دعوۃ القرآن

سورة محَمَّد

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

آیت ۲۷ میں پیغمبر محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم) کا نام آیا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام " محمد" ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدینہ میں ہجرت کے پہلے سال نازل ہوئی۔

 


مرکزی مضمون

 

اعلانِ جنگ ہے ان کافروں کے خلاف جو اللہ کی راہ روکتے ہیں۔ ان سے مقابلہ کے لیے اہلِ ایمان کو آمادہ کرنا اور اس سلسلہ میں ان کو ضروری ہدایات دینا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ کفار اور اہلِ ایمان کا طرزِ عمل بنیادی طور پر مختلف ہے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ کرے گا۔ کافروں کے عمل ناکام بنا دے گا اور اہلِ ایمان کا حال درست کر دے گا۔

 

آیت ۴ تا ۱۵ میں اہلِ ایمان کو جنگ کے تعلق سے ہدایات دی گئی ہیں اور جان کی بازی لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اپنی آخرت کے بہترین انجام کی خوشخبری دی گئی ہے۔

 

آیت ۶۱ تا ۳۲ میں منافقین ( غیر مخلص مسلمانوں ) کا حال بیان ہوا ہے جن پر جہاد کا حکم شاق گزر رہا تھا اور جو اہل ایمان کے مقابلہ میں کافروں سے ہمدردی رکھتے تھے اور ساز باز کرتے تھے۔

 

آیت ۳۳ تا ۳۸ میں عام مسلمانوں کو جہاد کی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا ان کے اعمال اس نے ضائع کر دئے۔ ۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور اس ( ہدایت) پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کی گئی ہے۔ ۲* اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔۔۔  اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا۔۳*

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی ۴ * اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے  ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کا حال بیان فرماتا ہے۔ ۵*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہو تو ان کی گردنیں  اُڑا دو یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تو ان کو مضبوط باندھ لو۔۶* اس کے بعد یا تو احسان کرنا ہے یا فدیہ کا معاملہ کرنا ہے ۷* یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔۸* یہ ہے تمہاری ذمہ داری اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان کو سزا دیتا لیکن اس نے یہ ہدایت اس لیے دی تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائے ۹* اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے اعمال وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ ۱۰*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کو راہیاب کرے گا اور ان کی حالت سنوارے گا۔ ۱۱*

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان ان کو کرا دی گئی ہے۔ ۱۲*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے ۱۳* تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ ۱۴*

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ( اللہ نے ) ان کے اعمال ضائع کر دئے۔ ۱۵*

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اس لیے کہ انہوں نے اس ( ہدایت ) کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی ہے لہٰذا اس نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے۔۱۶*

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اللہ نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا اور کافروں کے لیے ایسی ہی سزائیں ہیں۔ ۱۷*

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ اللہ ایمان لانے والوں کا کارساز( کرتا دھرتا) ہے اور کافروں کا کارساز کوئی نہیں۔۱۸*

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ( دنیا کا) لطف اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔ ۱۹* ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے بڑھ کر تھیں جس نے تم کو ( اے نبی!) نکالا ہے۔ ۲۰* ہم نے ان کو ہلاک کر دیا تو کوئی ان کو بچانے والا نہ ہوا۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ لوگ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہیں ۲۱* ان لوگوں کی طرح ہو جائیں گے جن کا برا عمل ان کی نظروں میں خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں ؟

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اس جنت کی خصوصیت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں کوئی تغیر نہ ہو گا۔ ۲۲* اور نہریں دودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا ۲۳* اور نہریں ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے نہایت لذیذ ہو گی۔۲۴* اور نہریں صاف شفاف شہد کی ۲۵* وہاں ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے ۲۶* اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت۔ ۲۷* کیا ایسے لوگ ان لوگوں کی طرح ہوں گے جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہیں اور جن کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ کر رکھ دے گا۔۲۸*

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم عطا ہوا ہے پوچھتے ہیں کہ ( رسول نے ) ابھی ابھی کیا فرمایا؟ ۲۹* یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے ۳۰* اور یہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ۳۱*

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جن لوگوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ۳۲* اور انہیں ان کے حصہ کا تقویٰ عطا فرمایا۔ ۳۳*

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آ جائے ؟ اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکی ہیں۔۳۴* جب وہ آ جائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہ جائے گا۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جان ۳۵* لو کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ( معبود) نہیں۔ اور اپنی خطاؤں کے لیے معافی مانگو۔ ۳۶* اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ اللہ تمہارے چلنے پھرنے کو جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے کو بھی۔ ۳۷*

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان لانے والے کہہ رہے تھے کہ ایک سورہ( جس میں جہاد کا حکم دیا گیا ہو) کیوں نہیں نازل کی جاتی؟ مگر جب ایک قطعی حکم والی سورہ نازل کی گئی جس میں قِتال( جنگ) کا ذکر ہے تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں رو گ ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ ۳۸* تو افسوس ہے ان پر۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ( ان کے لیے صحیح طرزِ عمل) اطاعت کرنا اور اچھی بات کہنا تھا۔ اور جب قطعی حکم دیا گیا تو اگر وہ اللہ سے صداقت شعاری کا ثبوت دیتے تو ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا۔ ۳۹*

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر تم منہ پھیرتے ہو تو اس کے سوا تم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور رحمی رشتوں کو کاٹ ڈالو گے۔ ۴۰*

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھی کر دیا۔ ۴۱*

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔ ۴۲*

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد پھر گئے شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی اور ان کے لیے امیدوں کا سلسلہ دراز کر دیا۔ ۴۳*

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نازل کی ہوئی ہدایت کو نا پسند کرنے والوں سے کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ ۴۴* اللہ ان کی راز داری کو جانتا ہے۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی جانیں قبض کریں گے۔ ۴۵*

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اس طریقہ کی پیروی کی جو اللہ کو غصہ دلانے والا تھا اور اس کی خوشنودی کو نا پسند کیا۔ لہٰذا اس نے ان کے اعمال ضائع کر دئے۔ ۴۶*

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے ۴۷* یہ خیال کر رکھا ہے کہ اللہ ان کا کینہ ظاہر نہیں کرے گا؟ ۴۸*

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی!) اگر ہم چاہتے تو تمہیں ان کو دکھا دیتے اور تم ان کی علامتوں پہچان ہی لو گے۔۴۹ *اللہ تم لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ دیکھ لیں کہ تم میں کون جہاد کرنے اور صبر کرنے والے ہیں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔ ۵۰*

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا ۵۱* اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسولوں کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان پہنچانے والے نہیں اور اللہ ان کے سارے اعمال ڈھا دے گا۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔۵۲*

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر حالتِ کفر ہی میں مر گئے اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا۔ ۵۳*

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تم کمزور نہ پڑو اور صلح کی دعوت نہ دو۔ ۵۴*  تم ہی غالب رہو گے۔ ۵۵* اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہ کرے گا۔ ۵۶*

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشہ ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے اجر دے گا ۵۷*  اور تم سے تمہارا مال طلب نہ کرے گا۔۵۸*

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ تم سے مال مانگے اور سب مال طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارا کھوٹ ظاہر کرے گا۔۵۹*

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تم لوگ ۶۰* ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ ۶۱* حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی بخل کرتا ہے۔ ۶۲* اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم رخ پھیر لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ ۶۳*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جہاد کی سورہ ہے اس لیے سورۂ انفال کی طرح بغیر کسی تمہید کے شروع ہوئی ہے۔ گویا یہ کافروں کے حق میں غضب بن کر نازل ہوئی ہے۔

 

اللہ کے راستہ سے روکنے سے مراد لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکنا، دعوت و تبلیغ کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مسلمانوں کو اس بات کے لیے مجبور کرنا ہے کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل نہ کریں۔ کفارِ مکہ نے اسلام دشمنی ہی میں مسلمانوں کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا اور ان کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ان کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکا رہے تھے۔ قرآن نے بتلایا کہ کافروں کے سارے اعمال اکارت جانے والے ہیں یعنی نہ تو ان کی یہ سازشیں کامیاب ہونے والی ہیں اور نہ ان کا کوئی عمل اللہ کے ہاں قبولیت حاصل کرنے والا ہے۔ چنانچہ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور ان کی وہ ساری تدبیریں الٹی پڑیں جو وہ اللہ کے رسول اور اس کے لائے ہوئے حق کے خلاف کر ر ہے تھے۔

 

واضح ر ہے کہ جس بات کا مستقبل میں واقع ہونا قطعی ہوتا ہے اس کو قرآن ماضی کے صیغے میں بیان کرتا ہے۔ اسی لیے یہاں فرمایا" ان کے اعمال اس نے ضائع کر  دئے۔"یعنی یقیناً وہ ضائع ہونے والے ہیں۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایمان اور عمل صالح معتبر اسی صورت میں ہے جبکہ اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) پر جو ہدایت نازل ہوئی ہے اس پر بھی ایمان لایا جائے۔ آپ کے مبعوث ہو جانے کے بعد آپ پر ایمان نہ لانا اور اس ہدایت کو قبول نہ کرنا جو قرآن کی شکل میں آپ پر نازل ہوئی ہے کفر ہے اور کفر کے ساتھ نہ ایمان معتبر ہے اور نہ عمل صالح۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ان مخلص مومنوں کے قصور معاف کر دے گا اور ان کی دینی، اخلاقی اور دنیوی حالت درست کر دے گا۔

 

قرآن کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہوئی۔ قرآن پر ایمان لانے والوں کی زندگیاں سنور گئیں اور ان کے حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن حق ہے یعنی اللہ کی سچی ہدایت ہے اس لیے اس کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کی پیروی کرنا باطل کی پیروی کرنا ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہر گروہ کا حال الگ الگ بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ کافروں اور مومنوں میں تمیز کریں اور دونوں کو یکساں خیال نہ کریں۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حکم جنگ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ جنگ جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے حق کی پیروی کرنے والوں کی اللہ کی راہ میں جنگ ہے ان باطل پرستوں کے خلاف جو اللہ کی راہ ( اسلام) سے لو گوں کو روکتے ہیں اور اس کے دین کے خَلاف فتنہ برپا کرتے ہیں۔ اس جنگ کا اصطلاحی نام جہاد ہے جو اسلام میں ایک مقدس فریضہ ہے ان شرائط کے ساتھ جو شریعت نے بیان کی ہیں۔

 

اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ جب کافروں سے جنگ کرنا پڑے اور ان سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کو بے دریغ قتل کر دو یہاں تک کہ خوب خونریزی ہو جائے۔ یہ خونریزی ان کا زور توڑنے اور ان کی شان و شوکت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں نرمی برتنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جب اچھی طرح خونریزی ہو چکے تو پھر انہیں گرفتار کرنا اور قید و بند میں جکڑنا شروع کرو۔

 

یہ ہدایتِ جنگ بدر سے پہلے دی جاچکی تھی لیکن جنگِ بدر میں مسلمانوں کے ایک گروہ سے یہ غلطی سر زد ہو گئی کہ اس نے کافروں کو اچھی طرح کچل دینے سے پہلے ہی گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا۔ جس پر سخت تنبیہ نازل ہوئی۔ دیکھئے سورۂ انفال آیت ۶۷ اور نوٹ ۱۰۲۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بعد میں جنگی قیدیوں کے ساتھ دو میں سے ایک معاملہ کیا جائے۔ یا تو ان کو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے یا فدیہ لے کر ان کی رہائی عمل میں لائی جائے۔ اسلامی حکومت دونوں میں سے جس طریقہ کو مطابق مصلحت پائے اختیار کر سکتی ہے۔اگر احسان کے طور پر رہا کرنے میں یہ مصلحت نظر آتی ہو کہ وہ اس کا اچھا اثر قبول کریں گے اور اسلام سے قریب ہوں گے تو یہ صورت قابلِ ترجیح ہے۔ غزوۂ بنی المصطلق شعبان ۰۶ھ کے بعد اس قبیلے کے تمام قیدیوں کو مسلمانوں نے آزاد کر دیا تھا ( سیرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۴۰)۔ غزوۂ حنین کے بعد قبیلۂ  ہوازن کے چھ ہزار قیدی بلا معاوضہ رہا کر دئیے گئے ( کتاب الاموال ابو عبیدہ ص ۱۱۷) یمامہ کا سردار ثمامہ بن اُثال جب گرفتار ہو کر آیا تو مسجدِ نبوی میں اسے قید کر دیا گیا تا کہ وہ اسلام سے مانوس ہو۔ وہ فدیہ دینے کے لیے تیار تھا لیکن آپ نے چند روز بعد اسے بلا معاوضہ رہا کر دیا۔ اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وہ مشرف بہ اسلام ہوا۔(بخاری کتاب المغازی) لیکن اگر دشمن نے مسلمانوں کو قیدی بنا لیا ہو اور ان کا تبادلہ ان اسیرانِ جنگ کے ساتھ ہو سکتا ہو یا ان اسیرانِ جنگ سے کوئی خاص خدمت لے کر یا معاوضہ لے کر ان کو رہا کرنا مطابقِ مصلحت ہو تو یہ صورت بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ جنگِ بدر کے قیدیوں کو معاوضہ لے کر یا لکھنا پڑھنا سکھانے کی خدمت لے کر رہا کر دیا گیا تھا( سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۰۶،کتاب الاموال ص ۱۱۶)۔

 

قرآن کی اس ہدایت سے واضح ہوا کہ اسلام جنگی قیدیوں کو طویل مدت تک قید رکھنا یا انہیں عمر قید کی سزا دینا پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بات بھی پسندیدہ نہیں ہے کہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائے صرف استثنائی صورتوں میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنگِ بدر کے قیدیوں میں سے عُقبہ بن ابی مُعیط اور نضر بن حارث کو جو کافروں کے قائد اور پر لے درجہ کے مفسد تھے قتل کرا دیا تھا۔( سیرت ابن ہشام۔ ج ۲ ص ۲۸۶) اسی طرح بنی قُریَظہ کے مردوں کو قتل کر دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے غداری کی تھی اور مدینہ کے قرب و جوار میں رہتے ہوئے وہ سازشیں کر رہے تھے۔

 

رہا جنگی قیدیوں کو غلام بنانے ( استرقاق) کا معاملہ تو قرآن نے اس کا حکم نہیں دیا اور اس آیت میں جو دو صورتیں پیش کی گئی ہیں کہ یا تو احسان کے طور پر رہا کر دو یا فدیہ لے کر رہا کر دو تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا عام قاعدہ یہی ہے اور لونڈی غلام بنانے کا جو ثبوت روایتوں سے ملتا ہے وہ ایک استثنائی صورت تھی جس کی گنجائش مخصوص حالات میں رکھی گئی تھی اور جہاں تک عربوں کا تعقل  ہے ان کے کسی مر د کو غلام نہیں بنایا گیا تھا چنانچہ ابو عبیدہ لکھتے ہیں :

 

" یہ جنگی قیدیوں کے احکام ہیں یعنی احسان کے طور پر یا معاوضہ لے کر رہا کرنا یا قتل کرنا اور یہ عربوں کے لیے خاص ہے کیونکہ ان کے مردوں کو غلام نہیں بنایا جا کتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت یہی رہی ہے۔ آپ نے ان کے کسی مر دکو غلام نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت عمر نے بھی ان کے معاملہ میں یہی فیصلہ فرمایا۔"( کتاب الاموال ص ۱۳۳)

 

اور اب جبکہ دنیا سے غلامی کا رواج ختم ہو گیا ہے جس کو ختم کرنا اسلام کے اہم ترین مقاصد میں شامل تھا تو یہ گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ اس مسئلہ پر السید سابق نے فقہ السنۃ میں بڑی اچھی روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں۔

 

" قرآن کریم میں کوئی نص ( صریح حکم) ایسی وار د نہیں ہوئی ہے جو غلامی کو جائز قرار دیتی ہو۔ البتہ اس میں غلاموں کو آزاد کرنے کی دعوت ضرور دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے کسی قیدی کو غلام بنایا ہو اور یہ واقعہ ہے کہ آپ نے مکہ کے غلاموں ، بنی المصطلق کے غلاموں اور حنین کے غلاموں کو آزاد کر دیا تھا۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آزاد کر دیا تھا اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زمانۂ جاہلیت کے ان غلاموں کو جو آپ کے پاس تھے آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح ان کو بھی آزاد کر دیا تھا جو آپ کے لیے ہدیہ بھیجے گئے تھے۔ البتہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کہ انہوں نے بعض جنگی قیدیوں کو غلام بنایا تھا جو برابری کا معاملہ کرنے کے قاعدہ کے مطابق تھا۔ تو انہوں نے غلامی کی تمام صورتوں کو جائز نہیں رکھا جیسا کہ مذہبی اور رواجی قوانین میں عمل درآمد ہو رہا تھا بلکہ اس کو جنگ کی حد تک محدود کر دیا تھا جو مسلمانوں کی طرف سے شرعی طریقہ پر اعلان کے ساتھ کافر دشمنوں کے خلاف لڑی گئی ہو اور دوسری تمام صورتوں کو انہوں نے ساقط کر دیا اور ان کو شرعاً حرام قرار دیا کہ کسی حال میں جائز نہیں۔(فقہ السنۃ ج ۲ ص ۶۸۸)

 

سید قطب نے بھی غلام بنانے کو اس وقت کے خاص حالات ہی پر محمول کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ اسلام کا کوئی عام قاعدہ نہیں ہے۔ لکھتے ہیں :

 

" جب نئی صورت یہ پیدا ہو گئی ہے کہ جنگ لڑنے والے سب لوگ قیدیوں کو غلام نہ بنانے پر متفق ہو گئے ہیں تو اسلام اپنے منفرد ایجابی قاعدہ کی طرف عود کر  آیا ہے اور وہ ہے فَاِمَّا منّاًبَعُدوَاِمَّافِداءً (پھر یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر) لہٰذا غلام بنانا (استرقاق) نہ لازم ہے اور نہ ان قواعد میں سے ہے جو اسلام میں قیدیوں کے ساتھ معاملہ کرنے سے متعلق ہیں۔ "( فی ظلال القرآن ج ۶ ص ۳۲۸۵)

 

واضح رہے کہ آیت میں جنگ کی صورت میں کافروں کو قید کرنے اور پھر احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ ہر قسم کے کافروں کے لیے ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا اہلِ کتاب لیکن بعد میں مشرکینِ عرب کے سلسلہ میں جن کے اندر نبی صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے تھے یہ حکم آیا کہ:

 

فَاِذَا الْنسَلَخَ الْاشْہُمُ الْحُرْمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْاَلہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ قَابُوْا وَاَقا مُوٓ الصَّلوٰۃَ وَاٰتوُاالزَّکوٰۃَ فَخَلُّوْاسَبِیْلَہُمْ۔(التوبہ:۵) پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ البتہ اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔"

تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۹ )۔

 

یہ حکم مشرکینِ عرب کے لیے خاص تھا اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ سورۂ محمد کی اس آیت کو جس مے عام قاعدہ بیان ہوا ہے منسوخ سمجھا جائے جن مفسرین نے اسے منسوخ کیا ہے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رکھو جب تک کہ جنگ ختم نہ ہو جائے۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ چاہتا تو کافروں کو کوئی آفت نازل کر کے تباہ کر سکتا تھا لیکن اس کی مصلحت یہ ہوئی کہ اہلِ ایمان کے ہاتھوں کافروں کی سر کوبی کی جائے تاکہ اہلِ ایمان اس آزمائش میں پڑ کر اعلیٰ درجات حاصل کر سکیں اور کافروں کو یا تو توبہ کا موقع ملے یا پھر وہ اپنا بُرا حشر دنیا ہی میں دیکھ لیں۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوں گے ان کی محنت رائیگاں جانے والی نہیں۔ وہ کھوئیں گے نہیں بلکہ پائیں گے۔ ان کے اعمال مقبول ہوں گے اور انہیں ان کا صلہ ملے گا۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب انہوں نے اللہ کی راہ میں جان دے دی تو وہ مر کھپ نہیں گئے بلکہ زندہ جاوید ہو گئے۔ اللہ ان کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا اور ان کو عزت و سرفرازی عطا کرے گا۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن نے جنت کا جس طرح تعارف کرایا ہے ان ہی خصوصیات کی جنت میں اللہ تعالیٰ انہیں داخل کرے گا۔ قرآن نے جنت کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ نہ خیال آرائی ہے اور نہ اس میں مبالغہ کا کوئی دخل ہے بلکہ وہ سراسر حقیقت ہے اس لیے جن لوگوں سے اس کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کو ایک واقعہ کی صورت میں پائیں گے اور ٹھیک اس طرح پائیں جس طرح دنیا میں انہیں اس کی شناخت کرا دی گئی تھی۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد کرنا اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے سکر دھڑکی بازی لگانا ہے۔یہ اللہ کی قدر افزائی ہے کہ وہ اس خدمت کو اس کی مدد کرنے سے تعبیر کرتا ہے ورنہ ظاہر ہے اللہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور سب بندے اس کی مدد کے محتاج ہیں۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دین کی نصرت کے لیے جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے اللہ کی مدد شاملِ حال ہو گی۔ وہ تمہارے حوصلے بڑھائے گا اور تمہیں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے گا۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی کوشش بار آور ہیں ہوئیں اور ان کا کیا کرایا بے سود رہا۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی انہوں نے اگر کچھ اچھے کام کئے تھے تو کفر کی وجہ سے وہ بے وزن ہو کر رہ گئے۔ نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کافروں کو بھی اگر وہ کفر سے باز نہیں آئے ایسے ہی کسی عذاب کا سامنا کرنا ہو گا جو ماضی میں کافر قوموں پر آئے تھے۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگِ احد میں جو اس سورہ کے نازل ہونے کے تقریباً دو سال بعد ہوئی کفار نے جب اپنے بُت عُزّیٰ کی جے لگائی کہ لنا العزیٰ ولاعزیٰ( ہمارے لیے عزیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں ) تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں فرمایا:

 

اللّٰہُ مَولانا ولامَولیٰلَکُمْ (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ) " اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔"

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی صرف معاشی حیوان بن کر رہ گئے ہیں کہ کھائیں پئیں اور مر کھپ جائیں۔ انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ زندگی کا ایک اعلیٰ و ارفع مقصد ہے اور کھانا پینا تو محض قوتِ حیات حاصل کرنے کے لیے ہے۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اہلِ مکہ نے تمہیں وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔

 

یہ مضمون بتا رہا ہے کہ سورہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنہوں نے اپنا موقف علم و بصیرت کی روشنی میں متعین کیا ہے اور یہ علم و بصیرت کی روشنی انہیں اپنی فطرت سے بھی حاصل ہوئی ہے اور اللہ کی نازل کردہ کتاب سے بھی۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کے پانی میں مٹی و نباتات وغیرہ کی آزمائش سے کدورت بھی پیدا ہوتی ہے اور بو بھی لیکن جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی کوئی خرابی پیدا ہونے والی نہیں۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں دودھ جانور کے تھنوں سے نکلتا ہے اور کچھ دیر بعد خراب ہونے لگتا ہے لیکن جنت میں تو دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں گی اور و ہ بھی ایسے دودھ کی جن میں کبھی کوئی خرابی پیدا ہونے والی نہیں۔اس کا ذائقہ ہمیشہ اچھا ہی رہے گا۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی شراب میں سڑنے کی بو بھی ہوتی ہے اور تلخی بھی لیکن جنت کی شراب اتنی عمدہ اور نفیس ہو گی کہ پینے والوں کے لیے لذّت ہی لذّت اور سرور ہی سرور اور اس کی مقدار بھی کم نہیں ہو گی کیونکہ اس کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں شہد مکھیوں سے حاصل کیا جاتا ہے جس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے لیکن جنت میں ایسا شہد ملے گا جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور بالکل صاف شفاف ہو گا نیز اس کی مقدار بھی کم نہ ہو گی کیونکہ اس کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جس ہستی نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں اس کے لیے اس کی نہریں بہا دینا کچھ مشکل نہیں اور نہ یہ بات مشکل ہے کہ ان کو پاک صاف ، غیر تغیر پذیر، عمدہ اور نہایت لذید بنایا جائے۔ عقل اس کی تائید کرتی ہے ، فطرت اس کا مطالبہ کرتی ہے اور دل اس خوشخبری پر باغ باغ ہو جاتا ہے۔

 

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں پینے کے لیے عمدہ اور چیزیں ملیں گی وہاں کھانے کے لیے بھی ہر قسم کے بہترین پھل ملیں گے۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی طرف سے مغفرت اس کا سب سے بڑا فضل ہو گا۔ ظاہر ہے عذاب سے نجات پانا اس کی تمام نعمتوں کے حصول پر مقدم ہے۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی متقیوں کو تو کھانے پینے کی بہترین نعمتیں میسر آئیں گی لیکن کافروں کو کھولتا ہوا پانی ملے گا جس سے ان کی آنتیں کٹ جائیں گی۔ دونوں کا انجام بالکل الگ الگ ہے۔ خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنے والے اور اس سے بے پرواہ ہو کر دنیا ہی کو سب کچھ سمجھنے والے نہ اپنے کردار اور اوصاف کے اعتبار سے یکساں ہیں اور نہ اپنے انجام کے اعتبار سے۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حال مدینے کے مسلمانوں کا بیان ہوا ہے جو اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں شریک ہوتے تھے لیکن ارشاداتِ رسول سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے بے سوچے سمجھے کسی نہ کسی مصلحت سے اسلام قبول کیا تھا اس لیے نہ وہ اپنے ایمان میں مخلص تھے اور نہ انہیں مسلمانوں سے سچی ہمدردی تھی۔ ان کے دلوں میں کفر تھا اور وہ کافروں سے ساز باز رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے۔ وہ جب مجلس نبوی سے نکلتے تو اصحاب علم سے پوچھتے کہ کیا بات ارشاد ہوئی ہے۔ ان کا یہ سوال بات کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ اظہارِ تعجب کے لیے ہوتا تھا کہ آپ کیا فرمایا رہے ہیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

 

آیت میں علم سے مراد قرآن اور ارشاداتِ رسول کا علم ہے اور جس کو یہ علم عطا ہوا اس کو بہت بڑی دولت عطا ہوئی۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ اللہ کے اس قانون کی گرفت میں آ گئے جو اس نے گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ اب ان میں قبولِ حق کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ دل پر مہر اسی صورت میں لگاتا ہے جبکہ آدمی عقل و فہم سے کام لینے اور علم کی روشنی میں چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اور اپنے نفس کی باگیں اپنی خواہشات کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جن لوگوں نے خواہشات کے پیچھے نہ چلتے ہوئے اللہ کی ہدایت کو قبول کیا اللہ ان کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتا رہا ہے اور ان کی بصیرت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو ان کی طلب اور ان کی کوششوں کی مناسبت سے تقویٰ کی توفیق عطا فرمائی۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کی جو علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں ان میں سب سے بڑی علامت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری نبی کی حیثیت سے بعثت ہے۔

 

حدیث میں آتا ہے کہ :

 

قالَ یِاُصْبَعَیْہِ ہٰذَ اباِلْوُسْطٰی وَالَّتِی تَلیِہا: بُعِثْثُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔( تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۷۷ براویۃ البخاری) " آپ نے اپنی دو انگلیوں درمیان کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔

 

یعنی میرے بعد اب قیامت ہی ہے کوئی اور نبی آنے والا نہیں گویا آپ کے ذریعہ دنیا والوں کو آخری وارننگ دی گئی۔ دوسری بڑی علامت قرآن کا نزول ہے۔ اللہ کی طرف سے انسان کی ہدایت کے لیے ایک مکمل کتاب آ جانے کے بعد جس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے لوگوں پر اللہ کی حجت بدرجۂ اتم قائم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی چیز باقی رہ جاتی ہیں تو وہ فیصلہ کی گھڑی ہے جس کا نام قیامت ہے۔

 

تیسری بڑی علامت انسانی سوسائٹی کا عام بگاڑ ا ہے جو روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اور ان تاریخی واقعات سے لوگوں نے کوئی سبق نہیں لیا جو مفسد قوموں کے برے انجام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بگاڑ کا جب یہ طوفان اپنی انتہا کو پہنچے گا تو دنیا کا خاتمہ یقینی ہے کیونکہ انسانی سوسائٹی جب خیر سے خالی ہو جائے گی تو شر رہ جائے گا اور اللہ کا غضب قیامت کی صورت میں اشرار ہی پر بھڑکنے والا ہے۔

 

چوتھی بڑی علامت زمین کا ظلم و نا انصافی سے بھر جانا ہے مظلوموں کی آہیں فریاد کرتی ہیں کہ اللہ کی عدالت جلد برپا ہو اس لیے عدالت کا دن قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

 

ان کے علاوہ کتنی علامتیں ہیں جو قیامت کے بالکل قریبی زمانہ میں ظاہر ہوں گی اور جن کی پیشین گوئی قرآن اور احادیثِ صحیحہ میں کی گئی ہے مثلاً دابَّۃُ الارض کا خروج، یاجوج ماجوج کی یلغار، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا وغیرہ۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اچھی طرح ذہن نشین کر لو۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے قصوروں پر استغفار کرنے کی جو ہدایت ہوئی ہے اس کی تشریح سورۂ مومن نوٹ ۷۹ میں گزر چکی۔

 

حدیث میں آتا ہے کہ آپ دن میں سو مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے۔

 

قالَ اِنَّہٗ لَیُفَانُ عَلٰی قَلْبِی وَاتِیْ لَاَسْتَغْفِرُاللّٰہَ فِی الْیومِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔(مسلم کتاب الذکر) " آپ نے فرمایا میرے دل پر غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔"

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی نظر تمہاری حرکات و سکنات پر بھی ہے اور وہ تمہاری منزل کو بھی جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرتے رہو۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاد کا حکم سن کر منافقوں پر موت کی غشی طاری ہو گئی۔ اللہ کی راہ میں جان کی بازی وہی شخص لگا سکتا ہے جو اپنے ایمان میں مخلص ہو۔ جس کو جان و دل عزیز ہو وہ کیوں جاں فروشی کی تمنّا کرے گا؟

 

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب جنگ( جہاد) کا قطعی حکم دیا گیا تو ان لوگوں کے لیے ضروری تھا کہ اس کو دل سے قبول کرتے اور اس کے لیے عملی قدم اٹھاتے اگر وہ ایسا کرتے تو یہ ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو تمہیں ناگوار ہے حالانکہ خیر و صلاح کا کام اس اطاعت ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے۔ نا فرمانی کی صورت میں آدمی شر کے کام خیر سمجھ کر کرنے لگتا ہے ،خود غرضی کی بنا پر قرابت داروں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے اور انسانی اخوت کے رشتہ کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

 

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے رو گردانی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں فساد برپا ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے اور انسانی اخوت کے رشتہ کو توڑا جا رہا ہے۔ بدامنی اور جنگوں نے انسانوں کا سکون غارت کر دیا ہے۔ غرض حالات قرآن کی ایک ایک بات کو سچا ثابت کر دکھا رہے ہیں لیکن انسان ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اللہ کی پھٹکار پڑتی ہے تو حق بات سننے کے لیے آدمی بہرا ہو جاتا ہے اور حق دیکھنے کے لیے اندھا۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ اگر قرآن پر غور کرتے تو انہیں ہدایت مل جاتی مگر قرآن کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی اور اپنی غلط روش پر قائم رہے اور اس پر ان کے اصرار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل کے دروازے قبولِ حق کے لیے بند ہو گئے۔

 

یہ آیت بھی دوسری آیتوں کی طرح کافروں اور منافقوں کو قرآن میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ہر شخص کے سمجھنے کے لیے ہے۔ اب جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ کسی ایسے ترجمہ سے جس کی صحت کی طرف سے اطمینان ہو فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جس کے نزدیک قرآن صرف عالموں کے سمجھنے کے لیے ہے۔ وہ عام مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ قرآن سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ ان کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے سے روکتا ہے اور کہتا ہے کہ ترجمہ پڑھ کر ان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے حالانکہ کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اس سے برابر فیضیاب ہو رہے ہیں اور کتنے ہی غیر مسلموں کو قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔

 

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی قرآن کا صاف ذہن سے مطالعہ کرے گا وہ اس سے ہدایت ہی پائے گا اور جتنا مطالعہ کرے گا اس کی بصیرت میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا البتہ جس شخص کے دل کے دروازے ہی قبول حق کے لیے بند ہو چکے ہیں وہ اتنے بڑے خیر سے محروم ہی رہے گا۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوئے۔ مراد منافقین ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد اس سے پھر گئے۔ ہدایت کی راہ واضح ہو جانے کے بعد کفر کی راہ پر وہ اس لیے چل پڑے کہ شیطان نے انہیں سبز باغ دکھائے اور وہ اس کے فریب میں آ گئے۔ اس نے انہیں امیدیں دلائیں کہ اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ کر تم یہ اور یہ نقد فائدے حاصل کر سکتے ہو۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کافروں سے انہوں نے ساز باز کی اور کہا کہ اگر تمہارے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ یہ باتیں انہوں نے رازدارانہ طریقہ پر ان کافروں سے کہی تھیں۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اب تو یہ اپنی زندگی کو جہاد کے خطرہ سے بچانے کے لیے کافروں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں لیکن ان کو مرنا تو بہر حال ایک دن ہے۔ تو جب ان کی موت کفر کی حالت میں ہو گی اور فرشتے مار پیٹ کرتے ہوئے ان کی روح قبض کریں گے تو ان کا کیا حال ہو گا۔اگر انہیں اس کا احساس ہوتا تو وہ جہاد سے جی چرانے کے لیے کافر نہ بنتے۔

 

یہ آیت بھی صراحت کرتی ہے کہ عالم برزخ میں کافروں کی روحوں کو عذاب بھگتنا پڑتا ہے جس کو حدیث میں عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مرنے والے کے جسم پر اس عذاب کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا اس لیے اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ عذاب روح پر ہوتا ہے۔ چہرے اور پیٹھ سے مراد روح کا چہرہ اور پیٹھ ہے جن پر فرشتے ضرب لگاتے ہیں۔( مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۷۱ )

 

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی منافقوں کی عبادتیں اور ان کے وہ اعمال جو بظاہر نیک تھے ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کے ہاں قبولیت نہیں حاصل کر سکے۔ اس لیے سب رائیگاں گئے۔

 

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد نفاق ( منافقت) کا روگ ہے۔

 

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ منافق جو کینہ اور بغض اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں کیا اس کو وہ ظاہر نہیں کرے گا؟

 

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم چاہتے تو اے نبی! ان منافقوں کا حال تمہیں شخصاً  شخصاً دکھا دیتے اس طور سے کہ ان کے چہروں کو دیکھ کر ان کے باطن کا حال تم پر ظاہر ہو جاتا۔

 

واضح رہے کہ یہ بات ان لوگوں کے بارے میں کہی جا رہی ہے جو ظاہر میں مسلمان تھے لیکن اپنے باطن میں کفر کو چھپائے ہوئے تھے۔ یہی اصل منافق ہیں اور کافروں سے بدتر ہیں کیونکہ وہ اسلامی سوسائٹی میں رہ کر جو ریشہ دوانیاں کرتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے کھلے کافروں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

 

جس وقت یہ سورہ نازل ہوئی ہے اس وقت منافقوں کا حال ظاہر ہونے لگا تھا مگر وثوق کے ساتھ کسی پر اس کے منافق ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا تھا البتہ ان کے لب و لہجہ اور ان کے طرزِ گفتگو سے ان کو شناخت کیا جا سکتا تھا لیکن بعد کے مراحل میں ان کے طرزِ عمل کے پیش نظر ان کے منافق ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں ان سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا گیا۔

 

یااَیُّہَاالنَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ۔(التوبہ ۷۳) " اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔"

 

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ دیکھ لیں کہ تمہارے ظاہری حالات کہاں تک تمہارے باطنی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں اور تم اپنے ایمان کے دعوے میں کہاں تک سچے ہو۔

 

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہ اس کا کفر چھپا ہوا ہو یا ظاہر۔

 

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تنبیہ ہے مسلمانوں کو کہ اگر تم نے اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنا شعار نہیں بنایا تو تمہارے اعمال اکارت جائیں گے۔

 

۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مغفرت کے لیے اس حالت کا اعتبار ہو گا جس میں اس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ اگر کسی کی موت کفر کی حالت میں ہوئی ہے تو اس کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں۔

 

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔ خود ہو کر صلح کی دعوت دینا جبکہ کفار جنگ پر آمادہ ہوں بزدلی کی علامت ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ جب کفار خود صلح کی پیشکش کریں تو اس پیشکش کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ سورۂ انفال میں ارشاد ہوا ہے :

 

فَاِنْ جَنَحُوْالِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔ (انفال:۶۱) " اور اگر وہ صلح کے لیے جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔"

 

۵۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اہل ایمان کا پلڑا ہر جنگ کے موقع پر بھاری رہا اور وہ کفار پر غالب آ گئے۔ اس طرح قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔

 

۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہاری وہ کوششیں جو تم نے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے کی ہوں گی نہ دنیا میں بے اثر ہوں گی اور نہ آخرت میں بے نتیجہ۔

 

۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے یہ بات خودبخود واضح ہے کہ ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرنے والوں کی زندگیاں کھیل تماشہ نہیں ہوتیں بلکہ سنجیدہ اور با مقصد ہوتی ہیں۔ البتہ دنیا کی زندگی ان لوگوں کے لیے کھیل تماشے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی جو اس کو اپنا مقصود بناتے ہیں اور خدا و آخرت سے غافل ہو جاتے ہیں۔

 

۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارا سارا مال طلب نہیں کرے گا جیسا کہ آگے بیان ہوا ہے۔

 

۵۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا کہ تم اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے لیے کچھ نہ چھوڑو تو تم بخل کرتے اور یہ بات بالکل کھل کر سامنے آتی ہے کہ کفر و اسلام کی جنگ کے موقع پر بھی تم کو اپنا مال عزیز ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اتنی سخت آزمائش میں نہیں ڈالا اور اپنے مال کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا تاکہ تمہیں اپنی اصلاح کا موقع ملے اور تمہارے قلب کا تزکیہ ہو۔

 

واضح رہے کہ اس آیت میں خطاب منافقوں سے ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتے تھے۔

 

۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔

 

۶۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غیر مخلص مسلمان تھے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل برتتے تھے۔

 

۶۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ بخل کر کے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔

 

۶۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں اللہ کے دین کی خاطر قربانیاں دینے کا جو موقع مل رہا ہے وہ در حقیقت تمہارے لیے بڑی سعادت کی بات ہے۔ اگر تم اس کی قدر نہ کرو تو اللہ اپنا کلمہ بلند کرنے کے لیے کسی دوسری گروہ کو میدان میں لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کمزور کردار کے نہ ہوں گے۔

 

اس آیت میں تفسیر سورہ مائدہ کی آیت ۵۴ کرتی ہے :

 

یااَیہاالَّذِینَ اٰمَنُوامَن یَرْتَدَّمِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یئَاتِی اللّٰہُ بِقَومٍ           ۝یحِبُّہُمْ وَیحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الَکافِرِینَ یُجَاہِدُوْنَ فِی سَبِلِ اللّٰہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔ "اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ محبت رکھتا ہو گا اور جو اللہ سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مومنوں کے حق میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

 

٭٭٭٭٭