دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الحَدید

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

آیت ۲۵ میں حدید( لوہے) کے نازل کئے جانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام " الحدید" ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور آیت ۱۰ میں فتح سے پہلے انفاق اور جہاد کرنے والوں کے درجہ کی بلندی کا جو ذکر ہوا ہے اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سورہ فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی تھی غالباً ۵ ۰ ہجری  یا ۶ہجری میں۔

 

مرکزی مضمون

 

اس سورہ میں خلوص کے ساتھ ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور اس کا ابھرا ہوا تقاضا یہ پیش کیا گیا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنا مال خرچ کیا جائے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت۱ تا۶ میں اللہ کی پاکیزگی اور اس کی صفات بیان ہوئی ہیں۔

 

آیت ۷ تا ۱۱ میں خلوص کے ساتھ ایمان لانے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

 

آیت ۱۲ تا ۱۵ میں مخلص مومنوں کو یہ بشارت دیتے ہوئے کہ ان کا ایمان قیامت کے دن ان کے لیے نور ہو گا منافقین کے اس نور سے محرومی اور ان کے عذاب سے دو چار ہونے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔

 

آیت ۱۶ تا ۲۴ میں ایمان کے تقاضے پیش کئے گئے ہیں اور دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو مقصود بنانے کی ترغیب دی گئی ہے

 

آیت ۲۵ تا ۲۷ میں قیامِ عمل کے لیے طاقت کے استعمال کو ضروری قرار دیتے ہوئے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے اور دین کے رہبانی تصور کی تردید کی گئی ہے۔

 

آیت ۲۸ اور ۲۹ سورہ کے خاتمہ کی آیتیں ہیں جن میں متقی اور مخلص مومنوں کے لیے روشنی اور فضلِ عظیم سے نوازے جانے کی بشارت دی گئی ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۱*اور وہ غالب ہے۔ ۲ *حکمت والا ۳*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے۔۴ *وہی زندہ کرتا اور مرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور پوشیدہ بھی۔ ۵ *اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ ۶*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ ۷*وہ جانتا ہے جو چیز بھی زمین میں داخل ہوتی ہے۔ ۸* اور اس سے نکلتی ہے۔ ۹* اور جو کچھ آسمان میں سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ ۱۰* وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو ۱۱* اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ ۱۲*

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں ۱۳* اور وہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ ۱۴*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر ۱۵*  اور خرچ کرو اس مال میں سے جس پر اس نے تم کو اختیار بخشا ہے۔ ۱۶*  جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو۔۱۷*

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہی ہے جو اپنے بندہ پر واضح آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیو ں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ یقیناً اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔۱۸*

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ ۱۹* یکساں نہیں ، تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑے ان کا درجہ ان لوگوںسے بڑا ہے جو بعد میں خرچ کریں گے اور لڑیں گے۔ اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھا وعدہ کیا ہے ۔ ۲۰*  اور تم جو کچھ کرتے ہو ا س سے اللہ با خبر ہے۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض؟ کہ وہ اس کے لیے اس کو کئی گنا کر دے۔ اور اس کے لیے بہترین اجر ہے۔ ۲۱*

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑ رہا ہو گا۔ ۲۲* آج تمہارے لیے خوشخبری ہے جنتوں کی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں ہمیشہ رہو گے، یہی ہے بڑی کامیابی۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے ذرا توقف کرو کہ ہم تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں۔۲۳*  ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے پلٹو اور وہاں نور تلاش کرو۔ ۲۴* پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی  جائے گی۔۲۵* جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اس کے اندر کی جانب رحمت ہو گی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہو گا۔ ۲۶*

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ ان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ جواب دیں گے ہاں مگر تم نے اپنے کو فتنہ میں ڈالا۔۲۷* ہمارے لیے بُرے ( انجام کا)  انتظار کرتے  رہے۲۸*، شک میں مبتلا رہے۔ ۲۹* اور جھوٹی تمناؤں نے تمہیں دھوکہ میں رکھا۔ ۳۰* یہاں تک کہ اللہ کا حکم ا گیا ۳۱* اور اس فریب کار ۳۲*نے تمہیں اللہ کے معاملہ میں فریب ہی میں رکھا۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تو آج نہ تم (منافقوں)  سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا۔ ۳۳ * اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ۔ *۳۴ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے۔ وہی تمہاری رفیق ہے۔ ۳۵* اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کیا ایمان لانے والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھک جائیں ۔۳۶* اور ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ ۳۷*

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جان لو کہ اللہ زمین کو اس کے مردہ  ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ ۳۸*ہم نے نشانیاں تمہارے لیے واضح کر دی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  بلا شبہ صدقہ دینے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کو کئی گنا کر کے دیا جائے گا۔ ۳۹*اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ۴۰* ان کے لیے ان کا اجر بھی ہو گا اور نور بھی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل اور لہو، زینت ، ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی طلب ہے۔۴۱* اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش جس کی نباتات کو دیکھ کر کافر خوش ہو جاتے ہیں پھر وہ لہلہانے لگتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ زرد ہو گئی ہے۔ پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ جاتی ہے۔ ۴۲* اور آخرت میں سخت عذاب بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی۔ ۴۳*اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکہ کا سامان ہے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک دوسرے سے آگے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے مانند ہے۔ ۴۴* وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ ۴۵* جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ ۴۶*یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کوئی مصیبت بھی زمین پر نازل نہیں ہوتی اور نہ تمہارے نفس کو پہنچتی ہے مگر ہے کہ وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ ۴۷*یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔۴۸*

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اس حقیقت سے تمہیں آگاہ کر دیا گیا ہے)تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو جو تم سے جاتی رہے اور اس چیز پر اتراؤ نہیں جو تمہیں عطا فرمائے۔ ۴۹* اللہ اترانے والوں اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ۵۰*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  جو بخل کرتے ہیں اوردوسروں کو بخل کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ ۵۱* اس (نصیحت سے)  جو رخ پھیرے گا تو وہ یا د رکھے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔۵۲*

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ ۵۳* اور ان کے ساتھ کتاب ۵۴* اور میزان ۵۵*نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں ۵۶* اور لوہا اتارا جس میں زبردست خوفناکی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدہ بھی۔۵۷*یہ سب اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اللہ جان لے کہ کون ان کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ ۵۸*بلا شبہ اللہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔ ۵۹*

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ ۶۰ * تو ان میں سے کچھ لوگوں نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے۔ ۶۱*

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پھر ہم نے ان کے نقشِ قدم پر اور رسول بھیجے اور پھر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اس کو انجیل عطا کی۔ ۶۲*  اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور رحم ڈال دیا۔ ۶۳*  اور رہبانیت کا نیا طریقہ انہوں نے خود نکالا۔ ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے یہ بدعت نکالی پھر اس کی رعایت نہ کرسکے جیسا کہ رعایت کرنے کا حق تھا۔ ۶۴ * تو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے تھے ان کا اجر ہم نے انہیں عطا کیا۔ ۶۵*مگر ان میں زیادہ تر لوگ فاسق ہیں۔ ۶۶*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ ۶۷*وہ تمہیں اپنی رحمت میں سے د و حصے دے گا۔ ۶۸* اور تمہیں نور عطا کرے گا جس کے ساتھ تم چلو گے اور تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور نہایت رحیم ہے۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  تاکہ نہیں۔۶۹* اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ ۷۰* اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ سَبَّحَ ماضی کا صیغہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں "تسبیح کی"اور دوسری سورتوں میں "یُسَبِّحُ "مضارع کا صیغہ بھی آیا ہے جو حال اور مستقبل دونوں کے لیے یعنی تسبیح کرتی ہے اور تسبیح کرے گی۔ان دونوں صیغوں کے استعمال سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ کائنات کی ہر چیز بلا قید زماں اللہ کی تسبیح میں زمزمہ سنج ہے۔ زبانِ حال اور زبانِ قال دونوں سے اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بنی اسرائیل نوٹ ۵۸۔

 

۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کا اقتدار اور غلبہ ہر چیز پر ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے قابو سے باہر نہیں۔

 

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے اقتدار اور غلبہ کو حکمت کے ساتھ استعمال کرتا ہے اس نے یہ نظام کائنات ایک سنجیدہ حقیقت ہے۔ نہ وہ مقصدیت سے خالی ہے اور نہ اس کی سلطنت میں اندھیر نگرسی ہے۔

 

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ کائنات کا فرمانروا ہے۔ اس کی بادشاہ میں کوئی شریک نہیں۔ وہ پوری شانِ بادشاہت کے ساتھ اپنی سلطنت پر حکومت کر رہا ہے۔

 

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تشریح اس طرح فرمائی ہے ۔اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْ ءٌ وَاَنْتَ الآخِرُ فَلَیسَ بَعْدَکَ شَیٌٔ وَاَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیسَ فَوْقَکَ شَیٌٔ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیسَ دُوْنَکَ شَیٌٔ۔

 

"تو اول ہے تجھ سے پہلے کوئی نہیں تو آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اوپر کوئی نہیں تو باطن ہے تجھ سی زیادہ پوشیدہ کوئی نہیں۔"مسلم کتاب الذکر،

 

مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہر چیز کا وجود اس کے وجود کے بعد ہے اور ہر چیز قانونی ہے بقا اور دوام اسی کے لیے ہے اور اس کے باقی رکھنے ہی سے کوئی چیز باقی رہ سکتی ہے۔ اس کے وجود سے زیادہ کسی چیز کا وجود بھی ظاہر نہیں۔پوری کائنات اس کے وجود کو ظاہر کر رہی ہے اور وہ ہر جگہ آشکارا ہے مگر وہ ایسا پوشیدہ ہے کہ دکھائی نہیں دیتا۔ جو اس کا ادراک نہیں کرسکتے اور عقل اس کی کہنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ لہٰذا اس کی ذات و صفات کے بارے میں جو معرفت وحی الٰہی نے بخشی ہے اس پر اکتفا کرنا چاہیے اور ایسے سوالات میں ذہن کو الجھانا نہیں چاہیے جو ہماری معرفت کے دائرہ سے باہر ہیں۔

 

جو لوگ وحدۃ الوجود، یعنی نعوذ باللہ اللہ اور مخلوق کا سب کا وجود ایک ہی ہے،کے قائل ہیں۔ انہوں نے یہیں ٹھوکر کھائی ہے۔ انہوں نے اللہ کی ذات میں عقل و فطرت کے حدود سے متجاوز ہو کر غور کیا جس کے نتیجہ میں ان کا عقیدہ فاسد ہو گیا اور گمراہی ان کے حصہ میں آئی۔ آدمی جب تک پانی میں تیرتا ہے سلامت رہتا ہے لیکن جب زمین پر تیرنا شروع کرتا ہے تو گھٹنے پھوٹنے لگتے ہیں۔ عقل کے گھوڑے کے لیے زمام نہایت ضروری ہے۔

 

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان اپنے علم پر اللہ کے علم کو قیاس نہیں کرسکتا۔ اللہ کا علم بحرِ بے کراں ہے اور انسان کا علم سمندر کے ایک قطرہ کے برابر بھی نہیں۔

 

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ اعراف نوٹ ۸۲ ، ۸۳ میں گزر چکی۔

 

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً اناج کے دانے، پانی اور مُردے جو اس میں دفن ہوتے ہیں۔

 

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً کونپلیں،پانی کے چشمے، دھاتیں ، قیمتی پتھر اور تیل، پٹرول ، گیس وغیرہ۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ سبا نوٹ ۵ میں گزر چکی۔

 

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم جہاں کہیں ہو اللہ تمہیں جانتا ہے ، دیکھتا ہے، تمہاری باتیں سنتا ہے ، تم پر قدرت رکھتا ہے اور تمہاری روح قبض کرتا ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونے کا تصور ہی انسان کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔

 

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بادشاہ ہے اس لیے آسمانوںاور زمین میں اسی کے فرمان جاری ہوتے ہیں اور وہ مرجع ہے اس لیے تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔

 

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ آل عمران نوٹ ۳۹ میں گزر چکی ۔

 

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جزئی سے جزئی اور سب سے زیادہ مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے یہاں تک کہ دلوں میں چھپے ہوئے بھید بھی اس پر عیاں ہیں۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ کلمہ گو مسلمانوں سے خطاب ہے کہ صرف کلمہ گو ہونا کافی نہیں بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ ایمان وہی معتبر ہے جو دل کی تصدیق کے ساتھ ہو اور اس میں شک اور تذبذب نہ ہو بلکہ اس کے حق ہونے پر یقین ہو۔

 

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو مال اس نے امانۃً تمہارے سپرد کیا ہے اور تم کو شرعی حدود میں تصرف کا اختیار بخشا ہے۔ خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے اور اس سورہ میں انفاق  خرچ کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ جہاد کی ضرورتوں کے پیشِ نظر ہے تاکہ کفر اور اسلام کی کشمکش میں اسلام کو سر بلندی حاصل ہو۔

 

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ان مسلمانوں سے خطاب ہے جنہوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا لیکن ایمان ابھی ان کے دل میں نہیں اترا تھا۔ ان کو فہمائش کی گئی کہ جب رسول تمہیں بنفس نفیس ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ تم مخلصانہ ایمان نہیں لاتے؟ جب کہ رسول تم سے عہد لے چکا ہے۔ عہد اس بات کا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے۔ جب کوئی شخص کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام میں داخل ہوتا ہے تو وہ دراصل اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہوا ہے:

 

وَاِذْکُرُوْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیکم وَ مِیثَاقَہٗ الَّذِیْ وَاَثقَکُمْ بِہٖ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔ مائدہ: ۷ "اور اللہ نے جو فضل تم پر کیا ہے اسے یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جو اس نے تم سے لیا ہے جب تم سے کہا تھا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔"

 

لہٰذا اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو اس کے تقاضوں کو پورا کرو۔

 

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے جہالت اور خواہشات کے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں اس لیے اس نے واضح آیتیں نازل کر کے ان کو روشنی میں لانے کا اہتمام کیا۔ وہ اپنے بندوں کے حق میں شفیق ہے اس نے انہیں برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اور وہ رحیم ہے اس لیے چاہتا ہے کہ وہ اس کی رحمت کے مستحق نہیں۔

 

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم کو جو مال عطا ہو ا ہے وہ بالآخر اللہ کے قبضہ میں جانے والا ہے۔ تمہارے ساتھ ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے پھر تم اپنے ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کیوں نہیں کرتے کہ تمہارے لیے اجر کا باعث بنے۔

 

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتح سے مراد فتحِ مکہ ہے ۔ فتح مکہ سے پہلے حالات نہایت کٹھن اور صبر آزما رہے ہیں۔ اس وقت اسلام کی سربلندی کے لیے جانی و مالی قربانیاں دینے کی شدید ضرورت تھی۔ ان حالات میں میں وہی لوگ قربانیاں دینے کے لیے آگے بڑھے جو بلند حوصلہ تھے اس لیے ان کا درجہ بھی اللہ کے یہاں بلند ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو اسلام کی عظیم فتح۔فتح مکہ۔کے بعد جب کہ حالات اتنے سخت نہیں رہیں گے جانی و مالی قربانیاں پیش کریں گے۔ درجہ کے اعتبار سے تو دونوں یکساں نہیں ہوسکتے لیکن دونوں ہی کی قربانیاں لائق قدر ہیں اور اللہ نے اچھے اجر کا وعدہ دونوں ہی سے کیا ہے۔

 

اس آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اسلام کے لیے جب کبھی حالات ناسازگار ہو کر رہ جائیں اور اس کی سربلندی کے لیے اپنا مال خرچ کرنا اور اپنی جانیں لڑا دینا بڑے حوصلہ کا کام ہو تو جو لوگ ان خطرات کو مول لے کر آگے بڑھیں گے ان کا رتبہ بلند ہو گا بہ نسبت ان لوگوں کے جو عام حالات میں اسلام کی سربلندی کے لیے انفاق اور جہاد کریں گے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  قرضِ حسن سے مراد وہ انفاق خرچ ہے جو اپنی جائز کمائی میں سے خالصۃً اللہ کی رضا خوشنودی کے لیے کیا جائے۔ نہ اس میں ریا ہو اور نہ اس کے بعد احسان جتانے اور اذیت دینے کی کوئی بات۔ یہ انفاق جہاد کے مقاصد کے لیے خاص طور سے مطلوب ہے اس لیے اس کا مطالبہ دل کو اپیل کرنے والے انداز میں کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ شانِ کریمی ہے کہ وہ اس انفاق کو اپنے ذمہ قرض قرار دے رہا ہے جس کو وہ آخرت میں کئی گنا کر دے گا اور بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔

 

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نور ایمان اور عملِ صالح کا ہو گا۔ حدیث میں نماز کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے: الصلوٰۃ  نورٌ "نماز نور ہے۔" مسلم کتاب الطہارۃ۔

 

یہی نور ہے جو قیامت کے دن مومنوں پر جنت کی راہ روشن کرے گا۔ یہ سعادت جس طرح مومن مردوں کو حاصل ہو گی اسی طرح مومن عورتوں کو بھی حاصل ہو گی۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  منافق یعنی وہ لوگ جو بظاہر مسلمان تو ہو گئے تھے لیکن اپنے ایمان میں مخلص نہ تھے۔ آگے آیت ۱۴ میں اس کی وضاحت ہوئی ہے۔ یہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے گروہ میں شامل تھے اس لیے قیامت کے دن بھی وہ مومنوں کے پیچھے پیچھے ہوں گے لیکن چونکہ ان کی زندگیاں ایمان اور عملِ صالح سے خالی تھیں اس لیے قیامت کے دن ان کو نور سے محروم رکھا جائے گا۔ وہ اپنے کو اس حا ل میں دیکھ کر کہ اس نور سے محروم ہیں۔ مومنوں کو آواز دیں گے کہ ذرا ٹھہرو تاکہ تمہارے نور کی روشنی سے ہم بھی فائدہ اٹھا لیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہو گی۔

 

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا جس کو تم پیچھے چھوڑ کر  آئے ہو نور حاصل کرنے کی جگہ تھی۔ اب اگر تم پلٹ کر دنیا میں جاسکتے ہو تو جاؤ اور وہاں نور تلاش کرو مگر یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ آخرت میں نور اسی کے ساتھ ہو گا جو دنیا سے ایمان اور عملِ صالح کا نور لے کر آیا ہو گا۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مومنوں اور منافقوں کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی  جائے گی۔ اس طرح دونوں گروہ الگ ہو جائیں گے تاکہ اپنی الگ الگ منزل کو پہنچ جائیں۔

 

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس دیوار کے دروازہ سے مومن اندر داخل ہوں گے جہاں رحمت ہی رحمت ہو گی۔ یعنی جنت ۔ اور یہ دروازہ در حقیقت رحمت کا دروازہ ہو گا۔

 

اس دروازہ کے باہر کی طرف عذاب ہو گا جو منافقین کو اپنی گرفت میں لے گا۔

 

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مومنوں کو اپنی روشنی کے ساتھ جدا ہوتے دیکھ کر منافق انکو پکاریں گے کہ ہم کو پیچھے چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔ کیا ہم دنیا میں تمہارے ساتھ نہ تھے؟ وہ جواب دیں گے تم ہمارے ساتھ ضرور تھے__ یعنی مسلم سوسائٹی میں شامل تھے__لیکن تم نے دو رخی پالیسی اختیار کر کے اپنے کو زبردست فتنہ میں ڈالا۔ ایک طرف مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے رہے اور دوسری طرف کافرو ں سے بھی ساز باز کرتے رہے۔ ظاہر میں ایمان اور باطن میں کفر و بدترین شر تھا جس میں تم نے اپنے کو مبتلا کر رکھا تھا۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  اس انتظار میں رہے کہ کب مسلمانوں پر ایسی افتاد پڑتی ہے کہ پھر وہ اٹھ ہی نہ سکیں۔

 

یتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ عَلَیہِمْ دَائِرَۃُ السَّوْءِتوبہ:۹۸۔  وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ تم کسی نہ کسی گردش میں آ جاؤ  اور واقعہ یہ ہے کہ بری گردش میں وہ خود ہی آ گئے ہیں۔"

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں نہ رسول کی رسالت پر یقین تھا اور نہ آخرت پر۔ ان باتوں پر تم شک ہی کرتے رہے۔

 

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ ہماری یہ پالیسی کامیاب رہے گی۔ ہم اپنا مفاد اسی طرح حاصل کرسکیں گے اور اگر آخرت برپا ہوئی تو ہم مسلمانوں میں شامل ہونے کی بنا پر بخش دیئے جائیں گے۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کے حکم سے مراد موت ہے یعنی مرتے دم تک تم نفاق ہی میں مبتلا رہے۔

 

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد شیطان ہے جو کفر اور گناہ پر آمادہ کرتا ہے اور سبز باغ دکھاتا ہے۔

 

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر تمہارے پاس دنیا بھر کی دولت ہو اور تم اپنی نجات کے لیے اسے فدیہ میں دینا چاہو تو بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ دنیا میں تو جو مال تمہیں میسر تھا اس کا ایک حصہ الہ کی راہ میں خلوصِ دل سے اور سچے مومن بن کر خرچ کرتے تو آج تمہارے لیے وہ ضرور ذریعہ نجات بن سکتا تھا۔ مگر اب اس کا کوئی بدل نہیں۔

 

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نہ کھلے کافروں سے فدیہ قبول کر لیا جائے گا۔

 

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اب تمہارا اگر کوئی رفیق ہے تو یہی جہنم۔ دیکھو اب وہ تمہاری کیسی خبر گیری کرتی ہے۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔  خطاب ان ایمان لانے والوں سے ہے جن کے دل خشوع سے خالی تھے خشوع دل کی وہ کیفیت ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے حضور جوابدہی کے تصور سے پیدا ہوتی ہے اور جو عبارت ہے احساس بندگی، پستی، اور عجز و نیاز سے۔ یہ چیز سچے ایمان کا خاصہ ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو جن کا ایمان محض زبانی جمع خرچ کی حد تک تھا اور جن کے دل میں وہ سرایت نہیں کر گیا تھا جھنجھوڑا گیا ہے کہ اسلام اور کفر کی اس طویل کشمکش میں جو کئی سال سے چلی آ رہی ہے اور جس کے دوران وہ اہلِ ایمان کی مظلومی بھی دیکھتے رہے ہیں اور اسلام کی حقانیت اور پیغمبر کی صداقت کی نشانیاں بھی ، ان کے دل اب بھی نہیں پسیجتے اور اللہ کو یاد کر کے پست نہیں ہو جاتے اور اس حق کو دیکھتے ہوئے جو قرآن کی شکل میں اس نے نازل کیا ہے ان کے اندر اس کے حضور جوابدہی کا احساس نہیں ابھرتا اور اس کے لیے عجز و نیاز کی کیفیت ان کے اندر پیدا نہیں ہوتی !

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اہلِ کتاب پر جب کتاب کے نازل ہونے اور رسول کے رخصت ہو جانے کے بعد ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کا رشتہ کتابِ الٰہی سے کمزور پڑتا چلا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دل کا خشوع رخصت ہوا اور خشوع کے رخصت ہو جانے سے دل سخت ہو گئے اور پھر ان کی زندگیاں فاسقانہ بن کر رہ گئیں۔ یہاں ان کی اس حالت سے عبرت دلائی گئی ہے۔

 

مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ ابھی قرآن نازل ہو رہا ہے اور اللہ کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے پھر تمہارا حال ان اہلِ کتاب کا سا نہیں ہونا چاہیے۔

 

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال بھی ایک قلیل تعداد کو چھوڑ کر ویسا ہی ہے جیسا کہ اہلِ کتاب کا بیان ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے رخصت ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اس لمبی مدت میں ان کا تعلق کتابِ الٰہی سے کمزور ہوتا چلا گیا جس کی بہت بڑی وجہ بدعات سے ان کی دلچسپی ہے اور واسطہ وسیلہ کا باطل تصور ہے جس نے ان کو جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر دیا چنانچہ وہ اپنی نجات کے بارے میں بڑی خوش فہمی میں ہیں جب کہ ان کی زندگیاں کھلی فاسقانہ ہیں۔ ان پر نصیحت کا اثر اس لیے نہیں ہوتا کہ معصیت میں مسلسل مبتلا رہنے کے نتیجہ میں ان کے دل سخت ہو گئے ہیں۔

 

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مرنے کے بعد جی اٹھنے پر جس کے بارے میں منافقین شک میں مبتلا تھے دلیل بھی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ بھی کہ مردہ دلوں کو بھی اللہ زندہ کرسکتا ہے اور وہ ہدایت پاسکتے ہیں بشرطیکہ وہ اللہ کی نشانیوں پر غور کریں جن میں سے ایک بہت بڑی نشانی زمین کا مردہ یعنی خشک ہو جانے کے بعد زندہ ہونا یعنی سرسبز ہونا ہے۔

 

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدقہ سے مراد عام صدقہ و انفاق ہے اور قرضِ حسن سے مراد و ہ انفاق ہے جو اسلام کی جنگی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کیا جائے اور جس میں ریاء وغیرہ کا شائبہ نہ ہو۔ چونکہ یہ پیش آمدہ ضرورت کے تحت مطالبہ کی شکل میں تھا اس لیے اسے قرض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کو کئی گنا بڑھا کر آخرت میں لوٹا دینے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اس طرح صدقہ دینے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ اضافہ کر کے دے گا۔

 

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے نزدیک صدیقیت اور شہادت کا مرتبہ پانے والے مخلص اہل ایمان ہی ہوں گے۔ نام نہاد مسلمان جو اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے رہے وہ اللہ کے ہاں کوئی مقام پا نہ سکیں گے۔ آیت کے اس مفہوم کو اس کا آخری فقرہ واضح کر رہا ہے جس میں کفر کرنے والوں کا مقام جہنم بتایا گیا ہے۔ صدیق یعنی بہت سچا۔ صداقت شعار اور شہید یعنی گواہ۔ مراد اسلام کی حقانیت کی گواہی دینے والا ہے۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے:

 

وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃٌ وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْ شُہَدآءَ عَلَی النَّاسِ۔ "اس طرح ہم نے تم کو بہترین امت بنایا تاکہ لوگوں پر گواہ ہو۔"بقرہ: ۱۴۳۔

 

اس معنی میں دینِ حق کی گواہی دینے والا ہر مومن شہید ہے اور شہادت کا اونچا مقام وہ ہے جو ایک مومن اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر کے حاصل کرتا ہے۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اس آیت میں دنیا کی زندگی کو جب کہ اسے آخرت کی کامیابی کا ذریعہ نہ بنایا جائے بے وقعت قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ دنیا کو اپنا مقصود بناتے ہیں ان کی زندگیاں کھیل تماشا بن کر رہ جانتی ہیں۔ وہ دنیا کو سیر گاہ خیال کرتے ہیں اور تفریحِ طبع کا سامان مہیا کرنے میں منہمک ہو جاتے ہیں۔

 

لَعِب یعنی کھیل جو محض دل کے بہلاوے کے لیے ہوتا ہے۔

 

لَہْو یعنی اصل مقصد سے غافل کر دینے والی چیز۔دنیا کے وہ تمام مشاغل جو آخرت سے غافل کر دینے والے ہوں لَہْو ہیں خواہ وہ عیش و عشرت کے لیے ہوں یا جاہ و منصب کے حصول یا قوم کو دنیا پرستی میں مبتلا رکھنے کے لیے ہوں۔

 

زینۃ  ( آرائش) سے مراد دنیا کی ظاہری چمک دمک اور دل فریبی ہے ۔ جس کی لذتیں گناہ میں مبتلا کرتی ہیں اور جس کی کشش خواہشات کا غلام بناتی ہیں۔

 

تفاخر(باہم فخر کرنا)فخریہ ہے کہ آدمی حسب و نسب ، مال و دولت اور جاہ و منصب وغیرہ کی بنا پر اپنی بڑائی کا دوسروں پر اظہار کرے۔ ایک فنکار اپنی فنی مہارت پر، ایک شاعر اپنے داد ملنے والے کلام پر، ایک صحافی اپنی صحافیانہ صلاحیت پر ایک مصنف اپنی قابلیت پر اور ایک سیاست داں اپنی شاطرانہ سیاست پر فخر کرتا ہے اور یہ نہیںسوچتا کہ یہ اپنی بڑائی کا اظہار ہے جو اسے زیب نہیں دیتا۔ نعمتیں اور صلاحیتیں سب اللہ کی عطا کردہ ہیں اور ذریعہ آزمائش ہیں اس لیے ان کے تعلق سے اپنی ذمہ داری کا احساس ابھرنا چاہیے نہ کہ اپنی بڑائی کا ہے۔

 

تکاثر۔  ایک دوسرے سے مال و اولاد میں بڑھ جانے کی طلب وہ حرص ہے جو دنیوی اغراض کے لیے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے پر آدمی کو آمادہ کرتی ہے اور اس زمانہ میں جبکہ اولاد کی کثرت ایک قوت اور جتھے کا کام دیتی تھی مقصود بن جایا کرتی تھی اور اس کے پیشِ نظر مرد بہت سی عورتوں سے شادیاں بھی کر لیتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں خود غرض انسان چاہتا ہے کہ اس کے بچے کم سے کم ہوں۔

 

تکاثر کی مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ تکاثر نوٹ ۱۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیوی زندگی کی رونق جس پر لوگ ریجھتے ہیں ایسی ہے جیسے کھیتی کی رونق جو بارش ہونے پر بہار پر آ جاتی ہے مگر یہ بہار چند روزہ ہوتی ہے اس کے بعد وہ چورا چورا ہو کر رہ جاتی ہے اس لیے یہ کوئی دانشمندی نہیں ہے کہ آدمی دنیوی زندگی کی ظاہری چمک دمک سے ایسا متاثر ہو جائے کہ اس کے بعد کیا پیش آنے والا ہے اس کو نظر انداز کر دے۔

 

یہ مثال دوسرے مقامات پر بھی بیان ہوئی ہے۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ کہف نوٹ ۶۳۔

 

واضح رہے کہ دنیوی زندگی کا بے وقعت اور حقیر ہونا اس پہلو سے ہے کہ اسے آخرت پر ترجیح دی جائے اور اپنا نصب العین بنا لیا جائے۔ قرآن میں اسی پہلو سے یہ مذمت کی گئی ہے چنانچہ سورۂ ابراہیم آیت ۳ میں ارشاد ہوا ہے:

 

اَلْذَینَ یسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیا عَلَی الْآخِرَۃِ "جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پسند کرتے ہیں۔"

 

اور سورۂ اعلیٰ آیت ۱۶ میں فرمایا

 

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا "لیکن تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔"اور سورۂ نجم آیت ۲۹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کافر دنیوی زندگی کو اپنا مقصود بناتے ہیں۔

 

وَلَمْ یرِدْ اِلاَّ الْحَیٰوۃَالدُّنْیا "اور اس نے دنیوی زندگی ہی کو مقصود بنایا۔"

 

لیکن اس کے برعکس جو لوگ دنیوی زندگی کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں اور شرعی حدود میں رہ کر زندگی بسر کرتے ہیں ان کی دنیوی زندگی نہایت سنجیدہ ہوتی ہے نہ کہ کھیل تماشا اور وہ اس امتحان گاہ سے کامیابی کا سرٹیفکیٹ لے کر نکلتے ہیں۔

 

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت میں دو طرح کے انجام سامنے آنے والے ہیں۔ ایک عذاب شدید یعنی جہنم کی سزا جو ان لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھگتنا ہو گی جنہوں نے دنیوی زندگی کو اپنا مقصود بنا لیا تھا اور جو آخرت کے منکر تھے۔

 

دوسرا انجام اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی شکل میں ظاہر ہو گا اور یہ ان لوگوں کا انجام ہو گا جنہوں نے دنیا کو امتحان گاہ سمجھ لیا تھا۔ اور جو آخرت کی کامیابی کو اپنا مقصدِ حیات بنائے ہوئے تھے۔ اللہ کی خوشنودی کا مظہر جنت ہے جیسا کہ بعد کی آیت سے واضح ہے۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دنیا کی دولت کے حصول کیلئے ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کے بجائے اللہ کی مغفرت اور جنت کے لیے بازی لے جانے کی کوشش کرو کہ اصل چیز اللہ کے عذاب سے محفوظ رہنا اور جنت میں داخل ہو جانا ہے۔

 

جنت کی وسعت سے مراد اس کی پہنائیاں ہیں جو آسمان و زمین کی پہنائیوں کی طرح ہوں گی۔ یعنی جنت کوئی محدود جگہ نہیں ہو گی بلکہ ایک وسیع عالم ہو گا جس کی سیر آسانی کے ساتھ اہل جنت کرسکیں گے اور اللہ کی قدرت اور اس کی رحمت کے جلوے انہیں ہر جگہ دکھائی دیں گے جو ان کے لیے سرور اور لذتِ دید کا باعث ہوں گے۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ جنت تیار کی جائے گی بلکہ کہتا ہے کہ جنت تیار کی گئی ہے جس سے اس کے موجود ہونے کا یقین پیدا ہوتا ہے۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ جنت اہل ایمان ہی کے حصہ میں آئے گی۔ کافروں کو اس کی ہوا بھی نہیں لگ سکے گی۔

 

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین پر مصیبت نازل ہونے کی مثال قحط، سیلاب، طوفان وغیرہ ہے۔ اور نفس کو مصیبت پہنچنے کی مثال بیماریاں، جسمانی و قلبی تکلیف اور موت ہے۔

 

اس آیت میں قضا و قدر کے تعلق سے نہایت اہم بات ارشاد ہوئی ہے اور وہ یہ کہ مصیبت وہی پہنچتی ہے جو پہلے سے لکھ دی گئی ہے یعنی ٹھیک اللہ کے منصوبہ کے مطابق لہٰذا کسی مصیبت کے پہنچنے پر کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ یہ یکایک نازل ہوئی ہے اور اس سے بچنا میری دسترس میں تھا۔

 

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمام مصائب کو پہلے سے ضبطِ تحریر میں لانا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے جس ہستی کے اشارہ پر مصیبتیں نازل ہوتی ہوں اس کے لیے یہ کام کیا مشکل ہے کہ ان کی پہلے سے منصوبہ بندی کر کے ان کو ایک کتاب میں لکھ دیا جائے۔

 

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس حقیقت سے جو مصیبت کے تعلق سے بیان ہوئی تمہیں اس لیے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی مصیبت کے پہنچنے پر تم افسوس نہ کرنے لگو کہ اس کو ٹالا جاسکتا تھا اور کسی نعمت کے حاصل ہو جانے پر اترانے لگو کہ یہ ہماری اپنی قابلیت کا نتیجہ ہے بلکہ مصیبت میں صابر اور نعمت کے پا جانے پر شاکر رہو کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ توکل ہی انسان پر حوصلہ پیدا کرتا ہے اور اسے اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

 

کسی مصیبت کے پہنچنے پر انسان کو فطرۃً صدمہ ہوتا ہے لیکن اگر وہ اس کو جزع فزع اور شکوہ شکایت کا ذریعہ نہیں بناتا اور صبر و ضبط کا دامن تھام لیتا ہے تو محض اس صدمہ کے پہنچ جانے پر کوئی گرفت نہیں ہے۔

 

اسی طرح کسی نعمت کے حاصل ہو جانے پر انسان کو فطری طور سے خوشی ہوتی ہے لیکن اگر یہ خوشی اترانے کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو وہ مذموم ہے۔

 

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ لقمان نوٹ ۲۹ اور ۳۰ میں گزر چکی۔

 

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اترانا اور فخر کرنا تنگ ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ ایسا شخص نہ دوسروں کے حقوق ادا کر پاتا ہے اور نہ انہیں ان سے صحیح ہمدردی ہوتی ہے۔ وہ مال جمع کر کر کے رکھتا ہے تاکہ اسے دوسروں پر برتری حاصل ہو اور وہ اپنی دولت پر فخر کرسکے۔

 

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس نصیحت میں تمہارا اپنا فائدہ ہے ورنہ اللہ تمہاری کسی چیز کا بھی محتاج نہیں ہے اور تم اس کا شکر ادا کرو یا نہ کرو وہ بہترین صفات سے متصف اور لائق حمد ہی ہے۔

 

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی نشانیاں جن سے واضح ہوتا تھا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ نشانیاں ان کی سیرت ، ان کی زندگیوں اور ان کی تعلیمات میں بھی تھیں اور ان معجزات میں بھی جو ان کو دیئے گئے تھے۔

 

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔  آسمانی کتاب جو ذریعہ ہدایت تھی۔ کتاب کا لفظ واحد ہے جو جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے مراد تمام آسمانی کتابیں ہیں۔

 

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میزان یعنی شریعت جو انفرادی و اجتماعی زندگی میں قیامِ عدل کا ذریعہ ہے اور جس سے عملی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ رحمن نوٹ ۸۔

 

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ عدل پر قائم ہونے کا مطلب انصاف اور راستی کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ آدمی اپنے عقائد و اعمال میں بھی یہی طریقہ اختیار کرے اور دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی۔

 

اس آیت سے اجتماعی زندگی میں عدل کو قائم کرنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ رسولوں کے مقاصد بعثت میں سے ہے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام انسانی سوسائٹی کے لیے عادلانہ نظام قائم کرنے کا داعی ہے جو اللہ کی شریعت کو قائم کئے بغیر ممکن نہیں۔ حکومت، سیاست، معیشت، عدالت سب کو اللہ کے قانونِ عدل کا پابند ہونا چاہیے۔ یہ بات اسلام کے اجتماعی پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے اور اس کے وسیع تصور دین کو بھی۔

 

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔"لوہا اتارا"لوہا پیدا کرنے کے معنی میں ہے جس طرح چوپایوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ "ہم نے چوپائے اتارے"جو پیدا کرنے ہی کے معنی میں ہے ۔ پیدا کرنے کو نازل کرنے سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ انسان میں یہ احساس ابھرے کہ لوہا اللہ کے حکم سے پیدا ہوا ہے اور اس کے عطا کرنے سے انسان کو یہ نعمت حاصل ہوئی ہے۔

 

لوہے میں زبردست خوفناکی  بأس شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں وہ قوّت ہے جو جنگی مقاصد کے لیے ضروری تھی۔اس سے تلوار،توپ، اور ٹینک جیسے اسلحہ تیار کئے جاسکتے ہیں جو دشمن کو خوف زدہ کرنے والے اور اس کا زور توڑ دینے والے ہیں۔ اسی طرح مجرمین کو سزا دینے کے لیے بھی اس قوت کو استعمال کیا جاسکتا ہے علاوہ ازیں لوہا عام منفعت کی چیز ہے چنانچہ صنعت و حرفت میں اس کا استعمال عام ہے۔

 

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوہا جس سے جنگی اسلحہ تیار کئے جاتے ہیں اس لیے مہیا کر دیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون ہے جو اس کو مقصدِ حق کے لیے استعمال کرتا ہے یعنی اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کے رسولوں کی حمایت و نصرت میں۔ گویا اس جنگی قوت کا اصل مصرف جہاد فی سبیل اللہ ہے جس کے ذریعہ نظامِ عدل قائم ہوتا ہے۔

 

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان صفات کو بیان کرنے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کو چاہے تو اپنے تکونی حکم کے ذریعہ بھی غالب کرسکتاہے لیکن وہ اس بات کا موقع دے رہا ہے کہ اس کے دین کی حمایت و نصرت کر کے اور اس کو غالب کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کر کے اس کی خوشنودی حاصل کرو کہ یہ اصل کامیابی ہے۔

 

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس سلسلہ رسالت میں حضرت نوح اور حضرت ابراہیم خاص طور سے قابل ذکر ہیں کہ ان کی نسل میں انبیاء بھی مبعوث ہوئے اور کتابیں بھی نازل ہوئیں۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ نبوت و کتاب کا سلسلہ ان دو رسولوں کی نسل ہی میں رہا چنانچہ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط سب حضرت نوح ہی کی نسل سے تھے۔ پھر حضرت ابراہیم کی نسل کو یہ اعزاز بخشا گیا کہ ان کی نسل کی دو شاخیں ہوئیں ایک بنی اسرائیل جن میں متعدد انبیاء مبعوث ہوئے اور تورات ، زبور اور انجیل بھی ان ہی میں نازل ہوئیں۔ دوسرے بنی اسمعٰیل جن میں محمد صلی اللہ علیہ آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث ہوئے اور جن پر قرآن نازل ہوا۔

 

قرآن کی اس صراحت کے پیش نظر وہ قیاس آرائیاں غلط قرار پاتی ہیں جو مختلف شخصیتوں کے نبی ہونے کے بارے میں کی جاتی ہیں جبکہ ان شخصیتوں کا زمانہ حضرت ابراہیم کے بعد کا رہا ہے اور ان کا حضرت ابراہیم کی نسل سے ہونا ثابت بھی نہیں۔

 

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان دونوں رسولو ں کی نسل میں راہِ ہدایت اختیار کرنے والے کم ہی نکلے اور بڑی تعداد فسق نافرمانی میں مبتلا رہی۔

 

آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بھی یہی حال ہے۔ ان میں راہ ہدایت پر چلنے والے کم ہیں اور بڑی تعداد فسق و فجور میں غرق ہے جبکہ قرآن کی روشنی ان کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔

 

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اخیر میں عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کی تاکہ اس کے ذریعہ ہدایت پائیں۔ واضح رہے کہ یہ انجیل اب اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہے البتہ اس کے متفرق اجزاء اناجبلِ اربعہ متی، لوقا، مرقس، اور یوحنا میں پائے جاتے ہیں۔

 

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ رافۃ یعنی دل کی نرمی اور رحمۃ یعنی مہربان ہونا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت میں یہ دو وصف نمایاں تھے۔ ان کی مسیحائی سے خلقِ خدا سے ہمدردی کرنے اور اس پر رحم کرنے کا جذبہ ابھرتا تھا۔ اس کے اثرات ان کے پیروں پر بھی پڑے اور ان میں بھی شفقت و رحمت کے جذبات پیدا ہوئے۔ یہ جذبات اپنے معروف حدود میں مطلوب تھے مگر انہوں نے اس میں غلو کر کے خانقاہیت اختیار کر لی جس کے نتیجہ میں جہاد معطل ہو گیا۔

 

حدود تعزیری قوانین کے نفاذ کے معاملہ میں نرمی برتنے سے منع کر دیا گیا ہے۔

 

وَلاَ تَأخُذْکُمْ بِہِمَارَأفَۃٌفِیْ دِیْنِ اللّٰہِ۔"اور اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو ان پر ترس نہ آئے۔" نور: ۲۔

 

اور لوہے  (اسلحہ)کا استعمال عدل قائم کرن کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد بھی اشد ضروری ہے۔ یہ سب کام سختی کے ہیں۔ ان ذمہ داریوں سے کترا کر نرمی اور رحم کے دائرہ میں اپنے کو محصور کر لینا  راہِ اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔ دین نے ایک طرف فطری جذبات کی پرورش کا سامان بھی کیا ہے اور دوسری طرف اجتماعی مصالح اور غلبہ دین کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ اس کے ایک پہلو کو لینے اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کرنے سے افراط و تفریط کی صورت پیدا ہوتی ہے۔

 

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ رہبانیت سے مراد تعبد (عبادت گزاری) کا وہ طریقہ ہے جو نصاریٰ نے ایجاد کیا تھا یعنی دنیا کے مشاغل اور اس کی لذتوں کو ترک کر کے گوشہ نشینی اختیار کر لینا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تجرد کی  (غیر ازدواجی) زندگی اختیار کی اور پہاڑوں ، غاروں اور خانقاہوں میں رہنے لگے۔ تعبد میں ان کا یہ غلو تھا جس نے ان کو فطری تقاضوں کو بھی پورا کرنے نہیں دیا اور دینی تقاضوں کو بھی پورا کرنے سے روکا خاص طور سے جہاد فی سبیل اللہ اور کفر و اسلام کی کشمکش میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے گریز اختیار کیا۔ قرآن ان کے اسی طریقہ کو بدعت قرار دے رہا ہے اور صاف کہہ رہا ہے کہ تعبد کا یہ طریقہ اللہ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر انہوں نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے یہ نیا طریقہ رائج کر دیا۔ اس طرح انہوں نے تعبد کے معاملہ میں اپنے کو ایسی مشقت میں ڈال دیا جس کو وہ سہار نہ سکے۔ گو انہوں نے یہ نیا طریقہ اللہ کی خوشنودی کی طلب میں اختیار کیا تھا لیکن بدعت بدعت ہے خواہ وہ نیک نیتی کیساتھ کیوں نہ کی گئی ہو۔ قرآن رہبانیت کو بدعت قرار دیتا ہے اور اس کی مزید مذمت اس پہلو سے بھی کرتا ہے کہ اس کو وہ پوری طرح نبھا نہ سکے۔ یعنی دنیا سے قطع تعلق کا یہ طریقہ ایجاد کرنے کو تو انہوں نے ایجاد کر لیا لیکن پھر وہ اس پر کار بند نہ ہوسکے۔ ظاہر ہے جب فطرت کے خلاف کوئی جنگ کرتا ہے تو فطرت اس سے جنگ کرتی ہے اور رہبانیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ شادی بیاہ سے نفرت کرنے والے بدکاری کا شکار ہو گئے اور راہبوں اور راہبات کے میل جول نے خانقاہوں کو بدکاری کے اڈوں میں تبدیل کر دیا۔ اسی طرح جب انہوں نے کسب معاش کے جائز طریقے چھوڑ دئے تو حرام خوری ان میں عام ہو گئی۔ سورۂ توبہ آیت ۳۴ میں احبار و  رہبان اہل کتاب کے علماء اور راہبوں کی اس مذموم حرکت کا ذکر ہوا ہے کہ وہ باطل طریقہ سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔

 

ہندوستان کے مشرکوں میں بھی ترک دنیا اور تپسیا کا تصور چلا آ رہا ہے ۔ اس طریقہ کو جنہوں نے اختیار کیا وہ سادھو اور جوگی کہلائے۔ ترکِ زینت میں انہوں نے ایسی شدت اختیار کر لی کہ اپنے بلاس ہی اتار پھینک دیئے۔ پھر مندروں میں ان کی خدمت کے لیے "دیو داسیاں"بھی رہنے لگیں نتیجہ یہ کہ وہ بری طرح بے حیائی بدکاری اور حرام خوری میں مبتلا ہو گئے۔ ترک دنیا کی آڑ میں یہ صریح دنیا پرستی ہے۔

 

مسلمانوں میں بھی تصوف کی راہ سے خانقاہیت آ گئی جس میں گوشہ نشینی، مراقبے، ریاضتیں اور نفس کشی جیسی چیزیں شامل تھیں۔ پھر جب انہوں نے طریقت کو ایجاد کیا تو اس نے شریعت کی جگہ لے لی۔ اس طرح دین میں بدعات کی بھر مار ہوئی اور اس کا حلیہ ہی بگڑ کر رہ گیا۔

 

حالانکہ حدیث میں ہر نئی بات کو جو دین میں نکالی جائے  مردود قرار دیا گیا تھا۔

 

مَنْ اَحْدَثْ فِیْ اَمْرِنَا ہَذَا مَاَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالے جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔"بخاری کتاب الصلح۔

 

وَشَرَّالاُمُوْرِ مُحَدَّثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ "اور بدترین باتیں وہ ہیں جو نئی نکالی جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"مسلم کتاب الجمعۃ۔

 

اس حدیث میں ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا گیا ہے مگر علماء کے ایک گروہ نے بدعت کی دو قسمیں حسنہ (اچھی)  اور سیہ (بُری) قرار دے کر بہت سی بدعتوں کے لیے راہ ہموار کر لی اور آج امت کا بہت بڑا طبقہ بدعات کی گمراہیوں میں پھنسا ہوا ہے۔

 

۶۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروؤں میں جو لوگ صحیح العقیدہ اور اپنے ایمان میں مخلص تھے ان کو ان کے عمل کے لحاظ سے اجر عطا کیا۔

 

آگے کے فقرہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اجر سے نوازے گئے فاسق نہیں تھے بلکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے تھے۔

 

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی (عیسٰی علیہ السلام) کے پیروؤں کی کثیر تعداد فسق گناہ اور نافرمانی میں مبتلا ہے جس کی بہت بڑی وجہ دین کی مخلصانہ پیروی نہ کرنا اور اس میں نت نئی باتیں (بدعتیں) نکالنا ہیں۔

 

آج مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے کہ ان میں سے اکثر فسق میں مبتلا ہیں اور دین کی مخلصانہ پیروی کرنے والے کم ہی ہیں۔

 

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ان لوگوں سے خطاب ہے جو حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب تم ایمان کے دعویدار ہو تو اس رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)  پر بھی ایمان لاؤ۔ ایسی صورت ہی میں تمہارا ایمان معتبر ہو گا۔

 

۶۸۔۔۔۔۔۔۔۔  رحمت کا ایک حصہ اس بنا پر کہ تم پہلے بھی ایمان لائے تھے اور دوسرا حصہ اس لیے کہ پیغمبر قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی ایمان لائے۔ سورۂ قصص آیت ۵۳ ، ۵۴ میں ہے:

 

وَاِذَا یتْلٰی عَلَیہِمْ قَالُوْااٰمَنَّابِہٖٓ اِنَّہٗ الحَقُّ مِنْ رَبِّنَا اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِینَ۔ "اور جب یہ (قرآن) ان کو سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ بلا شبہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ ہم پہلے ہی سے مسلم ہیں۔"

 

اْوْلٓئِکَ یوْتَوْنَ اَجْرَہُمّْ مَرَّتَینِ بِمَا صَبْرُوْا وَیدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیئَۃِ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یینْفِقُوْنَ۔ "یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا اجر دوبارہ دیا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے۔ وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔"

 

اور حدیث میں آتا ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ ان کے لیے دوہرا  اجر ہے جن میں سے ایک:

 

رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ ا آمَنَ بِنَبِیہٖ وَآمَنَ بمُحَمَّدٍ "اہل کتاب میں سے وہ شخص ہے جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا تھا اور محمدؐ پر بھی ایمان لایا۔"بخاری ،مسلم۔

 

۶۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ " لا" (نہیں)  تردید میں مزید تاکید کے لیے ہے۔ جس طرح اردو میں بولتے ہیں نہیں نہیں۔

 

۷۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم)  کو جو نبی اسمعٰیل میں سے ہیں اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ اہل کتاب پر واضح ہو جائے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل میں رسالت کا جو سلسلہ چلا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس خاندان کی کوئی اجارہ دار کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسالت کا منصب اللہ کا فضل ہے اور وہ پوری طرح اسی کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتے اس سے پہلے اس کی مشیت بنی اسرائیل میں رسول بھیجنے کے لیے ہوئی اور اب اس کی مشیت یہ ہوئی کہ بنی اسمعٰیل میں سے رسول اٹھایا جائے۔ اس کی مشیت پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ وہ جسے چاہے رسالت کا منصبِ جلیل عطا کرے اور جس گروہ کو چاہے اپنے فضل سے نوازے کہ رسول اس کے اندر سے برپا کیا گیا۔

 

****