خزائن العرفان

سُوۡرَةُ الاٴحقاف

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف ۱)

۱                 سورۂ احقاف مکّیہ ہے، مگر بعض کے نزدیک اس کی چند آیتیں مدنی ہیں جیسے کہ آیت  قُلْ اَرَاَیْتُمْ  اور آیت فَاصْبِرْکَمَاصَبَرَ  اور تین آیتیں  وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ  اس سورت میں چار ۴رکوع اور پینتیس ۳۵ آیتیں اور چھ سو چوالیس ۶۴۴کلمے اور دو ہزار پانچ سو پچانوے ۲۵۹۵حرف ہیں۔

(۱)  حٰمٓ

(۲) یہ کتاب (ف ۲) اتارنا ہے  اللہ عزت و حکمت والے  کی طرف سے۔

۲                 یعنی قرآن شریف۔

(۳)  ہم نے  نہ بنائے  آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے  درمیان ہے  مگر حق کے  ساتھ (ف ۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف ۴) اور کافر اس چیز سے  کہ ڈرائے  گئے  (ف ۵) منہ پھیرے  ہیں (ف ۶)

۳                 کہ ہماری قدرت و وحدانیّت پر دلالت کریں۔

۴                 وہ مقرر میعاد روزِ قیامت ہے جس کے آ جانے پر آسمان و زمین فنا ہو جائیں گے۔

۵                 اس چیز سے مراد یا عذاب ہے یا روزِ قیامت کی وحشت یا قرآنِ پاک جو بعث و حساب کا خوف دلاتا ہے۔

۶                 کہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔

  (۴)  تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے  سوا پوجتے  ہو (ف ۷) مجھے  دکھاؤ  انہوں نے  زمین کا کون سا ذرہ  بنایا  یا  آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے  پاس لاؤ اس سے  پہلی کوئی کتاب (ف ۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف ۹) اگر تم سچے  ہو (ف ۱۰)

۷                 یعنی بت جنہیں معبود ٹھہراتے ہو۔

۸                 جو اﷲ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے اتاری ہو، مراد یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید توحید اور ابطالِ شرک پر ناطق ہے اور جو کتاب بھی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی اس میں یہی بیان ہے تم کُتُبِ ا لٰہیہ میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤ جس میں تمہارے دِین(بت پرستی)کی شہادت ہو۔

۹                 پہلوں کا۔

۱۰               اپنے اس دعوے میں کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔

(۵) اور اس سے  بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے  سوا  ایسوں کو پوجے  (ف ۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں  اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف ۱۲)

۱۱               یعنی بتوں کو۔

۱۲               کیونکہ وہ جماد بے جان ہیں۔

(۶)  اور جب لوگوں کا حشر ہو گا وہ ان کے  دشمن ہوں گے  (ف ۱۳) اور ان سے  منکر ہو جائیں گے  (ف ۱۴)

۱۳               یعنی بت اپنے پجاریوں کے۔

۱۴               اور کہیں گے کہ ہم نے انہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پرستار تھے۔

(۷) اور جب ان پر (ف ۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے   پاس آئے  ہوئے  حق کو (ف ۱۶) کہتے  ہیں یہ کھلا جادو ہے  (ف ۱۷) 

۱۵               یعنی اہلِ مکّہ پر۔

۱۶               یعنی قرآن شریف کو بغیر غور و فکر کئے اور اچھی طرح سنے۔

۱۷               کہ اس کے جادو ہونے میں شبہہ نہیں اور اس سے بھی بدتر بات کہتے ہیں، جس کا آ گے ذکر ہے۔

(۸)  کیا کہتے  ہیں انہوں نے  اسے  جی سے  بنایا (ف ۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے  اسے  جی سے  بنا لیا ہو گا تو تم اللہ کے  سامنے  میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے  (ف ۱۹) وہ خوب جانتا ہے  جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف ۲۰) اور وہ کافی ہے  میرے  اور تمہارے  درمیان گواہ، اور وہی بخشنے  والا مہربان ہے  (ف ۲۱)

۱۸               یعنی سیدِ عالَم محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے۔

۱۹               یعنی اگر بالفرض میں دل سے بناتا اور اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام بتاتا تو وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء ہوتا اور اﷲ تبارک و تعالیٰ ایسے افتراء کرنے والے کو جلد عقوبت میں گرفتار کرتا ہے، تمہیں تو یہ قدرت نہیں کہ تم اس کی عقوبت سے بچا سکو یا اس کے عذاب کو دفع کر سکو تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اﷲ تعالیٰ پر افتراء کرتا۔

۲۰               اور جو کچھ قرآنِ پاک کی نسبت کہتے ہو۔

۲۱               یعنی اگر تم کفر سے توبہ کر کے ایمان لاؤ تو اﷲ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے گا، اور تم پر رحمت کرے گا۔

(۹)  تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف ۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے  ساتھ کیا کیا جائے  گا اور تمہارے  ساتھ کیا (ف ۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے  وحی ہوتی ہے  (ف ۲۴) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے  والا۔

۲۲               مجھ سے پہلے بھی رسول آ چکے ہیں تو تم کیوں نبوّت کا انکار کرتے ہو۔

۲۳               اس کے معنی میں مفسّرین کی چند قول ہیں، ایک تو یہ کہ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا ؟ وہ مجھے معلوم نہیں، یہ معنی ہوں تو یہ آیت منسوخ ہے، مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزّیٰ کی قَسم اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ہمارا اور محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم) کا یکساں حال ہے، انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں، اگر یہ قرآن انکا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کا بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے آیت  لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ نازل فرمائی، صحابہ نے عرض کیا یا نبی اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہو گیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا، یہ انتظار ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی  لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتھَِا الْاَنْھٰرُ اور یہ آیت نازل ہوئی  بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اﷲِ فَضْلاً کَبِیْراً  تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے ساتھ کیا کرے گا اور مومنین کے ساتھ کیا، دوسرا قول آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور کو اپنا بھی معلوم ہے، مومنین کا بھی، مکذّبین کا بھی، معنیٰ یہ ہیں کہ دنیا میں کیا کیا جائے گا ؟ یہ معلوم نہیں، اگر یہ معنیٰ لئے جائیں تو بھی آیت منسوخ ہے، اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو یہ بھی بتادیا  لِیُظْہِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ  اور  مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْب ہر حال اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امّت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنیٰ ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنیٰ میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مؤیِّد ہے، علامہ نیشا پوری نے اس آیت کے تحت میں فرمایا کہ اس میں نفی اپنی ذات سے جاننے کی ہے، من جہت الوحی جاننے کی نفی نہیں۔

۲۴               یعنی میں جو کچھ جانتا ہوں اﷲ تعالیٰ کی تعلیم سے جانتا ہوں۔

(۱۰)  تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے  پاس سے  ہو  اور تم نے  اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ  (ف ۲۵) اس پر گواہی دے  چکا (ف ۲۶) تو وہ ایمان لایا اور تم نے  تکبر کیا (ف ۲۷) بیشک اللہ  راہ نہیں دیتا ظالموں کو۔

۲۵               وہ حضرت عبداللہ بن سلام ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر ایمان لائے اور آپ کی صحتِ نبوّت کی شہادت دی۔

۲۶               کہ وہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

۲۷               اور ایمان سے محروم رہے تو اس کا نتیجہ کیا ہونا ہے۔

(۱۱) اور کافروں نے  مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف ۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف ۲۹) ہم سے  آگے  اس تک نہ پہنچ جاتے  (ف ۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف ۳۱) کہیں گے  کہ یہ پرانا بہتان ہے۔

۲۸               یعنی دِینِ محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم میں۔

۲۹               غریب لوگ۔

۳۰               شانِ نزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اگر دِینِ محمّدی حق ہوتا تو فلاں و فلاں اس کو ہم سے پہلے کیسے قبول کر لیتے۔

۳۱               عناد سے قرآن شریف کی نسبت۔

(۱۲) اور اس سے  پہلے  موسیٰ کی کتاب (ف ۳۲) سے  پیشوا  اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے  تصدیق فرماتی (ف ۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے، اور نیکوں کو بشارت۔

۳۲               توریت۔

۳۳               پہلی کتابوں کی۔

(۱۳) بیشک وہ جنہوں نے  کہا ہمارا  رب اللہ ہے  پھر ثابت قدم رہے  (ف ۳۴) نہ ان پر خوف (ف ۳۵)  نہ ان کو غم (ف ۳۶)

۳۴               اﷲ تعالیٰ کی توحید اور سیدِ عالَم محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی شریعت پر دمِ آخر تک۔

۳۵               قیامت میں۔

۳۶               موت کے وقت۔

(۱۴) وہ جنت والے  ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے  ان کے  اعمال کا انعام۔

(۱۵) اور ہم نے  آدمی کو حکم کیا اپنے  ماں باپ سے  بھلائی کرے، ا س کی ماں نے  اسے  پیٹ میں رکھا تکلیف سے  اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے  اٹھائے   پھرنا  اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے  میں ہے  (ف ۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے  زور کو پہنچا (ف ۳۸) اور چا لیس برس کا ہوا  (ف ۳۹) عرض کی اے  میرے  رب! میرے  دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے  مجھ پر اور میرے  ماں باپ پر کی (ف ۴۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے  پسند آئے  (ف ۴۱) اور میرے  لیے   میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف ۴۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف ۴۳) اور میں مسلمان ہوں (ف ۴۴)

۳۷               مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقل مدّتِ حمل چھ ماہ ہے کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدّت دو سال ہوئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا  حَوْ لَیْنِ کَامِلَیْنِ تو حمل کے لئے چھ ماہ باقی رہے، یہی قول ہے امام ابو یوسف و امام محمّد رحمہما اﷲ تعالیٰ کا اور حضرت امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک اس آیت سے رضاع کی مدّت ڈھائی سال ثابت ہوتی ہے۔ مسئلہ کی تفاصیل مع دلائل کُتُبِ اصول میں مذکور ہیں۔

۳۸               اور عقل و قوّت مستحکم ہوئی اور یہ بات تیس سے چالیس سال تک کی عمر میں حاصل ہوتی ہے۔

۳۹               یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں نازل ہوئی، آپ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے دو سال کم تھی، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی صحبت اختیار کی، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا، ایک منزل پر ٹھہرے، وہاں ایک بیری کا درخت تھا، حضور سیدِ عالَم علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا، حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس چلے گئے، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں، حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم)ا بنِ عبداللہ ہیں، عبدالمطلب کے پوتے، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی۔

۴۰               کہ ہم سب کو ہدایت فرمائی اور اسلام سے مشرف کیا، حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا نام ابو قحافہ اور والدہ کا نام امّ الخیر ہے۔

۴۱               آپ کی یہ دعا بھی مستجاب ہوئی اور اﷲ تعالیٰ نے آپ کو حسنِ عمل کی وہ دولت عطا فرمائی کہ تمام امّت کے اعمال آپ کے ایک عمل کے برابر نہیں ہو سکتے، آپ کی نیکیوں میں سے ایک یہ ہے کہ نو مومن جو ایمان کی وجہ سے سخت ایذاؤں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے ان کو آپ نے آزاد کیا، انہیں میں سے ہیں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ نے یہ دعا کی۔

۴۲               یہ دعا بھی مستجاب ہوئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد میں صلاح رکھی، آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے انہیں فضیلت دی ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدین بھی مسلمان اور آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں، آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں، خود بھی صحابی، اولاد بھی صحابی، پوتے بھی صحابی، چار پشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف۔

۴۳               ہر امر میں جس میں تیری رضا ہو۔

۴۴               دل سے بھی اور زبان سے بھی۔

(۱۶)  یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے  (ف ۴۵) اور ان کی تقصیروں سے  درگزر فرمائیں گے  جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف ۴۶)

۴۵               ان پر ثواب دیں گے۔

۴۶               دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی زبان مبارک سے۔

(۱۷) اور وہ جس نے  اپنے  ماں باپ سے  کہا (ف ۴۷)  اُف تم سے  دل پک گیا (بیزار ہے ) کیا مجھے  یہ وعدہ دیتے  ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر  سے  پہلے  سنگتیں گزر چکیں (ف ۴۸) اور وہ دونوں (ف ۴۹) اللہ سے  فریاد کرتے  ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے  (ف ۵۰) تو کہتا ہے  یہ تو نہیں  مگر اگلوں کی کہانیاں

۴۷               مراد اس سے کوئی خاص شخص نہیں ہے بلکہ ہر کافر جو بعث کا منکِر ہو اور والدین کا نافرمان اور اس کے والدین اس کو دِینِ حق کی دعوت دیتے ہوں اور وہ انکار کرتا ہو۔

۴۸               ان میں سے کوئی مر کر زندہ نہ ہوا۔

۴۹               ماں باپ۔

۵۰               مردے زندہ فرمانے کا۔

(۱۸) یہ وہ ہیں جن پر بات ثابت ہو چکی (ف ۵۱) ان گروہوں میں جو ان سے  پلے  گزرے  جن اور آدمی، بیشک وہ زیاں کار تھے۔

۵۱               عذاب کی۔

(۱۹) اور ہر ایک کے  لیے  (ف ۵۲) اپنے  اپنے  عمل کے  درجے  ہیں (ف ۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے  کام انہیں پورے  بھر دے  (ف ۵۴)

۵۲               مومن ہو یا کافر۔

۵۳               یعنی منازل و مراتب ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزِ قیامت جنّت کے درجات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور جہنّم کے درجات پست ہوتے چلے جاتے ہیں تو جن کے عمل اچھے ہوں وہ جنّت کے اونچے درجے میں ہوں گے اور جو کفر و معصیّت میں انتہا کو پہنچ گئے ہوں وہ جہنّم کے سب سے نیچے درجے میں ہوں گے۔

۵۴               یعنی مومنوں اور کافروں کو فرمانبرداری اور نافرمانی کی پوری جزا دے۔

(۲۰)  اور ان پر ظلم نہ ہو گا،  اور  جس دن کافر آگ پر پیش کیے  جائیں گے، ان سے  فرمایا جائے  گا تم اپنے  حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی  زندگی میں فنا کر چکے  اور انہیں برت چکے  (ف ۵۵) تو  آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے  گا سزا  اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے  تھے  اور سزا  اس کی کہ حکم عدولی کرتے  تھے  (ف ۵۶)

۵۵               یعنی لذّت و عیش جو تمہیں پانا تھا وہ سب دنیا میں تم نے ختم کر دیا، اب تمہارے لئے آخرت میں کچھ بھی باقی نہ رہا۔ اور بعض مفسّرین کا قول ہے کہ طیّبات سے قُوائے جسمانیہ اور جوانی مراد ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ تم نے اپنی جوانی اور اپنی قوّتوں کو دنیا کے اندر کفر و معصیّت میں خرچ کر دیا۔

۵۶               اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیوی لذّات اختیار کرنے پر کفّار کو توبیخ فرمائی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم اور حضور کے اصحاب نے لذّاتِ دنیویہ سے کنارہ کشی اختیار فرمائی۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو روز بَرابر نہ کھائی، یہ بھی حدیث میں ہے کہ پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا دولت سرائے اقدس میں آگ نہ جلتی تھی، چند کھجوروں اور پانی پر گزر کی جاتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں چاہتا تو تم سے اچھا کھانا کھاتا اور تم سے بہتر لباس پہنتا لیکن میں اپنا عیش و راحت اپنی آخر ت کے لئے باقی رکھنا چاہتا ہوں۔

(۲۱)  اور یاد کرو عاد کے  ہم قوم (ف ۵۷) کو جب اس نے  ان کو سرزمینِ احقاف میں ڈرایا (ف ۵۸) اور بیشک  اس سے  پہلے  ڈر  سنانے  والے  گزر چکے  اور اس کے  بعد آئے  کہ اللہ کے  سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے  تم پر ایک بڑے  دن کے  عذاب کا اندیشہ ہے۔

۵۷               حضرت ہود علیہ السلام۔

۵۸               شرک سے۔ اور احقاف ایک ریگستانی وادی ہے جہاں قومِ عاد کے لوگ رہتے تھے۔

(۲۲)  بولے  کیا تم اس لیے  آئے  کہ ہمیں ہمارے  معبودوں سے  پھیر دو، تو ہم پر لاؤ (ف ۵۹) جس کا ہمیں وعدہ دیتے  ہو اگر تم سچے  ہو،  (ف ۶۰)

۵۹               وہ عذاب۔

۶۰               اس بات میں کہ عذاب آنے والا ہے۔

(۲۳)  اس نے  فرمایا (ف ۶۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے  پاس ہے  (ف ۶۲) میں تو تمہیں اپنے  رب کے  پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے  جاہل لوگ ہو (ف ۶۳)

۶۱               یعنی ہود علیہ السلام نے۔

۶۲               کہ عذاب کب آئے گا۔

۶۳               جو عذاب میں جلدی کرتے ہو اور عذاب کو جانتے نہیں ہو کہ کیا چیز ہے۔

(۲۴)  پھر جب انہوں نے  عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے  کنارے  میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا (ف ۶۴) بولے  یہ بادل ہے  کہ ہم پر برسے  گا (ف ۶۵) بلکہ یہ تو وہ ہے  جس کی تم جلدی مچاتے  تھے، ایک آندھی ہے  جس میں دردناک عذاب۔

۶۴               اور مدّتِ دراز سے ان کی سرزمین میں بارش نہ ہوئی تھی، اس کالے بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے۔

۶۵               حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔

(۲۵) ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے  اپنے  رب کے  حکم سے   (ف ۶۶) تو صبح رہ گئے  کہ نظر نہ آتے  تھے  مگر ان کے  سُونے  مکان، ہم ایسی ہی سزا  دیتے  ہیں مجرموں کو۔

۶۶               چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے ان کے مَردوں، عورتوں، چھوٹوں، بڑوں کو ہلاک کر دیا، ان کے اموال آسمان وز مین کے درمیان اڑتے پھرتے تھے، چیزیں پارہ پارہ ہو گئیں، حضر ت ہود علیہ السلام نے اپنے اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گرد ایک خط کھینچ دیا تھا ہوا، جب اس خط کے اندر آتی تو نہایت نرم، پاکیزہ، فرحت انگیز، سرد۔ اور وہی ہَوا قوم پر شدید، سخت، مہلِک، اور یہ حضرت ہود علیہ السلام کا ایک معجزۂ عظیمہ تھا۔

(۲۶) اور بیشک ہم نے  انہیں وہ مقدور دیے  تھے  جو تم کو نہ دیے  (ف ۶۷) اور ان کے  لیے  کان اور آنکھ اور دل بنائے  (ف ۶۸) تو ان کے  کام  کان  اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے  جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے  تھے  اور انہیں گھیر لیا  اس عذاب نے  جس کی ہنسی بناتے  تھے۔

۶۷               اے اہلِ مکّہ وہ قوّت و مال اور طولِ عمر میں تم سے زیادہ تھے۔

۶۸               تاکہ دِین کے کام میں لائیں مگر انہوں نے سوائے دنیا کی طلب کے ان خدا داد نعمتوں سے دِین کا کام ہی نہیں لیا۔

(۲۷) اور بیشک ہم نے  ہلاک کر دیں (ف ۶۹) تمہارے  آس پاس کی بستیاں (ف ۷۰) اور طرح طرح کی نشانیاں لائے  کہ وہ باز  آئیں (ف ۷۱)

۶۹               اے قریش۔

۷۰               مثل ثمود و عاد و قومِ لوط کے۔

۷۱               کفرو طغیان سے لیکن وہ باز نہ آئے تو ہم نے انہیں ان کے کفر کے سبب ہلاک کر دیا۔

(۲۸)  تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف ۷۲)  جن کو انہوں نے  اللہ کے  سوا  قرب حاصل کرنے  کو خدا ٹھہرا  رکھا تھا (ف ۷۳) بلکہ وہ ان سے  گم گئے  (ف ۷۴) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے  (ف ۷۵)

۷۲               ان کفّار کی ان بتوں نے۔

۷۳               اور جن کی نسبت یہ کہا کرتے تھے کہ ان بتوں کے پوجنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

۷۴               اور نزولِ عذاب کے وقت کام نہ آئے۔

۷۵               کہ وہ بتوں کو معبود کہتے ہیں اور بت پرستی کو قربِ الٰہی کا ذریعہ ٹھہراتے ہیں۔

(۲۹) اور جبکہ ہم نے  تمہاری طرف کتنے  جن پھیرے  (ف ۷۶) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے   آپس میں بولے  خاموش رہو (ف ۷۷) پھر جب پڑھنا ہو چکا  اپنی قوم کی طرف  ڈر سناتے  پلٹے  (ف ۷۸)

۷۶               یعنی اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنّوں کی ایک جماعت کو بھیجا، اس جماعت کی تعداد میں اختلاف ہے، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ سات جن تھے جنہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے ان کی قوم کی طرف پیام رساں بنایا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ نو تھے علمائے محقّقین کا اس پر اتفاق ہے کہ جن سب کے سب مکلّف ہیں۔ اب ان جنّوں کا حال ارشاد ہوتا ہے کہ جب آپ نخلہ میں مکّہ مکرّمہ اور طائف کے درمیان مکّہ مکرّمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نمازِ فجر پڑھ رہے تھے اس وقت جن۔

۷۷               تاکہ اچھی طرح حضرت کی قرأت سن لیں۔

۷۸               یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر ایمان لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں ایمان نہ لانے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی مخالفت سے ڈرایا۔

(۳۰)  بولے  اے  ہماری قوم ہم نے  ایک کتاب سنی (ف ۷۹) کہ موسیٰ کے  بعد اتاری گئی (ف ۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی۔

۷۹               یعنی قرآن شریف۔

۸۰               عطاء نے کہا چونکہ وہ جن دِینِ یہودیّت پر تھے اس لئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرتٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لیا۔ بعض مفسّرین نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لینے کا باعث یہ ہے کہ اس میں صرف مواعظ ہیں، احکام بہت ہی کم ہیں۔

(۳۱) اے  ہماری قوم! اللہ کے  منادی (ف ۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے  کچھ گناہ بخش دے  (ف ۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے  بچا لے۔

۸۱               سیّدِ عالَم حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم۔

۸۲               جو اسلام سے پہلے ہوئے اور جن میں حق العباد نہیں۔

(۳۲) اور جو اللہ کے  منادی کی بات نہ مانے  وہ زمین میں قابو سے  نکل کر جانے  والا نہیں (ف ۸۳) اور اللہ کے  سامنے  اس کا کوئی مددگار نہیں (ف ۸۴)  وہ (ف ۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں۔

۸۳               اﷲ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتا اور اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔

۸۴               جو اسے عذاب سے بچا سکے۔

۸۵               جو اللہ تعالیٰ کے منادی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی بات نہ مانیں۔

(۳۳)  کیا انہوں نے  (ف ۸۶) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے  آسمان اور زمین بنائے  اور ان کے  بنانے  میں نہ تھکا قادر ہے  کہ مردے  جِلائے،  کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

۸۶               یعنی منکِرینِ بعث نے۔

(۳۴) اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے  جائیں گے، ان سے  فرمایا جائے  گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے  کیوں نہیں ہمارے  رب کی قسم،  فرمایا جائے  گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے  کفر کا (ف ۸۷)

۸۷               جس کے تم دنیا میں مرتکب ہوئے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے خطاب فرماتا ہے۔

(۳۵) تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے  رسولوں نے  صبر کیا (ف ۸۸) اور ان کے  لیے  جلدی نہ کرو (ف ۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے  (ف ۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے  (ف ۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے  تھے  مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے  (ف ۹۲) تو کون ہلاک کیے  جائیں گے  مگر بے  حکم لوگ (ف ۹۳)

۸۸               اپنی قوم کی ایذا پر۔

۸۹               عذاب طلب کرنے میں، کیونکہ عذاب ان پر ضرور نازل ہونے والا ہے۔

۹۰               عذابِ آخرت کو۔

۹۱               تو اس کی درازی اور دوام کے سامنے دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو بہت قلیل سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ۔

۹۲               یعنی یہ قرآن اور وہ ہدایت و بیّنات جو اس میں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے۔

۹۳               جو ایمان و طاعت سے خارج ہیں۔