خزائن العرفان

سُوۡرَةُ الشُّعَرَاء

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف ۱)

۱                 سورۂ شعراء مکیّہ ہے سوائے آخر کی چار آیتوں کے جو وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعھُمْ سے شروع ہوتی ہیں اس سورت میں گیارہ ۱۱ رکوع اور دو سو ستائیس ۲۲۷ آیتیں اور ایک ہزار دو سو اناسی ۱۲۷۹ کلمے اور پانچ ہزار پانچ سو چالیس۵۵۴۰ حرف ہیں۔

(۱) طٰسم

(۲) یہ آیتیں ہیں روشن کتا ب کی (ف ۲)

۲                 یعنی قرآنِ پاک کی جس کا اعجاز ظاہر ہے اور جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے براہِ رحمت و کرم خطاب ہوتا ہے۔

(۳) کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے  ان کے  غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے  (ف ۳)

۳                 جب اہلِ مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکذیب کی تو حضور پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازِل فرمائی کہ آپ اس قدر غم نہ کریں۔

(۴) اگر ہم چاہیں تو آسمان سے  ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے  اونچے  اونچے  اس کے  حضور جھکے  رہ جائیں (ف ۴)

۴                 اور کوئی معصیت و نافرمانی کے ساتھ گردن نہ اٹھا سکے۔

(۵) اور نہیں آتی ان کے  پاس رحمان کی طرف سے  کوئی نئی نصیحت مگر اس سے  منہ پھیر لیتے  ہیں (ف ۵)

۵                 یعنی دم بدم ان کا کُفر بڑھتا جاتا ہے کہ جو موعظت و تذکیر اور جو وحی نازِل ہوتی ہے وہ اس کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔

(۶) تو بیشک انہوں نے  جھٹلایا تو اب ان پر آیا چاہتی ہیں خبریں ان  کے  ٹھٹھے  کی (ف ۶)

۶                 یہ وعید ہے اور اس میں انذار ہے کہ روزِ بدر یا روزِ قیامت جب انہیں عذاب پہنچے گا تب انہیں خبر ہو گی کہ قرآن اور رسول کی تکذیب کا یہ انجام ہے۔

(۷) کیا انہوں نے  زمین کو نہ دیکھا ہم نے  اس میں کتنے  عزت والے  جوڑے  اگائے  (ف ۷)

۷                 یعنی قِسم قِسم کے بہترین اور نافع نباتات پیدا کئے اور شعبی نے کہا کہ آدمی زمین کی پیداوار ہیں جو جنّتی ہے وہ عزّت والا اور کریم اور جو جہنّمی ہے وہ بدبخت لئیم ہے۔

(۸) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے  (ف ۸) اور ان کے  اکثر ایمان لانے  والے  نہیں۔

۸                 اللہ تعالیٰ کے کمالِ قدرت پر۔

(۹) اور بیشک تمہارا رب ضرور وہی عزت والا مہربان ہے  (ف ۹)

۹                 کافِروں سے انتقام لیتا اور مؤمنین پر رحمت فرماتا ہے۔

(۱۰) اور یاد کرو جب تمہارے  رب نے  موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے  پاس جا۔

(۱۱) جو فرعون کی قوم ہے  (ف ۱۰) کیا وہ نہ ڈریں گے  (ف ۱۱)

۱۰               جنہوں نے کُفر و معاصی سے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اور انہیں طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر ان پر ظلم کیا اس قوم کا نام قبط ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کہ انہیں ان کی بدکرداری پر زجر فرمائیں۔

۱۱               اللہ سے اور اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس کے عذاب سے نہ بچائیں گے اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں۔

(۱۲) عرض کی کہ اے  میرے  رب میں  ڈرتا ہوں کہ  مجھے   جھٹلائیں گے ۔

(۱۳) اور میرا سینہ  تنگی  کرتا ہے   (ف ۱۲)  اور میری  زبان  نہیں  چلتی  (ف ۱۳) تو  توُ  ہا رون  کو بھی  رسول  کر،  (ف ۱۴)

۱۲               ان کے جھٹلانے سے۔

۱۳               یعنی گفتگو کرنے میں کسی قدر تکلّف ہوتا ہے اس عقدہ کی وجہ سے جو زبان میں بَایّامِ صِغر سنی مُنہ میں آگ کا انگارہ رکھ لینے سے ہو گیا ہے۔

۱۴               تاکہ وہ تبلیغِ رسالت میں میری مدد کریں۔ جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شام میں نُبوّت عطا کی گئی اس وقت حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے۔

(۱۴) اور  ان کا  مجھ پر  ایک الزام  ہے   (ف ۱۵) تو میں  ڈرتا ہو ں کہیں  مجھے   (ف ۱۶)  کر دیں ۔

۱۵               کہ میں نے قطبی کو مارا تھا۔

۱۶               اس کے بدلے میں۔

(۱۵)  فرما یا  یوں  نہیں  (ف  ۱۷) تم دونوں  میری  آیتیں  لے  کر جا ؤ ہم  تمھارے   ساتھ  سنتے  ہیں  (ف ۱۸) 

۱۷               تمہیں قتل نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی درخواست منظور فرما کر حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبی کر دیا اور دونوں کو حکم دیا۔

۱۸               جو تم کہو اور جو تمہیں جواب دیا جائے۔

(۱۶) تو  فرعون  کے   پاس  جاؤ پھر  اس سے  کہو  ہم  دونو ں  اسکے  رسل ہیں  جو  رب ہے  سارے   جہا ں کا ۔

(۱۷) کہ  تو ہما رے   ساتھ  بنی  اسرائیل  کو  چھوڑ دے   (ف ۱۹) 

۱۹               تاکہ ہم انہیں سرزمینِ شام میں لے جائیں۔ فرعون نے چار سو برس تک بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا تھا اور اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار ۶۳۰۰۰۰ تھی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام مِصر کی طرف روانہ ہوئے، آپ پشمینہ کا جبہ پہنے ہوئے تھے، دستِ مبارک میں عصا تھا، عصا کے سرے میں زنبیل لٹکی تھی جس میں سفرکا توشہ تھا، اس شان سے آپ مِصر میں پہنچ کر اپنے مکان میں داخل ہوئے، حضرت ہارون علیہ السلام وہیں تھے آپ نے انہیں خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ گھبرائیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ فرعون تمہیں قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں ہے جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو تمہیں قتل کرے گا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے یہ فرمانے سے نہ رُکے اور حضرت ہارون کو ساتھ لے کر شب کے وقت فرعون کے دروازے پر پہنچے، دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت نے فرمایا میں ہوں موسیٰ رب العالمین کا رسول فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ بُلائے گئے آپ نے پہنچ کر اللہ تعالیٰ کی رسالت ادا کی اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا فرعون نے آپ کو پہچانا۔

(۱۸) بو لا  کیا ہم  نے  تمھیں  اپنے   یہاں  بچپن  میں  نہ پالا  اور  تم نے   ہما رے   یہا ں  اپنی  عمر کے  کئی  برس  گزارے،(ف ۲۰) 

۲۰               مفسِّرین نے کہا تیس برس اس زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فرعون کے لباس پہنتے تھے اور اس کی سواریوں میں سوار ہوتے تھے اور اس کے فرزند مشہور تھے۔

(۱۹) اور تم نے  کیا  اپنا  وہ  کام  جو  تم نے  کیا  (ف ۲۱)  اور  تم  نا شکر  تھے  (ف ۲۲)

۲۱               قبطی کو قتل کیا۔

۲۲               کہ تم نے ہماری نعمت کی سپاس گزاری نہ کی اور ہمارے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔

(۲۰)  موسیٰ  نے   فر ما یا  میں  نے   وہ کام  کیا  جب  کہ  مجھے   راہ  کی خبر  نہ  تھی  (ف ۲۳) 

۲۳               میں نہ جانتا تھا کہ گھونسہ مارنے سے وہ شخص مر جائے گا میرا مارنا تادیب کے لئے تھا نہ قتل کے لئے۔

(۲۱) تو  میں  تمھا رے  یہا ں  سے  نکل  گیا  جب کے   تم  سے   ڈرا  (ف ۲۴)  تو میرے   رب نے  مجھے  حکم عطا فرمایا (ف ۲۵) اور مجھے  پیغمبروں سے  کیا۔

۲۴               کہ تم مجھے قتل کرو گے اور شہرِ مدیَن کو چلا گیا۔

۲۵               مدیَن سے واپسی کے وقت۔ حکم سے یہاں یا نُبوّت مراد ہے یا علم۔

(۲۲) اور یہ کوئی نعمت ہے  جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے  کہ تو نے  غَلام بنا کر رکھے  بنی اسرائیل (ف ۲۶)

۲۶               یعنی اس میں تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی اور بچپن میں مجھے رکھا، کھلایا پہنایا کیونکہ میرے تجھ تک پہنچنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا، ان کی اولادوں کو قتل کیا، یہ تیرا ظلمِ عظیم اس کا باعث ہوا کہ میرے والدین مجھے پرورش نہ کر سکے اور میرے دریا میں ڈالنے پر مجبور ہوئے تو ایسا نہ کرتا تو میں اپنے والدین کے پاس رہتا اس لئے یہ بات کیا اس قابل ہے کہ اس کا احسان جتایا جائے، فرعون موسیٰ علیہ السلام کی اس تقریر سے لاجواب ہوا اور اس نے اسلوبِ کلام بدلا اور یہ گفتگو چھوڑ کر دوسری بات شروع کی۔

(۲۳) فرعون بولا اور سارے  جہان کا رب کیا ہے  (ف ۲۷)

جس کے تم اپنے آپ کو رسول بتاتے ہیں۔

(۲۴)  موسیٰ نے  فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے  درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف ۲۸)

۲۸               یعنی اگر تم اشیاء کو دلیل سے جاننے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ان چیزوں کی پیدائش اس کے وجود کی کافی دلیل ہے۔ ایقان اس علم کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو اسی لئے اللہ تعالیٰ کی شان میں موقِن نہیں کہا جاتا۔

(۲۵) اپنے  آس پاس والوں سے  بولا کیا تم غور سے  سنتے  نہیں (ف ۲۹)

۲۹               اس وقت اس کے گرد اس کی قوم کے اشراف میں سے پانچ سو شخص زیوروں سے آراستہ زریں کرسیوں پر بیٹھے تھے ان سے فرعون کا یہ کہنا کیا تم غور سے نہیں سنتے بایں معنیٰ تھا کہ وہ آسمان اور زمین کو قدیم سمجھتے تھے اور ان کے حدوث کے منکِر تھے مطلب یہ تھا کہ جب یہ چیزیں قدیم ہیں تو ان کے لئے ربّ کی کیا حاجت اب حضرت موسیٰ عَلیٰ نَبیِّنا و علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے ان چیزوں سے استدلال پیش کر نا چاہا جن کا حدوث اور جن کی فنا مشاہدہ میں آ چکی ہے۔

(۲۶) موسیٰ نے  فرمایا رب تمہارا  اور تمہارے  اگلے  باپ داداؤں کا (ف ۳۰)

۳۰               یعنی اگر تم دوسری چیزوں سے استدلال نہیں کر سکتے تو خود تمہارے نفوس سے استدلال پیش کیا جاتا ہے، اپنے آپ کو جانتے ہو، پیدا ہوئے ہو، اپنے باپ دادا کو جانتے ہو کہ وہ فنا ہو گئے تو اپنی پیدائش سے اور ان کی فنا سے پیدا کرنے اور فنا کر دینے والے کے وجود کا ثبوت ملتا ہے۔

(۲۷) بولا تمہارے  یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے  گئے  ہیں  ضرور عقل نہیں رکھتے  (ف ۳۱)

۳۱               فرعون نے یہ اس لئے کہا کہ وہ اپنے سوا کسی معبود کے وجود کا قائل نہ تھا اور جو اس کے معبود ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اس کو خارج از عقل کہتا تھا اور حقیقتہً اس طرح کی گفتگو عجز کے وقت آدمی کی زبان پر آتی ہے لیکن حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرضِ ہدایت و ارشاد کو علیٰ وجہِ الکمال ادا کیا اور اس کی اس تمام لایعنی گفتگو کے باوجود پھر مزید بیان کی طرف متوجہ ہوئے۔

(۲۸) موسیٰ نے  فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم(مغرب) کا  اور جو کچھ ان کے  درمیان ہے  (ف ۳۲) اگر تمہیں عقل ہو (ف ۳۳)

۳۲               کیونکہ پورب سے آفتاب کا طلوع کرنا اور پچھم میں غرب ہو جانا اور سال کی فصلوں میں ایک حسابِ معیّن پر چلنا اور ہواؤں اور بارشوں وغیرہ کے نظام یہ سب اس کے وجود و قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔

۳۳               اب فرعون متحیر ہو گیا اور آثارِ قدرتِ الٰہی کے انکار کی راہ باقی نہ رہی اور کوئی جواب اس سے بن نہ آیا۔

(۲۹) بولا اگر تم نے  میرے  سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کر دوں گا (ف ۳۴)

۳۴               فرعون کی قید قتل سے بدتر تھی، اس کا جیل خانہ تنگ و تاریک عمیق گڑھا تھا، اس میں اکیلا ڈال دیتا تھا نہ وہاں کوئی آواز سنائی آتی تھی نہ کچھ نظر آتا تھا۔

(۳۰) فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے  پاس کوئی روشن چیز لاؤں (ف ۳۵)

۳۵               جو میری رسالت کی برہان ہو۔ مراد اس سے معجِزہ ہے اس پر فرعون نے۔

(۳۱)  کہا تو لاؤ اگر سچے  ہو۔

(۳۲) تو موسیٰ نے  اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا  ہو گیا (ف ۳۶)

۳۶               عصا اژدھا بن کر آسمان کی طرف بقدر ایک میل کے اُڑا پھر اُتر کر فرعون کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے مُوسیٰ مجھے جو چاہیئے حکم دیجئے فرعون نے گھبرا کر کہا اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا فرعون کہنے لگا اس کے سوا اور بھی کوئی معجِزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور اس کو یدِ بیضا دکھایا۔

(۳۳) اور اپنا ہاتھ (ف ۳۷) نکالا تو جبھی وہ دیکھنے  والوں کی نگاہ میں جگمگانے  لگا (ف ۳۸)

۳۷               گریبان میں ڈال کر۔

۳۸               اس سے آفتاب کی سی شعاع ظاہر ہوئی۔

(۳۴) بولا اپنے  گرد کے  سرداروں سے  کہ بیشک یہ دانا جادوگر ہیں۔

(۳۵) چاہتے  ہیں، کہ تمہیں تمہارے  ملک سے  نکال دیں اپنے  جادو  کے  زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے  (ف ۳۹)

۳۹               کیونکہ اس زمانہ میں جادو کا بہت رواج تھا اس لئے فرعون نے خیال کیا کہ یہ بات چل جائے گی اور اس کی قوم کے لوگ اس دھوکے میں آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متنفر ہو جائیں گے اور ان کی بات قبول نہ کریں گے۔

(۳۶) وہ بولے  انہیں ان کے  بھائی کو ٹھہرائے  رہو اور شہروں میں جمع کرنے  والے  بھیجو۔

(۳۷) کہ وہ تیرے  پاس لے  آئیں ہر بڑے  جادوگر دانا کو (ف ۴۰)

۴۰               جو علمِ سحر میں بقول ان کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر ہو اور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے حُجّت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہو جاتے ہیں لہٰذا نبوّت کی دلیل نہیں۔

(۳۸) تو جمع کیے  گئے  جادوگر ایک مقرر دن کے  وعدے  پر (ف ۴۱)

۴۱               وہ دن فرعونیوں کی عید کا تھا اور اس مقابلہ کے لئے وقتِ چاشت مقرر کیا گیا تھا۔

(۳۹)  اور لوگوں سے  کہا گیا کیا تم جمع ہو گئے  (ف ۴۲)

۴۲               تاکہ دیکھو کہ دونوں فریق کیا کرتے ہیں اور ان میں کون غالب آتا ہے۔

(۴۰) شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں (ف ۴۳)

۴۳               حضرت موسیٰ علیہ السلام پر۔ اس سے مقصود ان کا جادو گروں کا اِتّباع کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلہ سے لوگوں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اِتّباع سے روکیں۔

(۴۱)  پھر جب جادوگر آئے  فرعون سے  بولے  کیا ہمیں کچھ مزدوری ملے  گی اگر ہم غالب آئے۔

(۴۲) بولا ہاں اور اس وقت تم میرے  مقرب ہو جاؤ گے  (ف ۴۴)

۴۴               تمہیں درباری بنایا جائے گا، تمہیں خاص اعزاز دیئے جائیں گے، سب سے پہلے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، سب سے بعد تک دربار میں رہو گے۔ اس کے بعد جادو گروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ کیا حضرت پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنا سامانِ سحر ڈالیں۔

(۴۳) موسیٰ نے  ان سے  فرمایا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے  (ف ۴۵)

۴۵               تاکہ تم اس کا انجام دیکھ لو۔

(۴۴) تو انہوں نے  اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے  فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے، (ف ۴۶)

۴۶               انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ سحر کے اعمال میں جو انتہا کے عمل تھے یہ ان کو کام میں لائے تھے اور یقینِ کامل رکھتے تھے کہ اب کوئی سحر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

(۴۵) تو موسیٰ نے  اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے  لگا (ف ۴۷)

۴۷               جو انہوں نے جادو کے ذریعہ سے بنائیں تھیں یعنی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں جو جادو سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آ رہے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر ان سب کو نگل گیا پھر اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو وہ مثلِ سابق عصا تھا جب جادوگروں نے یہ دیکھا تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ جادو نہیں ہے۔

(۴۶) اب سجدہ میں گرے ۔

(۴۷) جادوگر، بولے  ہم ایمان لائے  اس پر جو سارے  جہان کا رب ہے ۔

(۴۸) جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔

(۴۹) فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے  قبل اس کے  کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک  وہ تمہارا بڑا ہے  جس نے  تمہیں جادو سکھایا (ف ۴۸) تو اب جاننا چاہتے  ہو (ف ۴۹) مجھے  قسم ہے ! بیشک میں تمہارے  ہاتھ اور دوسری طرف کے  پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (ف ۵۰)

۴۸               یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے استاد ہیں اسی لئے وہ تم سے بڑھ گئے۔

۴۹               کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے۔

۵۰               اس سے مقصود یہ تھا کہ عام خَلق ڈر جائے اور جادو گروں کو دیکھ کر لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئیں۔

(۵۰) وہ بولے  کچھ نقصان نہیں (ف ۵۱) ہم اپنے  رب کی طرف پلٹنے  والے  ہیں (ف ۵۲)

۵۱               خواہ دنیا میں کچھ بھی پیش آئے کیونکہ۔

۵۲               ایمان کے ساتھ اور ہمیں اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید ہے۔

(۵۱) ہمیں طمع ہے  کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے  اس پر کہ سب سے  پہلے  ایمان لائے  (ف ۵۳)

۵۳               رعیّتِ فرعون میں سے یا اس مجمع کے حاضرین میں سے۔ اس واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کئی سال وہاں اقامت فرمائی اور ان لوگوں کو حق کی دعوت دیتے رہے لیکن ان کی سرکشی بڑھتی گئی۔

(۵۲) اور  ہم  نے   موسیٰ  کو وحی  بھیجی  کہ  راتوں  را ت  میرے   بندو ں  کو  (ف  ۵۴) لے  نکل  بیشک  تمھارا  پیچھا  ہو نا  ہے۔(ف ۵۵) 

۵۴               یعنی بنی اسرائیل کو مِصر سے۔

۵۵               فرعون اور اس کے لشکر پیچھا کریں گے اور تمہارے پیچھے پیچھے دریا میں داخل ہوں گے ہم تمہیں نَجات دیں گے اور انہیں غرق کریں گے۔

(۵۳) اب فرعون نے  شہروں میں جمع کرنے  والے  بھیجے  (ف ۵۶)

۵۶               لشکروں کو جمع کرنے کے لئے جب لشکر جمع ہو گئے تو ان کی کثرت کے مقابل بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کی نسبت کہا۔

(۵۴)  کہ یہ لوگ ایک تھوڑی جماعت ہیں۔

(۵۵) اور بیشک ہم سب کا دل جلاتے  ہیں (ف ۵۷)

۵۷               ہماری مخالفت کر کے اور بے ہماری اجازت کے ہماری سرزمین سے نکل کر۔

(۵۶) اور بیشک ہم سب چوکنے  ہیں (ف ۵۸)

۵۸               مستعد ہیں ہتھیار بند ہیں۔

(۵۷) تو ہم نے  انہیں (ف ۵۹) باہر نکالا باغوں اور چشموں۔

۵۹               یعنی فرعونیوں کو۔

(۵۸) اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے۔

(۵۹) ہم نے  ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کر دیا بنی اسرائیل کو (ف ۶۰)

۶۰               فرعون اور اس کی قوم کے غرق کے بعد۔

(۶۰) تو فرعونیوں نے  ان کا تعاقب کیا دن نکلے۔

(۶۱)پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا (ف ۶۱) موسیٰ  والوں نے  کہا ہم کو انہوں نے  آ لیا (ف ۶۲)

۶۱               اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا۔

۶۲               اب وہ ہم پر قابو پا لیں گے نہ ہم ان کے مقابلہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ بھاگنے کی جگہ ہے کیونکہ آگے دریا ہے۔

(۶۲) موسیٰ نے  فرمایا یوں نہیں (ف ۶۳) بیشک میرا رب میرے  ساتھ ہے  وہ مجھے  اب راہ دیتا ہے۔

۶۳               وعدۂ الٰہی پر کامل بھروسہ ہے۔

(۶۳) تو ہم نے  موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار (ف ۶۴) تو جبھی دریا پھٹ گیا (ف ۶۵) تو ہر حصہ ہو گیا جیسے  بڑا پہاڑ (ف ۶۶)

۶۴               چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر عصا مارا۔

۶۵               اور اس کے بارہ حصہ نمودار ہوئے۔

۶۶               اور ان کے درمیان خشک راہیں۔

(۶۴) اور وہاں قریب لائے  ہم دوسروں کو (ف ۶۷)

۶۷               یعنی فرعون اور فرعونیوں کو تا آنکہ وہ بنی اسرائیل کے راستوں میں چل پڑے جو ان کے لئے دریا میں بقدرتِ الٰہی پیدا ہوئے تھے۔

(۶۵)  اور ہم نے  بچا لیا موسیٰ اور اس کے  سب ساتھ والوں کو (ف ۶۸)

۶۸               دریا سے سلامت نکال کر۔

(۶۶)  پھر دوسروں کو ڈبو دیا (ف ۶۹)

۶۹               یعنی فرعون اور اس کی قوم کو اس طرح کہ جب بنی اسرائیل کل کے کل دریا سے باہر ہو گئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آ گئے تو دریا بحکمِ الٰہی مل گیا اور مثلِ سابق ہو گیا اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب گیا۔

(۶۷) بیشک اس میں ضرور نشانی  ہے  (ف ۷۰) اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے  (ف ۷۱)

۷۰               اللہ تعالی کی قدرت پر اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معجِزہ ہے۔

۷۱               یعنی اہلِ مِصر میں صرف آسیہ فرعون کی بی بی اور حِزْ قِیْل جن کو مؤمنِ آلِ فرعون کہتے ہیں وہ اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے اور فرعون کے چچا زاد تھے اور مریم جس نے حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر کا نشان بتایا تھا جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے تابوت کو دریا سے نکالا۔

(۶۸) اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا (ف ۷۲) مہربان ہے  (ف ۷۳)

۷۲               کہ اس نے کافِروں کو غرق کر کے ان سے انتقام لیا۔

۷۳               مومنین پر جنہیں غرق سے نَجات دی۔

(۶۹)  اور ان پر پڑھو خبر  ابراہیم کی (ف ۷۴)

۷۴               یعنی مشرکین پر۔

(۷۰) جب اس نے  اپنے  باپ اور اپنی قوم سے  فرمایا تم کیا پوجتے  ہو (ف ۷۵)

۷۵               حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ لوگ بُت پرست ہیں باوجود اس کے آپ کا سوال فرمانا اس لئے تھا تاکہ انہیں دکھا دیں کہ جن چیزوں کو وہ لوگ پوجتے ہیں وہ کسی طرح اس کے مستحق نہیں۔

(۷۱) بولے  ہم بتوں کو پوجتے  ہیں پھر ان کے  سامنے  آسن مارے  رہتے  ہیں۔

(۷۲) فرمایا کیا وہ تمہاری سنتے  ہیں جب تم پکارو۔

(۷۳) یا تمہارا کچھ بھلا برا کرتے  ہیں (ف ۷۶)

۷۶               جب یہ کچھ نہیں تو انہیں تم نے معبود کس طرح قرار دیا۔

(۷۴) بولے  بلکہ ہم نے  اپنے  باپ دادا کو ایسا ہی کرتے  پایا۔

(۷۵) فرمایا تو کیا تم دیکھتے  ہو یہ جنہیں پوج رہے  ہو۔

(۷۶) تم اور تمہارے  اگلے  باپ دادا  (ف ۷۷)

۷۷               کہ نہ یہ علم رکھتے ہیں نہ قدرت، نہ کچھ سنتے ہیں نہ کوئی نفع یا ضَرر پہنچا سکتے ہیں۔

(۷۷) بیشک وہ سب میرے  دشمن ہیں (ف ۷۸) مگر پروردگار عالم (ف ۷۹)

۷۸               میں ان کا پوجا جانا گوارا نہیں کر سکتا۔

۷۹               میرا ربّ ہے، میرا کارساز ہے، میں اس کی عبادت کرتا ہوں، وہ مستحقِ عبادت ہے اس کے اوصاف یہ ہیں۔

(۷۸) وہ جس نے  مجھے  پیدا کیا (ف ۸۰) تو وہ مجھے  راہ دے  گا (ف ۸۱)

۸۰               نِیست سے ہست فرمایا اور اپنی طاعت کے لئے بنایا۔

۸۱               آدابِ خِلّت کی جیسی کہ سابق میں ہدایت فرما چکا ہے مصالح دنیا و دین کی۔

(۷۹) اور وہ  جو مجھے  کھلاتا اور پلاتا ہے  (ف ۸۲)

۸۲               اور میرا روزی دینے والا ہے۔

(۸۰) اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے  شفا دیتا ہے  (ف ۸۳)

۸۳               میرے امراض دور کرتا ہے۔ ابنِ عطا نے کہا معنیٰ یہ ہیں کہ جب میں خَلق کی دید سے بیمار ہوتا ہوں تو مشاہدۂ حق سے مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔

(۸۱)  اور وہ مجھے  وفات دے  گا پھر مجھے  زندہ کرے  گا (ف ۸۴)

۸۴               موت اور حیات اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔

(۸۲) اور وہ جس کی مجھے  آس لگی ہے  کہ میری خطائیں قیامت کے  دن بخشے  گا (ف ۸۵)

۸۵               انبیاء معصوم ہیں، گناہ ان سے صادر نہیں ہوتے، ان کا استغفار اپنے ربّ کے حضور تواضع ہے اور اُمّت کے لئے طلبِ مغفرت کی تعلیم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ان صفاتِ الٰہیہ کو بیان کرنا اپنی قوم پر اقامتِ حجّت ہے کہ معبود وہی ہو سکتا ہے جس کے یہ صفات ہوں۔

(۸۳) اے  میرے  رب مجھے  حکم عطا کر (ف ۸۶) اور مجھے  ان سے  ملا دے  جو تیرے  قرب خاص کے  سزاوار ہیں (ف ۸۷)

۸۶               حکم سے یا علم مراد ہے یا حکمت یا نبوّت۔

۸۷               یعنی انبیاء علیہم السلام اور آپ کی یہ دعا مستجاب ہوئی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنَّہ، فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔

(۸۴) اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں (ف ۸۸)

۸۸               یعنی ان اُمّتوں میں جو میرے بعد آئیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عطا فرمایا کہ تمام اہلِ ادیان ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور ان کی ثنا کرتے ہیں۔

(۸۵) اور مجھے  ان میں کر جو چین کے  باغوں کے  وارث ہیں (ف ۸۹)

۸۹               جنہیں تو جنّت عطا فرمائے گا۔

(۸۶) اور میرے  باپ کو بخش دے  (ف ۹۰) بیشک وہ گمراہ۔

۹۰               توبہ و ایمان عطا فرما کر اور یہ دعا آپ نے اس لئے فرمائی کہ وقتِ مفارقت آپ کے والد نے آپ سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا جب ظاہر ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے اس کا وعدہ جھوٹا تھا تو آپ اس سے بیزار ہو گئے جیسا کہ سور ۂ براءت میں ہے مَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ، اَنَّہ، عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۔

(۸۷) اور مجھے  رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے  جائیں گے  (ف ۹۱)

۹۱               یعنی روزِ قیامت۔

(۸۸) جس دن نہ مال کام آئے  گا نہ بیٹے۔

(۸۹) مگر وہ جو اللہ کے  حضور حاضر ہوا سلامت دل لے  کر (ف ۹۲)

۹۲               جو شرک کُفر و نفاق سے پاک ہو اس کو اس کا مال بھی نفع دے گا جو راہِ خدا میں خرچ کیا ہو اور اولاد بھی جو صالح ہو جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جب آدمی مرتا ہے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوا تین کے ایک صدقۂ جاریہ دوسرا وہ مال جس سے وہ لوگ نفع اٹھائیں تیسری نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔

(۹۰) اور قریب لائی جائے  گی جنت پرہیزگاروں کے  لیے  (ف ۹۳)

۹۳               کہ اس کو دیکھیں گے۔

(۹۱) اور ظاہر کی جائے  گی دوزخ گمراہوں کے  لیے۔

(۹۲) اور ان سے  کہا جائے  گا (ف ۹۴) کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے  تھے۔

۹۴               بطریقِ زجر و تو بیخ کے ان کے شرک و کُفر پر۔

(۹۳) اللہ کے  سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے  (ف ۹۵) یا بدلہ لیں گے۔

۹۵               عذابِ الٰہی سے بچا کر۔

(۹۴) تو اوندھا دیے  گئے  جہنم میں وہ اور سب گمراہ  (ف ۹۶)

۹۶               یعنی بُت اور ان کے پُجاری سب اوندھے کر کے جہنّم میں ڈال دیئے جائیں گے۔

(۹۵) اور ابلیس کے  لشکر سارے  (ف ۹۷)

۹۷               یعنی اس کے اِتّباع کرنے والے جِن ہوں یا انسان۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ ابلیس کے لشکروں سے اس کی ذُرِّیَّت مراد ہے۔

(۹۶) کہیں گے  اور وہ اس میں باہم جھگڑے  ہوں گے۔

(۹۷) خدا کی قسم بیشک ہم کھلی گمراہی میں تھے۔

(۹۸) جبکہ انہیں رب العالمین کے  برابر ٹھہراتے  تھے۔

(۹۹) اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے  (ف ۹۸)

۹۸               جنہوں نے بُت پرستی کی دعوت دی یا وہ پہلے لوگ جن کا ہم نے اِتّباع کیا یا ابلیس اور اس کی ذُرِّیَّت نے۔

(۱۰۰) تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں (ف ۹۹)

۹۹               جیسے کہ مؤمنین کے لئے انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور مؤمنین شفاعت کرنے والے ہیں۔

(۱۰۱) اور نہ کوئی غم خوار  دوست (ف ۱۰۰)

۱۰۰             جو کام آئے۔ یہ بات کُفّار اس وقت کہیں گے جب دیکھیں گے کہ انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور صالحین ایمان داروں کی شفاعت کر رہے ہیں اور ان کی دوستیاں کام آرہی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی کہے گا میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنّم میں ہو گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنّت میں داخل کرو تو جو لوگ جہنّم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست۔ حسن رحمۃ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ایماندار دوست بڑھاؤ کیونکہ وہ روزِ قیامت شفاعت کریں گے۔

(۱۰۲) تو کسی طرح ہمیں پھر جانا ہوتا (ف ۱۰۱) کہ ہم  مسلمان ہو جاتے۔

۱۰۱             دنیا میں۔

(۱۰۳) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت ایمان والے  نہ تھے۔

(۱۰۴) اور بیشک تمہارا رب وہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۰۵) نوح کی قوم نے  پیغمبروں کو جھٹلایا (ف ۱۰۲)

۱۰۲             یعنی نوح علیہ السلام کی تکذیب تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے کیونکہ دین تمام رسولوں کا ایک ہے اور ہر ایک نبی لوگوں کو تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔

(۱۰۶) جبکہ ان سے  ان کے  ہم قوم نوح نے  کہا کیا تم ڈرتے  نہیں (ف ۱۰۳)

۱۰۳             اللہ تعالیٰ سے کہ کُفر و معاصی ترک کرو۔

(۱۰۷)  بیشک میں تمہارے  لیے  اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں (ف ۱۰۴)

۱۰۴             اس کی وحی و رسالت کی تبلیغ پر اور آپ کی امانت آپ کی قوم کو مُسلَّم تھی جیسے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امانت پر عرب کو اتفاق تھا۔

(۱۰۸) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو (ف ۱۰۵)

۱۰۵             جو میں توحید و ایمان و طاعتِ الٰہی کے متعلق دیتا ہوں۔

(۱۰۹) اور میں اس پر تم سے  کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے  جو سارے  جہان کا رب ہے۔

(۱۱۰)  تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو۔

(۱۱۱) بولے  کیا ہم تم  پر ایمان لے  آئیں اور تمہارے  ساتھ کمینے  ہو ے ٴ  ہیں (ف ۱۰۶)

۱۰۶             یہ بات انہوں نے غرور سے کہی غُرَباء کے پاس بیٹھنا انہیں گوارا نہ تھا اس میں وہ اپنی کسرِ شان سمجھتے تھے اس لئے ایمان جیسی نعمت سے محروم رہے۔ کمینے سے مراد ان کی غُرَباء اور پیشہ ور لوگ تھے اور ان کو رذیل اور کمین کہنا یہ کُفّار کا متکبِّرانہ فعل تھا ورنہ درحقیقت صنعت اور پیشہ حیثیت دین سے آدمی کو ذلیل نہیں کرتا۔ غنا اصل میں دینی غنا ہے اور نسب تقویٰ کا نسب۔ مسئلہ : مؤمن کو رذیل کہنا جائز نہیں خواہ وہ کتنا ہی محتاج و نادار ہو یا وہ کسی نسب کا ہو۔ (مدارک)۔

(۱۱۲)  فرمایا مجھے  کیا خبر ان کے  کام کیا ہیں (ف ۱۰۷)

۱۰۷             وہ کیا پیشے کرتے ہیں مجھے اس سے کیا مطلب میں انہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔

(۱۱۳) ان کا حساب تو میرے  رب ہی پر ہے  (ف ۱۰۸) اگر تمہیں حِس ہو (ف ۱۰۹)

۱۰۸             وہی انہیں جزا دے گا۔

۱۰۹             تو نہ تم انہیں عیب لگاؤ نہ پیشوں کے باعث ان سے عار کرو پھر قوم نے کہا کہ آپ کمینوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہم آپ کے پاس آئیں آپ کی بات مانیں اس کے جواب میں فرمایا۔

(۱۱۴) اور میں مسلمانوں کو دور کرنے  والا نہیں (ف ۱۱۰)

۱۱۰             یہ میری شان نہیں کہ میں تمہاری ایسی خواہشوں کو پورا کروں اور تمہارے ایمان کے لالچ میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں۔

(۱۱۵) میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے  والا (ف ۱۱۱)

۱۱۱             برہانِ صحیح کے ساتھ جس سے حق و باطل میں امتیاز ہو جائے تو جو ایمان لائے وہی میرا مقرَّب ہے اور جو ایمان نہ لائے وہی دور۔

(۱۱۶)  بولے  اے  نوح! اگر تم باز نہ آئے  (ف ۱۱۲) تو ضرور سنگسار کیے  جاؤ گے  (ف ۱۱۳)

۱۱۲             دعوت و انذار سے۔

۱۱۳             حضرت نوح علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں۔

(۱۱۷)  عرض کی اے  میرے  رب میری قوم نے  مجھے  جھٹلایا (ف ۱۱۴)

۱۱۴             تیری وحی و رسالت میں۔ مراد آپ کی یہ تھی کہ میں جو ان کے حق میں بددعا کرتا ہوں اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دی نہ یہ کہ انہوں نے میرے متّبِعین کو رذیل کہا بلکہ میری دعا کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے تیرے کلام کو جھٹلایا اور تیری رسالت کے قبول کرنے سے انکار کیا۔

(۱۱۸) تو مجھ میں اور ان میں پورا فیصلہ کر دے  اور مجھے  اور میرے  ساتھ والے  مسلمانوں کو نجات دے  (ف ۱۱۵)

۱۱۵             ان لوگوں کی شامتِ اعمال سے۔

(۱۱۹)  تو ہم نے  بچا لیا اسے  اور اس کے  ساتھ والوں کو بھری ہوئی کشتی میں (ف ۱۱۶)

۱۱۶             جو آدمیوں پرندوں اور حیوانوں سے بھری ہوئی تھی۔

(۱۲۰) پھر اس کے  بعد (ف ۱۱۷) ہم نے  باقیوں کو ڈبو دیا۔

۱۱۷             یعنی حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو نَجات دینے کے بعد۔

(۱۲۱) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔

(۱۲۲) اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۲۳) عاد نے  رسولوں کو جھٹلایا (ف ۱۱۸)

۱۱۸             عاد ایک قبیلہ ہے اور در اصل یہ ایک شخص کا نام ہے جس کی اولاد سے یہ قبیلہ ہے۔

(۱۲۴) جبکہ ان سے  ان کے  ہم قوم ہود نے  فرمایا کیا تم ڈرتے  نہیں۔

(۱۲۵) بیشک میں تمہارے  لیے  امانتدار رسول ہوں۔

(۱۲۶) تو اللہ سے  ڈرو  (ف ۱۱۹) اور میرا حکم مانو۔

۱۱۹             اور میری تکذیب نہ کرو۔

(۱۲۷) اور میں تم سے  اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا  اجر تو اسی پر ہے  جو سارے  جہان کا رب۔

(۱۲۸) کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے  ہو راہ گیروں سے  ہنسنے  کو (ف ۱۲۰)

۱۲۰             کہ اس پر چڑھ کر گزرنے والوں سے تمسخُر کرو اور یہ اس قوم کا معمول تھا انہوں نے سرِ راہ بلند بِنائیں بنا لی تھیں وہاں بیٹھ کر راہ چلنے والوں کو پریشان کرتے اور کھیل کرتے۔

(۱۲۹) اور مضبوط محل چنتے  ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہو گے  (ف ۱۲۱)

۱۲۱             اور کبھی نہ مرو گے۔

(۱۳۰) اور جب کسی پر گرفت کرتے  ہو تو بڑی بیدردی سے  گرفت کرتے  ہو (ف ۱۲۲)

۱۲۲             تلوار سے قتل کر کے دُرّے مار کر نہایت بے رحمی سے۔

(۱۳۱) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا  حکم مانو۔

(۱۳۲) اور اس سے  ڈرو جس نے  تمہاری مدد کی ان چیزوں سے  کہ تمہیں معلوم ہیں (ف ۱۲۳)

۱۲۳             یعنی وہ نعمتیں جنہیں تم جانتے ہو آگے ان کا بیان فرمایا جاتا ہے۔

(۱۳۳) تمہاری مدد کی چوپایوں اور بیٹوں۔

(۱۳۴)  اور باغوں اور چشموں سے۔

(۱۳۵)  بیشک مجھے  تم پر ڈر ہے  ایک بڑے  دن کے  عذاب کا  (ف ۱۲۴)

۱۲۴             اگر تم میری نافرمانی کر لو۔ اس کا جواب ان کی طرف یہ ہوا کہ۔

(۱۳۶)  بولے  ہمیں برابر ہے  چاہے  تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو (ف ۱۲۵)

۱۲۵             ہم کسی طرح تمہاری بات نہ مانیں گے اور تمہاری دعوت قبول نہ کریں گے۔

(۱۳۷)  یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت (ف ۱۲۶)

۱۲۶             یعنی جن چیزوں کا آپ نے خوف دلایا یہ پہلوں کا دستور ہے وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم ان باتوں کا اعتبار نہیں کرتے انہیں جھوٹ جانتے ہیں یا آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ یہ موت و حیات اور عمارتیں بنانا پہلوں کا طریقہ ہے۔

(۱۳۸) اور ہمیں عذاب ہونا نہیں (ف ۱۲۷)

۱دنیا میں نہ مرنے کے بعد اٹھنا نہ آخرت میں حساب۔

(۱۳۹) تو انہوں نے  اسے  جھٹلایا (ف ۱۲۸) تو ہم نے  انہیں بلاک کیا (ف ۱۲۹) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔

۱۲۸             یعنی ہود علیہ السلام کو۔

۱۲۹             ہوا کے عذاب سے۔

(۱۴۰) اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۴۱) ثمود نے  رسولوں کو جھٹلایا۔

(۱۴۲) جبکہ ان سے  ان کے  ہم قوم صا لح نے  فرمایا کیا ڈرتے  نہیں۔

(۱۴۳) بیشک میں تمہارے  لیے  اللہ کا امانتدار رسول ہوں۔

(۱۴۴) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو۔

(۱۴۵) اور میں تم سے  کچھ اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا  اجر تو اسی پر ہے  جو سارے  جہان کا رب ہے۔

(۱۴۶) کیا تم یہاں کی (ف ۱۳۰) نعمتوں میں چین سے  چھوڑ دیے  جاؤ گے  (ف ۱۳۱)

۱۳۰             یعنی دنیا کی۔

۱۳۱             کہ یہ نعمتیں کبھی زائل نہ ہوں اور کبھی عذاب نہ آئے کبھی موت نہ آئے آگے ان نعمتوں کا بیان ہے۔

(۱۴۷) باغوں اور چشموں۔

(۱۴۸) اور کھیتوں اور کھجوروں میں جن کا شگوفہ نرم نازک۔

(۱۴۹) اور پہاڑوں میں سے  گھر تراشتے  ہو استا دی سے  (ف ۱۳۲)

۱۳۲             حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ فرہ بمعنی فخر و غرور ہے معنیٰ یہ ہوئے کہ اپنی صنعت پر غرور کرتے اتراتے۔

(۱۵۰) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو۔

(۱۵۱) اور حد سے  بڑھنے  والوں کے  کہنے  پر نہ چلو (ف ۱۳۳)

۱۳۳             حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ مُسرفین سے مراد مشرکین۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ مُسرفین سے مراد وہ نو شخص ہیں جنہوں نے ناقہ کو قتل کیا تھا۔

(۱۵۲) وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے  ہیں (ف ۱۳۴) اور بناؤ  نہیں کرتے  (ف ۱۳۵)

۱۳۴             کُفر و ظلم اور معاصی کے ساتھ۔

۱۳۵             ایمان لا کر اور عدل قائم کر کے اور اللہ کے مطیع ہو کر۔ معنیٰ یہ ہیں کہ ان کا فساد ٹھوس ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ بھی نہیں اور بعض مُفسدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں کچھ نیکی بھی ان میں ہوتی ہے مگر یہ ایسے نہیں۔

(۱۵۳) بولے  تم پر تو جادو ہوا ہے  (ف ۱۳۶)

۱۳۶             یعنی بار بار بکثرت جادو ہوا ہے جس کی وجہ سے عقل بجا نہیں رہی۔ (معاذ اللہ)۔

(۱۵۴) تم تو ہمیں جیسے  آدمی ہو، تو کوئی نشانی لاؤ (ف ۱۳۷) اگر سچے  ہو (ف ۱۳۸)

۱۳۷             اپنی سچائی کی۔

۱۳۸             رسالت کے دعویٰ میں نہیں۔

(۱۵۵) فرمایا یہ ناقہ ہے  ایک دن اس کے  پینے  کی باری (ف ۱۳۹) اور ایک معین دن تمہاری باری۔

۱۳۹             اس میں اس سے مزاحمت نہ کرو۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو ان کے معجِزہ طلب کرنے پر ان کے حسب خواہش بدعائے حضرت صالح علیہ السلام پتھر سے نکلی تھی اس کا سینہ ساٹھ گز کا تھا جب اس کے پینے کا دن ہوتا تو وہ وہاں کا تمام پانی پی جاتی اور جب لوگوں کے پینے کا دن ہوتا تو اس دن نہ پیتی۔ (مدارک)۔

(۱۵۶) اور اسے  برائی کے  ساتھ نہ چھوؤ (ف ۱۴۰)  کہ تمہیں بڑے  دن کا عذاب آلے  گا (ف ۱۴۱)

۱۴۰             نہ اس کو مارو نہ اس کی کونچیں کاٹو۔

۱۴۱             نُزولِ عذاب کی وجہ سے اس دن کو بڑا فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ عذاب اس قدر عظیم اور سخت تھا کہ جس دن میں وہ واقع ہوا اس کو اس کی وجہ سے بڑا فرمایا گیا۔

(۱۵۷) اس پر انہوں نے  اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف ۱۴۲) پھر صبح کو پچھتاتے  رہ گئے  (ف ۱۴۳)

۱۴۲             کونچیں کاٹنے والے شخص کا نام قِدار تھا اور وہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے کونچیں کاٹنے کی نسبت ان سب کی طرف کی گئی۔

۱۴۳             کونچیں کاٹنے پر نُزولِ عذاب کے خوف سے نہ کہ معصیت پر تائبانہ نادم ہوئے ہوں یا یہ بات کہ آثارِ عذاب دیکھ کر نادم ہوئے ایسے وقت کی ندامت نافع نہیں۔

(۱۵۸) تو انہیں عذاب نے  آ لیا (ف ۱۴۴) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔

۱۴۴             جس کی انہیں خبر دی گئی تھی تو ہلاک ہو گئے۔

(۱۵۹) اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۶۰) لوط کی قوم نے  رسولوں کو جھٹلایا۔

(۱۶۱) جب کہ ان سے  ان کے  ہم قوم لوط نے  فرمایا کیا تم نہیں ڈرتے۔

(۱۶۲) بیشک میں تمہارے  لیے  اللہ کا امانتدار رسول ہوں۔

(۱۶۳) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو۔

(۱۶۴) اور میں اس پر تم سے  کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے  جو سارے  جان کا رب ہے۔

(۱۶۵) کیا مخلوق میں مردوں سے  بد فعلی کرتے  ہو (ف ۱۴۵)

۱۴۵             اس کے یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ کیا مخلوق میں ایسے قبیح اور ذلیل فعل کے لئے تمہیں رہ گئے ہو جہاں کے اور لوگ بھی تو ہیں انہیں دیکھ کر تمہیں شرمانا چاہئے اور یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں کہ بکثرت عورتیں ہوتے ہوئے اس فعلِ قبیح کا مرتکب ہونا انتہا درجہ کی خباثت ہے۔

(۱۶۶) اور چھوڑتے  ہو وہ جو تمہارے  لیے  تمہارے  رب نے  جوروئیں بنائیں، بلکہ تم لوگ حد سے  بڑھنے  والے  ہو (ف ۱۴۶)

۱۴۶             کہ حلال طیّب کو چھوڑ کر حرام خبیث میں مبتلا ہوتے ہو۔

(۱۶۷) بولے  اے  لوط! اگر تم باز نہ آئے  (ف ۱۴۷) تو ضرور نکال دیے  جاؤ گے  (ف ۱۴۸)

۱۴۷             نصیحت کرنے اور اس فعل کو برا کہنے سے۔

۱۴۸             شہر سے اور تمہیں یہاں نہ رہنے دیا جائے گا۔

(۱۶۸) فرمایا میں تمہارے  کام سے  بیزار ہوں (ف ۱۴۹)

۱۴۹             اور مجھے اس سے نہایت دشمنی ہے پھر آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔

(۱۶۹) اے  میرے  رب! مجھے  اور میرے  گھر والوں کو ان کے  کام سے  بچا (ف ۱۵۰)

۱۵۰             اس کی شامتِ اعمال سے محفوظ رکھ۔

(۱۷۰) تو ہم نے  اسے  اور اس کے  سب گھر والوں کو نجات بخشی (ف ۱۵۱)

۱۵۱             یعنی آپ کی بیٹیوں کو اور ان تمام لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے۔

(۱۷۱) مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے  رہ گئی (ف ۱۵۲)

۱۵۲             جو آپ کی بی بی تھی اور وہ اپنی قوم کے فعل پر راضی تھی اور جو معصیت پر راضی ہو وہ عاصی کے حکم میں ہوتا ہے اسی لئے وہ بڑھیا گرفتارِ عذاب ہوئی اور اس نے نجات نہ پائی۔

(۱۷۲) پھر ہم نے  دوسروں کو ہلاک کر دیا۔

(۱۷۳) اور ہم نے  ان پر ایک برساؤ برسایا (ف ۱۵۳) تو کیا ہی برا برساؤ  تھا  ڈرائے  گیوں کا۔

۱۵۳             پتھروں کا یا گندھک اور آگ کا۔

(۱۷۴)  بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔

(۱۷۵)  اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۷۶) بن  والوں نے  رسولوں کو جھٹلایا (ف ۱۵۴)

۱۵۴             یہ بن مدیَن کے قریب تھا اس میں بہت درخت اور جھاڑیاں تھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ اہلِ مدیَن کی طرف مبعوث کیا تھا اور یہ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے نہ تھے۔

(۱۷۷) جب ان سے  شعیب نے  فرمایا کیا ڈرتے  نہیں۔

(۱۷۸) بیشک میں تمہارے  لیے  اللہ کا امانتدار رسول ہوں۔

(۱۷۹) تو اللہ سے  ڈرو اور میرا حکم مانو۔

(۱۸۰) اور میں اس پر تم سے  کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے  جو سارے  جہان کا رب ہے  (ف ۱۵۵)

۱۵۵             ان تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا یہی عنوان رہا کیونکہ وہ سب حضرات اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی اطاعت اور اخلاص فی العباد ۃ کا حکم دیتے اور تبلیغِ رسالت پر کوئی اجر نہیں لیتے تھے لہذا سب نے یہی فرمایا۔

(۱۸۱)  ناپ پورا کرو اور گھٹانے  والوں میں نہ ہو (ف ۱۵۶)

۱۵۶             لوگوں کے حقوق کم نہ کرو ناپ اور تول میں۔

(۱۸۲) اور سیدھی ترازو سے  تولو۔

(۱۸۳)  اور لوگوں کی چیزیں کم کر کے  نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے  نہ پھرو (ف ۱۵۷)

۱۵۷             رہزنی اور لوٹ مار کر کے اور کھتیاں تباہ کر کے۔ یہی ان لوگوں کی عادتیں تھیں حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں ان سے منع فرمایا۔

(۱۸۴) اور اس سے  ڈرو جس نے  تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو۔

(۱۸۵) بولے  تم پر جادو ہوا ہے۔

(۱۸۶) تم تو نہیں مگر ہم جیسے  آدمی (ف ۱۵۸) اور بیشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے  ہیں۔

۱۵۸             نبوّت کا انکار کرنے والے انبیاء کی نسبت بالعموم یہی کہا کرتے تھے جیسا کہ آج کل کے بعضے فاسد العقیدہ کہتے ہیں۔

(۱۸۷) تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے  ہو (ف ۱۵۹)

۱۵۹             نبوّت کے دعوے میں۔

(۱۸۸) فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے  جو تمہارے  کوتک (کرتوت) ہیں (ف ۱۶۰)

۱۶۰             اور جس عذاب کے تم مستحق ہو وہ جو عذاب چاہے گا تم پر نازِل فرمائے گا۔

(۱۸۹)  تو انہوں نے  اسے  جھٹلایا تو انہیں  شامیانے  والے  دن کے  عذاب نے  آ لیا، بیشک وہ بڑے  دن کا عذاب تھا (ف ۱۶۱)

۱۶۱             جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی ہوا بند ہوئی اور سات روز گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے، تہ خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے اس کے بعد ایک ابر آیا سب اس کے نیچے آ کے جمع ہو گئے اس سے آگ برسی اور سب جل گئے۔ (اس واقعہ کا بیان سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکا ہے۔

(۱۹۰) بیشک اس میں ضرور نشانی ہے، اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔

(۱۹۱) اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔

(۱۹۲) اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔

(۱۹۳) اسے  روح الا مین لے  کر اترا  (ف ۱۶۲)

۱۶۲             روح الامین سے حضرت جبریل مراد ہیں جو وحی کے امین ہیں۔

(۱۹۴) تمہارے  دل پر (ف ۱۶۳) کہ تم ڈر سناؤ۔

۱۶۳             تاکہ آپ اسے محفوظ رکھیں اور سمجھیں اور نہ بھولیں۔ دل کی تخصیص اس لئے ہے کہ درحقیقت وہی مخاطب ہے اور تمیز و عقل و اختیار کا مقام بھی وہی ہے، تمام اعضاء اس کے مسخّر و مطیع ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ دل کے درست ہونے سے تمام بدن درست ہو جاتا ہے اور اس کے خراب ہونے سے سب جسم خراب اور فرح و سرور و رنج و غم کا مقام دل ہی ہے جب دل کو خوشی ہوتی ہے تمام اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے تو وہ مثل رئیس کے ہے وہی موضع ہے عقل کا تو امیرِ مطلق ہوا اور تکلیف جو عقل و فہم کے ساتھ مشروط ہے اسی کی طرف راجع ہوئی۔

(۱۹۵) روشن عربی زبان میں۔

(۱۹۶)  اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے  (ف ۱۶۴)

۱۶۴             اِنَّہٗ کی ضمیر کا مرجع اگر قرآن ہو تو اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اس کا ذکر تمام کتبِ سماویہ میں ہے اور اگر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف ضمیر راجع ہو تو معنیٰ یہ ہوں گے کہ اگلی کتابوں میں آپ کی نعمت و صفت مذکور ہے۔

(۱۹۷)  اور کیا یہ ان کے  لیے  نشانی نہ تھی (ف ۱۶۵) کہ اس نبی کو جانتے  ہیں بنی اسرائیل کے  عالم (ف ۱۶۶)

۱۶۵             سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صدقِ نبوّت و رسالت پر۔

۱۶۶             اپنی کتابوں سے اور لوگوں کو خبریں دیتے ہیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اہلِ مکہ نے یہودِ مدینہ کے پاس اپنے معتمدین کو یہ دریافت کرنے بھیجا کہ کیا نبیِ آخر الزمان سیدِ کائنات محمّدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نسبت ان کی کتابوں میں کوئی خبر ہے ؟ اس کا جواب عُلَمائے یہود نے یہ دیا کہ یہی ان کا زمانہ ہے اور ان کی نعت و صفت توریت میں موجود ہے۔ عُلَمائے یہود میں سے حضرت عبداللہ ابن سلام اور ابنِ یامین اور ثعلبہ اور اسد اور اُسید یہ حضرات جنہوں نے توریت میں حضور کے اوصاف پڑھے تھے حضور پر ایمان لائے۔

(۱۹۸) اور اگر ہم اسے  کسی غیر عربی شخص پر اتارتے۔

(۱۹۹) کہ وہ انہیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے  (ف ۱۶۷)

۱۶۷             معنیٰ یہ ہیں کہ ہم نے یہ قرآنِ کریم ایک فصیح بلیغ عربی نبی پر اُتارا جس کی فصاحت اہلِ عرب کو مسلّم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم مُعجِز ہے اور اس کی مثل ایک سورت بنانے سے بھی تمام دنیا عاجز ہے علاوہ بریں عُلَمائے اہلِ کتاب کا اتفاق ہے کہ اس کے نُزول سے قبل اس کے نازِل ہونے کی بشارت اور اس نبی کی صفت ان کی کتابوں میں انہیں مل چکی ہے، اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ نبی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کتاب اس کی نازِل فرمائی ہوئی ہے اور کُفّار جو طرح طرح کی بیہودہ باتیں اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں سب باطل ہیں اور خود کُفار بھی متحیّر ہیں کہ اس کے خلاف کیا بات کہیں، اس لئے کبھی اس کو پہلوں کی داستانیں کہتے ہیں، کبھی شعر، کبھی سحر اور کبھی یہ کہ معاذ اللہ اس کو خود سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بنا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی غلط نسبت کر دی ہے اس طرح کے بیہودہ اعتراض معانِد ہر حال میں کر سکتا ہے حتیٰ کہ اگر بالفرض یہ قرآن کسی غیر عربی شخص پر نازِل کیا جاتا جو عربی کی مہارت نہ رکھتا اور باوجود اس کے وہ ایسا مُعجِز قرآن پڑھ کر سُناتا جب بھی لوگ اسی طرح کُفر کرتے جس طرح انہوں نے اب کُفر و انکار کیا کیونکہ ان کے کُفر و انکار کا باعث عناد ہے۔

(۲۰۰) ہم نے  یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے  مجرموں کے  دلوں میں (ف ۱۶۸)

۱۶۸             یعنی ان کافِروں کے جن کا کُفر اختیار کرنا اور اس پر مُصِر رہنا ہمارے علم میں ہے تو ان کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں وہ کُفر سے پلٹنے والے نہیں۔

(۲۰۱)  وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے  یہاں تک کہ دیکھیں دردناک عذاب۔

(۲۰۲) تو وہ اچانک ان پر آ جائے  گا اور انہیں خبر نہ ہو گی۔

(۲۰۳) تو کہیں گے  کیا ہمیں کچھ مہلت ملے  گی (ف ۱۶۹)

۱۶۹             تاکہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں لیکن اس وقت مہلت نہ ملے گی جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کُفّار کو اس عذاب کی خبر دی تو براہِ تمسخُر و استہزاء کہنے لگے کہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

(۲۰۴) تو کیا ہمارے  عذاب کی جلدی کرتے  ہیں۔

(۲۰۵) بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے  دیں (ف ۱۷۰)

۱۷۰             اور فوراً ہلاک نہ کر دیں۔

(۲۰۶) پھر آئے  ان پر جس کا وہ وعدہ دیے  جاتے  ہیں (ف ۱۷۱)

۱۷۱             یعنی عذابِ الٰہی۔

(۲۰۷) تو کیا کام آئے  گا ان کے  وہ جو برتتے  تھے  (ف ۱۷۲)

۱۷۲             یعنی دنیا کی زندگانی اور اس کا عیش خواہ طویل بھی ہو لیکن نہ وہ عذاب کو دفع کر سکے گا نہ اس کی شدت کم کر سکے گا۔

(۲۰۸) اور ہم نے  کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے  ڈر سنانے  والے  نہ ہوں۔

(۲۰۹) نصیحت کے  لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے  (ف ۱۷۳)

۱۷۳             پہلے حُجّت قائم کر دیتے ہیں ڈر سنانے والوں کو بھیج دیتے ہیں اس کے بعد بھی جو لوگ راہ پر نہیں آتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر عذاب کرتے ہیں۔

(۲۱۰) او راس قرآن کو لے  کر شیطان نہ اترے  (ف ۱۷۴)

۱۷۴             اس میں کُفّار کا رد ہے جو کہتے تھے کہ جس طرح شیاطین کاہنوں کے پاس آسمانی خبریں لاتے ہیں اسی طرح معاذ اللہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس قرآن لاتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس خیال کو باطل کر دیا کہ یہ غلط ہے۔

(۲۱۱) اور وہ اس قابل نہیں (ف ۱۷۵) اور نہ وہ ایسا کر سکتے  ہیں (ف ۱۷۶)

۱۷۵             کہ قرآن لائیں۔

۱۷۶             کیونکہ یہ ان کے مقدور سے باہر ہے۔

(۲۱۲) وہ تو سننے  کی جگہ سے  دور کر دیے  گئے  ہیں (ف ۱۷۷)

۱۷۷             یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرف جو وحی ہوتی ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر دیا جب تک کہ فرشتہ اس کو بارگاہِ رسالت میں پہنچائے اس سے پہلے شیاطین اس کو نہیں سن سکتے اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے۔

(۲۱۳) تو اللہ کے  سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہو گا۔

(۲۱۴) اور اے  محبوب! اپنے  قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (ف ۱۷۸)

۱۷۸             حضور کے قریب کے رشتہ دار نبی ہاشم اور بنی مطلب ہیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں اعلان کے ساتھ انذار فرمایا اور خدا کا خوف دلایا جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے۔

(۲۱۵)  اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ (ف ۱۷۹) اپنے  پیرو مسلمانوں کے  لیے  (ف ۱۸۰)

۱۷۹             یعنی لطف و کرم فرماؤ۔

۱۸۰             جو صدق و اخلاص سے آپ پر ایمان لائیں خواہ وہ آپ سے قرابت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔

(۲۱۶)  تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرما دو میں تمہارے  کاموں سے  بے  علاقہ ہوں۔

(۲۱۷) اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے   (ف ۱۸۱)

۱۸۱             یعنی اللہ تعالیٰ، تم اپنے تمام کام اس کو تفویض کرو۔

(۲۱۸) جو تمہیں دیکھتا ہے  جب تم کھڑے  ہوتے  ہو (ف ۱۸۲)

۱۸۲             نماز کے لئے یا دعا کے لئے یا ہر اس مقام پر جہاں تم ہو۔

(۲۱۹)  اور نمازیوں میں تمہارے  دورے  کو (ف ۱۸۳)

۱۸۳             جب تم اپنے تہجُّد پڑھنے والے اصحاب کے احوال ملاحظہ فرمانے کے لئے شب کو دورہ کرتے ہو۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنیٰ یہ ہیں کہ جب تم امام ہو کر نماز پڑھاتے ہو اور قیام و رکوع و سجود و قعود میں گزرتے ہو۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنیٰ یہ ہیں کہ وہ آپ کی گردشِ چشم کو دیکھتا ہے نمازوں میں کیونکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پس و پیش یکساں ملاحظہ فرماتے تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے بخدا مجھ پر تمہارا خشوع و رکوع مخفی نہیں میں تمہیں اپنے پسِ پشت دیکھتا ہوں۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس آیت میں ساجدین سے مؤمنین مراد ہیں اور معنیٰ یہ ہیں کہ زمانۂ حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے لے کر حضرت عبداللہ و آمنہ خاتون تک مؤمنین کی اصلاب و ارحام میں آپ کے دورے کو ملاحظہ فرماتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے تمام اصول آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب مؤمن ہیں۔ ( مدارک و جمل وغیرہ)۔

(۲۲۰) بیشک وہی سنتا جانتا ہے  (ف ۱۸۴)

۱۸۴             تمہارے قول و عمل اور تمہاری نیت کو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے جواب میں جو کہتے تھے کہ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر شیطان اترتے ہیں یہ ارشاد فرماتا ہے۔

(۲۲۱)  کیا میں تمہیں بتا دوں کہ کس پر اترتے  ہیں شیطان۔

(۲۲۲) اترتے  ہیں بڑے  بہتان والے  گناہگار پر (ف ۱۸۵)

۱۸۵             مثل مسیلمہ وغیرہ کاہنوں کے۔

(۲۲۳) شیطان اپنی سنی ہوئی (ف ۱۸۶) ان پر ڈالتے  ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے  ہیں (ف ۱۸۷)

۱۸۶             جو انہوں نے ملائکہ سے سُنی ہوتی ہے۔

۱۸۷             کیونکہ وہ فرشتوں سے سُنی ہوئی باتوں میں اپنی طرف سے بہت جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بات سنتے ہیں تو سو جھوٹ اس کے ساتھ ملاتے ہیں اور یہ بھی اس وقت تک تھا جب تک کہ وہ آسمان پر پہنچنے سے روکے نہ گئے تھے۔

(۲۲۴) اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے  ہیں (ف ۱۸۸)

۱۸۸             ان کے اشعار میں کہ ان کو پڑھتے ہیں رواج دیتے ہیں باوجود یکہ وہ اشعار کذب و باطل ہوتے ہیں۔ شانِ نُزول : یہ آیت شعرائے کُفّار کے حق میں نازِل ہوئی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجو میں شعر کہتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسا محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کو نقل کرتے تھے۔ ان لوگوں کی آیت میں مذمت فرمائی گئی۔

(۲۲۵) کیا تم نے  نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے  میں سرگرداں پھرتے  ہیں (ف ۱۸۹)

۱۸۹             اور ہر طرح کی جھوٹی باتیں بناتے ہیں اور ہر لغو و باطل میں سخن آرائی کرتے ہیں جھوٹی مدح کرتے ہیں جھوٹی ہجو کرتے ہیں۔

 (۲۲۶) اور وہ کہتے  ہیں جو نہیں کرتے  (ف ۱۹۰)

۱۹۰             بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اگر کسی کا جسم پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ شعر سے پر ہو مسلمان شعراء جو اس طریقہ سے اجتناب کرتے ہیں اس حکم سے مستثنیٰ کئے گئے۔

(۲۲۷) مگر وہ جو ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  (ف ۱۹۱) اور بکثرت اللہ کی یاد کی (ف ۱۹۲) اور بدلہ لیا (ف ۱۹۳) بعد اس کے  کہ ان پر ظلم ہوا  (ف ۱۹۴) اور اب جاننا چاہتے  ہیں ظالم (ف ۱۹۵) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے  (ف ۱۹۶)

۱۹۱             اس میں شعرائے اسلام کا استثناء فرمایا گیا وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت لکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمد لکھتے ہیں، اسلام کی مدح لکھتے ہیں، پند و نصائح لکھتے ہیں، اس پر اجر و ثواب پاتے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے کہ مسجدِ نبوی میں حضرت حسّان کے لئے منبر بچھایا جاتا تھا وہ اس پر کھڑے ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مفاخر پڑھتے تھے اور کُفّار کی بدگوئیوں کا جواب دیتے تھے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے حق میں دعا فرماتے جاتے تھے۔ بخاری کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس مبارک میں اکثر شعر پڑھے جاتے تھے جیسا کہ ترمذی میں جابر بن سمرہ سے مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ شعر کلام ہے بعض اچھا ہوتا ہے بعض بُرا، اچھے کو لو بُرے کو چھوڑ دو۔ شعبی نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق شعر کہتے تھے، حضرت علی ان سب سے زیادہ شعر فرمانے والے تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔

۱۹۲             اور شعر ان کے لئے ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب نہ ہو سکا بلکہ ان لوگوں نے جب شعر کہا بھی تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور اس کی توحید اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت اور اصحابِ کرام و صُلحائے اُمّت کی مدح اور حکمت و موعظت اور زہد و ادب میں۔

۱۹۳             کُفّار سے ان کی ہجو کا۔

۱۹۴             کُفّار کی طرف سے کہ انہوں نے مسلمانوں کی اور ان کے پیشواؤں کی ہجو کی ان حضرات نے اس کو دفع کیا اور اس کے جواب دیئے یہ مذموم نہیں ہیں بلکہ مستحقِ اجر و ثواب ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ مؤمن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی یہ ان حضرات کا جہاد ہے۔

۱۹۵             یعنی مشرکین جنہوں نے سیدُ الطاہرین افضلُ الخَلق رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجو کی۔

۱۹۶             موت کے بعد۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا جہنّم کی طرف اور وہ برا ہی ٹھکانا ہے۔