خزائن العرفان

سُوۡرَةُ البَلَد

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف ۱)

۱       سورۂ بلد مکّیہ ہے، اس میں ایک ۱ رکوع، بیس۲۰ آیتیں، بیاسی۸۲کلمے، تین سو بیس۳۲۰ حرف ہیں

(۱) مجھے  اس شہر کی قسم (ف ۲)

۲       یعنی مکّہ مکرّمہ کی۔

(۳) اور تمہارے  باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف ۴)

۳       اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ عظمت مکّہ مکرّمہ کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی رونق افروزی کی بدولت حاصل ہوئی۔

۴       ایک قول یہ بھی ہے والد سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم اور اولاد سے آپ کی امّت مراد ہے۔(حسینی)

(۴) بیشک ہم نے  آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف ۵)

۵       کہ حمل میں ایک تنگ و تاریک مکان میں رہے، ولادت کے وقت تکلیف اٹھائے، دودھ پینے، دودھ چھوڑنے، کسبِ معاش اور حیات و موت کی مشقّتوں کو برداشت کر لے۔

(۵) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے  کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے  گا (ف ۶)

۶       یہ آیت ابوالاشد اسید بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی وہ نہایت قوی اور زور آور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالَم تھا کہ چمڑہ پاؤں کے نیچے دبا لیتا تھا دس دس آدمی اس کو کھینچتے اور وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہر گز نہ نکل سکتا۔ اور ایک یہ قول ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی معنٰی یہ ہیں کہ یہ کافر اپنی قوّت پر مغرور مسلمانوں کو کمزور سمجھتا ہے کس گمان میں ہے اللہ قادرِ برحق کی قدرت کو نہیں جانتا۔ اس کے بعد اس کا مقولہ نقل فرمایا۔

(۶) کہتا ہے  میں نے  ڈھیروں مال فنا کر دیا (ف ۷)

۷       سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر تاکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو آزار پہنچائیں۔

(۷) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے  کہ اسے  کسی نے  نہ دیکھا (ف ۸)

۸       یعنی کیا اس کا یہ گمان ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ اس سے نہیں سوال کرے گا کہ اس نے یہ مال کہاں سے حاصل کیا کس کام میں خرچ کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا ذکر فرماتا ہے تاکہ اس کو عبرت حاصل کرنے کا موقع ملے۔

(۸)  کیا ہم نے  اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف ۹)

۹       جن سے دیکھتا ہے۔

(۹)  اور زبان (ف ۱۰) اور دو ہونٹ (ف ۱۱)

۱۰     جس سے بولتا ہے اور اپنے دل کی بات بیان میں لاتا ہے۔

۱۱     جن سے منہ کو بند کرتا ہے اور بات کرنے اور کھانے اور پینے اور پھونکنے میں ان سے کام لیتا ہے۔

(۱۰) اور اسے  دو  ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف ۱۲)

۱۲     یعنی چھاتیوں کی کہ پیدا ہونے کے بعد ان سے دودھ پیتا اور غذا حاصل کرتا رہا، مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ظاہر و وافر ہیں ان کا شکر لازم۔

(۱۱) پھر بے  تامل گھاٹی میں نہ کودا (ف ۱۳)

۱۳     یعنی اعمالِ صالحہ بجا لا کر ان جلیل نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، اس کو گھاٹی میں کودنے سے تعبیر فرمایا اس مناسبت سے کہ اس راہ میں چلنا نفس پر شاق ہے۔ (ابوالسعود)

(۱۲)  اور تو نے  کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے  (ف ۱۴)

۱۴     اور اس میں کودنا کیا۔ یعنی اس سے اس کے ظاہری معنٰی مراد نہیں بلکہ اس کی تفسیر وہ ہے جو اگلی آیتوں میں ارشاد ہوتی ہے۔

(۱۳)  کسی بندے  کی گردن چھڑانا (ف ۱۵)

۱۵     غلامی سے خواہ اس طرح ہو کہ کسی غلام کو آزاد کر دے یا اس طرح کہ مکاتب کو اتنا مال دے جس سے وہ آزادی حاصل کر سکے یا کسی غلام کو آزاد کرانے میں مدد کرے یا کسی اسیر یا مدیون کے رہا کرانے میں اعانت کرے، اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ اعمالِ صالحہ اختیار کر کے اپنی گردن عذابِ آخرت سے چھڑائے۔ (روح البیان)

(۱۴) یا بھوک کے  دن کھانا دینا (ف ۱۶)

۱۶     یعنی قحط و گرانی کے وقت کہ اس وقت مال نکالنا نفس پر بہت شاق اور اجرِ عظیم کا موجِب ہوتا ہے۔

(۱۵) رشتہ دار  یتیم کو۔

(۱۶)  یا خاک نشین مسکین کو (ف ۱۷)

۱۷     جو نہایت تنگ دست اور درماندہ، نہ اس کے پاس اوڑھنے کو ہو، نہ بچھانے کو۔ حدیث شریف میں ہے یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے والا جہاد میں سعی کرنے والے اور بے تکان شب بیداری کرنے والے اور مدام روزہ رکھنے والے کی مثل ہے۔

(۱۷) پھر ہو ان سے  جو ایمان لائے  (ف ۱۸) اور انہوں نے  آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف ۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں (ف ۲۰)

۱۸     یعنی یہ تمام عمل جب مقبول ہیں کہ عمل کرنے والا ایماندار ہو اور جب ہی اس کو کہا جائے گا کہ گھاٹی میں کودا اور اگر ایمان دار نہیں تو کچھ نہیں سب عمل بےکار۔

۱۹     معصیّتوں سے باز رہنے اور طاعتوں کے بجا لانے اور ان مشقّتوں کے برداشت کرنے پر جن میں مومن مبتلا ہو۔

۲۰     کہ مومنین ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و محبّت کا برتاؤ کریں۔

(۱۸) یہ دہنی طرف والے  ہیں (ف ۲۱)

۲۱     جنہیں ان کے نامۂ  اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور عرش کے داہنے جانب سے جنّت میں داخل ہوں گے۔

(۱۹) اور جنہوں نے  ہماری آیتوں سے  کفر کیا وہ بائیں طرف والے  (ف ۲۲)

۲۲     کہ انہیں ان کے نامۂ  اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور عرش کے بائیں جانب سے جہنّم میں داخل کئے جائیں گے۔

(۲۰) ان پر آگ ہے  کہ اس میں ڈال کر اوپر سے  بند کر دی گئی (ف ۲۳)

۲۳     کہ نہ اس میں باہر سے ہوا آ سکے، نہ اندر سے دھواں باہر جا سکے۔