دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ یُونس

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

آیت ۹۸ میں یونس علیہ السلام کو ذکر ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام یونس ہے۔

 

زمانہ نزول

 

 مکی ہے اور سورہ کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

وحی اور رسالت کے منکرین کے شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ قرآن اور پیغمبر کی اصل دعوت کیا ہے اور وہ کیوں حق ہے۔

 

یہ سورہ انذار و تبشیر دونوں پہلوؤں کے لیے ہوئے ہے۔

 

نظم کلام

 

سورہ کا آغاز ((آیت ۱ اور ۲) اس بات سے ہوا ہے کہ قرآن ایک حکیمانہ کتاب ہے جو ایک شخص پر اس لیے اتاری گئی ہے تاکہ وہ لوگوں کو ان کے طرز عمل کے بارے میں اس بات سے آگاہ کرے کہ دوسری زندگی میں کسی طرح کے نتائج رو نما ہونے والے ہیں۔

 

آیت ۳ تا ۷۰ میں وضاحت کے ساتھ قرآن کی دعوت پیش کی گئی ہے اس طور سے کہ اللہ واحد الٰہ اور رب ہونے پر ان نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جو نہ صرف عقل کی صحیح رہنمائی کرنے والی ہیں بلکہ دلوں کو بھی مس کرتی ہیں۔ اور ان نشانیوں پر غور کرنے سے آخرت کا تصور بھی ابھرتا ہے اور قرآن کے بیان اور وحی الٰہی کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔

 

دعوت کے اس مثبت پہلو کو ساتھ اس کے منفی پہلو یعنی شرک، انکار آخرت اور انکار رسالت کی بھی پر زور طریقہ پر تردید کی گئی ہے۔

 

آیت ۷۱ تا ۹۳ میں دعوت قرآنی کی صداقت پر پچھلی آیتوں کی تاریخ کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے اور منکرین کے بدترین انجام سے عبرت دلائی گئی ہے۔

 

آیت ۹۴ تا ۱۰۳ میں ان واقعات و حقائق کی روشنی میں منکرین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ قرآن کا نزول شبہ سے بالاتر ہے لہٰذا قبل اس کے کہ مہلت عمل ختم ہو جائے ایمان لے آؤ ورنہ اس کی ختم ہونے اور عذاب کے نمودار ہو جانے پر ایمان لانا کچھ بھی مفید نہ ہو گا۔

 

آیت ۱۰۴ تا ۱۰۹ خاتمۂ کلام ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کرا دیا کیا ہے کہ میرا دین دین توحید ہے اور حق و صداقت کی راہ یہی ہے۔ جو اس راہ کو اختیار کریں گے وہ اپنا ہی بھلا کریں گے اور جو انحراف کریں گے ان کی گمراہی ان ہی کے لیے وبال کا باعث ہو گی۔

ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الف۔ لام۔ را۔ ۱* یہ آیتیں ہیں حکمت بھری کتاب کی ۲*۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک شخص پر وحی کی ۳* کہ لوگوں کو خبردار کر دے اور ایمان لانے والوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچائی کا مقام ہے۔ ((اس بات پر) کافروں نے کہا یہ کھلا جادو گر ہے ۴*۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۵*۔ پھر عرش پر بلند ہوا۶*۔ اور تمام معاملات کا انتظام کر رہا ہے ((اس کے حضور) کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد ۷*۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے ۸*۔ لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ ۹* پھر کیا تم نصیحت قبول نہ کرو گے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی کے حضور تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہی پیدائش کا آغاز کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا تا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے ان کو انصاف کے ساتھ جزا دے ۱۰*۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ۱۱* تو ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا اور ان کو درد ناک عذاب بھگتنا ہو گا اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے سورج کو تابناک بنایا اور چاند کو روشن ۱۲* اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں ۱۳* تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو ۱۴*۔ اللہ نے یہ سب با مقصد بنایا ہے ۱۵*۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں ۱۶*۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور ان تمام چیزوں میں جو اللہ آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ۱۷*۔

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں ۱۸* اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اس کمائی کی وجہ سے جو وہ کرتے رہے ۱۹*۔

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کو کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔ ۲۰*۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی نعمت بھری جنتوں میں۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں ان کی پکار ہو گی : سُبْحَا نَکَ ا للّٰھُمَّ ((پاک ہے تو اے اللہ) اور وہاں ان کا ((آپس میں) دعائیہ کلمہ ہو گا" سلام" اور ان کی پکار کا خاتمہ ہو گا : الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَا لَمِیْنَ o ((حمد و شکر ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے) ۲۱*

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اللہ لوگوں کو عذاب دینے میں سبقت کرتا جس طرح خیر کے معاملہ میں وہ ان کے لیے سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی۔ مگر ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشیوں میں بھٹکتے رہیں ۲۲*۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انسان ((کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے ، بیٹھے ،کھڑے ((جس حال میں ہوتا ہے) ہم کو پکار نے لگتا ہے لیکن جب ہم اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے کہ گویا اس نے کسی تکلیف میں ہمیں پکار ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے کام خوشنما بنا دیے گئے ہیں ۲۳*۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے پہلے ہم ((کتنی ہی) قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جب کہ انہوں نے ظلم کیا۲۴*۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر وہ ہر گز ایمان لانے والے نہ تھے۔ اس طرح ہم مجرم قوم کو بدلہ دیتے ہیں۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ ((با اختیار) بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو ۲۵*۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ہماری واضح آیتیں انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو ۲۶*۔ کہو میرا یہ کام نہیں کہ اس میں اپنی طرف سے رد و بدل کروں۔ میں تو اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے ۲۷*۔ اگر میں اپنے رب کی نا فرمانی کروں تو مجھے ایک سخت دن کے عذاب کا ڈر ہے ۲۸*۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو اگر اللہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سنا سکتا تھا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ۲۹*۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات بنا کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیتوں کے جھٹلائے ۳۰*۔ یقیناً مجرم کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کے بجائے ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۳۱* کہو کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ۳۲*۔ پاک اور بلند ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب لوگ ایک ہی امت تھے پھر انہوں نے اختلاف کیا ۳۳*۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ ہو چکی ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ کر دیا جاتا ۳۴*۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ((یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی ۳۵* کیوں نہ اتاری گئی۔ تو کہو غیب کا مختار اللہ ہی ہے ۳۶* پس انتظار کرو ۳۷*۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب ہم لوگوں کو تکلیف کے بعد رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں ۳۸*۔ کہو اللہ اپنی تدبیر میں بہت تیز ہے ۳۹*۔ اس کے فرستادے تمہاری چال بازیوں کو قلمبند کر رہے ہیں ۴۰*۔

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے ۴۱* یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہو پا کر چل رہی ہوتی ہیں اور سفر کرنے والے خوش ہو رہے ہوتے ہیں اچانک تند ہوا چلنے لگتی ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی ہیں اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ مصیبت میں گھر گئے۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارنے لگتے ہیں دین ((عاجزی و بندگی) کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ۴۲* کہ اگر تو نے اس ((مصیبت) سے ہمیں نجات دی تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بنیں گے۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر جب وہ ان کو نجات دیتا ہے تو وہ ناحق زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں ۴۳*۔ لوگو ! تمہاری سرکشی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے۔ دنیا کی زندگی کا فائدہ اٹھا لو۔ پھر تمہیں ہماری طرف واپس آنا ہے۔ اس وقت ہم بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا جس سے زمین کی نباتات جس کو انسان اور مویشی کھاتے ہیں خوب ابھر آئیں۔ یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگھار کر لیا اور بن سنور کر کھڑی ہو گئی ۴۴* اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم فائدہ اٹھا سکیں گے تو اچانک رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا ۴۵* اور ہم نے اس کا ایسا صفایا کر دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں ۴۶*۔ اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں ۴۷*۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۴۸* اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ پر لگا دیتا ہے ۴۹*۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن لوگو ں نے نیک روی اختیار کی ان کے لیے نیک بدلہ ہے اور مزید فضل ۵۰*۔ ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی جنت والے ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہنے والے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسی برائی کی ہو گی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ اللہ سے بچانے والا ان کو کوئی نہ ہو گا۔ ان کے چہروں پر اس طرح تاریکی چھائی ہوئی ہو گی کہ گویا اندھیری رات کے پردوں سے انہیں ڈھانک دیا گیا ہو ۵۱*۔ یہ دوزخ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہنے والے۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر شرک کرنے والوں سے کہیں گے ٹھہر جاؤ تم اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک۔ پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے ۵۲*۔ اور ان کے شریک کہوں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے ۵۳*۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت ہر شخص کو اپنے کیے کا پتہ چلے گا اور سب لوگ اپنے مالک حقیقی کے حضور لوٹائے جائیں گے ۵۴* اور جو جھوٹ انہوں نے گھڑ رکھا تھا وہ سب گم ہو جائے گا۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھو کون ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یا کون ہے جس کے قبضے میں سننے اور دیکھنے کی قوتیں ہیں ؟ اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ۵۵*۔ کون ہے جو کائنات کا انتظام کر رہا ہے ؟ وہ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر تم ڈرتے نہیں ؟ ۵۶*۔

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے ۵۷*۔ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے ۵۸* ؟ کس طرح تمہیں حق سے پھیرا جا رہا ہے ۵۹*۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح تمہارے رب کی بات نافرمانی کرنے والوں پر صادق آ گئی کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ۶۰*۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہو اور پھر اسے دہرائے ؟ ۶۱*۔ کہو وہ اللہ ہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر اسے دہرائے گا۔ پھر تمہیں کہا ں بھٹکایا جا رہا ہے ؟

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو ؟ کہو وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۶۲*۔ پھر جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو راہ نہیں پاتا جب تک کہ اس کی رہنمائی نہ کی جائے ۶۳*۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ ؟

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان لوگوں میں زیادہ تر ایسے ہیں جو محض گمان کے پیچھے چل ۶۴* رہے ہیں۔ اور گمان حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آ سکتا ۶۵*۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ اللہ کے کوئی اسے گھڑ لائے ۶۶* بلکہ یہ تصدیق ہے اس ((تعلیم) کی جو پہلے سے موجود تھی ۶۷* اور تفصیل ہے الکتاب کی ۶۸*۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے۔ کہو اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکتے ہو بلا لو ۶۹*۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ جس بات کو اپنے دائرہ علم میں نہ لا سکے اور جس کی اصل حقیقت ابھی ظاہر نہیں ہوئی اس کو انہوں نے جھٹلا دیا ۷۰*۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے تو دیکھو ظالموں کا کیا انجام ہوا۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کہو میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے۔ میں جو کچھ کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس کی مجھ پر نہیں۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے ہیں مگر کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگر چہ وہ کچھ بھی سمجھتے نہ ہو ں ؟ ۷۱*۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں مگر کیا تم اندھوں کو راہ دکھاؤ گے خواہ انہیں کچھ سُجھائی نہ دیتا ہو۔ ؟ ۷۲*

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ در حقیقت اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ ۷۳*۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جس دن وہ ان کو اکٹھا کر ے گا تو انہیں ایسا محسوس ہو گا کہ گویا وہ ((دنیا میں) گھڑی بھر رہے تھے آپس میں تعارف کی غرض سے ۷۴*۔ ((اس وقت انہیں معلوم ہو گا کہ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کی۔

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے جس چیز کا ان سے وعدہ کیا ہے اس کا کوئی جز ہم تمہیں دکھا دیں یا ((اس سے پہلے) تمہارا وقت پورا کر دیں ۷۵* بہ حال ان کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر امت کے لیے ایک رسول ہے ۷۶*۔ پھر جب رسول اس کے پاس آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ہر گز ظلم نہیں کیا جاتا ۷۷*۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو ((بتلاؤ) یہ وعدہ۷۸ * کب پورا ہو گا ؟

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو میں تو اپنی جان کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے ۷۹* ہر امت کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ ایک گھڑی آگے ۸۰*۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اس کا عذاب ((یکایک) رات کو یا دن کو آ جائے تو بچنے کی کیا صورت ہے جس کے بل پر مجرم جلدی مچا رہے ہیں۔ ۸۱*

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا جب وہ واقع ہو گا اس وقت تم مانو گے ؟ اب مانتے ہو ۸۲* اور اس سے پہلے تم اس کے لیے جلدی مچا یا کرتے تھے !

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ظالموں ۸۳* سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو۔ تم جو کچھ کماتے رہے ہو اسی کا بدلہ تم کو دیا جائے گا۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ۸۴* ہے ؟ کہو ہاں میرے رب کی قسم۸۵* یہ واقعی سچ ہے اور تم اس سے بچ کر نکل نہیں سکتے۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وہ شخص جس نے ظلم کیا ہے اگر اس کے پاس وہ سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے تو اس (عذاب) سے بچنے کے لیے وہ ضرور اسے فدیہ میں دے ۸۶*۔ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنو آسمانوں اور زمین کی ساری موجودات اللہ ہی کی ہیں۔ یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت ۸۷* آ گئی ہے اور ایسی چیز جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ۸۸* ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت ۸۹* و رحمت۔ ۹۰*

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو یہ ((کتاب) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کو لے کر نازل ہوئی ہے تو چاہیے کہ اس پر خوشی منائیں یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جسے وہ جمع کر رہے ہیں ۹۱*۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تھا اس میں سے تم نے کسی چیز کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرایا۔ پوچھو کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہو ۹۲*۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں انہوں نے کیا سمجھ رکھا ہے قیامت کے دن کے بارے میں ((کہ انہیں جوابدہی کرنا نہیں ہو گی ؟) حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان ہے ۹۳*۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ((اے پیغمبر !) تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی سنا رہے ہوتے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو ان سب مشغولیتوں کے دوران ہم تم کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ زمین اور آسمان کی ذرہ برابر چیز بھی تمہارے رب سے پوشیدہ نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ چھوٹی یا بڑی چیز ایسی ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو ۹۴*۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سنو، جو اللہ کے دوست ہیں ۹۵* ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۹۶*۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انکے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ۔ ۔ اللہ کے فرمان بدل نہیں سکتے ۹۷*۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ((اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتیں تمہیں آزردہ نہ کریں ۹۸*۔ عزت ۹۹* سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاد رکھو ! جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب اللہ ہی کے مملوک ہیں ۱۰۰*۔ اور جو لوگ اللہ سوا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں ۱۰۱*۔ اور نری اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں ۱۰۲*۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں ۱۰۳*۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے لیے اولاد بنا رکھی ہے ۱۰۴*۔ پاکی ہے اس کے لیے۔ وہ بے نیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے۔ تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تم اللہ کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جس سے تم خود لا علم ہو ۱۰۵*۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو جو لوگ اللہ کے بارے میں جھوٹ بول کر افتراء پردازی کرتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ۱۰۶*

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے لیے بس دنیا میں فائدہ کا سامان ہے۔ پھر ان کو ہماری طرف لوٹنا ہے ۱۰۷*۔ اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں نوح کی سر گذشت سناؤ ۱۰۸*۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیتوں ۱۰۹* کے ذریعہ یاد دہانی کرنا تم پر شاق گزرتا ہے تو میرا بھروسہ صرف اللہ پر ہے۔ تم اپنا منصوبہ باندھ لو اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو اور تمہارا منصوبہ تم پر گنجلک نہ رہے۔ پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۱۱۰*۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم ((میری تذکیر سے) اعراض کرتے ہو تو ((اپنا ہی نقصان کرو گے) میں نے تم سے کوئی اجر تو مانگا نہیں ہے میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم ((فرمانبردار) بن کر رہوں ۱۱۱*۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اس کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا ۱۱۲*۔ اور ان کو با اقتدار بنایا۔ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا۔ ۱۱۳* تو دیکھو جن لوگوں کو خبردار کر دیا گیا تھا ان کا کیا انجام ہوا۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد ہم نے کتنے ہی رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ۱۱۴* اور وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے ۱۱۵*۔ اس طرح ہم حس سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ۱۱۶*۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب ہمارے طرف سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ ۱۱۷*

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا یہ کہتے ہو کہ یہ کہیں جادو تو نہیں ؟ حالانکہ جادو گر کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۱۱۸* َ

 

۷۸ انہوں جواب دیا کہ تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اس سے ہمیں ہٹا دو اور ملک میں تم دونوں کو بڑائی حاصل ہو جائے ۱۱۹* ہم تو تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فرعون نے کہا تم باہر جادو گروں کو میرے پاس لے آؤ۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب جادو گر آ گئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : تمہیں جو کچھ ڈالنا ہے ڈال دو۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر جب انہوں نے ((اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسیٰ نے کہا : یہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے باطل کر دے گا اللہ مفسدوں کے کام کو کار گر نہیں بناتا ۱۲۰*۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھا تا ہے ۱۲۱* اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔ ۱۲۲*

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر موسیٰ کی بات اس کی قوم کے کچھ نوجوانوں کے سوا کسی نے نہیں مانی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے ۱۲۳* ہوئے کہ کہیں وہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے ۱۲۴* واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں بڑا ہی سر کش تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے تجاوز کرتے ہیں ۱۲۵*۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر واقعی تم مسلم ہو۱۲۶*۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے رب ! ہمیں ظالموں کے ظلم کا نشانہ نہ بنا۱۲۷*۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی رحمت کے ذریعہ ہمیں کافر قوم سے نجات دے۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ۱۲۸* پر وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں چند گھر مہیا کرو ۱۲۹* اور اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو ۱۳۰* اور نماز قائم کرو ۱۳۱* اور اہل ایمان کو خوش خبری دے دو ۱۳۲*۔

تفسیر

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ حروف مقطعات ہیں اور جیسا کہ ہم سورہ بقرہ نوٹ ۱ میں واضح کر چکے ہیں یہ سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس سورہ میں الف کا اشارہ اللہ کی طرف ہے بالفاظ دیگر توحید کی مضامین کی طرف ہے جو مختلف آیات میں بیان ہوئے ہیں۔ لام کا اشارہ لا اِلٰہٰ الا اللہ کی طرف یعنی ان مضامین کی طرف ہے جن میں شرک کی نفی کی گئی ہے۔ اسی طرح را کا اشارہ ربوبیت کی طرف یعنی ان مضامین کی طرف ہے جن میں اللہ کی ربوبیت کا ذکر ہوا ہے مثال کے طور پر آیت ۳ میں فرمایا : ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ " یہی اللہ تمہارا رب ہے " اور آیت ۳۲ میں ارشاد ہوا : فَذَالِکُمُ اللہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّ "تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے " حروف مقطعات کے بارے میں ہم نے یہ بات جو کہی ہے کہ سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ہم نے ان حروف کے کوئی معنی متعین نہیں کیے ہیں بلکہ صرف اشارات مراد لیے ہیں اور وہ بھی سورہ کے مخصوص مضامین کی طرف۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حروف مقطعات کے بارے میں یہی راہ سلامتی کی ہے کیونکہ اس صورت میں آدمی ان کی غلط تاویل سے بچ جاتا ہے اور ان کی معمہ قرار دینے سے بھی۔

 

موجودہ ٹیکنولوجی کے دور میں بعض حضرات نے جو ان حروف کو معمہ قرار دیتے ہیں ابجد کے لحاظ سے ان کے اعداد متعین کر کے کمپیوٹر کے ذریعہ حسابی نکتے پیدا کیے ہیں چنانچہ انہوں نے ۱۹ کے عدد کو نہایت اہم قرار دے کر قرآن کی آیت : عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ جہنم پر ۱۹ فرشتے مقرر ہیں۔ ((سورہ المدثر) سے استدلال کیا ہے لیکن اس استدلال کی قلعی اس طرح کھل جاتی ہے کہ قرآن میں ۱۹ فرشتوں کا ذکر جہنم کے تعلق سے ہوا ہے لہٰذا سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ عدد باعث برکت ہے یا باعث نکبت؟ قرآن میں دوسرے مقام پر بھی یہ ارشاد ہوا ہے کہ وَیَحْمِلُ عَرْشُ رَبِّکَ یَوْ مئِذٍ ثَمَا نِیَۃ ((اس روز تمہارے رب کا عرش آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ سورہ الحاقہ) پھر آٹھ کے عدد کو کیوں نہ سب سے زیادہ اہم مان لیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ ۱۹ کے عدد کو بہائی مذہب میں خاص اہمیت حاصل ہے چنانچہ بہائیوں کے یہاں مہینہ دن کا ہوتا ہے اور سال ۱۹ ماہ کا اس لیے قرآن کی آیات کو ۱۹ کے گرد گھمانا یا حروف مقطعات سے ۱۹ کے عدد کی اہمیت پر استدلال کرنا نہ صرف تکلف ہے بلکہ بہائی چکر نے اعداد و شمار کی بنیاد پر قیامت کی تاریخ بھی متعین کر دی ہے۔ آغاز تو کمپیوٹر کے ذریعہ قرآن کو ایک معجزہ ثابت کرنے سے ہوا تھا لیکن ؏

 

بات پہنچی قیامت تک

 

جبکہ قرآن میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اور یہ کہ وہ اچانک آئے گی۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کے حکمت بھری کتاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی دعوت ، اس کے پیش کردہ عقائد اور تاریخی واقعات کی توجیہات نیز اس کی تعلیمات سب کی جڑیں انسانی فطرت کے اندر نہایت گہری ہیں اور عقل سلیم ان کی تائید کرتی ہے۔

 

قرآن کی یہ حقیقت خدا بیزار لوگوں کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ عقائد کی بنیاد عقلی جمود اور توہمات پر ہے۔ یہ بات دوسری مذہبی کتابوں کے بارے میں صحیح ہو سکتی ہے لیکن قرآن کے بارے میں ہر گز صحیح نہیں۔ مگر عقل کے یہ اندھے کھرے اور کھوٹے میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس زمانے میں لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ اللہ کی طرف سے وحی کا نزول ایک انسان پر کیسے ہو سکتا ہے اور موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے وحی کا تصور ہی ناقابل قبول بن گیا ہے مگر قرآن کا اسرار کائنات پر سے پردہ اٹھانا اور زندگی کی ان گتھیوں کو سلجھانا جن کو بڑے بڑے حکیم اور فلسفی بھی نہیں سلجھا سکے نیز انسان کی کامل رہنمائی کا سامان کرنا اور ایسی تعلیمات پیش کرنا جو نہایت معقول اور حد درجہ اعتدال پر مبنی ہیں اس کے وحی الٰہی ہونے کا بین ثبوت ہے۔ منکرین نے وحی کے انکار میں باتیں تو بہت چھانٹی ہیں اور فلسفیانہ بحثیں بھی خوب کی ہیں مگر وہ نہ اسرار کائنات سے پردہ اٹھا سکے ہیں نہ زندگی کی گتھیوں کو سلجھا سکے ہیں اور نہ ہی انسان کی رہنمائی کا سامان کر سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نظریہ دوسرے نظریہ کی تردید کرتا ہے اور ہر فلسفی دوسرے فلسفی کی۔ لیکن وحی الٰہی کا معاملہ ایسا ہے کہ وہ ابدی صداقتوں پر مبنی ہے اور اس کو پیش کرنے والے ((انبیاء علیہم السلام) ہمیشہ ایک ہی حقیقت کو پیش کرتے رہے ہیں اور قرآن کو پیش کرنے والا اسی سلسلے کی آخری کڑی ہے۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منکرین جب دیکھتے کہ قرآن کی بلاغت کے سامنے عربی کے ممتاز ادیبوں کا کلام بھی مات کھا رہا ہے اور وہ دلوں کو مسخر کرتا چلا جا رہا ہے تو اس کی کوئی توجیہ ان سے نہ بن پڑتی اس لیے وہ یہ شوشہ چھوڑتے کہ یہ الفاظ کی جادو گری ہے اور یہ شخص کلام کے شعبدے دکھا رہا ہے۔

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ اعراف نوٹ ۸۲ میں گزر چکی۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح بھی سورہ اعراف نوٹ ۸۳ میں گزر چکی۔

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو خدا کے فیصلوں میں دخل انداز ہوتی ہو یا اس سے کسی کو کچھ لازماً دلوا کر رہے یا قیامت کے دن اس کی اجازت کے بغیر کسی کی مغفرت کے لیے اس کے حضور سفارش کرے۔

 

اس سے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی اس جہالت کی بھی تردید ہوتی ہے کہ فلاں ولی "بگڑی بنانے والے ہیں" اس لیے فریاد ان سے کی جائے اور فلاں بزرگ ہمارے گناہ بخشوا کر رہیں گے لہٰذا "ان کا دامن نہیں چھوڑیں گے" کا نعرہ لگایا جائے۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب اللہ ہی کائنات کا خالق اور اس کا فرمانروا ہے تو تمہارا رب ((مالک) اس کے سوا کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے۔ ((لفظ رب کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ فاتحہ نوٹ ۴)

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب اللہ ہی تمہارا رب ((مالک) ہے تو تمہاری عبادت کا مستحق بھی وہی ہے اسی کو معبود مان کر اس کی پرستش کرو اور اس کے بندے بن کر رہو۔ ((عبادت کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ فاتحہ نوٹ ۷) ۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان کی جس مقصد کے لیے دوسرے زندگی عطا کی جائے گی اس کا یہ مثبت پہلو ہے اور یہی اصل غایت ہے یعنی اللہ اپنے وفا دار بندوں کو ان کے اعمال کی ایسی جزا دے کہ وہ نہال ہو جائیں۔

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کو واحد رب مان کر اس کی عبادت کرنے کی جو دعوت قرآن پیش کر رہا ہے اس کو قبول کرنے سے جنہوں نے انکار کیا۔

 

۱۲ متن میں سورج کے لیے "ضیاء" اور چان کے لیے "نور" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اس فرق کو واضح کرتے ہیں کہ سورج کو تیز روشنی والا بنایا ہے اور چاند کو ٹھنڈی روشنی والا۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاند کی منزلوں سے مراد عام مشاہدوں میں آنے والی منزلیں ہیں۔ وہ گردش کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور اس کے گھٹنے اور بڑھنے سے مختلف شکلیں پیدا ہو جاتی ہیں جن کو اشکال قمر کہتے ہیں۔ گویا چاند روزانہ ایک ایک منزل طے کرتا ہوا اپنا چکر پورا کرتا ہے۔ قرآن کا استدلال مشاہدہ میں آنے والی ان ہی شکلوں سے ہے۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاند کی یہ شکلیں تاریخوں کے تعین کا کام دیتی ہیں۔

 

 (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ نوٹ ۲۸۵ اور سورہ توبہ نوٹ ۷۰) ۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کائنات کا یہ نظام اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ کارخانہ ایک ایسی ہستی نے وجود میں لایا ہے جو نہایت حکیم اور مدبر ہے کیوں کہ اس کے ہر ہر گوشہ سے حکمت اور تدبّر کا اظہار ہو رہا ہے اور یہ بات اس کائنات کے با مقصد بیان کرتا ہے وہ اس حکمت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے جو اس کائنات میں ہر طرف جلوہ گر ہے۔ مختصر یہ کہ کائنات کا یہ نظام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مالک اور فرماں روا ایک دن عدالت برپا کرے گا اور اپنے وفا دار بندوں کو جزا دے گا اور سرکشوں کو سزا دے گا۔

 

جزا و سزا کے وقوع پر یہ بہت واضح دلیل ہے اور قرآن ان دلائل کو اس لیے پیش کرتا ہے کہ لوگ سوجھ بوجھ سے کام لیں اور حقیقت تک پہنچنا ان کے لیے آسان ہو۔ اس کے با وجود موجودہ دور کے مادہ پرست اسلام اور دوسرے مذاہب میں امتیاز نہیں کرتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آخرت کا عقیدہ بھی نرا "عقیدہ" ہے جس کی پشت پر کوئی عقلی دلیل نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ کھلے ذہن سے قرآن کا مطالعہ کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ قرآن جب بنیادی عقائد کو پیش کرتا ہے تو اس کا انداز استدلالی اور قلب و ذہن کو اپیل کرنے والا ہوتا ہے اس لیے اس کی راہ عقل و بصیرت کی راہ ہے۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان نشانیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو جاہل بنے نہیں رہتے بلکہ اس علم کی روشنی میں حقیق اور جستجو کا سفر طے کرتے ہیں جو اللہ نے ان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں سے وہی لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں جو اپنے خالق سے ڈرتے ہیں۔ کیوں کہ خالق کی پہچان ہر شخص کی فطرت میں ودیعت ہے اور اس کے تصور سے لازماً اس کا خوف پیدا ہوتا ہے لیکن جو لوگ اپنی فطرت اس حد تک مسخ کر چکے ہوں کہ نہیں جانتے ان کا کوئی خالق بھی ہے ان کے اندر نہ اس کا خوف پیدا ہو سکتا ہے اور نہ ان کے اندر رہنمائی قبول کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موجودہ دور کے خدا بیزار لوگ اور دنیا سے بہت زیادہ مطمئن نظر آتے ہیں وہ "معاد" پر نہیں بلکہ "معاش" پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کو اخلاقی ترقی سے دلچسپی نہیں ہوتی البتہ مادی ترقی سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ ان کا دماغ دنیا بھر کی معلومات کے لیے کمپیوٹر ہوتا ہے۔ مگر ان کا دل آخرت کے معاملہ میں ایک زنگ آلود مشین۔ ایسے لوگ اپنی خوش "فہمیوں" پر بڑے نازاں ہوتے ہیں مگر کب تک؟

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں آدمی جو کام بھی کرتا ہے اس کا اثر ضرور مرتب ہوتا ہے۔ آدمی خیر کے کام کرے یا شر کے ان کے اثرات کو وہ اپنے دامن میں لازماً سمیٹتے رہتا ہے گویا یہ اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ اور کمائی قیامت کے دن نتائج کی شکل میں اس کے سامنے نمودار ہو گی۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایمان کا ثمرہ بیان کیا گیا ہے نہ کہ محض عقیدہ کا کیونکہ عقیدہ تو آدمی مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کی بنا پر اختیار کرتا ہے اور اس بنا پر مسلم سماج کا فرد بنا رہا تا ہے جب کے ایمان ایک ذہنی اور شعوری فیصلہ ہوتا ہے۔ جس طرح ایک بلب اسی صورت میں روشنی دیتا ہے جبکہ اس میں برقی رو دوڑ رہی ہو اسی طرح عقیدہ اس اپنا اثر دکھاتا ہے جب کہ اس میں ایمان کی روح موجود ہو۔

 

عقیدہ غیبی حقیقتوں کے اقرار کا نام ہے جبکہ ایمان صحیح عقیدہ کی دل سے تصدیق اور یقین کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتی اور سوچنے اور فیصلہ کرنے کی ایک خاص قوت اسے عطا کرتی ہے۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اہل ایمان جنت کی نعمتوں میں ایسے مگن نہیں ہوں گے کہ اپنے رب کو بھول جائیں بلکہ ان کی زبان پر تسبیح اور حمد کے کلمات جاری ہوں گے اور وہ ان نعمتوں کو پاکر اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ اسی طرح جب وہ آپس میں ملیں گے تو نہ کوئی کسی کو برا بھا کہے گا اور نہ لڑائی جھگڑا کرے گا بلکہ سب ایک دوسرے کی سلامتی چاہیں گے اور سلام کے دعایہ کلمہ کے ساتھ ایک دوسرے کا خیر مقدم کریں گے۔

 

غرضیکہ جنت کی فضا حمد و ثنا کی صداؤں اور دعائیہ کلمات سے گونج اٹھے گی۔ قلبی سکون اور روحانی لذتوں کے لیے کتنا بہترین ماحول ہو گا وہ !

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس سوال کا جواب ہے جو جزا و سزا کے منکرین پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر انکار حق یا گناہوں کے ارتکاب پر اللہ کی طرف سے کوئی سزا ملنا ہے تو وہ فوراً کیوں نہیں ملتی؟ اس کا جواب یہاں دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی انسان کو فائدہ پہنچانے میں جو سبقت کرتا ہے وہ نقصان پہنچانے میں نہیں کرتا کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ انسانوں کو سنبھلنے اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر اللہ کی سنت یہ نہ ہوتی تو لوگوں کی مہلت عمل کبھی ختم ہو گئی ہوتی۔ مگر جو لوگ اس مہلت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اللہ تعالی ان کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے تاکہ ان کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے قائم کردہ حدود سے تجاویز رکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بے قید زندگی گزاریں وہ ان حادثات اور واقعات سے کوئی سبق نہیں لیتے جو روز مرہ کی زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں اور جن میں ان کو غفلت سے بیدار کرنے کا سامان ہوتا ہے۔ مگر وہ اپنے کرتوتوں کی ایسی خوبصورت توجیہ کرتے رہتے ہیں کہ اصلاح کے لیے آمادگی ان کے اندر پیدا ہو ہی نہیں پاتی۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظلم سے مراد وہ غلط طرز عمل ہے جو اللہ کی نشانیوں ، اس کے سوال اور اس کی ہدایت کو جھٹلا کر انسان اختیار کرتا ہے۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا سے جب ایک قوم رخصت ہوتی ہے تو دوسری قوم اس کی جگہ لے لیتی ہے اس طرح تسلسل کے ساتھ قوموں کو میدان عمل میں لانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ ایک سے بڑھ کر ایک مادہ کارنامے دکھائیں بلکہ مقصود امتحان ہے کہ وہ کن خدا کا بندہ بن کر رہتا ہے اور کون اس کا سرکش بن کر ، کون سی قوم خدا شناس تہذیب کو جنم دیتی ہے اور کون سی قوم خدانا شناس تہذیب کو، کون سی قوم نیکیوں کو پروان چڑھاتی ہے اور کون سی قوم برائیوں کو ، کون سی قوم مادہ ترقی میں اخلاق و شرعی حدود کی پابندی کرتی ہے اور کون سی قوم ان حدود و قیود سے آزاد ہو کر مادی ترقی کے لیے چھلانگ لگاتی ہے۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکین چاہتے تھے اگر قرآن پیش کرنا ہی ہے تو ایسا قرآن پیش کرو جس میں بت پرستی کے خلاف کچھ نہ کہا گیا ہو یا پھر موجودہ قرآن میں ایسی ترمیم کرو کہ مشرکانہ تہذیب کے لیے بھی گنجائش نکل آئے۔

 

موجودہ زمانہ کے منکرین بھی یہ چاہتے ہیں کہ ایسی تبدیلی کی جائے کہ وہ زمانہ کے رجحانات کے مطابق بن جائے اور مشرکانہ مذاہب کو انگیز کرنے کے لیے بھی گنجائش نکل آئے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ قرآن میں ترمیم کی تجویز یہ سمجھ کر پیش کرتے ہیں کہ یہ حضرت محمد کی تصنیف ہے حالانکہ یہ آپ کی نہیں بلکہ خدا کی تصنیف ہے اور خدا کی تصنیف میں رد و بدل کرنے کا حق کسی نہیں ہو سکتا خواہ وہ اس کا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن کے عذاب کا۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے نزول کا آغاز اس وقت ہوا جبکہ آپ کی عمر چالیس سال تھی۔ عمر کا یہ طویل حصہ آپ مکہ والوں کے درمیان گزار چکے تھے۔

 

اس مدت میں آپ کی سیرت بے داغ رہی اور کسی نے بھی آپ کی سچائی اور امانت داری کے خلاف شبہ تک کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ امین کے لقب سے پکارے گئے۔ پھر اگر اس تمام مدت میں آپ صداقت شعار اور امین رہے تو ایسے شخص سے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اکتالیسویں برس میں داخل ہوتے ہی جھوٹ بولنے لگے اور وہ بھی خدا پر۔

 

 پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ آپ نے چالیس سال کی اس مدت میں کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا کہ آپ مذہبی مصلح کی حیثیت سے ابھرنا چاہتے ہیں یا قوم کی قیادت و سیادت چاہتے ہیں۔ یا لوگوں کو محسوس کرانا چاہتے ہیں کہ آپ ایک غیر معمولی اور عبقری شخصیت ہیں۔ ایسا شخص چالیس سال گزار نے کے بعد نبوت کا جھوٹا دعوی کیسے کر سکتا ہے۔ جب کہ اس عمر میں انسانی ذہن ایک خاص ڈھانچے میں ڈھل چکا ہوتا ہے اور ایک مزاج بن چکا ہوتا ہے ؟

 

معترضین ان سوالوں کا جواب آج تک نہیں دے سکے ہیں۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ انعام نوٹ ۴۰ میں گزر چکی ہے۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ، یعنی یہ ہماری فریاد خدا تک پہنچانے اور اس سے رزق، دولت ، اولاد وغیرہ دلوانے میں ہمارے لیے واسطہ اور وسیلہ ہیں۔ یہ واسطے اور وسیلے ہماری پکار سنتے ہیں اور خدا سے ہمارے لیے بہت کچھ منوا لیتے ہیں۔

 

یہ تصویر مشرکین مکہ کا اپنے بتوں کے بارے میں تھا۔ اور اس بنا پر وہ ان کی پرستش کرتے اور ان پر چڑھاوے چڑھاتے۔ کچھ ایسا ہی تصور مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے میں بزرگان دین کے بارے میں جو غلو کا شکار ہے "پیروں اور ولیوں " کے بارے میں پیدا ہو گیا ہے چنانچہ وہ ان کو خدا کے حضور واسطہ اور وسیلہ قرار دے کر ان سے فریاد کرنے لگتے ہیں ، بڑے اہتمام سے ان کی نذر و نیاز کرتے ہیں اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور یہ سب کچھ کرنے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی پرستش تھوڑی کر رہے ہیں۔ بقول حالی :

 

کرے غیر گر بُت کی پوجا تو کافر

 

جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

 

کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر

 

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

 

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

 

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

 

اور علامہ رازی نے اپنی تفسیر میں بالکل صحیح لکھا ہے :

 

"مشرکین نے یہ بت انبیاء اور بزرگوں کی صورتوں میں بنا لیے اور اس زعم میں مبتلا ہوئے کہ جب وہ ان بتوں کی پرستش کریں گے تو یہ بزرگ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے۔

 

اس زمانے میں اس کی مثال بہت سے لوگوں کا بزرگوں کی قبروں کی تعظیم میں مشغول ہو جانا اس اعتقاد کے ساتھ کہ ان کی قبروں کی تعظیم کرنے کی صورت میں وہ اللہ کے ہاں کے سفارشی ہو گے " ((التفسیر الکبیر ج ۱۷ ص ۶۰) ۔

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس چیز کا خدا کو علم نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز سرے سے انا وجود رکھتی ہی نہیں۔ اور جب آسمان اور زمین میں ان "سفارشیوں" کے وجود کا کوئی پتہ اللہ تعالی کو نہیں ہے تو ان کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ وہ مشرکین کے اپنے ذہن کی پیداوار ہیں۔

 

اور یہ بات بھی بہت عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے کہ اس کے ہاں کوئی سفارشی نہیں ہے بلکہ راہ راست وہ اپنے بندوں کی قسمتوں کے فیصلے چکاتا ہے لیکن جن کی گھٹی میں شرک پڑا ہوا ہے وہ اس پر اصرار کئے جا رہے ہیں کہ فلاں اور فلاں اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں گویا ان کا علم الہ کے علم سے بڑھ کر ہے اور وہ اس کو ایک ایسی بات کی خبر دینا چاہتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتا نعوذ باللہ من ذالک۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۳۰۸ اور ۳۰۹ ، نیز سورۂ انعام نوٹ ۱۶۵۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مذاہب کے اختلاف کو دیکھ کر یہ سوال ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ خدا دنیا ہی میں عدالت برپا کر کے اس اختلاف کا فیصلہ کیوں نہیں فرماتا اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس فیصلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے۔ دنیا میں تو انسان کا امتحان ہے کہ وہ مذاہب کے اختلافات کے درمیان اپنی عقل کا صحیح استعمال کر کے اور اپنی فطرت کی آواز کو سن کر نیز ان نشانیوں اور دلائل سے رہنمائی حاصل کر کے جو اللہ تعالی نے اتاری ہیں دین حق کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اگر مذاہب کے اختلافات کا فیصلہ دنیا ہی میں کا دیا گیا ہوتا پھر انسان کا امتحان کس طرح ہو سکتا تھا اور اس کو جزا یا سزا اس کو کس عمل پر دی جاتی؟

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد محسوس معجزہ ہے۔

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی غیب کا علم بھی اللہ ہی کو ہے اور غیب سے کوئی چیز برآمد کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ میں نہ غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ غیب کی کوئی چیز میرے اختیار میں ہے کہ اسے منظر عام پر لاؤں اور تمہارا مطالبہ پورا کروں۔

 

واضح ہو کہ ایک نبی اپنی طرف سے معجزہ دکھانے پر قادر نہیں ہوتا تو ایک ولی اپنی طرف سے کرامت دکھانے پر کس طرح قادر ہو سکتا ہے َ در حقیقت اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انتظار اس بات کا کہ تمہارے اس بیجا اصرار کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجتماعی اور قومی سطح پر جو حادثات اور دکھ درد کے جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اپنے پہلو میں ایسی تنبیہات اور علامتوں کو لیے ہوئے ہوتے ہیں جو لوگوں کے ضمیر کو جگانے والی دنیا کی اصل حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والی اور خدا کی طرف متوجہ کرنے والی ہوتی ہے مگر جو لوگ خدا اور اس کی رہنمائی کو قبول نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں وہ ان حادثات واقعات کی ایسی توجیہ کرنے لگتے ہیں کہ ذہن خدا کی طرف مڑنے ہی نہیں پاتا۔ اگر برے حالات میں خدا یاد آگیا تھا تو اچھے حالات کے پیش جانے پر وہ اپنے اس احساس کو دبانے کی کوش کرتے ہیں تاکہ ان پر خدا اور آخرت کے تعلق سے کوئی ذمہ داری عائد نہ ہو۔ یہی ان کی مجرمانہ حرکتیں ہیں جن کو چالیں چلنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری ان چالوں کا وہ بخوبی توڑ کر رہا ہے۔ مگر اس کی تدبیریں مخفی ہوتی ہیں اس لیے لوگ اس خیال خام میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ خدا ان کی باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لے رہا ہے۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہاری یہ حرکتیں فرشتے لکھ رہے ہیں اور اس لیے لکھ رہے ہیں تاکہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں تمہارے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں اس قابل بنایا کہ خشکی اور تری کا سفر کر سکو۔ موجودہ زمانے میں انسان جو ہوائی سفر کرتا ہے وہ بھی اس کی بخشی ہوئی صلاحیت کا نتیجہ ہے۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس حالت میں وہ پوری عاجزی کے ساتھ صرف اللہ سے دعا مانگنے لگتے ہیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے خداؤں کو بھول جاتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا یہی حال تھا۔ اور انتہائی مصیبت میں ایک خدا کو پکارنا اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کی فطرت خدائے واحد ہی سے آشنا ہے۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ انسان مصیبت میں خدا کو یاد کرتا ہے لیکن مصیبت کے ٹل جانے پر اس کو بھول جاتا ہے۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب کھیتی ہری بھری ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔ اور فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے تو منظر برا دلفریب ہوتا ہے اور کھیتی کا مالک اسے امید بھری نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد آفت ہے جو خدا کے حکم سے آتی ہے۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آناً فاناً کھیتی اس طرح تہس نہس ہو گئی کہ گویا اس کا وجود تھا ہی نہیں۔ اس قسم کے حادثات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ کبھی طوفان کی وجہ سے تباہ کاری آتی ہے تو کبھی سیلاب کی وجہ سے اور کبھی کسی اور وجہ سے۔ اس تمثیل سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جس طرح ایک لہلہاتی کھیتی کی رونق عارضی ہوتی ہے اس طرح اس جگمگاتی دنیا کی رونق بھی عارضی ہے اور جس طرح اللہ کا حکم ّتے ہی کھیتی کا صفایا ہو جاتا ہے اسی طرح اس کا حکم آنے پر ایک دن دنیا کا صفایا ہو جائے اور جب دنیا کا یہ انجام ہونے والا ہے تو دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ آدمی آنے والی دنیا آخرت (کو نصب العین بنا کر جائز حدود میں زندگی بسر کرے تاکہ وہ ابدی نعمتوں کا مستحق بن سکے

 

۴۷،۔ قرآن دنیا کی اس حقیقت کو پیش کرنے کے ساتھ اس پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے یعنی اس معاملہ میں اس کا اپروچ ((Approach) عقلی ((Rational) اور استدلالی ((Argumentative) ہے نہ کہ ایک عقیدہ کو غیر عقلی طریقہ پر منوا نے کا۔ اور یہ وہ بنیادی بات ہے جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد جنت ہے۔ اسے سلامتی کا گھر اس لیے کہا گیا ہے وہاں انسان ہر قسم کی آفتوں اور ہر قسم کے دکھ درد سے محفوظ ہو گا نیز وہاں آپس میں نہ کوئی جھگڑا ہو گا اور نہ لڑائی بلکہ وہاں کی سوسائٹی امن پسند سوسائٹی ہو گی اور وہاں کی فضا بالکل پر امن ہو گی۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جہاں تک سلامتی کے گھر ((جنت) کی طرف بلانے کا تعلق ہے یہ دعوت عام ہے لیکن اس راہ پر چلنا جو سیدھی جنت کو جاتی ہے۔ ان ہی لوگو ں کو نصیب ہوتا ہے جن کو اللہ اس کی توفیق دیتا ہے۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کو ان کی نیکیوں کا اچھا بدلہ تو ملے گا ہی اس کی علاوہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مزید نوازے گا۔ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے۔ :

 

لِیُوَفِّھُمْ اُجُوْرَ ھُمْ وَیَزِیْدَھُمْ مِنْ فَضُلِہٖؕ "تاکہ ان کا اجر ان کو پورا پورا دے اور اپنے فضل سے مزید نوازے"۔ ۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چہرہ انسان کے اعمال کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ نیکی کے اثر سے چہرہ پر رونق بنا دیتی ہے اسی لیے گنہگاروں اور مجرموں کے چہروں پر روسیاہی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ دنیا میں تو بھلائی اور برائی کے اثرات کی ایک جھلک ہی چہرہ پر دیکھی جا سکتی ہے لیکن قیامت کے دن چہرہ انسان کے باطن اور اس کے اعمال کا مظہر ہو گا۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرک کرے والے اپنے معبودوں کو اپنا حامی و ناصر اور خدا کے حضور اپنا سفارشی سمجھتے رہے ہیں لیکن میدان حشر میں وہ اپنے پرستاروں سے اظہار بیزاری کریں گے۔ اس طرح عقیدت کا وہ رشتہ جو انہوں نے اپنے معبودوں سے قائم کیا تھا بالکل ٹوٹ جائے گا اور وہ اپنے کو اس حل میں پائیں گے کہ بالکل بے یار و مدد گار ہیں۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں شرکاء سے مراد وہ اشخاص ہیں جن کی عقیدت میں غلو کر کے انہیں خدائی میں شریک ٹھہرا لیا گیا تھا۔ وہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے مگر ان کے عقیدت مند انہیں اس طرح پکارتے تھے کہ گویا وہ ان کی پکار سنتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اسی تصور کے تحت وہ ان کی پرستش کرتے ، منتیں مانتے اور ان کے نام کی نذر و نیاز کرتے۔ مگر میدان حشر میں وہ اپنے پرستاروں کے مجمع میں ان تمام باتوں سے اپنی لاعلمی کا اظہار کریں گے جو اس بات کا ثبوت ہو گا کہ پکارنے والے ان کو جو پکارتے تھے تو وہ ان کی پکار کو سنتے نہ تھے۔ ان کا خدائی میں کوئی دخل نہیں تھا اور ان تک نہ وہ "پرستش" پہنچتی تھی جو ان کے پرستار کرتے تھے اور نہ وہ نذر و نیاز جو ان کے عقیدت مند ان کے حضور پیش کرتے تھے۔ وہ ان تمام باتوں سے بالکل بے خبر تھے۔

 

بعض مفسرین نے یہاں شرکاء ((ٹھہرائے ہوئے شریکوں) سے مراد بت لیے ہیں لیکن یہ تعبیر بوجوہ صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ '

 

اولاً قیامت کے دن " شرک" کا یہ بیان کہ :۔

 

"اللہ گواہ ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے بے خبر رہے"۔

 

اشخاص ہی کا ہو سکتا ہے نہ کہ بتوں کا جو بے جان ہیں۔

 

ثانیاً مشرکین مکہ کے بارے میں یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ وہ صرف بتوں کی پوجا کرتے تھے بلکہ وہ فرشتوں جنوں اور گزری ہوئی شخصیتوں کی بھی پرستش کرتے تھے چنانچہ "اسیاف" ایک مرد کا بت تھا اور "نائلہ" ایک عورت کا۔ ثالثاً آگے آیت ۳۵ میں جو فرمایا گیا ہے کہ وہ رہنمائی کر نہیں سکتے بلکہ خود رہنمائی کے محتاج ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں مراد اشخاص ہیں کیونکہ رہنمائی کے محتاج اشخاص ہوتے ہیں نہ کہ بے جان بت۔ رابعاً۔ قرآن ہر قسم کے شرک کی تردید کرتا ہے اور موقع کی مناسبت سے کہیں بت پرستی پر ضرب لگاتا ہے تو کہیں ملائکہ پرستی پر۔ کہیں جن پرستی پر گرفت کرتا ہے تو کہیں شخصیت پرستی پر لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ہر جگہ بت پرستی ہی مراد لی جائے اور شرک کو بت پرستی تک محدود سمجھ لیا جائے۔

 

آیت کے اس وسیع مفہوم کے پیش نظر مسلمانوں کے جاہل طبقہ کی "بزرگ پرستی" بھی اسی طرح شرک قرار پاتی ہے جس طرح مشرکین مکہ کی شخصیت پرستی شرک تھی۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی سب کی پیشی اللہ کے حضور ہو گی جو تنہا ان سب کا مالک ہے۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام نوٹ ۱۷۷۔

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب رزق دینے والا اللہ ہی ہے ، سماعت و بصارت کی قوتیں بھی اللہ ہی کی دین ہیں ، زندگی اور موت کے کرشمے دکھانا بھی اسی کا کام ہے اور کائنات کا انتظام بھی وہی کر رہا ہے۔ اور مشرکین مکہ اسی کے قائل تھی۔ تو پھر اس کے علاوہ کسی کو معبود ماننے کے لیے بنیاد ہی کیا ہے۔ اور اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہوئے تم ڈرتے نہیں کہ وہ اس کی تمہیں سخت سزا دے گا۔

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب اللہ ہی تمہاری پرورش کر رہا ہے اور یہ سارا نظام ربوبیت اسی کا قائم کیا ہوا ہے تو پھر کسی اور کو اپنی قسمتوں کا مالک سمجھنا اور اس کو فریاد رسی کے لیے پکارنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔ ؟

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ایک اللہ کو رب ماننا ہی حق ہے باقی سب گمراہی کی باتیں ہیں۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہیں اس بات کا ہوش بھی ہے کہ صریح حق سے تمہیں کون پھیر رہا ہے اور کدھر لے جا رہا ہے۔ یاد رکھو وہ شیطان ہے جو تمہاری نکیل پکڑ کر تمہیں غلط راستہ پر ڈال رہا ہے اور تم ہو کہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے چلے جا رہے ہو۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ کی بات صادق آنے سے مراد اللہ کے اس قانون ((سنت الٰہی) کی گرفت میں آنا ہے جو اس نے گمراہی کے بارے میں بنایا ہے اور جس کے مطابق ان لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوتی جو اپنے رب کی اطاعت کو اپنی آزادی میں مخل سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جانوروں کی طرح بے قید زندگی گزاریں۔

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک اور عقلی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین کے خدا بالکل بے حقیقت ہیں۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو عدم سے وجود میں لانے میں ان کے معبودوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی طرح ان کے معبود اس بات پر بھی قادر نہیں ہیں کہ ان کو موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشیں۔ پھر ان میں خدائی صفت کہاں سے آ گئی۔ اور معبود اور رب کس طرح ٹھہرے ؟

 

واضح رہے کہ مشرکین عرب اس بات کے قائل تھے کہ ان کا اور کائنات کا خالق صرف اللہ ہے اور اگر دنیا کے کسی مشرکانہ مذہب میں یہ تصور پایا جاتا ہو کہ ایک خدا کے سوا کسی اور نے انسان کو یا کسی چیز کو پیدا کیا ہے تو یہ تصور کسی عقلی یا علمی دلیل پر مبنی نہ ہونے کی وجہ سے سراسر باطل ہے۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حق سے مراد عالمگیر صداقت ہے یعنی وہ بنیادی حقیقتیں جو انسان کی زندگی اور اس کائنات کی پشت پر ہیں اور جن کو معلوم کیے بغیر انسان اپنے کو صحیح رخ پر نہیں ڈال سکتا۔ یہ حقیقتیں ظاہر ہے اللہ ہی جانتا ہے اس لیے وہی انسان صحیح رہنمائی کے لیے اس نے "وحی" کا انتظام کیا ہے اور یہ وحی آج قرآن کی شکل میں موجود ہے۔ برخلاف اس کے مشرکین کے معبودوں میں کوئی نہیں ہے جو حق کی رہنمائی کا کام کرتا ہو کیونکہ کسی کے بس کی یہ بات نہیں ہے پھر ان کو خدا بنا لینا کیا معنیٰ ؟۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان گزری ہوئی شخصیتوں کی طرف جن کو مشرکین نے معبود بنا لیا تھا۔ یہ شخصیتیں انسان ہونے کی حیثیت سے خود رہنمائی کی محتاج تھیں پھر وہ خدا کے برابر کیوں کر ہو سکتی ہیں جو سب کا ہادیِ بر حق ہے ؟۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ مشرکوں کی محض وہم پرستی ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے اپنے مذہب کو دیو مالائی ((Mythology) بنا دیا تھا۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسان نے اب تک جتنے مذہب بھی ایجاد کیے ہیں ان سب کی بنیاد گمان ، وہم اور اٹکل پچّو باتوں پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان بنیادی باتوں میں تضاد پایا جاتا ہے جب کہ اسلام وہ واحد دین ہے جس کی بنیاد علم حق پر ہے اور یہ بات اس کو تمام مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ مذہب کے معاملہ میں اٹکل پچو باتیں بے کار محض ہیں۔ وہ ہر گز علم حق کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ اس ناقابل انکار حقیقت کے باوجود آج بھی دنیا کی اکثریت مذہب کے معاملہ میں اٹکل پچو باتوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کلام الٰہی اور کلام انسانی میں بہت بڑا فرق ہے یہ ایسا ہی جوہری فرق ہے جیسا کہ خدائی تخلیق اور انسانی تخلیق میں پایا جاتا ہے اور جس طرح انسان خدا کی تخلیق کی طرح کوئی چیز تخلیق نہیں کر سکتا اسی طرح اس کے کلام کی کلام بھی نہیں بنا سکتا۔ یہ خصوصیت خدا کے اصل کلام کی ہے جو عربی میں ہے۔ رہا ترجمہ تو وہ صرف مفہوم کی ادائیگی ہے اور وہ بھی انسانی بساط کے اندر اس لیے قرآن کے ترجموں سے کلام الٰہی کی اس خصوصیت کا بس اندازہ ہی ہو سکتا ہے۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کوئی بیا مذہب لے کر نہیں آیا ہے بلکہ وہی دین اور وہی تعلیم لے کر آیا ہے جو پہلے سے آئی ہوئی آسمانی کتابوں ((تورات، انجیل) میں اجمالی طور پر موجود ہے۔ دونوں کا تقابلی مطالعہ (Comparative study) بتائے گا کہ قرآن کا چشمہ بھی وہیں سے ابل پڑا ہے جہاں سے تورات اور انجیل کا چشمہ ابلا تھا۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الکتاب سے مراد وہ تمام آسمانی کتابیں ہیں جو قرآن سے پہلے نازل ہوئی تھیں۔ قرآن نے ان تمام کتابوں کی تعلیمات کو نہ صرف اپنے اندر سمیٹ لیا ہے بلکہ پوری وضاحت کے ساتھ ان کو پیش کر دیا ہے۔ گویا قرآن ایک ہی سلسلہ ہدایت کی تکمیل ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انسانی تصنیف نہیں ہے۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورہ بقرہ نوٹ ۳۰ میں گزر چکی۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ "وحی " کا انکار اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ ذریعہ خفیہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وحی الٰہی جن واقعات کے ظہور میں آنے کی خبر دے رہی ہے خاص طور سے قیامت کے وقوع کی خبر وہ ابھی ظہر میں نہیں آئی۔ لیکن وحی الٰہی کے ہمارے علم کی گرفت میں نہ آنے کا مطلب کہاں ہوا کہ یہ بے حقیقت ہے اور اس کا انکار کیا جائے جب کہ اس کی پشت پر مضبوط اور ناقابل انکار دلائل ہوں۔ مزید بر آں نازل شدہ وحی کا مضمون خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح یہ وحی مستقبل میں پیش آنے والے جن واقعات کی خبر دے رہی ہے ان کا ظہور میں آنا عقل و فطرت اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ ایک بچہ ان باتوں کا ادراک نہیں کرتا جن کا ادراک ایک بڑی عمر کا آدمی کرتا ہے۔ اور ایک عام آدمی کے علم کی گرفت میں وہ باتیں نہیں آتیں جو ایک سائنس داں ، ایک ماہر فلکیات اور ایک مفکر کے علم کی طرفت میں آتی ہیں۔ پھر کیا محض اس بنا پر کہ فلاں بات کسی کے علم و ادراک کی گرفت میں نہیں آ سکی اس کے لیے انکار کو جواز فراہم کرتی ہے ؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو انبیاء علیہم السلام کو وحی الٰہی کا جو تجربہ ہوتا رہا ہے اور اس بنا پر انہوں نے مستور حقیقتوں کی جو خبریں دی ہیں ان کو محض اس وجہ سے رد کرنا کہ وہ عام انسانوں کے علم کی گرفت میں نہیں آئی ہیں کس طرح صحیح ہو سکتا ہے ؟۔ ان مستور حقیقتوں کی خبر دینے والی شخصیتیں اخلاق و کردار کے لحاظ سے اتنی بلند تھیں کہ ان کی بلندی آسمان کو چھو رہی تھی اور جن مستور حقیقتوں کو انہوں نے بیان کیا ہے ان کی تصدیق ان نے شمار نشانیوں سے ہوتی ہے جو آفاق و انفس میں پائی جاتی ہیں۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ پیغمبر کی باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں مگر اس لیے نہیں کہ حق بات قبول کریں بلکہ اس لیے کہ اعتراض کے لیے کوئی نکتہ مل جائے۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ پیغمبر کو بصیرت کی آنکھ سے نہیں دیکھتے اور (جو شئے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا اگر وہ بصیرت کی آنکھ سے دیکھتے تو انہیں یقین آتا کہ آپ نبی بر حق ہیں۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فہم و بصیرت سے ان کی یہ محرومی نتیجہ ہے ان کے ظالمانہ طرز عمل کا ورنہ اللہ نے ان کو سماعت و بصارت کی قوتیں اسی لیے تو بخشی تھیں کہ وہ سوجھ بوجھ سے کام لیں۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس وقت تو انہیں دنیا کی زندگی طویل معلوم ہوتی ہے لیکن قیامت کے دن جب اخروی زندگی کا آغاز ہو گا تو انہیں محسوس ہو گا کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی گھڑی بھر کی زندگی تھی اور لوگوں سے جو سماجی تعلقات رہے وہ زیادہ دیر کے لیے نہیں بلکہ محض تعارف کی حد تک تھے۔ گویا ایک دوسرے سے ابھی پہچان ہی ہو پائی تھی کہ موت کا فرشتہ آ کھڑا ہوا۔ ((دیکھے سورۂ نازعات نوٹ ۳۲)

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کافروں سے عذاب کا جو عدہ کیا گیا ہے اس سے لازماً انہیں دو چار ہونا ہے۔ رہا اس کا ظہور تو ہونکتا ہے کہ عذاب کی کوئی قسط پیغمبر کی زندگی ہی میں کافروں پر نازل ہو جائے اور اگر اللہ کی حکمت مقتضی ہوئی تو پیغمبر کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آئے گا اور آخرت میں تو نہیں پورا پورا عذاب بھگتنا ہی ہے۔

 

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوئی کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ دعوت پہنچانے کا تھا اور یہ دعوت کیا تھی اس کی وضاحت کے ساتھ اس سورہ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں نہ اس بات کا ذکر ہے کہ آپ اسلام کے اجتماعی نظام کو قائم کر دکھانے پر مامور ہیں اور نہ اصل دعوت کے ساتھ غلبہ دین کے پہلو ہی کو نمایاں کیا گیا ہے بلکہ فرمایا گیا کہ ہونکتا ہے کہ کافروں کے انجام سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا سے اٹھا لے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے کم از کم سورۂ یونس کے نزول تک اپنا یہ منصوبہ کہ وہ اس نبی کے ہاتھوں اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرے گا جیسا کہ سورۂ صف آیت ۹ اور سورۂ توبہ آیت ۳۳ میں فرمایا گیا ہے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ظاہر نہیں فرمایا تھا بلکہ ہجرت کے بعد جب کہ اسلام اور کفر کی کشمکش جہاد کے مرحلہ میں داخل ہوئی تو یہ اعلان کیا گیا کہ رسول کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا کہ دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے۔

 

معلوم ہوا کہ دین کے لیے غلبہ و اقتدار مطلب ضرور ہے لیکن اس کا تعلق جہاد کے مرحلہ سے ہے یا س مرحلہ سے جب کہ اسلام کے نظام کو بالفعل قائم اور ناقد کیا جا سکتا ہے۔ رہا دعوت کا مرحلہ تو اس میں اصل زور دعوت کی بنیادی باتوں پر ہونا چاہیے نہ کہ غلبہ و اقتدار کے حصول پر ورنہ صحیح دینی فکر کی تعمیر نہیں ہو سکے گی اور نہ ہی غلبہ دین کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان میں کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول نہ بھیجا ہو۔ سورۂ فاطر میں ارشاد ہوا۔

 

وان من امۃ الاخلا فیھا نذیر۔ ((فاطر۔ ۲۴)

 

"کوئی امت ایسی نہیں جس میں ایک متنبہ کرنے والا نہ گزرا ہو۔ "

 

یہ سلسلہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے برابر جاری رہا یہاں تک کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو آخری رسول کی حیثیت سے اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب کبھی کیسی امت کی طرف کسی رسوں کو بھیجا گیا ہے اس امت کی قسمت کا فیصلہ دنیا ہی میں چکا دیا گیا ہے۔ اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول کی لائی ہوئی ہدایت کو لگوں نے رد کر دیا ہو اور ان پر عذاب کا تازیانہ برسا ہو۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی امت کو زیادہ دنوں تک ڈھیل دے دے۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد عذاب کا وعدہ ہے۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میں نے تم سے یہ کب کہا کہ میں تم پر عذاب لے آؤ ں گا بلکہ یہ کہا کہ اگر تم سرکشی کرتے ہو تو اندیشہ ہے کہ ایک نہ ایک دن اللہ کا عذاب تم پر ضرور آئے گا۔ اس کی تاریخ متعین کرنا میرا کام نہیں بلکہ یہ اللہ کی سنت پر موقوف ہے۔

 

 اس آیت میں یہ بات جو نبی صلی اللہ علیہ کی زبانی کہلوائی گئی ہے کہ "میں اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ " تو اس سے بدعتیوں کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ آپ غیبی طور پر کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور جب آپ اس معاملہ میں بے اختیار تو اولیاء بدرجہ اولیٰ بے اختیار ہوئے۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں مراد وہ امتیں ہیں جن کی طرف رسولوں کی بعثت براہ ِ راست ہوئی۔

 

ان میں سے ہر امت کو اللہ تعالیٰ نے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو سمجھنے اور اپنی اصلاح کا موقع دیا لیکن جب اس نے جھٹلایا اور سرکشی اختیار کی تو جوں ہی اس کی مہلت عمل ختم ہوئی اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی ہیں اس کا فیصلہ چکا دیا۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کیا عذاب سے بچاؤ کا کوئی سامان انہوں نے کر لیا ہے جس کے بل پر وہ جلدی مچا رہے ہیں۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عذاب کو دیکھ لینے کے بعد۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول کی تنبیہ کو جھٹلاتے رہے اور خدا اور آخرت کے تصور کی بنیاد پر دنیا میں کام کرنے سے انکار کرتے رہے۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کیا یہ معاملہ واقعی پیش آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے برے اعمال کی سزا دے گا۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قسم ہے اس بات کے اظہار کے لیے ہے یہ بات بالکل قطعی اور یقینی ہے۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ نوٹ نمبر ۱۲۴۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں قرآن کی چار خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ موعظت ہے۔ موعظت سے مراد وہ نصیحت ہے جو دل میں بیداری اور رقت پیدا کرے۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ قرآن کی دوسری خصوصیت ہے کہ وہ دل کی بیماریوں اور معنوں امراض کے لیے نسخہ شفا ہے جس طرح انسان کو جسمانی اور ظاہری امراض لاحق ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اور معنوی امراض بھی لاحق ہوتے ہیں مثال کے طور پر کفر معنی کینسر ہے۔ معصیت کوشی دل کے لیے تپ دق ہے زر پرستی ذہن کے لیے جنون ہے اور بے حیائی اور خواہش پرستی نفس کو اندھا کر دینے والی بیماری۔

 

انسان کے باطن کی ان تمام بیماریوں کے لیے قرآن کا نسخہ شفاء ہونا ایک واقعہ ہے اور ایک حقیقت ہے۔ نزول قرآن کے زمانہ میں سسکتی ہوئی انسانیت اس سے شفا یاب ہوئی اور تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانہ میں اس کی طرف رجوع کرنے والے صحت مند کردار کے حامل بنے نیز موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ اخلاقی گراوٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے قرآن کے زیر سایہ زندگی گزارنے والے ہی اخلاقی پاکیزگی کا وصف اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح تجربہ نے ثابت کر دیا کہ انسان کی تمام قلبی، روحانی اور باطنی بیماریوں کا علاج قرآن اور صرف قرآن میں ہے۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ خدائی رہنمائی ہے جس سے اہل ایمان زندگی کے ہر موڑ پر صحیح سمت سفر معلوم کر لیتے ہیں۔

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے رحمت ہے۔ اہل ایمان خدائی رہنمائی میں چلتے ہوئے قدم قدم پر رحمت الٰہی سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس روحانی دولت کے مقابلہ میں وہ مادی دولت ہیچ ہے جس کو سمیٹنے میں لوگ منہمک ہیں اور ان کا یہ انہماک ہی ہے جو انہیں قرآن سے قریب ہونے نہیں دیتا۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں الہ کے رزق سے مراد کھانے پینے کی وہ تمام پاکیزہ چیزیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کی منفعت کے لیے پیدا فرمائی ہیں لیکن مشرکین نے محض وہم پرستی کی بنا پر ان میں سے کتنی ہی چیزوں کو لوگوں کے لیے حرام کر رکھا ہے۔ جن کا کھانا ان کے نزدیک پاپ ہے۔ ان کے پاپ ہونے کا تصور بتاتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا نے یہ چیزیں ان کے لیے حرام ٹھہرائی ہیں۔ قرآن ایسے لوگوں سے پوچھتا ہے تمھیں یہ بات کیسے معلوم ہو گئی کہ یہ چیزیں خدا نے حرام ٹھہرائی ہیں اور اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ خدا نے تم کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ اپنی مرضی سے جس چیز کو چاہو حلال اور جس چیز کو چاہو حرام ٹھہراؤ تو اس کا ثبوت پیش کرو اور اگر کوئی ثبوت موجود نہیں ہے تو پھر تمہارا یہ دعویٰ خدا کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ مشرکین عرب نے بعض مخصوص قسم کے اونٹ اور اونٹنیاں اور بعض مویشیوں کے بچے حرام ٹھہرائے تھے اور مشرکین ہند نے گائے کو بلکہ سرے سے گوشت خوری ہی کو حرام ٹھہرایا ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انعام نوٹ ۲۶۲ اور ۲۶۳۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ چونکہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اس لیے نہیں چاہتا کہ قیامت کے دن تم عذاب کی گرفت میں آؤ اور اسی لے اس نے اپنی پسند اور ناپسند سے تمھیں باخبر کر دیا ہے۔ لیکن اگر اس کی پسند اور ناپسند سے بے پرواہ ہو کر اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام ٹھہراتے رہتے تو قیامت کے دن تم کو لازماً اس کی جوابدہی کرنا ہو گی اور اپنے باغیانہ طرز عمل کی بنا پر تم اس کی سزا سے بچ نہ سکو گے۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتاب مبین (واضح کتاب) سے مراد اللہ کی وہ کتاب ہے جس میں تمام کائنات کا ریکارڈ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ تعالی نے یہ سب کچھ اپنے علم کی بنا پر ضبط تحریر میں لایا ہے۔ اس کتاب کا اصلاحی نام لوح محفوظ ہے اور جس کی اصل حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ یہاں مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ کا علم پوری کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور تمام تفصیلات اور جزئیات تک اس کے علم میں ہیں ، یہاں تک کہ ذرہ برابر بھی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ اور جب اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں تو وہ اپنے بندوں کے اعمال سے کس طرح بے خبر ہونکتا ہے ؟ اور جب اس کے پاس ذرہ ذرہ کا ریکارڈ موجود ہے تو انسان جس کے سر پر خلافت اراضی کا تاج رکھا گیا ہے کہ کار کردگی کا ریکارڈ کیسے نہیں ہو گا ؟ لہذا انسان کو چاہیے کہ یہ سمجھتے ہوئے دنیا میں کام کرے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ا سکے ریکارڈ سے کوئی چیز بھی غائب نہیں ہو سکتی۔ یہی تصور اور یہی عقیدہ انسان کو خدا کی راہ پر چلنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "اولیاء" استعمال ہوا ہے جو ولی کی جمع ہے اور جس کے معنی دوست کے ہیں۔ اولیاء اللہ سے مراد کون لوگ ہیں اس کی تفسیر خود قرآن ہی نے کی ہے چنانچہ متصلاً بعد والی آیت میں فرمایا "یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا"۔ یعنی جو لوگ ایمان لا کر تقوی ((خدا خوفی اور پرہیز گاری) کی روشن اختیار کرتے ہیں وہی اللہ کے ولی ((دوست) ہیں۔ بالفاظ دیگر ہر مومن متقی اللہ کا ولی ہے۔

 

قرآن کی اس تشریح و توضیح کے بعد اس کا کوئی اور مفہوم بیان کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے اس کے معنی بالکل بدل دیئے ہیں۔ ان کے نزدیک ولی وہ ہے جس نے صوفیانہ اور زاہدانہ طرز پر زندگی گزاری ہو اور ولی کے بارے میں اس گروہ کا تصور یہ ہے کہ اسے عالم میں تصرف کا اختیار ہوتا ہے۔ چنانچہ تصرف کے اعتبار سے انہوں نے اولیاء کی درجہ بندی کی ہے اور غوث، قطب، ابدال جیسے القاب ان کے لیے تجویز کیے ہیں۔ پھر ان کی طرف ایسی کرامتیں منسوب کر دی ہیں جن کا سر ہے نہ پیر۔ اولیاء کے بارے میں اس گمراہ کن تصور کو جس چیز نے پختہ کر دیا وہ ان کی پختہ قبریں اور درگاہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر شخصیت پرستی بزرگوں سے عقیدہ کے پردہ میں اور شرک نذر و نیاز کے غلاف میں آگیا۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا محل جنت ہے جہاں نہ مستقبل کا کوئی خطرہ ہو گا اور نہ ماضی کا کوئی غم۔

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے تمام وعدے بالکل اٹل ہیں۔ ان میں کوئی رد و بدل نہیں ہونکتا۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مخالفین کی اذیت دہ باتوں کو تم خاطر میں نہ لاؤ۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عربی میں عزت کے اصل معنی قوت اور غلبہ کے ہیں۔ نیز اس کے دوسرے معنی شرف کے بھی ہیں۔ "عزت سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ " کا مطلب یہ ہے کہ قوت و غلبہ اور شرف سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ جس کو ان چیزوں سے نوازنا چاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ لہذا مخالفین پیغمبر کو نیچا دکھانے کے لیے جو زور لگا رہے ہیں ، ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی آسمان و زمین کی تمام ذی حیات مخلوق خواہ فرشتے ہوں یا جن پیدائشی طور پر اللہ کی بندہ غلام اور مخلوق ہے اور جب کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں کہ وہ مالک ہو تو وہ خدا کی شریک کس طرح ہوئی؟

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی شرک کی تائید میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ مذہب والوں نے محض وہم و گمان کی بناء پر خدا کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکانہ مذاہب کے پنڈتوں نے اپنے اپنے مذہب کو سچا ثابت کر دکھانے کے لیے اس کو فلسفیانہ رنگ دیا ہے تاکہ جو باتیں عقل سلیم تسلیم نہیں کرتی ان کی فلسفہ کی شکل میں پیش کر کے ذہنوں کو مرعوب کیا جا سکے۔ اس کی مثال ہندوؤں کا فلسفہ ویدانت ((Vedanta) ہے جس میں خالق کائنات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ابتداء میں وہ اکیلا تھا پھر اس نے کثرت میں تبدیل ہونا چاہا اس لیے اس نے اپنی ذات ہی سے کثرت کو پیدا کیا:

 

"The Vedanta says that the Supreme Being was alone. One without a second he desired to become the many. But as there was nothing beside Himself, He had to create the man out of himself alone." ((Outlines of Vedanta by R. Krishna Swami Aiyar p71)

 

کیسا شرمناک جھوٹ ہے جو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے ! اسی طرح دیوی دیوتاؤں کے وجود کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا میں جتنی صفات پائی جاتی ہیں اتنے ہی دیوی دیوتا ہیں :

 

"There are as many Devas or spiritual entities as there are qualities in the world” ((Ibid P. 131)

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوح علیہ اسلام کی سرگزشت تفصیل کے ساتھ سورۂ ہود اور سورۂ نوح میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں اس سرگزشت کے ان پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے جن سے دعوتِ حق کو پیش کرنے کے معاملہ میں حضرت نوح کی غیر معمولی جرأت نیز کمال درجہ کے عزم و توکل کا اظہار ہوتا ہے اور دعوت حق کو رد کرنے والوں کے برے انجام سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔

 

نوح علیہ السلام کا زمانہ اور دیگر تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۹۵۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد وہ نشانیاں ہیں جو پیغمبر کی دعوت کے حق ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ چیلنج تھا جو نوح علیہ السلام نے قوم کی مخالفانہ سرگرمیوں کو دیکھ کر کیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کو اپنی دعوت کی حقانیت کا کتنا یقین ہوتا ہے اور ان کا عزم کیسا آہنی ہوتا ہے۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ نوح علیہ السلام جو سب سے پہلے انسانی آبادی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے مسلم تھے یعنی ان کا دین اسلام ہی تھا اور وہ خدائے واحد کے فرماں بردار تھے۔

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کشتی میں ان ہی لوگوں نے پناہ دلی تھی جو نوح علیہ السلام پر ایمان لائے تھے۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوح علیہ السلام کی قوم زمین میں با اقتدار تھی لیکن جب کفر کی پاداش میں اسے غرق کر دیا گیا تو اہل ایمان کے گروہ نے جسے اللہ تعالی نے بچا لیا تھا زمین کا اقتدار سنبھالا۔ زمین پر حق و باطل کی یہ پہلی کشمکش تھی جس میں حق غالب ہوا اور اہل ایمان کو کافروں کے مقابلہ میں فتح مندی اور کامیابی نصیب ہوئی۔

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نوح کے بعد مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجے۔ ان رسولوں کا ذکر سورۂ اعراف میں گزر چکا اور آگے سورۂ ہود میں آ رہا ہے۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ ایک مرتبہ جس چیز کو وہ رد کر دیتا ہے اس پر نظر ثنی کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔ غلط قدم اٹھانے کے بعد واپسی اس کے لیے مشکل ہوتی ہے۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلوں پر مہر لگانے کی تشریح سورہ بقرہ نوٹ ۱۵ میں گزر چکی۔

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس واقعہ کو بیان کرنے سے مقصود خاص طور سے اس کی دعوت حق کو فرعونیوں نے جادو قرار دیا تھا اسی طرح حضرت محمد ((صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت ِ حق کو کفار مکہ جادو قرار دے رہے ہیں۔

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب پیغمبر کے معجزہ اور جادو گروں کے ساحرانہ کرتب کے درمیان مقابلہ آرائی ہوتی ہے تو جادو گروں کو اپنے منہ کی کھانی پڑتی ہے اور انہیں کبھی عزت نصیب نہیں ہوتی یہ تو ہے دنیا میں ان کی ناکامی۔ رہی آخرت کی کامیابی اور سرخروئی تو جادوگر اس سے یقیناً محروم رہیں گے کیونکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے فریب نظر کا سامان کرتے رہے۔

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مصر کا اقتدار تمہارے ہاتھ میں آ جائے۔ یہ فرعون کی طرف سے موسیٰ اور ہارون علیہ السلام پر ایساہی الزام تھا جیسا کہ ان پر ملک میں فساد کرانے کا الزام لگایا گیا تھا ((سورہ اعراف آیت ۱۲۷) ورنہ انہوں نے سیاسی اقتدار کے مسئلہ کی ابھی چھیڑا ہی نہیں تھا کیونکہ یہ دعوت کا مرحلہ تھا نہ کہ بالفعل نظام حکومت قائم کرنے کے مرحلہ۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے مضمرات میں سیاسی اقتدار کی بات بھی شامل ہوتی ہے اور عملاً اس کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جبکہ ان کی مخاطبت قوم ان کی دعوت پر ایمان لے آتی ہے موسیٰ اور ہارون علیہم السلام فرعون اور اس کی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دے رہے تھے انہوں نے فرعون کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کوئی سیاسی منصوبہ نہیں بنایا تھا اس لیے ان پر حصول اقتدار کا الزام بالکل بے بنیاد تھا۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی غلط کام کو کر کے اچھے نتیجہ کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے جیسے آگ جلا کر اس سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی امید رکھنا۔ اللہ کا قانون ایہ ہے کہ تخریبی کاموں سے کبھی تعمیر کا کام انجام نہیں پا سکتا پھر جادو سے جو سراسر فریب ہے ، مفید نتائج کیونکہ بر آمد ہو سکتے ہیں ؟ ایک پیغمبر انسانوں کی جو رہنمائی کرتا ہے اس کے مقابلہ میں جادو گر کی رہنمائی کر سکتے ہیں ؟

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ اس کے حکم سے موسیٰ کی لاٹھی حقیقۃً سانپ بن گئی اور جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو یہ سانپ نگل گیا۔ اس طرح جادو گروں کے مقابلہ میں موسیٰ کو کامیابی ہوئی اور ان کا پیغمبر ہونا ثابت ہو گیا۔ ((مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ اعراف نوٹ ۱۶۷، ۱۶۸، ۱۶۹) ۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی قوم سے مراد فرعون کی قوم ہے کیونکہ اوپر سے سلسلہ بیان فرعون، اس کے امراء اور جادوگروں کے بارے میں چلا آ رہا ہے۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی موسیٰ نے جو حق پیش کیا تھا اس کو قبول کرنے والے چند با ہمت نوجوان ہی نکلے۔ یہ نوجوان مصر کی قبطی قوم سے تعلق رکھت تھے کیونکہ جہاں تک بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کس طرح کرتے اس لیے جن مفسرین نے یہاں بنی اسرائیل کے نوجوان مراد لیے ہیں ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرعون اور مصر قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف کیسی ظالمانہ پالیسی اختیار کر رکھی تھی فرعون اپنی قوم کے لوگوں کو عقیدہ اور ضمیر کی آزادی دینے کے لیے تیار نہ تھا س لیے حق کے نمایاں ہو جانے کے باوجود اس کو قبول کرنے کے لیے لوگ عام طور سے آمادہ نہیں ہوئے سوائے نوجوانوں کے ایک قلیل گروہ کے جس نے تمام خطرات کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کی دعوت حق کو قبول کر لیا۔

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرعون سرکش بھی تھا اور حد سے زیادہ ظالم بھی۔ خدا سے سرکشی کے نتیجہ میں اس میں ایسا گھمنڈ پیدا ہو گیا تھا کہ اخلاق اور انسانیت کے تمام حدود کو توڑ کر وہ وحشت و بربریت پر اتر آیا تھا۔

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارے مومن ہونے اور اپنے کو اللہ کے حوالہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ تمہارا بھروسہ اللہ ہی پر ہو۔ فرعون کی ظالمانہ کارروائیوں کی پراہ نہ کرتے ہوئے تمہیں حق پر جم جانا چاہے۔ اور یقین رکھنا چاہئے کہ انجام کار کی کامیابی اہل ایمان ہی کے لیے ہی۔

 

اللہ پر توکل جب آدمی کا واقعی ذہنی فیصلہ ہو تو اسکے اندر دل جمعی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو ناسازگار حالات میں مومن کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار ہے۔

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے اللہ پر توکل کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ خدا یا ان ظالموں کو ایسا غلبہ عطاء نہ فرما کہ وہ ہم کو اپنے ظالمانہ کاروائیوں کے لیے تختۂ مشق بنا لیں۔

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ہارون ((علیہ السلام) پر جو نبی تھے۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی چند گھروں کو مسجد کے طور پر مخصوص کر لو۔ غالباً مصر میں پہلے سے مسجدیں موجود نہیں رہی ہوں گی جس کی وجہ سے ممکن ہے یہ رہی ہو کہ فرعون نے اس کی اجازت نہ دی ہو اور موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد چونکہ نبی اسرائیل کو مصر سے ہجرت کر جانا تھا اس لیے وہاں مستقل طور سے مسجدیں تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے گھروں کو مخصوص کر کے ان کو عارضی طور پر سے مسجد قرار دینے کا حکم دیا گیا تاکہ نماز با جماعت کا اہتمام ہو۔

 

اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ اگر کسی جگہ مسجد کی تعمیر ممکن نہ ہو تو کسی مکان یا مدرسہ کو عارضی مسجد قرار دیا جا سکتا ہے تاکہ نماز با جماعت کی ممکن صورت اختیار کی جا سکے۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب موسی کی قوم سے ہے اور قبلہ سے مراد مرکز عبادت ہے۔ مطلب یہ ہے۔ اور اللہ کے کلام کا مطلب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کہ ان گھروں کو مرکز عبادت بناؤ اور عارضی مساجد کے طور پر استعمال کرو۔

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہو کہ اقامت صلوۃ موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا اہم رکن تھا اور باوجود اس کے بنی اسرائیل فرعون کی غلامی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہیں نماز کی پابندی کا حکم دیا گیا تھا۔ مگر موجودہ تورات میں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر نہیں ہے البتہ مصر میں بنی اسرائیل کے خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے کا ذکر ہے۔ تورات کی کتاب خروج میں ہے :

 

"تب لوگوں نے سر جھکا کر سجدہ کیا" ((خروج ۲۷:۱۲)

 

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب موسیٰ علیہ السلام سے ہے۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان کو جو اللہ پر بھروسہ کر کے فرعون کے مقابلہ پر جم گئے ہیں اور نماز قائم کر رہے ہیں کامیابی کی خوشخبری دے دو تاکہ ان کی ڈھارس بندھ جائے۔

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کسی نااہل شاگرد کے بارے میں اس کے استاد سے یہ کہے کہ آپ نے اس کو اسی لیے پڑھایا تھا کہ امتحان میں ناکام ہو۔ ظاہر ہے یہ بات نتیجہ کے اعتبار سے کہی جاتی ہے نہ کہ مقصد کے اعتبار سے۔ موسیٰ علیہ السلام کے اس قول کا مطلب بھی یہی ہے کہ خدا یا تو نے یہ تمدنی وسائل فرعون اور اس کے سرداروں کو اس لیے تو عطا نہیں کئے تھے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان کو استعمال کریں لیکن تیری عطا و بخشش سے وہ اس طرح غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ گویا یہ چیزیں ان کو اسی غرض سے دی گئی تھیں۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعا موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت کی جب فرعون اور اس کے امراء پر حق کی حجت پوری طرح قائم ہو گئ تھی اور وہ محض ہٹ دھری کی وجہ سے اس کو قبل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ جب کوئی قوم سرکشی کی آخری حد کو پہنچتی ہے تو اس کی حیثیت ایک سڑی ہوئی لاش کی ہو جاتی ہے جس کی تعفن سے ماحول کو پاک کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اسے ممکنہ عجلت کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جائے۔ اور اللہ تعالی کی سنت یہی ہے کہ وہ ایسی قوم پر عذاب نازل کر کے اس کے وجود سے زمین کو پاک کر دے تا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا اسی سنت الہی کے ظہور کے لیے تھی۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ دعا سنت الٰہی کے ظہور کے لیے تھی اور ٹھیک وقت پر کی گئی تھی اس لیے فوراً قبول ہوئی۔ یہ دعا موسیٰ علیہ السلام نے کی تھی اور ہارون علیہ السلام اس دعا میں شریک تھے۔

 

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ نہیں جانتے کہ جس راہ کو انہوں نے اختیار کیا ہے وہ انہیں جہنم کی طرف لے جانے والی ہے۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بنی اسرائیل کے سمندر پار کرانے کا قصہ بائبل میں بھی بیان ہوا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک رات خدا کی طرف سے فرعونیوں پر ایسی آفت آئی کہ ان سب کے پہلوٹھے ((پہلا بچہ) ہلاک ہو گئے اور مصر میں بڑا کہرام مچ گیا۔ فرعون نے گھبرا کر موسیٰ اور ہارون کو بلوایا اور ان کو اجازت دی کہ بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر رعمسیس سے جہاں ان کی آبادیاں تھی نکلے اور وہاں سے سکات تک پیدل سفر کیا۔ پھر سکات سے کوچ کر کے ایتام پہنچے اور ایتام سے فی ہے جروت کی طرف جو بعل صفوان کے مقابل ہے مڑ گئے اور مجدال میں ٹھہر کر فی ہے حروت کے سامنے سے کوچ کیا اور سمندر کے بیچ سے گزر کر بیابان ((صحرائے سیناء) میں داخل ہو گئے۔ بائبل میں یہ صراحت بھی ہے کہ مصر سے فلسطین کو جانے کے لیے جو قریبی راستہ تھا س راستہ سے خدا ان کو نہیں لے گیا بلکہ ان کو چکر کھلا کر بحر قلزم کے بیابان کے راستہ سے لے گیا۔ یعنی نزدیک کا راستہ چھوڑ کر دور کا راستہ مصلحۃً اختیار کیا گیا تھا۔

 

یہ قصہ تفصیل کے ساتھ خروج باب ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ اور گنتی باب ۳۳ میں بیان ہوا ہے۔

 

جس سمندر کو بنی اسرائیل نے عبور کیا تھا اس کا نام بائبل کے اردو ترجمہ میں بحر قلزم ، انگریزی ترجمہ میں ((Red sea) اور عربی ترجمہ میں "بحر سوف" بیان ہوا ہے یہ اصل عبرانی نام "ایم مرہ" ((BitterLakes) تھا جو خلیج سویز سے ملا ہوا تھا۔ بنی اسرائیل غالباً اسی سمندر کو پار کر کے صحرائے شور ((سیناء) میں داخل ہو گئے تھے۔ بائبل میں مختلف مقامات کے جو نام آئے ہیں وہ نام اب معروف نہیں رہے اس لیے بائبل کے شارحین بھی اس مقام کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی نہیں کر پائے ہیں جہاں سے بنی اسرائیل نے سمندر عبور کیا تھا۔ ڈکشنری آف دی بائبل کا مؤلف لکھتا ہے :

 

"The general opinion, however based on Constant Scripture representation, is that the sea crossed by the Israelites was the Gulf of Suez, probably at a point immediately north or just south of the Bitter Lakes.

 

 (A Dictionary of the Bible by John D. Davis, London Edition IV Page 647-678)

 

"اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور انکے رتھوں اور سواروں پر بھی بہنے لگے۔ اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصل قوت پر آگیا اور مصری الٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے سمندر کے بیچ ہمیں مصریوں کو تہ و بالا کر دیا اور پانی پلٹ کر آیا اور مصری الٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہ و بالا کر دیا ور پانی پلٹ کر آیا اور اس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے ساتھ لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہو سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔ پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی انکے دہنے اور بائیں ہاتھ دیوار کی طرح رہا۔ سو خداوند نے اس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اس طرح بچایا اور اسرائیلیوں نے مصریوں کو سمندر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دیکھا۔ اور اسرائیلوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اس کے بندہ موسیٰ پر ایمان لائے"۔ ((خروج ۲۶:۱۴تا ۳۱)

 

بائبل کے شارح نے بنی اسرائیل کے خروج کو تیرہویں صدی قبل مسیح کا واقعہ بتلایا ہے اور لکھا ہے کہ یہ فرعون غالباً رعمیسس دوم ((Raamses-II) تھا۔

 

 (Peake’s Commentary on the Bible-New York P.115)

 

اور رعمسیس دوم کی ممی آج بھی قاہرہ کے میوزیم میں موجود ہے اور زبانِ حال سے پکار کر کہہ رہی ہے ؃

 

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو

 

"His Mummy is now in the museum at Bulak." (A Dictionary of the Bible Word Pha’roah Page 600)

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھے ٹھکانے سے مراد شام اور فلسطین کی سرزمین بھی ہے اور عزت کا مقام بھی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ اعراف نوٹ ۱۹۶ اور۱۹۷۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اشارہ ہے ان نعمتوں کی طرف جو انہیں سر زمین فلسطین میں عطا ہوئیں۔ بائبل میں ب کثرت مقامات پر اس ملک کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہاں دودھ اور شہد بہتا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو خروج ۳:۸۔

 

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علم سے مراد دین اور شریعت کا علم ہے۔ واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ بنی اسرائیل کے درمیان جو اختلاف دین اور شریعت کے معاملہ میں پیدا ہوئے وہ اس بنا پر نہیں ہوئے کہ انہیں ان باتوں کا صحیح علم بخشا نہیں گیا تھا بلکہ تورات اور انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ ان کی صحیح صحیح رہنمائی کی گئی تھی اور ان پر یہ بھی اچھی طرح واضح کر دیا گیا تھا کہ اصل دین کیا ہے۔ اللہ کے احکام کیا ہیں اور ان کی جنات کس بات پر موقوف ہے مگر ان واضح تعلیمات کے باوجود انہوں نے اختلاف کی راہ اختیار کی۔

 

 (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سور آل عمران نوٹ الف ۱۳۷ اور سورہ بینہ نوٹ ۷) ۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو وقت یہ سورہ نازل ہوئی ہے بہت کم لوگ قرآن پر ایمان لائے تھے اور ایک اچھی خاصی تعداد ان لوگوں کی تھی جو تذبذب میں مبتلا تھی۔ چونکہ وہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتے تھے جس کے پاس اللہ کی کوئی کتاب پہلے سے موجود نہیں تھی اس لیے انہیں اس بات کو تسلیم کرتے میں تردد تھا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کتاب نازل فرماتا ہے اور یہ کہ قرآن کلام الٰہی ہے ان کے اس تردد کو دور کرنے کے لیے یہاں فرمایا گیا کہ قرآن پہلی کتاب نہیں ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہو بلکہ اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کتابیں نازل فرماتا رہا ہے اور تمہارے درمیان اہل کتاب تو موجود ہی ہیں جو تورات پڑھتے رہتے ہیں ان سے اس بات کی تصدیق ہو سکے گی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے کتابیں نازل فرماتا رہا ہے اور ان میں جو لوگ حق پسند ہیں وہ قرآن کے کتاب الٰہی کی ہونے کی بھی تصدیق کریں گے۔ کیونکہ جو شخص کتاب الٰہی سے آشنا ہو وہ قرآن کو سنتے ہیں پہچان لے گا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فرمان ہے جو اس سورہ کی آیت ۳۳ میں بیان ہوا ہے اور جس کی تشریح نوٹ ۶۰ میں گزر چکی۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جس آبادی میں بھی رسول بھیجا گیا وہ آبادی بحیثیت مجموعی اس وقت تک ایمان نہیں لائی جب تک کے عذاب نمودار نہیں ہوا۔ اور عذاب کے نمودار ہو جانے پر اس کا ایمان لانا نے سود تھا کیوں کہ اس وقت مہلت ختم ہو گئی تھی۔ البتہ پوری تاریخ میں ایک مثال قوم یونس کی ملتی ہے جو عذاب کے نمودار ہونے سے پہلے ایمان لے آئی اس لیے اللہ نے اسے رسوا کن عذاب سے بچا لیا۔

 

یونس کا نام بائبل میں یوناہ آیا ہے۔ یہ اسرائیلی نبی تھے اور انہیں نینویٰ بھیجا گیا تھا جو عراق میں دجلہ کی جانب شہر موصل کے قریب واقع تھا اور جو آشوریوں کا پایہ تخت تھا۔ یہ قوم بگاڑ میں مبتلا تھی اس لیے اس کے سامنے دعوت ح پیش کرنے کے لیے یونس علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا۔ یہ واقعہ تخمیناً آٹھویں صدی قبل مسیح کا ہے۔

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام نوٹ ۲۰۰ اور ۲۰۱ نیز سورہ مائدہ نوٹ ۱۵۹ اور سورہ بقرہ نوٹ ۴۱۷ ۱۴۹ یعنی ایمان کا معاملہ توفیق الٰہی پر منحصر ہے اور یہ توفیق ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں لیکن جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ان کے قلب و ذہن پر اللہ گندگی ڈال دیتا ہے اس لیے فاسد خیالات ہی ان میں پیدا ہونے لگتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خدا کی طرف گھٹیا باتیں منسوب کرنے اور انسانی زندگی کے بارے میں گھناؤنے تصورات پیش کرنے میں انہیں ذرا تامل نہیں ہوتا۔ مشرکانہ مذاہب کے دیومالائی تصورات ، تہذیب جدید کے علمبرداروں کی اخلاق سوز ثقافت ، مادہ پوستوں کا انسان کے معاشی حیوان ہونے کا نظریہ اور لذت پرستوں کا نظریہ جنسیت فاسد ذہنیت کی واضح مثالیں ہیں۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قرآن ہر شخص کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ کھلی آنکھوں سے تاروں بھرے آسمان اور نعمتوں بھی زمین کا مشاہدہ کرے۔ یہ مشاہدہ معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ علم حق حاصل کرنے کی غرض سے ہونا چاہیے۔ یعنی بنیادی طور پر اس کا مقصد خالق کائنات کی معرفت (پہچان) حاصل کرنا ہو نیز یہ معلوم کرنا ہو کہ آسمان و زمین کی تخلیق کی جو غایت قرآن بتلا رہا ہے اور انسان کو جس بات کی وہ دعوت دیتا ہے اس کی تصدیق آثار کائنات سے ہوتی ہے یا نہیں۔

 

اس سائنسی دور میں ارضیات اور فلکیات کے علماء نے عجیب عجیب اکتشافات کیے ہیں اور انسان کے سامنے معلومات کے ڈھیر لگا دیے ہیں لیکن وہ علم حق سے بالکل بے بہرہ ہیں کیوں کہ کائنات کا مطالعہ وہ صحیح اپروچ ((Approach) کے ساتھ نہیں کرتے۔

 

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی گزشتہ قوموں پر جب رسولوں کے ذریعہ حق اچھی طرح واضح ہو گیا اور اس کے بعد بھی وہ قومیں ایمان نہیں لائیں تو انہیں ہلاکت کے دن دیکھنا پڑے۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی رسول کے ذریعہ حق واضح ہو چکا ہے۔ اب اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد فیصلہ کن عذاب سے بچا لینا ہے۔ یعنی جب کسی رسول کے ذریعہ کسی قوم پر اللہ کی حجت پوری طرح قائم ہو جاتی ہے اور وہ کفر اور سرکشی سے باز آنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی تو اس دنیا میں اللہ کا عذاب اس قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ایسے موقع پر اللہ اپنے رسول کو اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہوں عذاب کی لپیٹ میں آنے سے بچا لیتا ہے گزشتہ قوموں پر جو عذاب آئے تو ان کے رسولوں کی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں سے عذاب سے پہلے ہی نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ اس طرح ہر فیصلہ کن عذاب کے موقع پر وہ رسول کو اور اس کے ساتھ اہل ایمان کو بچاتا رہا ہے چونکہ یہ بچانا اللہ نے خود ہی اپنے اوپر لازم کر لیا ہے اس لیے اگر مشرکین مکہ پر عذاب آیا تو رسول اور اہل ایمان اس سے لازماً بچا لیے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ عرب کے مشرکین رفتہ رفتہ ایمان لاتے چلے گیے اس لیے قوم عاد اور ثمود کی طرح ان پر عذاب نہیں آیا بلکہ ان میں سے جو لوگ کفر پر بضد رہے ان کی ہلاکت کا سامان اہل ایمان کی تلوار کے ذریعہ بدر و حنین جیسے معرکوں میں کیا گیا۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ دین کے بارے میں اپنے موقف کو واضح طور سے اور برملا پیش کریں۔ یہ حکم جس طرح پیغمبر کے لیے ہے اسی طرح پیغمبر کے پیروؤں کے لیے بھی ہے اس لیے ایک مسلمان کو اپنے دینی موقف کا اظہار بے لاگ طریقہ سے کرنا چاہیے۔ دیگر مذاہب کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دین کے معاملہ میں لیپا پوتی کرنا ، توحید خالص کو پیش کرنے میں تامل کرنا کہ کہیں مشرکین ناک بھوں نہ چڑھائیں اور مشرکانہ طور طریقوں کے ساتھ رواداری پرتنا اس ہدایت کے خلاف ہے جو آیت میں دی گئی ہے۔

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میں صرف اس خدا کی پرستش کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔ اس میں خدا کے معبود واحد ہونے کی دلیل مضمر ہے۔ جب یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ موت اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے تو پھر اللہ کے سوا کوئی اور معبود کیسے ہو سکتا ہے۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات پیغمبر کی زبانی کہلوانے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ پیغمبر کا مؤمن ہونا اور زمرہ مومنین میں شامل ہونا حکم خداوندی کی تعمیل ہے اس لیے یہ خیال کرنا سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے کہ آپ نے اپنی طرف سے ایمان اور کفر کی بحث کھڑی کر دی ہے اور انسانیت کو مؤمن اور کافر دو فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دین اسلام پر تم اپنی نظریں جمائے رکھو ، ہر طرف سے یکسو ہو کر اسی کے ہو کر رہو کسی اور دین یا لا دینیت کی طرف ادنیٰ جھکاؤ نہ ہو اور تمہارے عقیدہ و عمل میں شرک کا شائبہ نہ آنے پائے۔

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پکارنے سے مراد حاجت روائی ، فریاد اور مدد و نصرت کے لیے پکارنا ہے۔ کسی کے بارے میں بھی خواہ وہ بیت ہو یا قبر ، فرشتہ ہو یا جن ، نبی ہو یا ولی ، یہ خیال کر کے اس کو حاجت پوری کرنے کے لیے پکارنا کہ اس کائنات کے نظام میں رزق رسانی وغیرہ کے تعلق سے اس کا بھی کچھ دخل ہے اور وہ غیب میں رہ کر فریاد کو سنتا اور مدد کو پہنچتا ہے پرلے درجہ کا شرک ہے خواہ اس کا ارتکاب مشرک کریں یا مسلمان۔

 

۱۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب کر کے اتنی سخت بات اس لیے کہی گئی تاکہ لوگوں پر واضح ہو جائے کہ شرک کے خلاف پیغمبر نے جو سخت موقف اختیار کر رکھا ہے وہ اللہ کی ہدایت کے عین مطابق ہے اور اللہ کے قانون میں شرک کا ہر مرتکب ظالم ہے خواہ وہ کوئی بڑی سے بڑی شخصیت کیوں نہ ہو۔ یہاں پیغمبر سے خطاب کر کے جو بات کہی گئی ہے اس کا مقصد اس اصولی بات کو واضح کرنا ہے۔

 

۱۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ معاف کرنے والا ہے اس لیے اس سے معافی چاہو اور وہ رحم فرمانے والا ہے اس لیے اسی سے رحم کی درخواست کرو۔

 

۱۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مجھ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے کہ زبردستی تم کو راہ حق پر چلاؤں۔

 

۱۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد اللہ کا فیصلہ صادر ہوا چنانچہ پیغمبر کے ہاتھوں شرک کی جڑ کٹ گئی اور توحید کا جھنڈا بلند ہوا باطل مٹ گیا اور حق کا بول بالا ہوا۔ اس تاریخی فیصلہ سے بھی جو رسول کی صداقت کی واضح دلیل ہے اگر دنیا کی قومیں سبق حاصل کرنا نہیں چاہتیں تو پھر انہیں خدا کے اس فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیے جو قیامت کے دن چکا دیا جائے گا۔

***