دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ التّکاثُر

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

پہلی آیت میں  تکاثر (مال و دولت کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب ) کو اصل مقصد حیت سے غفلت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام التَّکَاثُرْ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

 مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دعوتی دور کے آغاز میں  نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

لوگوں  کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ مال و دولت اور دیگر دنیوی فوائد کے حصول میں  ایسا انہماک کہ عمریں اسی میں  کھپ جائیں  اور آخرت کی باز پرس کا خیال تک نہ آۓ ، بہت بڑی ناعاقبت اندیشی اور زبردست خسارہ کا سودا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ اور ۲ میں  ان لوگوں  کو جھنجھوڑا گیا ہے جو دنیا کی دولت کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں  اور اس کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی دھن ان پر ایسی سوار ہے کہ موت کے اس پار جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کا انہیں  ہوش ہی نہیں۔

آیت ۳ تا ۵ میں  متنبہ کیا گیا ہے کہ موت کے اس پار کیا ہے وہ تمہیں  آنکھیں  بند ہوتے ہی معلوم ہو جاۓ گا۔ اگر آج تمہیں  اس کا یقین ہوتا تو اپنے مستقبل کی طرف سے غافل نہ ہوتے اور حصول دنیا کی یہ دھن تم پر سوار نہ ہوتی۔

 

آیت ۶ تا ۸ میں  خبر دار کیا گیا ہے کہ جہنم کے وجود پر تم یقین کرو یا نہ کرو وہ دن آ کر رہے گا جب اسے تم اپنی آنکھوں  سے دیکھ لو گے۔ اس وقت تمہیں  اس کے وجود کا پوری طرح یقین ہو جاۓ گا لیکن وہ وقت عمل کا نہیں  بلکہ حساب دینے کا ہو گا اور تمہیں  ہر ہر نعمت کے بارے میں  خدا کے حضور جواب دہی کرنی ہو گی۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ مال و دولت کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی طلب نے تمہیں  غفلت میں  ڈال رکھا۱*

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں  تک کہ تم قبروں  میں  جا پہنچے ۲*

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر نہیں  عنقریب تمہیں  معلوم ہو جاۓ گا ۳*

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سُن لو !یہ دھن صحیح نہیں  ، عنقریب تمہیں  معلوم ہو جاۓ گا ۴*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر گز نہیں  ! اگر تم یقینی طور پر جان لیتے ۵* تو دنیا کے پیچھے نہ پڑتے )

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ضرور دوزخ کو دیکھ لو گے ۶*

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر تم اسے  بالکل یقین کے ساتھ دیکھو گے ۷*

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس روز تم سے نعمتوں  کے بارے میں  ضرور باز پرس ہو گی ۸*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم لوگ مال و دولت کمانے دنیا کے فائدے حاصل کرنے اور سامان عیش فراہم کرنے میں  ایسے منہمک ہو کہ مقصد حیات اور اپنی حقیقی منزل تمہاری نظروں  سے اوجھل ہو گئی ہے۔ تمہاری ساری تگ و دو کسب زر، اور حصول جاہ و اقتدار کے لیے ہوتی ہے اس سے بلند ہو کر کچھ سوچنے کے لیے تم آمادہ ہی نہیں  ہو۔

 

مال و دولت کی حرص اور دنیوی فوائد کے حصول میں  انسان کا حد سے زیادہ انہماک انسان کی وہ بنیادی کمزوری  ہے جس میں  وہ ہمیشہ مبتلا رہا ہے البتہ موجودہ دور میں  اس نے کچھ ’’ترقی  یافتہ‘‘ شکلیں  اختیار کر لی ہیں  چنانچہ زر پرستی نے سرمایہ پر ستی کی اور دنیا پرستی نے مادہ پرستی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اگر انسان پہلے آخرت کا منکر تھا تو اب سرے سے خدا ہی کے وجود کو تسلیم نہیں  کرتا۔ اگر پہلے اخلاقی قدروں  کو پس پشت ڈال کر دنیوی فوائد حاصل کرتا تھا تو اب مفاد دنیا کی خاطر اخلاقی اقدار سے بالکل عاری ہو گیا ہے۔ پھر موجودہ تمدنی ترقی کے زیر اثر ہر شخص کو اپنا معیار زندگی (Standard of life)  بلند کرنے کی فکر ہے اور معاشی اور اقتصادی میدان میں  افراد اور قومیں  ایک دورے سے آگے نکلنا چاہتی ہیں  لیکن معیار اخلاق بلند کرنے کی فکر کسی کو نہیں  ہے ، اور نہ کوئی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ کرتا ہے کہ آیا دنیا زندگی کا آخری مرحلہ ہے یا اس سے آگے بھی مراحل طے کرنا ہوں  گے ؟ اس اہم ترین سوال کی طرف توجہ نہ کر کے انسان اپنے مقصد حیات سے بہت دور جا پڑا ہے اور ایسی غفلت میں  مبتلا ہے کہ اسے آگے پیچھے کی کچھ خبر نہیں۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے اور دنیا حاصل کرنے کی کوشش میں  تم نے اپنی عمریں  کھپا دیں  ور مرتے دم تک تمہیں  یہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ موت کے بعد جس چیز سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس پر غور کرتے۔

 

انسان کی کثرت طلبی اور کبھی نہ ختم ہونے والی حرص پر اسے حدیث میں  بھی بڑے مؤثر انداز میں  متنبہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

 

لَو کَانَ لِاِبْنِ آدَمَ وَ ادِ یَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغٰی ثَالِثاً وَ لَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابنِ آدَمَ اِلَّا الّتُرَابُ (بخاری کتاب الرقاق )۔

 

’’آدمی کے پاس اگ مال سے بھری ہوئی دو وادیاں  ہوں  تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا۔ آدمی کا پیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے ‘‘۔

 

’’مٹی ہی پیٹ بھر سکتی ہے ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی حرص کا خاتمہ خاک میں  مل جانے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عنقریب یہ حقیقت تم پر کھل جاۓ گی کہ مال و دولت کی کثرت اور دنیوی سرو سامان کا وافر مقدار میں  حاصل ہو جاتا اصل کامیابی نہیں  ہے بلکہ اصل کامیابی اخروی نعمتوں  کا حصول ہے۔ اس وقت تمہیں  اپنی اس غلطی کا شدید احساس ہو گا کہ آخرت کو نظر انداز کر کے تم نے کتنے برے انجام کو دعوت دی ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ مضمون کی یہ تکرار تاکید کے لیے بھی ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے بھی کہ دنیا طلبی کی حقیقت پہلی مرتبہ ت موت کے آتے ہی سامنے آۓ گی اور دوسری مرتبہ قیامت کے  دن ظاہر ہو گی۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن جس دن کی خبر دے رہا ہے اس پر اگر تمہیں  یقین ہوتا تو دنیا کے پیچھے پڑ کر غفلت کی زندگی ہر گز نہ گزارتے بلکہ اس دن کے لیے تیاری کرتے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم جہنم کے وجود کو اگر ماننا نہیں  چاہتے تو نہ مانو، اس کا وجود بہر حال ایک حقیقت ہے اور وہ دن لازماً آنا ہے جب کہ وہ تمہارے سامنے آ نمودار ہو گی اور تم اس کا اپنی آنکھوں  سے مشاہدہ کرو گے۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارا جہنم کو دیکھنا خواب کی دنیا میں  نہیں  بلکہ واقعات کی دنیا میں  ہو گا۔ آج جس چیز کو تم ناقابل یقین خیال کر رہے ہو وہ کل جب تمہارے مشاہدہ میں  آۓ گی تو تمہیں  اس کے وجود کا پوری طرح یقین ہو جاۓ گ۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ نعمتوں  میں  اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تمام نعمتیں  شامل ہیں  مثلاً سامان رزق ، مال و دولت، اولاد قوتیں  اور صلاحیتیں ، ذرائع و وسائل ، جاہ و منصب اور حکومت و اقتدار وغیرہ۔ دنیا میں  انسان کو جو نعمت بھی ملتی ہے وہ اپنے ساتھ ایک ذمہ داری بھی لاتی ہے اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ انسان اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کو ان کاموں  میں  استعمال کرے جو اسے پسند ہیں۔ اس طرح اگر انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  کا حق ادا کرتا ہے تو قیامت کے دن اس کے لیے جوابدہی کا مرحلہ آسان ہو گا اور اپنے رب کی ابدی نعمتوں  کا مستحق ٹھہرے گا۔ لیکن اگر وہ سرے سے خدا کے وجود کو تسلیم ہی  نہیں  کرتا یا تسلیم تو کرتا ہے مگر یہ سمجھتا ہے کہ ان نعمتوں  کو عطا کرنے والے بہت سے خدا ہیں  یا فلاں  نعمت فلاں  دیوی دیوتا کی عطاء کردہ ہے اور اس فاسد عقیدہ کی بنا پر وہ ان نعمتوں  کو اللہ کی پسند نا پسند سے آزاد ہو کر استعمال کرتا ہے تو قیامت کے دن اس سے سخت باز پرس ہو گی اور اس ناشکری اور مجرمانہ طرز عمل کی بنا پر وہ سخت سزا کا مستحق ہو گا۔

 

محل کلام کے لحاظ سے اس آیت کا اشارہ خاص طور سے مال و دولت کی نعمت کی طرف ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی فکر تمہیں  ضرور ہے لیکن اس سلسلہ میں  جو جواب دہی کرنا ہو گی س کا تمہیں  بالکل خیال نہیں۔ اگر خدا کے حضور جوابدہی کا احساس تم میں  ہوتا تو مال و دولت کے حریص بننے کے بجاۓ قناعت پسند ہوتے کہ دولت جتنی وافر مقدار میں  ملے گی حساب کا معاملہ انتا ہی بڑھ جاۓ گا اور جوابدہی مشکل ہو گی۔ واضح رہے کہ قیامت کے دن جوابدہی ہر کسی کو کرنا ہو گی خواہ دہ مسلمان ہو یا کافر۔ حدیث میں  آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

 

لَا تَزُوْلُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّی یُسْأ لَ عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ وَعَنْ عِلْمِہٖ فِیْمَا فَعَلَ وَ عَنْ مَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اِکتسَبَہٗ وَ فِیْمَا اَنْفَقَہٗ وَعَنْ جِسْمِہٖ فِیْمَا اَبْلَاہُ۔ (ترمذی ابواب لزھد)۔

 

’’(قیامت کے دن) بندے کے قدم ہٹ نہ سکیں  گے ، جب تک کہ اس سے ان باتوں  کے بارے میں  پوچھ نہ لیا جاۓ گا، اس کی عمر کے بارے میں  کہ کس چیز میں  گزاری، اس کے علم کے بارے میں  کہ کہاں  تک اس پر عمل کیا، اس کے مال کے برے میں  کہ کہاں  سے کمایا اور کس چیز میں  خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں  کہ کس چیز میں  بوسیدہ کیا۔ ‘‘

 

ایک موقع پر جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھوک کی شدت کو رفع کرنے کے لیے ایک انصاری کے گھر گۓ اور انہوں  نے آپ کی تواضع کھجور اور گوشت سے کی اور ساب شکم سیر ہو گۓ تو آپ نے اپنے ساتھیوں  سے فرمایا :

 

وَالَّذِیْنَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتُسْاَلُنَّ عَنْ ھٰذَا النِعیْمِ یَومَ الْقِیَامَۃِ۔ (فتح القدیر لشو کانی ج ۵ ص ۴۹۰ بحوالہ مسلم) ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ  میں  میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ضرور اس نعمت کے بارے میں  پوچھا جاۓ گا۔ ‘‘