دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ المدَّثِّر

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

نام

 

سورہ کے آغاز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اَلْمُدّثِّرْ ( چادر اوڑھنے والے ) کہہ کر خطاب کیاگیا ہے ۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’اَلْمُدّثِّرْ‘ ہے ۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ۔ شروع کی آیتیں پہلے نازل ہوئیں اور بقیہ حصہ بعد میں نازل ہوا۔

 

مرکزی مضمون

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہدایت دینا اور آپ کے اِنذار( خبردار کرنے ) کے بعد بھی جو لوگ انکارِ حق پر مصر ہیں ۔ انہیں جہنم کے دردناک عذاب کی وعید سنانا ہے ۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا۱۰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے فضیلت اخلاق اور بلندی کردار کی تلقین کی گئی ہے ۔

 

آیت ۱۱ تا ۳۱ میں قریش کے لیڈروں کو جو مخالفت پر آمادہ ہوگئے تھے جہنم کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ۔

 

آیت ۳۲ تا ۴۸ میں آخرت کے بارے میں فہمائش ہے ۔

 

آیت ۴۹ تا ۵۶ میں قرآن کے یاددہانی ہونے کے پہلو کو اس طرح پیش کیاگیا ہے کہ بات دل میں اترجائے ۔

ترجمہ

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

(۱) اور چادر اوڑھنے والے ! ۱*

 

(۲) اٹھو اور خبردار کرو۔ ۲*

 

(۳) اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ ۳*

 

(۴) اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ ۴*

 

(۵)اور(بتوں کی)گندگی سے دور رہو۔ ۵*

 

(۶) اور زیادہ حاصل کرنے کی غرض سے احسان نہ کرو۔ ۶*

 

(۷) اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ ۷*

 

(۸) پھر جب صور پھونکا جائے گا۔ ۸*

 

(۹) تو وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا۔

 

(۱۰) کافروں پر آسان نہ ہوگا۔ ۹*

 

(۱۱) چھوڑدو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ۔۱۰*

 

(۱۲) اور اس شخص کو کثیر مال بخشا۔ ۱۱*

 

(۱۳) اور حاضر رہنے والے بیٹے دئے ۔۱۲*

 

(۱۴) اور اس کے لیے سامان مہیا کیا۔ ۱۳*

 

(۱۵) پھر وہ توقع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں گا۔ ۱۴*

 

(۱۶) ہرگز نہیں ۔ وہ ہماری آیتوں سے بیر رکھتا ہے ۔ ۱۵*

 

(۱۷) میں اس کو عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھاؤں گا۔ ۱۶*

 

(۱۸) اس نے سوچا اور ایک بات تجویز کی۔ ۱۷*

 

(۱۹) تو مارا جائے وہ کیسی بات اس نے تجویز کی!

 

(۲۰) پھر مارا جائے وہ کیسی بات اس نے تجویز کی!

 

(۲۱) پھر اس نے نظر ڈالی۔

 

(۲۲) پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔

 

(۲۳) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔ ۱۸*

 

(۲۴) اور بولا یہ تو محض جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے ۔

 

(۲۵) یہ انسان کا کلام ہی ہے ۔ ۱۹*

 

(۲۶) عنقریب میں اسے سَقرَ ۲۰*( دوزخ) میں داخل کروں گا۔

 

(۲۷) اور تم نے سمجھا کہ سَقرَ(دوزخ) کیا ہے ؟ ۲۱*

 

(۲۸) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔ ۲۲*

 

(۲۹) کھال کو جھلس دینے والی۔ ۲۳*

 

(۳۰) اس پر اُنیس ( فرشتے ) مقرر ہیں ۔

 

(۳۱) اور ہم نے دوزخ کے نگراں فرشتے بنائے ہیں اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنایا ہے ۔ تاکہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے اور اہلِ ایمان کا ایمان بڑھے ۔ اور اہلِ کتاب اور مومن کسی شک میں نہ پڑیں اور جن کے دلوں میں روگ ہے وہ اور کفار کہیں کہ اس بات سے اللہ کی کیا مراد ہے ۔ ۲۴* اس طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ۔ اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ۲۵* اور یہ قرآن انسانوں کے لیے سرتاسر نصیحت ہے ۔ ۲۶*

 

(۳۲) ہرگز نہیں ۔ ۲۷* قسم ہے ۔ ۲۸* چاند کی۔

 

(۳۳) او ررات کی جب کہ وہ پلٹتی ہے ۔

 

(۳۴) اور صبح کی جب کہ وہ روشن ہوجائے ۔

 

(۳۵) کہ یہ ( قرآن) بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے ۔ ۲۹*

 

(۳۶) انسانوں کو خبردار کرنے والا۔ ۳۰*

 

(۳۷) تم میں سے ہر اس شخص کو جو آگے بڑھنا یا پیچھے رہنا چاہیے ۔ ۳۱*

 

(۳۸) ہر شخص اپنی کمائی کے بدلہ رہن ہے ۔ ۳۲*

 

(۳۹) سوائے داہنے ہاتھ والوں کے ۔ ۳۳*

 

(۴۰) وہ جنتوں میں ہوں گے ۔ وہاں وہ پوچھ رہے ہوں گے ۔

 

(۴۱) مجرموں کے بارے میں ۔

 

(۴۲) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟ ۳۴*

 

(۴۳) وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے ۔ ۳۵*

 

(۴۴) اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔ ۳۶*

 

(۴۵) اور بحث کرنے والوں کے ساتھ ہم بھی بحث کرتے تھے ۔ ۳۷*

 

(۴۶) اور روزِ جزا کو جھٹلاتے تھے ۔

 

(۴۷) یہاں تک کہ یقینی چیز ہمارے سامنے آ گئی۔ ۳۸*

 

(۴۸) تو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کے لیے کچھ بھی مفید نہ ہوگی۔ ۳۹*

 

(۴۹) ان کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے رخ پھیر رہے ہیں ۔

 

(۵۰) گویا یہ بد کے ہوئے گدھے ہیں ۔

 

(۵۱) جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔ ۴۰*

 

(۵۲) بلکہ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اسے کھلا صحیفہ دیا جائے ۔۴۱*

 

(۵۳) ہرگز نہیں ۔ بلکہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے ۔ ۴۲*

 

(۵۴) ہرگز نہیں یہ تو ایک نصیحت ہے ۔ ۴۳*

 

(۵۵) تو جس کا جی چا ہے اس سے نصیحت حاصل کرے ۔

 

(۵۶) اور یہ نصیحت حاصل نہیں کرسکتے ۔ مگر یہ کہ اللہ چا ہے ۴۴ * وہ اس کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے ۔ ۴۵* اور وہی اس کا اہل ہے کہ بخش دے ۔ ۴۶*

تفسیر

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  پہلی وحی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آئی وہ سورۂ علق کی ابتدائی آیتیں ( اِقْرَأبِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ.......) تھیں اس کے بعد دوسری وحی سورۂ مدثر کی ابتدائی آیتوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ چونکہ وحی کے نزول اور فرشتہ کے نظر آنے کا یہ پہلا اتفاق تھا اس لیے بہ تقاضائے بشریت آپؐ پر ہیبت طاری ہو گئی جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے (ملاحظہ ہو بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ المدثر) ۔ اس ہیبت کی وجہ سے آپؐ نے چادر اوڑھ لی تھی۔ اس موقع پر آپ کے طبعی خوف کو دور کرنے اور وحی سے مانوس کرنے کے لیے یا ایہا المدثر( اے چادر اوڑھنے والے ) کے پیار بھرے لفظ سے آپ کو مخاطب کیا گیا۔

 

واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام پر جب پہلی مرتبہ وحی آتی ہے تو انہیں اس کے وحی الٰہی ہونے میں کوئی شک اور تردد نہیں ہوتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کوئی تردد نہیں ہوا البتہ فرشتہ کے پہلی مرتبہ نظر آنے سے بہ تقاضائے بشریت آپؐ پر ہیبت طاری ہوئی جو ایک عارضی کیفیت تھی۔

 

اس موقع پر سورۂ مزمل نوٹ ۱؂ بھی پیشِ نظر رہے ۔

 

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یہاں اٹھو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ آرام کی نیند سورہے ہیں اور اس سے اٹھ کھڑے ہوجائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا اور آحرت سے غافل انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں ۔

 

اس آیت سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جو پہلی ہدایت دی گئی وہ انذار( خبردار کرنے ) کی تھی اور انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی یہ اہم ترین خصوصیت ہے کہ وہ لوگوں کو سب سے پہلے اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ چونک جائیں اور اپنی اصلاح کی فکر کریں ۔ ان کی دعوت کا ارتکاز(Focus)  افراد کا نفس ہوتا ہے ۔ اجتماعی زندگی کے بگاڑ کر دور کرنا اور صالح نظام قائم کرنا سب شریعت کے تقاضے ہیں لیکن انبیائی طریقِ دعوت نے ہر چیز کا ایک محل متعین کر دیا ہے اس لیے اس کو اسی محل پر رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ توازن بگڑ جاتا ہے جس کا مظاہرہ موجودہ دور میں دعوتی کام کے سلسلہ میں ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دعوتی کام کرنے والوں نے گھوڑے کے آگے گاڑی کو باندھ دیا ہے اس لیے ان کی دعوت موثر ثابت نہیں ہوتی۔

 

اس موقع پر سورۂ نوح آیت ۱؂  نوٹ ۲؂ بھی پیشِ نظر رہے ۔

 

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کبریائی صرف اللہ کے لیے ہے اس لیے اسی کی کبریائی کا ذکر تمہاری زبان پر ہونا چاہیے اور اسی کا چرچا لوگوں میں کرنا چاہیے ۔ نماز کا آغاز تکبیر یعنی اللہ اکبر( اللہ سب سے بڑا ہے ) کے کلمات ہی سے ہوتا ہے اور اذان میں بھی بار بار اس کلمہ کو دہرایا جاتا ہے تاکہ فضا اللہ کی تکبیر سے گونج اٹھے ۔

 

تکبیر کا حکم سورۂ بنی اسرائیل کی آخری آیت میں بھی دیاگیا ہے :

 

وَکَبِّرْہُ تَکْبِیراً ’’اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنا چاہیے ۔‘‘

 

اللہ کی بڑائی بیان کرنے میں شرک کی تردید بھی ہے اور توحید کا اثبات بھی۔ مشرکین نے کسی کو مہادیوبنادیا ہے اور کسی کو مہاتما جن کی وہ پرستش کرتے ہیں لیکن یہ صرف دعوے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کبریائی اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اور نہ اس کے سوا کوئی معبود ہے جس کی پرستش کی جائے ۔

 

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  ظاہر کی پاکیزگی سے باطن کی پاکیزگی کا احساس ابھرتا ہے ۔ اس لیے اسلام نے ظاہر کی پاکیزگی کو بڑی اہمیت دی ہے چنانچہ نماز کے لیے کپڑوں کا نجاست سے پاک ہونا ضروری ہے ۔ اور جب کپڑوں کو پاک رکھنے کی ہدایت کی گئی تو جسم کو پاک رکھنا بدرجہ اولیٰ ضروری ہوا۔

 

اسلام نے پیشاب اور دوسری نجاستوں سے طہارت حاصل کرنے اور کپڑوں کو پاک رکھنے کا بہترین طریقہ بتایا ہے اور طہارت ( پاکیزگی) کا اہتمام نمازپڑھنے والوں کا اولین وصف ہے لیکن موجودہ دور کے کتنے ہی مہذب لوگ طہارت کے اس تصور ہی سے نا آشنا ہیں ۔

 

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  رُجز کے معنی القاموس المحیط میں اس طرح بیان ہوئے ہیں :

 

القذرو عبادۃ الاوثان والعذاب والشرک ’’گندگی، بتوں کی پرستش، عذاب وار شرک۔‘‘

 

اور ہجر کے معنی دور رہنے کے بھی آتے ہیں ( ہَجر الرجل ہَجرا اذا تباعد و نأی۔ لسان العرب ج۵ص۲۴۲)

 

یہاں خاص طور سے بتوں کی گندگی اور شرک سے دور رہنا مراد ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس حکم کی حیثیت ایک تاکیدی حکم کی تھی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیاگیا تھا کہ وَلاَ تُشْرِکَ بِیْ شَیئًا (کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا۔سورۂ حج : ۲۶) ورنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  زمانۂ جاہلیت میں بھی بت پرستی سے الگ رہے ۔ علاوہ ازیں یہ حکم اس معنی میں بھی تھا کہ لوگوں پر واضح ہوجائے کہ اللہ نے بت پرستی کو چھوڑ دینے اور اس سے علحدہ رہنے کا حکم دیا ہے ۔

 

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  آدمی دوسرے پر احسان اس لیے کرتا ہے تاکہ اس سے بدلہ میں زیادہ پائے یا اس کا کوئی نہ کوئی مفاد اس میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔ یہ پست اخلاقی کی بات ہے ۔ بلند اخلاقی یہ ہے کہ آدمی بے لوث ہو کر احسان کرے ۔ یہ ہدایت گوناگوں پہلوؤں سے ہے لیکن خاص طور سے یہاں فریضۂ رسالت کی ادائیگی اور اس سلسلہ میں لوگوں کی نصح و خیر خواہی کا پہلو نمایاں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک اہم پہلو یہ تھاکہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچانے پر لوگوں سے کوئی اجر طلب نہیں کیا۔قُلْ مَآاَسْئَلُکُمْ عَلَیہِ مِنْ اَجْرٍ(ص:۸۶) ’’  کہو میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا۔‘‘

 

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم کتنی عظیم ہے جس تعلیم کا آغاز اس بلند سطح سے ہوا ہو اس کا عروج اور اس کی انتہا کیا ہوگی! قرآن کا اعجاز( معجزہ ہونا) تو اس کی تعلیمات سے بھی ظاہر ہورہا ہے ۔

 

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جب لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو تو قدم قدم پر صبر آزما حالات سے دو چار ہونا ہوگا لہٰذا تم صبر کو اپنا شیوہ بنالو اور یہ صبر خلوص دل سے اللہ کے لیے ہونا چاہیے ۔ وہ اس کی بہترین جزا دے گا۔

 

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قیامت کا بگل بجے گا۔

 

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ دن کافروں کے حق میں نہایت سخت دن ہوگا۔ ایسا سخت کہ کسی پہلو سے بھی آسانی کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔

 

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی میں تنہا اس کا خالق ہوں اور اس سے نمٹنے کے لیے کافی ہوں ۰ اس ارشاد سے ایک طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپؐ ان لوگوں کی فکر نہ کریں جو آپؐ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں اور دوسری طرف مخالفت کرنے والوں کو تنبیہ ہے کہ معاملہ اللہ سے ہے اور اس کی گرفت بڑی سخت ہے ۔

 

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دولت مند بنایا۔

 

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسے بیٹے جو اس کے کاروبار میں ہاتھ بٹائیں اور اس کی خدمت میں حاضر رہیں ۔

 

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کے لیے دنیوی ترقی اور ریاست و قیادت کی راہیں ہموار کیں ۔

 

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے مزید مال و جاہ کا حریص بن گیا ہے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہے ک اگر آخرت برپا ہوئی تو اپنے شرک اور کفر کے باوجود وہاں بھی وہ نعمتوں سے مالا مال کر دیا جائے گا۔

 

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ اس کی خوش فہمی ہے ۔ جب وہ ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کررہا ہے کہ نہ ہمارے رسول پر ایما ن لانے کے لیے تیار ہے اور نہ ہمارے کلام پر تو آخرت میں وہ نعمتوں کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے ۔

 

اوپر کی آیتوں میں ان لیڈروں کی تصویر کھینچی گئی ہے جو دنیوی اعتبار سے خوشحال تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور ولید بن مغیرہ تو پوری طرح اس کا مصداق تھا۔

 

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  چڑھنے میں انسان کا سانس پھولتا ہے اور پھر جب چڑھائی کٹھن ہو اور دوزخ میں ہو تو وہ کیسی مشقت والا عذاب ہوگا۔

 

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کا یہ سوچنا لال بجھکڑ کی طرح تھا اور جو بات اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے تعلق سے تجویز کی اس کا ذکر آگے آیت ۲۴؂ اور ۲۵؂ میں ہوا ہے ۔

 

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  ان آیتوں میں اس کافر لیڈر کی حرکتیں (Actions) بیان ہوئی ہیں جو کلام الٰہی کو سننے کے بعد ناگواری کی صورت میں اس سے ظاہر ہوئیں ۔

 

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی لوگوں کو اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کافی غور و فکر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ قرآن انسانی کلام ہی ہے البتہ یہ بیان کی جادوگری ہے جو لوگوں کو مسحور کررہی ہے ۔ اور بیان کی جادوگری کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ بات تو پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے ۔

 

روایات میں آتا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے ابوجہل کو یہی مشورہ دیا تھا کہ لوگوں میں قرآن کے جادو ہونے کا چرچا کیا جائے ۔

 

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  سَقَر دوزخ کا نام ہے ۔ یہ سَقَر سے ہے جس کے معنی شدتِ حرارت کے ہیں ۔

 

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دوزخ کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ دردناک عذاب کی جگہ ہے ۔

 

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دوزخ کی آگ انسان کو جلا نے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی اور پھر جلنے کے بعد بھی اسے چھوڑے گی نہیں بلہ جلانے کا عمل جاری رکھے گی۔ دوزخ اس کو نہ جینے دے گی اور نہ مرنے دے گی اور نہ اپنی گرفت سے آزاد ہونے دے گی۔

 

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  کھال انسان کی جسم کا نازک حصہ ہوتا ہے اور تکلیف کا احساس جِلد ہی کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ دوزخ کی آگ جب کھال کو جھلس دے گی تو انسان کا کیا حال ہوگا! اللہ تعالیٰ دوزخ کے یہ احوال سناکر خبردار کررہا ہے تاکہ انسان اس سے بچنے کا سامان کرے ۔

 

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں لہٰذا اس نے دوزخ پر جو اُنیس فرشتے مقرر کئے ہیں وہ بھی یقینا اس کا ایکحکیمانہ فیصلہ ہے اگرچہ ہم اس کے اس فیصلہ کی مصلحت کو نہیں جانتے اور نہ ہمیں ان انیس فرشتوں کے کام کی نوعیت کا علم ہے البتہ ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ فرشتوں کو وہ قوتیں عطا کی گئی ہیں جن کا اندازہ ہم نہیں کرسکتے مثال کے طور پر آسمان سے ان کا نزول ، ملک الموت کا روحوں کو قبض کرنا وغیرہ اس لیے دوزح پر مامور فرشتوں کی تعداد کو حقیر خیال کرنا اور یہ سمجھنا کہ دوزخیوں کی کثیر تعداد کو عذاب میں مبتلا رکھنے کے لیے اُنیس کی تعداد کیسے کافی ہو سکتی ہے سراسر حماقت ہے مگر کافروں نے قرآن کی اس خبر کو سن کر اسی حماقت کا اظہار کیا جس پر اس آیت میں انہیں متنبہ کیاگیا ہے ۔

 

رہی اس تعداد کے بیان کی مصلحت تو اس کی ایک مصلحت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ کافروں کے لیے وجہ آزمائش بنے ۔ یعنی بجائے متنبہ ہونے کے وہ دوزخ کو مذاق کا موضوع بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنا شوق پورا کر لیں اور گمراہی میں دور نکل جائیں ۔ دوسری مصلحت یہ کہ اہلِ کتاب کو یقین ہوجائے کہ اس تفصیل کے ساتھ دوزخ کا ذکر قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ دوزخ کا ذکر تو ان کی کتابوں میں موجود تھا لیکن اس کا تفصیلی نقشہ قرآن نے پیش کر دیا۔ اور تیسری مصلحت یہ ہے کہ اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ ہوکیونکہ اہل ایمان کا یہ طریقہ نہیں کہ قرآن کی ایک ایک بات کی حکمت جاننے کے بعد اس پر ایمان لائیں بلکہ جو بات بھی اس میں بیان کی گئی ہے اس پر وہ ایمان لاتے ہیں خواہ اس کی حکمت اللہ نے واضح فرمائی ہو یا نہ ہو۔ بندہ کا کام تو اللہ کے ارشادات  پر غیر مشروط طریقہ پر ایمان لانا ہے اسکے ایمان لانے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ یہ اللہ کا ارشاد ہے ۔ آخرت کے احوال پر جو انسان کی نگاہوں سے مستور ہیں اہلِ ایمان یقین کر لیتے ہیں تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوجاتا ہے اور چوتھی مصلحت یہ بیان کی گئی کہ اہل کتاب اور مومنوں کے لیے مخالفین کے اعتراضات تذبذب کا باعث نہ بنیں بلکہ انہیں اطمینان ہو کہ غیب کی یہ باتیں اتنے وثوق کے ساتھ کہنے والا نبی ہی ہو سکتا ہے اور پانچویں مصلحت یہ ہے کہ جو لوگ بے یقینی کے مرص میں مبتلا ہیں وہ اور منکرین اس پر حیرت کا اظہار کرکے رہ جائیں ۔

 

واضح رہے کہ بعض مفسرین نے انیس فرشتوں کے جہنم پر مقرر کئے جانے کی مختلف توجیہیں کی ہیں مگر یہ سب قیاسی باتیں اور تکلفات ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس تعداد کے مقرر کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتلائی اور اجمالی بات بیان فرماکر ہمارے ایمان کا امتحان لینا چاہا ہے تو ہم کیوں تعداد کی بحث میں پڑیں ؟

 

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ نہ سمجھو کہ اللہ کے پاس فرشتوں کے لشکر کی کمی ہے اس لیے دوزخ پر صرف ۱۹ فرشتے مقرر کئے گئے ہیں یہ تعداد بظاہر قلیل ہے لیکن وہ اپنی طاقت اور وسائل کے اعتبار سے پوری جہنم کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی ہوں گے ۔ جب انسان کا اپنا حال یہ ہے کہ ایک آدمی جراثیمی ہتھیار استعمال کر کے ہزاروں فوجیوں کو بیک وقت ہلاک کر سکتا ہے اور ایٹم بم استعمال کر کے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے تو فرشتے آخر فرشتے ہیں ۔ ان کی غیر معمولی قوت اور ان کے ان وسائل کا جو اللہ نے ان کو خاص طور سے بے شمار جہنمیوں کو سزا دینے کے لیے عطا کئے ہوں گے کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ پھر جب انسان کی قابلیت کا یہ حال کہ وہ اسکڈ میزائل (Scud missile) اور پٹر یاٹ(Patriot)  کے ذریعہ ہزاروں میل دوری کے مقامات کو نشانہ بنالیتا ہے تو فرشتوں کے لیے وسیع جہنم میں دوزخیوں کو نشانہ بنانا کیا مشکل ہے ۔

 

اللہ کے لشکر بہ کثرت ہیں اور ان کی تعداد کا علم بھی اسی کو ہے ۔ کوئی شخص بھی اس کے لشکر وں کا اندازہ نہیں کرسکتا۔

 

 ۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ قرآن جو جہنم کے احوال بیان کررہا ہے لوگوں کے لیے نصیحت پذیری کا سامان ہے ۔ عقلمند ہیں وہ لوگ جو بحثوں میں الجھے بغیر اس کی نصیحت پر کان دھریں ۔

 

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن کو انسانی کلام یا جادو سمجھنا ہرگز صحیح نہیں ۔

 

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ قسم شہادت اور دلالت کے معنی میں ہے ۔

 

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن کا نزول اللہ کی ایک بہت بڑی نشانی کا ظہور ہے جو انسان کو اپنے رب کی صحیح معرفت بخشتا ہے اور اس کی زندگی کی غایت بیان کرتا ہے یعنی توحید کے ساتھ جزائے عمل کی خبر دیتا ہے ۔ یہ نشانی کلامِ الٰہی کی شکل میں ہے اس لیے نہایت عظیم ہے اور اس کی تائید ان نشانیوں سے ہوتی ہے جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ مثال کے طور پر چاند جو اپنے خالق کی صفتِ جمال کے ساتھ اس کے اِلٰہ واحد ہونے کا اعلان کرتا ہے اور رات اور دن کایہ نظام کہ رات اپنی تاریکی کے ساتھ رخصت ہوجاتی ہے اور صبح اپنی روشنی کے ساتھ نمودار ہوجاتی ہے اللہ کی عظیم قدرت پر بھی دلالت کرتی ہے اور اس بات پر بھی کہ وہ حق و عدل کے ساتھ اس کائنات پر فرمانروائی کررہا ہے نیز اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اس عالم کے بطن سے قیامت کی صبح نمودار ہونے والی ہے ۔ اس طرح کائنات کے یہ اشارات اور قرآن کی ناطق شہادت دونوں کو تم بالکل ہمآہنگ پاؤ گے اور ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کا نزول اللہ کی نہایت عظیم نشانی کا ظہور ہے ۔

 

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن کا اولین مقصد لوگوں کو بدلہ کے دن سے خبردار کرنا ہے ۔

 

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس سے متنبہ ہو کر جو لوگ اللہ کی راہ میں آگے بڑھنا چاہیں اور اپنے مستقبل کا سامان کرنا چاہیں کریں اور جو لوگ اس تنبیہ کے باوجود پیچھے رہنا چاہیں یعنی اللہ کی راہ میں قدم رکھنا نہ چاہیں اور اپنے مستقبل کے لیے کوئی سامان کرنا نہ چاہیں وہ اپنی ناعاقبت اندیشی کی سزا بھگتیں ۔

 

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ طور نوٹ ۲۱ میں گزر چکی۔

 

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  داہنے ہاتھ والوں سے مراد مومنین صالحین ہیں جن کا نامۂ عمل ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔

 

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اہل ایمان جنت میں کافروں کے بارے میں آپس میں بات چیت کررہے ہوں گے کہ ان کا کیا حال ہوا؟ ان کی اس خواہش پر انہیں دوزخیوں سے براہِ راست بات کرنے کا موقع دیا جاء گا۔ وہ جنت میں رہتے ہوئے مجرمین سے جو دوزخ میں ہوں گے سوال کریں گے جس کا انہیں ان کی طرف سے جواب بھی ملے گا جو آگے بیان ہوا ہے ۔ جنت سے دوزخ بہت دوری پر ہوگی مگر ان سے بات چیت بالکل ممکن ہوگی۔ نزولِ قرآن کے زمانہ میں تویہ بات انسان کے لیے تعجب کی ہو سکتی تھی مگر موجودہ زمانہ میں جب کہ ٹیلیفون کے ذریعہ ہزاروں میل کی دوری پر دو شخصوں کے درمیان بات چیت کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ نیز وائر لیس وغیرہ کے ذریعہ یہ بھی ممکن ہوگیا ہے کہ زمین پر رہتے ہوئے خلاء میں پرواز کرنے والے انسان سے گفتگو کی جائے قرآن کا یہ بیان کہ جنت میں رہنے والے دوزخ میں پڑے ہوئے مجرموں سے بات چیت کریں گے تعجب کی بات نہیں رہی۔گویا ان آلات کی ایجاد سے قرآن کے بیان کی صداقت اور زیادہ روشن ہو گئی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی کہ :

 

سَنُرِیہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِٓیْ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یتَبَینَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ ’’ عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق ( اطرافِ عالم) میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس (ذات) میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ حق ہے ۔‘‘ ( حم السجدہ: ۵۳)

 

آج حقیقت بن کر ابھر رہی ہے ۔

 

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سے نماز کی اہمیت اور زیادہ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ اس کے ضائع کرنے کاحساس مجرموں کو دوزخ میں ہوگا۔ نماز اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے اور ایمان اس کے لیے شرط ہے ۔ اس کے بغیر نہ نماز نماز کہلاسکتی ہے اور نہ اس کو اللہ کے ہاں قبولیت حاصل ہو سکتی ہے اسی طرح زکوٰۃ وغیرہ عبادات کا معاملہ بھی ہے ۔ بالفاظ دیگر اللہ کی شریعت کے مکلف( یعنی جن پر عمل کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہو) تمام انسان ہیں لیکن اس کی تعمیل اور عند اللہ اس کی قبولیت کے لیے ایمان شرطِ لازم ہے ۔

 

اس آیت کو پڑھ کر ان مسلمانوں کو بھی ہوش میں آجانا چاہیے جو نماز سے بالکل غافل ہیں ۔

 

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ الحاقہ نوٹ ۳۲؂

 

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔  دنیا میں تو یہ لوگ خداوآخرت اور قرآن و رسالت کے بارے میں طرح طرح کی بحثیں کھڑی کرتے رہے اور دین کی باتوں کو انہوں نے اعتراضات کا نشانہ بنادیا لیکن اپنی اس زبردست غلطی کا احساس انہیں دوزخ میں پہنچ کر ہوگا۔

 

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی موت جس کا آنا یقینی تھا اور جو ان باتوں کو سامنے لے آئی جن کو دیکھ کر یقین آیا کہ یہ باتیں حقیقت تھیں ۔

 

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر مجرمین کا بیان ختمہوا۔ اب اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ جن لوگوں نے مجرمانہ روش اختیار کی ہے وہ شفاعت پر تکیہ کئے ہوئے ہیں کہ اگر آخرت برپا ہوئی تو فلاں اور فلاں کی سفارش سے ہم نجات پائیں گے حالانکہ نجات کے لیے کسی کی بھی سفارش کام نہ آ سکے گی۔ نجات کا دارو مدار سفارش پر نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح پر ہے اور یہ لوگ جب آخرت کے منکر ہو کر جرم پر جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کے لیے سفارش کا دروازہ بالکل بند ہوگا اور جن کو انہوں نے اللہ کے ہاں اپنا سفارشی سمجھ کر معبود بنالیا تھا وہ ان کی سفارش کے لیے سرے سے موجود ہی نہیں ہوں گے ۔

 

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جس طرح وحشی گدھے شیر سے بدک کر بھاگ جاتے ہیں اسی طرح یہ نادان لوگ پیغمبر کی نصیحت سے گھبراکر بھاگ رہے ہیں ۔ قرآن اور اس کے پیغمبر سے ان کا یہ فرار سراسر ان کی حماقت ہے ۔

 

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ لوگ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب اس کے رسول پر نازل کی ہے بلہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ اگر اللہ کو کتاب نازل کرنا ہے تو وہ ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں اس کا ایک ایک نسخہ دے دے ۔ ان کے نزدیک رسول کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اللہ براہ راست ہم کو اپنی کتاب عطا کرے ۔ یہ تھیں ان کی متکبرانہ باتیں اور ان کا یہ مطالبہ سراسر نامعقول تھا۔

 

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسا نہیں ہے کہ قرآن کا وحی الٰہی ہونا ایک واضح حقیقت نہ ہو اور اس وجہ سے یہ لوگ اس سے گریز کررہے ہوں بلکہ اس سے گریز کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کی جوابدہی کا کوئی احساس نہیں ہے وہ اس سے بالکل بے پروا ہیں ۔

 

آخرت کا خوف قرآن کے اِنذار( تنبیہ) سے پیدا ہوتا ہے بشرطیکہ آدمی اس پر دھان دے ۔ پھر جب آخرت کا خوف پیدا ہوجاتا ہے تو نصیحت کی تمام باتیں سننا اور قبول کرنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے ۔ مگر جب آدمی اپنے کو خدا کے حضور جوابدہ نہ سمجھے اور آحرت کا خوف دلاے کے باوجود اس کا کوئی اثر قبول نہ کرے تو نصیحت بھری یہ کتاب (قرآن) اس پر کچھ بھی اثر نہیں کرسکتی۔

 

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے نصیحت اور یاد دہانی ہے ۔

 

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اچھی طرح جان لو کہ تمہارا نصیحت حاصل کرنا بھی اللہ کی مشیت کے تحت ہی ہے ۔ اگر اس کی مشیت نہ ہو تو تم نصیحت بھی حاصل نہیں کرسکتے ۔ تمہیں نصیحت حاصل کرنے کا جو اختیار حاصل ہے وہ اللہ کے عطا کرنے سے حاصل ہوا ہے ورنہ تمہارا اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہے ۔

 

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ اپنی عظمت، اپنی کبریائی اور اپنے الٰہ ہونے کی بنا پر اس بات کا مستحق ہے کہ بندے اس سے ڈریں اور اس کا تقویٰ اختیار کریں ۔

 

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ گناہوں کو بخش دینے کا اہل بھی وہی ہے ۔ ظاہر ہے جو خالق اور رب ہے وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو بخش سکتا ہے ۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو گناہوں کو بخش سکے ۔ اس سے عیسائیوں کے اس عقیدے کی تردید ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنے پیرؤں کے گناہ بخش دیں گے ۔

 

٭٭٭٭٭