الموت کا نمونہ، اس طرح اس کو ہر روز ان دونوں عظیم الشان حقیقتوں کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے لیکن وہ اس سے سبق نہیں لیتا، اِلاَّ ماشاء اللہ جل و علا۔ بہر کیف انسان کی نیند اور اس کی بیداری روزانہ اس کو موت اور بعث بعد الموت کی تذکیر و یاد دہانی کرائی ہیں، اسی لئے صحیح احادیث میں نیند اور بیداری کے ان دونوں موقعوں پر جن دعاؤں کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ان میں بھی اسی کا درس دیا گیا ہے، مثلاً بیداری کے موقع پر پڑھنے کے لئے جو مشہور دعا ارشاد فرمائی گئی ہے وہ ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النَّشُوْرُ، یعنی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی، اور اسی کے حضور دوبارہ اٹھا کر حاضر ہونا ہے۔

۴۷۔۔    سو اس سے ایک طرف تو ان لوگوں کی محرومی اور بدبختی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو آج دنیا کے متاع فانی اور اس کے حُطام زائل ہی کو سب کچھ سمجھ کر اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور وہ حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے ہوئے ہیں، اس روز جب ان کو اپنے انتہائی ہولناک انجام سے سابقہ پیش آئے گا۔ اور یہ دیکھیں گے کہ اس دن ان کے پاس کچھ بھی نہیں جو وہاں ان کو کام آ سکے، تو ان کے افسوس اور یاس وحسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہو گا۔ اس وقت انکا حال یہ ہو گا کہ یہ چاہیں گے کہ روئے زمین کے اندر جو کچھ ہے اگر وہ سب ان کو مل جائے، اور اسی کے برابر اور بھی تو یہ اس روز اس سب کو اپنے اس برے عذاب سے چھوٹنے کے لئے فدئیے میں دے چھوڑیں۔ مگر اس کا کوئی موقع اور امکان اس روز نہیں ہو گا سو اس سے اس حقیقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر جو آج ہمیں حاصل و میسر ہے کس قدر عظیم الشان نعمت ہے جس سے حضرت واہب مطلق جَلَّ جلالُہٗ نے ہمیں نوازا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی رضاء کے لئے دیا جانے والا ایک روپیہ پیسہ بھی قبول ہو گا، اور کئی گنا اجر و ثواب کا ذریعہ و وسیلہ بنے گا۔ مگر قیامت کے اس یوم حساب میں بالفرض اگر پوری روئے زمین کی دولت بھی مل جائے تو مجرم انسان اس سب کو اپنے فدئیے اور بدلے میں دینے کو تیار ہو جائے گا اور بصد شوق تیار ہو جائے گا۔ مگر وہ اتنی بڑی اور بیحد و حساب دولت بھی اس روز اس سے قبول نہیں ہو گی۔ کیونکہ وہ عمل کا جہاں نہیں ہو گا جزاء اور بدلے کا جہاں ہو گا۔ سو کتنے محروم اور کس قدر بدبخت ہیں وہ لوگ جو حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو کفر و انکار اور غفلت و لاپرواہی میں گزار کر اپنے لئے اس اَبَدی اور ہولناک خسارے کا سامان کر رہے ہیں والعیاذُ باللہ العظیم۔ دوسری طرف اس سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ غافل اور منکر لوگ جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو وہاں پر بھی یہ لوگ اسی طرح عیش کریں گے جس طرح کہ دنیا میں کر رہے ہیں وہ سراسر دھوکے میں ہیں، اور یہ غلط فہمی دنیا داروں کو پہلے بھی لاحق رہی۔ اور اب بھی بدستور لاحق ہے، اسی لئے ایسے لوگ غافل و لاپرواہ ہیں سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں جب ان کے اعمال بد اپنی اصلی شکل میں سامنے آئیں گے۔ تو ان کو اس ہولناک صورت حال سے دوچار ہونا پڑے گا جس کا ان کو سان و گمان بھی نہیں تھا تب ان کی حیرت و حسرت کی انتہاء رہے رہیں گی۔ دنیا میں یہ لوگ جس خداوند قدوس کی شان کریمی کی بناء پر دھوکے میں پڑے ہوئے تھے۔ اس یوم حساب میں جب یہ اس کی شان عدل و انتقام کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کی آنکھیں پوری طرح کھل جائیں گی اور ان کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائیں گی کہ وہ خداوند قدوس جتنا بڑا کریم وستار ہے اتنا ہی بڑا عادل و منصف اور منتقم و قہار بھی ہے اور جن جن برے اعمال کی کمائی یہ لوگ کرتے رہے تھے وہ سب اپنی اصلی شکل و صورت میں ان کے سامنے آ جائیں گے۔ اور ان کے زہریلے برگ وبار ان کے سامنے پوری طرح ظاہر اور واضح ہو جائیں گے، اور جس عذاب اور نتیجہ و انجام کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے، اس روز اس نے ان سب کو پوری طرح اپنے گھیرے میں لے لیا ہو گا جس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں ہو گی، والعیاذُ باللہ العظیم

۵۴۔۔    سو اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی بخشش کے طلب گاروں کو اس صحیح طریقے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اس کی رحمت و عنایت اور اس کی مغفرت و بخشش سے سرفراز ہو سکتے ہیں۔ سو ان کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اپنے مزعومہ و سائط و وسائل سے کٹ کر سیدھے اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے معاصی و ذنوب کی مغفرت و بخشش کے طلب گار بنو۔ اور اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دو۔ اس سے پہلے کہ اس کا عذاب تم لوگوں پر آ دھمکے۔ کیونکہ عذاب کے ظہور و وقوع کے بعد نہ کسی کے لئے ایمان اور توبہ کا کوئی موقع باقی رہ سکتا ہے، اور نہ ہی کسی کی کہیں سے کوئی مدد ہو سکتی ہے سو اس فیصلہ کن وقت سے پہلے اپنی روش اور اپنے رویئے کی اصلاح کر لو۔ اور اپنے آپ کو اپنے ہولناک انجام اور دائمی خسارے سے بچا لو۔

۶۰۔۔  سو کفر و شرک کی وہ سیاہی جو ان بدبختوں کے قلب و باطن میں مخفی اس قدر تھی کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں وہ ان کے چہروں پر ظاہر ہو جائیں گی۔ اور کذب علی اللہ سے مراد اور اس کا سب سے بڑا نمونہ و مظہر جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا ہے شرک ہے، کہ شرک سراسر جھوٹ اور کذب علی اللہ ہے اور ایسا ہولناک اور تباہ کن جھوٹ جو انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر کے رکھ دینے والا ہے۔ اور اس کی سنگینی اور خطوات ہی کا یہ نتیجہ و اثر ہو گا کہ اس کی پاداش میں قیامت کے اس یوم عظیم میں ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ جو ان کے باطن کی سیاہی اور ان کی انتہائی بدبختی اور محرومی کے عکاس و آئینہ دار ہوں گے۔ سو ان کے انجام کے بارے میں استفہام تقریری کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے متکبروں کا دائمی ٹھکانا دوزخ میں ہو گا؟ یعنی وہاں اور ضرور ایسے ہی ہو گا والعیاذ باللہ العظیم، اور یہ اس لئے کہ ایسے لوگ اپنے اسی تکبر اور استکبار یعنی اپنی مزعومہ بڑائی کے گھمنڈ میں حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے، اور اسی بناء پر انہوں نے حق سے اعراض نہیں برتا، اور یہ اس سے منہ موڑے ہی رہے، یہاں تک کہ ان کی فرصت عمر تمام ہو گئی، اور یہ نور حق و ہدایت سے محرومی کے ساتھ ہی اس دنیا سے کوچ کر گئے اور کسب و اکتساب کی فرصت و مہلت ان کے ہاتھ سے نکل گئی، اور یہ ہمیشہ کے اور انتہائی ہولناک خسارے میں مبتلا ہو گئے، اور جہنم کی ہولناک آگ کا لقمہ بن گئے، اور ایسے اور اس طور پر کہ اب ان کے لئے اس سے نکلنے اور چھٹکارا پانے کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں ہو گی، سو یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ کہ اس کے تدارک و تلافی کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہو گی، اس لئے ایسے بدبختوں کا دائمی ٹھکانا جہنم ہی ہو گا، والعیاذ باللہ، پس صحت وسلامتی اور نجات و فلاح کا مدار و انحصار ایمان صادق اور عمل صالح ہی پر ہے اور بس، ایسے خوش نصیبوں کے چہرے اس روز چمکتے دمکتے، روشن و منور، ہنستے مسکراتے اور خوش باش ہوں گے، جیسا کہ قرآن وسنت کی مختلف نصوص میں اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں انہی میں سے کر دے، اور محض اپنے فضل و کرم سے کر دے، آمین، وانہ سبحانہ و تعالیٰ سمیع قریب مجیب،

۶۲۔۔    سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر چیز کا خالق اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے۔ کائنات پوری کے اندر جو بھی کچھ موجود ہے وہ اسی کی خلق و ایجاد کا نتیجہ و ثمرہ ہے اور یہ نہیں کہ وہ اس کو پیدا فرما کر اس سے الگ ہو گیا ہو۔ بلکہ وہ ہر چیز کی نگرانی اور نگہبانی بھی خود ہی فرما رہا ہے، پس ہر چیز کا وجود اور اس کی بقاء بھی اسی کی رحمت و عنایت کی رہین منت ہے کہ وہی ہر چیز کا محافظ اور اس کا نگہبان ہے، سو اس پوری کائنات کا اور اس کے اندر موجود ہر چیز کا خالق و مالک بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی، اور صرف وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ، اور جب اس کی اس صفت و شان میں کوئی بھی اس کا شریک و سہیم نہیں، تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک و سہیم کس طرح ہو سکتا ہے؟ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا اور صرف اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے۔

۶۳۔۔  سو جب زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا خالق و مالک بھی وہی ہے، اور ان کی چابیاں بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں تو پھر بندوں کو آسمانوں اور زمین سے جو بھی کچھ ملتا ہے، اسی کے کرم و عطاء اور اس کی دیئے بخشے سے ملتا ہے پس بندوں کو ہر وقت اور ہر حال میں اور اپنی ہر حاجت و ضرورت کے لئے اسی واہب مطلق اور مالک کل جَلَّ جلالُہٗ کے آگے اپنا دست دعاء و سوال دراز کرنا چاہیئے۔ اور بھروسہ و اعتماد بھی اسی پر رکھنا چاہئیے۔ یہی سیدھا راستہ ہے جو کہ تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا پس اس کے باوجود جو لوگ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں، اور وہ اس کے سوا اوروں کے آگے جھکتے اور ان سے مانگنے کی ذلت اٹھاتے ہیں وہ سراسر خسارے میں ہیں۔ اور خسارہ بھی ایسا کہ پھر اس کی تلافی و تدارک کی کوئی صورت بھی ان کے لئے ممکن نہیں ہو گی۔ یہی ہے خسران مبین یعنی کھلا خسارہ، والعیاذُ باللہ العظیم۔

۶۵۔۔  سو اس سے شرک کی سنگینی و خطورت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس ارشاد ربانی میں حضرت امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کی طرف بھی یہ وحی کی گئی ہے، اور ان تمام انبیائے کرام کی طرف بھی، جو کہ آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ اگر تم نے بھی بالفرض کہیں شرک کا ارتکاب کر لیا، تو باین ہمہ عظمت شان تمہارے سب عمل اکارت چلے جائیں گے اور تم بھی یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ سو شرک حبط عمل کا باعث ہے۔ شرک کے ساتھ جو بھی عمل کیا جائے گا، وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس کے یہاں صرف وہی عمل قابل قبول ہو گا، جو خالص اسی کے لئے کیا جائے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا اَنَا اَغنی الشرکاء عن الشرک فَمَنْ اَشْرک معی غیری فہو للذی عملہ لہ۔ یعنی میں شرک سے سب سے زیادہ غنی اور بے نیاز ہوں، پس جس نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، اس کا عمل اسی کو پہنچا۔ میں اس سے بری اور بے نیاز ہوں۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اور صرف وہی عمل قابل قبول ہو گا جو خالص اسی کے لئے کیا جائے گا، شرک کی آمیزش والا کوئی بھی عمل اس کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاس کے گا، اللہ تعالیٰ شرک کے شائبے سے ہمیشہ پاک رکھے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں ہی پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا ربَّ العالمین،

۷۰۔۔    سو اس روز ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ نہ کسی کو اس کی کسی اچھائی کے صلہ و بدلہ سے محروم رکھا جائے گا، اور نہ کسی کے کھاتے میں کسی ایسی برائی کو ڈالا جائے گا، جو اس نے نہ کی ہو۔ بلکہ اس روز ہر کوئی خود اپنی زندگی بھر کی بوئی ہوئی ہی فصل کاٹے گا۔ اور اپنی عمر بھر کے لگائے ہوئے درختوں کے پھل توڑے گا اچھے ہوں تو بھی اور برے ہوں تو بھی۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی۔ اِنَّمَا ہِیَ اَعْمَالُکُمْ اُحْصِیْہَا لَکُمْ فَمَنْ وَجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ وَمَنْ وَجَدَ غَیْر ذَالِکَ فَلَا یَلُوْمَنَّ اِلاَّ نَفْسَہ۔ یعنی یہ سب تمہارے اپنے اعمال اور تم لوگوں کا خود اپنا کیا کرایا ہو گا جس کو میں تمہارے لئے شمار کر کے رکھ رہا ہوں بس جو کوئی اچھا نتیجہ پائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جس کو اس کے سوا کوئی دوسری صورت پیش آئے تو وہ اپنے سوا کسی اور کو برا مت کہے۔ اور وُفِّیَتْ کے لفظ سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ آخرت کے اس یوم حساب ہی میں ملے گا۔ دنیا میں اس کو اس کے اعمال کا کچھ صلہ و بدلہ اگرچہ ملتا ہے، اچھے اعمال کا اچھا بدلہ، اور برے کا برا۔ لیکن وہ بہر حال کچھ اور کسی قدر ہی کے درجے میں ہوتا ہے اعمال کا پورا صلہ و بدلہ انسان کو اس دنیا میں نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ دنیا اپنی اصل کے اعتبار سے دارالجزاء یعنی بدلے کی جگہ ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ دارالعمل، یعنی عمل و محنت اور کسب و کمائی کا جہاں ہے۔ اور انسان کی ساری عمر دراصل محنت اور کمائی ہی کی فرصت ہے۔ دارالجزاء اور صلہ و بدلہ کا جہاں آخرت کا وہ جہاں ہی ہے جو اس دنیا کے بعد آنے والا ہے، اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے اس ظرف محدود و مختصر میں اتنی وسعت و گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں، کہ اس میں کسی کو اس کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے۔ اس کا تحقق و وقوع آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان ہی میں ہو سکے گا جس کی وسعتیں لامحدود ہوں گی۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ دیا جائے گا۔ اچھا ہو گا تو بھی، اور برا ہو گا تو بھی، کہ ایسا وہیں ہو سکتا ہے اور وہیں ہو گا۔ پھر وَہُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ کی تصریح سے اس امر کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ وہاں پر اس امر کا بھی کوئی خدشہ و امکان نہیں ہو گا کہ اس روز کسی کا کوئی عمل کسی بھول چوک کی بناء پر جزاء و سزا سے رہ جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو پوری طرح جانتا ہے جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔ سو اس ارشاد میں ان لوگوں کے لئے بھی بڑی تنبیہ و تذکیر ہے جو آخرت کے اس یوم جزاء کو بھلا کر، اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر، اسی دنیاوی زندگی اور اس کے متاع فانی اور حُطامِ زائل ہی پر قانع ہو گئے۔ اور وہ اسی کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔ نیز اس میں ان مشرکین کے لئے بھی بڑی سخت تنبیہ و تذکیر ہے جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء اور اپنے خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں اور مشکل کشاؤں پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں، کہ یہ سب تکیے اور سہارے بے بنیاد اور بے حقیقت ہیں۔ وہاں پر سارا دارومدار انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہو گا۔ جس کے حصول اور اس سے سرفرازی کا موقع یہی دنیاوی زندگی اور اس کی یہ فرصت محدود ہے، پس جنہوں نے اپنے خود ساختہ اور من گھڑت مفروضوں کی بناء پر اس کو یونہی ضائع کر دیا۔ وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذُ باللہ العظیم،

۷۵۔۔    سو اس روز کامل عدل و انصاف کا ظہور ہو گا۔ نہ کوئی کسی طرح کی مداخلت کی جرأت کر سکے گا، اور نہ کوئی کسی طرح اس فیصلہ حق میں آڑے آ سکے گا اور اس کامل عدل و انصاف اور رحمت و عنایت کے ظہور پر ہر طرف سے یہ صدا بلند ہو گی کہ سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا، سو اہل ایمان جو اس کمال عدل و انصاف سے براہ راست مستفید و فیض یاب ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے لئے یہ صدا بلند کریں گے، اور حاملین عرش ملائکہ بھی ان کی ہمنوائی کریں گے۔ سو حضرت حق جَلَّ مَجْدُہٗ کے کمال عدل و انصاف کی یہ صفت ایک عظیم الشان صفت ہے جس کا کامل ظہور و بروز قیامت کے اس یوم عظیم ہی میں ہو گا، جس پر تمام اہل ایمان اور حاملین عرش فرشتے اس کی حمد و ثنا میں رطب اللسان ہو جائیں گے کیونکہ یہ چیز اگر نہ ہو تو یہ دنیا ایک اندھیر نگری بن کر رہ جائے۔ جو کہ اس خالق حکیم کی حکمت کے تقاضوں کے خلاف اور ان کے منافی ہے سبحانہ و تعالیٰ سو قیامت کے اس یوم عظیم میں جب اس کے کمال عدل و انصاف اور کمال رحمت و عنایت کا ظہور ہو گا تو ہر گوشہ سے اس کی حمد وثنا کا ترانہ بلند ہو گا۔ سبحانہ و تعالیٰ وبہذا قدتم التفسیر المختصر لسورۃ الزمر و الحمدللہ جل وعلا،