دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الکافِرون

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں  الکافرون (کافرو !) کا لفظ آیا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام اَلْکَافِرون ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی تنزیل ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

 غیر اللہ کی پرستش سے بیزاری اور کفار کے دین سے قطعی بے تعلقی کا اطہار و اعلان ہے۔

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ میں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت دی گئی ہے کہ کافروں  کو مخاطب کر کے دو ٹوک الفاظ میں  اعلان کر دو۔

 

آیت ۲ اور ۳ میں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ پرستش کے معاملہ میں  میرا موقف کیا ہے اور تمہارا کیا۔

 

آیت ۴ اور ۵ میں  یہ اعلان کہ پرستش کے معاملہ میں کسی قسم کی رواداری برتنے یا کسی بھی مصالحتی فارمولے کو قبول کرنے کا سوال پیدا نہیں  ہوتا۔

 

آیت ۶ میں  کفار کے دین سے اظہار برأت ہے۔

 

حدیث

 

 حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں  میں  نیز حجۃ الوداع کے موقع پر طواف کی دو رکعتوں  میں  سورہ قَلْ یٰٓاَیُّھَاالْکٰفِرُوْنَ اور سورہ قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ پڑھی تھیں۔

 

(مسلم کتاب صلوٰۃ المسافرین بروایت ابو ھریرۃ اور کتابُ الحج بروایت جابر بن عبد اللہ)

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ ۱*  دو اے کافرو! ۲*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ میں  ان کی پرستش نہیں  کرتا جن کی پرستش تم کرتے ہو ۳*۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ تم اس کی پرستش کرتے ہو جس کی پرستش میں  کرتا ہوں  ۴*  

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ میں  ان کی پرستش کرنے والا ہوں  جن کی پرستش تم نے کی ۵*  

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور نہ تم اس کی پرستش کرنے والے ہو جس کی پرستش میں  کرتا ہوں  ۶*  

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۷*  

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ مخاطب وہ لوگ ہیں  جن پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ حق اچھی طرح واضح ہو چکا تھا اور اس کے باوجود وہ کفر پر جمے رہے۔

 

کافر کے لفظی معنیٰ انکار کرنے والے کے ہیں  اور قرآن کی اصطلاح میں  کفر ایمان کے مقابل کا لفظ ہے اور کافر سے مراد وہ شخص ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لاۓ ہوۓ دین کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔ اس دین اس دین کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ جو شخص غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے خواہ وہ بت پرستی کی شکل میں  ہو یا بھومی پوجا کی شکل میں  اور خواہ وہ دیوی دیوتاؤں  کو مدد کے لیے پکارتا ہو یا کسی فرضی خدا کے بھجن گاتا ہو ، کھلا ہوا شرک ہے اور جو مذہب بھی اس شرک کی اجازت دیتا ہے۔ وہ مشرکانہ مذہب  ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گۓ تھے کہ اس شرک کی جڑ کاٹ دیں  اور انسان  کو خداۓ واحد کا پرستار بننے کی دعوت دیں۔

 

یہ دعوت آپؐ نے دلائل و شواہد کے ساتھ پیش فرمائی اور فہمائش کا بہتر سے بہتر طریقہ اختیار کیا۔ یہ دعوتی جدو جہد ایک عرصہ تک جاری رہی یہاں  تک کہ حق اچھی طرح واضح ہو گیا اور اللہ کی حجت اس کے بندوں  پر قائم ہو گئی۔ دعوت ک اس مر حلہ میں  داخل ہونے کے بعد جو لوگ کفر پر بضد ہوۓ اور رسول کی مخالفت اور دشمنی پر اتر آۓ ان سے اے کافرو ! کہہ کر خطاب کیا گیا جو بالکل بر محل تھا لیکن اس سے مقصود مخالفین کو برا بھلا کہنا نہیں  تھا بلکہ ان کے منکر حق ہونے کا برملا اظہار کرنا تھا تاکہ واضح ہو جاۓ کہ خدا کی حجت ان پر قائم ہو چکی ہے اور ان کے کفر کی پاداش میں  غضب الہٰی ان پر ٹوٹنے والا ہے یہ بات اگر چہ کہ کفار مکہ پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے اور وہی اس کے مخاطب اول تھے لیکن اصولی طور پر یہ بات ان لوگوں  پر بھی منطبق ہوتی ہ۔ جو کفار مکہ کی سی ہٹ دھرمی اختیار کریں۔ اور مدعا یہ ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے کافروں  پر اللہ کی حجت برابر قائم ہوتی رہے نیز اس کے ذریعہ مسلمانوں  کو بھی یہ سبق دینا مقصود ہے کہ کافروں  کی راہ الگ اور اہل ایمان کی راہ الگ ہے اور دونوں  کے درمیان ایسی وسیع خلیج حائل ہے کہ وہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر ہر گز معاملہ نہیں  کر سکتے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد بت ہیں  جن کی پوجا مشرکین مکہ کرتے تھے نیز وہ تمام معبود بھی جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کیا کرتے تھے۔

 

پرستش کے سلسلہ میں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے موقف کو واضح کرنے کا حکم دوسری سورتوں  میں  بھی دیا گیا ہے مثلاً سورہ یونس میں  فرمایا :

 

قُلْ یٰاَیُّھَا النَّاسُ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُ وْ نَ مِنْ دُونِ اللہِ وَلٰکِنْ اعْبُدُ اللہَ الَّذِیْ یَتَوَ فّٰکُمْ۔ (یونس ۱۰۴ ) ’’ کہو اے لوگو ! اگر تم میرے دین کے معاملہ میں  شک میں  ہو تو سن لو کہ میں  ان کی پرستش نہیں  کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو بلکہ صرف اللہ کی پرستش کرتا ہوں  جو تمہاری روح قبض کرتا ہے ‘‘۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ مشرکین مکہ خدا کے قائل تھے اور اس کی پرستش سے بھی انہیں  انکار نہیں  تھا لیکن وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں  تھے کہ بتوں  کو چھوڑ کر خداۓ واحد کی پرستش کی جاۓ۔ وہ اگر خد کی پرستش کرتے تھے تو وہ شرک کے ساتھ ہوتی تھی اس لیے ان پر واضح کیا گیا کہ نہ یہ خدا کی پرستش ہے اور نہ ہی تم خدا کے پرستار ہو۔ خدا کی پرستش کے ساتھ کوئی اور پرستش جمع نہیں  ہو سکتی اس لیے اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تم بھی خدا کے پرستار ہو تو یہ تمہاری خام خیالی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ مشرکین چاہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے بتوں  کی پرستش کریں  تاکہ مصالحت کی کوئی شکل پیدا ہو۔ سورہ زُمَر میں  ن کے اس مطالبہ کا جواب بڑے سخت انداز میں  دیا گیا ہے۔ فرمایا:

 

قُلْ اَفَغَیْرَ اللہِ تَاْمُرُوْنِیْ۔ (الزمر۔ ۶۴ ) ’’ کہو اے جاہلو ! پھر کیا تم مجھ سے مطالبہ کرتے ہو کہ میں  اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش کروں؟‘‘۔

 

اور یہاں  بھی انہیں  سخت مایوس کن جواب دیا گیا ہے تاکہ وہ اس سلسلہ میں  سمجھوتہ کی کوئی امید نہ رکھیں۔ آیت ۲ اور آیت ۴ میں  تکرار نہیں  ہے بلکہ اس لحاظ سے فرق ہے کہ آیت ۲ میں  حال سے متعلق آپ نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور آیت ۴ میں  آئندہ کے لیے اپنے موقف اور اپنے عزم کا اظہار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ میں  تمہارے معبودوں  کی پرستش کرتا ہو اور نہ مجھ سے آئندہ کے لیے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ میں  اس معاملہ میں  کوئی نرمی یا لچک پیدا کروں  گا۔ میں  حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے تمہارے معبودوں  سے اپنی بیزاری کا اعلان کرتا ہوں۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہاری ہٹ دھرمی کی بنا پر تم سے یہ توقع نہیں  کی جا سکتی کہ تم اپنے معبودوں  کو چھوڑ کر میرے معبود کی عبادت کرنے والے بن جاؤ گے۔

 

اس کا یہ مطلب نہیں  کہ ان کفار میں  سے آئندہ کسی کے بھی ایمان لانے کا کوئی امکان باقی ہی نہیں  رہا کیونکہ ان میں  ایسے بھی تھے جو بعد میں  حلقہ بہ گوش اسلام ہوۓ بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ تمہارے اندر میرے معبود کی پرستش کے لیے کوئی آمادگی نہیں  پائی جاتی اور تم اپنے بتوں  ہی کے پجاری بن کے رہنا چاہتے ہو اس لیے میں  تم سے اعلان برأت کرتا ہوں  جب تک کہ تم اپنے اس کافرانہ اور مشرکانہ رویہ سے باز نہ آ جاؤ۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب پرستش کے معاملہ میں  جو خدا سے تعلق کی اصل بنیاد ہے جب میرے اور تمہارے درمیان کوئی اشتراک نہیں  ہے تو دونوں  کا دین ایک کس طرح ہو سکتا ہے اور سمجھوتہ اور رواداری کا سوال پیدا ہی کہاں  ہوتا ہے۔ اگر تم میری دعوت قبول کرنا نہیں  چاہتے تو تم اپنے موقف پر رہ اور میں  اپنے موقف پر قائم ہوں  یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ صادر فرماۓ۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی سورہ یونس میں  فرمائی گئی ہے۔

 

وَاِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْوَ لَکُمْ عَمَلُکُمْ۔ اَنْتُمْ بَرِ یْئُو نَ مِمَّا اَعْمَلُ وَاَ نَا بَرِئٌ  مِمَّا تَعْمَلُوْنَ (یونس۔ ۴۱ )

 

’’ اور اگر یہ تمہیں  جھٹلاتے ہیں  تو کہ دو کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے۔ میں  جو کچھ کرتا ہوں  اس سے تم بری ہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے میں  بری ہوں۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی بے باکی کے ساتھ اپنی قوم سے اعلان برأت کیا تھا جس کو قرآن نے اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے :

 

قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ  حَسَنَۃٌ  فِیْ اِبْرَا ہِیْمَ وَ الَّذ ِیْنَ  مَعَہٗ۔ اِذْ قَالُو ا لِقَوْ مِھِمْ اِنَّا بُرَ  أ ؤُ مِنْکُمْ وَ مِمّا تَّعْبُدوْنَ مِنْ دُوْنِ الِلہِ کَفَرنَا بِکُمْ وَبَدَ ا بَیْنَکُمْ العَدَا وَۃُ وَ البَغْضَاءُ اَبَداً حَتّی تُو مِنُوْ ا بِاللہِ وَحْدَہٗ۔ (الممتحنہ۔ ۴ )

 

’’تمہارے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں  میں  ایک اچھا نمونہ ہے۔ جب انہوں  نے اپنی قوم سے کہا ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ان سے بالکل بُری ہیں۔ ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور نفرت ہو گئی۔ جب تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آؤ۔ ‘‘

 

غرض یہ کہ یہ آیت کفار کے رویہ سے بیزاری اور ان کے دین سے بے تعلقی کا اعلان ہے اس لیے اس کو رواداری کے مفہوم میں  لینا اور اس سے استدلال کرتے ہوۓ مشرکانہ مذاہب کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے سیاہ کو سفید سمجھ لینا یا رات کو دن ثبت کرنے کی کوشش کرنا۔

 

آج کل مذہبی رواداری کے نام پر وحدت ادیان (سب مذہب یکساں  ہیں  ان میں  حق و باطل کا کوئی امتیاز نہیں  ) کے نظریہ کو بڑے دلفریب انداز میں  پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا پرچار کرنے والے چاہتے ہیں  کہ خدا کو بتوں  کی صف میں  بٹھائیں  (تعالٰی اللہُ عَمّا یُشرِکون) اور شرک اور توحید کا معجون مرکب تیار کریں۔ یہ لوگ اپنا شوق تو پورا کر سکتے ہیں  لیکن حق کو باطل کے ساتھ ہر گز نہیں  جمع کر سکتے۔ جس طرح دن اور رات دونوں  بیک وقت جمع نہیں  ہو سکتے اسی طرح حق اور باطل کو جمع کر نے کی کوشش بھی فضول ہے اور جہاں  تک قرآن کا تعلق ہے اس کی یہ سورہ ہی اس نظریہ کو باطل قرار دینے کے لیے کافی ہے اس لیے جو لوگ اسلام اور کفر کا ملغوبہ تیار کرنا چاہتے ہیں  وہ ہر گز یہ توقع نہ رکھیں  کہ انہیں  قرآن کی تائید حاصل ہو سکے گی۔