خزائن العرفان

سُوۡرَةُ یُونس

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا  (ف ۱)۔

۱                 سورۂ یونس مکیّہ ہے سوائے تین آیتوں کے  فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ سے اس میں گیارہ رکوع اور ایک سو نو آیتیں اور ایک ہزار آٹھ سو بتیس کلمے اور نو ہزار ننانوے حرف ہیں۔

(۱) یہ حکمت وا لی کتاب  کی  آیتیں ہیں۔

(۲)  کیا لوگوں کو اس کا  اچنبھا  ہوا کہ  ہم نے  ان میں سے  ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ (ف ۲) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو  کہ ان کے  لیے  ان کے  رب کے  پاس سچ کا مقام  ہے،  کافر بولے  بیشک یہ تو کھلا جادوگر ہے  (ف ۳)۔

۲                 شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا جب اللّٰہ تبارَک و تعالیٰ نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو رسالت سے مشرّف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکِر ہو گئے اور ان میں سے بعضوں نے یہ کہا کہ اللّٰہ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے۔ اس پر یہ آیات نازِل ہوئیں۔

۳                 کُفّار نے پہلے تو بشر کا رسول ہونا قابلِ تعجُّب و انکار قرار دیا اور پھر جب حضور کے معجزات دیکھے اور یقین ہوا کہ یہ بشر کے مَقدِرَت سے بالا تر ہیں تو آپ کو ساحِر بتایا۔ ان کا یہ دعویٰ تو کذب و باطل ہے مگر اس میں بھی حضورکے کمال اور اپنے عجز کا اعتراف پایا جاتا ہے۔

(۳)  بیشک تمہارا رب اللہ ہے  جس نے  آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے  پھر عرش پر استوا فرمایا  جیسا اس کی شان کے  لائق ہے  کام کی تدبیر فرما تا ہے  (ف ۴) کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت  کے  بعد (ف ۵) یہ ہے  اللہ تمہارا  رب (ف ۶) تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے۔

۴                 یعنی تمام خَلق کے امور کا حسبِ اقتضائے حکمت سر انجام فرماتا ہے۔

۵                 اس میں بُت پرستوں کے اس قول کا رد ہے کہ بُت ان کی شفاعت کریں گے، انہیں بتایا گیا کہ شفاعت ماذونین کے سوا کوئی نہیں کرے گا اور ماذون صرف اس کے مقبول بندے ہوں گے۔

۶                 جو آسمان و زمین کا خالِق اور تمام امور کا مدبِّر ہے اس کے سوا کوئی معبُود نہیں فقط وہی مستحقِ عبادت ہے۔

(۴)  اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے  (ف ۷) اللہ کا  سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے  پھر فنا کے  بعد  دوبارہ بنائے  گا کہ ان کو جو ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  انصاف کا صلہ دے  (ف ۸) اور کافروں کے  لیے  پینے  کو کھولتا پانی اور  دردناک عذاب بدلہ ان کے  کفر کا۔

۷                 روزِ قیامت اور یہی ہے۔

۸                 اس آیت میں حشر و نشر و معاد کا بیان اور منکِرین کا رد ہے اور اس پر نہایت لطیف پیرایہ میں دلیل قائم فرمائی گئی ہے کہ وہ پہلی بار بناتا ہے اور اعضائے مرکَّبہ کو پیدا کرتا ہے اور ترکیب دیتا ہے تو موت کے ساتھ متفرِّق و منتشر ہونے کے بعد ان کو دوبارہ پھر ترکیب دینا اور بنے ہوئے انسان کو فنا کے بعد پھر دو بار بنا دینا اور وہی جان جو اس بدن سے متعلق تھی اس کو اس بدن کی درستی کے بعد پھر اسی بدن سے متعلق کر دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے اور اس دوبارہ پیدا کرنے کا مقصود جزائے اعمال یعنی مطیع کو ثواب اور عاصی کو عذاب دینا ہے۔

(۵)  وہی ہے  جس نے  سورج کو  جگمگاتا  بنا یا  اور  چاند چمکتا اور اس کے  لیے  منزلیں ٹھہرائیں (ف ۹) کہ تم برسوں کی گنتی اور (ف ۱۰) حساب جانو، اللہ نے  اسے  نہ بنایا  مگر حق (ف ۱۱) نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے  علم والوں کے  لیے  (ف ۱۲) (۶) بیشک رات  اور دن کا بدلتا  آنا اور جو کچھ اللہ نے  آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر  والوں کے  لیے، (۷) بیشک  وہ جو ہمارے  ملنے  کی امید نہیں رکھتے  (ف ۱۳) اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے  اور اس پر مطمئن ہو گئے  (ف ۱۴) اور وہ جو ہماری آیتوں سے  غفلت کرتے  ہیں (ف ۱۵)۔

۹                 اٹھائیس منزلیں جو بارہ برجوں پر منقسم ہیں، ہر برج کے لئے ۲/۱ . ۲ منزلیں ہیں، چاند ہر شب ایک منزل میں رہتا ہے اور مہینہ تیس دن کا ہو تو دو شب ورنہ ایک شب چھپتا ہے۔

۱۰               مہینوں، دنوں، ساعتوں کا۔

۱۱               کہ اس سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل ظاہر ہوں۔

۱۲               کہ ان میں غور کر کے نفع اٹھائیں۔

۱۳               روزِ قیامت اور ثواب و عذاب کے قائل نہیں۔

۱۴               اور اس فانی کو جاودانی پر ترجیح دی اور عمر اس کی طلب میں گزاری۔

۱۵               حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ یہاں آیات سے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ پاک اور قرآن شریف مراد ہے اور غفلت کرنے سے مراد ان سے اعراض کرنا ہے۔

(۸)  ان لوگوں کا  ٹھکانا  دوزخ ہے  بدلہ ان کی کمائی کا۔

(۹)  بیشک جو ایمان لائے   اور اچھے  کام کیے  ان کا رب ان کے  ایمان کے  سبب انھیں راہ  دے  گا (ف ۱۶) ان کے  نیچے  نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے  باغوں میں۔

۱۶               جنّتوں کی طرف۔ قتادہ کا قول ہے کہ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل خوب صورت شکل میں اس کے سامنے آئے گا، یہ شخص کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا میں تیرا عمل ہوں اور اس کے لئے نور ہو گا اور جنّت تک پہنچائے گا اور کافِر کا معاملہ برعکس ہو گا کہ اس کا عمل بُری شکل میں نمودار ہو کر اسے جہنّم میں پہنچائے گا۔

(۱۰) ان کی دعا اس میں یہ ہو گی کہ اللہ تجھے  پاکی ہے  (ف ۱۷) اور ان کے  ملتے  وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے  (ف ۱۸) اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے  کہ سب خوبیوں کو سراہا اللہ جو رب  ہے  سارے  جہان کا (ف ۱۹)۔

۱۷               یعنی اہلِ جنّت اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح، تحمید، تقدیس میں مشغول رہیں گے اور اس کے ذکر سے انہیں فرحت و سرور اور انتہا درجہ کی لذّت حاصل ہو گی سبحان اللّٰہ۔

۱۸               یعنی اہلِ جنّت آپس میں ایک دوسرے کی تحِیّت و تکریم سلام سے کریں گے یا ملائکہ انہیں بطورِ تحِیّت سلام عرض کریں گے یا ملائکہ ربّ عزوجل کی طرف سے ان کے پاس سلام لائیں گے۔

۱۹               ان کے کلام کی ابتداء اللّٰہ کی تعظیم و تنزیہ سے ہو گی اور کلام کا اختتام اس کی حمد و ثنا پر ہو گا۔

(۱۱)  اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے  ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہو چکا ہوتا (ف ۲۰) تو ہم چھوڑتے   انہیں جو ہم سے  ملنے  کی امید نہیں رکھتے  کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں (ف ۲۱)۔

۲۰               یعنی اگر اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کی بد دعائیں جیسے کہ وہ غضب کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل و اولاد و مال کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہو جائیں، خدا ہمیں غارت کرے، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد و اقارب کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے ہندی میں کوسنا کہتے ہیں، اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کر لی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہو گئے ہوتے لیکن اللّٰہ تبارَک و تعالیٰ اپنے کرم سے دعائے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے، دعائے بد کے قبول میں نہیں، یہ اس کی رحمت ہے۔ شانِ نُزول : نضر بن حارث نے کہا تھا یا ربّ یہ دینِ اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھّر برسا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ کافِروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ انکے لئے مال و اولاد وغیرہ، دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہو چکے ہوتے۔

۲۱               اور ہم انہیں مہلت دیتے ہیں اور ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے۔

(۱۲)  اور جب آدمی کو (ف ۲۲) تکلیف پہنچتی ہے  ہمیں پکارتا ہے  لیٹے  اور بیٹھے  اور کھڑے  (ف ۲۳) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے  ہیں چل دیتا ہے  (ف ۲۴) گویا کبھی کسی تکلیف کے  پہنچنے  پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے  کر دکھائے  ہیں حد سے  بڑھنے  والے  کو (ف ۲۵) ان کے  کام (ف ۲۶)۔

۲۲               یہاں آدمی سے کافِر مراد ہے۔

۲۳               ہر حال میں اور جب تک اس کی تکلیف زائل نہ ہو دعا میں مشغول رہتا ہے۔

۲۴               اپنے پہلے طریقہ پر اور وہی کُفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور تکلیف کے وقت کو بھول جاتا ہے۔

۲۵               یعنی کافِروں کو۔

۲۶               مقصد یہ ہے کہ انسان بلا کے وقت بہت ہی بے صبرا ہے اور راحت کے وقت نہایت ناشکرا، جب تکلیف پہنچتی ہے تو کھڑے، لیٹے، بیٹھے ہر حال میں دعا کرتا ہے جب اللّٰہ تکلیف دور کر دے تو شکر بجا نہیں لاتا اور اپنی حالتِ سابقہ کی طرف لوٹ جاتا ہے، یہ حال غافل کا ہے، مومن عاقل کا حال اس کے خلاف ہے وہ مصیبت و بلا پر صبر کرتا ہے، راحت و آسائش میں شکر کرتا ہے، تکلیف و راحت کے جملہ احوال میں اللّٰہ تعالیٰ کے حضور تضرُّع و زاری اور دعا کرتا ہے اور ایک مقام اس سے بھی اعلیٰ ہے جو مومنوں میں بھی مخصوص بندوں کو حاصل ہے کہ جب کوئی مصیبت و بلا آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں، قضائے الٰہی پر دل سے راضی رہتے ہیں اور جمیع احوال پر شکر کرتے ہیں۔

(۱۳)  اور بیشک ہم نے  تم سے  پہلی سنگتیں (قومیں ) (ف ۲۷) ہلاک فرما دیں جب  وہ حد سے  بڑھے  (ف ۲۸) اور ان کے  رسول ان کے  پاس روشن دلیلیں لے  کر آئے  (ف ۲۹) اور وہ ایسے   تھے  ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے  ہیں مجرموں کو۔

۲۷               یعنی اُمّتیں۔

۲۸               اور کُفر میں مبتلا ہوئے۔

۲۹               جو ان کے صدق کی بہت واضح دلیلیں تھیں لیکن انہوں نے نہ مانا اور انبیاء کی تصدیق نہ کی۔

(۱۴)  پھر ہم نے  ان کے  بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے  کام کرتے  ہو (ف ۳۰)۔

۳۰               تاکہ تمہارے ساتھ تمہارے عمل کے لائق معاملہ فرمائیں۔

(۱۵)  اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف ۳۱) پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے  لگتے  ہیں جنہیں ہم سے  ملنے  کی امید نہیں (ف ۳۲) کہ اس کے  سوا  اور قرآن لے   آیئے  (ف ۳۳) یا اسی کو بدل دیجیے  (ف ۳۴) تم فرماؤ مجھے  نہیں پہنچتا کہ میں اسے  اپنی طرف سے  بدل دوں میں تو اسی  کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے  (ف ۳۵) میں اگر اپنے  رب کی نافرمانی کروں (ف ۳۶) تو مجھے  بڑے  دن کے  عذاب کا ڈر ہے  (ف ۳۷)۔

۳۱               جنمیں ہماری توحید اور بُت پرستی کی برائی اور بُت پرستوں کی سزا کا بیان ہے۔

۳۲               اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔

۳۳               جس میں بُتوں کی برائی نہ ہو۔

۳۴               شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت نے نبیِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لائیے جس میں لاتُ و عُزّیٰ منات وغیرہ بُتوں کی برائی اور ان کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور اگر اللّٰہ ایسا قرآن نازِل نہ کرے تو آپ اپنی طرف سے بنا لیجئے یا اسی قرآن کو بدل کر ہماری مرضی کے مطابق کر دیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ ان کا یہ کلام یا تو بطریقِ تمسخُر و استہزاء تھا یا انہوں نے تجربہ و امتحان کے لئے ایسا کہا تھا کہ اگر یہ دوسرا قرآن بنا لائیں یا اس کو بدل دیں تو ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کلامِ ربّانی نہیں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا کہ اس کا یہ جواب دیں جو آیت میں مذکور ہوتا ہے۔

۳۵               میں اس میں کوئی تغییر و تبدیل، کمی بیشی نہیں کر سکتا یہ میرا کلام نہیں کلامِ الٰہی ہے۔

۳۶               یا اس کی کتاب کے احکام کو بدلوں۔

۳۷               اور دوسرا قرآن بنانا انسان کی مَقدِرت ہی سے باہر ہے اور خَلق کا اس سے عاجز ہونا خوب ظاہر ہو چکا۔

(۱۶)  تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے  تم پر نہ  پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے  خبردار کرتا (ف ۳۸) تو میں اس سے  پہلے  تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں (ف ۳۹) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف ۴۰)۔

۳۸               یعنی اس کی تلاوت مَحض اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے۔

۳۹               اور چالیس سال تم میں رہا ہوں، اس زمانہ میں میں تمہارے پاس کچھ نہیں لایا اور میں نے تمہیں کچھ نہیں سنایا، تم نے میرے احوال کا خوب مشاہدہ کیا ہے، میں نے کسی سے ایک حرف نہیں پڑھا، کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا، اس کے بعد یہ کتابِ عظیم لایا جس کے حضور ہر ایک کلامِ فصیح پست اور بے حقیقت ہو گیا۔ اس کتاب میں نفیس علوم ہیں، اصول و فروع کا بیان ہے، احکام و آداب میں مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے، غیبی خبریں ہیں، اس کی فصاحت و بلاغت نے ملک بھر کے فُصَحاء و بُلَغاء کو عاجز کر دیا ہے، ہر صاحبِ عقلِ سلیم کے لئے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی ہے کہ یہ بغیر وحیِ الٰہی کے ممکن ہی نہیں۔

۴۰               کہ اتنا سمجھ سکو کہ یہ قرآن اللّٰہ کی طرف سے ہے مخلوق کی قدرت میں نہیں کہ اس کی مثل بنا سکے۔

(۱۷)  تو اس سے  بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے  (ف ۴۱) یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بیشک مجرموں کا بھلا نہ ہو گا۔

۴۱               اس کے لئے شریک بتائے۔

(۱۸) اور اللہ کے  سوا ایسی چیز (ف ۴۲) کو پوجتے  ہیں جو  ان کا کچھ بھلا نہ کرے  اور کہتے  ہیں کہ یہ اللہ کے  یہاں ہمارے  سفارشی ہیں (ف ۴۳) تم  فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے   ہو  جو اس کے  علم میں نہ آسمانوں میں ہے  نہ  زمین میں (ف ۴۴) اسے  پاکی اور برتری ہے  ان کے  شرک سے۔

۴۲               بُت۔

۴۳               یعنی دنیوی امور میں کیونکہ آخرت اور مرنے کے بعد اٹھنے کا تو وہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔

۴۴               یعنی اس کا وجود ہی نہیں کیونکہ جو چیز موجود ہے وہ ضرور علمِ الہی میں ہے۔

(۱۹)  اور لوگ ایک ہی امت تھے  (ف ۴۵) پھر مختلف  ہوئے، اور اگر تیرے  رب کی طرف سے  ایک بات  پہلے  نہ ہو چکی ہوتی (ف ۴۶) تو یہیں ان کے  اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہو گیا ہوتا (ف ۴۷)۔

۴۵               ایک دینِ اسلام پر جیسا کہ زمانۂ حضرت آدم علیہ السلام میں قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کے وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور انکی ذرّیَّت ایک ہی دین پر تھے اس کے بعد ان میں اختلاف ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ زمانۂ نوح علیہ السلام تک ایک دین پر رہے پھر اختلاف ہوا تو حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کشتی سے اترنے کے وقت سب لوگ ایک دینِ اسلام پر تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ عہدِ حضرتِ ابراہیم سے سب لوگ ایک دین پر تھے یہاں تک کہ عمرو بن لحیٰ نے دین کو متغیّر کیا، اس تقدیر پر  اَلنَّاسُ  سے مراد خاص عرب ہوں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ ایک دین پر تھے یعنی کُفر پر پھر اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا تو بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعض عُلَماء نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ لوگ اوّل خِلقت میں فطرۃِ سلیمہ پر تھے پھر ان میں اختلافات ہوئے۔ حدیث شریف میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں اور حدیث میں فطرۃ سے فطرۃِ اسلام مراد ہے۔

۴۶               اور ہر اُمّت کے لئے ایک میعاد معیّن نہ کر دی گئی ہوتی یا جزائے اعمال قیامت تک مؤخر نہ فرمائی گئی ہوتی۔

۴۷               نُزولِ عذاب سے۔

(۲۰)  اور کہتے  ہیں ان پر ان کے  رب کی طرف سے  کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف ۴۸) تم فرماؤ  غیب تو اللہ کے  لیے  ہے  اب  راستہ دیکھو میں بھی تمہارے  ساتھ راہ دیکھ  رہا  ہوں۔

۴۸               اہلِ باطل کا طریقہ ہے کہ جب ان کے خلاف برہانِ قوی قائم ہوتی ہے اور وہ جواب سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اس برہان کا ذکر اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہ وہ پیش ہی نہیں ہوئی اور یہ کہا کرتے ہیں کہ دلیل لاؤ تاکہ سننے والے اس مغالطہ میں پڑ جائیں کہ ان کے مقابل اب تک کوئی دلیل ہی نہیں قائم کی گئی ہے۔ اس طرح کُفّار نے حضور کے معجزات اور بالخصوص قرآنِ کریم جو معجزۂ عظیمہ ہے اس کی طرف سے آنکھیں بند کر کے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری گویا کہ معجزات انہوں نے دیکھے ہی نہیں اور قرآنِ پاک کو وہ نشانی شمار ہی نہیں کرتے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے فرمایا کہ آپ فرما دیجئے کہ غیب تو اللّٰہ کے لئے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں۔ تقریرِ جواب یہ ہے کہ دلالتِ قاہرہ اس پر قائم ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر قرآنِ پاک کا ظاہر ہونا بہت ہی عظیم الشان معجِزہ ہے کیونکہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم ان میں پیدا ہوئے، ان کے درمیان حضور بڑھے، تمام زمانے حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے، وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ نے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا نہ کسی استاد کی شاگردی کی، یکبارگی قرآنِ کریم آپ پر ظاہر ہوا اور ایسی بے مثال اعلیٰ ترین کتاب کا ایسی شان کے ساتھ نُزول بغیر وحی کے ممکن ہی نہیں۔ یہ قرآنِ کریم کے معجزۂ قاہرہ ہونے کی برہان ہے اور جب ایسی قوی برہان قائم ہے تو اثباتِ نبوّت کے لئے کسی دوسری نشانی کا طلب کرنا قطعاً غیر ضروری ہے، ایسی حالت میں اس نشانی کا نازِل کرنا نہ کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی مشیّت پر ہے چاہے کرے چاہے نہ کرے تو یہ امرِ غیب ہوا اور اس کے لئے انتظار لازم آیا کہ اللّٰہ کیا کرتا ہے لیکن وہ یہ غیر ضروری نشانی جو کُفّار نے طلب کی ہے نازِل فرمائے یا نہ فرمائے نبوّت ثابت ہو چکی اور رسالت کا ثبوت قاہر معجزات سے کمال کو پہنچ چکا۔

(۲۱) اور جب کہ ہمارے  آدمیوں کو رحمت کا  مزہ  دیتے  ہیں کسی تکلیف کے  بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے  ساتھ داؤں چلتے  ہیں (ف ۴۹) تم فرما دو  اللہ کی خفیہ  تدبیر سب سے  جلد ہو جاتی ہے  (ف ۵۰) بیشک ہمارے  فرشتے  تمہارے  مکر  لکھ رہے  ہیں (ف ۵۱)۔

۴۹               اہلِ مکّہ پر اللّٰہ تعالیٰ نے قَحط مسلّط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ قریب ہلاکت کے پہنچے پھر اس نے رحم فرمایا، بارش ہوئی، زمینیں سرسبز ہوئیں تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اس پر شکر لازم تھا مگر بجائے اس کے وہ پند پذیر نہ ہوئے اور فساد و کُفر کی طرف پلٹے۔

۵۰               اور اس کا عذاب دیر نہیں کرتا۔

(۲۲) وہی ہے  کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے  (ف ۵۲) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ (ف ۵۳) اچھی ہوا سے  انھیں لے  کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے  (ف ۵۴)  ان پر آندھی کا جھونکا آیا  اور ہر طرف لہروں نے  انہیں آ لیا اور سمجھ لے  کہ ہم گھِر گئے  اس وقت اللہ کو پکارتے  ہیں نرے  اس کے  بندے  ہو کر،  کہ اگر تو اس سے  ہمیں بچا لے  گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے  (ف ۵۵)۔

۵۱               اور تمہاری خفیہ تدبیریں کاتبِ اعمال فرشتوں پر بھی مخفی نہیں ہیں تو اللّٰہ علیم و خبیر سے کیسے چھپ سکتی ہیں۔

۵۲               اور تمہیں قطعِ مسافت کی قدرت دیتا ہے خشکی میں تم پیادہ اور سوار منزلیں طے کرتے ہو اور دریاؤں میں کشتیوں اور جہازوں سے سفر کرتے ہو وہ تمہیں خشکی اور تری دونوں میں اسبابِ سیر عطا فرماتا ہے۔

۵۳               یعنی کشتیاں۔

۵۴               کہ ہوا موافق ہے اچانک۔

۵۵               تیری نعمتوں کے تجھ پر ایمان لا کر اور خاص تیری عبادت کر کے۔

(۲۳)  پھر اللہ جب انہیں بچا  لیتا ہے  جبھی وہ  زمین میں ناحق  زیادتی کرنے  لگتے  ہیں (ف ۵۶) اے  لوگو! تمہاری زیادتی تمہارے  ہی جانوں کا وبال ہے  دنیا کے  جیتے  جی برت لو (فائدہ  اٹھا لو)، پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے  اس وقت ہم تمہیں جتا دیں گے  جو تمہارے  کوتک تھے  (ف ۵۷)۔

۵۶               اور وعدہ کے خلاف کر کے کُفر و معصیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

۵۷               اور ان کی تمہیں جزا دیں گے۔

(۲۴)  دنیا کی زندگی کی کہا وت تو ایسی ہی ہے  جیسے  وہ پانی کہ ہم نے   آسمان سے  اتارا  تو اس کے  سبب زمین سے  اگنے  وا لی چیزیں  سب گھنی ہو کر نکلیں جو  کچھ آدمی اور  چوپائے  کھاتے  ہیں (ف ۵۸) یہاں تک کہ جب زمین میں اپنا سنگھار لے  لیا (ف ۵۹) اور خوب آراستہ ہو گئی اور اس کے  مالک سمجھے   کہ یہ ہمارے  بس میں آ گئی (ف ۶۰) ہمارا حکم اس پر آیا  رات میں  یا  دن میں (ف ۶۱)  تو ہم نے  اسے  کر دیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں (ف ۶۲) ہم یونہی آیتیں مفصل بیان کرتے  ہیں غور کرنے  والوں کے  لیے  (ف ۶۳)۔

۵۸               غلے اور پھل اور سبزہ۔

۵۹               خوب پھولی پھلی سرسبز و شاداب ہوئی۔

۶۰               کہ کھتیاں تیار ہو گئیں پھل رسیدہ ہو گئے ایسے وقت۔

۶۱               یعنی اچانک ہمارا عذاب آیا خواہ بجلی گرنے کی شکل میں یا اولے برسنے یا آندھی چلنے کی صورت میں۔

۶۲               یہ ان لوگوں کے حال کی ایک تمثیل ہے جو دنیا کے شیفتہ ہیں اور آخرت کی انہیں کچھ پرواہ نہیں اس میں بہت دلپذیر طریقہ پر خاطر گزیں کیا گیا ہے کہ دنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس غایت پر پہنچتا ہے جہاں اس کو حصول مراد کا اطمینان ہو اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو، اچانک اس کو موت پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الٰہی آتا ہے اور اس کا تمام سر و سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں غارت ہو جاتا ہے۔

۶۳               تاکہ وہ نفع حاصل کریں اور ظلماتِ شکوک و اوہام سے نجات پائیں اور دنیائے ناپائیدار کی بے ثباتی سے باخبر ہوں۔

(۲۵)  اور اللہ سلامتی کے  گھر کی طرف پکارتا ہے  (ف ۶۴) اور جسے  چاہے  سیدھی راہ چلاتا ہے  (ف ۶۵)۔

۶۴               دنیا کی بے ثباتی بیان فرمانے کے بعد دارِ باقی کی طرف دعوت دی۔ قتادہ نے کہا کہ دار السلام جنّت ہے یہ اللّٰہ کا کمال رحمت و کرم ہے کہ اپنے بندوں کو جنّت کی دعوت دی۔

۶۵               سیدھی راہ دینِ اسلام ہے۔ بخاری کی حدیث میں ہے نبیِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں فرشتے حاضر ہوئے آپ خواب میں تھے، ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ خواب میں ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھیں خواب میں ہیں دل بیدار ہے، بعض کہنے لگے کہ ان کی کوئی مثال بیان کرو تو انہوں نے کہا جس طرح کسی شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں مہیا کیں اور ایک بلانے والے کو بھیجا کہ لوگوں کو بلائے جس نے اس بلانے والے کی اطاعت کی، اس مکان میں داخل ہوا اور ان نعمتوں کو کھایا پیا اور جس نے بلانے والے کی اطاعت نہ کی وہ نہ مکان میں داخل ہو سکا نہ کچھ کھا سکا پھر وہ کہنے لگے کہ اس مثال کی تطبیق کرو کہ سمجھ میں آئے، تطبیق یہ ہے کہ مکان جنّت ہے، داعی محمّد ہیں (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم) جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللّٰہ کی اطاعت کی جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللّٰہ کی نافرمانی کی۔

(۲۶)  بھلائی والوں کے  لیے  بھلائی ہے  اور اس سے  بھی زائد (ف ۶۶) اور ان کے  منہ پر نہ چڑھے  گی سیاہی اور نہ خواری (ف ۶۷)  وہی جنت والے  ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۶۶               بھلائی والوں سے اللّٰہ کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے اس بھلائی سے جنّت مراد ہے اور زیادت اس پر دیدارِ الٰہی ہے۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنّتیوں کے جنّت میں داخل ہونے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں، وہ عرض کریں گے یاربّ کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے، کیا تو نے ہمیں جنّت میں داخل نہیں فرمایا، کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی، حضور نے فرمایا پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدارِ الٰہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہو گا۔ صحاح کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ زیادت سے آیت میں دیدارِ الٰہی مراد ہے۔

۶۷               کہ یہ بات جہنّم والوں کے لئے ہے۔

(۲۷)  اور جنہوں نے  برائیاں کمائیں (ف ۶۸) تو برائی کا بدلہ اسی جیسا (ف ۶۹) اور ان پر ذلت چڑھے  گی،  انہیں اللہ سے  بچانے  والا کوئی نہ ہو گا، گویا ان کے  چہروں پر اندھیری رات کے  ٹکڑے  چڑھا دیئے  ہیں (ف ۷۰) وہی دوزخ والے  ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۶۸               یعنی کُفر و معاصی میں مبتلا ہوئے۔

۶۹               ایسا نہیں کہ جیسے نیکیوں کا ثواب دس گنا اور سات سو گناہ کیا جاتا ہے، ایسے ہی بدیوں کا عذاب بھی بڑھا دیا جائے بلکہ جتنی بدی ہو گی اتنا ہی عذاب کیا جائے گا۔

۷۰               یہ حال ہو گا ان کی روسیاہی کا خدا کی پناہ۔

(۲۸)  اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے  (ف ۷۱) پھر مشرکوں سے  فرمائیں گے  اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے  شریک (ف ۷۲) تو ہم انہیں مسلمانوں سے  جدا کر دیں گے  اور ان کے  شریک ان سے  کہیں گے  تم ہمیں کب پوجتے  تھے  (ف ۷۳)۔

۷۱               اور تمام خَلق کو موقَفِ حساب میں جمع کریں گے۔

۷۲               یعنی وہ بُت جن کو تم پوجتے تھے۔

۷۳               روزِ قیامت ایک ساعت ایسی شدّت کی ہو گی کہ بُت اپنے پجاریوں کے پوجا کا انکار کر دیں گے اور اللّٰہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے، نہ دیکھتے تھے، نہ جانتے تھے، نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو، اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللّٰہ کی قسم ہم تمہیں کو پوجتے تھے تو بُت کہیں گے۔

(۲۹)  تو اللہ گواہ کافی ہے  ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے  پوجنے  کی خبر بھی نہ تھی۔

(۳۰)  یہاں ہر جان جا نچ لے  گی جو آگے  بھیجا (ف ۷۴) اور اللہ کی طرف پھیرے  جائیں گے  جو ان کا سچا مولیٰ ہے  اور ان کی ساری بناوٹیں  (ف ۷۵) ان سے  گم ہو جائیں گی (ف ۷۶)۔

۷۴               یعنی اس موقَف میں سب کو معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے، مضر یا مفید۔

۷۵               بُتوں کو خدا کا شریک بتانا اور معبود ٹھہرانا۔

۷۶               اور باطل و بے حقیقت ثابت ہوں گی۔

(۳۱)  تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے  آسمان اور زمین سے  (ف ۷۷) یا کون مالک ہے  کان اور آنکھوں کا (ف ۷۸) اور کون نکالتا ہے  زندہ کو مردے  سے   اور نکالتا ہے  مردہ کو زندہ سے  (ف ۷۹) اور کون  تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے  تو اب کہیں گے  کہ اللہ (ف ۸۰) تو تم فرماؤ  تو کیوں نہیں ڈرتے  (ف ۸۱)۔

۷۷               آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین سے سبزہ اگا کر۔

۷۸               اور یہ حواس تمہیں کس نے دیئے ہیں، کس نے یہ عجائب تمہیں عنایت کئے ہیں، کون انہیں مدّتوں محفوظ رکھتا ہے۔

۷۹               انسان کو نطفہ سے اور نطفہ کو انسان سے، پرند کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے، مؤمن کو کافِر سے اور کافِر کو مومن سے، عالِم کو جاہل سے اور جاہل کو عالِم سے۔

۸۰               اور اس کی قدرتِ کاملہ کا اعتراف کریں گے اور اس کے سوا کچھ چارہ نہ ہو گا۔

۸۱               اس کے عذاب سے اور کیوں بُتوں کو پوجتے اور ان کو معبود بناتے ہو باوجود یکہ وہ کچھ قدرت نہیں رکھتے۔

(۳۲)  تو یہ اللہ ہے  تمہارا سچا  رب (ف ۸۲) پھر حق کے  بعد کیا ہے  مگر گمراہی (ف ۸۳) پھر کہاں پھرے  جاتے  ہو۔

۸۲               جس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے۔

۸۳               یعنی جب ایسے براہینِ واضحہ اور دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہو گیا کہ مستحقِ عبادت صرف اللّٰہ ہے تو ماسوا اس کے سب باطل و ضلال ہے اور جب تم نے اس کی قدرت کو پہچان لیا اور اس کی کارسازی کا اعتراف کر لیا تو۔

(۳۳)  یونہی ثابت ہو چکی ہے  تیرے  رب کی بات فاسقوں پر (ف ۸۴) تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

۸۴               جو کُفر میں راسخ ہو گئے اور ربّ کی بات سے مراد یا قضائے الٰہی ہے یا اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد  لَامْلَئَنَّ جَھَنَّمَ الآیہ۔

(۳۴)  تم فرماؤ تمہارے  شریکوں میں (ف ۸۵) کوئی  ایسا ہے  کہ اول بنائے  پھر فنا کے  بعد  دوبارہ بنائے  (ف ۸۶) تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے  پھر فنا کے  بعد دوبارہ بنائے  گا تو کہاں اوندھے  جاتے  ہو (ف ۸۷)۔

۸۵               جنہیں اے مشرکین تم معبود ٹھہراتے ہو۔

۸۶               اس کا جواب ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں کیونکہ مشرکین بھی یہ جانتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اللّٰہ ہی ہے۔ لہٰذا اے مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیک و سلم۔

۸۷               اور ایسی روشن دلیلیں قائم ہونے کے بعد راہِ راست سے منحرِف ہوتے ہو۔

(۳۵)  تم فرماؤ تمہارے  شریکوں میں کوئی ایسا ہے  کہ حق کی راہ دکھائے  (ف ۸۸) تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے، تو کیا جو حق کی راہ دکھائے  اس کے   حکم پر چلنا چاہیے  یا  اس کے  جو خود ہی راہ نہ پائے  جب تک راہ نہ دکھایا جائے  (ف ۸۹) تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے  ہو۔

۸۸               حُجّتیں اور دلائل قائم کر کے، رسول بھیج کر، کتابیں نازِل فرما کر، مکلَّفین کو عقل و نظر عطا فرما کر۔ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ کوئی نہیں تو اے حبیب (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم )۔

۸۹               جیسے کہ تمہارے بُت ہیں کہ کسی جگہ جا نہیں سکتے جب تک کہ کوئی اٹھا لے جانے والا انہیں اٹھا کر لے نہ جائے اور نہ کسی چیز کی حقیقت کو سمجھیں اور راہِ حق کو پہچانیں بغیر اس کے کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں زندگی، عقل اور ادراک دے تو جب ان کی مجبوری کا یہ عالم ہے تو وہ دوسروں کو کیا راہ بتا سکیں، ایسوں کو معبود بنانا، ان کا مطیع بننا کتنا باطل اور بے ہودہ ہے۔

(۳۶)  اور ان (ف ۹۰) میں اکثر تو نہیں چلتے  مگر گمان پر (ف ۹۱) بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا، بیشک اللہ ان کاموں کو جانتا ہے۔

۹۰               مشرکین۔

۹۱               جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، نہ اس کی صحت کا جزم و یقین۔ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بُت پرستی کرتے تھے انہوں نے کچھ تو سمجھا ہو گا۔

(۳۷)  اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے  بنا لے  بے  اللہ کے  اتارے  (ف ۹۲) ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے  (ف ۹۳) اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے  سب کی تفصیل ہے  اس میں کچھ شک نہیں ہے  پروردگار عالم کی طرف سے  ہے۔

۹۲               کُفّارِ مکّہ نے یہ وہم کیا تھا کہ قرآنِ کریم سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں ان کا یہ وہم دفع فرمایا گیا کہ قرآنِ کریم ایسی کتاب ہی نہیں جس کی نسبت تردُّد ہو سکے، اس کی مثال بنانے سے ساری مخلوق عاجز ہے تو یقیناً وہ اللّٰہ کی نازِل فرمائی ہوئی کتاب ہے۔

۹۳               توریت و انجیل وغیرہ کی۔

(۳۸)  کیا یہ کہتے  ہیں (ف ۹۴)  کہ انہوں نے  اسے  بنا لیا ہے  تم فرماؤ (ف ۹۵) تو اس جیسی کوئی  ایک سورۃ لے  آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بلا لاؤ  (ف ۹۶) اگر تم سچے  ہو۔

۹۴               کُفّار سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نسبت۔

۹۵               کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے تو تم بھی عرب ہو، فصاحت و بلاغت کے دعویٰ دار ہو، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے کلام کے مقابل کلام بنانے کو تم ناممکن سمجھتے ہو اگر تمہارے گمان میں یہ انسانی کلام ہے۔

۹۶               اور ان سے مددیں لو اور سب مل کر قرآن جیسی ایک سورۃ تو بناؤ۔

(۳۹)  بلکہ اسے  جھٹلایا جس کے  علم پر قابو نہ پایا  (ف ۹۷) اور ابھی انہوں نے  اس کا انجام نہیں دیکھا  (ف ۹۸) ایسے  ہی ان سے  اگلوں نے  جھٹلایا تھا  (ف ۹۹) تو دیکھو ظالموں کیسا انجام ہوا  (ف ۱۰۰)

۹۷               یعنی قرآنِ پاک کو سمجھنے اور جاننے کے بغیر انہوں نے اس کی تکذیب کی اور یہ کمال جَہل ہے کہ کسی شئے کو جانے بغیر اس کا انکار کیا جائے، قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم و خِرَد احاطہ نہ کر سکیں اس کتاب کی عظمت و جلالت ظاہر کرتا ہے تو ایسی اعلیٰ علوم والی کتاب کو ماننا چاہیئے تھا نہ کہ اس کا انکار کرنا۔

۹یعنی اس عذاب کو جس کی قرآن پاک میں وعیدیں ہیں۔

۹۹               عناد سے اپنے رسولوں کو بغیر اس کے کہ ان کے معجزات اور آیات دیکھ کر نظر و تدبُّر سے کام لیتے۔

۱۰۰             اور پہلی اُمّتیں اپنے انبیاء کو جھٹلا کر کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا ہوئیں تو اے سیدِ انبیاء (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم) آپ کی تکذیب کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے۔

(۴۰) اور ان  (ف ۱۰۱) میں کوئی اس (ف ۱۰۲) پر ایمان لاتا ہے  اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا ہے، اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے  (ف ۱۰۳)

۱۰۱             اہلِ مکّہ۔

۱۰۲             نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم یا قرآن کریم۔

۱۰۳             جو عناد سے ایمان نہیں لاتے اور کُفر پر مُصِر رہتے ہیں۔

(۴۱)  اور اگر  وہ تمہیں جھٹلائیں (ف ۱۰۴) تو فرما دو کہ میرے  لیے  میری کرنی اور تمہارے  لیے  تمہاری کرنی (اعمال) (ف ۱۰۵) تمہیں میرے  کام سے  علاقہ نہیں اور مجھے  تمہارے  کام سے  لاتعلق نہیں (ف ۱۰۶)

۱۰۴             اے مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی راہ پر آنے اور حق و ہدایت قبول کرنے کی امید منقطع ہو جائے۔

۱۰۵             ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا۔

۱۰۶             کسی کے عمل پر دوسرا ماخوذ نہ ہو گا جو پکڑا جائے گا خود اپنے عمل پر پکڑا جائے گا۔ یہ فرمانا بطور زَجر کے ہے کہ تم نصیحت نہیں مانتے اور ہدایت قبول نہیں کرتے تو اس کا وبال خود تم پر ہو گا کسی دوسرے کا اس سے ضرر نہیں۔

(۴۲) اور ان میں کوئی وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے  ہیں (ف ۱۰۷) تو کیا تم بہروں کو سنا دو گے  اگرچہ انہیں عقل نہ ہو (ف ۱۰۸)

۱۰۷             اور آپ سے قرآنِ پاک اور احکامِ دین سنتے ہیں اور بُغض و عداوت کی وجہ سے دل میں جگہ نہیں دیتے اور قبول نہیں کرتے تو یہ سننا بے کار ہے اور وہ ہدایت سے نفع نہ پانے میں بہروں کی مثل ہیں۔

۱۰اور وہ نہ حواس سے کام لیں نہ عقل سے۔

(۴۳)  اور ان میں کوئی تمہاری طرف تکتا ہے  (ف ۱۰۹) کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے  اگرچہ وہ نہ سوجھیں۔

۱۰۹             اور دلائلِ صدق اور اعلامِ نبوّت کو دیکھتا ہے لیکن تصدیق نہیں کرتا اور اس دیکھنے سے نتیجہ نہیں نکا لتا، فائدہ نہیں اٹھاتا، دل کی بینائی سے محروم اور باطن کا اندھا ہے۔

(۴۴)  بیشک اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا (ف ۱۱۰)  ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے  ہیں (ف ۱۱۱)

۱۱۰             بلکہ انہیں ہدایت اور راہ پانے کے تمام سامان عطا فرماتا ہے اور روشن دلائل قائم فرماتا ہے۔

۱۱۱             کہ ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور حق واضح ہو جانے کے باوجود خود گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

(۴۵)  اور جس دن انہیں اٹھائے  گا (ف ۱۱۲) گویا دنیا میں نہ رہے  تھے  مگر اس دن کی ایک گھڑی (ف ۱۱۳)  آپس میں پہچان کریں گے  (ف ۱۱۴) کہ پورے  گھاٹے  میں رہے  وہ جنہوں نے  اللہ سے  ملنے  کو جھٹلایا  اور ہدایت پر نہ تھے  (ف ۱۱۵)

۱۱۲             قبروں سے موقَفِ حساب میں حاضر کرنے کے لئے تو اس روز کی ہیبت و وحشت سے یہ حال ہو گا کہ وہ دنیا میں رہنے کی مدّت کو بہت تھوڑا سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ۔

۱۱۳             اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ کُفّار نے طلبِ دنیا میں عمر یں ضائع کر دیں اور اللّٰہ کی اطاعت جو آج کار آمد ہوتی بجا نہ لائے تو انکی زندگانی کا وقت ان کے کام نہ آیا اس لئے وہ اسے بہت ہی کم سمجھیں گے۔

۱۱۴             قبروں سے نکلتے وقت تو ایک دوسرے کو پہچانیں گے جیسا دنیا میں پہچانتے تھے پھر روزِ قیامت کے اہوال اور دہشت ناک مناظر دیکھ کر یہ معرفت باقی نہ رہے گی اور ایک قول یہ ہے کہ روزِ قیامت دم بدم حال بدلیں گے کبھی ایسا حال ہو گا کہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے، کبھی ایسا کہ نہ پہچانیں گے اور جب پہچانیں گے تو کہیں گے۔

۱۱۵             جو انہیں گھاٹے سے بچاتی۔

(۴۶)  اور اگر ہم تمہیں دکھا دیں کچھ (ف ۱۱۶) اس میں سے  جو انہیں وعدہ دے  رہے  ہیں (۱۱۷) یا تمہیں پہلے  ہی اپنے  پاس بلا لیں (ف ۱۱۸) بہرحال انہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے  پھر اللہ گواہ ہے  (ف ۱۱۹) ان کے  کاموں پر۔

۱۱۶             عذاب۔

۱۱۷             دنیا ہی میں آپ کے زمانۂ حیات میں تو وہ ملاحظہ کیجئے۔

۱۱تو آخرت میں آپ کو ان کا عذاب دکھائیں گے۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو کافِروں کے بہت سے عذاب اور ان کی ذلّت و رسوائیاں آپ کی حیاتِ دنیا ہی میں آپ کو دکھائے گا چنانچہ بدر وغیرہ میں دکھائی گئیں اور جو عذاب کافِروں کے لئے بسببِ کُفر و تکذیب کے آخرت میں مقرر فرمایا ہے وہ آخرت میں دکھائے گا۔

۱۱۹             مطّلع ہے، عذاب دینے والا ہے۔

 (۴۷)  اور ہر امت میں ایک  رسول ہوا  (ف ۱۲۰) جب ان کا رسول ان کے  پاس آتا (ف ۱۲۱) ان پر انصاف کا فیصلہ کر دیا جاتا (ف ۱۲۲) اور ان پر ظلم نہیں ہوتا۔

۱۲۰             جو انہیں دینِ حق کی دعوت دیتا اور طاعت و ایمان کا حکم کرتا۔

۱۲۱             اور احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتا تو کچھ لوگ ایمان لاتے اور کچھ تکذیب کرتے اور منکِر ہو جاتے تو۔

۱۲۲             کہ رسول کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات دی جاتی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب سے ہلاک کر دیا جاتا۔ آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں آخرت کا بیان ہے اور معنی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر اُمّت کے لئے ایک رسول ہو گا جس کی طرف وہ منسوب ہو گی جب وہ رسول موقَف میں آئے گا اور مومن و کافِر پر شہادت دے گا تب ان میں فیصلہ کیا جائے گا کہ مومنوں کو نَجات ہو گی اور کافِر گرفتارِ عذاب ہوں گے۔

(۴۸)  اور کہتے  ہیں یہ وعدہ کب آئے  گا اگر تم سچے  ہو (ف ۱۲۳)

۱۲۳             شانِ نُزول : جب آیت  اِمَّانُرِیَنَّکَ  میں عذاب کی وعید دی گئی تو کافِروں نے براہِ سرکشی یہ کہا کہ اے محمّد (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم)جس عذاب کا آپ وعدہ دیتے ہیں وہ کب آئے گا، اس میں کیا تاخیر ہے، اس عذاب کو جلد لائیے۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی۔

(۴۹)  تم فرماؤ میں اپنی جان کے  برے  بھلے  کا (ذاتی) اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے  (ف ۱۲۴) ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے  (ف ۱۲۵) جب ان کا وعدہ آئے   گا تو ایک گھڑی نہ پیچھے  ہٹیں نہ آگے  بڑھیں۔

۱۲۴             یعنی دشمنوں پر عذاب نازِل کرنا اور دوستوں کی مدد کرنا اور انہیں غلبہ دینا یہ سب بہ مشیتِ الٰہی ہے اور مشیتِ الٰہی میں۔

۱۲۵             اس کے ہلاک و عذاب کا ایک وقت معیّن ہے، لوحِ محفوظ میں مکتوب ہے۔

(۵۰)  تم فرماؤ بھلا  بتاؤ تو اگر اس کا عذاب (ف ۱۲۶) تم پر رات کو آئے  (۱۲۷)  یا دن کو (ف ۱۲۸)  تو اس میں وہ کونسی چیز ہے  کہ مجرموں کو جس کی جلدی ہے۔

۱۲۶             جس کی تم جلدی کرتے ہو۔

۱۲۷             جب تم غافل پڑے سوتے ہو۔

۱۲۸             جب تم معاش کے کاموں میں مشغول ہو۔

(۵۱) تو کیا جب (ف ۱۲۹) ہو پڑے   گا اس وقت  اس کا یقین کرو گے  (ف ۱۳۰) کیا اب مانتے  ہو  پہلے   تو (ف ۱۳۱) اس کی جلدی مچا رہے  تھے۔

۱۲۹             وہ عذاب تم پر نازِل۔

۱۳۰             اس وقت کا یقین کچھ فائدہ نہ دے گا اور کہا جائے گا۔

۱۳۱             بطریقِ تکذیب و استہزاء۔

(۵۲)  پھر ظالموں سے  کہا جائے  گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تمہیں کچھ اور بدلہ نہ ملے  گا مگر وہی جو کماتے  تھے  (ف ۱۳۲)

۱۳۲             یعنی دنیا میں جو عمل کرتے تھے اور کُفر و تکذیبِ انبیاء میں مصروف رہتے تھے اسی کا بدلہ۔

(۵۳)  اور  تم سے  پوچھتے  ہیں کیا وہ (ف ۱۳۳) حق ہے، تم فرماؤ، ہاں ! میرے  رب کی قسم بیشک وہ  ضرور حق ہے، اور تم کچھ تھکا  نہ سکو گے  (ف ۱۳۴)

۱۳۳             بعث اور عذاب جس کے نازِل ہونے کی آپ نے ہمیں خبر دی۔

۱۳۴             یعنی وہ عذاب تمہیں ضرور پہنچے گا۔

(۵۴)  اور اگر ہر ظالم جان، زمین میں جو کچھ ہے   (ف ۱۳۵) سب کی  مالک ہوتی، ضرور اپنی جان چھڑانے  میں دیتی (ف ۱۳۶) اور دل میں چپکے  چپکے  پشیمان ہوئے  جب عذاب دیکھا اور ان میں انصاف سے  فیصلہ کر دیا گیا اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

۱۳۵             مال و متاع خزانہ و دفینہ۔

۱۳۶             اور روزِ قیامت اس کو اپنی رہائی کے لئے فدیہ کر ڈالتی مگر یہ فدیہ قبول نہیں اور تمام دنیا کی دولت خرچ کر کے بھی اب رہائی ممکن نہیں جب قیامت میں یہ منظر پیش آیا اور کُفّار کی امیدیں ٹوٹیں۔

(۵۵)  سن لو بیشک اللہ ہی کا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور زمین میں (ف ۱۳۷) سن لو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے  مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں۔

۱۳۷             تو کافِر کسی چیز کا مالک ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی اللّٰہ کا مملوک ہے، اس کا فدیہ دینا ممکن ہی نہیں۔

(۵۶)  وہ جِلاتا  اور مارتا ہے   اور اسی کی طرف پھرو گے۔

(۵۷) اے  لوگو! تمہارے  پاس تمہارے  رب کی طرف سے  نصیحت آئی (ف ۱۳۸) اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے  لیے۔

۱۳۸             اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے موعظت و شفا و ہدایت و رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب ان فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے۔ موعظت کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو مرغوب کی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے۔ خلیل نے کہا کہ موعظت نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔ شفاء سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی امراض کو دور کرتا ہے۔ دل کے امراض اخلاقِ ذمیمہ، عقائدِ فاسدہ اور جہالتِ  مُہلِکہ ہیں، قرآنِ پاک ان تمام امراض کو دور کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کی صفت میں ہدایت بھی فرمایا کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

(۵۸)  تم فرماؤ اللہ ہی کے  فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے  کہ خوشی کریں (ف ۱۳۹)  وہ ان کے  سب دھن دولت سے  بہتر ہے۔

۱۳۹             فرح : کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذّت حاصل ہوتی ہے اس کو فرح کہتے ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ ایمان والوں کو اللّٰہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہیئے کہ اس نے انھیں مواعظ اور شفائے صدور اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمائے۔ حضرت ابنِ عباس و حسن و قتادہ نے کہا کہ اللّٰہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ فضلُ اللّٰہ سے قرآن اور رحمت سے احادیث مراد ہیں۔

(۵۹)  تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے  تمہارے  لیے  رزق اتارا  اس میں تم نے  اپنی طرف سے  حرام و حلال ٹھہرا لیا (ف ۱۴۰) تم فرماؤ کیا اللہ نے  اس کی تمہیں اجازت دی  یا اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہو (ف ۱۴۱)

۱۴۰             جیسے کہ اہلِ جاہلیت نے بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو اپنی طرف سے حرام قرار دے لیا تھا۔

۱۴۱             مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے حلال یا حرام کرنا ممنوع اور خدا پر افتراء ہے (اللّٰہ کی پناہ) آج کل بہت لوگ اس میں مبتلاء ہیں، ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام۔ بعض سود کو حلال کرنے پر مُصِر ہیں، بعض تصویروں کو، بعض کھیل تماشوں کو، بعض عورتوں کی بے قیدیوں اور بے پردگیوں کو، بعض بھوک ہڑتال کو جو خودکشی ہے مباح سمجھتے ہیں اور حلال ٹھہراتے ہیں اور بعض لوگ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر مُصِر ہیں جیسے محفلِ میلاد کو، فاتحہ کو، گیارہویں کو اور دیگر طریقہ ہائے ایصالِ ثواب کو، بعض میلادِ شریف و فاتحہ و توشہ کی شیرینی و تبرک کو جو سب حلال و طیب چیزیں ہیں ناجائز و ممنوع بتاتے ہیں، اسی کو قرآنِ پاک نے خدا پر افترا کرنا بتایا ہے۔

(۶۰)  اور کیا گمان ہے  ان کا، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہیں کہ قیامت میں ان کا کیا حال ہو گا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے  (ف ۱۴۲) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

۱۴۲             کہ رسول بھیجتا ہے، کتابیں نازِل فرماتا ہے اور حلال و حرام سے باخبر فرماتا ہے۔

(۶۱)  اور تم کسی کام میں ہو (ف ۱۴۳) اور اس کی طرف سے  کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ (ف ۱۴۴) کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے  ہیں جب تم اس کو شروع کرتے  ہو، اور تمہارے  رب سے  ذرہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے  چھوٹی اور نہ اس سے  بڑی کوئی چیز نہیں  جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو (ف ۱۴۵)

۱۴۳             اے حبیبِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم۔

۱۴۴             اے مسلمانو !۔

۱۴۵             کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے۔

(۶۲)  سن لو بیشک اللہ کے  ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے  نہ کچھ غم (ف ۱۴۶)

۱۴۶             ولی کی اصل ولاء سے ہے جو قرب و نصرت کے معنی میں ہے۔ ولی اللّٰہ وہ ہے جو فرائض سے قُرب الٰہی حاصل کرے اور اطاعتِ الٰہی میں مشغول رہے اور اس کا دل نورِ جلالِ الٰہی کی معرِفت میں مستغرق ہو جب دیکھے دلائلِ قدرتِ الٰہی کو دیکھے اور جب سنے اللّٰہ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے ربّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے طاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے اسی امر میں کوشش کرے جو ذریعۂ قُربِ الٰہی ہو، اللّٰہ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے، یہ صفت اولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللّٰہ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔ متکلِّمین کہتے ہیں ولی وہ ہے جو اعتقادِ صحیح مبنی بر دلیل رکھتا ہو اور اعمالِ صالحہ شریعت کے مطابق بجا لاتا ہو۔ بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت نام ہے قُربِ الٰہی اور ہمیشہ اللّٰہ کے ساتھ مشغول رہنے کا۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللّٰہ یاد آئے یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے۔ ابنِ زید نے کہا کہ ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس آیت میں مذکور ہے۔  اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ  یعنی ایمان و تقویٰ دونوں کا جامع ہو۔ بعض عُلَماء نے فرمایا کہ ولی وہ ہیں جو خالص اللّٰہ کے لئے مَحبت کریں، اولیاء کی یہ صفَت احادیثِ کثیرہ میں وارِد ہوئی ہے۔ بعض اکابر نے فرمایا ولی وہ ہیں جو طاعت سے قُربِ الٰہی کی طلب کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کرامت سے ان کی کار سازی فرماتا ہے یا وہ جن کی ہدایت کا برہان کے ساتھ اللّٰہ کفیل ہو اور وہ اس کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی خَلق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہو گئے۔ یہ معانی اور عبارات اگرچہ جداگانہ ہیں لیکن ان میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک عبارت میں ولی کی ایک ایک صفَت بیان کر دی گئی ہے جسے قُربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے یہ تمام صفات اس میں ہوتے ہیں۔ ولایت کے درجے اور مراتب میں ہر ایک بقدر اپنے درجے کے فضل و شرف رکھتا ہے۔

(۶۳)  وہ جو ایمان لائے  اور پرہیز گاری کرتے  ہیں۔

(۶۴)  انہیں خوشخبری ہے  دنیا کی زندگی میں (ف ۱۴۷) اور آخرت میں، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں (ف ۱۴۸) یہی بڑی کامیابی ہے۔

۱۴۷             اس خوش خبری سے یا تو وہ مراد ہے جو پرہیزگار ایمانداروں کو قرآنِ کریم میں جا بجا دی گئی ہے یا بہترین خواب مراد ہے جو مومن دیکھتا ہے یا اس کے لئے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ کثیر احادیث میں وارِد ہوا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ولی کا قلب اور اس کی روح دونوں ذکرِ الٰہی میں مستغرق رہتے ہیں تو وقتِ خواب اس کے دل میں سوائے ذکر و معرفتِ الٰہی کے اور کچھ نہیں ہوتا اس لئے ولی جب خواب دیکھتا ہے تو اس کی خواب حق اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حق میں بشارت ہوتی ہے۔ بعض مفسِّرین نے اس بِشارت سے دنیا کی نیک نامی بھی مراد لی ہے۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا گیا اس شخص کے لئے کیا ارشاد فرماتے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، فرمایا یہ مومن کے لئے بِشارتِ عاجلہ ہے۔ عُلَماء فرماتے ہیں کہ یہ بشارت عاجلہ رضائے الٰہی اور اللّٰہ کے مَحبت فرمانے اور خَلق کے دل میں مَحبت ڈال دینے کی دلیل ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس کو زمین میں مقبول کر دیا جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ ملائکہ وقتِ موت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بِشارت دیتے ہیں۔ عطا کا قول ہے کہ دنیا کی بِشارت تو وہ ہے جو ملائکہ وقتِ موت سناتے ہیں اور آخرت کی بِشارت وہ ہے جو مومن کو جان نکلنے کے بعد سنائی جاتی ہے کہ اس سے اللّٰہ راضی ہے۔

۱۴۸             اس کے وعدے خلاف نہیں ہو سکتے جو اس نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولوں کی زبان سے اپنے اولیاء اور اپنے فرمانبردار بندوں سے فرمائے۔

(۶۵)  اور تم ان کی باتو ں کا غم نہ کرو (ف ۱۴۹) بیشک عزت ساری اللہ کے  لیے  ہے  (ف ۱۵۰) وہی سنتا جانتا ہے۔

۱۴۹             اس میں سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی تسکین فرمائی گئی کہ کُفّارِ نابکار جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے خلاف بُرے بُرے مشورے کرتے ہیں آپ اس کا کچھ غم نہ فرمائیں۔

۱۵۰             وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ اے سیدِ انبیاء وہ آپ کا ناصر و مددگار ہے اس نے آپ کو اور آپ کے صدقہ میں آپ کے فرمانبرداروں کو عزت دی جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ اللّٰہ کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے۔

(۶۶)  سن لو بیشک اللہ ہی کے  مِلک ہیں جتنے  آسمانوں میں ہیں اور جتنے  زمینوں میں (ف ۱۵۱) اور کاہے  کے  پیچھے  جا رہے  ہیں (ف ۱۵۲) وہ جو اللہ کے  سوا شریک پکار رہے  ہیں، وہ تو پیچھے  نہیں جاتے  مگر گمان کے  اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے  (ف ۱۵۳)

۱۵۱             سب اس کے مملوک ہیں اس کے تحتِ قدرت و اختیار اور مملوک ربّ نہیں ہو سکتا اس لئے اللّٰہ کے سوا ہر ایک کی پرستِش باطل ہے، یہ توحید کی ایک عمدہ برہان ہے۔

۱۵۲             یعنی کس دلیل کا اِتّباع کرتے ہیں مراد یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔

۱۵۳             اور بے دلیل مَحض گمانِ فاسد سے اپنے باطل معبودوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ اپنی قدرت و نعمت کا اظہار فرماتا ہے۔

(۶۷)  وہی ہے  جس نے  تمہارے  لیے  رات بنائی کہ اس میں چین پاؤ (ف ۱۵۴) اور دن بنایا تمہاری آنکھوں کھولتا (ف ۱۵۵) بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے  والوں کے  لیے  (ف ۱۵۶)

۱۵۴             اور آرام کر کے دن کی تکان دور کرو۔

۱۵۵             روشن تاکہ تم اپنے حوائج و اسبابِ معاش کا سر انجام کر سکو۔

۱۵۶             جو سنیں اور سمجھیں کہ جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کے بعد مشرکین کا ایک مقولہ ذکر فرماتا ہے۔

(۶۸) بولے  اللہ نے  اپنے  لیے  اولاد بنائی (ف ۱۵۷) پاکی اس کو، وہی بے  نیاز ہے، اسی کا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور جو کچھ زمین میں (ف ۱۵۸) تمہارے  پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں، کیا اللہ پر وہ بات بتاتے  ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔

۱۵۷             کُفّار کا یہ کلمہ نہایت قبیح اور انتہا درجہ کے جہل کا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کا رد فرماتا ہے۔

۱۵۸             یہاں مشرکین کے اس مقولہ کے تین رد فرمائے۔ پہلا رد تو کلمۂ  سُبْحٰنَہٗ میں ہے جس میں بتایا گیا کہ اس کی ذات وَلَد سے منَزّہ ہے کہ وہ واحدِ حقیقی ہے۔ دوسرا رَد  ھُوَالْغَنِیُّ فرمانے میں ہے کہ وہ تمام خَلق سے بے نیاز ہے تو اولاد اس کے لئے کیسے ہو سکتی ہے، اولاد تو یا کمزور چاہتا ہے جو اس سے قوت حاصل کرے یا فقیر چاہتا ہے جو اس سے مدد لے یا ذلیل چاہتا ہے جو اس کے ذریعہ سے عزّت حاصل کرے غرض جو چاہتا ہے وہ حاجت رکھتا ہے تو جو غنی ہو یا غیرِ محتاج ہو اس کے لئے وَلَد کس طرح ہو سکتا ہے نیز وَلَد والد کا ایک جُزو ہوتا ہے تو والد ہونا مرکّب ہونے کو مستلزم اور مرکّب ہونا ممکن ہونے کو اور ہر ممکن غیرکا محتاج ہے تو حادث ہوا لہذا محال ہوا کہ غنی قدیم کے وَلَد ہو۔ تیسرا رد لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ میں ہے کہ تمام خَلق اس کی مملوک ہے اور مملوک ہونا بیٹا ہونے کے ساتھ نہیں جمع ہوتا لہذا ان میں سے کوئی اس کی اولاد نہیں ہو سکتا۔

(۶۹) تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہیں ان کا بھلا نہ ہو گا۔

(۷۰)  دنیا میں کچھ برت لینا (فائدہ اٹھانا) ہے  پھر انہیں ہماری طرف واپس آنا پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے  بدلہ ان کے  کفر کا۔

(۷۱)  اور انہیں نوح کی خبر پڑھ کر سناؤ جب اس نے  اپنی قوم سے  کہا اے  میری قوم اگر  تم پر شاق گزرا ہے  میرا  کھڑا ہونا (ف ۱۵۹) اور اللہ کی نشانیاں یاد دلانا  (ف ۱۶۰) تو میں نے  اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف ۱۶۱) تو مِل کر کام کرو اور اپنے  جھوٹے  معبودوں سمیت اپنا کام پکا کر لو تمہارے  کام میں تم پر کچھ گنجلک (الجھن) نہ رہے  پھر جو ہو سکے  میرا کر لو اور مجھے  مہلت نہ دو (ف ۱۶۲)

۱۵۹             اور مدّتِ دراز تک تم میں ٹھہرنا۔

۱۶۰             اور اس پر تم نے میرے قتل کرنے اور نکال دینے کا ارادہ کیا ہے۔

۱۶۱             اور اپنا معاملہ اس واحدِ لاشریک لہٗ کی سپرد کیا۔

۱۶۲             مجھے کچھ پرواہ نہیں ہے۔ حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ کلام بطریقِ تعجیز ہے۔ مدّعا یہ ہے کہ مجھے اپنے قوی و قادر پروردگار پر کامل بھروسہ ہے تم اور تمہارے بے اختیار معبود مجھے کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔

(۷۲)  پھر اگر تم منہ پھیرو (ف ۱۶۳) تو میں تم سے  کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف ۱۶۴) میرا اجر تو نہیں مگر اللہ پر (ف ۱۶۵) اور مجھے  حکم ہے  کہ میں مسلمانوں سے  ہوں۔

۱۶۳             میری نصیحت سے۔

۱۶۴             جس کے فوت ہونے کا مجھے افسوس ہے۔

۱۶۵             وہی مجھے جزا دے گا۔ مدّعا یہ ہے کہ میرا وعظ و نصیحت خاص اللّٰہ کے لئے ہے کسی دنیوی غرض سے نہیں۔

(۷۳)  تو انہوں نے  اسے  (ف ۱۶۶) جھٹلایا تو ہم نے  اسے  اور جو اس کے  ساتھ کشتی میں تھے  ان کو نجات دی اور انہیں ہم نے  نائب کیا (ف ۱۶۷) اور جنہوں نے  ہماری آیتیں جھٹلائیں ان کو ہم نے  ڈبو دیا تو دیکھو ڈرائے  ہوؤں کا انجام کیسا ہوا۔

۱۶۶             یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو۔

۱۶۷             اور ہلاک ہونے والوں کے بعد زمین میں ساکن کیا۔

(۷۴)  پھر اس کے  بعد اور رسول (ف ۱۶۸) ہم نے  ان کی قوموں کی طرف بھیجے  تو وہ ان کے  پاس روشن دلیلیں لائے  تو  وہ ایسے  نہ تھے  کہ ایمان لاتے  اس پر جسے  پہلے  جھٹلا چکے  تھے، ہم یونہی مہر لگا دیتے  ہیں سرکشوں کے  دلوں پر۔

۱۶۸             ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب وغیرہم علیہم السلام۔

(۷۵)  پھر ان کے  بعد ہم نے  موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے  درباریوں کی طرف اپنی نشانیاں دے  کر بھیجا تو انہوں نے  تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

(۷۶) تو جب ان کے  پاس ہماری طرف سے  حق  آیا (ف ۱۶۹) بولے  یہ تو ضرور کھلا جادو ہے۔

۱۶۹             حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واسطہ سے اور فرعونیوں نے پہچان لیا کہ یہ حق ہے اللّٰہ کی طرف سے ہے تو براہِ نفسانیت۔

(۷۷)  موسیٰ نے  کہا کیا حق کی نسبت ایسا کہتے  ہو جب وہ تمہارے  پاس آیا کیا یہ جادو ہے  (ف ۱۷۰) اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے۔

۱۷۰             ہر گز نہیں۔

(۷۸)  بولے  (ف ۱۷۱) کیا تم ہمارے  پاس اس لیے  آئے  ہو کہ ہمیں اس (ف ۱۷۲) سے  پھیر دو جس پر ہم نے  اپنے  باپ دادا کو پایا اور زمین میں تمہیں دونوں کی بڑائی رہے، اور ہم تم پر ایمان لانے  کے  نہیں۔

۱۷۱             فرعونی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے۔

۱۷۲             دین و ملّت اور بُت پرستی و فرعون پرستی۔

(۷۹)  اور فرعون (ف ۱۷۳) بولا ہر جادوگر علم والے  کو میرے  پاس  لے  آؤ۔

۱۷۳             سرکش و متکبِّر نے چاہا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجِزہ کا مقابلہ باطل سے کرے اور دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات (معاذ اللّٰہ ) جادو کی قسم سے ہیں اس لئے وہ۔

(۸۰)  پھر جب جادوگر آئے  ان سے  موسیٰ نے  کہا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے  (ف ۱۷۴)

۱۷۴             رسّے، شہتیر وغیرہ اور جو تمہیں جادو کرنا ہے کرو یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ حق و باطل ظاہر ہو جائے اور جادو کے کرشمے جو وہ کرنے والے ہیں ان کا فساد واضح ہو۔

(۸۱)  پھر جب انہوں نے  ڈالا موسیٰ  نے  کہا یہ جو تم لائے  یہ جادو ہے  (ف ۱۷۵)  اب اللہ اسے  باطل کر دے  گا، اللہ مفسدوں کا کام نہیں بناتا۔

۱۷۵             نہ کہ وہ آیاتِ الٰہیہ جن کو فرعون نے اپنی بے ایمانی سے جادو بتایا۔

(۸۲)  اور اللہ اپنی باتوں سے  (ف ۱۷۶) حق کو حق کر دکھاتا ہے  پڑے  برا مانیں مجرم۔

۱۷۶             یعنی اپنے حکم، اپنی قضاء و قدر اور اپنے اس وعدے سے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جادو گروں پر غالب کرے گا۔

(۸۳)  تو موسیٰ پر ایمان نہ لائے  مگر  اس کی قوم کی اولاد سے  کچھ لوگ (ف ۱۷۷) فرعون اور اس کے  درباریوں  سے  ڈرتے  ہوئے  کہ کہیں انہیں (ف ۱۷۸) ہٹنے  پر مجبور نہ کر دیں اور بیشک فرعون زمین پر سر اٹھانے  والا تھا، اور بیشک وہ حد سے  گزر گیا (ف ۱۷۹)

۱۷۷             اس میں نبیِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی تسلی ہے کہ آپ اپنی اُمّت کے ایمان لانے کا نہایت اہتمام فرماتے تھے اور ان کے اعراض کرنے سے مغموم ہوتے تھے، آپ کی تسکین فرمائی گئی کہ باوجودیکہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اتنا بڑا معجِزہ دکھایا پھر بھی تھوڑے لوگوں نے ایمان قبول کیا، ایسی حالتیں انبیاء کو پیش آتی رہی ہیں۔ آپ اپنی اُمّت کے اعراض سے رنجیدہ نہ ہوں۔  مِنْ قَوْمِہٖ  میں جو ضمیر ہے وہ یا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طر ف راجع ہے اس صورت میں قوم کی ذُرِّیّت سے بنی اسرائیل مراد ہوں گے جن کی اولاد مِصر میں آپ کے ساتھ تھی اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو فرعون کے قتل سے بچ رہے تھے کیونکہ جب بنی اسرائیل کے لڑکے بحکمِ فرعون قتل کئے جاتے تھے تو بنی اسرائیل کی بعض عورتیں جو قومِ فرعون کی عورتوں کے ساتھ کچھ رسم و راہ رکھتی تھیں وہ جب بچہ جنّتیں تو اس کی جان کے اندیشہ سے وہ بچہ فرعونی قوم کی عورتوں کو دے ڈالتیں، ایسے بچے جو فرعونیوں کے گھروں میں پلے تھے اس روز حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام پر ایمان لے آئے جس دن اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو جادوگروں پر غلبہ دیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے اور قومِ فرعون کی ذُرِّیّت مراد ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ قومِ فرعون کے تھوڑے لوگ تھے جو ایمان لائے۔

۱۷۸             دین سے۔

۱۷۹             کہ بندہ ہو کر خدائی کا مدّعی ہوا۔

(۸۴)  اور موسیٰ نے  کہا  اے  میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے  تو اسی پر بھروسہ کرو (ف ۱۸۰) اگر تم اسلام رکھتے  ہو۔

۱۸۰             وہ اپنے فرمانبرداروں کی مدد کرتا اور دشمنوں کو ہلاک فرماتا ہے۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ پر بھروسہ کرنا کمالِ ایمان کا مقتضا ہے۔

(۸۵) بولے  ہم نے  اللہ پر بھروسہ کیا الٰہی ہم کو ظالم لوگوں کے  لیے  آزمائش نہ بنا (ف ۱۸۱)

۱۸۱             یعنی انہیں ہم پر غالب نہ کرتا کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ وہ حق پر ہیں۔

(۸۶)  اور اپنی رحمت فرما کر ہمیں کافروں سے  نجات دے  (ف ۱۸۲)

۱۸۲             اور ان کے ظلم و ستم سے بچا۔

(۸۷)  اور ہم نے  موسیٰ اور اس کے  بھائی کو وحی  بھیجی کہ مصر میں اپنی قوم کے  لیے  مکانات بناؤ  اور اپنے  گھروں کو نماز کی جگہ کرو (ف ۱۸۳) اور نماز قائم رکھو، اور مسلمانوں کو خوشخبری سناؤ (ف ۱۸۴)

۱۸۳             کہ قبلہ رو ہو۔ حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا قبلہ کعبہ شریف تھا اور ابتداء میں بنی اسرائیل کو یہی حکم تھا کہ وہ گھروں میں چھپ کر نماز پڑھیں تاکہ فرعونیوں کی شر و ایذا سے محفوظ رہیں۔

۱۸۴             مددِ الٰہی کی اور جنّت کی۔

(۸۸)  اور موسیٰ نے  عرض کی اے  رب ہمارے  تو نے   فرعون اور اس کے  سرداروں کو آرائش (ف ۱۸۵) اور مال دنیا کی زندگی میں  دیے، اے  رب ہمارے ! اس لیے  کہ تیری راہ سے  بہکا دیں، اے  رب ہمارے ! ان کے  مال برباد کر دے  (ف ۱۸۶) اور ان کے  دل سخت کر دے  کہ ایمان نہ لائیں جب تک  دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف ۱۸۷)

۱۸۵             عمدہ لباس، نفیس فرش، قیمتی زیور طرح طرح کے سامان۔

۱۸۶             کہ وہ تیری نعمتوں پر بجائے شکر کے جری ہو کر معصیّت کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کی یہ دعا قبول ہوئی اور فرعونیوں کے درہم و دینار وغیرہ پتھر ہو کر رہ گئے حتی کہ پھل اور کھانے کی چیزیں بھی اور یہ ان نو نشانیوں میں سے ایک ہے جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دی گئی تھیں۔

۱۸۷             جب حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تب آپ نے ان کے لئے یہ دعا کی اور ایسا ہی ہوا کہ وہ غرق ہونے کے وقت تک ایمان نہ لائے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے لئے کُفر پر مرنے کی دعا کرنا کُفر نہیں ہے۔ (مدارک)۔

(۸۹)  فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوئی (ف ۱۸۸) تو ثابت قدم رہو اور (ف ۱۸۹) نادانوں کی راہ نہ چلو (ف ۱۹۰)

۱۸۸             دعا کی نسبت حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام دونوں کی طرف کی گئی باوجود یکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے لہذا اس کے لئے اِخفاء ہی مناسب ہے۔ (مدارک) حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا اور اس کی مقبولیت کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوا۔

۱۸۹             دعوت و تبلیغ پر۔

۱۹۰             جو قبولِ دعا میں دیر ہونے کی حکمت نہیں جانتے۔

(۹۰)  اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے  گئے  تو فرعون اور اس کے  لشکروں نے  ان کا پیچھا کیا سرکشی اور ظلم سے  یہاں تک کہ جب اسے  ڈوبنے  نے  آ  لیا (ف ۱۹۱) بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے  جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے  اور میں مسلمان ہوں (ف ۱۹۲)

۱۹۱             تب فرعون۔

۱۹۲             فرعون نے بہ تمنائے قبولِ ایمان کا مضمون تین مرتبہ تکرار کے ساتھ ادا کیا لیکن یہ ایمان قبول نہ ہوا کیونکہ ملائکہ اور عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان مقبول نہیں، اگر حالتِ اختیار میں وہ ایک مرتبہ بھی یہ کلمہ کہتا تو اس کا ایمان قبول کر لیا جاتا لیکن اس نے وقت کھو دیا، اس لئے اس سے یہ کہا گیا جو آیت میں آگے مذکور ہے۔

(۹۱) کیا اب  (ف ۱۹۳) اور پہلے  سے  نافرمان رہا اور تو فسادی تھا (ف ۱۹۴)

۱۹۳             حالتِ اضطرار میں جب کہ غرق میں مبتلا ہو چکا ہے اور زندگانی کی امید باقی نہیں رہی اس وقت ایمان لاتا ہے۔

۱۹۴             خود گمراہ تھا دوسروں کو گمراہ کرتا تھا۔ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل علیہ السلام فرعون کے پاس ایک استفتاء لائے جس کا مضمون یہ تھا کہ بادشاہ کا کیا حکم ہے ایسے غلام کے حق میں جس نے ایک شخص کے مال و نعمت میں پرورش پائی پھر اس کی ناشکری کی اور اس کے حق کا منکِر ہو گیا اور اپنے آپ مولیٰ ہونے کا مدّعی بن گیا ؟ اس پر فرعون نے یہ جواب لکھا کہ جو غلام اپنے آقا کی نعمتوں کا انکار کرے اور اس کے مقابل آئے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کو دریا میں ڈبو دیا جائے جب فرعون ڈوبنے لگا تو حضرت جبریل نے اس کا وہی فتویٰ اس کے سامنے کر دیا اور اس کو اس نے پہچان لیا۔ (سبحان اللّٰہ )۔

(۹۲)  آج ہم تیری لاش کو  اوترا دیں  (باقی رکھیں ) گے  تو اپنے  پچھلوں کے  لیے  نشانی ہو (ف ۱۹۵)  اور بیشک لوگ  ہماری  آیتوں  سے   غافل  ہیں ۔

۱۹۵             عُلَمائے تفسیر کہتے ہیں کہ جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو ان کے ہلاکت کی خبر دی تو بعض بنی اسرائیل کو شبہ رہا اور اس کی عظمت و ہیبت جو ان کے قلوب میں تھی اس کے باعث انہیں اس کی ہلاکت کا یقین نہ آیا۔ بامرِ الٰہی دریا نے فرعون کی لاش ساحل پر پھینک دی، بنی اسرائیل نے اس کو دیکھ کر پہچانا۔

(۹۳) اور بیشک  ہم نے  بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی (ف ۱۹۶) اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے  (ف ۱۹۷) مگر علم آنے  کے  بعد (ف ۱۹۸) بیشک تمہارا رب قیامت کے  دن ان میں فیصلہ کر دے  گا جس بات میں جھگڑتے  تھے  (ف ۱۹۹)

۱۹۶             عزت کی جگہ سے یا تو مُلکِ مِصر اور فرعون و فرعونیوں کے اَملاک مراد ہیں یا سر زمینِ شام و قدس و اُردن جو نہایت سرسبز و شاداب اور زرخیز بلاد ہیں۔

۱۹۷             بنی اسرائیل جن کے ساتھ یہ واقعات ہو چکے۔

۱۹"علم سے مراد یہاں یا تو توریت ہے جس کے معنی میں یہود باہم اختلاف کرتے تھے یا سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف آوری ہے کہ اس سے پہلے تو یہود سب آپ کے مُقِر اور آپ کی نبوّت پر متفق تھے اور توریت میں جو آپ کے صفات مذکور تھے ان کو مانتے تھے لیکن تشریف آوری کے بعد اختلاف کرنے لگے، کچھ ایمان لے آئے اور کچھ لوگوں نے حسد و عداوت سے کُفر کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ علم سے قرآن مراد ہے۔

۱۹۹             اس طرح کہ اے سیدِ انبیاء آ پ پر ایمان لانے والوں کو جنّت میں داخل فرمائے گا اور آپ کے انکار کرنے والوں کو جہنّم میں عذاب فرمائے گا۔

(۹۴)  اور اے  سننے  والے ! اگر تجھے  کچھ شبہ ہو اس میں جو ہم نے  تیری طرف اتارا  (ف ۲۰۰) تو ان سے  پوچھ دیکھ جو تجھ سے  پہلے  کتاب پڑھنے  والے  ہیں (ف ۲۰۱) بیشک تیرے  پاس تیرے  رب کی طرف سے  حق آیا (ف ۲۰۲) تو تُو ہر گز شک  والوں میں نہ ہو۔

۲۰۰             بواسطہ اپنے رسول محمّدِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے۔

۲۰۱             یعنی عُلَمائے اہلِ کتاب مثل حضرت عبداللّٰہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے تاکہ وہ تجھ کو سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوّت کا اطمینان دلائیں اور آپ کی نعت و صفت جو توریت میں مذکور ہے وہ سنا کر شک رفع کریں۔ فائدہ : شک انسان کے نزدیک کسی امر میں دونوں طرفوں کا برابر ہونا ہے خواہ وہ اس طرح ہو کہ دونوں جانب برابر قرینے پائے جائیں خواہ اس طرح کہ کسی طرف بھی کوئی قرینہ نہ ہو۔ محققین کے نزدیک شک اقسامِ جہل سے ہے اور جہل و شک میں عام و خاص مطلق کی نسبت ہے کہ ہر ایک شک جہل ہے اور ہر جہل شک نہیں۔

۲۰۲             جو براہینِ لائحہ و آیاتِ واضحہ سے اتنا روشن ہے کہ اس میں شک کی مجال نہیں۔ (خازن)۔

(۹۵)  اور ہرگز ان میں نہ ہونا جنہوں نے  اللہ کی آیتیں جھٹلائیں کہ تو خسارے  والوں میں ہو جائے  گا۔

(۹۶)  بیشک وہ جن پر تیرے  رب کی بات ٹھیک پڑ چکی ہے  (ف ۲۰۳) ایمان نہ لائیں گے۔

۲۰۳             یعنی وہ قول ان پر ثابت ہو چکا جو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے اور جس کی ملائکہ نے خبر دی ہے کہ یہ لوگ کافِر مریں گے وہ۔

(۹۷)  اگرچہ سب نشانیاں ان کے  پاس آئیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (ف ۲۰۴)

۲۰۴             اور اس وقت کا ایمان نافع نہیں۔

(۹۸)  تو ہوئی ہوتی  نہ کوئی بستی (ف ۲۰۵) کہ ایمان لاتی (ف ۲۰۶) تو اس کا  ایمان کام آتا  ہاں یونس کی قوم،  جب ایمان لائے  ہم نے  ان سے  رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے  دیا (ف ۲۰۷)

۲۰۵             ان بستیوں میں سے جن کو ہم نے ہلاک کیا۔

۲۰۶             اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرتی عذاب نازِل ہونے سے پہلے۔ (مدارک)۔

۲۰۷             قومِ یونس کا واقعہ یہ ہے کہ نینویٰ علاقۂ موصل میں یہ لوگ رہتے تھے اور کُفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے بُت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا ان کو حکم دیا ان لوگوں نے انکار کیا، حضرت یونس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں بحکمِ الٰہی نُزولِ عذاب کی خبر دی۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس علیہ الصلوٰۃ و السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیئے کہ عذاب آئے گا۔ شب میں حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے تشریف لے گئے صبح کو آثارِ عذاب نمودار ہو گئے، آسمان پر سیاہ ہیبت ناک اَبر آیا اور دھواں کثیر جمع ہوا تمام شہر پر چھا گیا یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوا کہ عذاب آنے والا ہے تو انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کی جستجو کی اور آپ کو نہ پایا اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ مع اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے جنگل کو نکل گئے، موٹے کپڑے پہنے اور توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بی بی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کی اور کہا کہ جو یونس علیہ السلام لائے اس پر ہم ایمان لائے اور توبۂ صادقہ کی، جو مظالم ان سے ہوئے تھے ان کو دفع کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر ایک پتھر دوسرے کا کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا اور اللّٰہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں، پروردِگارِ  عالم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی، عذاب اٹھا دیا گیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نُزولِ عذاب کے بعد فرعون کا ایمان اور اس کی توبہ قبول نہ ہوئی تو قومِ یونس کی توبہ قبول فرمانے اور عذاب اٹھا دینے میں کیا حکمت ہے ؟ عُلَماء نے اس کے کئی جواب دیئے ہیں ایک تو یہ کرمِ خاص تھا قومِ حضرت یونس کے ساتھ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ فرعون عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لایا جب امیدِ زندگانی ہی باقی نہ رہی اور قومِ یونس علیہ السلام سے جب عذاب قریب ہوا تو وہ اس میں مبتلا ہونے سے پہلے ایمان لے آئے اور اللّٰہ قُلوب کا جاننے والا ہے، اخلاص مندوں کے صدق و اخلاق کا اس کو علم ہے۔

(۹۹)  اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے  ہیں سب کے  سب ایمان لے  آتے  (ف ۲۰۸) تو کیا تم لوگوں کو زبردستی کرو گے  یہاں تک کہ مسلمان ہو جائیں (ف ۲۰۹)

۲۰۸             یعنی ایمان لانا سعادتِ ازَلی پر موقوف ہے، ایمان وہی لائیں گے جن کے لئے توفیقِ الٰہی مُساعِد ہو۔ اس میں سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی تسلی ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہِ راست اختیار کریں پھر جو ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں ان کا آپ کو غم ہوتا ہے اس کا آپ کو غم نہ ہونا چاہیئے کیونکہ ازَل سے جو شقی ہے وہ ایمان نہ لائے گا۔

۲۰۹             اور ایمان میں زبردستی نہیں ہو سکتی کیونکہ ایمان ہوتا ہے تصدیق و اقرار سے اور جبر و اکراہ سے تصدیقِ قلبی حاصل نہیں ہوتی۔

(۱۰۰)  اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے  آئے  مگر اللہ کے  حکم سے  (ف ۲۱۰) اور عذاب ان پر ڈالنا ہے  جنہیں عقل نہیں۔

۲۱۰             اس کی مشیّت سے۔

(۱۰۱)  تم فرماؤ دیکھو (ف ۲۱۱) آسمانوں اور زمین میں کیا ہے  (ف ۲۱۲) اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے  جن کے  نصیب میں ایمان  نہیں۔

۲۱۱             دل کی آنکھوں سے اور غور کرو کہ۔

۲۱۲             جو اللّٰہ تعالیٰ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔

(۱۰۲)  تو انہیں کاہے  کا انتظار ہے  مگر انہیں لوگوں کے  سے  دنوں کا جو ان سے  پہلے  ہو گزرے  (ف ۲۱۳) تم فرماؤ تو انتظار کرو میں بھی تمہارے  ساتھ انتظار میں ہوں (ف ۲۱۴)

۲۱۳             مثل نوح و عاد و ثمود وغیرہ۔

۲۱۴             تمہاری ہلاکت اور عذاب کے۔ ربیع بن انس نے کہا کہ عذاب کا خوف دلانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جب عذاب واقع ہوتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ رسول کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نَجات عطا فرماتا ہے۔

(۱۰۳)  پھر ہم اپنے  رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے  بات یہی ہے  ہمارے  ذمہ کرم پر حق ہے  مسلمانوں کو نجات دینا۔

(۱۰۴)  تم فرماؤ، اے  لوگو! اگر تم میرے  دین کی طرف سے  کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے  نہ پوجوں کا جسے  تم اللہ کے  سوا پوجتے  ہو (ف ۲۱۵) ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے  گا (۲۱۶) اور مجھے  حکم ہے  کہ ایمان والوں میں ہوں۔

۲۱۵             کیونکہ وہ مخلوق ہے عبادت کے لائق نہیں۔

۲۱۶             کیونکہ وہ قادرِ مختار، الٰہِ برحق، مستحقِ عبادت ہے۔

(۱۰۵)  اور یہ کہ اپنا منہ دین کے  لیے  سیدھا رکھ سب سے  الگ ہو کر (ف ۲۱۷) اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔

۲۱۷             یعنی مخلص مومن رہو۔

(۱۰۶)  اور اللہ کے  سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کر سکے   نہ برا،  پھر اگر ایسا کرے  تو اس وقت تو ظالموں سے  ہو گا۔

(۱۰۷)  اور اگر تجھے  اللہ کوئی تکلیف پہنچائے  تو اس کا کوئی ٹالنے  والا نہیں اس کے  سوا، اور اگر تیرا بھلا چاہے  تو اس کے  فضل کے   رد کرنے  والا کوئی نہیں (ف ۲۱۸) اسے  پہنچا تا ہے  اپنے  بندوں میں جسے  چاہے، اور وہی بخشنے  والا مہربان ہے۔

۲۱۸             وہی نفع و ضَرر کا مالک ہے، تمام کائنات اسی کی محتاج ہے، وہی ہر چیز پر قادِر اور جود و کرم والا ہے۔ بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیئے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی۔

(۱۰۸)  تم فرماؤ اے  لوگو! تمہارے  پاس تمہارے  رب کی طرف سے  حق آیا (ف ۲۱۹) تو جو راہ پر آیا وہ اپنے  بھلے  کو راہ پر آیا (ف ۲۲۰) اور جو بہکا وہ اپنے  برے  کو بہکا  (ف ۲۲۱) اور کچھ میں کڑوڑا  (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف ۲۲۲)

۲۱۹             حق سے یہاں قرآن مراد ہے یا اسلام یا سیدِ عالَم علیہ الصلوٰۃ و السلام۔

۲۲۰             کیونکہ اس کا نفع اسی کو پہنچے گا۔

۲۲۱             کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہے۔

۲۲۲             کہ تم پر جبر کروں۔

 (۱۰۹)  اور اس پر چلو جو تم پر  وحی ہوتی ہے  اور صبر کرو (ف ۲۲۳)  یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے  (ف ۲۲۴) اور وہ سب سے  بہتر حکم فرمانے  والا  ہے  (ف ۲۲۵)

۲۲۳             کُفّار کی تکذیب اور ان کی ایذا پر۔

۲۲۴             مشرکین سے قتال کرنے اور کتابیوں سے جزیہ لینے کا۔

۲۲۵             کہ اس کے حکم میں خطا و غلط کا احتمال نہیں اور وہ بندوں کے اسرار و مخفی حالات سب کا جاننے والا ہے، اس کا فیصلہ دلیل و گواہ کا محتاج نہیں۔