دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ النَّاس

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

اس سورہ میں  پانچ مرتبہ الناس (انسان) کا لفظ آیا ہے۔ اس مناسبت سے اس کا نام الناس ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی ہو گی جب کہ قرآن کے خلاف شیاطین انس و جن نے لوگوں  کے دلوں  میں  شکوک و شبہات پیدا کرنے کی مہم شروع کر دی تھی۔

 

مرکزی مضمون

 

 سورہ فلق کی طرح اس کا مرکزی مضمون بھی استعاذہ ہی ہے۔ البتہ اس میں  وسوسہ اندازی کا سب سے بڑا شر قرار دے کر اس سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

 

نظم کلام

 

 آیت ۱ تا ۳ میں  پناہ دہندہ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

 

آیت ۴ میں  جس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے اس کے ایک خطرناک اور شاطر دشمن ہونے سے متنبہ کیا گیا ہے۔

 

آیت ۵ میں  بتایا گیا ہے کہ اس کے حملوں  کا اصل نشانہ انسان کا دل ہوتا ہے۔

 

آیت ۶ میں  خبردار کیا گیا ہے کہ یہ دشمن جس طرح جنوں  میں  سے ہوتا ہے اس طرح انسانوں  میں  سے بھی ہوتا ہے۔

 

اہمیت

 

ترتیب کلام کے لحاظ قرآن کی یہ آخری سورہ ہے اور ایک پہلو سے وہ توحید کی محافظ ہے تو دوسرے پہلو سے پورے قرآن کی۔ توحید کی محافظ  اس طرح ہے کہ اس میں  توحید کے اصل دشمن شیطان کی شاطرانہ چالوں  سے ہوشیار رہنے اور اس کے شر سے بچنے کے لیے خداۓ واحد کا سہارا لینے اور اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔ رہا اس سورہ کا پورے قرآن کے لیے محافظ اور پاسبان ہونی تو جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے : لَا یَتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَامِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِ یْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ۔ (باطل نہ اس کے آگے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جو حکمت اور کمالات سے متصف ہے۔ حٰم السجدہ ۳۲)  مُعَوِّذَتَیْن کو اخیر یں  رکھ کر شیطان کے نفوذ کی تمام راہیں  بند کردی ہیں  اس لیے کلام الہٰی میں  شیطانی کلام کے خلط ملط اور باطل کے گڈ مڈ ہونے کا کوئی امکان نہیں  رہا۔ بالفاظ دیگر یہ سورہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ کتاب شیطان اور اس قماش کے انسانوں  کی دخل اندازیوں  سے قیامت تک کے لیے محفوظ رہے گی۔ اس میں  کسی قسم کی آمیزش یا تحریف ممکن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ کے لیے اپنی اصل شکل میں   باقی رہنے والی کتاب ہے۔

ترجمہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو،۱*  میں  پناہ مانگتا ہوں انسانوں  کے رب کی ۲*  

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں  کے بادشاہ کی ۳*  

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں  کے معبود کی ۴*  

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ وسوسہ ڈالنے والے خناس چھپنے والے *  کے شر سے ۵*

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگوں  کے سینوں دلوں *  میں  وسوسے ڈالتا ہے ۶*  

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ جو جنوں  میں  سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں  میں  سے بھی ۷*  

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے اولین مخاطب نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں  اور لفظ قُلْ (کہو) سے سورہ کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کلام وحی ہے ، اور خداۓ تعالیٰ نے آپ کو جن الفاظ میں  پیغام پہنچانے کا حکم دیا تھا ٹھیک ٹھیک ان ہی الفاظ میں  آپ نے لوگوں  تک پہنچا دیا۔ ان میں  سے کوئی لفظ بھی حتیٰ کہ قُلْ (کہو) کا لفظ بھی آپ نے ساقط نہیں  فرمایا۔ یہ قرآن کے لفظ بہ لفظ وحیِ الٰہی ہونے کا صریح ثبوت ہے۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں  کا رب یعنی تمام لوگوں  کا پروردگار اور مال حقیقی۔ (آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا انسانوں  کا رب ہے وہی پناہ دہندہ بھی ہے۔ اس کے سوا کوئی پناہ دینے والا نہیں  ہے۔ اس لیے میں  پناہ کے لیے اسی طرف جوع کرتا ہوں۔

 

زبور میں  بھی اس سے ملتا جلتا مضمون ہے :

 

’’ اے خدا ! میری حفاظت کر کیوں کہ میں  تجھ ہی میں  پناہ لیتا ہوں۔ میں  ے خداوند سے کہا تو ہی رب ہ۔ تیرے سوا میری بھلائی نہیں‘‘۔ (زبور ۱۶ : ۳۱)

 

واضح رہے کہ اَعُوْذُ کے لفظی معنی پناہ لینے کے ہیں  جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ بندہ خدا سے نہ صرف پناہ مانگتا ہے بلکہ عملاً اس نے اپنے کو اسی کی حفاظت میں  دے دیا ہے اور اسی کا سہارا لے لیا ہے لیکن چوں  کہ معوذتین دعائیہ سورتیں  ہیں  اور اردو محاورہ میں  ایسے موقع پر پناہ مانگنا بولا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے لفظ اعوذ کا ترجمہ ’’ میں  پناہ مانگتا ہوں ‘‘ کیا ہے۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی چونکہ خدا انسانوں  کا بادشاہ حقیقی ہے اس لیے وہ بندوں  کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے اس لیے میں  اسی مقتدر اعلیٰ کا سہارا لیتا ہوں۔

 

اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا اقتدار اعلیٰ جس طرح زمین اور آسمانوں  پر قائم ہے اسی طرح پورے بنی نوع انسان پر بھی قائم ہے۔ انسانی گروہوں  میں  سے کوئی گروہ ایسا نہیں جس پر اس کی بادشاہت قائم نہ ہو۔ اس لیے کسی گروہ کا اپنے کو اس کی بادشاہت سے آزاد سمجھ لینا ایک خلاف واقعہ بات ہے اس سے حقیقت تو نہیں  بدلتی البتہ انسان کا طرز عمل غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ یعنی وہ اپنے دائرہ عمل میں  سرکش بنکر رہ جاتا ہے۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی حقیقتاً تمام انسانوں  کا معبود اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہاس کے رب اور بادشاہ ہونے کا تقاضا بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ لوگوں  نے اس حقیقت سے انحراف کر کے غیر اللہ کو معبود بنا لیا ہو۔ عبادت کی مستحق تنہا اور اللہ کی ذات ہے اور کا کائنات میں  معبود یعنی عبادت کے لائق ہونا تنہا اسی کی صفت ہے اور وہی ہے جس کی عبادت آسمانوں  میں  بھی کی جاتی ہے اور زمین میں  بھی ، اس لیے انسانوں  کا معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں  ہے۔

 

اللہ تعالیٰ رب ، مَلِک (بادشاہ) اور الٰہٖ (معبود) مان کر جب بندہ اس سے پناہ کی درخواست کرتا ہے تو وہ اسے قبول فرماتا ہے۔ بالفاظ دیگر دعاۓ تعوذ کی قبولیت کے لیے توحید شرط لازم ہے۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وسوسہ کے معنی بُری بات اور بُرے خیال کے ہیں  جو غیر محسوس طریقہ پر کسی کے دل میں  ڈالا جاۓ اور وسواس کے معنی ہیں  وسوسہ اندازی کرنے والا۔ یہ شیطان کی صفت سے اور اس کی دوسری صفت خناس ہے۔ جو خنوس سے ہے اور جس کے معنی چھپنے ، غائب ہو جانے اور پیچھے ہٹنے کے ہیں  نیز اس کے ایک معنی انقباض (سکڑنے ) کے بھی ہیں۔

 

شیطان جب انسان کو کسی گناہ پر آمادہ کرنا چاہتا ہے تو وہ گناہ کے کام کو خوش نما بنا کر پیش کرتا ہے اور خوش گوار نتائج کی امید دلاتا ہے یہی چیز وسوسہ کی شکل میں  انسان کے دل میں  داخل ہوتی ہے اور جب وہ اس کے اثر کو قبول کرتا ہے تو یہ خیال پختہ ہو کر ارادہ اور عمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سب سے پہلی وسوسہ اندازی شیطان نے آدم و حوا پر کی تھی :

 

فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیطٰنُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وُرِیَ عَنْھَمَا مِنْ سَوْآتِھِمَا وقَا لَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ اَلشَّجَرَۃِ اِلَّا اَنْ تَکُوْ نَا مَلَکَیْنِ اَوْتَکُوْنَا مِنَ الْخَالِدِیْنَ۔۔۔۔۔۔۔ وَ قَسَمَھُمَا اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ ( الاعراف ۲۰ ، ۲۱ )

 

’’ پھر شیطان نے ان پر وسوسہ اندازی کی تکہ ان کی شرمگاہیں  جو ان سے پوشیدہ کھی گئی تھیں  ان کے سامنے کھول دے۔ اور کہا کہ تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ تم کہیں  فرشتے نہ بن جاؤ یا تمہیں  حیات جاوداں  حاصِل نہ ہو جاۓ۔ اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں  تمہارا خیر خواہ ہوں  ‘‘۔

 

یہ شیطان کی وسوسہ اندازی کی واضح مثال ہے کہ کس طرح شیطان خیر خواہ بن کر آتا ہے اور گناہ کی ترغیب کیسے پر فریب انداز میں  دیتا ہے۔ آدم و حوا کے سامنے گو شیطان نمودار ہو گیا تھا، لیکن دنیا میں  اس کی وسوسہ اندازی چھپے دشمن کے حملہ کیطرح ہوتی ہے اس لیے آدمی کو اس کی وسوسہ اندازی کا پتہ نہیں  چلتا البتہ اپنے دل میں  وہ بُرے خیالات محسوس کرنے لگتا ہے لیکن ان خیالات کو قبول کرنا یا نہ کرنا انسان کے اپنے فیصلہ پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر وہ بیدار اور اپنے دشمن کی طرف سے چوکنا ہو تو شیطانی وساوس کا کوئی اثر قبول نہیں  کرتا اور اگر غافل ہو تو اثر قبول کرتا ہے اور انسان کا قلب اسی صورت میں  بیدار رہتا ہے جب کہ اس میں  خدا کی یاد بس گئی ہو۔ ذکر الٰہی انسان کی مدافعت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس ہتھیار کو استعمال کر کے جب وہ دل میں  پیدا ہونے والے وسوسوں  سے خدا کی پناہ مانگتا ہے تو وسوسے بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں  اور شیطان کو ناکام لوٹنا پڑتا ہے۔ آیت کا منشاء شیطان کی ان چھپی کار روائیوں  سے جو وہ انسان کے خلاف کرتا ہے متنبہ کرنا ہے تاکہ انسان اپنے دشمن کی  طرف سے چوکنا رہے اور اپنی مدافعت کا سامان کرے۔

 

یہ تو آیت کے مفہوم کا عمومی پہلو ہے۔ رہا محل کلام کے لحاظ سے خصوصی پہلو تو  یہاں  خاص طور سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اہل ایمان کو قرآن کی شکل میں جو ہدایت عطا ہوئی ہے اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ اگر کوئی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی ہی ہے۔ یعنی وہ ایسی باتیں  دل میں  ڈال سکتا ہے جو قرآن کے معاملہ میں  شکوک و شبہات پیدا کرنے والی اور راہ ہدایت سے منحرف کر دینے والی ہوں ، خاص طور سے عقیدہ توحید جو دین کی اساس اور قرآن کی اصل روح ہے ، شیطان کی ریشہ دوانیاں اس کے خلاف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اس دشمن کی شاطرانہ چالوں  سے ہوشیار رہنے اور اپنے دین اور عقیدہ کی حفاظت کا سامان کرنے کی ضرورت ہے۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ دلوں  میں  وسوسے ڈالنا اردو محاورہ کے لحاظ سے ہے ورنہ اصل میں لفظ صدور استعمال ہوا ہے جو صدر کی جمع ہے۔ اور جس کے معنی سینہ کے ہیں۔ شیطان کی وسوسہ اندازی کا محل انسان کا باطن یعنی اس کا سینہ ہے۔ سینہ دل کے لیے بمنزلہ دہلیز کے لیے جہاں  سے وسوسے دل میں  داخل ہوتے ہیں۔ علّامہ ابن قیم نے اس کی بڑی اچھی تشریح کی ہے۔

 

’’ یہ نکتہ قابل غور ہے اللہ تعالیٰ نے : یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ( جو انسانوں  کے سینوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے ) فرمایا اور یہ نہیں  فرمایا کہ ان کے دلوں  کی وسوسے ڈالتا ہے۔ کیونکہ سینہ دل کا صحن اور اس کا گھر ہے جہاں  سے واردات داخل ہو کر سینہ میں  مجتمع ہوتے ہیں  اس کے بعد دل میں  داخل ہوتے ہیں۔ لہٰذا سینہ دل کے لیے بمنزلہ دہلیز کے ہے۔ اور تمام احکام اور ارادے دل سے نکل کر سینہ میں  آتے ہیں  اور پھر وہاں  سے انکی تقسیم اسکے لشکروں  پر کی جاتی ہے ‘‘۔ (تفسیر العوذتین لا بن قیم۔ ص ۶۶)

 

یعنی وسوسے دل میں  براہ راست داخل نہیں  ہوتے بلکہ سینہ کے واسطہ سے داخل ہوتے ہیں۔ گویا شیطان کے تیر سینہ میں پیوست ہو جاتے ہیں  اور ان کا زہریلا اثر دل پر اسی وقت ہوتا ہے جب دل غفلت کی نیند سو رہا ہو۔ ورنہ اگر دل ذکر الٰہی سے بیدار ہو تو وہ مدافعت کر لیتا ہے اور اس کے اثر سے محفوظ رہتا ہے۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وسوسہ اندازی کرنے والا شیطان محض ابلیس ہی نہیں  ہے بلکہ جنوں  اور انسانوں  میں  ایسے شیاطین بہ کثرت موجود ہیں  جو یہ کام کرتے رہتے ہیں  :۔

 

وَکَذَالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیِّ عَدُوًّ ا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بعْضٍ زُخُرُفَ الْقَوٰلِ غُرُوْراً۔ (الانعام : ۱۱۲)

 

’’ اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں  اور جنوں  کے شیاطین کو دشمن بنا دیا ہے جو ایک دوسرے پر چکنی چپڑی باتیں  فریب دینے کے لیے القاء کرتے ہیں  ‘‘۔

 

جہاں  تک شیاطین جن کی وسوسہ اندازی کا تعلق ہے ان کا چھپ کر حملہ آور ہونا بالکل واضح  ہے۔ رہے شیاطین انس تو وہ بھی جب وسوسہ اندازی کرتے ہیں  تو اپنے اصلاً شیطان ہونے کی حیثیت کو چھپا کر ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ انسان کے خیر خواہ بن کر نمودار ہوتے ہیں  کیونکہ وہ جانتے ہیں  کہ ان کا کوئی خیال اور ان کا کوئی مشورہ کسی کے لیے اسی صورت میں  ابل قبول ہو سکتا ہے جب کہ ایک ناصح اور ایک خیر خواہ کی حیثیت سے وہ سامنے آئیں  تو کوئی شخص بھی ان کی طرف توجہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہو گا۔

 

یہاں  یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ شر پھیلانے کے تعلق سے اصل کردار شیاطین جن کا ہے جن کا سرغنہ ابلیس ہے۔ رہے شیاطین انس تو وہ ان ہی کے تابع ہیں۔

٭٭٭٭٭