خزائن العرفان

سُوۡرَةُ الکافِرون

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف ۱)

۱                 سورۃ الکافرون مکّیہ ہے، اس میں ایک رکوع، چھ آیتیں، چھبّیس کلمے، چورانوے حرف ہیں۔ شانِ نزول : قریش کی ایک جماعت نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے کہا کہ آپ ہمارے دِین کا اتباع کیجئے ہم آپ کے دِین کا اتباع کریں گے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ غیر کو شریک کروں کہنے لگے تو آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگا دیجئے ہم آپ کی تصدیق کر دیں گے آپ کے معبود کی عبادت کریں گے، اس پر یہ سورۂ شریفہ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم مسجدِ حرام میں تشریف لے گئے وہاں قریش کی وہ جماعت موجود تھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے اور حضور کے اصحاب کے درپے ایذا ہوئے۔

(۱)  تم فرماؤ اے  کافرو۔(ف ۲)

۲                 مخاطب یہاں مخصوص کافر ہیں جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں۔

(۲) نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے  ہو۔

(۳) اور نہ تم پوجتے  ہو جو میں پوجتا ہوں۔

(۴) اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے  پوجا۔

(۵) اور نہ تم پوجو گے  جو میں پوجتا ہوں۔

(۶) تمہیں تمہارا دین اور مجھے  میرا دین (ف ۳)

۳                 یعنی تمہارے لئے تمہارا کفر اور میرے لئے میری توحید اور میرا اخلاص اور مقصود اس سے تہدید ہے۔ وَھٰذِہِ الاٰ یَۃُ مَنْسُوْخَۃ بِآ یَۃِ الْقِتَالِ