خزائن العرفان

سُوۡرَةُ التّکاثُر

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا(ف ۱)

۱                 سورۂ تکاثر مکّیہ ہے، اس میں ایک ۱رکوع، آٹھ ۸ آیتیں، اٹھائیس ۲۸کلمے، ایک سو بیس۱۲۰ حرف ہیں۔

(۱) تمہیں غافل رکھا (ف ۳) مال کی زیادہ طلبی نے  (ف ۳) یہاں تک کہ تم نے  قبروں کا منہ دیکھا (ف ۴)

۲                 اللہ تعالیٰ کی طاعات سے۔

۳                 اس سے معلوم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص اور اس پر مفاخرت مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی سعادتِ اُخرویہ سے محروم رہ جاتا ہے۔

۴                 یعنی موت کے وقت تک حرص تمہارے دامن گیرِ خاطر رہی۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا مردے کے ساتھ تین ہوتے ہیں دو لوٹ آتے ہیں ایک اس کے ساتھ رہ جاتا ہے ایک مال ایک اس کے اہل و اقارب ایک اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے باقی دونوں واپس ہو جاتے ہیں۔ (بخاری )

(۲) ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے  (ف ۵)  پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤں گے  (ف ۶)

۵                 نزع کے وقت اپنے اس حال کے نتیجۂ بد کو۔

۶                 قبروں میں۔

(۳) ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے  تو مال کی محبت نہ رکھتے  (ف ۷)

۷                 اور حرصِ مال میں مبتلا ہو کر آخرت سے غافل نہ ہوتے۔

(۴) بیشک ضرور جہنم کو دیکھو گے  (ف ۸)

۸                 مرنے کے بعد۔

(۵) پھر بیشک ضرور اسے  یقینی دیکھنا دیکھو گے۔

 (۶)  پھر بیشک ضرور اس دن تم سے  نعمتوں کی پرسش ہو گی (ف ۹)

۹                 جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی تھیں صحت و فراغ و امن و عیش و مال وغیرہ جن سے دنیا میں لذّتیں اٹھاتے تھے پوچھا جائے گا یہ چیزیں کس کام میں خرچ کیں، ان کا کیا شکر ادا کیا۔ اور ترکِ شکر پر عذاب کیا جائے گا۔