خزائن العرفان

سورة محَمَّد

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف ۱)

۱                 سورۂ محمّد (صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم) مدنیّہ ہے، اس میں چار۴ رکوع اور اڑتیس۳۸ آیتیں، پانچ سو اٹھاون ۵۵۸کلمے، دو ہزار چار سو پچھتر ۲۴۷۵ حرف ہیں۔

(۱) جنہوں نے  کفر کیا اور اللہ کی راہ سے  روکا (ف ۲) اللہ نے  ان کے  عمل برباد کیے  (ف ۳)

۲                 یعنی جو لوگ خود اسلام میں داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا۔

۳                 جو کچھ بھی انہوں نے کئے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا ہو یا اسیروں کو چھڑایا ہو یا غریبوں کی مد د کی ہو یا مسجدِ حرام یعنی خانۂ کعبہ کی عمارت میں کوئی خدمت کی ہو سب برباد ہوئی، آخرت میں اس کا کچھ ثواب نہیں۔ ضحّاک کا قول ہے کہ مراد یہ ہے کہ کفّار نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے لئے جو مَکر سوچے تھے اور حیلے بنائے تھے اﷲ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام کام باطل کر دیئے۔

(۲) اور  ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  اور اس پر ایمان لائے  جو محمد پر اتارا گیا (ف ۴)  اور وہی ان کے  رب کے  پاس سے  حق ہے  اللہ نے   ان کی برائیاں اتار  دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف ۵)

۴                 یعنی قرآنِ پاک۔

۵                 امورِ دِین میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرما کر۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ ان کے ایّامِ حیات میں ان کی حفاظت فرما کر کہ ان سے عصیاں واقع نہ ہو۔

(۳) یہ اس لیے  کہ کافر باطل کے  پیرو  ہوئے  اور ایمان والوں نے  حق کی پیروی کی جو ان کے  رب کی طرف سے  ہے  (ف ۶) اللہ لوگوں سے  ان کے  احوال یونہی بیان فرماتا ہے  (ف ۷)

۶                 یعنی قران شریف۔

۷                 یعنی فریقین کے کہ کافروں کے عمل اکارت اور ایمانداروں کی لغزشیں بھی مغفور۔

(۴) تو جب کافروں سے  تمہارا سامنا ہو(ف ۸) تو گردنیں مارنا ہے  (ف ۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کر لو (ف ۱۰) تو مضبوط باندھو،  پھر اس کے  بعد چاہے  احسان کر کے  چھوڑ دو چاہے  فدیہ لے  لو (ف ۱۱) یہاں تک کہ  لڑائی اپنا بوجھ  رکھ  دے  (ف ۱۲)  بات یہ  ہے  اور اللہ چاہتا تو  آپ ہی اُن سے  بدلہ  لیتا (ف ۱۳) مگر اس لئے  (ف ۱۴)تم میں ایک کو دوسرے  سے  جانچے  (ف ۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے  گئے  اللہ  ہرگز ان کے  عمل ضائع نہ فرمائے  گا (ف ۱۶)

۸                 یعنی جنگ ہو۔

۹                 یعنی ان کو قتل کرو۔

۱۰               یعنی کثرت سے قتل کر چکو اور باقی ماندوں کو قید کرنے کا موقع آ جائے۔

۱۱               دونوں باتوں کا اختیار ہے۔

مسئلہ : مشرکین کے اسیروں کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا مملوک بنا لیا جائے اور احساناً چھوڑنا اور فدیہ لینا، جو اس آیت میں مذکور ہے وہ سورۂ برأت کی آیت  اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ  سے منسوخ ہو گیا۔

۱۲               یعنی جنگ ختم ہو جائے اس طرح کہ مشرکین اطاعت قبول کریں اور اسلام لائیں۔

۱۳               بغیر قتال کے انہیں زمین میں دھنسا کر یا ان پر پتّھر برسا کر یا اور کسی طرح۔

۱۴               تمہیں قتال کا حکم دیا۔

۱۵               قتال میں تاکہ مسلمان مقتول ثواب پائیں اور کافر عذاب۔

۱۶               ان کے اعمال کا ثواب پورا پورا دے گا۔

شانِ نزول : یہ آیت روزِ اُحد نازل ہوئی جب کہ مسلمان زیادہ مقتول و مجروح ہوئے۔

(۵) جلد انہیں راہ دے  گا (ف ۱۷) اور ان کا  کام بنا دے  گا۔

۱۷               درجاتِ عالیات کی طرف۔

(۶) اور انہیں جنت میں لے  جائے  گا انہیں اس کی پہچان کرا دی ہے  (ف ۱۸)

۱۸               وہ منازلِ جنّت میں نو وارد، نا آشنا کی طرح نہ پہنچیں گے جو کسی مقام پر جاتا ہے تو اس کو ہر چیز کے دریافت کرنے کی حاجت درپیش ہوتی ہے بلکہ وہ واقف کارانہ داخل ہوں گے، اپنے منازل اور مساکن پہچانتے ہوں گے، اپنی زوجہ اور خدّام کو جانتے ہوں گے، ہر چیز کا موقع ان کے علم میں ہو گا گویا کہ وہ ہمیشہ سے یہیں کے رہنے بسنے والے ہیں۔

(۷) اے  ایمان والو اگر تم دین خدا  کی مدد کرو گے  اللہ تمہاری مدد کرے  گا (ف ۱۹) اور تمہارے  قدم جما دے  گا (ف ۲۰)

۱۹               تمہارے دشمن کے مقابل۔

۲۰               معرکۂ جنگ میں اور حجّتِ اسلام پر اور پل صراط پر۔

 (۸) اور جنہوں نے  کفر کیا تو ان پر تباہی پڑے  اور اللہ ان کے  اعمال برباد  کرے۔

(۹) یہ اس لیے  کہ انہیں ناگوار ہوا  جو اللہ نے  اتارا  (ف ۲۱) تو اللہ نے  ان کا کیا دھرا  اِکارت کیا۔

۲۱               یعنی قرآنِ پاک اس لئے کہ اس میں شہوات و لذّات کے ترک اور طاعات و عبادات میں مشقّتیں اٹھانے کے احکام ہیں جو نفس پر شاق ہوتے ہیں۔

(۱۰) تو کیا انہوں نے  زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے  ان سے   اگلوں کا (ف ۲۲) کیسا انجام ہوا،  اللہ نے  ان پر تباہی ڈالی (ف ۲۳) اور ان کافروں کے  لیے  بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف ۲۴)

۲۲               یعنی پچھلی امّتوں کا۔

۲۳               کہ انہیں اور ان کی اولاد اور ان کے اموال کو سب کو ہلاک کر دیا۔

۲۴               یعنی اگر یہ کافر سیّدِ عالَم محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر ایمان نہ لائیں توان کے لئے پہلے جیسی بہت سی تباہیاں ہیں۔

(۱۱) یہ (ف ۲۵)  اس لیے  کہ مسلمانوں کا مولیٰ اللہ ہے  اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں۔

۲۵               یعنی مسلمانوں کا منصور ہونا اور کافروں کا مقہور ہونا۔

(۱۲) بیشک  اللہ داخل فرمائے   گا انہیں جو ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  باغوں میں جن کے   نیچے  نہریں رواں،  اور کافر برتتے  ہیں اور کھاتے  ہیں (ف ۲۶) جیسے   چوپائے  کھائیں (ف ۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے۔

۲۶               دنیا میں چند روز غفلت کے ساتھ اپنے انجام و مآل کو فراموش کئے ہوئے۔

۲۷               اور انہیں تمیز نہ ہو کہ وہ اس کھانے کے بعد وہ ذبح کئے جائیں گے، یہی حال کفّار کا ہے جو غفلت کے ساتھ دنیا طلبی میں مشغول ہیں اور آنے والی مصیبتوں کا خیال بھی نہیں کرتے۔

(۱۳) اور کتنے  ہی شہر کہ اس شہر سے  (ف ۲۸) قوت میں زیادہ تھے  جس نے  تمہیں تمہارے  شہر سے  باہر کیا، ہم نے  انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف ۲۹)

۲۸               یعنی مکّہ مکرّمہ والوں سے۔

۲۹               جو عذاب و ہلاک سے بچا سکے۔ شانِ نزول : جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تو مکّہ مکرّمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے، اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

(۱۴) تو کیا جو اپنے  رب کی طرف سے  روشن دلیل پر ہو (ف ۳۰) اُس (ف ۳۱) جیسا ہو گا جس کے  برے  عمل اسے  بھلے  دکھائے  گئے  اور وہ اپنی خواہشوں کے  پیچھے  چلے  (ف ۳۲)

۳۰               اور وہ مومنین ہیں کہ وہ قرآنِ معجز اور معجزاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی برہانِ قوی پر یقینِ کامل اور جزمِ صادق رکھتے ہیں۔

۳۱               اس کافر مشرک۔

۳۲               اور انہوں نے کفرو بت پرستی اختیار کی، ہرگز وہ مومن اور یہ کافر ایک سے نہیں ہو سکتے اور ان دونوں میں کچھ بھی نسبت نہیں۔

(۱۵) احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے  ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے  (ف ۳۳) اور ایسے  دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف ۳۴) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے  پینے  میں لذت ہے  (ف ۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف ۳۶) اور ان کے  لیے  اس میں ہر قسم کے  پھل ہیں، اور اپنے  رب کی مغفرت (ف ۳۷) کیا ایسے  چین والے  ان کی برابر ہو جائیں گے  جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا  اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے  گا کہ آنتوں کے  ٹکڑے  ٹکڑے  کر دے۔

۳۳               یعنی ایسا لطیف کہ نہ سڑے، نہ اس کی بو بدلے، نہ اس کے ذائقہ میں فرق آئے۔

۳۴               بخلاف دنیا کے دودھ کے کہ خراب ہو جاتے ہیں۔

۳۵               خالص لذّت ہی لذّت، نہ دنیا کی شرابوں کی طرح اس کا ذائقہ خراب، نہ اس میں میل کچیل، نہ خراب چیزوں کی آمیزش، نہ وہ سڑ کر بنی، نہ اس کے پینے سے عقل زائل ہو، نہ سر چکرائے، نہ خُمار آئے، نہ دردِ سر پیدا ہو۔ یہ سب آفتیں دنیا ہی کی شراب میں ہیں، وہاں کی شراب ان سب عیوب سے پاک، نہایت لذیذ، مُفرّح، خوش گوار۔

۳۶               پیدائش میں یعنی صاف ہی پیدا کیا گیا، دنیا کے شہد کی طرح نہیں جو مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے اور اس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے۔

۳۷               کہ وہ رب ان پر احسان فرماتا ہے اور ان سے راضی ہے اور ان پر سے تمام تکلیفی احکام اٹھالئے گئے ہیں جو چاہیں کھائیں، جتنا چاہیں کھائیں، نہ حساب، نہ عقاب۔

(۱۶) اور ان (ف ۳۸) میں سے  بعض تمہارے  ارشاد سنتے  ہیں (ف ۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے  پاس سے  نکل کر جائیں (ف ۴۰) علم والوں سے  کہتے  ہیں (ف ۴۱) ابھی انہوں نے  کیا فرمایا (ف ۴۲) یہ ہیں وہ جن کے  دلوں پر اللہ نے  مہر کر دی (ف ۴۳) اور اپنی خواہشوں کے  تابع ہوئے   (ف ۴۴)

۳۸               کفّار۔

۳۹               خطبہ وغیرہ میں نہایت بے التفاتی کے ساتھ۔

۴۰               یہ منافق لوگ تو۔

۴۱               یعنی علمائے صحابہ سے، مثل ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مسخّرگی کے طور پر۔

۴۲               یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے۔ اﷲ تعاٍلیٰ ان منافقوں کے حق میں فرماتا ہے۔

۴۳               یعنی جب انہوں نے حق کا اتباع ترک کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو مردہ کر دیا۔

۴۴               اور انہوں نے نفاق اختیار کیا۔

(۱۷) اور جنہوں نے  راہ پائی (ف ۴۵)  اللہ نے  ان کی ہدایت (ف ۴۶) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیز گاری انہیں عطا فرمائی (ف ۴۷)

۴۵               یعنی وہ اہلِ ایمان جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اٹھایا۔

۴۶               یعنی بصیرت و علم و شرحِ صدر۔

۴۷               یعنی پرہیزگاری کی توفیق دی اور اس پر مدد فرمائی یا یہ معنیٰ ہیں کہ انہیں پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا۔

(۱۸) تو  کاہے  کے  انتظار میں ہیں (ف ۴۸) مگر قیامت کے  کہ ان پر اچانک آ جائے، کہ اس کی علامتیں تو آ ہی چکی ہیں (ف ۴۹) پھر جب آ جائے  گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا۔

۴۸               کفّار و منافقین۔

۴۹               جن میں سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی بعثتِ مبارکہ اور قمر کا شق ہونا ہے۔

(۱۹) تو جان لو کہ اللہ کے  سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے  محبوب! اپنے  خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے  گناہوں کی معافی مانگو (ف ۵۰) اور اللہ جانتا ہے  دن کو تمہارا پھرنا (ف ۵۱) اور رات کو تمہارا  آرام لینا (ف ۵۲)۔

۵۰               یہ اس امّت پر اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے فرمایا کہ ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور آپ شفیع، مقبول الشفاعت ہیں۔ اس کے بعد مومنین وغیرِ مومنین سب سے عام خطاب ہے۔

۵۱               اپنے اشغال میں اور معاش کے کاموں میں۔

۵۲               یعنی وہ تمہارے تمام احوال کا جاننے والا ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔

(۲۰) اور مسلمان کہتے  ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف ۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف ۵۴) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا  تو تم دیکھو گے  انہیں جن کے  دلوں میں بیماری ہے  (ف ۵۵) کہ تمہاری طرف (ف ۵۶) اس کا دیکھنا دیکھتے  ہیں جس پر مُردنی چھائی ہو، تو ان کے  حق  میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے  (ف ۵۷)

۵۳               شانِ نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ تعالیٰ کا بہت ہی شوق تھا، وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہوتا کہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔

۵۴               جس میں صاف غیر محتمل بیان ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو۔

۵۵               یعنی منافقین کو۔

۵۶               پریشان ہو کر۔

۵۷               اللہ تعالیٰ اور رسول کی۔

(۲۱) اور اچھی بات کہتے  پھر جب حکم ناطق ہو چکا (ف ۵۸) تو اگر اللہ سے  سچے  رہتے  (ف ۵۹) تو ان کا بھلا تھا۔

۵۸               اور جہاد فرض کر دیا گیا۔

۵۹               ایمان و اطاعت پر قائم رہ کر۔

(۲۲) تو کیا تمہارے  یہ لچھن  نظر آتے  ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے  تو زمین میں فساد پھیلاؤ (ف ۶۰) اور اپنے  رشتے  کاٹ دو۔

۶۰               رشوتیں لو، ظلم کرو، آپس میں لڑو، ایک دوسرے کو قتل کرو۔

(۲۳) یہ ہیں وہ  (ف ۶۱)  لوگ جن پر اللہ نے  لعنت کی اور انہیں حق سے  بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں (ف ۶۲)

۶۱               مفسِد۔

۶۲               کہ راہِ حق نہیں دیکھتے۔

(۲۴)  تو کیا وہ قرآن کو سوچتے   نہیں (ف ۶۳)  یا بعضے  دلوں پر ان کے  قفل لگے  ہیں (ف ۶۴)

۶۳               جو حق کو پہچانیں۔

۶۴               کفر کے، کہ حق کی بات ان میں پہنچنے ہی نہیں پاتی۔

(۲۵) بیشک وہ جو اپنے  پیچھے  پلٹ گئے  (ف ۶۵) بعد  اس کے  کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف ۶۶) شیطان نے  انہیں فریب دیا (ف ۶۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے  کی امید دلائی (ف ۶۸)

۶۵               نفاق سے۔

۶۶               اور طریقِ ہدایت واضح ہو چکا تھا۔ قتادہ نے کہا کہ یہ کفّارِ اہلِ کتاب کا حال ہے جنہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں دیکھی، پھر باوجود جاننے پہچاننے کے کفر اختیار کیا۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور ضحّاک و سدی کا قول ہے کہ اس سے منافق مراد ہیں جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے۔

۶۷               اور برائیوں کو ان کی نظر میں ایسا مزیّن کیا کہ انہیں اچھا سمجھے۔

۶۸               کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا۔

(۲۶) یہ اس لیے  کہ انہوں نے  (ف ۶۹) کہا ان لوگوں سے  (ف ۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف ۷۱) ناگوار ہے  ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے  (ف ۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے۔

۶۹               یعنی اہلِ کتاب یا منافقین نے پوشیدہ طور پر۔

۷۰               یعنی مشرکین سے۔

۷۱               قرآن اور احکامِ دِین۔

(۲۷) تو کیسا ہو گا جب فرشتے  ان کی روح قبض کریں گے  ان کے  منہ اور ان کی پیٹھیں مارتے  ہوئے  (ف ۷۳)

۷۲               یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی عداوت اور حضور کے خلاف انکے دشموں کی امداد کرنے میں اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں۔

۷۳               لوہے کے گُرزوں سے۔

(۲۸) یہ اس لیے  کہ وہ ایسی بات کے  تابع ہوئے  جس میں اللہ کی ناراضی ہے  (ف ۷۴) اور اس کی خوشی (ف ۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے  ان کے  اعمال  اَکارت کر دیے۔

۷۴               اور وہ بات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی معیّت میں جہاد کو جانے سے روکنا اور کافروں کی مدد کرنا ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ وہ بات توریت کے ان مضامین کا چھُپانا ہے جن میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی نعت شریف ہے۔

۷۵           ایمان و طاعت اور مسلمانوں کی مدد اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہونا۔

(۲۹) کیا جن کے  دلوں میں بیماری ہے  (ف ۷۶) اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان  کے  چھپے  بَیر  ظاہر نہ فرمائے  گا (ف ۷۷)

۷۶               نفاق کی۔

۷۷               یعنی ان کی وہ عداوتیں جو وہ مومنین کے ساتھ رکھتے ہیں۔

(۳۰) اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھا دیں کہ تم ان کی صورت سے  پہچان لو (ف ۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے  اسلوب میں پہچان لو گے  (ف ۷۹) اور اللہ تمہارے  عمل جانتا ہے  (ف ۸۰)

۷۸               حدیث : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے کوئی منافق مخفی نہ رہا۔ آپ سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے۔

۷۹               اور وہ اپنے ضمیر کا حال ان سے چھُپا نہ سکیں گے، چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضور اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے فحوائے کلام سے پہچان لیتے تھے۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ نے حضور کو بہت سے وجوہِ علم عطا فرمائے، ان میں سے صورت سے پہچاننا بھی ہے اور بات سے پہچاننا بھی۔

۸۰               یعنی اپنے بندوں کے تمام اعمال ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا۔

(۳۱) اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے  (ف ۸۱) یہاں تک کہ دیکھ لیں (ف ۸۲) تمہارے  جہاد کرنے  والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزما لیں (ف ۸۳)

۸۱               آزمائش میں ڈالیں گے۔

۸۲               یعنی ظاہر فرما ردیں۔

۸۳               تاکہ ظاہر ہو جائے کہ طاعت و اخلاص کے دعوے میں تم میں سے کون اچھا ہے۔

(۳۲) بیشک وہ جنہوں نے  کفر کیا اور اللہ کی راہ سے  (ف ۸۴) روکا  اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے  کہ  ہدایت ان پر ظاہر ہو چکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا  اَکارت کر دے  گا (ف ۸۵)

۸۴               اس کے بندوں کو۔

۸۵               اور وہ صدقہ وغیرہ کسی چیز کا ثواب نہ پائیں گے کیونکہ جو کام اللہ تعالیٰ کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا ؟ شانِ نزول : جنگِ بدر کے لئے جب قریش نکلے تو وہ سال قحط کا تھا، لشکر کا کھانا قریش کے دولت مندوں نے نوبت بنوبت اپنے ذمّہ لے لیا تھا، مکّہ مکرّمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا، جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے، پھر صفوان نے مقامِ عُسفان میں نو۹اونٹ، پھر سہل نے مقامِ قدید میں دس، یہاں سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گم ہو گیا، ایک دن ٹھہرے، وہاں شیبہ کی طرف سے کھانا ہوا، نو اونٹ ذبح ہوئے، پھر مقامِ ابواء میں پہنچے، وہاں مُقَیَّسْ جمحی نے نو اونٹ ذبح کئے۔ حضرت عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کی طرف سے بھی دعوت ہوئی، اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے، آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے، پھر حارث کی طرف سے نو، اور ابوالبختری کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ۔ ان کھانا دینے والوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

(۳۳) اے  ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور  رسول کا حکم مانو (ف ۸۶) اور اپنے  عمل باطل نہ کرو (ف ۸۷)

۸۶               یعنی ایمان و طاعت پر قائم رہو۔

۸۷               ریا یا نفاق سے۔ شانِ نزول : بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جیسے شرک کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں اسی طرح ایمان کی برکت سے کوئی گناہ ضرر نہیں کرتا۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ مومن کے لئے اطاعتِ خدا اور رسول ضروری ہے گناہوں سے بچنا لازم ہے۔ مسئلہ : اس آیت میں عمل کے باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفل ہی ہو نماز یا روزہ یا اور کوئی، لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے۔

(۳۴)  بیشک جنہوں نے  کفر کیا اور اللہ کی راہ سے  روکا پھر کافر ہی مر گئے  تو اللہ ہر گز انہیں نہ بخشے  گا (ف ۸۸)

۸۸               شانِ نزول : یہ آیت اہلِ قلیب کے حق میں نازل ہوئی۔ قلیب بدر میں ایک کنواں ہے جس میں مقتول کفّار ڈالے گئے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی، اور حکم آیت کا ہر کافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمائے گا، اس کے بعد اصحابِ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ٍاور حکم میں تمام مسلمان شامل ہیں۔

(۳۵) تو تم سستی نہ کرو (ف ۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف ۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے  ساتھ ہے  اور وہ ہرگز تمہارے  اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے  گا (ف ۹۱)

۸۹               یعنی دشمن کے مقابل میں کمزوری نہ دکھاؤ۔

۹۰               کفّار کو۔ قرطبی میں ہے کہ اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے، بعض نے کہا یہ آیت  وَاِنْ جَنَحُوْا کی ناسخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صلح کی طرف مائل ہونے کو منع فرمایا جب کہ صلح کی حاجت نہ ہو اور بعض علماء نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے اور آیت  وَاِنْ جَنَحُوْا اس کی ناسخ، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور دونوں آیتیں دو مختلف وقتوں اور مختلف حالتوں میں نازل ہوئیں، اور ایک قول یہ ہے کہ آیت  وَاِنْ جَنَحُوْا کا حکم ایک معیّن قوم کے ساتھ خاص ہے اور یہ آیت عام ہے کہ کفّار کے ساتھ معاہدہ جائز نہیں مگر عندالضرورت جب کہ مسلمان ضعیف ہوں اور مقابلہ نہ کر سکیں۔

۹۱               تمہیں اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا۔

(۳۶) دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے  (ف ۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری کرو تو وہ تم کو تمہارے  ثواب عطا فرمائے  گا اور کچھ تم سے  تمہارے  مال نہ مانگے  گا (ف ۹۳)

۹۲               نہایت جلد گزرنے والی اور اس میں مشغول ہونا کچھ بھی نافع نہیں۔

۹۳               ہاں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں اس کا ثواب ملے۔

(۳۷) اگر انہیں (ف ۹۴) تم سے  طلب کرے  اور زیادہ طلب کرے  تم بخل کرو گے  اور وہ بخل تمہارے  دلوں کے  میل ظاہر کر دے  گا۔

۹۴               یعنی اموال کو۔

(۳۸) ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے  جاتے  ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف ۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے  اور جو بخل کرے  (ف ۹۶) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے  اور اللہ بے  نیاز ہے  (ف ۹۷) اور تم سب محتاج (ف ۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف ۹۸) تو وہ تمہارے  سوا  اور لوگ بدل لے  گا پھر وہ تم جیسے   نہ ہوں گے  (ف ۱۰۰)

۹۵               جہاں خرچ کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے۔

۹۶               صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں۔

۹۷               تمہارے صدقات اور طاعات سے۔

۹۸               اس کے فضل و رحمت کے۔

۹۹               اس کی اور اس کے رسول کی طاعت سے۔

۱۰۰             بلکہ نہایت مطیع و فرمانبردار ہوں گے۔