خزائن العرفان

سُوۡرَةُ النِّسَاء

اللہ کے  نام سے  شروع جو نہایت مہربان رحم والا

سورہ نساء مدنی ہے، اس میں ایک سو چھہتر آیتیں اور چوبیں رکوع ہیں  (ف ۱)

۱۔                سورۂ نِساء مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی اس میں ایک سو چھہتر(۱۷۶) آیتیں ہیں اور تین ہزار پینتالیس کلمے اور سولہ ہزار تیس (۱۶۰۳۰)حرف ہیں۔

(۱) اے  لوگو ! (ف ۲) اپنے  رب سے  ڈرو جس نے  تمہیں ایک جان سے  پیدا کیا (ف ۳) اور اسی میں سے  اس کا جوڑا بنایا  اور ان دونوں سے  بہت سے  مرد و  عورت پھیلا دیئے  اور اللہ سے  ڈرو جس کے  نام  پر مانگتے  ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف ۴) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،

۲۔                یہ خطاب عام ہے تمام بنی آدم کو۔

ٍ۳۔              ابوالبشر حضرتِ آدم سے جن کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا تھا انسان کی ابتدائے پیدائش کا بیان کر کے قدرتِ الٰہیہ کی عظمت کا بیان فرمایا گیا اگرچہ دنیا کے بے دین بد عقلی و نا فہمی سے اس کا مضحکہ اُڑاتے ہیں لیکن اصحابِ فہم و خِرد جانتے ہیں کہ یہ مضمون ایسی زبردست برہان سے ثابت ہے جس کا انکار محال ہے مردم شماری کا حساب پتہ دیتا ہے کہ آج سے سو برس قبل دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح جانب ماضی میں چلتے چلتے اس کمی کی حد ایک ذات قرار پائے گی یا یوں کہئے کہ قبائل کی کثیر تعداد یں ایک شخص کی طرف منتہی ہو جاتی ہیں مثلاً سید دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر جانب ماضی میں اُن کی نہایت سیدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک ذات پر ہو گی اور بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا مرجع حضرت یعقوب علیہ السلام کی ایک ذات ہو گی اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام شُعوب و قبائل کی انتہا ایک ذات پر ہو گی اس کا نام کتبِ الٰہیہ میں آدم علیہ السلام ہے اور ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص تَوالُد و تَناسُل کے معمولی طریقہ سے پیدا ہو سکے اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہواور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین اُنہیں عناصر سے پیدا ہو گا جو اُس کے وجود میں پائے جاتے ہیں پھر عناصر میں سے جو عنصر اس کا مسکن ہو اور جس کے سوا دوسرے میں وہ نہ رہ سکے لازم ہے کہ وہی اس کے وجود میں غالب ہو اس لئے پیدائش کی نسبت اُسی عنصر کی طرف کی جائے گی یہ بھی ظاہر ہے کہ توالد و تناسل کا معمولی طریقہ ایک شخص سے جاری نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کے ساتھ ایک اور بھی ہو کہ جوڑا ہو جائے اور وہ دوسرا شخص انسانی جو اس کے بعد پیداہو مُقتضائے حکمت یہی ہے کہ اُسی کے جسم سے پیدا کیا جائے کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہو چکی مگر یہ بھی لازم ہے کہ اس کی خلقت پہلے انسان سے توالد معمولی کے سوا کسی اور طریقہ سے ہو کیونکہ توالدِ معمولی بغیر دو کے ممکن ہی نہیں اور یہاں ایک ہی ہے لہذا حکمت الٰہیہ نے حضرت آدم کی ایک بائیں پسلی ان کے خواب کے وقت نکالی اور اُن سے اُن کی بی بی حضرت حوّا کو پیدا کیا چونکہ حضرت حوّا بطریق توالد معمولی پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ اولاد نہیں ہو سکتیں جس طرح کہ اس طریقہ کے خلاف جسم انسانی سے بہت سے کیڑے پیدا ہوا کرتے ہیں وہ اس کی اولاد نہیں ہو سکتے ہیں خواب سے بیدار ہو کر حضرت آدم نے اپنے پاس حضرت حوّا کو دیکھا تو محبتِ جنسیّت دِل میں موجزَن ہوئی اُن سے فرمایا تم کون ہو انہوں نے عرض کیا عورت فرمایا کس لئے پیدا کی گئی ہو۔ عرض کیا آپ کی تسکینِ خاطر کے لئے تو آپ اُن سے مانوس ہوئے۔

۴۔                اِنہیں قطع نہ کرو حدیث شریف میں ہے جو رزق کی کشائش چاہے اس کو چاہئے کہ صلۂ رحمی کرے اور رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت رکھے۔

(۲) اور یتیموں کو ان کے  مال دو (ف ۵) اور ستھرے  (ف ۶) کے  بدلے   گندا نہ لو (ف ۷)  اور ان کے  مال اپنے  مالوں میں ملا کر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے 

۵۔                شان نزول: ایک شخص کی نگرانی میں اُس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا جب وہ یتیم بالغ ہو ا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کر دیا اِس پر یہ آیت نازل ہوئی اِس کو سن کر اُس شخص نے یتیم کا مال اُس کے حوالہ کیا اور کہا کہ ہم اللّٰہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔

۶۔                یعنی اپنے حلال مال۔

۷۔                یتیم کا مال جو تمہارے لئے حرام ہے اس کو اچھا سمجھ کر اپنے ردّی مال سے نہ بدلو کیونکہ وہ ردّی تمہارے لئے حلال و طیّب ہے اور یہ حرام و خبیث۔

(۳) ا ور اگر تمہیں  اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے  (ف ۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین او  ر چار چار (ف ۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے  تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے  تم مالک ہو یہ اس سے  زیادہ قریب ہے  کہ تم سے  ظلم نہ ہو (ف ۱۰)

۸۔                اور ان کے حقوق کی رعایت نہ رکھ سکو گے۔

۹۔                آیت کے معنی میں چند قول ہیں حسن کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ ولایت یتیم لڑکی سے اُس کے مال کی وجہ سے نکاح کر لیتے باوجود یکہ اُس کی طرف رغبت نہ ہوتی پھر اُس کے ساتھ صحبت و معاشرت میں اچھا سلوک نہ کرتے اور اُس کے مال کے وارث بننے کے لئے اُس کی موت کے منتظر رہتے اِس آیت میں اُنہیں اِس سے روکا گیا ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت سے تو بے انصافی ہو جانے کے اندیشہ سے گھبراتے تھے اور زنا کی پرواہ نہ کرتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ اگر تم نا انصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی ولایت سے گریز کرتے ہو تو زنا سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت و سرپرستی میں تو نا انصافی کا اندیشہ کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ باک نہیں رکھتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں نا انصافی سے بھی ڈرو۔ اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کر سکو عِکْرَمَہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کا بار نہ اٹھ سکتا تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے اس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی استطاعت دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے

مسئلہ: اِس آیت سے معلُوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے خواہ وہ حُرَّہ ہوں یا اَمَہ یعنی باندی

مسئلہ: تمام امّت کا اجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص اسلام لائے اُن کی آٹھ بی بیاں تھیں حضور نے فرمایا اِن میں سے چار رکھنا، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ غیلان بن سلمہ ثَقَفِی اسلام لائے اُن کے دس بی بیاں تھیں وہ ساتھ مسلمان ہوئیں حضور نے حکم دیا اِن میں سے چار رکھو۔

۱۰۔              مسئلہ : اِس سے معلوم ہوا کہ بی بیوں کے درمیان عدل فرض ہے نئی پرانی باکرہ ثَیِّبَہ سب اِس اِستحقاق میں برابر ہیں یہ عدل لباس میں کھانے پینے میں سُکنیٰ یعنی رہنے کی جگہ میں اور رات کو رہنے میں لازم ہے ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔

(۴) اور عورتوں کو ان کے  مہر خوشی سے  دو (ف ۱۱) پھر اگر وہ اپنے  دل کی خوشی سے  مہر میں سے  تمہیں کچھ دے  دیں تو اسے  کھاؤ رچتا پچتا (ف ۱۲)

۱۱۔              اس سے معلوم ہوا کہ مَہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء اگر اولیاء نے مَہر وصول کر لیا ہو تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچا دیں۔

۱۲۔              مسئلہ : عورتوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو مَہر کا کوئی جزو ہبہ کریں یا کل مہر مگر مہر بخشوانے کے لئے انہیں مجبور کرنا اُن کے ساتھ بد خَلقی کرنا نہ چاہئے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے  طِبْنَ لَکُمْ  فرمایا جس کے معنیٰ ہیں دل کی خوشی سے معاف کرنا۔

(۵) اور بے  عقلوں کو (ف ۱۳) ان کے  مال نہ دو جو تمہارے  پاس  ہیں جن کو اللہ نے  تمہاری بسر اوقات کیا ہے  اور انہیں اس میں سے  کھلاؤ اور پہناؤ  اور ان سے  اچھی بات کہو (ف ۱۴)

۱ٍ۳۔              جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مَصرَف پہچانیں اُس کو بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگر اُن پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کر دیں گے۔

۱۴۔              جس سے اُن کے دل کو تسلّی ہو اور وہ پریشان نہ ہوں مثلاً یہ کہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہو جاؤ گے تو تمہیں سپرد کیا جائے گا۔

(۶) اور یتیموں کو آزماتے   رہو (ف ۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے  قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے  مال انہیں سپرد کر دو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے  بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے  نہ ہو جائیں اور جسے  حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے  (ف ۱۶) اور جو حاجت مند ہو وہ  بقدر مناسب کھائے،  پھر جب تم ان کے  مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کر لو،  اور اللہ کافی ہے  حساب لینے  کو،

۱۵۔              کہ اِن میں ہوشیاری اور معاملہ فہمی پیدا ہوئی یا نہیں۔

۱۶۔              یتیم کا مال کھانے سے۔

(۷) مردوں کے  لئے  حصہ ہے  اس میں سے  جو چھوڑ گئے  ماں باپ اور قرابت  والے  اور  عورتوں کے  لئے  حصہ ہے  اس میں سے  جو چھوڑ گئے  ماں باپ اور  قرابت والے  ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے  اندازہ باندھا ہوا  (ف ۱۷)

۱۷۔              زمانۂ جاہلیّت میں عورتوں اور بچوں کو وِرثہ نہ دیتے تھے اِس آیت میں اُس رسم کو باطل کیا گیا۔

(۸) پھر بانٹتے  وقت اگر رشتہ  دار اور یتیم اور مسکین (ف ۱۸) آ جائیں تو اس میں سے  انہیں بھی کچھ دو (ف ۱۹) اور ان سے  اچھی بات کہو (ف ۲۰)

۱۸۔              اجنبی جن میں سے کوئی میِّت کا وارث نہ ہو۔

۱۹۔              قبل تقسیم اور یہ دینا مستحب ہے۔

۲۰۔              اس میں عذرِ جمیل وعدہ حسنہ اور دعائے خیر سب داخل ہیں اِس آیت میں میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطورِ صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا زمانۂ صحابہ میں اِس پر عمل تھا محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ اُن کے والد نے تقسیمِ میراث کے وقت ایک بکری ذبح کرا کے کھانا پکایا اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کو کھلایا اور یہ آیت پڑھی ابن سِیرین نے اسی مضمون کی عبیدہ سلمانی سے بھی روایت کی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ کہا کہ اگر یہ آیت نہ آئی ہوتی تو یہ صدقہ میں اپنے مال سے کرتا۔ تیجہ جس کو سویِم کہتے ہیں اور مسلمانوں میں معمول ہے وہ بھی اسی آیت کا اتباع ہے کہ اس میں رشتہ داروں اور یتیموں و مسکینوں پر تصدق ہوتا ہے اور کلمہ کا ختم اور قرآن پاک کی تلاوت اور دعا قول معروف ہے اس میں بعض لوگوں کو بے جا اصرار ہو گیا ہے جو بزرگوں کے اِس عمل کا ماخذ تو تلاش نہ کر سکے باوجود یہ کہ اتنا صاف قرآن پاک میں موجود تھا لیکن انہوں نے اپنی رائے کو دین میں دخل دیا اور عمل خیر کو روکنے پر مُصِر ہو گئے۔ اللّٰہ ہدایت کرے۔

(۹) اور ڈریں (ف ۲۱) وہ لوگ اگر اپنے   بعد ناتواں اولاد چھوڑتے  تو ان  کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے  کہ اللہ سے  ڈریں (ف ۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف ۲۳)

۲۱۔              وصی اور یتیموں کے ولی اور وہ لوگ جو قریبِ موت مرنے والے کے پاس موجود ہوں۔

۲۲۔              اور مرنے والے کی ذُرِّیَّت کے ساتھ خلاف شفقت کوئی کارروائی نہ کریں جس سے اُس کی اولاد پریشان ہو۔

۲ٍ۳۔              مریض کے پاس اُس کی موت کے قریب موجود ہونے والوں کی سیدھی بات تو یہ ہے کہ اُسے صدقہ و وصیت میں یہ رائے دیں کہ وہ اتنے مال سے کرے جس سے اس کی اولاد تنگ دست نادار نہ رہ جائے اور وصی و ولی کی سیدھی بات یہ ہے کہ وہ مرنے والے کی ذرّیّت سے حُسن خُلق کے ساتھ کلام کریں جیسا اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں۔

(۱۰) وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے   ہیں وہ تو اپنے  پیٹ میں نری آگ بھرتے  ہیں (ف ۲۴) اور کوئی دم جاتا ہے  کہ بھڑتے  دھڑے  (آتش کدے ) میں جائیں گے،

۲۴۔              یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ وہ سبب ہے عذاب کا۔ حدیث شریف میں ہے روزِ قیامت یتیموں کا مال کھانے والے اِس طرح اُٹھائے جائیں گے کہ اُن کی قبروں سے اور اُن کے منہ سے اور اُنکے کانوں سے دھواں نکلتا ہو گا تو لوگ پہچانیں گے کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے۔

(۱۱) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے  (ف ۲۵) تمہاری اولاد کے  بارے  میں (ف ۲۶) بیٹے  کا  حصہ دو بیٹیوں برابر ہے  (ف ۲۷)  پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے  اوپر (ف ۲۸)  تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور  اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف ۲۹) اور میت کے  ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے  ترکہ سے  چھٹا اگر میت  کے  اولاد ہو (ف ۳۰) پھر اگر اس کی اولاد  نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے  (ف ۳۱) تو  ماں  کا  تہائی پھر  اگر  اس کے   کئی  بہن  بھا ئی  ہو ں  (ف ۳۲) تو  ماں  کا  چھٹا (ف ۳۳) بعد اس وصیت کے   جو کر گیا اور دین کے  (ف ۳۴)  تمہارے  باپ  اور تمہارے  بیٹے   تم کیا جانو کہ ان  میں کون تمہارے  زیادہ کام آئے  گا (ف ۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے  اللہ کی طرف سے   بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،

۲۵۔              وَرَثہ کے متعلق۔

۲۶۔              اگر میت نے بیٹے بیٹیاں دونوں چھوڑی ہوں تو۔

۲۷۔              یعنی دختر کا حصہ پِسر سے آدھا ہے اور اگر مرنے والے نے صرف لڑکے چھوڑے ہوں تو کل مال اُنکا۔

۲۸۔              یا دو۔

۲۹۔              اِس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلا لڑکا وارث رہا ہو تو کُل مال اُس کا ہو گا کیونکہ اوپر بیٹے کا حصّہ بیٹیوں سے دُونا بتایا گیا ہے تو جب اکیلی لڑکی کا نصف ہوا تو اکیلے لڑکے کا اُس سے دُونا ہوا اور وہ کُل ہے۔

ٍ۳۰۔           خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کہ ان میں سے ہر ایک کو اولاد کہا جاتا ہے۔

ٍ۳۱۔           یعنی صرف ماں باپ چھوڑے اور اگر ماں با پ کے ساتھ زوج یا زوجہ میں سے کسی کو چھوڑا تو ماں کا حصہ زوج کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے اس کا تہائی ہو گا نہ کہ کُل کا تہائی۔

ٍ۳۲۔           سگے خواہ سوتیلے۔

ٍ۳ٍ۳۔           اور ایک ہی بھائی ہو تو وہ ماں کا حصّہ نہیں گھٹا سکتا۔

ٍ۳۴۔           کیونکہ وصیت اور دَین یعنی قرض ورثہ کی تقسیم سے مقدم ہے اور دَین وصیت پر بھی مقدم ہے۔ حدیث شریف میں ہے اِنَّ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ۔

ٍ۳۵۔           اِس لئے حصوں کی تعیین تمہاری رائے پر نہیں چھوڑی۔

(۱۲) اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے  تمہیں آدھا ہے  اگر ان کی  اولاد نہ ہو،  پھر اگر  ان کی اولاد ہو تو ان کے  ترکہ میں سے  تمہیں چوتھائی ہے  جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے  ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے  (ف ۳۶)  اگر تمہارے   اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے  اولاد ہو تو ان کا تمہارے  ترکہ میں سے  آٹھواں (ف ۳۷)  جو وصیت تم کر جاؤ اور دین  نکال کر،  اور اگر کسی  ایسے  مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے  ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے  اور ماں کی طرف سے  اس کا بھائی یا بہن ہے  تو ان میں سے  ہر ایک  کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے  زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک  ہیں (ف ۳۸) میت  کی  وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے  نقصان نہ پہنچایا ہو (ف ۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے  اور اللہ علم والا حلم والا  ہے۔

۳۶۔              خواہ ایک بی بی ہو یا کئی ایک ہو گی تو وہ اکیلی چوتھائی پائے گی کئی ہونگی تو سب اس چوتھائی میں برابر شریک ہوں گی خواہ بی بی ایک ہو یا کئی ہوں حصہ یہی رہے گا۔

ٍ۳۷۔           خواہ بی بی ایک ہو یا زیادہ۔

ٍ۳۸۔           کیونکہ وہ ماں کے رشتہ کی بدولت مستحق ہوئے اور ماں تہائی سے زیادہ نہیں پاتی اور اِسی لئے اُن میں مرد کا حصہ عورت سے زیادہ نہیں ہے۔

ٍ۳۹۔           اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کر کے یا کسی وارث کے حق میں وصیت کر کے مسائل۔ فرائضِ وارث کئی قِسم ہیں اصحابِ فَرائض یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے حصے مقرر ہیں مثلاً بیٹی ایک ہو تو آدھے مال کی مالک زیادہ ہوں تو سب کے لئے دو تہائی۔ پوتی اور پرپوتی اور اس سے نیچے کی ہر پوتی اگر میت کے اولاد نہ ہو تو بیٹی کے حکم میں ہے اور اگر میت نے ایک بیٹی چھوڑی ہو تو یہ اُس کے ساتھ چھٹا پائے گی اور اگر میت نے بیٹا چھوڑا تو ساقط ہو جائے گی کچھ نہ پائے گی اور اگر میت نے دو بیٹیاں چھوڑیں تو بھی پوتی ساقط ہو گی لیکن اگر اُس کے ساتھ یا اُس کے نیچے درجہ میں کوئی لڑکا ہو گا تو وہ اُس کو عَصبہ بنا دے گا۔ سگی بہن میّت کے بیٹا یا پوتا نہ چھوڑنے کی صورت میں بیٹیوں کے حکم میں ہے۔ علاتی بہنیں جو باپ میں شریک ہوں اور اُن کی مائیں علیٰحدہ علیٰحدہ ہوں وہ حقیقی بہنوں کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی مثل ہیں اور دونوں قسم کی بہنیں یعنی علاتی و حقیقی میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور بیٹے اور پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ کے ساتھ ساقط اور امام صاحب کے نزدیک دادا کے ساتھ بھی محروم ہیں۔ سوتیلے بھائی بہن جو فقط ماں میں شریک ہوں اِن میں سے ایک ہو تو چھٹا اور زیادہ ہوں تو تہائی اور ان میں مرد عورت برابر حصہ پائیں گے اور بیٹے پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ دادا کے ہوتے ساقِط ہو جائیں گے باپ چھٹا حصہ پائے گا اگر میت نے بیٹا یا پوتا یا اُس سے نیچے کے پوتے چھوڑے ہوں اور اگر میت نے بیٹی یا پوتی یا اور نیچے کی کوئی پوتی چھوڑی ہو توباپ چھٹا اور وہ باقی بھی پائے گا جو اصحاب فرض کو دے کر بچے دادا یعنی باپ کا باپ۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں مثل باپ کے ہے سوائے اس کے کہ ماں کو ثُلثِ مَابَقِیَ کی طرف رد نہ کر سکے گا۔ ماں کا چھٹا حصہ ہے اگر میت نے اپنی اولاد یا اپنے بیٹے یا پوتے یا پرپوتے کی اولاد یا بہن بھائی میں سے دو چھوڑے ہوں خواہ وہ بھائی سگے ہوں یا سوتیلے اور اگر اُن میں سے کوئی نہ چھوڑا ہو تو ماں کل مال کا تہائی پائے گی اور اگر میت نے زوج یا زوجہ اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو ماں کو زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو باقی رہے اُس کا تہائی ملے گا اور جَدّہ کا چھٹا حصہ ہے خواہ وہ ماں کی طرف سے ہو یعنی نانی یا باپ کی طرف سے ہو یعنی دادی ایک ہو یا زیادہ ہوں اور قریب والی دور والی کے لئے حاجب ہو جاتی ہے اور ماں ہر ایک جدہ کو محجوب کرتی ہے اور باپ کی طرف کی جدات باپ کے ہونے سے محجوب ہوتی ہیں اِس صورت میں کچھ نہ ملے گا زوج چہارم پائے گا اگر میت نے اپنی یا اپنے بیٹے پوتے پر پوتے وغیرہ کی اولاد چھوڑی ہو اور اگر اس قسم کی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر نصف پائے گا زوجہ میت کی اور اس کے بیٹے پوتے وغیرہ کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ پائے گی اور نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی عصبات وہ وارث ہیں جن کے لئے کوئی حصہ معیّن نہیں اصحابِ فرض سے جو باقی بچتا ہے وہ پاتے ہیں اِن میں سب سے اولیٰ بیٹا ہے پھر اُس کا بیٹا پھر اور نیچے کے پوتے پھر باپ پھر دادا پھر آبائی سلسلہ میں جہاں تک کوئی پایا جائے پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کا بیٹا پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا پھر دادا کے چچا پھر آزاد کرنے والا پھر اُس کے عصبات ترتیب وار اور جن عورتوں کا حصّہ نصف یا دو تہائی ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور جو ایسی نہ ہوں وہ نہیں ذوی الارحام اصحابِ فرض اور عصبات کے سوا جو اقارب ہیں وہ ذوی الارحام میں داخل ہیں اور ان کی ترتیب عصبات کی مثل ہے۔

(۱۳) یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے  اللہ  اور  اللہ کے  رسول کا اللہ اسے  باغوں میں لے  جائے  گا جن کے  نیچے  نہریں رواں  ہمیشہ ان میں رہیں گے، اور یہی ہے   بڑی کامیابی۔

(۱۴) اور جو اللہ اور اس کے  رسول کی نافرمانی کرے  اور اس کی کل حدوں سے  بڑھ جائے  اللہ اسے  آگ میں داخل کرے  گا جس میں ہمیشہ رہے   گا اور اس کے  لئے  خواری کا عذاب ہے  (ف ۴۰)

۴۰۔              کیونکہ کُل حَدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے اس لئے کہ مؤمن کیسا بھی گنہگار ہو ایمان کی حد سے تو نہ گزرے گا۔

(۱۵) اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے  میں کے  (ف ۴۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے  دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف ۴۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا لے  یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے   (ف ۴۳)

۴۱۔              یعنی مسلمانوں میں کے۔

۴۲۔              کہ وہ بدکاری نہ کرنے پائیں۔

۴۳۔              یعنی حد مقرر فرمائے یا توبہ اور نکاح کی توفیق دے جو مفسرین اس آیت میں  اَلْفَاحِشَۃَ  (بدکاری) سے زنا مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حبس کا حکم حدود نازل ہونے سے قبل تھا حدود کے ساتھ منسوخ کیا گیا (خازن و جلالین و احمدی)۔

(۱۶) اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف ۴۴)  پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے  والا مہربان ہے  (ف ۴۵)

۴۴۔              جِھڑ کو گُھڑ کو برا کہو شرم دلاؤ جوتیاں مارو(جلالین و مدارک و خازن وغیرہ)۔

۴۵۔              حسن کا قول ہے کہ زنا کی سز ا پہلے ایذا مقرر کی گئی پھر حَبس پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ابن بحر کا قول ہے کہ پہلی آیت  وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ  ان عورتوں کے باب میں ہے جو عورتوں کے ساتھ(بطریقِ مُساحقت) بدکاری کرتی ہیں اور دوسری آیت  وَالَّذَانِ  لواطت کرنے والوں کے حق میں ہے اور زانی اور زانیہ کا حکم سورہ نور میں بیان فرمایا گیا اس تقدیر پر یہ آیتیں غیر منسوخ ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لئے دلیل ظاہر ہے اس پر جو وہ فرماتے ہیں کہ لواطت میں تعزیر ہے حد نہیں۔

(۱۷) وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے  اپنے  فضل سے  لازم کر لیا ہے  وہ انہیں کی ہے  جو نادانی سے  برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کر لیں (ف ۴۶) ایسوں پر اللہ  اپنی رحمت سے  رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

۴۶۔              ضَحّاک کا قول ہے کہ جو توبہ موت سے پہلے ہو وہ قریب ہے۔

(۱۸) اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے  رہتے  ہیں، (ف ۴۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے  تو کہے  اب م  یں نے  توبہ کی (ف ۴۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے  لئے  ہم نے  دردناک عذاب تیار رکھا ہے  (ف ۴۹)

۴۷۔              اور توبہ میں تاخیر کرتے جاتے ہیں۔

۴۸۔              قبول توبہ کا وعدہ جو اوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے اللّٰہ مالک ہے جو چاہے کرے اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی (احمدی)۔

۴۹۔              اس سے معلوم ہوا کہ وقتِ موت کافر کی توبہ اور اس کا ایمان مقبول نہیں۔

(۱۹) اے  ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے  وارث بن جاؤ زبردستی (ف ۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے  کہ جو مہر  ان کو دیا تھا اس میں سے  کچھ لے  لو (ف ۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بے  حیا ئی کا کام کریں (ف ۵۲) اور ان سے  اچھا برتاؤ کرو (ف ۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف ۵۴) تو قریب ہے  کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (ف ۵۵)

۵۰۔              شان نزول: زمانہ جاہلیت کے لوگ مال کی طرح اپنے اقارب کی بی بیوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو بے مہر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کر دیتے اور خود مہر لے لیتے یا انہیں قید کر رکھتے کہ جو ورثہ انہوں نے پایا ہے وہ دے کر رہائی حاصل کریں یا مر جائیں تو یہ اُن کے وارث ہو جائیں غرض وہ عورتیں بالکل ان کے ہاتھ میں مجبور ہوتی تھیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کر سکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی۔

۵۱۔              حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا یہ اس کے متعلق ہے جو اپنی بی بی سے نفرت رکھتا ہو اور اِس لئے بدسلوکی کرتا ہو کہ عورت پریشان ہو کر مہر واپس کر دے یا چھوڑ دے اس کی اللّٰہ تعالیٰ نے مُمانعت فرمائی۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجعت کرتے پھر طلاق دیتے اس طرح اس کو مُعَلَّق رکھتے تھے کہ نہ وہ ان کے پاس آرام پا سکتی نہ دوسری جگہ ٹھکانہ کر سکتی، اس کو منع فرمایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ مَیّت کے اولیاء کو خطاب ہے کہ وہ اپنے مورث کی بی بی کو نہ روکیں۔

۵۲۔              شوہر کی نافرمانی یا اس کی یا اس کے گھر والوں کی ایذا و  بدزبانی یا حرام کاری ایسی کوئی حالت ہو تو خُلع چاہنے میں مُضائِقہ نہیں۔

۵۳۔              کھلانے پہنانے میں بات چیت میں اور زوجیت کے امور میں۔

۵۴۔              بد خُلقی یا صورت ناپسند ہونے کی وجہ سے تو صبر کرو اور جدائی مت چاہو۔

۵۵۔              ولد صالح وغیرہ۔

(۲۰) اور اگر تم ایک بی بی کے  بدلے  دوسری بدلنا چاہو (ف ۵۶) اور اسے  ڈھیروں مال دے  چکے  ہو (ف ۵۷) تو اس میں سے  کچھ واپس نہ لو (ف ۵۸) کیا اسے  واپس لو گے  جھوٹ باندھ کر اور کھلے  گناہ سے  (ف ۵۹)

۵۶۔              یعنی ایک کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا۔

۵۷۔              اس آیت سے گراں مہر مقرر کرنے کے جواز پر دلیل لائی گئی ہے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایا کہ عورت کے مہر گراں نہ کرو ایک عورت نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اے ابن خطاب اللّٰہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اس پر امیر المؤمنین عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا اے عمر تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے جو چاہو مقرر کرو سبحان اللّٰہ خلیفۂ رسول کے شانِ انصاف اور نفس شریف کی پاکی رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالیٰ اِتَّبَاعَہٗ آمین۔

۵۸۔              کیونکہ جدائی تمہاری طرف سے ہے۔

۵۹۔              یہ اہلِ جاہلیّت کے اس فعل کا رد ہے کہ جب اُنہیں کوئی دوسری عورت پسند آتی تو وہ اپنی بی بی پر تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس دے دے اس طریقہ کو اس آیت میں منع فرمایا اور جھوٹ اور گناہ بتایا۔

(۲۱) اور کیونکر اسے  واپس لو گے  حالانکہ تم میں ایک دوسرے  کے  سامنے  بے  پردہ  ہولیا اور وہ تم سے  گاڑھا عہد لے  چکیں (ف ۶۰)

۶۰۔              وہ عہد اللّٰہ تعالی کا یہ ارشا دہے  فَاِمْسَاک ٌم بِمَعرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْح ٌم بِاِحْسَانٍ

(۲۲) اور باپ دادا کی منکوحہ سے   نکاح نہ کرو (ف ۶۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے  حیائی (ف ۶۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ(ف ۶۳)

۶۱۔              مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکَّد ہو جاتا ہے۔

۶۲۔              جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنی ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا۔

۶۳۔              کیونکہ باپ کی بی بی بمنزلہ ماں کے ہے کہا گیا ہے نکاح سے وطی مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موطوء ہ یعنی جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کر کے یا بطریق زنا یا وہ باندی ہو اس کا وہ مالک ہو کر ان میں سے ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔

 (۲۳) حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف ۶۴) اور بیٹیاں (ف ۶۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف ۶۶) اور تمہاری مائیں جنہوں نے  دودھ پلایا (ف ۶۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف ۶۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود  میں ہیں (ف ۶۹) ان بیبیوں سے  جن سے  تم صحبت کر چکے  ہو تو پھر اگر تم نے  ان سے  صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے  حرج نہیں (ف ۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی  بیبئیں (ف ۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف ۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے  والا مہربان ہے۔

۶۴۔              اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں۔اب اس کے بعد جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بیان فرمایا جاتا ہے ان میں سات تو نسب سے حرام ہیں۔ اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں۔

۶۵۔              پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں۔

۶۶۔              یہ سب سگی ہوں یا سوتیلی ان کے بعد ان عورتوں کا بیان کیا جاتا ہے جو سبب سے حرام ہیں۔

۶۷۔              دودھ کے رشتے شِیر خواری کی مدت میں قلیل دودھ پیا جائے یا کثیر اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے شِیر خواری کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے نزدیک تیس ماہ اور صاحبین کے نزدیک دو سال ہیں شِیر خواری کی مدّت کے بعد دودھ پیا جائے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی اللّٰہ نے رضاعت (شیر خواری ) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ اور اُس شوہرسے اُس کے جو بچے پیدا ہوں وہ شیر خوار کے رضاعی بھائی بہن اور اُس شوہر کے علاوہ دوسرے شوہر سے جو ہوں وہ اس کی سوتیلے بھائی بہن اس میں اصل یہ حدیث ہے کہ رضاع سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں اس لئے شیر خوار پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے نسبی و رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں۔

۶۸۔              یہاں سے محرمات بالصَّہریۃ کا بیان ہے وہ تین ذکر فرمائی گئیں۔(۱) بیبیوں کی مائیں، بیبیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیبیاں بیبیوں کی مائیں صرف عقد نکاح سے حرام ہو جاتی ہیں خواہ وہ بیبیاں مدخولہ ہوں یا غیر مدخولہ (یعنی ان سے صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو)۔

۶۹۔              گود میں ہونا غالب حال کا بیان ہے حرمت کے لئے شرط نہیں۔

۷۰۔              ان کی ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صُحبت جُدائی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔

۷۱۔              اس سے مُتبنّیٰ نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رَضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بیٹوں میں داخل ہیں۔

۷۲۔              یہ بھی حرام ہے خواہ دونوں بہنوں کو نکا ح میں جمع کیا جائے یا ملک یمین کے ذریعے سے وطی میں اور حدیث شریف میں پھوپھی،بھتیجی اور خالہ بھانجی کا نکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا اور ضابطہ یہ کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتوں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہو جیسے کہ پھو پھی بھتیجی اگر پھوپھی کو مرد فرض کیا جائے تو چچا ہوا بھتیجی اس پر حرام ہے اور اگر بھتیجی کو مرد فرض کیا جائے تو بھتیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے حرمت دونوں طرف ہے اگر ایک طرف سے ہو تو جمع حرام نہ ہو گی جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی ان دونوں کو جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی لڑکی کو مرد فرض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی بیوی تو حرام رہتی ہے۔ مگر دوسری طرف سے یہ بات نہیں ہے یعنی شوہر کی بی بی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو یہ اجنبی ہوگا اور کوئی رشتہ ہی نہ رہے گا۔

 (۲۴) اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آ جائیں (ف ۷۳) یہ اللہ کا نوشتہ ہے  تم پر اور ان (ف ۷۴) کے  سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے  مالوں کے  عوض تلاش کرو قید لاتے  (ف ۷۵) نہ پانی گراتے  (ف ۷۶) تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے  بندھے  ہوئے  مہر انہیں دو، اور قرار داد کے  بعد اگر تمہارے  آپس میں کچھ رضامندی ہو جاوے  تو اس میں گناہ نہیں (ف ۷۷) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔

۷۳۔              گرفتار ہو کر بغیر اپنے شوہروں کے وہ تمہارے لئے بعد استبراء حلال ہیں اگرچہ دارالحرب میں اُن کے شوہر موجود ہوں کیونکہ تباین دارین کی وجہ سے اُن کی شوہروں سے فُرقت ہو چکی۔ شانِ نزول: حضرت ابوسعید خُدْرِی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ہم نے ایک روز بہت سی قیدی عورتیں پائیں جن کے شوہر دارالحرب میں موجود تھے تو ہم نے اُن سے قربت میں تامّل کیا،اور سیدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

۷۴۔              محرمات مذکورہ۔

۷۵۔              نکاح سے یا مِلک یمین سے اِس آیت سے کئی مسئلے ثابت ہوئے مسئلہ نکاح میں مہر ضروری ہے

مسئلہ: اگر مہر معین نہ کیا ہو جب بھی واجب ہوتا ہے

مسئلہ: مہر مال ہی ہوتا ہے نہ کہ خدمت و تعلیم وغیرہ جو چیزیں مال نہیں ہیں مسئلہ اتنا قلیل جس کو مال نہ کہا جائے مہر ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا حضرت جابر اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ مہر کی ادنیٰ مقدار دس درم ہیں اس سے کم نہیں ہو سکتا۔

۷۶۔              اس سے حرام کاری مراد ہے اور اِس تعبیر میں تنبیہ ہے کہ زانی محض شہوت رانی کرتا اور مستی نکالتا ہے اور اس کا فعل غرضِ صحیح اور مقصدِ حَسن سے خالی ہوتا ہے نہ اولاد حاصل کرنا نہ نسل و نسب محفوظ رکھنا نہ اپنے نفس کو حرام سے بچانا اِن میں سے کوئی بات اس کو مدّ نظر نہیں ہوتی وہ اپنے نطفۂ و مال کو ضائع کر کے دین و دنیا کے خسارہ میں گرفتار ہوتا ہے۔

۷۷۔              خواہ عورت مہر مقرّر شدہ سے کم کر دے یا بالکل بخش دے یا مرد مقدارِ مہر کی اور زیادہ کر دے۔

 (۲۵) اور تم میں بے  مقدوری کے  باعث جن کے  نکاح میں آزاد عورتیں ایمان والیاں ف نہ ہوں تو ان سے  نکاح کرے  جو تمہارے  ہاتھ کی مِلک ہیں ایمان وا لی کنیزیں (ف ۷۸) اور اللہ تمہارے  ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے  سے  ہے  تو ان سے  نکاح کرو ان کے  مالکوں کی اجازت سے  (ف ۸۰) اور حسب دستور ان کے  مہر انہیں دو (ف ۸۱) قید میں آتیاں نہ مستی نکالتی اور نہ یار بناتی (ف ۸۲) جب وہ قید میں آ جائیں (ف ۸۳) پھر برا کام کریں تو ان پر اس سزا کی آدھی ہے  جو آزاد عورتوں پر ہے  (ف ۸۴) یہ (ف ۸۵) اس کے  لئے  جسے  تم میں سے  زنا کا اندیشہ ہے، اور صبر کرنا تمہارے  لئے  بہتر ہے  (ف ۸۶) اور اللہ بخشنے  والا مہربان ہے،

۷۸۔              یعنی مسلمانوں کی ایماندار کنیزیں کیونکہ نکاح اپنی کنیز سے نہیں ہوتا وہ بغیر نکاح ہی مولیٰ کے لئے حلال ہے معنیٰ یہ ہیں کہ جو شخص حُرَّہْ مؤمنہ سے نکاح کی مَقدِرت و وُسعت نہ رکھتا ہو وہ ایماندار کنیز سے نکاح کرے یہ بات عار کی نہیں ہے۔

مسئلہ : جو شخص حُرّہْ سے نکاح کی وسعت رکھتا ہو اُس کو بھی مسلمان باندی سے نکاح کرنا جائز ہے یہ مسئلہ اس آیت میں تو نہیں ہے مگر اُوپر کی آیت  وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ سے ثابت ہے

مسئلہ: ایسے ہی کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز ہے اور مؤمنہ کے ساتھ افضل و مستحَب ہے جیسا کہ اس آیت سے ثابت ہوا۔

۷۹۔              یہ کوئی عار کی بات نہیں فضیلت ایمان سے ہے اِسی کو کافی سمجھو۔

۸۰۔              مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ باندی کو اپنے مولیٰ کی اجازت بغیر نکاح کا حق نہیں اسی طرح غلام کو۔

۸۱۔              اگرچہ مالک اُن کے مہر کے مولیٰ ہیں لیکن باندیوں کو دینا مولیٰ ہی کو دینا ہے کیونکہ خود وہ اور جو کچھ اُن کے قبضہ میں ہو سب مولیٰ کی مِلک ہے یا یہ معنیٰ ہیں کہ اُن کے مالکوں کی اجازت سے مہر انہیں دو۔

۸۲۔              یعنی علانیہ و خفیہ کِسی طرح بدکاری نہیں کرتیں۔

۸۳۔              اور شوہر دار ہو جائیں۔

۸۴۔              جو شوہر دار نہ ہوں یعنی پچاس تازیانے کیونکہ حُرہ کے لئے سو تازیانے ہیں اور باندیوں کو رَجم نہیں کیا جاتا کیونکہ رجم قابلِ تَنصِیف نہیں ہے۔

۸۵۔              باندی سے نکاح کرنا۔

۸۶۔              باندی کے ساتھ نکاح کرنے سے کیونکہ اِس سے اولاد مملوک پیدا ہو گی۔

 (۲۶)               اللہ چاہتا ہے  کہ اپنے  احکام تمہارے  لئے  بیان کر دے  اور تمہیں اگلوں کی روشیں بتا دے  (ف ۸۷) اور تم پر اپنی رحمت سے  رجوع فرمائے  اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

۸۷۔                   انبیاء و صالحین کی۔

(۲۷)                اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے  رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے  مزوں کے  پیچھے  پڑے  ہیں وہ چاہتے  ہیں کہ تم سیدھی راہ سے  بہت الگ ہو جاؤ (ف ۸۸)

۸۸۔                   اور حرام میں مبتلا ہو کر اِنہیں کی طرح ہو جاؤ۔

(۲۸)                اللہ چاہتا ہے  کہ تم پر تخفیف کرے  (ف ۸۹) اور آدمی کمزور بنایا گیا (ف ۹۰)

۸۹۔              اور اپنے فضل سے احکام سَہل کرے۔

۹۰‏                                  اس کو عورتوں سے اور شَہوات سے صبر دُشوار ہے حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا عورتوں میں بھلائی نہیں اور اُن کی طرف سے صبر بھی نہیں ہو سکتا نیکوں پر وہ غالب آتی ہیں بد اُن پر غالب آ جاتے ہیں۔

(۲۹)                                اے  ایمان والو!  آپس میں ایک دوسرے  کے  مال ناحق نہ کھاؤ (ف ۹۱) مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو (ف ۹۲) اور اپنی جانیں قتل نہ کرو (ف ۹۳) بیشک اللہ تم پر مہربان ہے

۹۱۔              چوری خیانت غصب۔ جوا، سُود جتنے حرام طریقے ہیں سب ناحق ہیں سب کی مُمانعت ہے۔

۹۲۔              وہ تمہارے لئے حلال ہے۔

۹۳۔              ایسے اَفعال اختیار کر کے جو دنیا یا آخرت میں ہلاکت کا باعث ہوں اس میں مسلمانوں کو قتل کرنا بھی آگیا اور مؤمن کا قتل خود اپنا ہی قتل ہے کیونکہ تمام مومن نفس واحد کی طرح ہیں

مسئلہ : اِس آیت سے خود کُشی کی حُرمت بھی ثابت ہوئی اور نفس کا اِتبّاع کر کے حرام میں مبتلا ہونا بھی اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے۔

(۳۰) اور جو ظلم و زیادتی سے  ایسا کرے  گا تو عنقریب ہم اسے  آگ میں داخل کریں گے  اور یہ اللہ کو آسان ہے۔

 (۳۱) اگر بچتے  رہو کبیرہ گناہوں سے  جن کی تمہیں ممانعت ہے  (ف ۹۴) تو تمہارے  اور گناہ (ف ۹۵) ہم بخش دیں گے  اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے،

۹۴۔              اور جن پر وعید آئی یعنی وعدۂ عذاب دیا گیا مثلِ قتل زنا چوری وغیرہ کے۔

۹۵۔              صغائر مسئلہ کفر و شرک تو نہ بخشا جائے گا اگر آدمی اِسی پر مرا(اللّٰہ کی پناہ) باقی تمام گناہ صغیرہ ہوں یا کَبیرہ اللّٰہ کی مشیت میں ہیں چاہے اُن پر عذاب کرے چاہے معاف فرمائے۔

(۳۲) اور ا س کی آرزو نہ کرو جس سے  اللہ نے  تم میں ایک کو دوسرے  پر بڑائی دی (ف ۹۶) مردوں کے  لئے  ان کی کمائی سے  حصہ ہے، اور عورتوں کے  لئے  ان کی کمائی سے  حصہ (ف ۹۷) اور اللہ سے  اس کا فضل مانگو، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

۹۶۔              خواہ دُنیا کی جہت سے یا دین کی کہ آپس میں حسد و بغض نہ پَیدا ہو حسد نہایت بری صفت ہے حسد والا دوسرے کو اچھے حال میں دیکھتا ہے تو اپنے لئے اس کی خواہش کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا بھائی اس نعمت سے محروم ہو جائے۔ یہ ممنوع ہے بندے کو چاہئے کہ اللّٰہ کی تقدیر پر راضی رہے اُس نے جس بندے کو جو فضیلت دی خواہ دولت و غنا کی یا دینی مَناصب و مدارج کی یہ اُس کی حکمت ہے شانِ نزول: جب آیتِ میراث میں  لِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط نازل ہوا اور میت کے تَرکہ میں مرد کا حصّہ عورت سے دُونا مقرر کیا گیا تو مَردوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ آخرت میں نیکیوں کا ثواب بھی ہمیں عورتوں سے دونا ملے گا اور عورتوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ گناہ کا عذاب ہمیں مردوں سے آدھا ہو گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اِس میں بتایا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے بندے کو چاہئے کہ وہ اُس کی قضا پر راضی رہے۔

۹۷۔              ہر ایک کو اُس کے اعمال کی جزا ء۔ شان نزول : اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللّٰہ عنہانے فرمایا کہ ہم بھی اگر مرد ہوتے تو جہاد کرتے اور مَردوں کی طرح جان فدا کرنے کا ثواب عظیم پاتے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اِنہیں تسکین دی گئی کہ مَرد جہاد سے ثواب حاصل کر سکتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اورپاکدامنی سے ثواب حاصِل کر سکتی ہیں۔

(۳۳) اور ہم نے  سب کے  لئے  مال کے  مستحق بنا دیے  ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے  اور وہ جن سے  تمہارا حلف بندھ چکا (ف ۹۸) انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے  سامنے  ہے،

۹۸۔              اس سے عقدِ موالات مراد ہے اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی مجہولُ  النّسب شخص دُوسرے سے یہ کہے کہ تو میرا مولیٰ ہے میں مر جاؤں تو تو میرا وارث ہو گا اور میں کوئی جِنَایَت نہ کروں تو تجھے دِیَت دینی ہو گی دُوسرا کہے میں نے قبول کیا اِس صورت میں یہ عقد صحیح ہو جاتا ہے اور قبول کرنے والا وارث بن جاتا ہے اور دِیّت بھی اُس پر آ جاتی ہے اور دوسرا بھی اِسی کی طرح سے مجہولُ النَسب ہو اور ایسا ہی کہے اور یہ بھی قبول کر لے تو اُن میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث اور اُس کی دِیّت کا ذِمہ دار ہو گا یہ عقد ثابت ہے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اِس کے قائل ہیں۔

(۳۴) مرد افسر ہیں عورتوں پر (ف ۹۹) اس لیے  کہ اللہ نے  ان میں ایک کو دوسرے  پر فضیلت دی(ف ۱۰۰) اور اس لئے  کہ مردوں نے  ان پر اپنے  مال خرچ کیے  (ف ۱۰۱) تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ف ہیں خاوند کے  پیچھے  حفاظت رکھتی ہیں (ف ۱۰۲) جس طرح اللہ نے  حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو (ف ۱۰۳) تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے  الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے  حکم میں آ جائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے (ف ۱۰۵)

۹۹۔              تو عورتوں کو اُن کی اطاعت لازم ہے اور مردوں کو حق ہے کہ وہ عورتوں پر رِعایا کی طرح حکمرانی کریں اور اُن کے مصالح اور تدابیر اور تادیب و حفاظت کا سرانجام کریں شانِ نزول: حضرت سعد بن ربیع نے اپنی بی بی حبیبہ کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مار ا اُن کے والِد انہیں سیدِ عالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و سلم کی خدمت میں لے گئے اور انکے شوہر کی شکایت کی اِس باب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

۱۰۰۔            یعنی مردوں کو عورتوں پر عقل و دانائی اور جہاد اور نبوّت و خلافت و امامت و اذان و خطبہ و جماعت و جمعہ و تکبیر و تشریق اور حدو قصاص کی شہادت کے اور ورثہ میں دونے حصّے اور تعصیب اور نکاح و طلاق کے مالک ہونے اور نسبوں کے ان کی طرف نسبت کئے جانے اور نماز و روزہ کے کامل طور پر قابل ہونے کے ساتھ کہ اُن کے لئے کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے کہ نماز و روزہ کے قابل نہ ہوں اور داڑھیوں اور عِماموں کے ساتھ فضیلت دی۔

۱۰۱۔            مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے نفقے مردوں پر واجب ہیں۔

۱۰۲۔            اپنی عفت اور شوہروں کے گھر مال اور اُن کے راز کی۔

۱۰۳۔            انہیں شوہر کی نافرمانی اور اُس کے اطاعت نہ کرنے اور اُس کے حقوق کا لحاظ نہ رکھنے کے نتائج سمجھاؤ جو دُنیا و آخرت میں پیش آتے ہیں اور اللّٰہ کے عذاب کا خوف دِلاؤ اور بتاؤ کہ ہمارا تم پر شرعاً حق ہے اور ہماری اطاعت تم پر فرض ہے اگر اِس پر بھی نہ مانیں۔

۱۰۴۔            ضرب غیر شدید۔

۱۰۵۔            اور تم گناہ کرتے ہو پھر بھی وہ تمہاری توبہ قبول فرماتا ہے تو تمہاری زیردست عورتیں اگر قصور کرنے کے بعد معافی چاہیں تو تمہیں بطریق اولیٰ معاف کرنا چاہئے اور اللّٰہ کی قدرت و برتری کا لحاظ رکھ کر ظلم سے مجتنب رہنا چاہئے۔

(۳۵) اور اگر تم کو میاں بی بی کے  جھگڑے  کا خوف ہو (ف ۱۰۶) تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے  بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے  (ف ۱۰۷) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے  تو اللہ ان میں میل کر دے  گا، بیشک اللہ جاننے  والا خبردار ہے  (ف ۱۰۸)

۱۰۶۔            اور تم دیکھو کہ سمجھانا،علیٰحدہ سونا، مارنا کچھ بھی کار آمد نہ ہوا اور دونوں کی نا اتفاقی رفع نہ ہوئی۔

۱۰۷۔            کیونکہ اقارب اپنے رشتہ داروں کے خانگی حالات سے واقف ہوتے ہیں اور زوجین کے درمیان موافقت کی خواہش بھی رکھتے ہیں اور فریقین کو ان پر اطمینان بھی ہوتا ہے اور اُن سے اپنے دل کی بات کہنے میں تَامل بھی نہیں ہوتا ہے۔

۱۰۸۔            جانتا ہے کہ زوجین میں ظالم کون ہے۔

سئلہ: پنچوں کو زوجین میں تفریق کر دینے کا اختیار نہیں۔

(۳۶) اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ (ف ۱۰۹) اور ماں باپ سے  بھلائی کرو (ف ۱۱۰) اور رشتہ داروں (ف ۱۱۱) اور یتیموں اور محتاجوں (ف ۱۱۲) اور پاس کے  ہمسائے  اور دور کے  ہمسائے  (ف ۱۱۳) اور کروٹ کے  ساتھی (ف ۱۱۴) اور راہ گیر (ف ۱۱۵) اور اپنی باندی غلام سے  (ف ۱۱۶) بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے  والے  بڑائی مارنے  والا (ف ۱۱۷)

۱۰۹۔            نہ جاندار کو نہ بے جان کو نہ اُس کی ربوبیت میں نہ اُس کی عبادت میں۔

۱۱۰۔            ادب و تعظیم کے ساتھ اور اُنکی خدمت میں مستعِد رہنا اور اُن پر خرچ کرنے میں کمی نہ کرو۔ مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ فرمایا اُس کی ناک خاک آلود ہو حضرت ابوہریرہ نے عرض کیا کِس کی یا رسول اللّٰہ فرمایا جس نے بوڑھے ماں باپ پائے یا اُن میں سے ایک کو پایا اور جنّتی نہ ہو گیا۔

۱۱۱۔            حدیث شریف میں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے۔(بخاری و مسلم)۔

۱۱۲۔            حدیث : سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا ایسے قریب ہوں گے جیسے اَنگشت شہادت اور بیچ کی انگلی (بخاری شریف)

حدیث: سیدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی امداد و خبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل اللّٰہ کے مثل ہے۔

۱۱ٍ۳۔            سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے اِس حد تک کہ گمان ہوتا تھا کہ ُان کو وارث قرار دیں ( بخاری و مسلم)۔

۱۱۴۔            یعنی بی بی یا جو صحبت میں رہے یا رفیقِ سفر ہو یا ساتھ پڑھے یا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے۔

۱۱۵۔            اور مسافر و مہمان حدیث: جو اللّٰہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھے اُسے چاہئے کہ مہمان کا اکرام کرے۔(بخاری ومسلم)۔

۱۱۶۔            کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دو اور سخت کلامی نہ کرو اور کھانا کپڑا بقدر ضرورت دو۔حدیث: رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں بد خُلق داخل نہ ہو گا۔(ترمذی)۔

۱۱۷۔            مُتکبِّر خود بیں جو رشتہ داروں اور ہمسایوں کو ذلیل سمجھے۔

(۳۷) جو آپ بخل کریں اور اوروں سے  بخل کے  لئے  کہیں (ف ۱۱۸) اور اللہ نے  جو انہیں اپنے  فضل سے   دیا ہے  اسے  چھپائيں (ف ۱۱۹) اور کافروں کے  لئے  ہم نے  ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،

۱۱۸۔            بخل یہ ہے کہ خود کھائے دُوسرے کو نہ دے شُحْ یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے سخا یہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دُوسروں کو بھی کھلائے، جود یہ ہے کہ آ پ نہ کھائے دوسرے کو کھلائے۔ شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے

مسئلہ : اس سے معلُوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے۔

۱۱۹۔            حدیث شریف میں ہے کہ اللّٰہ کو پسند ہے کہ بندے پر اُس کی نعمت ظاہر ہو۔

مسئلہ: اللّٰہ کی نعمت کا اظہار اخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔

(۳۸) اور وہ جو اپنے   مال لوگوں کے  دکھاوے  کو خرچ کرتے  ہیں (ف ۱۲۰) اور ایمان نہیں لاتے  اللہ اور نہ قیامت پر، اور جس کا مصاحب شیطان ہوا، (ف ۱۲۱) تو کتنا برا مصاحب ہے،

۱۲۰۔            بخل کے بعد صرفِ بیجا کی برائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رضائے الٰہی اِنہیں مقصُود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی اِنہیں کے حکم میں ہیں جن کا حکم اُوپر گزر گیا۔

۱۲۱۔            دنیاو آخرت میں دنیا میں تو اس طرح کہ وہ شیطانی کام کر کے اُس کو خوش کرتا رہا اور آخرت میں اس طرح کہ ہر کافر ایک شیطان کے ساتھ آتشی زنجیر میں جکڑا ہوا ہو گا۔(خازن)۔

(۳۹) اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے   اللہ اور  قیامت پر اور اللہ کے  دیے  میں سے  اس کی  راہ میں خرچ کرتے  (ف ۱۲۲) اور اللہ ان کو جانتا ہے،

۱۲۲۔            اس میں سَراسر اُن کا نفع ہی تھا۔

(۴۰) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا  اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے  دونی کرتا اور اپنے  پاس سے  بڑا ثواب دیتا ہے۔

 (۴۱) تو کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے  ایک گواہ لائیں (ف ۱۲۳) اور اے  محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ  اور نگہبان بنا کر لائیں (ف ۱۲۴)

۱۲ٍ۳۔            اُس نبی کو اور وہ اپنی امت کے ایمان و کفر و نفاق اور تمام افعال پر گواہی دیں کیونکہ انبیاء اپنی اُمتوں کے اَفعال سے باخبر ہوتے ہیں۔

۱۲۴۔            کہ تم نبیُ الانبیاء اور سارا عالَم تمہاری اُمّت۔

(۴۲) اس دن تمنا کریں گے  وہ جنہوں نے  کفر کیا اور رسول کی نافرمانی کی کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کر دی جائے، اور کوئی بات اللہ سے  نہ چھپا سکیں گے  (ف ۱۲۵)

۱۲۵۔            کیونکہ جب وہ اپنی خطاء سے مُکْریں گے اور قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مُشرِک نہ تھے اور ہم نے خَطا نہ کی تھی تو اُنکے مونہوں پر مُہر لگا دی جائے گی اور اُن کے اعضاء و جَوارح کو گویائی دی جائے گی وہ اُن کے خلاف شہادت دیں گے۔

(۴۳) اے  ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے  پاس نہ جاؤ (ف ۱۲۶) جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے  سمجھو اور نہ ناپاکی کی حالت میں بے  نہائے  مگر مسافری میں (ف ۱۲۷) اور اگر تم بیمار ہو (ف ۱۲۸) یا سفر میں یا تم میں سے  کوئی قضائے  حاجت سے  آیا ہو (ف ۱۲۹) یا تم نے  عورتوں کو چھوا (ف ۱۳۰) اور پانی نہ پایا (ف ۱۳۱) تو پاک مٹی سے  تیمم کرو (ف ۱۳۲) تو اپنے  منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو (ف ۱۳۳) بیشک اللہ معاف کرنے  والا بخشنے  والا ہے،

۱۲۶۔            شانِ نزول: حضرت عبدالرحمن بن عوف نے ایک جماعتِ صحابہ کی دعوت کی اِس میں کھانے کے بعد شراب پیش کی گئی بعضوں نے پی کیونکہ اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی پھر مغرب کی نماز پڑھی امام نشہ میں  قَلْ یٰایُّھَا الْکَافِرُوْنَ اَعْبُدُ مَاتَعْبُدوْنَ وَانْتُمْ عَابِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ  پڑھ گئے اور دونوں جگہ لَا ترک کر دیا اور نشہ میں خبر نہ ہوئی اور معنی فاسد ہو گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا گیا تو مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کر دی اس کے بعد شراب بالکل حرام کر دی گئی

مسئلہ: اس سے ثابت ہوا کہ آدمی نشہ کی حالت میں کلمۂ کفر زبان پر لانے سے کافر نہیں ہوتا اس لئے کہ قُلْ یٰاَۤ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ میں دونوں جگہ لاَ کا ترک کُفر ہے لیکن اس حالت میں حضور نے اس پر کفر کا حکم نہ فرمایا بلکہ قرآن پاک میں اُن کو یٰاَۤیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ سے خطاب فرمایا گیا۔

۱۲۷۔            جبکہ پانی نہ پاؤ تیمم کر لو۔

۱۲۸۔            اور پانی کا استعمال ضرر کرتا ہو۔

۱۲۹۔            یہ کنایہ ہے بے وضو ہونے سے۔

۱ٍ۳۰۔            یعنی جماع کیا۔

۱ٍ۳۱۔            اس کے استعمال پر قادر نہ ہونے خواہ پانی موجود نہ ہونے کے باعث یا دور ہونے کے سبب یا اس کے حاصل کرنے کا آلہ نہ ہو نے کے سبب یا سانپ،درندہ،دُشمن وغیرہ کوئی ہونے کے باعث۔

۱ٍ۳۲۔            یہ حکم مریضوں، مسافروں، جنابت اور حَدث والوں کو شامل ہے جو پانی نہ پائیں یا اس کے استعمال سے عاجز ہوں ( مدارک)

مسئلہ : حیض و نفاس سے طہارت کے لئے بھی پانی سے عاجز ہونے کی صورت میں تیمّم جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔

۱ٍ۳ٍ۳۔            طریقۂ تیمّم: تیمّم کرنے والا دل سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرے تیمم میں نیت بالا جماع شرط ہے کیونکہ وہ نصّ سے ثابت ہے جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے گَرد رِیتا پتّھر ان سب پر تیمم جائز ہے خواہ پتّھر پر غبار بھی نہ ہو لیکن پاک ہونا ان چیزوں کا شرط ہے تیمم میں دو ضربیں ہیں،ایک مرتبہ ہاتھ مار کر چہرہ پر پھیر لیں دوسری مرتبہ ہاتھوں پر۔

مسئلہ: پانی کے ساتھ طہارت اصل ہے اور تیمم پانی سے عاجز ہونے کی حالت میں اُس کا پُورا پُورا قائم مقام ہے جس طرح حدث پانی سے زائل ہوتا ہے اسی طرح تیمم سے حتّیٰ کہ ایک تیمم سے بہت سے فرائض و نوافل پڑھے جا سکتے ہیں۔

مسئلہ: تیمم کرنے والے کے پیچھے غُسل اور وضو کرنے والے کی اقتدا صحیح ہے۔شانِ نزول : غزوۂ بنی المُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام شب کو ایک بیاباں میں اُترا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا وہاں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا ہار گم ہو گیا اس کی تلاش کے لئے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں اقامت فرمائی صبح ہوئی تو پانی نہ تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آیتِ تیمم نازل فرمائی۔ اُسَیْدْ بن حُضَیْر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے آلِ ابوبکر یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے پھر اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار ملا۔ ہار گم ہونے اور سیّدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے نہ بتانے میں بہت حکمتیں ہیں۔ حضرت صدیقہ کے ہار کی وجہ سے قیام اُنکی فضیلت و منزلت کا مُشْعِر ہے۔ صحابہ کا جُستجُو فرمانا اس میں ہدایت ہے کہ حضور کے ازواج کی خدمت مؤمنین کی سعادت ہے اور پھر حکمِ تیمم ہونا معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج کی خدمت کا ایسا صلہ ہے جس سے قیامت تک مسلمان منتفع ہوتے رہیں گے سبحان اللّٰہ۔

(۴۴)  کیا تم نے  انہیں نہ دیکھا جن کو کتاب سے  ایک حصہ ملا (ف ۱۳۴) گمراہی مول لیتے  ہیں (ف ۱۳۵) اور چاہتے  ہیں (ف ۱۳۶) کہ تم بھی راہ سے  بہک جاؤ۔

۱ٍ۳۴۔            وہ یہ کہ توریت سے اُنہوں نے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو پہچانا اور سیّدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا جو اس میں بیان تھا اس حصّہ سے وہ محروم رہے اور آپ کی نبوت کے مُنکِر ہو گئے۔ شانِ نزول یہ آیت رِفاعہ بن زید اور مالک بن دَخشم یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی یہ دونوں جب رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے بات کرتے تو زبان ٹیڑھی کر کے بولتے۔

۱ٍ۳۵۔            حضور کی نبوت کا انکار کر کے۔

۱ٍ۳۶۔            اے مسلمانو۔

(۴۵) اور اللہ خوب جانتا ہے  تمہارے  دشمنوں کو (ف ۱۳۷) اور اللہ کافی ہے  وا لی (ف ۱۳۸) اور اللہ کافی ہے  مددگار۔

۱ٍ۳۷۔            اور اُس نے تمہیں بھی اُن کی عداوت پر خبردار کر دیا تو چاہئے کہ اُن سے بچتے رہو۔

۱ٍ۳۸۔            اور جس کا کار ساز اللّٰہ ہو اُسے کیا اندیشہ۔

(۴۶) کچھ یہودی کلاموں کو ان کی جگہ سے  پھیرتے  ہیں (ف ۱۳۹) اور (ف ۱۴۰) کہتے  ہیں ہم نے  سنا اور نہ مانا اور (ف ۱۴۱) سنیئے  آپ سنائے  نہ جائیں (ف ۱۴۲) اور راعنا کہتے  ہیں (ف ۱۴۳) زبانیں پھیر کر (ف ۱۴۴) اور دین میں طعنہ کے  لئے  (ف ۱۴۵) اور اگر وہ (ف ۱۴۶) کہتے  کہ ہم نے  سنا اور مانا اور حضور ہماری بات سنیں اور حضور ہم پر نظر فرمائیں  تو ان کے  لئے  بھلائی اور راستی میں زیادہ ہوتا لیکن ان پر تو اللہ نے  لعنت کی ان کے  کفر کے  سبب تو یقین نہیں رکھتے  مگر تھوڑا (ف ۱۴۷)

۱ٍ۳۹۔            جو توریت شریف میں اللّٰہ تعالیٰ نے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت میں فرمائے۔

۱۴۰۔            جب سیّدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم انہیں کچھ حکم فرماتے ہیں تو۔

۱۴۱۔            کہتے ہیں۔

۱۴۲۔            یہ کلمہ ذو جہتین ہے مدح و ذم کے دونوں پہلو رکھتا ہے مَدح کا پہلو تو یہ ہے کہ کوئی ناگوار بات آپ کے سننے میں نہ آئے اور ذَم کا پہلو یہ کہ آپ کو سننا نصیب نہ ہو۔

۱۴۳۔            باوجود یہ کہ اس کلمہ کے ساتھ خطاب کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ یہ ان کی زبان میں خراب معنیٰ رکھتا ہے۔

۱۴۴۔            حق سے باطل کی طرف۔

۱۴۵۔            کہ وہ اپنے رفیقوں سے کہتے تھے کہ ہم حضور کی بد گوئی کرتے ہیں اگر آپ نبی ہوتے تو آپ اِس کو جان لیتے اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے خبث ضمائر کو ظاہر فرما دیا۔

۱۴۶۔            بجائے اُن کلمات کے اہلِ اَدب کے طریقہ پر۔

۱۴۷۔            اتنا کہ اللّٰہ نے اُنہیں پیدا کیا اور روزی دی اور اس قدر کافی نہیں جب تک کہ تمام ایمانیات کو نہ مانیں اور سب کی تصدیق نہ کریں۔

(۴۷) اے  کتاب والو! ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے  اتارا تمہارے  ساتھ وا لی کتاب (ف ۱۴۸) کی تصدیق فرماتا قبل اس کے  کہ ہم بگاڑ دیں کچھ مونہوں کو (ف ۱۴۹) تو انہیں پھیر دیں ان کی پیٹھ کی طرف یا انہیں لعنت کریں جیسی لعنت کی ہفتہ والوں پر (ف ۱۵۰) اور خدا کا حکم ہو کر رہے،

۱۴۸۔            توریت۔

۱۴۹۔            آنکھ، ناک، ابرو وغیرہ نقشہ مٹا کر۔

۱۵۰۔            ان دونوں باتوں میں سے ایک ضرور لازم ہے اور لعنت تو اُن پر ایسی پڑی کہ دنیا انہیں ملعون کہتی ہے یہاں مفسّرین کے چند اقوال ہیں بعض اس وعید کا وقوع دنیا میں بتاتے ہیں بعض آخرت میں بعض کہتے ہیں کہ لعنت ہو چکی اور وعید واقع ہو گئی بعض کہتے ہیں ابھی انتظار ہے بعض کا قول ہے کہ یہ وعید اس صورت میں تھی جب کہ یہود میں سے کوئی ایمان نہ لاتا اور چونکہ بہت سے یہود ایمان لے آئے اِس لئے شرط نہیں پائی گئی اور وعید اُٹھ گئی۔ حضرت عبداللّٰہ بن سلام جو اعظم علمائے یہود سے ہیں انہوں نے ملک شام سے واپس آتے ہوئے راہ میں یہ آیت سُنی اور اپنے گھر پہنچنے سے پہلے اسلام لا کر سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللّٰہ میں نہیں خیال کرتا تھا کہ میں اپنا منہ پیٹھ کی طرف پھر جانے سے پہلے اور چہرہ کا نقشہ مٹ جانے سے قبل آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکوں گا یعنی اس خوف سے اُنہوں نے ایمان لانے میں جلدی کی کیونکہ توریت شریف سے اُنہیں آپ کے رسولِ بَرحق ہونے کا یقینی عِلم تھا اسی خوف سے حضرت کعب احبار جو علمائے یہود میں بڑی منزلت رکھتے تھے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے یہ آیت سن کر مسلمان ہو گئے۔

(۴۸) بیشک اللہ اسے  نہیں بخشتا کہ اس کے  ساتھ کفر کیا جائے  اور کفر سے  نیچے  جو کچھ ہے  جسے  چاہے  معاف فرما دیتا ہے  (ف ۱۵۱) اور جس نے  خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے  بڑا گناہ کا طوفان باندھا،

۱۵۱۔            معنی یہ ہیں کہ جو کفر پر مَرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے اور جس نے کفر نہ کیا ہو وہ خواہ کتنا ہی گنہگار مرتکبِ کبائر ہو اور بے توبہ بھی مر جائے تو اُس کے لئے خلود نہیں اِس کی مغفرت اللّٰہ کی مشیّت میں ہے چاہے معاف فرمائے یا اُس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنّت میں داخل فرمائے اس آیت میں یہود کو ایمان کی ترغیب ہے،اور اس پر بھی دلالت ہے کہ یہود پر عُرفِ شرع میں مُشرِک کا اطلاق درست ہے۔

(۴۹) کیا تم نے  انہیں نہ دیکھا جو خود اپنی ستھرائی بیان کرتے  ہیں (ف ۱۵۲) بلکہ اللہ جسے  چاہے  ستھرا کرے  اور ان پر ظلم نہ ہو گا دانہ خرما کے  ڈورے  برابر (ف ۱۵۳)

۱۵۲۔            یہ آیت یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے آپ کو اللّٰہ کا بیٹا اور اُس کا پیارا بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ یہود و نصاریٰ کے سوا کوئی جنّت میں نہ داخل ہو گا اس آیت میں بتایا گیا کہ انسان کا دِین داری اور صلاح و تقویٰ اور قرب و مقبولیت کا مدعی ہونا اور اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا کام نہیں آتا۔

۱۵۳۔            یعنی بالکل ظلم نہ ہو گا وہی سزا دی جائے گی جس کے وہ مستحق ہیں۔

(۵۰) دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھ رہے  ہیں (ف ۱۵۴) اور یہ کافی ہے  صریح گناہ،

۱۵۴۔            اپنے آپ کو بے گناہ اور مقبول بارگاہ بتا کر۔

(۵۱) کیا تم نے، وہ نہ دیکھے  جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ایمان لاتے  ہیں بت اور شیطان پر اور کافروں کو کہتے  ہیں کہ یہ مسلمانوں سے  زیادہ راہ پر  ہیں۔

 (۵۲) یہ ہیں جن پر اللہ  نے  لعنت کی اور جسے  خدا لعنت کرے  تو ہر گز اسکا کوئی یار نہ پائے  گا (ف ۱۵۵)

۱۵۵۔            شانِ نزول: یہ آیت کعب بن اشرف وغیرہ علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو ستّر سواروں کی جمعیّت لے کر قریش سے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جنگ کرنے پر حَلف لینے پہنچے،قریش نے اُن سے کہا چونکہ تم کتابی ہو اس لئے تم سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ زیادہ قرب رکھتے ہو ہم کیسے اطمینان کریں کہ تم ہم سے فریب کے ساتھ نہیں مل رہے ہو اگر اطمینان دلانا ہو تو ہمارے بتوں کو سجدہ کرو تو انہوں نے شیطان کی اطاعت کر کے بتوں کو سجدہ کیا پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہم ٹھیک راہ پر ہیں یا محمد مصطفیٰ  صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کعب بن اشرف نے کہا تمہیں ٹھیک راہ پر ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی کہ انہوں نے حضور کی عداوت میں مشرکین کے بتوں تک کو پُوجا۔

(۵۳) کیا ملک میں ان کا کچھ حصہ ہے  (ف ۱۵۶) ایسا ہو تو لوگوں کو تِل بھر نہ دیں،

۱۵۶۔            یہود کہتے تھے کہ ہم مُلک و نُبوّت کے زیادہ حق دار ہیں تو ہم کیسے عربوں کا اتباع کریں اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے اِس دعوے کو جھٹلا دیا کہ اُن کا مُلک میں حِصّہ ہی کیا ہے اور اگر بالفرض کچھ ہوتا تو اُن کا بخل اس درجہ کا ہے کہ۔

(۵۴) یا لوگوں سے  حسد کرتے  ہیں (ف ۱۵۷) اس پر جو اللہ نے  انہیں اپنے  فضل سے  دیا (ف ۱۵۸) تو ہم نے  تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا (ف ۱۵۹)

۱۵۷۔            نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اور اہلِ ایمان سے۔

۱۵۸۔            نبوّت و نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتیں۔

۱۵۹۔            جیسا کہ حضرت یوسف اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کو تو پھرا گر اپنے حبیب سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر کرم کیا تو اس سے کیوں جلتے اور حسد کرتے ہو۔

(۵۵) تو ان میں کوئی اس پر ایمان لایا (ف ۱۶۰) اور کسی نے  اس سے  منہ پھیرا  (ف ۱۶۱) اور دوزخ کافی ہے  بھڑکتی آگ(ف ۱۶۲)

۱۶۰۔            جیسے کہ حضرت عبداللّٰہ بن سلام اور اُن کے ساتھ والے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لائے۔

۱۶۱۔            اور ایمان سے محروم رہا۔

۱۶۲۔            اس کے لئے جو سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان نہ لائے۔

(۵۶) جنہوں نے  ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھا لیں پک جائیں گی ہم ان کے  سوا اور کھا لیں انہیں بدل دیں گے  کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

 (۵۷) اور جو لوگ ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  عنقریب ہم انہیں باغوں میں لے  جائیں گے  جن کے  نیچے  نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے  لیے  وہاں ستھری بیبیاں ہیں (ف ۱۶۳) اور ہم انہیں وہاں داخل کریں گے  جہاں سایہ ہی سایہ ہو گا (ف ۱۶۴)

۱۶۳۔            جو ہر نجاست و گندگی اور قابل نفرت چیز سے پاک ہیں۔

۱۶۴۔            یعنی سایۂ جنّت جس کی راحت و آسائش رسائی فہم و احاطۂ بیان سے بالا تر ہے۔

(۵۸) بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے  کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو (ف ۱۶۵) اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے  ساتھ فیصلہ کرو (ف ۱۶۶) بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،

۱۶۵۔            اصحاب امانات اور حُکام کو امانتیں دیانت داری کے ساتھ حق دار کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا بعض مفسّرین کا قول ہے کہ فرائض بھی اللّٰہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں اُن کی ادا بھی اس حکم میں داخل ہے۔

۱۶۶۔            فریقین میں سے اصلاً کِسی کی رعایت نہ ہو علماء نے فرمایا کہ حاکم کو چاہئے کہ پانچ باتوں میں فریقَین کے ساتھ برابر سلوک کرے۔(۱) اپنے پاس آنے میں جیسے ایک کو موقع دے دوسرے کو بھی دے (۲) نشست دونوں کو ایک سی دے (۳) دونوں کی طرف برابر متوجہ رہے (۴) کلام سننے میں ہر ایک کے ساتھ ایک ہی طریقہ رکھے (۵) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پُورا پُورا دِلائے،حدیث شریف میں ہے انصاف کرنے والوں کو قرب الہی میں نوری منبر عطا ہوں گے شانِ نزول: بعض مفسّرین نے اِس کی شانِ نزول میں اِس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ فتح مکّہ کے وقت سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے عثمان بن طلحہ خادم کعبہ سے کعبہ معظّمہ کی کلید لے لی۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے وہ کلید انہیں واپس دی اور فرمایا کہ اب یہ کلید ہمیشہ تمہاری نسل میں رہے گی اس پر عثمان بن طلحہ حجبی اسلام لائے اگرچہ یہ واقعہ تھوڑے تھوڑے تغیرات کے ساتھ بہت سے محدّثین نے ذکر کیا ہے مگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ قابلِ وُثوق نہیں معلُوم ہوتا کیونکہ ابن عبداللّٰہ اور ابن مندہ اور ابن اثیر کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمان بن طلحہ ۸ ھ میں مدینہ طیبہ حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہو چکے تھے اور اُنہوں نے فتحِ مکّہ کے روز کنجی خود اپنی خوشی سے پیش کی تھی بخاری اور مُسلِم کی حدیثوں سے یہی مستفاد ہوتا ہے۔

(۵۹) اے  ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا (ف ۱۶۷) اور ان کا جو تم میں حکومت والے  ہیں (ف ۱۶۸) پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا  اٹھے  تو اسے  اللہ اور رسول کے  حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر  ایمان رکھتے  ہو (ف ۱۶۹) یہ بہتر ہے  اور اس کا انجام سب سے  اچھا،

۱۶۷۔            کہ رسول کی اِطاعت اللّٰہ ہی کی اطاعت ہے بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیّدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللّٰہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللّٰہ کی نافرمانی کی۔

۱۶۸۔            اسی حدیث میں حضور فرماتے ہیں جس نے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی اِس آیت سے ثابت ہوا کہ مُسلِم اُمراء و حکام کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں۔

۱۶۹۔            اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام تین قسم کے ہیں ایک وہ جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں ایک وہ جو ظاہر حدیث سے ایک وہ جو قرآن و حدیث کی طرف بطریق قیاس رجوع کرنے سے اولی الامر میں امام امیر بادشاہ حاکم قاضی سب داخل ہیں خلافتِ کا ملہ تو زمانۂ رسالت کے بعد تیس سال رہی مگر خلافتِ ناقصہ خلفائے عباسیہ میں بھی تھی اور اب تو امامت بھی نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ امام کے لئے قریش میں سے ہونا شرط ہے اور یہ بات اکثر مقامات میں معدوم ہے لیکن سلطنت و امارت باقی ہے اور چونکہ سلطان و امیر بھی اولو الامر میں داخل ہیں اِس لئے ہم پر اُن کی اطاعت بھی لازم ہے۔

(۶۰) کیا تم نے  انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے  کہ وہ  ایمان لائے  اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے  پہلے  اترا پھر چاہتے  ہیں کہ شیطان کو  اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے  اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے  کہ انہیں دور بہکاوے  (ف ۱۷۰)

(۶۱) اور جب ان سے  کہا جائے  کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب اور رسول کی طرف آؤ تو  تم دیکھو گے  کہ منافق تم سے  منہ موڑ کر پھر جاتے  ہیں،

۱۷۰۔            شانِ نزول: بِشر نامی ایک منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا، یہودی نے کہا چلو سیّدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے طے کرا لیں منافق نے خیال کیا کہ حضور تو بے رعایت محض حق فیصلہ دیں گے اس کا مطلب حاصل نہ ہو گا اس لئے اُس نے باوجود مدعیِ ایمان ہونے کے یہ کہا کہ کعب بن اشرف یہودی کو پنچ بناؤ(قرآن کریم میں طاغوت سے اس کعب بن اشرف کے پاس فیصلہ لے جانا مراد ہے ) یہودی جانتا تھا کہ کعب رشوت خوار ہے اِس لئے اُس نے باوجود ہم مذہب ہونے کے اُس کو پنچ تسلیم نہ کیا ناچار منافق کو فیصلہ کے لئے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور آنا پڑا۔ حضور نے جو فیصلہ دیا وہ یہودی کے موافق ہوا یہاں سے فیصلہ سننے کے بعد پھر منافق یہودی کے درپے ہوا اور اسے مجبور کر کے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے پاس لایا یہودی نے آپ سے عرض کیا کہ میرا اس کا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم طے فرما چکے لیکن یہ حضور کے فیصلہ سے راضی نہیں آپ سے فیصلہ چاہتا ہے فرمایا کہ ہاں میں ابھی آ کر اس کا فیصلہ کرتا ہوں یہ فرما کر مکان میں تشریف لے گئے اور تلوار لا کر اُس کو قتل کر دیا اور فرمایا جو اللّٰہ اور اس کے رسول کے فیصلہ سے راضی نہ ہو اُس کا میرے پاس یہ فیصلہ ہے۔

(۶۲) کیسی ہو گی جب ان پر کوئی افتاد پڑے  (ف ۱۷۱) بدلہ اسکا جو انکے  ہاتھوں نے  آگے  بھیجا (ف ۱۷۲) پھر اے  محبوب! تمہارے  حضور حاضر ہوں، اللہ کی قسم کھاتے  کہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور میل ہی تھا(ف ۱۷۳)

۱۷۱۔            جس سے بھاگنے بچنے کی کوئی راہ نہ ہو جیسی کہ بِشر منافق پر پڑی کہ اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔

۱۷۲۔            کفر و نفاق اور معاصی جیسا کہ بِشر منافق نے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے فیصلہ سے اعراض کر کے کیا۔

۱۷۳۔            اور وہ عذر و ندامت کچھ کام نہ دے جیسا کہ بِشر منافق کے مارے جانے کے بعد اُس کے اولیاء اُس کے خُون کا بدلہ طلب کرنے آئے اور بے جا معذرتیں کرنے اور باتیں بنانے لگے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے خون کا کوئی بدلہ نہیں دلایا کیونکہ وہ کشتنی ہی تھا۔

(۶۳) ان کے  دلوں کی تو بات اللہ جانتا ہے  تو تم ان سے  چشم پوشی کرو اور انہیں سمجھا دو اور ان کے  معاملہ میں ان سے  رسا بات کہو (ف ۱۷۴)

۱۷۴۔            جواُن کے دِل میں ا ثر کر جائے۔

(۶۴) اور ہم نے  کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے  کہ  اللہ کے  حکم سے  اس کی اطاعت کی جائے  (ف ۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف ۱۷۶) تو اے  محبوب! تمہارے  حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے  معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے  تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے  والا مہربان پائیں (ف ۱۷۷)

۱۷۵۔            جب کہ رسُول کا بھیجنا ہی اس لئے ہے کہ وہ مُطَاع بنائے جائیں اور اُن کی اطاعت فرض ہو تو جواُن کے حکم سے راضی نہ ہو اُس نے رسالت کو تسلیم نہ کیا وہ کافر واجب القتل ہے۔

۱۷۶۔            معصیت و نافرمانی کر کے۔

۱۷۷۔            اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار بر آری کا ذریعہ ہے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات شریف کے بعد ایک اعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا یا رسول اللّٰہ جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللّٰہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی اس سے چند مسائل معلوم ہوئے

مسئلہ: اللّٰہ تعالی کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے مسئلہ قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی  جَآءُ وْکَ  میں داخل اور خیرُ القرون کا معمول ہے

مسئلہ: بعد وفات مقبُولانِ حق کو( یا )کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے

مسئلہ:مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے۔

(۶۵) تو اے  محبوب! تمہارے  رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے  جب تک اپنے  آپس کے  جھگڑے  میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے  دلوں میں اس سے  رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے  مان لیں (ف ۱۷۸)

۱۷۸۔            معنیٰ یہ ہیں کہ جب تک آپ کے فیصلے اور حکم کو صدقِ دِل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہو سکتے سبحان اللّٰہ اس سے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی شان معلُوم ہوتی ہے

شانِ نزول: پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آبِ رسانی کرتے ہیں اس میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اللّٰہ عنہ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور پیش کیا گیا حضور نے فرمایا اے زبیر تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیر کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت زبیر کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کر کے پانی روک لو انصافاً قریب والا ہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(۶۶) اور اگر ہم ان پر فرض کرتے  کہ اپنے  آپ کو قتل کر دو یا اپنے  گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ (ف ۱۷۹) تو ان میں تھوڑے  ہی ایسا کرتے، اور اگر وہ کرتے  جس بات کی انہیں نصیحت دی جاتی ہے  (ف ۱۸۰) تو اس میں ان  کا بھلا تھا اور  ایمان پر خوب جمنا

(۶۷) اور ایسا ہوتا تو ضرور ہم انہیں اپنے  پاس سے  بڑا ثواب دیتے 

۱۷۹۔            جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل جانے اور توبہ کے لئے اپنے آپ کو قتل کا حکم دیا تھا شانِ نزول: ثابت بن قیس بن شَمَّاس سے ایک یہودی نے کہا کہ اللّٰہ نے ہم پر اپنا قتل اور گھر بار چھوڑ نا فرض کیا تھا ہم اس کو بجا لائے ثابت نے فرمایا کہ اگر اللّٰہ ہم پر فرض کرتا تو ہم بھی ضرور بجا لاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

۱۸۰۔            یعنی رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت اور آپ کی فرماں برداری کی۔

 (۶۸) اور ضرور ان کو سیدھی راہ کی ہدایت کرتے،

(۶۹) اور جو اللہ اور اس کے  رسول کا حکم مانے  تو اُسے  ان کا ساتھ ملے  گا جن پر اللہ نے  فضل کیا یعنی انبیاء (ف ۱۸۱) اور صدیق (ف ۱۸۲) اور شہید (ف ۱۸۳) اور نیک لوگ (ف ۱۸۴) یہ کیا ہی اچھے  ساتھی ہیں،

۱۸۱۔            تو انبیاء کے مخلص فرمانبردار جنت میں اُن کی صحبت و دیدار سے محروم نہ ہوں گے۔

۱۸۲۔            صدیق انبیاء کے سچے متبعین کو کہتے ہیں جو اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ پر قائم رہیں مگر اس آیت میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے افاضل اصحاب مُراد ہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق۔

۱۸۳۔            جنہوں نے راہِ خدا میں جانیں دیں۔

۱۸۴۔            وہ دیندار جو حق العباد اور حق اللّٰہ دونوں ادا کریں اور اُن کے احوال و اعمال اور ظاہر و باطن اچھے اور پاک ہوں شانِ نزول: حضرت ثوبان سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیا تھا تو حضور نے فرمایا آج رنگ کیوں بدلا ہوا ہے عرض کیا نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہو جاتی ہے جب آخرت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللّٰہ تعالی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا۔

(۷۰)  یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ کافی ہے  جاننے  والا۔

 (۷۱) اے  ایمان والو! ہوشیاری سے  کام لو (ف ۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے  تھوڑے  ہو کر نکلو یا اکٹھے  چلو

۱۸۵۔            دُشمن کے گھات سے بچو اور اُسے اپنے اُوپر موقع نہ دو ایک قول یہ بھی ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھو

مسئلہ: اِس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی حفاظت کی تدبیریں جائز ہیں۔

(۷۲) اور تم میں کوئی وہ ہے  کہ ضرور  دیر  لگائے  گا (ف ۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد پڑے  تو کہے  خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے  ساتھ حاضر نہ تھا۔

۱۸۶۔            یعنی منافقین۔

(۷۳) اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے  (ف ۱۸۷) تو  ضرو ر  کہے   گویا تم اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے  کاش میں ان کے  ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا،

۱۸۷۔            تمہاری فتح ہو اور غنیمت ہاتھ آئے۔

(۷۴) تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے  جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے  ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے  پھر مارا جائے  یا غالب آئے  تو عنقریب ہم اسے  بڑا ثواب دیں گے (ف ۱۸۸)۔

۱۸۸۔            وہی جس کے مقولہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ،۔

(۷۵) اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف ۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے  واسطے  یہ دعا کر رہے  ہیں کہ اے  ہمارے  رب ہمیں اس  بستی سے  نکال جس کے  لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے  پاس سے  کوئی حمایتی دے  دے  اور ہمیں اپنے  پاس سے  کوئی مددگار دے  دے،

۱۸۹۔            یعنی جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں۔

(۷۶) ایمان والے  اللہ کی راہ میں لڑتے  ہیں (ف ۱۹۰) اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے  ہیں تو  شیطان کے  دوستوں سے  (ف ۱۹۱) لڑو بیشک شیطان کا  داؤ کمزور ہے  (ف ۱۹۲)

۱۹۰۔            اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجۂ ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکّہ مکرّمہ میں مشرکین نے قید کر لیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پر بے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللّٰہ تعالی سے اپنی خلاصی اور مددِ الٰہی کی دعائیں کرتے تھے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللّٰہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکّۂ مکرّمہ فتح کر کے اُن کی زبردست مدد فرمائی۔

۱۹۱۔            اعلائے دین اور رضائے الٰہی کے لئے۔

۱۹۲۔            یعنی کافروں کا اور وہ اللّٰہ کی مدد کے مقابلہ میں کیا چیز ہے۔

(۷۷) کیا تم نے  انہیں نہ دیکھا جن سے  کہا گیا اپنے  ہاتھ روک لو (ف ۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف ۱۹۴) تو ان میں بعضے  لوگوں سے  ایسا ڈرنے  لگے  جیسے  اللہ سے  ڈرے  یا اس سے  بھی زائد (ف ۱۹۵) اور بولے  اے  رب ہمارے ! تو نے  ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا (ف ۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے  دیا ہوتا، تم فرما  دو کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے  (ف ۱۹۷) اور ڈر والوں کے  لئے  آخرت اچھی اور تم پر تاگے  برابر ظلم نہ ہو گا (ف ۱۹۸)

۱۹۳۔            قتال سے، شانِ نزول: مشرکینِ مکّہ مکرّمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ہجرت سے قبل اصحابِ رسُول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک جماعت نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ اُن کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکوٰۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔ فائدہ۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز و زکوٰۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔

۱۹۴۔            مدینہ طیبہ میں اور بدر کی حاضر ی کا حکم دیا گیا۔

۱۹۵۔            یہ خوف طبعی تھا کہ انسان کی جِبِلَّت ہے کہ موت و ہلاکت سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔

۱۹۶۔            اس کی حکمت کیا ہے یہ سوال وجہِ حکمت دریافت کرنے کے لئے تھانہ بطریقِ اعتراض اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ و ز جر نہ فرمایا گیا بلکہ جواب تسکین بخش عطا فرما دیا گیا۔

۱۹۷۔            زائل و فانی ہے۔

۱۹۸۔            اور تمہارے اجر کم نہ کئے جائیں گے تو جہاد میں اندیشہ و تامل نہ کرو۔

(۷۸) تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے  گی (ف ۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور اُنہیں کوئی بھلائی پہنچے  (ف ۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے  ہے  اور انہیں کوئی برائی پہنچے  (ف ۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف آئی (ف ۲۰۲) تم فرما دو سب اللہ کی طرف سے  ہے  (ف ۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے  معلوم ہی نہیں ہوتے۔

۱۹۹۔            اور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت ناگزیر ہے تو بستر پر مر جانے سے راہ خدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادتِ آخرت کا سبب ہے۔

۲۰۰۔            ارزانی و کثرت پیداوار وغیرہ کی۔

۲۰۱۔            گرانی قحط سالی وغیرہ۔

۲۰۲۔            یہ حال منافقین کا ہے کہ جب انہیں کوئی سختی پیش آتی تو اس کو سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف نسبت کرتے اور کہتے جب سے یہ آئے ہیں ایسی ہی سختیاں پیش آیا کرتی ہیں۔

۲۰۳۔            گرانی ہو یا ارزانی قحط ہو یا فراخ حالی رنج ہو یا راحت آرام ہو یا تکلیف فتح ہو یا شکست حقیقت میں سب اللّٰہ کی طرف سے ہے۔

(۷۹) اے  سننے  والے  تجھے  جو بھلائی پہنچے   وہ  اللہ کی طرف سے  ہے  (ف ۲۰۴) اور جو برائی پہنچے  وہ تیری اپنی طرف سے  ہے  (ف ۲۰۵) اور اے  محبوب ہم نے  تمہیں سب لوگوں کے  لئے  رسول  بھیجا (ف ۲۰۶) اور اللہ کافی ہے  گواہ  (ف ۲۰۷)

۲۰۴۔            اُس کا فضل و رحمت ہے۔

۲۰۵۔            کہ تو نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا

مسئلہ: یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامتِ نفس کے سبب سے سمجھے۔

۲۰۶۔            عرب ہوں یا عجم آپ تمام خلق کے لئے رسُول بنائے گئے اور کل جہان آپ کا اُمّتی کیا گیا یہ سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی جلالتِ منصب اور رفعتِ منزلت کا بیان ہے۔

۲۰۷۔            آپ کی رسالتِ عامہ پر تو سب پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع فرض ہے۔

ْ (۸۰) جس نے  رسول کا حکم مانا بیشک اس نے  اللہ کا حکم مانا (ف ۲۰۸) اور جس نے  منہ پھیرا (ف ۲۰۹) تو ہم نے  تمہیں ان کے  بچانے  کو نہ بھیجا

۲۰۸۔            شانِ نزول: رسُولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللّٰہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللّٰہ سے محبّت کی اِس پر آج کل کے گستاخ بد دینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفیٰ  صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسا نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم کو رب مانا اس پر اللّٰہ تعالی نے اِن کے رَدّ میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے کلام کی تصدیق فرما دی کہ کہ بے شک رسُول کی اطاعت اللّٰہ کی اطاعت ہے،۔

۲۰۹۔            اور آپ کی اطاعت سے اعراض کیا۔

(۸۱) اور کہتے  ہیں ہم نے  حکم مانا (ف ۲۱۰) پھر جب تمہارے  پاس سے  نکل کر جاتے  ہیں تو ان میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے  خلاف رات کو  منصوبے  گانٹھتا ہے  اور اللہ لکھ رکھتا ہے  ان کے  رات کے  منصوبے  (ف ۲۱۱) تو اے  محبوب تم ان سے  چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے  کام بنانے  کو،

۲۱۰۔            شانِ نزول: یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور میں ایمان و اطاعت شعاری کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حضور پر ایمان لائے ہیں ہم نے حضور کی تصدیق کی ہے حضور جو ہمیں حکم فرمائیں اُس کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔

۲۱۱۔            ان کے اعمال ناموں میں اور اُس کا اِنہیں بدلہ دے گا۔

(۸۲) تو کیا غور نہیں کرتے  قرآن میں (ف ۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے  پاس سے  ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے  (ف ۲۱۳)

۲۱۲۔            اور اس کے عُلوم و حِکَم کو نہیں دیکھتے کہ اُس نے اپنی فصاحت سے تمام خَلق کو عاجز کر دیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکر و کید کا افشائے راز کر دیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔

۲۱ٍ۳۔            اور زمانۂ آئندہ کے متعلق غیبی خبریں مطابق نہ ہوتیں اور جب ایسا نہ ہوا اور قرآن پاک کی غیبی خبروں سے آئندہ پیش آنے والے واقعات مطابقت کرتے چلے گئے تو ثابت ہوا کہ یقیناً وہ کتاب اللّٰہ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلیغ ہوتا ہے تو کچھ رکیک ہوتا ہے جیسا کہ شعراء اور زبان دانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بہت ملیح اور کوئی نہایت پھیکا۔ یہ اللّٰہ تعالی ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کی اعلی مرتبت پر ہے۔

(۸۳) اور جب ان کے  پاس کوئی بات اطمینان (ف ۲۱۴) یا ڈر (ف ۲۱۵) کی آتی ہے  اس کا چرچا کر بیٹھتے  ہیں (ف ۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے  ذی اختیار لوگوں (ف ۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے  (ف ۲۱۸) تو ضرور اُن سے   اُ س  کی  حقیقت جان لیتے  یہ جو بعد میں کاوش کرتے  ہیں (ف ۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (۲۲۰) اور اس کی رحمت (ف ۲۲۱) نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے  پیچھے  لگ جاتے  (ف ۲۲۲) مگر تھوڑے  (۲۲۳)

۲۱۴۔            یعنی فتحِ اسلام۔

۲۱۵۔            یعنی مسلمانوں کی ہَزِیمت کی خبر۔

۲۱۶۔            جو مفسدے کا موجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کی شہرت سے تو کفار میں جوش پیدا ہوتا ہے اور شکست کی خبر سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

۲۱۷۔            اکابر صحابہ جو صاحب رائے اور صاحبِ بصیرت ہیں۔

۲۱۸۔            اور خود کچھ دخل نہ دیتے۔

۲۱۹۔            مسئلہ: مفسرین نے فرمایا اس آیت میں دلیل ہے جو از قیاس پر اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو بہ نصِ قرآن و حدیث حاصل ہو اور ایک علم وہ ہے جو قرآن و حدیث سے استنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے

مسئلہ:یہ بھی معلوم ہوا کہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اہل ہو اس کو تفویض کرنا چاہئے۔

۲۲۰۔            رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت۔

۲۲۱۔            نزول قرآن۔

۲۲۲۔            اور کفرو ضلال میں گرفتار رہتے۔

۲۲ٍ۳۔            وہ لوگ جو سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت اور قرآن پاک کے نزول سے پہلے آ پ پر ایمان لائے جیسے زید بن عَمرو بن نُفِیل اور ورقہ بن نَوفَل اور قیس بن ساعِدہ۔

(۸۴) تو اے  محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (۲۲۴) تم تکلیف نہ دیئے  جاؤ گے  مگر اپنے  دم کی (ف ۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف ۲۲۶) قریب ہے  کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے  (ف ۲۲۷) اور اللہ کی آنچ (جنگی طاقت) سب سے  سخت تر ہے  اور اس کا عذاب سب سے  کڑا (زبردست)

۲۲۴۔            خواہ کوئی تمہارا ساتھ دے یا نہ دے اور تم اکیلے رہ جاؤ۔

۲۲۵۔            شانِ نزول: بدر صغریٰ کی جنگ جو ابوسفیان سے ٹھہر چکی تھی جب اس کا وقت آ پہنچا تو رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں جانے کے لئے لوگوں کو دعوت دی بعضوں پر یہ گراں ہوا تو اللّٰہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا کہ وہ جہاد نہ چھوڑیں اگرچہ تنہا ہوں اللّٰہ آپ کا ناصر ہے اللّٰہ کا وعدہ سچا ہے یہ حکم پا کر رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم بدرصغریٰ کی جنگ کے لئے روانہ ہوئے صرف ستّر سوار ہمراہ تھے۔

۲۲۶۔            انہیں جہاد کی ترغیب دو اور بس۔

۲۲۷۔            چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر کامیاب آیا اور کفار ایسے مرعوب ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے مقابل میدان میں نہ آ سکے فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم شجاعت میں سب سے اعلی ہیں کہ آپ کو تنہا کفار کے مقابل تشریف لے جانے کا حکم ہوا اور آپ آمادہ ہو گئے۔

(۸۵) جو اچھی سفارش کرے  (ف ۲۲۸) اس کے  لئے  اس میں سے  حصہ ہے  (ف ۲۲۹) اور جو بری سفارش کرے  اس کے  لئے  اس میں سے  حصہ ہے  (ف ۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۲۸۔            کسی سے کسی کی کہ اس کو نفع پہنچائے یا کسی مصیبت و بلا سے خَلاص کرائے اور ہو وہ موافقِ شرع تو۔

۲۲۹۔            اجرو جزا۔

۲ٍ۳۰۔            عذاب و سزا۔

(۸۶) اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے  سلام کرے  تو اس سے  بہتر لفظ جواب میں کہو یا یا وہی کہہ دو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے  والا ہے  (ف ۲۳۱)

۲ٍ۳۱۔            مسائلِ سلام،سلام کرنا سنّت ہے اور جواب دینا فرض اور جواب میں افضل ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پر کچھ بڑھائے مثلاً پہلا شخص السلام علیکم کہے تو دوسرا شخص وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ کہے اور اگر پہلے نے و رحمۃ اللّٰہ بھی کہا تھا تو یہ و برکاتہ اور بڑھائے پس اس سے زیادہ سلام و جواب میں اور کوئی اضافہ نہیں ہے کافر،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔ جو شخص خطبہ یا تلاوت قرآن یا حدیث یا مذاکرہ علم یا اذان یا تکبیر میں مشغول ہو اس حال میں ان کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو اُن پر جواب دینا لازم نہیں اور جو شخص شَطرنج،چوسر،تاش،گنجفہ وغیرہ کوئی ناجائز کھیل کھیل رہا ہویا گانے بجانے میں مشغول ہو یا پاخانہ یا غسل خانہ میں ہو یا بے عذر برہنہ ہو اس کو سلام نہ کیا جائے

مسئلہ : آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو بی بی کو سلام کرے ہندوستان میں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن و شو کے اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام سے محروم کرتے ہیں باوجود یہ کہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔

مسئلہ: بہتر سواری والا کمتر سواری والے کو اور کمتر سواری والا پیدل چلنے والے کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹے بڑے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں۔

(۸۷) اللہ  کہ اس کے  سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ  ضرور تمہیں اکٹھا کرے  گا قیامت کے  دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے  زیادہ کس کی بات سچی (ف ۲۳۲)

۲ٍ۳۲۔            یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کِذب ناممکن و محال ہے کیونکہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اللّٰہ پر محال ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔

(۸۸) تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے  بارے  میں  دو  فریق ہو گئے  (ف ۲۳۳) اور اللہ نے  انہیں اوندھا کر دیا (ف ۲۳۴) ان کے  کوتکوں (کرتوتوں ) کے  سبب (ف ۲۳۵) کیا یہ چاہتے  ہیں کہ اسے   راہ دکھاؤ جسے  اللہ نے  گمراہ کیا اور جسے  اللہ گمراہ کرے  تو ہرگز اس کے  لئے  راہ نہ پائے  گا۔

۲ٍ۳ٍ۳۔            شانِ نزول: منافقین کی ایک جماعت سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ جہاد میں جانے سے رک گئی تھی ان کے باب میں اصحاب کرام کے دو فرقے ہو گئے ایک فرقہ قتل پر مُصر تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔

۲ٍ۳۴۔            کہ وہ حضور کے ساتھ جہاد میں جانے سے محروم رہے۔

۲ٍ۳۵۔            ان کے کفر وارتداد اور مشرکین کے ساتھ ملنے کے باعث تو چاہئے کہ مسلمان بھی ان کے کفر میں اختلاف نہ کریں۔

(۸۹) وہ تو یہ چاہتے   ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہو جاؤ  جیسے   وہ کافر ہوئے  تو تم سب ایک سے  ہو جاؤ  ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ (ف ۲۳۶) جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں (ف ۲۳۷) پھر اگر وہ  منہ پھیریں (ف ۲۳۸) تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار (ف ۲۳۹)

۲ٍ۳۶۔            اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات ممنوع کی گئی خواہ وہ ایمان کا اظہار ہی کرتے ہوں۔

۲ٍ۳۷۔            اور اس سے ان کے ایمان کی تحقیق نہ ہولے۔

۲ٍ۳۸۔            ایمان و ہجرت سے اور اپنی حالت پر قائم رہیں۔

۲ٍ۳۹۔            اور اگر تمہاری دوستی کا دعویٰ کریں اور مدد کے لئے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو۔

(۹۰) مگر جو ایسی قوم سے  علاقے  رکھتے  ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے  (ف ۲۴۰) یا تمہارے  پاس یوں آئے  کہ ان کے  دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے  لڑیں (ف ۲۴۱) یا اپنی قوم سے  لڑیں (ف ۲۴۲) اور اللہ چاہتا  تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے  شک تم سے  لڑتے  (ف ۲۴۳) پھر اگر وہ تم سے  کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا  پیام ڈالیں تو اللہ نے  تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی (ف ۲۴۴)

۲۴۰۔            یہ استثناء قتل کی طرف راجع ہے کیونکہ کفار و منافقین کے ساتھ موالات کسی حال میں جائز نہیں اور عہد سے یہ عہد مراد ہے کہ اس قوم کو اور جو اس قوم سے جا ملے اس کو امن ہے جیسا کہ سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے مکّہ مکرّمہ تشریف لے جاتے وقت ہلال بن عویمر  اسلمی سے معاملہ کیا تھا۔

۲۴۱۔            اپنی قوم کے ساتھ ہو کر۔

۲۴۲۔            تمہارے ساتھ ہو کر۔

۲۴۳۔            لیکن اللّٰہ تعالی نے ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا اور مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔

۲۴۴۔            کہ تم ان سے جنگ کرو بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم آیت  اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ سے منسوخ ہو گیا۔

(۹۱) اب کچھ اور تم ایسے  پاؤ گے  جو یہ چاہتے  ہیں کہ تم سے  بھی امان میں رہیں اور اپنی قوم سے  بھی امان میں رہیں (ف ۲۴۵)  جب کبھی انکی قوم انہیں فساد (ف ۲۴۶) کی طرف پھیرے  تو اس پر اوندھے  گرتے  ہیں پھر اگر وہ تم سے  کنارہ نہ کریں اور (ف ۲۴۷) صلح کی گردن  نہ ڈا لیں اور اپنے  ہاتھ سے  نہ روکیں تو انہیں پکڑو  اور  جہاں پاؤ قتل کرو، اور یہ ہیں جن پر ہم نے  تمہیں صریح اختیار  دیا(ف ۲۴۸)

۲۴۵۔            شانِ نزول: مدینہ طیبہ میں قبیلۂ اسد و غَطفان کے لوگ ریاءً کلمۂ اسلام پڑھتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور جب ان میں سے کوئی اپنی قوم سے ملتا اور وہ لوگ ان سے کہتے کہ تم کس چیز پر ایمان لائے تو وہ لوگ کہتے کہ بندروں بچھوؤں وغیرہ پر اس انداز سے ان کا مطلب یہ تھا کہ دونوں طرف سے رسم و راہ رکھیں اور کسی جانب سے انہیں نقصان نہ پہنچے یہ لوگ منافقین تھے انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

۲۴۶۔            شرک یا مسلمان سے جنگ۔

۲۴۷۔            جنگ سے باز آ کر۔

۲۴۸۔            ان کے کفر، غدر اور مسلمانوں کی ضرر رسانی کے سبب۔

(۹۲) اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے  مگر ہاتھ بہک کر (ف ۲۴۹) اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے  تو اس پر ایک مملوک  مسلمان کا آزاد کرنا ہے  اور خون بہا کر مقتول کے  لوگوں کو سپرد کی جائے  (ف ۲۵۰) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں پھر اگر وہ (ف ۲۵۱) اس قوم سے  ہو جو تمہاری دشمن ہے  (ف ۲۵۲) اور خود مسلمان ہے  تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا (ف ۲۵۳) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے  تو اس کے  لوگوں کو خوں بہا سپرد کیا جائے  اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا (ف ۲۵۴) تو جس  کا ہاتھ نہ پہنچے  (۲۵۵) وہ لگاتار دو مہینے  کے  روزے  (ف ۲۵۶) یہ اللہ کے  یہاں اس کی توبہ ہے  اور اللہ جاننے  والا حکمت والا ہے۔

۲۴۹۔            یعنی مومن کافر کی مثل مباح الدم نہیں ہے جس کا حکم اوپر کی آیت میں مذکور ہو چکا تو مسلمان کا قتل کرنا بغیر حق کے روا نہیں اور مسلمان کی شان نہیں کہ اس سے کسی مسلمان کا قتل سرزد ہو بجز اس کے کہ خطاءً ہو اس طرح کہ مارتا تھا شکار کو یا کافر حربی کو اور ہاتھ بہک کر زد پڑی مسلمان پر یا یہ کہ کسی شخص کو کافر حربی جان کر مارا اور تھا وہ مسلمان۔

۲۵۰۔            یعنی اس کے وارثوں کو دی جائے وہ اسے مثل میراث کے تقسیم کر لیں دِیّت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے اس سے مقتول کا دَین بھی ادا کیا جائے گا وصیت بھی جاری کی جائے گی۔

۲۵۱۔            جو خطاءً قتل کیا گیا۔

۲۵۲۔            یعنی کافر۔

۲۵۳۔            لازم ہے اور دیت نہیں۔

۲۵۴۔            یعنی اگر مقتول ذمی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو مسلمان کا۔

۲۵۵۔            یعنی وہ کسی غلام کا مالک نہ ہو۔

۲۵۶۔            لگاتار روزہ رکھنا یہ ہے کہ ان روزوں کے درمیان رمضان اور ایام تشریق نہ ہوں اور درمیان میں روزوں کا سلسلہ بعذر یا بلا عذر کسی طرح توڑا نہ جائے۔ شان نزول : یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ قبل ہجرت مکہ مکرمہ میں اسلام لائے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوئے ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں نہ کھانا چکھوں نہ پانی پیوں جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ وہ دونوں حارث بن زید بن ابی اُنیسہ کو ساتھ لے کر تلاش کے لئے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پا لیا اور ان کو ماں کے جزع فزع بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللّٰہ کو درمیان دے کر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے باب میں تجھ سے کچھ نہ کہیں گے اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آ کر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کر دیا تو حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تو اسی دین پر تھا اگر یہ حق تھا تو تو نے حق کو چھوڑ دیا اور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے کہا میں تجھ کو اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ضرور قتل کر دوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لائے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لائے اور ہجرت کر کے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی قباء کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ پایا اور قتل کر دیا تو لوگوں نے کہا اے عیاش تم نے بہت برا کیا حارث اسلام لاچکے تھے اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے تا وقت قتل ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔

(۹۳) اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے  تو اس کا بدلہ جہنم ہے  کہ مدتوں اس میں رہے  (ف ۲۵۷) اور اللہ نے  اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے  لئے  تیار رکھا بڑا عذاب۔

۲۵۷۔            مسلمان کو عمداً قتل کرنا سخت گناہ اور اشد کبیرہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہونا اللّٰہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے پھر یہ قتل اگر ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل اس قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر بھی ہے فائدہ: خلود مدتِ دراز کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور قاتل اگر صرف دنیوی عداوت سے مسلمان کو قتل کرے اور اس کے قتل کو مباح نہ جانے جب بھی اس کی جزا مدت دراز کے لئے جہنم ہے، فائدہ : خلود کا لفظ مدت طویلہ کے معنی میں ہوتا ہے تو قرآن کریم میں اس کے ساتھ لفظ ابد مذکور نہیں ہوتا اور کفار کے حق میں خلود بمعنی دوام آیا ہے تو اس کے ساتھ ابد بھی ذکر فرمایا گیا ہے شان نزول: یہ آیت مُقیّس بن خبابہ کے حق میں نازل ہوئی اس کے بھائی قبیلہ بنی نجار میں مقتول پائے گئے تھے اور قاتل معلوم نہ تھا بنی نجار نے بحکم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم دیت ادا کر دی اس کے بعد مقیس نے باغوائے شیطان ایک مسلمان کو بے خبری میں قتل کر دیا اور دیت کے اونٹ لے کر مکہ کو چلتا ہو گیا اور مرتد ہو گیا یہ اسلام میں پہلا شخص ہے جو مرتد ہوا۔

(۹۴) اے  ایمان والو! جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کر لو اور جو تمہیں سلام کرے  اس سے  یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (ف ۲۵۸) تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے  ہو تو اللہ کے  پاس بہتری غنیمتیں ہیں پہلے   تم بھی ایسے  ہی تھے  (ف ۲۵۹)  پھر اللہ نے  تم پر احسان  کیا (ف ۲۶۰) تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے  (ف ۲۶۱) بیشک اللہ کو تمہارے  کاموں کی خبر ہے،

۲۵۸۔            یا جس میں اسلام کی علامت و نشانی پاؤ اس سے ہاتھ روکو اور جب تک اس کا کفر ثابت نہ ہو جائے اس پر ہاتھ نہ ڈالو ابوداؤد وتر مذی کی حدیث میں ہے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے حکم دیتے کہ اگر تم مسجد دیکھو یا اذان سنو تو قتل نہ کرنا

مسئلہ: اکثر فقہاء نے فرمایا کہ اگر یہودی یا نصرانی یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو اس کو مومن نہ مانا جائے گا کیونکہ وہ اپنے عقیدہ ہی کو ایمان کہتا ہے اور اگر لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کہے جب بھی اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے دین سے بیزاری کا اظہار اور اس کے باطل ہونے کا اعتراف نہ کرے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کفر میں مبتلا ہو اس کے لئے اس کفر سے بیزاری اور اس کو کفر جاننا ضرور ہے۔

۲۵۹۔            یعنی جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تو تمہاری زبان سے کلمہ شہادت سن کر تمہارے جان و مال محفوظ کر دیئے گئے تھے اور تمہارا اظہار بے اعتبار نہ قرار دیا گیا تھا ایسا ہی اسلام میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تمہیں بھی سلوک کرنا چاہئے شان نزول: یہ آیت مَرْدَاس بن َنہِیْک کے حق میں نازل ہوئی جو اہل فدک میں سے تھے اور اُن کے سوا اُن کی قوم کا کوئی شخص اسلام نہ لایا تھا اس قوم کو خبر ملی کہ لشکر اسلام ان کی طرف آ رہا ہے تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مَرْدَاس ٹھہرے رہے جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تو بایں خیال کہ مبادا کوئی غیر مسلم جماعت ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے جب لشکر آیا اور انہوں نے اللّٰہ اکبر کے نعروں کی آوازیں سنیں تو خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ السلام علیکم مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہل فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص مغالطہ دینے کے لئے اظہارِ ایمان کرتا ہے بایں خیال اُسامہ بن زید نے ان کو قتل کر دیا اور بکریاں لے آئے جب سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور میں حاضر ہوئے تو تمام ماجرا عرض کیا حضور کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کے سامان کے سبب اس کو قتل کر دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے اسامہ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہل کو واپس کریں۔

۲۶۰۔            کہ تم کو اسلام پر استقامت بخشی اور تمہارا مؤمن ہونا مشہور کیا۔

۲۶۱۔            تاکہ تمہارے ہاتھ سے کوئی ایمان دار قتل نہ ہو۔

(۹۵) برابر نہیں وہ مسلمان  کہ بے  عذر جہاد سے  بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے  مالوں اور جانوں سے  جہاد کرتے  ہیں (ف ۲۶۲) اللہ نے  اپنے  مالوں اور جانوں کے  ساتھ جہاد کرنے  والوں کا درجہ بیٹھنے  والوں سے  بڑا کیا (ف ۲۶۳) اور اللہ نے  سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا (ف ۲۶۴)  اور اللہ نے  جہاد والوں کو (۲۶۵) بیٹھنے  والوں پر بڑے  ثواب سے   فضیلت دی ہے،

۲۶۲۔            اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے کہ بیٹھ رہنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں مجاہدین کے لئے بڑے درجات و ثواب ہیں اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ بیماری یا پیری و نا طاقتی یا نابینائی یا ہاتھ پاؤں کے ناکارہ ہونے اور عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوں وہ فضیلت سے محروم نہ کئے جائیں گے اگر نیت صالح رکھتے ہوں حدیث بخاری میں ہے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں رہ گئے ہیں ہم کسی گھاٹی یا آبادی میں نہیں چلتے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عذر نے روک لیا ہے۔

۲۶۳۔            جو عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہو سکے اگر چہ وہ نیت کا ثواب پائیں گے لیکن جہاد کرنے والوں کو عمل کی فضیلت اس سے زیادہ حاصل ہے۔

۲۶۴۔            جہاد کرنے والے ہوں یا عذر سے رہ جانے والے۔

۲۶۵۔            بغیر عذر کے۔

(۹۶) اُس کی طرف سے  درجے  اور بخشش اور رحمت (ف ۲۶۶) اور اللہ بخشنے  والا مہربان ہے،

۲۶۶۔            حدیث شریف میں ہے اللّٰہ تعالی نے مجاہدین کے لئے جنت میں سو درجے مہیا فرمائے ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان اور زمین۔

(۹۷) وہ لوگ جن کی جان فرشتے  نکالتے  ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے  اوپر ظلم کرتے  تھے  ان سے  فرشتے  کہتے  ہیں تم کاہے  میں تھے  کہتے  ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے  (ف ۲۶۷) کہتے  ہیں کیا اللہ  کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے، تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور بہت بری جگہ پلٹنے  کی(ف ۲۶۸)

۲۶۷۔            شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمۂ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جا ن پر ظلم کرنا ہے۔

۲۶۸۔            مسئلہ : یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائضِ دینی ادا کر سکے گا اس پر ہجرت واجب ہو جاتی ہے حدیث میں ہے جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اور سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی رفاقت میسر ہو گی۔

  (۹۸) مگر وہ جو دبا لیے  گئے  مرد اور عورتیں اور بچے  جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے  (ف ۲۶۹) نہ راستہ جانیں۔

۲۶۹۔            زمینِ کفر سے نکلنے اور ہجرت کرنے کی۔

(۹۹) تو قریب ہے  اللہ ایسوں کو معاف فرمائے  (ف ۲۷۰) اور اللہ معاف فرمانے  والا بخشنے  والا ہے۔

۲۷۰۔            کہ وہ کریم ہے اور کریم جو امید دلاتا ہے پوری کرتا ہے اور یقیناً معاف فرمائے گا۔

(۱۰۰) اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے  گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے  گا، اور جو اپنے  گھر سے  نکلا (ف ۲۷۱)  اللہ و  رسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے  موت نے  آ لیا تو اس کا ثواب اللہ کے  ذمہ پر ہو گیا (ف ۲۷۲) اور اللہ بخشنے  والا مہربان ہے 

۲۷۱۔            شان نزول : اس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی تو جُندع بن ضَمرۃُ اللَّیْثِیْ نے اس کو سنا یہ بہت بوڑھے شخص تھے کہنے لگے کہ میں مستثنیٰ لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کر کے پہنچ سکتا ہوں۔ خدا کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھروں گا مجھے لے چلو چنانچہ ان کو چار پائی پر لے کے چلے مقام تنعیم میں آ کر ان کا انتقال ہو گیا۔ آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یارب یہ تیرا اور یہ تیرے رسول کا میں اس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت کی یہ خبر پا کر صحابہ کرام نے فرمایا کاش وہ مدینہ پہنچتے تو ان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

۲۷۲۔            اس کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے کیونکہ بطریق استحقاق کوئی چیز اس پر واجب نہیں اس کی شان اس سے عالی ہے

مسئلہ: جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہو جائے وہ اس طاعت کا ثواب پائے گا

مسئلہ: طلبِ علم، جہاد، حج، زیارت،طاعت، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لئے ترک وطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے اس راہ میں مر جانے والا اجر پائے گا۔

(۱۰۱) اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے  پڑھو (ف ۲۷۳) اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے  (ف ۲۷۴) بیشک کفار تمہارے  کھلے  دشمن ہیں۔

۲۷۳۔            یعنی چار رکعت والی دو رکعت۔

۲۷۴۔            مسئلہ : خوفِ کفار قصر کے لئے شرط نہیں حدیث: یعلی بن امیہ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں فرمایا اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے دریافت کیا حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللّٰہ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ جو چیزیں قابل تملیک نہیں ہیں ان کا صدقہ اسقاطِ محض ہے رَد کا احتمال نہیں رکھتا۔ آیت کے نزول کے وقت سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لئے آیت میں اس کا ذکر بیانِ حال ہے شرطِ قصر نہیں حضرت عبداللّٰہ بن عُمَر کی قراءت بھی دلیل ہے جس میں  اَنْ یَّفْتِنَکُمْ  بغیر  اِنْ خِفْتُمْ  کے ہے صحابہ کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے اور پوری چار پڑھنے میں اللّٰہ تعالی کے صدقہ کا رَد کرنا لازم آتا ہے لہذا قصر ضروری ہے۔

مدت سفر : مسئلہ :جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی ادنیٰ مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہو جاتی ہیں جو مسافت متوسط رفتار سے چلنے والے تین روز میں طے کرتے ہوں اور اس کے سفر میں قصر ہو گا

مسئلہ: مسافر کی جلدی اور دیر کا اعتبار نہیں خواہ وہ تین روز کی مسافت تین گھنٹہ میں طے کرے جب بھی قصر ہو گا اور اگر ایک روز کی مسافت تین روز سے زیادہ میں طے کرے تو قصر نہ ہو گا غرض اعتبار مسافت کا ہے۔

(۱۰۲) اور اے  محبوب! جب تم ان میں تشریف فرما ہو (ف ۲۷۵) پھر نماز میں ان کی امامت کرو (ف ۲۷۶) تو چاہئے  کہ ان میں ایک جماعت تمہارے  ساتھ ہو (ف ۲۷۷) اور وہ اپنے  ہتھیار لیے  رہیں (ف ۲۷۸) پھر جب وہ سجدہ کر لیں (ف ۲۷۹) تو ہٹ کر تم سے  پیچھے  ہو جائیں (ف ۲۸۰) اور اب دوسری جماعت آئے  جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی (ف ۲۸۱) اب  وہ تمہارے  مقتدی ہوں اور چاہئے  کہ اپنی پناہ  اور اپنے  ہتھیار لیے  رہیں (ف ۲۸۲) کافروں کی تمنا ہے  کہ کہیں تم اپنے  ہتھیاروں اور اپنے  اسباب سے  غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں (ف ۲۸۳) اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینھ کے  سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے  ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے  رہو (ف ۲۸۴) بیشک اللہ نے  کافروں کے  لئے  خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے،

۲۷۵۔            یعنی اپنے اصحاب میں۔

۲۷۶۔            اس میں جماعتِ نمازِ خوف کا بیان ہے شان نزول: جہاد میں جب رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ نے مع تمام اصحاب کے نماز ظہر بجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا بعضوں نے ان میں سے کہا اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نماز عصر جب مسلمان اس نماز کے لئے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کر کے انہیں قتل کر دو اس وقت حضرت جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا یا رسول اللّٰہ یہ نماز خوف ہے اور اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے  وَاِذَاکُنْتَ فِیْھِمْ اَلْایٰہْ۔

۲۷۷۔            یعنی حاضرین کو دو جماعتوں میں تقسیم کر دیا جائے ایک ان میں سے آپ کے ساتھ رہے آپ انہیں نماز پڑھائیں اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں قائم رہے۔

۲۷۸۔            یعنی جو لوگ دشمن کے مقابل ہوں اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر جماعت کے نمازی مراد ہوں تو وہ لوگ ایسے ہتھیار لگائے رہیں جن سے نماز میں کوئی خلل نہ ہو جیسے تلوار خنجر وغیرہ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھنے کا حکم دونوں فریقوں کے لئے ہے اور یہ احتیاط کے قریب ہے۔

۲۷۹۔            یعنی دونوں سجدے کر کے رکعت پوری کر لیں۔

۲۸۰۔            تاکہ دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو سکیں۔

۲۸۱۔            اور اب تک دشمن کے مقابل تھی۔

۲۸۲۔            پناہ سے زِرہ وغیرہ ایسی چیزیں مراد ہیں جن سے دشمن کے حملے سے بچا جا سکے ان کا ساتھ رکھنا بہرحال واجب ہے جیسا کہ قریب ہی ارشاد ہو گا  وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ  اور ہتھیار ساتھ رکھنا مستحب ہے نمازِ خوف کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ پہلی جماعت امام کے ساتھ ایک رکعت پوری کر کے دشمن کے مقابل جائے اور دوسری جماعت جو دشمن کے مقابل کھڑی تھی وہ آ کر امام کے ساتھ دوسری رکعت پڑھے پھر فقط امام سلام پھیرے اور پہلی جماعت آ کر دوسری رکعت بغیر قراءت کے پڑھے اور سلام پھیر دے اور دشمن کے مقابل چلی جائے پھر دوسری جماعت اپنی جگہ آ کر ایک رکعت جو باقی رہی تھی اس کو قرات کے ساتھ پورا کر کے سلام پھیر ے کیونکہ یہ لوگ مسبوق ہیں اور پہلی لاحق حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا اسی طرح نماز خوف ادا فرمانا مروی ہے۔ حضور کے بعد بھی نماز خوف صحابہ پڑھتے رہے ہیں حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کس قدر ضروری ہے مسائل: حالت سفر میں اگر صورتِ خوف پیش آئے تو اس کا یہ بیان ہوا لیکن اگر مقیم کو ایسی حالت پیش آئے تو وہ چار رکعت والی نمازوں میں ہر ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائے اور تین رکعت والی نماز میں پہلی جماعت کو دو رکعت اور دوسری کو ایک۔

۲۸۳۔            شان نزول: نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم غزوہ ذات الرِقاع سے جب فارغ ہوئے اور دشمن کے بہت آدمیوں کو گرفتار کیا اور اموال غنیمت ہاتھ آئے اور کوئی دشمن مقابل باقی نہ رہا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں تنہا تشریف لے گئے تو دشمن کی جماعت میں سے حُوَیرَث بن حارث مُحاربی یہ خبر پا کر تلوار لئے ہوئے چُھپا چُھپا پہاڑ سے اترا اور اچانک حضرت کے پاس پہنچا اور تلوار کھینچ کر کہنے لگا یامحمد(صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم )اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا حضور نے فرمایا اللّٰہ تعالی اور دعا فرمائی جب ہی اس نے حضور پر تلوار چلانے کا ارادہ کیا اوندھے منھ گر پڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی حضور نے وہ تلوار لے کر فرمایا کہ تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا کہنے لگا میرا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ فرمایا  اَشْھَدُاَنْ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اَللّٰہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ  پڑھ تو تیری تلوار تجھے دے دوں گا اس نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میں کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور زندگی بھر آپ کے کسی دشمن کی مدد نہ کروں گا آپ نے اس کی تلوار اس کو دے دی کہنے لگا یا محمد ( صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم ) آپ مجھ سے بہت بہتر ہیں فرمایا ہاں ہمارے لئے یہی سزاوار ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ہتھیار اور بچاؤ ساتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔(احمدی)۔

۲۸۴۔            کہ اس کا ساتھ رکھنا ہمیشہ ضروری ہے شان نزول: ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے اور اس وقت ہتھیار رکھنا ان کے لئے بہت تکلیف اور بار تھا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حالت عذر میں ہتھیار کھول رکھنے کی اجازت دی گئی۔

(۱۰۳) پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو  اللہ کی یاد کرو کھڑے  اور بیٹھے  اور کروٹوں پر لیٹے  (ف ۲۸۵) پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز  قائم کرو  بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے (ف ۲۸۶)

۲۸۵۔            یعنی ذکر الٰہی کی ہر حال میں مداومت کرو اور کسی حال میں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ رہو حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا اللّٰہ تعالی نے ہر فرض کی ایک حد مُعَیّن فرمائی سوائے ذِکر کے اس کی کوئی حد نہ رکھی فرمایا ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے رات میں ہو یا دن میں خشکی میں ہو یا تری میں سفر میں اور حضر میں غناء میں اور فقر میں تندرستی اور بیماری میں پوشیدہ اور ظاہر

مسئلہ: اس سے نمازوں کے بعد بغیر فصل کے کلمہ توحید پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے جیسا کہ مشائخ کی عادت ہے اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے

مسئلہ: ذکر میں تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر، ثناء، دعا سب داخل ہیں۔

۲۸۶۔            تو لازم ہے کہ اس کے اوقات کی رعایت کی جائے۔

(۱۰۴)اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے  تو  انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے  جیسا تمہیں پہنچتا ہے، اور تم اللہ سے  وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے،اور اللہ جاننے  والا حکمت والا ہے  (ف ۲۸۷)

۲۸۷۔            شان نزول:  احد کی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے تو رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے جو صحابۂ اُحد میں حاضر ہوئے تھے اُنہیں مشرکین کے تعاقب میں جانے کا حکم دیا اصحاب زخمی تھے انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

(۱۰۵) اے  محبوب! بیشک ہم نے  تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو (ف ۲۸۸) جس طرح تمہیں اللہ دکھائے  (ف ۲۸۹) اور دغا والوں کی طرف سے  نہ جھگڑو

۲۸۸۔            شان نزول: انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعمَہ بن اُبِیرِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زِرہ چُرا کر آٹے کی بوری میں زید بن سمین یہودی کے یہاں چھپائی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طمعہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کر گیا اور قسم کھا گیا بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہود کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عزم کر لیا کہ یہودی کو چور بتائیں گے اور اس پر قسم کھا لیں گے تاکہ قوم رسوا نہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم طعمہ کو بری کر دیں اور یہودی کو سزا دیں اسی لئے انہوں نے حضور کے سامنے طعمہ کے موافق اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی اور اس گواہی پر کوئی جَرح و قدح نہ ہوئی( اس واقعہ کے متعلق یہ نازل ہوئی اس واقعہ کے متعلق متعدد روایات آئی ہیں اور ان میں باہم اختلافات بھی ہیں )۔

۲۸۹۔            اور علم عطا فرمائے علمِ یقینی کو قوتِ ظہور کی وجہ سے رویت سے تعبیر فرمایا حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گز کوئی نہ کہے کہ جو اللّٰہ نے مجھے دکھایا اس پر میں نے فیصلہ کیا کیونکہ اللّٰہ تعالی نے یہ منصب خاص اپنے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا فرمایا آپ کی رائے ہمیشہ صَواب ہوتی ہے کیونکہ اللّٰہ تعالی نے حقائق و حوادث آپ کے پیش نظر کر دیئے ہیں اور دوسرے لوگوں کی رائے ظن کا مرتبہ رکھتی ہے۔

(۱۰۶) اور اللہ سے  معافی چاہو بیشک اللہ بخشنے  والا مہربان ہے۔

 (۱۰۷) اور ان کی طرف سے  نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے  ہیں (ف ۲۹۰) بیشک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے  دغا باز گنہگار کو

۲۹۰۔            معصیت کا ارتکاب کر کے۔

(۱۰۸) آدمیوں سے  چھپتے  ہیں  اور  اللہ سے نہیں چھپتے (ف ۲۹۱)  اور  اللہ ان کے  پاس ہے  (ف ۲۹۲) جب دل میں وہ بات تجویز کرتے  ہیں جو اللہ کو ناپسند ہے  (ف ۲۹۳) اور اللہ ان کے  کاموں کو گھیرے  ہوئے  ہے،

۲۹۱۔            حیا نہیں کرتے۔

۲۹۲۔            ان کا حال جانتا ہے اس پر ان کا کوئی راز چھپ نہیں سکتا۔

۲۹۳۔            جیسے طُعْمَہ کی طرف داری میں جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت۔

(۱۰۹) سنتے  ہو یہ جو تم ہو  (ف ۲۹۴) دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے  جھگڑے  تو ان کی طرف سے  کون جھگڑے  گا اللہ سے  قیامت کے  دن یا کون ان کا وکیل ہو گا،

۲۹۴۔            اے قوم طعمہ۔

(۱۱۰) اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے  پھر اللہ سے  بخشش چاہے  تو اللہ کو بخشنے  والا مہربان پائے  گا۔

 (۱۱۱) اور جو گناہ کمائے  تو ا س کی کمائی اسی کی جان پر پڑے  اور اللہ علم و حکمت والا ہے  (ف ۲۹۵)

۲۹۵۔            کسی کو دوسرے کے گناہ پر عذاب نہیں فرماتا۔

(۱۱۲) اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے  (ف ۲۹۶) پھر اسے  کسی بے  گناہ پر تھوپ  دے  اس نے  ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا،

۲۹۶۔            صغیرہ یا کبیرہ۔

(۱۱۳) اور اے  محبوب! اگر اللہ کا فضل و  رحمت تم پر نہ ہوتا (ف ۲۹۷) تو ان میں کے  کچھ لوگ یہ چاہتے  کہ تمہیں دھوکا دے  دیں اور وہ اپنے  ہی آپ کو بہکا رہے  ہیں (ف ۲۹۸) اور تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے  (ف ۲۹۹) اور اللہ نے  تم پر کتاب (ف ۳۰۰) اور حکمت اتاری اور تمہیں سکھا  دیا  جو کچھ تم نہ جانتے  تھے  (ف ۳۰۱) اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے  (ف ۳۰۲)

۲۹۷۔            تمہیں نبی و معصوم کر کے اور رازوں پر مُطلع فرما کے۔

۲۹۸۔            کیوں کہ اس کا وبال انہیں پر ہے۔

۲۹۹۔            کیونکہ اللّٰہ نے آپ کو ہمیشہ کے لئے معصوم کیا ہے۔

ٍ۳۰۰۔                   یعنی قرآن کریم۔

ٍ۳۰۱۔                   امورِ دین و احکامِ شرع و علومِ غیب

مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ اللّٰہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو تمام کائنات کے علوم عطا فرمائے اور کتاب و حکمت کے اَسرارو حقائق پر مطلع کیا یہ مسئلہ قرآن کریم کی بہت آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے۔

ٍ۳۰۲۔                   کہ تمہیں ان نعمتوں کے ساتھ ممتاز کیا۔

(۱۱۴) ان کے  اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں (ف ۳۰۳) مگر جو حکم دے  خیرات یا اچھی بات یا لوگوں میں صلح کرنے  کا اور جو اللہ کی رضا چاہنے  کو ایسا  کرے  اسے  عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔

۳۰۳۔            یہ سب لوگوں کے حق میں عام ہے۔

(۱۱۵) اور جو رسول کا  خلاف کرے  بعد اس کے  کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے   جدا راہ چلے  ہم اُسے  اُس کے  حال پر چھوڑ دیں  گے  اور اسے  دوزخ میں داخل کریں گے  اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے  کی (ف ۳۰۴)

ٍ۳۰۴۔                   یہ آیت دلیل ہے اس کی کہ اِجماع حُجت ہے اس کی مخالفت جائز نہیں جیسے کہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں ( مدارک) اور اس سے ثابت ہوا کہ طریقِ مسلمین ہی صراطِ مستقیم ہے حدیث شریف میں وارد ہوا کہ جماعت پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑی جماعت کا اتباع کرو جو جماعتِ مسلمین سے جدا ہوا وہ دوزخی ہے اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہل سنت و جماعت ہے۔

(۱۱۶) اللہ اسے  نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے  اور اس سے  نیچے  جو کچھ ہے  جسے  چاہے  معاف فرما  دیتا ہے  (ف ۳۰۵) اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے  وہ دور کی گمراہی میں پڑا،

ٍ۳۰۵۔                   شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک کہن سال اعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبیَ اللّٰہ میں بوڑھا ہوں گناہوں میں غرق ہوں بجز اس کے کہ جب سے میں نے اللّٰہ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہ کیا اور اس کے سوا کسی اور کو ولی نہ بنایا اور جرأت کے ساتھ گناہوں میں مبتلا نہ ہوا اور ایک پَل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللّٰہ سے بھاگ سکتا ہوں شرمندہ ہوں، تائب ہوں، مغفرت چاہتا ہوں اللّٰہ کے یہاں میرا کیا حال ہو گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ آیت نصِ صَریح ہے اس پر کہ شرک بخشا نہ جائے گا اگر مشرک اپنے شرک پر مرے کیونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مشرک جو اپنے شرک سے توبہ کرے اور ایمان لائے تو اس کی توبہ و ایمان مقبول ہے۔

(۱۱۷) یہ شرک والے  اللہ سوا نہیں پوجتے  مگر کچھ عورتوں کو (ف ۳۰۶) اور نہیں پوجتے  مگر سرکش شیطان کو(ف ۳۰۷)

ٍ۳۰۶۔                   یعنی مؤنث بتوں کو جیسے لات، عُزّیٰ، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث اور عرب کے ہر قبیلے کا بت تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثیٰ (عورت) کہتے تھے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی قراءت  اِلَّا اَوْثَاناً  اور حضرت ابن عباس کی قراءت میں  اِلَّآ اُثناً آیا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اِناث سے مراد بُت ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکین عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔

ٍ۳۰۷۔                   کیونکہ اسی کے اِغواء سے بت پرستی کرتے ہیں۔

(۱۱۸) جس پر اللہ نے  لعنت کی اور بولا (ف ۳۰۸) قسم ہے  میں ضرور تیرے  بندوں میں سے  کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا (ف ۳۰۹)

ٍ۳۰۸۔                   شیطان۔

ٍ۳۰۹۔                   انہیں اپنا مطیع بناؤں گا۔

(۱۱۹) قسم ہے  میں ضرور بہکا دوں گا اور ضرور انہیں آرزوئیں دلاؤں گا (ف ۳۱۰) اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ چوپایوں کے  کان چیریں گے  (ف ۳۱۱)  اور ضرور انہیں کہوں گا کہ وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزیں بدل دیں گے  (ف ۳۱۲)، اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو  دوست بنائے   وہ صریح ٹوٹے  میں پڑا

ٍ۳۱۰۔                   طرح طرح کی کبھی عمرِ طویل کی کبھی لذّاتِ دنیا کی کبھی خواہشاتِ باطلہ کی کبھی اور کبھی اور۔

ٍ۳۱۱۔                   چنانچہ انہوں نے ایسا کیا کہ اونٹنی جب پانچ مرتبہ بیاہ لیتی تو وہ اس کو چھوڑ دیتے اور اس سے نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کر لیتے اور اس کا دودھ بتوں کے لئے کر لیتے اور اس کو بَحِیرہ کہتے تھے شیطان نے اُن کے دِل میں یہ ڈال دیا تھا کہ ایسا کرنا عبادت ہے۔

ٍ۳۱۲۔                   مَردوں کا عورتوں کی شکل میں زنانہ لباس پہننا عورتوں کی طرح بات چیت اور حَرَ کات کرنا جسم کو گود کر سرمہ یا سَیندور وغیرہ جلد میں پیوست کر کے نقش و نگار بنانا بالوں میں بال جوڑ کر بڑی بڑی جٹیں بنانا بھی اس میں داخل ہے۔

(۱۲۰) شیطان  انہیں وعدے  دیتا  ہے   اور آرزوئیں دلاتا ہے  (ف ۳۱۳) اور شیطان انہیں وعدے  نہیں دیتا مگر فریب کے  (ف ۳۱۴)

ٍ۳۱ٍ۳۔                   اور دل میں طرح طرح کی اُمیدیں اور وسوسے ڈالتا ہے تاکہ انسان گمراہی میں پڑے۔

ٍ۳۱۴۔                   کہ جس چیز کے نفع اور فائدہ کی توقع دلاتا ہے درحقیقت اس میں سخت ضرر اور نقصان ہوتا ہے۔

(۱۲۱) اُن کا  ٹھکانا دوزخ ہے  اس سے  بچنے  کی جگہ نہ پائیں گے،

(۱۲۲) اور جو ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  کچھ دیر جاتی ہے  کہ ہم انہیں باغوں میں لے  جائیں گے  جن کے  نیچے  نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا  وعدہ اور اللہ سے  زیادہ کس کی بات سچی،

(۱۲۳) کام نہ کچھ تمہارے  خیالوں پر ہے  (ف ۳۱۵) اور نہ کتاب  والوں کی ہوس پر (ف ۳۱۶) جو برائی کرے  گا (ف ۳۱۷) اس کا بدلہ پائے  گا اور اللہ کے  سوا نہ  کوئی اپنا حمایتی پائے  گا نہ مددگار (ف ۳۱۸)

ٍ۳۱۵۔                   جو تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے۔

ٍ۳۱۶۔                   جو کہتے ہیں کہ ہم اللّٰہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصاریٰ کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے۔

ٍ۳۱۷۔                   خواہ مشرکین میں سے ہو یا یہود نصاریٰ میں سے۔

ٍ۳۱۸۔                   یہ وعید کفار کے لئے ہے۔

(۱۲۴) اور جو کچھ بھلے  کام کرے  گا مرد  ہو یا  عورت اور ہو مسلمان (ف ۳۱۹) تو وہ جنت میں داخل کیے  جائیں گے  اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے  گا

ٍ۳۱۹۔                   مسئلہ: اس میں اشارہ ہے کہ اعمال داخلِ ایمان نہیں۔

(۱۲۵) اور اس سے  بہتر کس کا دین جس نے  اپنا  منہ اللہ کے  لئے  جھکا  دیا (ف ۳۲۰) اور  وہ نیکی والا ہے  اور  ابراہیم کے  دین پر (ف ۳۲۱)  جو ہر باطل سے  جدا تھا اور اللہ نے  ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا (ف ۳۲۲)

ٍ۳۲۰۔                   یعنی اطاعت و اخلاص اختیار کیا۔

ٍ۳۲۱۔                   جو ملت اسلام کے موافق ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت و ملت سید انبیاء صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ملت میں داخل ہے اور خصوصیات دین محمدی کے اس کے علاوہ ہیں دین محمدی کا اتباع کرنے سے شرع و ملت ابراہیم علیہ السلام کا اتباع حاصل ہوتا ہے چونکہ عرب اور یہود و نصاریٰ سب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ السلام سے اِنتساب پر فخر کرتے تھے اور آپ کی شریعت ان سب کو مقبول تھی اور شرع محمدی اس پر حاوی ہے تو ان سب کو دین محمدی میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا لازم ہے۔

ٍ۳۲۲۔                   خُلَّت صفائے مَوَدّت اور غیر سے اِنقطاع کو کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات یہ اوصاف رکھتے تھے اس لئے آپ کو خلیل کہا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ خلیل اس مُحِبّ کو کہتے ہیں جس کی محبت کاملہ ہو اور اس میں کسی قسم کا خَلل اور نقصان نہ ہو یہ معنیٰ بھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ  و التسلیمات میں پائے جاتے ہیں تمام انبیاء کے جو کمالات ہیں سب سید انبیاء صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو حاصل ہیں حضور اللّٰہ کے خلیل بھی ہیں جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور حبیب بھی جیسا کہ ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ میں اللّٰہ کا حبیب ہوں اور یہ فخراً نہیں کہتا۔

(۱۲۶) اور اللہ ہی کا ہے   جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور جو کچھ زمین میں، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے  (ف ۳۲۳)

ٍ۳۲ٍ۳۔                   اور وہ اس کے احاطۂ علم و قدرت میں ہے احاطہ بالعلم یہ ہے کہ کسی شے کے لئے جتنے وجوہ ہو سکتے ہیں ان میں سے کوئی وجہ علم سے خارج نہ ہو۔

(۱۲۷) اور تم سے  عورتوں کے  بارے  میں فتویٰ پوچھتے  ہیں (ف ۳۲۴)  تم فرما دو کہ اللہ تمہیں ان کا فتویٰ دیتا ہے  اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے  ان یتیم لڑکیوں کے  بارے  میں تم انہیں نہیں دیتے  جو ان کا مقرر ہے  (ف ۳۲۵) اور انہیں نکاح میں بھی لانے  سے  منہ پھیرتے  ہو اور کمزور (ف ۳۲۶) بچوں کے  بارے  میں اور یہ کہ یتیموں کے  حق میں انصاف پر قائم رہو (ف ۳۲۷) اور تم جو بھلائی کرو تو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

۳۲۴۔            شان نزول: زمانۂ جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت اور چھوٹے بچوں کو میت کے مال کا وارث نہیں قرار دیتے تھے۔ جب آیت میراث نازل ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ کیا عورت اور چھوٹے بچے وارث ہوں گے، آپ نے ان کو اس آیت سے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے فرمایا کہ یتیموں کے اولیاء کا دستور یہ تھا کہ اگر یتیم لڑکی صاحب مال و جمال ہوتی تو اس سے تھوڑے مہر پر نکاح کر لیتے اور اگر حسن و مال نہ رکھتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر حسنِ صورت نہ رکھتی اور ہوتی مالدار تو اس سے نکاح نہ کرتے اور اس اندیشہ سے دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دیتے کہ وہ مال میں حصہ دار ہو جائے گا اللّٰہ تعالی نے یہ آیتیں نازل فرما کر انہیں ان عادتوں سے منع فرمایا۔

ٍ۳۲۵۔                   میراث سے۔

ٍ۳۲۶۔                   یتیم۔

ٍ۳۲۷۔                   ان کے پورے حقوق ان کو دو۔

(۱۲۸) اور اگر کوئی عورت اپنے  شوہر کی زیادتی یا بے  رغبتی کا اندیشہ کرے  (ف ۳۲۸) تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں (ف ۳۲۹) اور صلح خوب ہے  (ف ۳۳۰) اور دل لالچ کے  پھندے  میں ہیں  (ف ۳۳۱) اور اگر تم نیکی اور پرہیز گاری کرو (ف ۳۳۲) تو اللہ کو تمہارے  کاموں کی خبر ہے (ف ۳۳۳)

ٍ۳۲۸۔                   زیادتی تو اس طرح کہ اس سے علیٰحدہ رہے کھانے پہننے کو نہ دے یا کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اعراض یہ کہ محبت نہ رکھے بول چال ترک کر دے یا کم کر دے۔

ٍ۳۲۹۔                   اور اس صلح کے لئے اپنے حقوق کا بار کم کرنے پر راضی ہو جائیں۔

ٍ۳ٍ۳۰۔                   اور زیادتی اور جدائی دونوں سے بہتر ہے۔

ٍ۳ٍ۳۱۔                   ہر ایک کو اپنی راحت و آسائش چاہتا اور اپنے اوپر کچھ مشقت گوارا کر کے دوسرے کی آسائش کو ترجیح نہیں دیتا۔

ٍ۳ٍ۳۲۔                   اور باوجود نا مرغوب ہونے کے اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور برعایت حق صحبت ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور صحبت و مُعاشرت میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں۔

ٍ۳ٍ۳ٍ۳۔                   وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔

(۱۲۹) اور تم سے  ہرگز نہ ہو سکے  گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اور چاہے  کتنی ہی حرص کرو (ف ۳۳۴) تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک  جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو (ف ۳۳۵) اور اگر تم نیکی اور پرہیز گاری کرو تو بیشک اللہ بخشنے  والا مہربان ہے۔

۳ٍ۳۴۔            یعنی اگر کئی بیبیاں ہوں تویہ تمہاری مقدرت میں نہیں کہ ہر امر میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی امر میں کسی کو کسی پر ترجیح نہ ہونے دو نہ میل و محبت میں نہ خواہش و رغبت میں نہ عشرت و اختلاط میں نہ نظر و توجہ میں تم کوشش کر کے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہارے مقدور میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان تمام پابندیوں کا بار تم پر نہیں رکھا گیا اور محبت قلبی اور میل طبعی جو تمہارا اختیار ی نہیں ہے اس میں برابری کرنے کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔

ٍ۳ٍ۳۵۔                   بلکہ یہ ضرور ہے کہ جہاں تک تمہیں قدرت و اختیار ہے وہاں تک یکساں برتاؤ کرو محبت اختیار ی شے نہیں تو بات چیت حسن و اخلاق کھانے پہننے پاس رکھنے اور ایسے امور میں برابری کرنا اختیار ی ہے ان امور میں دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا لازم و ضروری ہے۔

(۱۳۰) اور اگر وہ دونوں (ف ۳۳۶) جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی کشائش سے  تم میں ہر ایک کو دوسرے  سے  بے  نیاز کر دے  گا (ف ۳۳۷) اور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے،

ٍ۳ٍ۳۶۔                   زن و شو با ہم صلح نہ کریں اور وہ جدائی ہی بہتر سمجھیں اور خلع کے ساتھ تفریق ہو جائے یا مرد عورت کو طلاق دے کر اس کا مہر اور عدت کا نفقہ ادا کر دے اور اس طرح وہ۔

ٍ۳ٍ۳۷۔                   اور ہر ایک کو بہتر بدل عطا فرمائے گا۔

(۱۳۱) اور اللہ ہی کا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور جو کچھ زمین میں، اور بیشک تاکید فرما دی ہے  ہم نے  ان سے  جو تم سے  پہلے  کتاب دیئے  گئے  اور تم کو  کہ اللہ سے  ڈرتے  رہو (ف ۳۳۸) اور اگر کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور جو کچھ زمین میں (ف ۳۳۹) اور اللہ بے  نیاز ہے  (ف ۳۴۰) سب خوبیوں سراہا۔

۳ٍ۳۸۔            اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے حُکم کے خلاف نہ کرو توحید و شریعت پر قائم رہو اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقویٰ اور پرہیزگاری کا حکم قدیم ہے تمام امتوں کو اس کی تاکید ہوتی رہی ہے۔

ٍ۳ٍ۳۹۔                   تمام جہان اس کے فرماں برداروں سے بھرا ہے تمہارے کفر سے اس کا کیا ضرر۔

ٍ۳۴۰۔                   تمام خَلق سے اور ان کی عبادت سے۔

  (۱۳۲) اور اللہ کا ہے   جو کچھ آسمانوں میں ہے   اور  جو کچھ زمین میں، اور اللہ کافی ہے  کارساز۔

(۱۳۳) اے  لوگوں وہ چاہے  تو تمہیں لے  جائے  (ف ۳۴۱) اور  اوروں کو لے  آئے  اور اللہ کو اس کی قدرت ہے،

ٍ۳۴۱۔                   معدوم کر دے۔

(۱۳۴) جو دنیا کا انعام چاہے  تو اللہ ہی کے  پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے  (ف ۳۴۲) اور اللہ ہی سنتا دیکھتا ہے۔

۳۴۲۔            معنیٰ یہ ہیں کہ جس کو اپنے عمل سے دنیا مقصود ہو اور اس کی مراد اتنی ہی جو اللّٰہ اس کو دے دیتا ہے اور ثواب آخرت سے وہ محروم رہتا ہے اور جس نے عمل رضائے الٰہی اور ثواب آخرت کے لئے کیا تو اللّٰہ دنیا و آخرت دونوں میں ثواب دینے والا ہے تو جو شخص اللّٰہ سے فقط دنیا کا طالب ہو وہ نادان،خسیس اور کم ہمت ہے۔

(۱۳۵) اے  ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہو جاؤ  اللہ کے  لئے  گواہی دیتے  چاہے  اس میں تمہارا  اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا جس پر گواہی دو  وہ غنی ہو یا فقیر ہو (ف ۳۴۳) بہرحال اللہ کو اس کا سب سے  زیادہ اختیار ہے  تو خواہش کے  پیچھے  نہ جاؤ کہ حق سے  الگ پڑو اگر تم ہیر پھیر کرو (ف ۳۴۴) یا منہ پھیرو (ف ۳۴۵) تو اللہ کو تمہارے  کاموں کی خبر ہے  (ف ۳۴۶)

ٍ۳۴۳۔                   کسی کی رعایت و طرفداری میں انصاف سے نہ ہٹو اور کوئی قَرابت و رشتہ حق کہنے میں مخل نہ ہونے پائے۔

ٍ۳۴۴۔                   حق بیان میں اور جیسا چاہئے نہ کہو۔

ٍ۳۴۵۔                   ادائے شہادت سے۔

ٍ۳۴۶۔                   جیسے عمل ہوں گے ویسا بدلہ دے گا۔

(۱۳۶) اے  ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے  رسول پر (ف ۳۴۷) اور اس کتاب پر جو اپنے  ان  رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے  اتار دی (ف ۳۴۸) اور جو نہ مانے  اللہ اور اس کے  فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو (ف ۳۴۹) تو وہ ضرور  دور کی گمراہی میں پڑا،

ٍ۳۴۷۔                   یعنی ایمان پر ثابت رہو یہ معنیٰ اس صورت میں ہیں کہ یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا  کا خطاب مسلمانوں سے ہو اور اگر خطاب یہود و نصاریٰ سے ہو تو معنیٰ یہ ہیں کہ اے بعض کتابوں بعض رسولوں پر ایمان لانے والو تمہیں یہ حکم ہے اور اگر خطاب منافقین سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ اے ایمان کا ظاہری دعویٰ کرنے والو اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ یہاں رسول سے سیِّد انبیاء صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اور کتاب سے قرآن پاک مراد ہے شان نزول : حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا یہ آیت عبداللّٰہ بن سلام اور اسد واُسید و ثَعلبہ بن قَیس اور سلام و سلم ہ و یامین کے حق میں نازل ہوئی یہ لوگ مومنین اہل کتاب میں سے تھے رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم آپ پر اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسیٰ پر اور توریت پر اور عُزَیر پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے سوا باقی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں گے حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا کہ تم اللّٰہ پر اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ  صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر اور قرآن پر اور اس سے پہلی ہر کتاب پر ایمان لاؤ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ٍ۳۴۸۔                   یعنی قرآن پاک پر اور ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جو اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں۔

ٍ۳۴۹۔                   یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کہ ایک رسول اور ایک کتاب کا انکار بھی سب کا انکار ہے۔

(۱۳۷) بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے  پھر کافر ہوئے  پھر ایمان لائے  پھر کافر ہوئے  پھر اور کفر میں بڑھے  (ف ۳۵۰) اللہ ہرگز نہ انہیں بخشے  (ف ۳۵۱) نہ انہیں راہ دکھائے،

ٍ۳۵۰۔                   شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے پھر بَچھڑا پوج کر کافر ہوئے پھر اس کے بعد ایمان لائے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اِنجیل کا انکار کر کے کافر ہو گئے پھر سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کا انکار کر کے اور کفر میں بڑھے ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہو گئے ایمان کے بعد پھر ایمان لائے یعنی انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار کیا تاکہ ان پر مؤمنین کے احکام جاری ہوں۔ پھر کفر میں بڑھے یعنی کفر پر ان کی موت ہوئی۔

ٍ۳۵۱۔                   جب تک کفر پر رہیں اور کفر پر مریں کیونکہ کُفر بخشا نہیں جاتا مگر جب کہ کافر توبہ کرے اور ایمان لائے جیسا کہ فرمایا۔  قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَھُوْا یُغْفَرْ لَھُمْ مَّا قَدْسَلَفَ۔

(۱۳۸) خوشخبری دو  منافقوں کو کہ ان کے  لئے  دردناک  عذاب ہے 

(۱۳۹) وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے  ہیں (ف ۳۵۲) کیا ان کے  پاس عزت  ڈھونڈتے  ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے  لیے  ہے (ف ۳۵۳)

ٍ۳۵۲۔                   یہ منافقین کا حال ہے جن کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہو گا اور اس لئے وہ کفار کو صاحبِ قوت اور شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے باوجود یہ کہ کفار کے ساتھ دوستی مَمنوع اور ان کے ملنے سے طلبِ عزت باطل۔

ٍ۳۵۳۔                   اور اس کے لئے جس کو وہ عزت دے جیسے کہ انبیاء و مؤمنین۔

(۱۴۰) اور بیشک اللہ تم پر کتاب (ف ۳۵۴) میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے  تو ان لوگوں کے  ساتھ نہ بیٹھو جب تک  وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں (ف ۳۵۵) ورنہ تم بھی انہیں جیسے  ہو (ف ۳۵۶) بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے  گا

ٍ۳۵۴۔                   یعنی قرآن۔

ٍ۳۵۵۔                   کفار کی ہم نشینی اور ان کی مجلسوں میں شرکت کرنا ایسے ہی اور بے دینوں اور گمراہوں کی مجلسوں کی شرکت اور ان کے ساتھ یارانہ و مُصاحبت ممنوع فرمائی گئی۔

ٍ۳۵۶۔                   اس سے ثابت ہوا کہ کفر کے ساتھ راضی ہونے والا بھی کافر ہے۔

(۱۴۱) وہ جو تمہاری حالت  تکا کرتے  ہیں تو اگر  اللہ کی طرف سے  تم کو فتح ملے  کہیں کیا ہم تمہارے  ساتھ نہ تھے  (ف ۳۵۷) اور اگر کافروں کا حصہ ہو تو ان سے  کہیں کیا ہمیں تم پر قابو نہ تھا (ف ۳۵۸) اور ہم نے  تمہیں مسلمانوں سے  بچایا (ف ۳۵۹) تو اللہ تم سب میں (ف ۳۶۰) قیامت کے  دن فیصلہ کر دے  گا (ف ۳۶۱) اور اللہ کافروں کو مسلمان پر کوئی راہ نہ دے  گا (ف ۳۶۲)

ٍ۳۵۷۔                   اس سے ان کی مراد غَنیمت میں شرکت کرنا اور حصہ چاہنا ہے۔

ٍ۳۵۸۔                   کہ ہم تمہیں قتل کرتے گرفتار کرتے مگر ہم نے یہ کچھ نہیں کیا۔

ٍ۳۵۹۔                   اور انہیں طرح طرح کے حیلوں سے روکا اور ان کے رازوں پر تمہیں مُطلع کیا تو اب ہمارے اس سلوک کی قدر کرو اور حصہ دو ( یہ منافقوں کا حال ہے )۔

ٍ۳۶۰۔                   اے ایماندارو اور منافقو۔

ٍ۳۶۱۔                   کہ مؤمنین کو جنت عطا کرے گا اور منافقوں کو داخل جہنم کرے گا۔

ٍ۳۶۲۔                   یعنی کافر نہ مسلمانوں کو مٹا سکیں گے نہ حجت میں غالب آ سکیں گے علماء نے اس آیت سے چند مسائل مستنبط کئے ہیں (۱) کافر مسلمان کا وارث نہیں (۲) کافر مسلمان کے مال پر اِستِیلاء پا کر مالک نہیں ہو سکتا۔ (۳) کافر کو مسلمان غلام کے خریدنے کا مجاز نہیں (۴) ذمی کے عوض مسلمان قتل نہ کیا جائے گا۔(جمل)۔

(۱۴۲) بیشک منافق لوگ اپنے  گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے  ہیں (ف ۳۶۳) اور وہی انہیں غافل کر کے  مارے  گا اور جب نماز کو کھڑے  ہوں (ف ۳۶۴)  تو  ہارے  جی سے  (ف ۳۶۵) لوگوں کو دکھاوا کرتے  ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے  مگر تھوڑا (ف ۳۶۶)

ٍ۳۶۳۔                   کیونکہ حقیقت میں تو اللّٰہ کو فریب دینا ممکن نہیں۔

ٍ۳۶۴۔                   مؤمنین کے ساتھ۔

ٍ۳۶۵۔                   کیونکہ ایمان تو ہے نہیں جس سے ذوقِ طاعت اور لطفِ عبادت حاصل ہو محض ریا کاری ہے اس لئے منافق کو نماز بار معلوم ہوتی ہے۔

ٍ۳۶۶۔                   اس طرح کہ مسلمانوں کے پاس ہوئے تو نماز پڑھ لی اور علیٰحدہ ہوئے تو ندارد۔

(۱۴۳) بیچ میں ڈگمگا رہے  ہیں (ف ۳۶۷) نہ  اِدھر کے  نہ اُدھر کے  (ف ۳۶۸) اور جسے  اللہ گمراہ کرے  تو اس کے  لئے  کوئی راہ نہ پائے  گا،

ٍ۳۶۷۔                   کفر و ایمان کے۔

ٍ۳۶۸۔                   نہ خالص مؤمن نہ کھلے کافر۔

(۱۴۴) اے  ایمان والو! کافروں کو دوست نہ بناؤ مسلمانوں کے  سوا  (ف ۳۶۹) کیا یہ چاہتے  ہو کہ اپنے  اوپر اللہ کے  لئے  صریح حجت کر لو (ف ۳۷۰)

ٍ۳۶۹۔                   اس آیت میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار کو دوست بنانا منافقین کی خَصلَت ہے تم اس سے بچو۔

ٍ۳۷۰۔                   اپنے نفاق کی اور مستحقِ جہنم ہو جاؤ۔

(۱۴۵) بیشک منافق  دوزخ کے  سب سے  نیچے  طبقہ میں ہیں (ف ۳۷۱) اور تو ہرگز ان کا کوئی  مددگار  نہ پائے  گا

ٍ۳۷۱۔                   منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔

(۱۴۶) مگر وہ جنہوں نے  توبہ کی (ف ۳۷۲) اور سنورے  اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کے  لئے  کر لیا تو یہ مسلمانوں کے  ساتھ ہیں (ف ۳۷۳) اور عنقریب اللہ مسلمانوں کو بڑا  ثواب  دے  گا،

ٍ۳۷۲۔                   نفاق سے۔

ٍ۳۷۳۔                   دارین میں۔

(۱۴۷) اور اللہ تمہیں عذاب دے  کر کیا کرے  گا اگر تم حق مانو، اور ایمان  لاؤ  اور اللہ ہے  صلہ دینے  والا جاننے  والا۔

(۱۴۸) اللہ پسند نہیں کرتا بری  بات کا اعلان کرنا (ف ۳۷۴) مگر مظلوم سے  (ف ۳۷۵) اور اللہ سنتا جانتا ہے۔

۳۷۴۔            یعنی کسی کے پوشیدہ حال کا ظاہر کرنا۔ اس میں غیبت بھی آ گئی، چغل خوری بھی۔عاقل وہ ہے جو اپنے عیبوں کو دیکھے ایک قول یہ بھی ہے کہ بُری بات سے گالی مرا دہے۔

ٍ۳۷۵۔                   کہ اس کو جائز ہے کہ ظالم کے ظلم کا بیان کرے وہ چور یا غاصب کی نسبت کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چرایا غصب کیا شانِ نزول: ایک شخص ایک قوم کا مہمان ہوا تھا انہوں نے اچھی طرح اس کی میزبانی نہ کی جب وہ وہاں سے نکلا تو اُن کی شکایت کرتا نکلا اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے باب میں نازل ہوئی ایک شخص سیّدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے آپ کی شان میں زباں درازی کرتا رہا آپ نے کئی بار سُکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا اس پر حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اٹھ کھڑے ہوئے حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم یہ شخص مجھ کو بُرا کہتا رہا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے کچھ نہ فرمایا میں نے ایک مرتبہ جواب دیا تو حضور اٹھ گئے، فرمایا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا جب تم نے جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔

(۱۴۹) اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ  کر یا کسی کی برائی سے   درگزرو تو بیشک اللہ معاف کرنے  والا قدرت والا ہے  (ف ۳۷۶)

ٍ۳۷۶۔                   تم اس کے بندوں سے درگزر کرو وہ تم سے در گزر فرمائے گا۔ حدیث : تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔

(۱۵۰) وہ جو اللہ اور اس کے  رسولوں کو نہیں مانتے  اور چاہتے  ہیں کہ اللہ سے  اس کے  رسولوں کو جدا کر دیں (ف ۳۷۷) اور کہتے  ہیں ہم کسی پر ایمان لائے  اور کسی کے  منکر ہوئے  (ف ۳۷۸) اور چاہتے  ہیں کہ ایمان و کفر کے  بیچ میں کوئی راہ نکال لیں

ٍ۳۷۷۔                   اس طرح کہ اللّٰہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں پر نہ لائیں۔

ٍ۳۷۸۔                   شان نزول : یہ آیت یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ اور سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔ اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لائے اور انہوں نے سیدِ عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ کفر کیا۔

(۱۵۱) یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر (ف ۳۷۹) اور ہم نے  کافروں کے  لئے  ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۳۷۹۔            بعض رسولوں پر ایمان لانا انہیں کفر سے نہیں بچاتا کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء کے انکار کے برابر ہے۔

(۱۵۲) اور وہ جو اللہ اور اس کے  سب رسولوں پر ایمان لائے  اور ان  میں سے  کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے  ثواب  دے  گا (ف ۳۸۰) اور اللہ بخشنے  والا مہربان ہے  (ف ۳۸۱)

ٍ۳۸۰۔                   مرتکبِ کبیرہ بھی اس میں داخل ہے کیونکہ وہ اللّٰہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتا ہے معتزلہ صاحبِ کبیرہ کے خُلود عذاب کا عقیدہ رکھتے ہیں اس آیت سے ان کے اس عقیدہ کا بطلان ثابت ہوا۔

ٍ۳۸۱۔                   مسئلہ: یہ آیت صفاتِ فعلیہ (جیسے کہ مغفرت و رحمت ) کے قدیم ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حدوث کے قائل کو کہنا پڑتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ( معاذ اللّٰہ ) ازل میں غفورو رحیم نہیں تھا پھر ہو گیا اس کے اس قول کو یہ آیت باطل کرتی ہے۔

(۱۵۳) اے  محبوب! اہل کتاب (ف ۳۸۲) تم سے  سوال کرتے  ہیں کہ ان پر آسمان سے  ایک کتاب اتار دو (ف ۳۸۳) تو وہ تو موسیٰ سے  اس سے  بھی بڑا سوال کر چکے  (ف ۳۸۴) کہ بولے  ہمیں ا لله کو اعلانیہ دکھا دو تو انہیں کڑک نے  آ لیا ان کے  گناہوں پر پھر بچھڑا لے  بیٹھے  (ف ۳۸۵) بعد اس کے  لئے  روشن آیتیں (۳۸۶) ان کے  پاس آ چکیں تو ہم نے  یہ معاف فرما دیا (ف ۳۸۷) اور ہم نے  موسیٰ کو روشن غلبہ دیا (ف ۳۸۸)

ٍ۳۸۲۔                   براہِ سرکشی۔

ٍ۳۸۳۔                   یکبارگی شان نزول : یہود میں سے کَعب بن اشرف وفَخَّاص بن عازوراء نے سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمارے پاس آسمان سے یکبارگی کتاب لائیے جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت لائے تھے یہ سوال ان کا طلبِ ہدایت و اتباع کے لئے نہ تھا بلکہ سرکشی و بغاوت سے تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ٍ۳۸۴۔                   یعنی یہ سوال ان کا کمالِ جہل سے ہے اور اس قسم کی جہالتوں میں ان کے باپ دادا بھی گرفتار تھے اگر سوال طلبِ رُشد کے لئے ہوتا تو پورا کر دیا جاتا مگر وہ تو کسی حال میں ایمان لانے والے نہ تھے۔

ٍ۳۸۵۔                   اس کو پوجنے لگے۔

ٍ۳۸۶۔                   توریت اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مُعجزات جو اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدق پر واضحُ الدلالۃ تھے اور باوجود یکہ توریت ہم نے یکبارگی نازل کی تھی لیکن خوئے بدرابہانۂ بسیار بجائے اطاعت کرنے کے انہوں نے خدا کے دیکھنے کا سوال کیا۔

ٍ۳۸۷۔                   جب انہوں نے توبہ کی اس میں حضور کے زمانہ کے یہودیوں کے لئے توقع ہے کہ وہ بھی توبہ کریں تو اللّٰہ انہیں بھی اپنے فضل سے معاف فرمائے۔

ٍ۳۸۸۔                   ایسا تسلط عطا فرمایا کہ جب آپ نے بنی اسرائیل کو توبہ کے لئے خود ان کے اپنے قتل کا حکم دیا اور انکار نہ کر سکے اور انہوں نے اطاعت کی۔

(۱۵۴) پھر ہم نے  ان پر طور کو اونچا کیا ان سے  عہد لینے  کو اور ان سے  فرمایا کہ دروازے  میں سجدہ کرتے  داخل ہو اور ان سے  فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے  نہ بڑھو (ف ۳۸۹) اور ہم نے  ان سے  گاڑھا عہد لیا(ف ۳۹۰)

ٍ۳۸۹۔                   یعنی مچھلی کا شکار وغیرہ جو عمل اس روز تمہارے لئے حلال نہیں نہ کرو سورۂ بقر میں ان تمام احکام کی تفصیلیں گزر چکیں۔

ٍ۳۹۰۔                   کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں پھر انہوں نے اس عہد کو توڑا۔

(۱۵۵) تو ان کی کیسی بد عہدیوں کے  سبب ہم نے  ان پر لعنت کی اور اس لئے  کہ وہ آیات الٰہی  کے  منکر ہوئے  (ف ۳۹۱) اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے  (ف ۳۹۲) اور ان کے  اس کہنے  پر کہ ہمارے  دلوں پر غلاف ہیں (ف ۳۹۳) بلکہ اللہ نے  ان کے  کفر کے  سبب ان کے  دلوں پر مہر لگا دی ہے  تو ایمان نہیں لاتے  مگر تھوڑے۔

۳۹۱۔            جو انبیاء کے صدق پر دلالت کرتے تھے جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات۔

ٍ۳۹۲۔                   انبیاء کا قتل کرنا تو ناحق ہے ہی کسی طرح حق ہوہی نہیں سکتا لیکن یہاں مقصود یہ ہے کہ ان کے زعم میں بھی انہیں اس کا کوئی استحقاق نہ تھا۔

ٍ۳۹۳۔                   لہذا کوئی پند و وعظ کارگر نہیں ہو سکتا۔

(۱۵۶) اور اس لئے  کہ انہوں نے  کفر کیا (ف ۳۹۴) اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا۔

۳۹۴۔            حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی۔

(۱۵۷) اور ان کے  اس کہنے  پر کہ ہم نے  مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے  رسول کو شہید کیا (ف ۳۹۵) اور ہے  یہ کہ انہوں نے  نہ اسے  قتل (۱۵۷)کیا اور نہ اسے  سولی دی بلکہ ان کے  لئے  ان کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا (ف ۳۹۶) اور وہ جو اس کے  بارہ میں اختلاف کر رہے  ہیں ضرور اس کی طرف سے  شبہ میں پڑے  ہوئے  ہیں (ف ۳۹۷) انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں (ف ۳۹۸) مگر یہی گمان کی پیروی (ف ۳۹۹) اور بیشک انہوں نے  اس کو قتل نہیں کیا (ف ۴۰۰)

ٍ۳۹۵۔                   یہود نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل کر دیا اور نصاریٰ نے اس کی تصدیق کی تھی اللّٰہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تکذیب فرما دی۔

ٍ۳۹۶۔                   جس کو انہوں نے قتل کیا اور خیال کرتے رہے کہ یہ حضرت عیسیٰ ہیں باوجود یکہ ان کا یہ خیال غلط تھا۔

ٍ۳۹۷۔                   اور یقینی نہیں کہہ سکتے کہ وہ مقتول کون ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ مقتول عیسیٰ ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ چہرہ تو عیسیٰ کا ہے اور جسم عیسیٰ کا نہیں لہذا یہ وہ نہیں اسی تردّد میں ہیں۔

ٍ۳۹۸۔                   جو حقیقت حال ہے۔

ٍ۳۹۹۔                   اور اٹکلیں دَوڑانا۔

۴۰۰۔            ان کا دعوائے قتل جھُوٹا ہے۔

(۱۵۸) بلکہ اللہ نے  اسے  اپنی طرف اٹھا لیا (ف ۴۰۱) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،

۴۰۱۔            صحیح و سالم بسوئے آسمان احادیث میں اس کی تفصیلیں وارد ہیں سورۂ آل عمران میں اس واقعہ کا ذکر گزر چکا ہے۔

(۱۵۹) کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے  پہلے  اس پر ایمان نہ لائے  (ف ۴۰۲) اور  قیامت کے  دن وہ ان پر گواہ ہو گا (ف ۴۰۳)

۴۰۲۔            اس آیت کی تفسیر میں چند قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اپنی موت کے وقت جب عذاب کے فرشتے نظر آتے ہیں تو وہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لے آتے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے کفر کیا تھا اور اس وقت کا ایمان مقبول و معتبر نہیں دوسرا قول یہ ہے کہ قریب قیامت جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے اس وقت کے تمام اہل کتاب اُن پر ایمان لے آئیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و التسلیمات شریعتِ محمدیہ کے مطابق حکم کریں گے اور اُسی دین کے آئمہ میں سے ایک امام کی حیثیت میں ہوں گے اور نصاریٰ نے ان کی نسبت جو گمان باندھ رکھے ہیں ان کا اِبطال فرمائیں گے دینِ محمدی کی اشاعت کریں گے اس وقت یہود و نصاریٰ کو یا تو اسلام قبول کرنا ہو گا یا قتل کر ڈالے جائیں گے جزیہ قبول کرنے کا حکم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کرنے کے وقت تک ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ آیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لے آئے گا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے گا لیکن وقتِ موت کا ایمان مقبول نہیں نافع نہ ہو گا۔

۴۰۳۔            یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود پر تو یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کے حق میں زبانِ طعن دراز کی اور نصاریٰ پر یہ کہ اُنہوں نے آپ کو رب ٹھہرایا۔ اور خدا کا شریک گَردانا اور اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں ان کے ایمان کی بھی آپ شہادت دیں گے۔

(۱۶۰) تو یہودیوں کے  بڑے  ظلم کے  (ف ۴۰۴) سبب ہم نے  وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے  لئے  حلال تھیں (ف ۴۰۵) ان پر حرام فرما دیں اور اس لئے  کہ انہوں نے  بہتوں کو اللہ کی راہ سے  روکا،

۴۰۴۔            نقضِ عہد وغیرہ جن کا اُوپر آیات میں ذکر ہو چکا۔

۴۰۵۔            جن کا سورۂ اَنعام کی یہ آیہ  وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا میں بیان ہے۔

(۱۶۱) اور اس لئے  کہ وہ سود لیتے   حالانکہ وہ اس سے  منع کیے  گئے  تھے  اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے  (ف ۴۰۶) اور ان میں جو کافر ہوئے  ہم نے  ان کے  لئے  دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۴۰۶۔            رشوت وغیرہ حرام طریقوں سے۔

(۱۶۲) ہاں جو  اُن میں علم کے  پکے  (ف ۴۰۷) اور ایمان والے  ہیں وہ ایمان لاتے  ہیں اس پر جو اے  محبوب تمہاری طرف اُترا  اور جو تم سے  پہلے  اُترا (ف ۴۰۸) اور نماز قائم رکھنے  والے  اور زکوٰۃ  دینے  والے  اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے  والے  ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،

۴۰۷۔            مثل حضرت عبداللّٰہ بن سلام اور اُن کے اصحاب کہ جو علمِ راسخ اور عقلِ صافی اور بصیرت کاملہ رکھتے تھے انہوں نے اپنے علم سے دینِ اسلام کی حقیقت کو جانا اور سید انبیاء صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ و سلم پر ایمان لائے۔

۴۰۸۔            پہلے انبیاء پر۔

(۱۶۳) بیشک اے  محبوب! ہم نے  تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے   دحی نوح اور اس کے  بعد پیغمبروں کو بھیجی (ف ۴۰۹) اور ہم نے  ابراہیم اور اسمٰعیل  اور  اسحاق  اور یعقوب  اور ان کے  بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے  داؤد کو زبور عطا فرمائی

۴۰۹۔            شانِ نزول: یہود و نصاریٰ نے سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم سے جو یہ سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ کی نبوّت پر ایمان لائیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا بکثرت انبیاء ہیں جن میں سے گیارہ کے اسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں اہلِ کتاب اُن سب کی نبوّت کو مانتے ہیں ان سب حضرات میں سے کسی پر یکبارگی کتاب نازل نہ ہوئی توجب اس وجہ سے ان کی نبوّت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت تسلیم کرنے میں کیا عذر ہے اور مقصود رسولوں کے بھیجنے سے خَلق کی ہدایت اور ان کو اللّٰہ تعالیٰ کی توحید و معرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور طریقِ عبادت کی تعلیم ہے کتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بر وجہِ اَتم حاصل ہوتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال حماقت ہے۔

(۱۶۴) اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے  ہم تم سے   (ف ۴۱۰) فرما چکے  اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے  نہ فرمایا (ف ۴۱۱) اور اللہ نے  موسیٰ سے  حقیقتاً کلام فرمایا (ف ۴۱۲)

۴۱۰۔            قرآن شریف میں نام بنام فرما چکے ہیں۔

۴۱۱۔            اور اب تک ان کے اسماء کی تفصیل قرآن پاک میں ذکر نہیں فرمائی گئی۔

۴۱۲۔            تو جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بے واسطہ کلام فرمانا دوسرے انبیاء علیہم السلام کی نبوت میں قادح نہیں جن سے اس طرح کلام نہیں فرمایا گیا ایسے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتاب کا یکبارگی نازل ہونا دوسرے انبیاء کی نبوت میں کچھ بھی قادح نہیں ہو سکتا۔

(۱۶۵) رسول خوشخبری دیتے  (ف ۴۱۳) اور ڈر سناتے  (ف ۴۱۴) کہ رسولوں کے  بعد اللہ کے  یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ  رہے  (ف ۴۱۵) اور اللہ غالب حکمت والا ہے،

۴۱ٍ۳۔            ثواب کی ایمان لانے والوں کو۔

۴۱۴۔            عذاب کا کفر کرنے والوں کو۔

۴۱۵۔            اور یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ اگر ہمارے پاس رسول آتے تو ہم ضرور ان کا حکم مانتے اور اللّٰہ کے مطیع و فرماں بردار ہوتے اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ رسولوں کی بعثت سے قبل خَلق پر عذاب نہیں فرماتا جیسا دوسری جگہ ارشاد فرمایا  وَمَاکُنَّامُعَذِّبِیْنَ حَتّیٰ نَبْعَثَ رَسُوْلًا اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معرفت الٰہی بیانِ شرع و زبانِ اَنبیاء ہی سے حاصل ہوتی ہے عقلِ محض سے اس منزل تک پہنچنا میسّر نہیں ہوتا۔

(۱۶۶) لیکن اے  محبوب! اللہ اس کا  گواہ ہے  جو اس نے  تمہاری طرف اتارا وہ اس نے  اپنے  علم سے  اتارا ہے  اور فرشتے  گواہ ہیں اور اللہ کی  گواہی کافی۔

 (۱۶۷) وہ جنہوں نے  کفر کیا (ف ۴۱۶) اور اللہ کی راہ سے  روکا (ف ۴۱۷) بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے۔

۴۱۶۔            سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا انکار کرتے۔

۴۱۷۔            حضور سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت و صفت چُھپا کر اور لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال کر ( یہ حال یہود کا ہے )۔

(۱۶۸) بیشک جنہوں نے  کفر کیا (ف ۳۱۸) اور حد سے  بڑھے  (ف ۴۱۹) اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے  گا(ف ۴۲۰) اور نہ انہیں کوئی راہ  دکھائے،

۴۱۸۔            اللّٰہ کے ساتھ۔

۴۱۹۔            کتاب الٰہی میں حضور کے اوصاف بدل کر اور آپ کی نبوّت کا انکار کر کے۔

۴۲۰۔            جب تک وہ کفر پر قائم رہیں یا کفر پر مریں۔

(۱۶۹) مگر جہنم کا راستہ کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے  اور یہ اللہ  کو آسان ہے۔

 (۱۷۰) اے  لوگو!  تمہارے  پاس یہ رسول (ف ۴۲۱) حق کے  ساتھ تمہارے  رب کی طرف سے  تشریف لائے  تو ایمان لاؤ اپنے  بھلے  کو اور اگر تم کفر  کرو (ف ۴۲۲) تو بیشک اللہ ہی کا ہے  جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

۴۲۱۔            سید انبیاء محمد مصطفیٰ  صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم۔

۴۲۲۔            اور سید انبیاء محمد مصطفیٰ  صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کا انکار کرو تو اس میں ان کا کچھ ضرر نہیں اور اللّٰہ تمہارے ایمان سے بے نیاز ہے۔

(۱۷۱) اے  کتاب والو! اپنے   دین میں زیادتی نہ کرو (ف ۴۲۳) اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ (ف ۴۲۴) مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا (ف ۴۲۵) ا لله  کا  رسول ہی ہے  اور اس کا ایک کلمہ (ف ۴۲۶) کہ مریم کی طرف بھیجا اور  اس کے  یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے   رسولوں پر ایمان لاؤ (ف ۴۲۷) اور تین نہ کہو (ف ۴۲۸) باز رہو  اپنے  بھلے  کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے  (ف ۴۲۹) پاکی اُسے  اس سے  کہ اس کے  کوئی بچہ ہو اسی کا  مال ہے  جو کچھ آسمانوں میں ہے  اور جو کچھ زمین میں ہے  (ف ۴۳۰) اور اللہ کافی کارساز،

۴۲ٍ۳۔            شانِ نزول: یہ آیت نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی جن کے کئی فرقے ہو گئے تھی اور ہر ایک حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت جُداگانہ کُفری عقیدہ رکھتا تھا۔ نسطوری آپ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے مرقوسی کہتے کہ وہ تین میں کے تیسرے ہیں اور اس کلمہ کی توجیہات میں بھی اختلاف تھا، بعض تین اقنوم مانتے تھے اور کہتے تھے کہ باپ بیٹا روح القدس باپ سے ذات بیٹے سے عیسیٰ روح القدس سے ان میں حُلول کرنے والی حیات مراد لیتے تھے تو اُن کے نزدیک الٰہ تین تھے اور اس تین کو ایک بتاتے تھے  توحید فی التثلیث  اور تثلیث فی التوحید کے چکر میں گرفتار تھے بعض کہتے تھے کہ عیسیٰ ناسوتیت اور الوہیت کے جامع ہیں ماں کی طرف سے اُن میں ناسوتیت آئی اور باپ کی طرف سے الوہیت آئی تَعَالیٰ اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا  یہ فرقہ بندی نصاریٰ میں ایک یہودی نے پیدا کی جس کا نام بولص تھا اور اُس نے اُنہیں گمراہ کرنے کے لئے اس قسم کے عقیدوں کی تعلیم کی اس آیت میں اہلِ کتاب کو ہدایت کی گئی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باب میں افراط و تفریط سے باز رہیں خدا اور خدا کا بیٹا بھی نہ کہیں اور ان کی تنقیص بھی نہ کریں۔           

۴۲۴۔            اللّٰہ کا شریک اور بیٹا بھی کسی کو نہ بناؤ اور حلول و اتحاد کے عیب بھی مت لگاؤ اور اس اعتقادِ حق پر رہو کہ۔

۴۲۵۔            ہے اور اس محترم کے لئے اس کے سوا کوئی نسب نہیں۔

۴۲۶۔            کہ کُن فرمایا اور وہ بغیر باپ اور بغیر نطفہ کے محض امرِ الٰہی سے پیدا ہو گئے۔

۴۲۷۔            اور تصدیق کرو کہ اللّٰہ واحد ہے بیٹے اور اولاد سے پاک ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو اور اس کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اللّٰہ کے رسولوں میں سے ہیں۔

۴۲۸۔            جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ وہ کفرِ محض ہے۔

۴۲۹۔            کوئی اس کا شریک نہیں۔

۴۳۰۔            اور وہ سب کا مالک ہے اور جو مالک ہو وہ باپ نہیں ہو سکتا۔

(۱۷۲) مسیح اللہ کا بندہ  بننے  سے  کچھ نفرت نہیں کرتا (ف ۴۳۱) اور نہ مقرب فرشتے  اور جو اللہ کی بندگی سے  نفرت اور تکبر کرے  تو کوئی دم جاتا ہے  کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے  گا (ف ۴۳۲)

۴۳۱۔            شانِ نزول: نصاریٰ نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اُس نے حضور سے کہا کہ آپ حضرت عیسیٰ کو عیب لگاتے ہیں کہ وہ اللّٰہ کے بندے ہیں حضور نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یہ عار کی بات نہیں، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی۔

۴۳۲۔            یعنی آخرت میں اس تکبر کی سزا دے گا۔

(۱۷۳) تو وہ جو ایمان لائے  اور اچھے  کام کیے  ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے  کر اپنے   فضل سے  انہیں اور زیادہ دے  گا اور وہ جنہوں نے  (ف ۴۳۳) نفرت اور تکبر کیا تھا  انہیں دردناک سزا دے  گا اور اللہ کے  سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے  نہ مددگار،

۴۳ٍ۳۔            عبادتِ الٰہی بجا لانے سے۔

(۱۷۴) اے  لوگو! بیشک تمہارے  پاس اللہ کی طرف سے  واضح دلیل آئی  (ف ۴۳۴) اور ہم نے  تمہاری طرف روشن نور اتارا (ف ۴۳۵)

۴۳۴۔            دلیل واضح سے سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ گرامی مراد ہے جن کے صدق پر اُن کے معجزے شاہد ہیں اور منکرین کی عقلوں کو حیران کر دیتے ہیں۔

۴۳۵۔            یعنی قرآن پاک۔

(۱۷۵) تو  وہ  جو اللہ پر ایمان لائے  اور اس کی رسی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے  فضل میں داخل کرے  گا (ف ۴۳۶) اور انہیں اپنی طرف سیدھی  راہ  دکھائے  گا۔

۴۳۶۔            اور جنت و درجات عالیہ عطا فرمائے گا۔

(۱۷۶) اے  محبوب! تم سے  فتویٰ پوچھتے  ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ (ف ۴۳۷) میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کسی مرد کا انتقال ہو  جو  بے  اولاد ہے  (ف ۴۳۸) اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے  (ف ۴۳۹) اور مرد اپنی بہن کا وارث ہو گا اگر بہن کی اولاد نہ ہو (ف ۴۴۰) پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور  اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے  برابر، ا لله تمہارے  لئے  صاف بیان فرماتا ہے  کہ کہیں بہک نہ جاؤ، اور اللہ ہرچیز جانتا ہے۔

۴۳۷۔            کَلَالَہ اس کو کہتے ہیں جو اپنے بعد نہ باپ چھوڑے نہ اولاد۔

۴۳۸۔            شانِ نزول: حضرت جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بیمار تھے تو رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم مع حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے عیادت کے لئے تشریف لائے۔ حضرت جابر بے ہوش تھے حضرت نے وضو فرما کر آبِ و ضو اُن پر ڈالا انہیں افاقہ ہوا آنکھ کھول کر دیکھا تو حضور تشریف فرما ہیں عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے مال کا کیا انتظام کروں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی، ( بخاری و مسلم) ابوداؤد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا اے جابر میرے علم میں تمہاری موت اس بیماری سے نہیں ہے۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔

مسئلہ : بزرگوں کا آبِ وضو تَبُرک ہے اور اس کو حصولِ شِفا کے لئے استعمال کرنا سنت ہے۔

مسئلہ : مریضوں کی عیادت سنت ہے۔

مسئلہ : سید عالم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو اللّٰہ تعالیٰ نے علوم غیب عطا فرمائے ہیں، اس لئے حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم تھا کہ حضرت جابر کی موت اس مرض میں نہیں ہے۔

۴۳۹۔            اگر وہ بہن سگی یا باپ شریک ہو۔

۴۴۰۔            یعنی اگر بہن بے اولاد مری اور بھائی رہا تو وہ بھائی اُس کے کل مال کا وارث ہو گا۔