دعوۃ القرآن

سُوۡرَةُ الاٴنبیَاء

تعارف

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

نام

 

اس سورہ میں متعدد انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس کا نام "الانبیاء" ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ خصوصاً آخری آیات سے جن میں پیغمبر نے فیصلہ کے لیے دعا کی ہے۔

 

 

مرکزی مضمون

 

لوگوں میں خدا کے حضور جوابدہی کا احساس پیدا کرنا ہے تاکہ ان کی نظر کے زاویے اور عمل کا رُخ بدل جائے ، انبیاء علیہم السلام غفلت میں پڑی ہوئی قوموں کو یہ سبق برابر یاد دلاتے رہے ہیں لیکن لوگ سنبھلنے کے بجائے الٹ ان کی مخالفت کرتے رہیں ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ نصرت الٰہی ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رہی اور وہ خصوصی فضل و عنایت سے نوازے جاتے رہے ہیں۔

 

نظمِ کلام

 

 آیت ۱ تا ۱۵ میں لوگوں کو ان کی غفلت پر جھنجھوڑا گیا ہے اور رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کا جو انجام اس سے پہلے ہو چکا ہے اس سے خبردار کر دیا گیا ہے۔ آیت ۱۶  تا ۱۸  میں واضح کیا گیا ہے کہ اس دنیا کو اس کے خالق نے تفریح گاہ نہیں بنایا ہے بلکہ حق و باطل کی رزم گاہ بنایا ہے۔

 

آیت ۱۹  تا ۳۳  میں توحید کا بیان ہے۔

 

آیت ۳۴  تا ۴۷  میں رسالت سے متعلق شبہات کا جواب دیا گیا ہے اور رسول کا مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔

 

آیت ۴۸  تا ۹۱  میں انبیاء علیہم السلام کے احوال پیش کئے گئے ہیں۔ جن سے ایک طرف ان کی تعلیم کو پیش کرنا مقصود ہے اور دوسری طرف یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے حق میں اللہ کی قدرت و رحمت کے کیسے کیسے کرشمے ظہور میں آتے رہے ہیں۔

 

آیت ۹۵  تا ۱۱۲  سورہ کا آخری حصہ ہے جس میں منکرین کو عذاب سے آگاہ کیا گیا ہے اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ رسول کی بعثت دنیا والوں کے حق میں سراسر رحمت ہے اگر وہ اس کی ناقدری کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔

ترجمہ

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قریب آ لگا ہے لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں رُخ پھیرے چلے جا رہے ہیں۔ ۱*

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کے رب کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے اس کو وہ اس طرح سنتے ہیں کہ کھیل میں لگے رہتے ہیں ۲*

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان کے دل غافل ہیں ۳* اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں کہ یہ تم جیسا ہی تو ایک بشر ہے ، پھر کیا تم آنکھوں دیکھے جادو کے پاس جاؤ گے ؟۴*

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے ( رسول نے) کہا میرا رب جانتا ہے جو بات بھی آسمان و زمین میں کی جائے وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۵*

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ تو خواب پریشاں ہیں بلکہ یہ اس کا من گھڑت (کلام) ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔ ۶* ورنہ یہ ہمارے پاس کوئی ایسی نشانی لائے جس طرح اگلے وقتوں کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان کے پہلے کوئی بستی بھی جس کو ہم نے ہلاک کیا ایمان نہیں لائی ۷* پھر کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ۸* ؟

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور تم سے پہلے ہم نے آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر ( اہل کتاب) سے پوچھ لو۔ ۹*

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان کو ہم نے ایسے جسم کا نہیں بنایا تھا کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ ۱۰*

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پھر ہم نے ان سے وعدہ پورا کیا اور انہیں اور جن کو ہم نے چاہا بچا

 

--لیا اور حد سے گزرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارے لتے یاد دہانی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہیں ؟

 

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھا کھڑا کیا۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا ۱ ۱* تو لگے وہاں سے بھاگنے۔

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بھاگو نہیں۔ لوٹو اپنے سامان عیش اور اپنے گھروں کی طرف تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ ۱۲*

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ پکار اٹھے افسوس ہم پر۔ ہم ہی ظالم تھے۔ ۱۳*

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ یہی واویلا کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کر دیا۔ ۱۴* وہ بالکل بجھ کر رہ گئے۔ ۱۵*

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ ۱۶*

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اگر ہم کھیل بنانا چاہتے تو خاص اپنے پاس سے بنا لیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہی ہوتا۔ ۱۷*

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مگر ہم تو حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا سر کچل دیتا ہے اور وہ ( باطل) نابود ہو جاتا ہے ۱۸*۔ اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔ ۱۹*

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  آسمانوں اور زمین میں جو کوئی ہے سب اسی کے ہیں ۲۰* اور جو اس کے پاس ۲۱* ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ دم نہیں لیتے۔ ۲۲*

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا انہوں نے زمین کے ایسے خدا بنائے ہیں جو ( مردوں کو) زندہ کھڑا کرتے ہوں۔ ۲۳*

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اگر ان ( آسمان و زمین) میں اللہ کے سوا اور خدا بھی ہوئے تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتے ۲۴*۔ پس پاک ہے اللہ عرش کا رب ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ جو کچھ بھی کرتا ہے ( کسی کے آگے) جوابدہ نہیں ۲۵* اور سب جوابدہ ہیں۔ ۲۶*

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا انہوں نے اس کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں ؟ ان سے کہو پیش کرو اپنی دلیل، یہ تعلیم میرے ساتھیوں کے لیے اور یہی تعلیم مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے بھی تھی۔ ۲۷* مگر اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں اس لیے رُخ پھیرے ہوئے ہیں۔

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس پر یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔ ۲۸*

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کہتے ہیں رحمن نے ( اپنے لیے) اولاد بنا لی ہے پاک ہے وہ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ( اس کے) معزز بندے ہیں۔ ۲۹*

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے ۳۰* اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب سے وہ باخبر ہے۔ وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اس کی جس کے لیے اللہ پسند فرمائے ۳۱* اور وہ اس کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں۔ ۳۲*

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ اس کے سوا میں خدا ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔ ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ ۳۳*

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا منکرین نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں الگ کر دیا۔ ۳۴* اور پانی سے تمام زندہ چیزیں پیدا کر دیں۔ ۳۵* کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے ؟ ۳۶*

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے کہ ان کو لیکر لڑھک نہ جائے۔ ۳۷* اور ان ( پہاڑوں) میں درّے بنائے جو راستہ کا کام دیتے ہیں ۳۸* تاکہ لوگ راہ پائیں۔ ۳۹*

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ ۴۰* مگر یہ لوگ اس کی نشانیوں سے رُح پھیرے ہوئے ہیں۔ ۴۱*

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے سب ( اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔ ۴۲*

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں بخشی۔ ۴۳* اگر تم مر گئے تو کیا ہے لوگ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔ ۴۴*

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ ۴۵* اور ہم اچھی اور بری حالت میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کرتے ہیں۔ ۴۶* اور ہماری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔ ۴۷*

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ( اے پیغمبر!) یہ کافر جب تمہیں دیکھتے ہیں تو مذاق بنا لیتے ہیں۔ ( کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا (برائے کے ساتھ) ذکر کرتا ہے ؟ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمن کے ذکر سے منکر ہیں۔ ۴۸*

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انسان کی سرشت ( طبیعت) میں جلد بازی ہے۔ ۴۹* میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔ ۵۰* جلدی نہ مچاؤ۔ ۵۱*

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کہتے ہیں یہ وعدہ پورا کب ہو گا اگر تم سچے ہو۔ ۵۲*

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کاش! یہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب یہ آگ کو نہ اپنے منہ سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ (گھڑی) تو اچانک آئے گی اور ان کو بدحواس کر دے گی۔ پھر نہ تو اس کو رفع کر سکیں گے اور نہ انہیں مہلت ملے گی۔ ۵۳*

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ مگر جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے ان کو اسی چیز نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ۵۴*

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان سے پوچھو کون ہے جو رات کو اور دن کو رحمن (کی پکڑ) سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟۵۵* مگر ے اپنے رب کے ذکر سے رُخ پھیرے ہوئے ہیں۔ ۵۶*

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کیا ہمارے سوا اُن کے ایسے معبود ہیں جو ان کو بچا سکتے ہیں ؟ وہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے۔ ۵۷*

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو آسودہ کیا یہاں تک کہ ان پر ایک طویل مدت گزر گئی۔ ۵۸* مگر کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اس سرزمین کی طرف اس کی سرحدوں کو گھٹاتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔ ۵۹* پھر کیا یہ غالب رہیں گے ؟

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کہو میں تمہیں وحی کے ذریعہ خبردار کر رہا ہوں۔ مگر بہرے پکار کو نہیں سنتے جب کہ انہیں خبردار کیا جائے۔ ۶۰*

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اگر تمہارے رب کے عذاب کی ایک آنچ انہیں لگ جائے تو پکار اٹھیں گے ہائے افسوس! ہم ہی خطا کار تھے۔ ۶۱*

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے۔ ۶۲* پھر کسی شخص کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہ ہو گی۔ اگر کسی کا کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گا تو ہم اُسے لا حاضر کریں گے اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔ ۶۳*

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم ۶۴* نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان ۶۵* اور روشنی ۶۶* اور یاد دہانی عطاء کی تھی متقیوں کے لیے۔ ۶۷*

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جو بے دیکھے رب سے ڈرتے ہیں ۶۸* اور قیامت کی گھڑی سے لرزاں رہتے ہیں۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور یہ ایک بابرکت ذکر ہے ۶۹* جو ہم نے اتارا ہے۔ تو کیا تم اس کے منکر بنو گے۔ ؟

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی اس کے شایانِ شان ہدایت عطاء کی تھی اور ہم اس کو خوب جانتے تھے۔ ۷۰*

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ یہ کیسی مورتیاں ہیں جن کی پرستش میں تم لگے ہوئے ہو! ۷۱*

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے پایا ہے۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے کہا تم بھی کھلی گمراہی میں پڑے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی پڑے تھے۔ ۷۲*

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے کہا تم واقعی حق لیکر آئے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے کہا نہیں بلکہ واقعی تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اسی نے ان کو پیدا کیا ہے ۷۳* اور اس پر میں تمہارے سامنے گواہ ہوں۔ ۷۴*

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اللہ کی قسم میں ضرور تمہارے بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ ۷۵*

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  چنانچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ایک (بت) کے جو ان کے نزدیک بڑا تھا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ ۷۶*

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ (جس نے بھی یہ حرکت کی ہے) وہ بڑا ظالم ہے ! ۷۷*

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بعض لوگوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو ان کے بارے میں کچھ کہتے سنا تھا جس کو ابراہیم کہتے ہیں۔ ۷۸*

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے کہا اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھ لیں۔ ۷۹*

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جب ابراہیم آئے تو) انہوں نے پوچھا ابراہیم ! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے جواب دیا بلکہ ان کے اس بڑے نے کی ہے۔ ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔ ۸۰*

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ سن کر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم ہی لوگ غلط کار ہو۔ ۸۱*

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے۔ ۸۲* بولے تمہیں معلوم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس نے کہا پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تم کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان ؟ ۸۳*

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو! ۸۴* کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ ؟ ۸۵*

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے کہا اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ ۸۶*

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہمارا حکم ہوا اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے۔ ۸۷*

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  انہوں نے چاہا کہ ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلیں مگر ہم نے ان کو ناکام کر دیا۔ ۸۸*

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہم اس کو اور لوطؑ ۸۹* نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے  جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں ۹۰*

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے اس کو اسحٰق عطا کیا اور مزید یعقوب ۹۱* اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا ۹۲*

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے ان کو امام۔ ۹۳* اور وہ ہمارے ہی عبادت گزار تھے۔

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا فرمایا۔ ۹۵* اور اس بستی سے اسے نجات دی جو گندے کام کیا کرتی تھی۔ ۹۶* وہ بہت ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اس کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ ۹۷* یقیناً وہ صالحین میں سے تھا۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اس سے پہلے نوح کو بھی ( ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) ۔ جب اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔ ۱۰۰* اور اس کے ساتھیوں کو سخت تکلیف سے نجات دی۔ ۱۰۱*

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے اس کی مدد کی ان لوگوں کے مقابلہ میں جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا۔ ۱۰۲* وہ بہت برے لوگ تھے لہٰذا ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور داؤد ۱۰۳* اور سلیمان ۱۰۴* کو بھی (ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب وہ ایک کھیت کے مقدمہ میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں ایک گروہ کی بکریاں رات کو گھس پڑی تھیں اور ہم ان کے قضیہ کو دیکھ رہے تھے۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس وقت ہم نے سلیمان کو اس (مقدمہ) کی سمجھ عطا ء کی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم عطاء کیا تھا۔ ۱۰۵* اور داؤد کی ہمنوائی کے لیے ہم نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا نیز پرندوں کو بھی۔ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ ۱۰۶* یہ ہماری ہی کارفرمائی تھی۔ ۱۰۷*

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے اس کو تمہارے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی کہ تمہارے لیے جنگ کے موقع پر تحفظ کا سامان ہو۔ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ ۱۰۸*

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اس سر زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے بڑی برکتیں رکھی ہیں ۱۰۹* ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے ہیں۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور شیطانوں میں سے ایسے جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے۔ ۱۱۰* ان کے نگراں ہم ہی تھے۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ایوب ۱۱۱* کو (بھی ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ ۱۱۲*

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کی تکلیف کو دور کر دیا اور اس کو اس کے اہل و عیال بھی دیئے نیز ان کے ساتھ ان جیسے اور بھی دئے۔ ۱۱۳* اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور تاکہ یاددہانی ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ ۱۱۴*

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور اسمٰعیل اور ادریس ۱۱۵* اور ذوالکفل ۱۱۶* کو بھی ( اپنے فضل سے نوازا) یہ سب صبر کرنے والے تھے۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا یقیناً وہ نیکو کاروں میں سے تھے۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ذوالنون ۱۱۷* ( مچھلی والے) کو بھی ( ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب وہ برہم ہو کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ ۱۱۸* پھر تاریکیوں میں سے اس نے پکارا ۱۱۹* کہ تیرے سوا کوئی خدا نہیں ، تو پاک ہے بلا شبہ میں ہی قصوروار ہوں۔ ۱۲۰*

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس وقت ہم نے اس کی دعا قبول کی ۱۲۱* اور گھٹن سے اس کو نجات دی ۱۲۲* اس طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ ۱۲۳*

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور زکریا ( کو بھی ہم نے اپنے فضل سے نوازا) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ ۱۲۴* اور تو ہی بہترین وارث ہے۔ ۱۲۵*

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحیٰ عطا فرمایا۔ اور اس کی بیوی کو اس کے لیے سازگار بنا دیا۔ ۱۲۶* یہ لوگ نیکی کے کاموں میں سرگرم رہتے ۱۲۷* اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے ۱۲۸* اور ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔ ۱۲۹*

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور وہ جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ ۱۳۰* ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی ۱۳۱* اور اس کو اور اس کے بیٹے کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔ ۱۳۲*

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے ۱۳۳* اور میں ہی تمہارا رب ہوں لہٰذا میری عبادت کرو۔ ۱۳۴*

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مگر لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ۱۳۵* سب کو بالآخر ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔ ۱۳۶*

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تو جو نیک عمل کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی کوشش کی نا قدری نہ ہو گی۔ ۱۳۷* اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ ۱۳۸*

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس کے لیے حرام ہے کہ اس کے رہنے والے پلٹ آئیں۔ ۱۳۹*

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے امنڈ پڑیں گے۔ ۱۴۰*

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور وعدۂ حق قریب آ لگے گا تو ۱۴۱* تو اچانک ان لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی جنہوں نے کفر کیا تھا۔ ۱۴۲* وہ پکار اٹھیں گے افسوس ہم پر! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم خطا کار تھے۔ ۱۴۳*

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں۔ ۱۴۴* تمہیں لازماً وہاں پہنچنا ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اگر واقعی یہ خدا ہوتے تو وہاں نہ پہنچتے اور سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ ۱۴۵*

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہاں وہ چیختے چلاتے رہیں گے اور کچھ نہ سنیں گے۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  البتہ جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا وعدہ پہلے ہی ہو چکا ہے ۱۴۶* وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  وہ اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ان کو ( اس دن کی) بڑی گھبراہٹ پریشان نہ کرے گی اور فرشتے ان کا خیر مقدم کریں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا تھا۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کو طومار میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ ۱۴۸* جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی طرح ہم اسے دہرائیں گے۔ یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم اس کام کو کر کے رہیں گے۔

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ ۱۴۹*

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس میں بڑی خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت گزار ہیں۔ ۱۵۰*

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ( اے پیغمبر) ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے سر تا سر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ۱۵۱*

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  کہو میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے ۱۵۲* تو کیا تم مسلم ہوتے ہو ( اس کے فرمانبردار بنتے ہو) ؟

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اگر وہ رُخ پھیرتے ہیں تو کہ دو میں نے تمہیں علی الاعلان خبردار کر دیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور ۱۵۳*

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بے شک وہ جانتا ہے اس بات کو بھی جو کھل کر کہی جاتی ہے اور اس بات کو بھی جو تم چھپاتے ہو۔ ۱۵۴*

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور مجھے نہیں معلوم۔ ہو سکتا ہے یہ تمہارے لئے آزمائش اور ایک وقت تک کے لیے دنیوی فائدہ کا سامان ہو۔ ۱۵۵*

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (پیغمبر نے) دعا کی اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ کر دے ۱۵۶* اور ہمارا رب رحمن ہے جس سے مدد مانگی گئی ہے ان باتوں کے مقابلہ میں جو تم لوگ بناتے ہو۔ ۱۵۷*

تفسیر

 ۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حساب کے وقت سے مراد قیامت کی گھڑی ہے جب ہر شخص کو خدا کے حضور اپنے عقیدہ و عمل کے بارے میں جوابدہی کرنا ہو گی۔

 

جوابدہی کا یہی تصور ہے جو انسان کے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ کرتا ہے۔ مگر ہر زمانہ میں لوگ اس اہم ترین حقیقت کی طرف سے بے پرواہ رہے ہیں اور آج بھی اربوں انسان اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ مستقبل قریب میں انہیں باز پرس کے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔ قرآن کا یہ بیان مدہو انسانیت کو ہوش میں لانے والا ہے اگر وہ اس پر غور کرے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ قیامت اور حساب کی باتیں سننا ہی نہیں چاہتے۔ وہ صرف ایسی باتیں سننا چاہتے ہیں جن سے ان کی خر مستیوں میں اضافہ ہوتا ہو۔

 

حساب کی گھڑی کے قریب آ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ اب نوع انسانی اپنے دور کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بُعِثتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ  (مسلم کتاب الفتن)" میں اور قیامت کی گھڑی ان دو انگلیوں کی طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔

 

نیز حساب کی گھڑی اس اعتبار سے بھی قریب ہے کہ آدمی کے اور موت کے درمیان بہت تھوڑا فاصلہ ہے اور جب موت آ جاتی ہے تو وہ حساب ہی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے اور اسی وقت سے جزا و سزا کا آغاز ہو جاتا ہے۔

 

۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن کی جو سورہ نازل ہوتی ہے ایک نئی شان تذکیر کے ساتھ نازل ہوتی ہے مگر یہ لوگ اتنے غیر سنجیدہ واقع ہوئے ہیں کہ اس سے یاد دہانی حاصل کرنا تو درکنار الٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

 

یہ حال جاہل عربوں ہی کا نہیں تھا آج کے "دانشوروں" کا بھی یہی حال ہے۔ وہ خدا اور مذہب کے معاملہ میں اتنے غیر سنجیدہ واقع ہوئے ہیں کہ جہاں جنت اور دوزخ کی بات آئی انہوں نے پھبتی چست کر دی۔

 

۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اصل وجہ ہے ان کی غیر سنجیدہ حرکتوں کی کہ ان کے دل خدا کی طرف سے غافل اور دنیا کی طرف راغب ہیں۔

 

۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ شخص جو کلام پیش کرتا ہے اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے لوگ متاثر ہو جاتے ہیں۔ پھر کی تم جانتے بوجھتے جادو کے پھندے میں پھنسو گے۔ ؟

 

۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ پیغمبر کا قول ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اور یہ مشرکین کی سرگوشیوں کا جواب ہے۔

 

۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منکرین پیغمبر اور قرآن کے بارے میں مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہیں کبھی کہتے یہ جادوگری ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ الجھے ہوئے خوابوں کا مجموعہ ہے۔ کبھی کہتے یہ من گھڑت باتیں ہیں اور کبھی کہتے یہ شخص شاعر ہے اور قرآن اس کے شاعرانہ تخیل کی پرواز ہے۔ اس سے خود منکرین کے الجھی ہوئی ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ ایک بات کہتے اور جب وہ چسپاں نہ ہوتی تو دوسری بات کہتے اور جب وہ موزوں قرار نہ پاتی تو تیسری بات کہتے اور جب وہ بھی فٹ نہ ہوتی تو چوتھی بات کہتے۔ اس طرح ایک نہ ایک الزام لگا کر حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے۔

 

۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی حسی معجزہ دیکھ کر کوئی بستی بھی ایمان نہیں لائی تھی۔

 

۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر اس پیغمبر کے ہاتھوں کوئی حسی معجزہ ان لوگوں کو ان کے مطالبہ پر دکھا دیا جائے تو یہ لوگ اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ ہٹ دھرم لوگوں کا طریقہ یہی ہے۔

 

۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ نحل نوٹ ۶۴   اور ۶۵  میں گزر چکی۔

 

۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو پیغمبر بھی بھیجے گئے وہ سب کھانا کھانے والے انسان تھے۔ فوق البشر (Super-Human) کوئی بھی نہیں تھا اور نہ کوئی ہمیشہ کے لیے دنیا میں زندہ رہا۔ جو چیز پیغمبر کو دوسرے انسانوں سے ممتاز کرتی رہی ہے وہ اس پر وحی الٰہی کا نزول ہے۔ اس آیت سے اس خیال کی بھی تردید ہوتی ہے کہ حضرت خضر دنیا میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں۔

۸

۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جب عذاب کے آثار دیکھ لئے۔

 

۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ طنزیہ کلام ہے مطلب یہ ہے کہ اب بھاگتے کیوں ہو۔ تم تو عذاب قبر کا مذاق اڑاتے رہے لہٰذا اگر تمہارے بس میں ہے تو اپنے سامان تعیش اور اپنے عشرت کدوں کی طرف لوٹو تاکہ تمہارے ساتھی تمہارا حال ( خیریت۔  معلوم کر سکیں کہ کیا حادثہ پیش آیا جو تم اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے ؟

 

۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت انہوں نے اپنے خطا کار ہونے کا اعتراف کیا اور اپنے کئے پر پچھتائے۔

 

۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان کا حال اس کھیت کا ساہو گیا جس کی فصل کٹ چکی ہو اور وہ خس و خاشاک ہو گیا ہو۔

 

۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی زندگی کی حرارت غائب ہو گئی اور وہ بالکل بے حس و حرکت ہو کر رہ گئے۔

 

۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخرت کا انکار کرنے کے بعد آدمی اس کائنات کے پیدا کئے جانے کی کوئی صحیح توجہ نہیں کر پاتا۔ ایسے لوگوں کے نزدیک اس کائنات کا وجود خدا کے سنجیدہ فیصلہ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ محض بہلاوے کا سامان ہے جو اس نے اپنے لیے کر لیا ہے۔ ہندو فلسفی اسے لِیلا سے تعبیر کرتے ہیں۔

 

"In the beginning God was alone, and He desired to become many. As a Consequence, He created the world out of mere pleasure, as a Sport (Lila) ." (Outlines of Hinduism by T.M.P. Mahadevan P.163)

 

"یعنی آغاز میں خدا اکیلا تھا اس نے کثرت میں تبدیل ہونا چاہا جس کے نتیجے میں اس نے دنیا کی تخلیق محض بہلاوے کے لیے کھیل "لیلا" کے طور پر کی۔"

 

واقعہ یہ ہے کہ خدا کو وہی لوگ غیر سنجیدہ سمجھتے ہیں جو خود غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔

 

۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کھیل بنانا ہماری شان کے خلاف ہے لیکن بالفرض ہمیں کھیل بنانا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے اس کا سامان کر لیتے۔ اس کے لیے اس عظیم الشان کائنات کو وجود میں لانے اور انسان جیسی با شعور اور مکلف مخلوق پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مقصد اور اس کی ایک غایت ہے۔

 

۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ یہ دنیا تماش گاہ ہے اور ہم تماش بین بلکہ ہم نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا ہے اور انسان کا ہم امتحان لے رہے ہیں اس لئے یہ دنیا حق و باطل کی رزم گاہ بن گئی ہے گو نتائج کا ظہور آخرت میں ہو گا جہاں حق ہی حق ہو گا اور باطل بالکل نابود ہو چکا ہو گا تاہم اس دنیا میں بھی ہم حق کے ذریعہ باطل پر ضرب کاری لگانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ جب باطل نے سر اٹھایا تو ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ اس کی سر کوبی کی۔ حق غالب ہو کر رہا اور باطل کو نابود ہو جانا پڑا۔ اس پیغمبر کے ذریعہ بھی حق کو باطل پر غالب آنا ہے اور یہ قرآن تو اللہ کی وہ حجت ہے جس کے سامنے باطل ہرگز ٹک نہیں سکتا۔ اس کے بعد وہی لوگ اس دنیا کو تماش گاہ قرار دے سکتے ہیں جنہوں نے حقیقت کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔

 

۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی خدا کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر کے تم اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہو۔

 

۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی وہ سب کا مالک ہے سب اس کے مملوک اور غلام۔

 

۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد مقرب فرشتے ہیں۔

 

۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح انسان سانس لینے سے نہیں تھکتا اسی طرح فرشتے تسبیح کرنے سے نہیں تھکتے۔ وہ ہمیشہ اللہ کی حمد و ثنا کرنے میں زمزمہ سنج رہتے ہیں۔

 

ان آیات میں ملاء  اعلیٰ کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دربار کس شان کا ہو گا۔ اس سے اللہ کی عظمت کا صحیح تصور بھی قائم ہو جاتا ہے اور تسبیح و عبادت سے گہرا لگاؤ بھی۔

 

۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکین سمجھتے ہیں کہ جو آسمان کا خدا ہے وہ زمین کا تنہا خدا نہیں ہے بلکہ بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا ( دیوتا) ہیں جو زمین کا سارا نظام سنبھالے ہوئے ہیں اور وہی ہیں جو انسان کو نفع اور نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ اسی کی تردید میں ان سیہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا تمہارے نزدیک زمین کے خدا اور ہیں ؟ اور کیا یہ خدا تم کو مرنے کے بعد زمین سے دوبارہ کھڑا کر دینے والے ہیں کہ تم ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے اس کے بدلہ میں وہ تم کو انعام سے نوازیں گے ؟ اگر ایسا نہیں ہے اور تم خود یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ یہ ہمیں مرنے کے بعد اٹھا کھڑا کر دینے والے ہیں تو پھر ان کو پوجنے کا فائدہ؟ مر کر اگر دوبارہ تم کو اٹھنا ہی نہیں ہے تو تمہارے یہ خدا آخر تمہارے کب کام آنے والے ہیں۔

 

۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر زمین و آسمان میں متعدد خدا ہوتے تو کائنات کا یہ نظام چل نہیں سکتا تھا۔ ہر خدا اپنے اختیارات کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا۔ اس صورت میں وہ نظم باقی نہیں رہ سکتا تھا جو اس کائنات میں قائم ہے اور نہ اس کے مختلف اجزاء ایک دوسرے سے موافقت پیدا کر سکتے تھے اور نہ کسی منصوبہ اور ا سکیم کے ساتھ اس کائنات میں کوئی کام انجام پاتا۔ مثال کے طور پر بارش کے لیے زمین سمندر سورج اور ہوائیں سب کی موافقت ضروری ہے ورنہ انسان کو زمین کے گوشہ میں پانی پہنچانے کی یہ ا سکیم رو ہ عمل نہیں آ سکتی۔ اگر یہ چیزیں الگ الگ خداؤں کے تصرف میں ہوتیں تو بارش کا یہ انتظام کس طرح ممکن تھا؟

 

یہ توحید کی زبردست دلیل ہے اس سے شرک اور الحاد دونوں کی تردید ہوتی ہے۔ اگر یہ کائنات بے خدا ہوتی تو یہ کارخانہ اس باقاعدگی کے ساتھ کس طرح چل سکتا تھا؟

 

۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ مختار کل اور مقتدر اعلیٰ ہے اس لیے اس کے کسی کے آگے جوابدہ ہونے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور نہ کسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کے فیصلوں اور اس کے کاموں پر اعتراض کرے۔

 

۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چونکہ سب اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں اس لیے ہر ہر شخص اس کے حضور جوابدہ ہے جو شخص اپنے کو اس کے حضور جوابدہ نہیں سمجھتا ہو اپنا مقام غلط تجویز کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جاتی ہے۔

 

۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اللہ کے سوا کسی اور کے معبود ہونے کا ثبوت ربانی تعلیم میں موجود نہیں ہے آج میرے ( یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے) ساتھیوں کو جو تعلیم دی گئی ہے وہ سراسر توحید ہی کی تعلیم ہے اور جو تعلیم اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے پیروؤں کو دی گئی تھی وہ بھی توحید ہی کی تعلیم تھی۔

 

واضح رہے کہ مشرکوں کی مختلف مذہبی کتابوں میں متعدد خداؤں اور دیوتاؤں کا جو تصور ملتا ہے تو یہ اس بات کی ہرگز دلیل نہیں ہے کہ یہ اللہ کا فرمان ہے یا کسی رسول کی تعلیم ہے کیونکہ یہ کتابیں اللہ کی نازل کردہ نہیں ہیں بلکہ اہل مذاہب کی مرتب کردہ ہیں۔

 

۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا مختلف مذاہب میں توحید کے خلاف جو تعلیم بھی پائی جاتی ہے وہ کسی بھی نبی کی تعلیم نہیں ہے ایسی تعلیم اگر کسی نبی کی طرف منسوب کی گئی ہے تو وہ غلط ہے اور اس نبی پر بہتان ہے۔

 

۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے تھے یہ اس کی تردید ہے فرمایا فرشتے اللہ کی اولاد نہیں بلکہ اس کے معزز بندے ہیں۔

 

۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فرشتوں کی یہ مجال نہیں کہ اللہ کے آگے بات کرنے میں سبقت کریں مگر تم اس خام خیالی میں مبتلا ہو کہ وہ اللہ کے لاڈلے ہیں جو چاہیں اس سے منوائیں۔

 

۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فرشتے ان ہی کے حق میں شفاعت کریں گے جن کے حق میں شفاعت کرنا اللہ تعالیٰ منظور فرمائے ، مقصود مشرکین کے اس خیال کی تردید کرنا ہے کہ اگر قیامت برپا ہو ہی گئی تو فرشتے جن کی ہم پرستش کرتے رہے ہیں اللہ کے حضور ہماری شفاعت کر کے ہمیں عذاب سے بچا لیں گے۔

 

شفاعت کی مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورہ بقرہ نوٹ ۴۱۲  اور سورہ مریم نوٹ ۱۱۱۔

 

۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرشتے اللہ کی نا فرمانی نہیں کرتے اس کے باوجود اس کی خشیت سے وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ انسان کے شایان شان بھی یہی ہے کہ وہ یہ ملکوتی صفت اپنے اندر پیدا کرے۔

 

۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی فرشتوں کو تم نے خدا بنا دیا ہے ورنہ وہ خدائی کے مدعی نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کی بندگی میں سرگرم رہتے ہیں لیکن بالفرض ان میں سے کوئی خدائی کا دعویٰ کرے تو اس کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ اس جرم کی سزا یہی ہے۔

 

۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کائنات کی ابتدائی حالت کو بیان کر کے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ کائنات کے بارے میں یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ اس کو جس شکل میں ہم دیکھتے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ اس کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ انجام بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات ایک خالق کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہے اور اس کا آغاز یوں ہوا کہ اس نے پہلے ایک مادہ ( دخان) تخلیق کیا ( سورۂ فصلت آیت ۱۱) جو ایک تودے (Mass) کی شکل میں تھا۔ پھر اس مادہ سے زمین اور آسمان ( تمام اجرام فلکی) بنائے۔ گویا زمین و آسمان آغاز میں ملے ہوئے تھے۔ بعد میں الگ الگ ہو گئے۔

 

جو شخص بھی غور و فکر کرے گا اس پر قرآن کے اس بیان کی صحت واضح ہو گئی کیونکہ اگر کائنات کا مادہ ایک نہ ہوتا تو اس کے مختلف اجزاء کے اندر ہم آہنگی نہیں پائی جا سکتی تھی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سورج اپنی شعاعیں زمین پر ڈالتا ہے اور زمین اس کی تپش اور روشنی قبول کر لیتی ہے اور اب تو انسان نے چاند پر پہنچ کر دیکھ لیا کہ وہاں کی زمین بھی ہماری زمین ہی کی طرح مٹی اور پتھر سے بنی ہوئی ہے۔ اور جب حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک صناع کی کاریگری ہے تو پھر اس کے تقاضوں سے منہ موڑنا کیا معنی؟

 

۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پانی اصل حیات ہے زندگی جس چیز کو بھی ملی ہے پانی ہی کے ذریعہ ملی ہے اور اس کا وجود پانی ہی کی بدولت قائم ہے عام مشاہدہ بھی یہی ہے کہ پانی کے ایک قطرہ میں جرثومہ حیات موجود ہوتا ہے اور اسی سے انسان اور حیوانات کی تخلیق ہوتی ہے۔ حیاتیات (Biology) کی رو سے بھی ایک مائی خلیہ پروٹو پلازم (Proto Plasm) مادۂ حیات ہے جو ہر جاندار مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ کیا زندگی کی یہ حقیقت ایک خدا کی خلاقیت اور اس کی عظیم قدرت کا پتہ نہیں دیتی؟

 

۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان حقیقتوں پر اگر انسان غور کرے تو اس میں ایمان و یقین کی کیفیت پیدا ہو مگر لوگ اس پہلو سے غور کرتے ہی نہیں۔

 

۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ نحل نوٹ ۲۶  میں گزر چکی۔

 

۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔  پہاڑوں میں درے بنائے۔ یہ قدرتی راستے ہیں جن کے ذریعہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانا انسان کے لیے ممکن ہوا۔

 

۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راہ پانے سے مراد وہ راہ بھی ہے جس پر چل کر انسان اپنی منزل کو پہنچ جاتا ہے اور وہ راہ بھی جس پر چل کر وہ اللہ کو پا لیتا ہے۔ قرآن انسان کے ذہن کو ظاہر سے باطن کی طرف اور مجاز سے حقیقت کی طرف موڑتا ہے یہ اس کی نہایت لطیف اور موثر رہنمائی ہے۔

 

۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آسمان کے محفوظ چھت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو اس خوبی کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ اس میں کہیں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ سالہا سال گزرنے کے باوجود وہ اپنی اصل حالت پر قائم ہے اس میں بوسیدہ ہونے کے آثار کبھی پیدا نہیں ہوئے کہ زمین والوں کے لیے اس کے گر جانے کا خطرہ لاحق ہو۔

 

۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موجودہ دور کے ماہرین فلکیات (Astronomers) نے کائناتی شعاعوں (Cosmic) تک کا پتہ چلایا ہے مگر ان کو کائنات کے خالق کا پتہ نہ چل سکا!یہ اس لیے کہ ان کو خدا کی تلاش نہیں ہے۔ در حقیقت خدا کو وہی لوگ پاتے ہیں جن کو اس کی تلاش ہوتی ہے۔

 

۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ فَلَک استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی میں مدار کے ہیں۔ لسان العرب میں ہے۔ الفلک: مدارالنجوم" فلک یعنی ستاروں کا مدار" ( لسان العرب ج ۱۰ ص ۴۷۸) آسمان کے معنی میں یہ لفظ نہ قرآن میں استعمال ہوا ہے اور نہ قدیم عربی میں یہ اس معنی کے لیے معروف تھا۔ بعد میں علم ہیئت کی اصطلاح کے طور پر یہ لفظ آسمان کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے پھر آیت میں یہ لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے اپنے اپنے مدار کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے اور یَسْبَحونَ (تیرتے ہیں) جمع کا صیغہ ہے جو عربی میں دو سے زائد چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ سورج اور چاند ہی نہیں بلکہ تمام اجرام سماوی اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ اجرام سماوی کو جب آدمی کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو وہ فضائے بسیط میں تیرتی ہوئی نظر آتی ہیں اس لیے قرآن نے صورتِ واقعہ کو عام فہم انداز میں بیان کر دیا اور مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ سورج چاند ستارے سب حرکت میں ہیں اور وہ اپنا سفر اپنے اپنے دائرہ میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقررہ دائرہ سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ اس باقاعدگی کے ساتھ ان کا یہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تمام اجرام فلکی کی باگ ڈور ایک قادر مطلق اور اعلیٰ اقتدار رکھنے والی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔

 

جہاں تک علم ہیئت کا تعلق ہے چاند اور سیاروں کی اپنے اپنے مدار پر گردش ایک معلوم حقیقت ہے۔ رہی سورج اور ستاروں کی گردش تو ان کی محوری گردش سے تو اسے انکار نہیں ہے البتہ ان کی مداری گردش (Orbital Rotation) کے بارے میں موجودہ سائنس ابھی قیاس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے اس لیے قرآن کی بیان کردہ حقیقتوں کو موجودہ سائنس کے محدود دائرہ میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ رعد نوٹ ۸ ) ۔

 

۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ دنیا میں ہمیشگی کی زندگی کسی کو بھی نہیں بخشی گئی یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اس سے عوام کے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ حضرت خضر کو دنیا میں دائمی زندگی عطا ہوئی ہے نیز شیعوں کے اس عقیدے کی بھی تردید ہوتی ہے جو وہ اپنے بارہویں امام کے غائب ہو جانے اور ان کے زندہ رہنے کے بارے میں رکھتے ہیں۔

 

رہا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ تو وہ دنیا میں دائمی زندگی نہیں گزار رہے ہیں بلکہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور قربِ قیامت میں جب ان کا نزول ہو گا تو ان کی بھی طبعی موت واقع ہو گی۔

 

۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مخالفین چاہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہو جائے تاکہ اس کشمکش سے انہیں نجات مل جائے جو آپ کے اور ان کے درمیان برپا ہو گئی تھی۔ فرمایا اگر پیغمبر کا انتقال ہو جاتا ہے تو یہ کہاں باقی رہنے والے ہیں۔ ایک نہ ایک دن ان کو بھی مرنا ہے اس لیے مرنے کے بعد جس چیز سے سابقہ پیش آنے والا ہے اس کی فکر انہیں ہونی چاہیے اس سے بے پرواہ ہو کر پیغمبر کی موت کے انتظار میں رہنا کسی دانشمندی کا کام نہیں ہو سکتا۔

 

۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تشریح سورۂ آل عمران نوٹ ۲۱۵  میں گزر چکی۔

 

۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دنیا کی زندگی ایک امتحانی زندگی ہے اس لیے موت ہر شخص کے لیے مقدر ہے اسی طرح کسی کا خوش حال یا بدحال ہونا آزمائش ہی کے پہلو سے ہے اور ایک نبی کو بھی بشر ہونے کی حیثیت سے ان حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

 

۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کی طرف پلٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اسی نے تم کو دنیا میں بھیجا ہے اور اسی کی طرف تمہیں واپس جانا ہے۔ یہ ایک سادہ سی حقیقت ہے جو آیت میں بیان ہوئی ہے اس کے بر خلاف مشرکین ہند کا مشرکانہ فلسفہ یہ ہے کہ انسان کی روح اس کے مرنے کے بعد خدا میں ضم ہو جاتی ہے۔ فتعالیٰ اللہ عما یُشرِکون۔

 

۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس آیت میں ذکر کا لفظ دو الگ معنی میں استعمال ہوا ہے جسے علم بلاغت کی اصطلاح میں تجنیس لفظی کہتے ہیں۔ "کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا ذکر کرتا ہے۔" کا مطلب خداؤں کا برائی کے ساتھ ذکر کرنا ہے اور "ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمن کے ذکر سے منکر ہیں۔" کا مطلب یہ ہے کہ وہ رحمن کا ذکر اچھائی کے ساتھ کرنا پسند نہیں کرتے۔

 

یہ مشرکین کی نا معقولیت پر تعریض ( طنز) ہے کہ وہ اپنے من گھڑت خداؤں کو اتنا محبوب رکھتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے خواہ وہ کتنی ہی حقیقت پر مبنی کیوں نہ ہو لیکن خدائے رحمن سے جس کی ان پر بے انتہا مہربانیاں ہیں ایسے متنفر ہیں کہ اس کے فضل و کمال کا ذکر ان کے لیے نا پسندیدہ بن گیا ہے۔

 

۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جلد بازی انسان کی جبلت میں رکھ دی گئی ہے تاکہ اس میں جوش عمل پیدا ہو اور وہ خیر کی طرف تیزی سے بڑھے مگر انسان اس داعیہ (Motive) کا غلط استعمال کر کے شر کی طرف دوڑتا ہے۔ انسان کے غلط فیصلے اور اس کی غیر سنجیدہ باتیں اس کی جلد بازی ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں جب کہ انسان چاہے تو اس داعیہ کو قابو میں رکھ سکتا ہے اور اس کا صحیح استعمال کر سکتا ہے۔

 

۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد عذاب کی نشانیاں ہیں قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی چنانچہ کفار کے لیے عذاب کی نشانیوں کا ظہور ان جنگوں میں ہوا جو انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف لڑیں۔

 

۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عذاب کی جلدی نہ کرو۔

 

معلوم ہوا کہ جلد بازی اگر انسان کی جبلت میں داخل ہے مگر اس کے ساتھ اسے یہ صلاحیت بھی بخشی گئی ہے کہ وہ اس پر کنٹرول کرے اور شر کے لیے جلدی نہ مچائے۔

 

۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قیامت کا وعدہ ہے۔

 

کافروں کا یہ سوال کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہو گا ان کی جلد بازی کی دوسری مثال ہے۔

 

۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس وقت تو یہ کافر قیامت کے لیے جلدی مچا رہے ہیں لیکن جب وہ آئے گی تو ان کافروں کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیگی۔ اس وقت انہیں توبہ کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے گا۔

 

۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عذاب کی وعید سنانے پر وہ رسول کا مذاق اڑاتے تھے مگر بالآخر ان پر عذاب مسلط ہو کر رہا۔

 

۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دن ہو یا رات انسان کی زندگی ہر آن خطرات اور آفات سے گھری رہتی ہے اور وہ خدائے رحمن ہی ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر وہ تمہاری حفاظت کرنے کے بجائے تمہیں گرفت میں لینا چاہے تو کون ہے جو تم پر مہربان ہو گا اور اس کے مقابلہ میں تمہاری حفاظت کرے گا؟

 

۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں خدا کی مہربانیوں کا کوئی احساس نہیں اور وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اس کے فضل و رحمت کا ذکر ہو۔

 

شرک انسان کو اپنے رب حقیقی کے بارے میں کس قدر غیر حقیقت پسند بنا دیتا ہے !

 

۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اگر خدا کا عذاب آ گیا تو کیا ان کے یہ معبود ان کو بچا سکیں گے ؟ وہ بچا کیا سکیں گے جب کہ وہ خود اپنے کو بچانے پر قادر نہیں ہیں اور نہ خدا کی تائید ان کو حاصل ہے۔ یہاں اشارہ مشرکین کے ان معبودوں کی طرف ہے جن کے بارے میں ان کا تصور یہ تھا کہ وہ آفتوں سے انہیں بچا سکتے ہیں۔

 

۵۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قریش خوشحال بھی تھے اور ان کو سرداری کا اہم مقام بھی حاصل تھا۔ یہ سب کچھ انہیں اللہ ہی کے فضل سے حاصل ہوا تھا لیکن چونکہ ایک زمانہ سے وہ خوشحال اور با اقتدار چلے آ رہے تھے اس لیے وہ خدا سے بے پرواہ ہو گئے تھے۔ مال اور اقتدار کا نشہ انسان کو خدا سے غافل کر دیتا ہے۔

 

۵۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مکہ کے اطراف و جوانب میں اسلام کے اثرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے غلبہ کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

 

آیت کا اشارہ خاص طور سے مدینہ کی طرف ہے جہاں کے لوگ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے۔ گویا مشرکین مکہ کے لیے زمین روز بروز تنگ ہوتی جا رہی تھی یہاں تک کہ اس سورہ کے نزول کے چند سال بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مدینہ میں اقتدار حاصل ہوا اور یہ اقتدار فتح مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ گویا فتح مکہ اس آیت کی ٹھیک ٹھیک تعبیر تھی۔

 

۶۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ پیغمبر اور وحی کی آواز کو ہی لوگ سنتے ہیں جو اپنے کان کھلے رکھتے ہیں۔

 

۶۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اب تو وہ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اگر عذاب کا ایک حصہ ہی انہیں چھولے گا تو وہ اپنے کئے پر پچھتائیں گے اور اپنے خطا کار ہونے کا اعتراف کریں گے۔

 

۶۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورہ قارعہ نوٹ ۶۔

 

۶۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن جب کہ انسانوں کا اجتماع ایک ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح ہو گا تو فرداً فرداً ہر ایک کا حساب لینا اللہ کے لیے کچھ مشکل نہ ہو گا اور اس کا حساب بالکل صحیح (Perfect) ہو گا۔

 

۶۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے چند جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں انبیاء علیہم السلام کا بار بار ذکر ہوا ہے تاکہ ان کی تعلیم اور ان کی سیرت کے مختلف پہلو نمایاں ہوں۔ انبیائی تاریخ کے سنہرے اوراق ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں اور پڑھنے والے اس سے بصیرت حاصل کریں ، منکرین کے شبہات دور ہوں اور وہ یہ محسوس کریں کہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ایک تاریخی حقیقت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ مختلف زمانوں اور ملکوں میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھیجتا رہا ہے اور خاص بات یہ کہ اہل ایمان ان کا ذکر قرآن میں پڑھ کر ان کی صحبت کا فیض حاصل کریں۔ گویا قرآن جہاں کہیں کسی بنی کا ذکر کرتا ہے قاری کو تھوڑی دیر کے لیے ان مثالی شخصیتوں کی مجلس میں لے جاتا ہے تاکہ ان کی صحبت ان کے لیے روح پرور ثابت ہو۔

 

۶۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "فرقان" سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کر کے ان کا فرق نمایاں کرتی تھیں چنانچہ سورۂ مومنون میں ارشاد ہوا ہے : ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ وَاَخَاہُ ہٰرُوْنَ بایَاتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُبِیْنٍ۔ (المؤمنین۔ ۴۵) "پھر ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ بھیجا"

 

۶۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "ضیاء" ( روشنی) سے مراد ہدایت کی روشنی ہے۔

 

۶۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "ذکر" ( یاد دہانی) سے مراد تورات ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی تھی اور حضرت ہارون چونکہ حضرت موسیٰ کی درخواست پر نبی اور ان کے وزیر بنائے گئے تھے اس لیے اس عنایت میں ان کو بھی شریک کر لیا گیا۔

 

یہ یاد دہانی عملاً متقیوں ( خدا سے ڈرنے والوں) ہی کے لیے مفید ثابت ہوئی۔ جو لوگ خدا سے ڈرنا نہیں چاہتے تھے وہ اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔

 

۶۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا سے بے دیکھے ڈرنا متقیوں کا بہت بڑا وصف ہے جو لوگ خدا سے ڈرنے کے لتے یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ وہ پہلے دکھائی دے انہوں نے نہ خدا کی شان کو سمجھا ہے اور نہ اپنی اس حیثیت کو کہ وہ امتحان گاہ میں کھڑے کر دئیے گئے ہیں اور آزمائش اس بات کی ہے کہ وہ عقل و شعور سے کام لیکر اور داخلی اور خارجی ( انفس و آفاق کی) نشانیوں کی مدد سے نیز وحی الٰہی کی رہنمائی اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کو پہچانتے ہیں یا نہیں ؟

 

اس سیہ بات بھی واضح ہوئی کہ خدا کو ریاضتوں کے ذریعہ دیکھنے کی کوشش بالکل بے سود ہے اور اس طریقہ سے انحراف ہے جو اس آزمائشی زندگی میں انسان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔

 

۶۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قرآن۔

 

۷۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ متن میں لفظ "رُشدَہ" ( اس کا رشد) استعمال ہوا ہے رشد کے معنی سمجھ بوجھ کے بھی ہیں اور دینی ہدایات کے بھی۔ حضرت ابراہیم کو ایک عظیم شخصیت کی حیثیت سے اٹھانا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے مقام کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی سنجیدگی، ہوش مندی اور فہم و فراست عطا ء کی تھی اور ان صلاحیتوں کی بنا پر انہوں نے نبوت سے بہت پہلے توحید کی راہ کو پا لیا تھا اور وہ ایک راست رو انسان تھے۔ پھر جب انہیں نبوت سے سرفراز کیا گیا تو وہ توحید کے علم بردار اور ہدایت کے مینار بن گئے۔

 

اللہ تعالیٰ کا ابراہیم پر جو فضل و کرم ہوا وہ علم کی بنیاد پر ہوا اس کی نگاہِ انتخاب بالکل صحیح تھی اور ابراہیم ان عنایتوں کے پوری طرح اہل قرار پائے۔

 

۷۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نبوت سے سرفراز ہو جانے کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی گمراہی سے نکالنا چاہا اس سے پیش نظر انہوں نے بت پرستی کی کھلی مذمت کی۔

 

موجودہ دور کا سیکولر ذہن تو بت پرستی کے معاملہ میں بھی رواداری کا قائل ہے اور کسی تنقید کو پسند نہیں کرتا مگر انبیاء علیہم السلام کا مقصدِ بعثت ہی لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا اور انہیں عذاب جہنم سے بچانا ہوتا ہے اس لیے وہ شرک پر جو ناقابل معافی گناہ ہے ضرب کاری لگاتے ہیں۔

 

۷۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بھی ایک دو ٹوک بات تھی جو ابراہیم علیہ السلام نے سنائی۔ مورتی پوجا اگر باپ دادا کرتے رہے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ان کا طرز عمل صحیح تھا۔ اگر باپ دادا نے جہالت برتی ہو تو یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ اولاد بھی جہالت برتے۔

 

مگر آج کے سائنسی دور میں بھی کتنی ہی قومیں اسی جہالت میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے مشرکانہ کلچر سے اس لیے وابستہ ہیں کہ یہ ان کو قومی ورثہ میں ملا ہے۔

 

۷۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ بت خدا نہیں ہیں بلکہ خدا وہ ہے جو کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اس میں یہ دلیل مضمر ہے کہ یہ بت اور یہ دیوی دیوتا جب کائنات کے نہ خالق ہیں اور نہ مالک تو وہ خدا کس طرح ہوئے ؟

 

۷۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں گواہی اعلان کے معنی میں ہے۔ یعنی میں اپنے اس عقیدۂ توحید کا تمہارے سامنے اظہار و اعلان کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے اس کی شہادت دینے پر مامور ہوں۔

 

۷۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم علیہ السلام بتوں کے خلاف جو اقدام کرنا چاہتے تھے اس کی طرف انہوں نے پیشگی اشارہ کر دیا تھا کہ لوگ آگاہ رہیں اور یہ ان کی کمالِ جرأت تھی۔

 

۷۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ابراہیم نے ایک دن موقع پا کر جب کہ لوگ کسی تہوار کے سلسلہ میں باہر گئے ہوئے تھے مندر میں داخل ہو کر تمام بتوں کو توڑ دیا۔ صرف بڑے بت کو رہنے دیا۔ تاکہ لوگ اس "لال بجھکڑ" سے پوچھیں کہ یہ کاروائی کس نے کی ہے ؟ اور جب یہ کوئی جواب نہ دے سکے تو لوگوں پر ظاہر ہو جائے کہ یہ بت بے جان پتھر ہیں جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔

 

یہ ایک عظیم دعوتی مصلحت تھی جس کے لیے انہوں نے بت شکنی کی یہ کارروائی کی تھی۔ اور یہ کارروائی بھی انہوں نے اس وقت کی جب کہ وہ توحید کی دعوت کو بدلائل پیش کر چکے تھے جس کی تفصیل سورۂ انعام آیت ۷۴  تا ۸۱  میں گزر چکی۔ اگر ان کے پیش نظر محض توڑ پھوڑ ہوتی تو وہ کسی بت کو باقی نہ رکھتے بلکہ بڑے بت کو سب سے پہلے ختم کر دیتے۔

 

ممکن ہے یہاں یہ سوال کیا جائے کہ دوسروں کے بتوں کو توڑنے کا ان کو کیا حق تھا؟ تو یہ سوال ایک نبی کی حیثیت کو نہ سمجھنے کے نتیجہ ہی میں پیدا ہو سکتا ہے۔ نبی اللہ کا بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ اور اس کو وحی کے ذریعہ براہ راست احکام ملتے ہیں اور اس کی براہِ راست رہنمائی کی جاتی ہے اس لیے اس کو خدا کے حکم کی تعمیل کرنا ہوتی ہے خواہ وہ کسی قوم یا سماج کے مروجہ طور طریقہ یا قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو وہ انسانی حقوق پر خدا کے حق کو مقدم سمجھتا ہے اور ہر ایک منکر کو مٹانے کے لیے اگر رواجی قانون کو توڑنا پڑتا ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ کیا وہ تو شرک جیسے عظیم منکر کو مٹانے کے لیے کیا تھا اس لیے ان کا یہ کام قابل تعریف ہے نہ کہ قابل اعتراض چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اقدام کو رشد و ہدایت کا نتیجہ قرار دیا۔

 

۷۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب لوگ میلے سے لوٹے تو مندر میں اپنے بتوں کی بری گت دیکھ کر ان کو تعجب ہوا اور سخت غصہ کا اظہار کرنے لگے۔

 

۷۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ حضرت ابراہیم جوان تھے اور جوانی ہی میں ان کو نبوت عطا ہوئی تھی۔

 

حضرت ابراہیم بت پرستی کے خلاف کہتے تھے اس لیے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھ کر لوگ سمجھ گئے کہ ہو نہ ہو یہ ابراہیم ہی کا کام ہے۔

 

۷۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح ابراہیم کو عوام و خواص کے سامنے آنے اور اپنی دعوت کو پیش کرنے کا موقع ملا۔

 

۸۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ان بتوں میں جو سب سے بڑا ہے اس نے یہ حرکت کی ہے۔ اگر بت بولتے ہیں تو ان ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے ؟

 

یہ بتوں کی بے بسی پر بھر پور طنز تھا۔ جب وہ خود اپنا بچاؤ نہیں کر سکے تو اپنے پرستاروں کا کیا بچاؤ کر سکتے ہیں ؟ اگر ان میں گویائی کی قوت ہے تو ان سے پوچھ لو کہ یہ حرکت کس نے کی ہے اور اگر وہ قوت گویائی نہیں رکھتے تو ثابت ہوا کہ وہ بے جان پتھر ہیں پھر وہ خدا کیسے ہوئے ؟

 

بتوں کے بے حقیقت ہونے ہی کو محسوس کرانے کی غرض سے ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑنے کا اقدام کیا تھا اور اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے اس کاروائی کی نسبت بڑے بت کی طرف کر دی تھی۔ یہ طرز کلام علمِ معانی کی اصطلاح میں تعریض یعنی طنز کہلاتا ہے جو کسی گمراہی پر ضرب لگانے اور غافل انسان کو چونکا دینے کا نہایت موثر ذریعہ ہے۔ مگر جن لوگوں میں سخن فہمی نہیں ہوتی وہ الفاظ کو پکڑ لیتے ہیں اور اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے اس لا جواب کر دینے والے جواب کو بھی جھوٹ پر محمول کیا گیا۔ گویا حضرت ابراہیم نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہوں نے بتوں کو توڑا ہے۔ اگر ان کا منشاء انکار کرنا ہی ہوتا تو وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ میں نے بتوں کو نہیں توڑا ہے اور مجھ پر یہ الزام غلط ہے مگر انہوں نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کہی اور جو کچھ کہا اس کو بھی مخالفین نے جھوٹ پر محمول نہیں کیا بلکہ وہ سمجھ گئے کہ حضرت ابراہیم منطقی بات کر رہے ہیں اس لیے انہوں نے جواب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ بت بولتے نہیں اور جب انہوں نے یہ اعتراف کیا تو حضرت ابراہیم کو بتوں کی بے بسی واضح کرنے اور بت پرستی کے خلاف حجت قائم کرنے کا موقع مل گیا۔

 

رہی وہ حدیث جس میں ابراہیم کی طرف تین جھوٹ منسوب کئے گئے ہیں جن میں سے ایک جھوٹ ان کے اس بیان کو قرار دیا گیا ہے بَلْ فَعَلَہُ کَبِیْرُہُمْ ہٰذاً بلکہ ان کے اس بڑے بت نے ان کو توڑا ہے" تو یہ حدیث بخاری مسلم اور ترمذی وغیرہ میں بیان ہوئی ہے اور علماء نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں مگر امام رازی نے بڑے پتے کی بات کہی ہے : "رہی پہلی روایت کردہ حدیث تو جھوٹ کو اس کے راویوں کی طرف منسوب کرنا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ اُسے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرف منسوب کیا جائے۔"اور مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی بالکل صحیح لکھا ہے۔

 

"عام طور پر مفسروں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ حضرت ابراہیم نے تین موقعوں پر ایسی بات کہی جس پر بظاہر جھوٹ کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ اس میں سے ایک موقع یہ ہے جب ان سے پوچھا گیا وَأ اَنْتَ فَعَلتَ ہذا کیا تو نے بتوں کو توڑا ہے ؟ تو انہوں نے کہا بَلْ فَعَلَہٗ کبیر ہم ہٰذا بلکہ اس بڑے بت نے ایسا کیا ہے حالانکہ فی الحقیقت فعل خود انہی کا تھا۔

 

اس بارے میں استدلال صحاح کی ایک روایت سے کیا جاتا ہے لیکن سب سے پہلے ہمیں اس مقام پر تدبر کرنا چاہیے کہ کیا فی الحقیقت یہاں کوئی ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس سے حضرت ابراہیم کا جھوٹ بولنا ثابت ہوتا ہے ؟ خواہ وہ جھوٹ کسی درجہ اور کسی نوعیت کا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تفسیر قرآن کی تاریخ کی بوالعجبیوں میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ناقابل توجہ بوالعجبی نہیں قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے اصدق الصادقین کا جھوٹ بولنا نکلتا ہو۔ لیکن بہ تکلف ایک آیت کو توڑ مروڑ کر ایسا بنایا جا رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح جھوٹ بولنے کی بات بن جائے اور اثبات کذب کی یہ نا مبارک کوشش کیوں کی جا رہی ہے ؟ صرف اس لیے کہ ایک مزعومہ حدیث موجود ہے۔ پس کہیں یہ قیامت نہ ٹوٹ پڑے کہ اس کے غیر معصوم راویوں کی روایت کمزور مان لینی پڑے۔ گویا اصل اس باب میں غیر معصوم راویوں کا تحفظ ہے نہ کہ معصوم رسولوں کا اور اگر قرآن میں اور کسی روایت میں اختلاف واقع ہو جائے تو قرآن کو روایت کے مطابق بننا پڑے گا۔ راوی کی شہادت اپنی جگہ سے کبھی نہیں ہل سکتی"(ترجمان القرآن ج ۲ ص ۴۹۵) روایت پرستی پر مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ طنز بالکل بر محل ہے : آگے چل کر لکھتے ہیں :

 

"بلا شبہ روایت صحیحین کی ہے لیکن اس تیرہ سو برس کے اندر کسی مسلمان نے بھی راویان حدیث کی عصمت کا دعویٰ نہیں کیا ہے نہ امام بخاری و مسلم کو معصوم تسلیم کیا ہے۔ پس انبیاء کرام کی سچائی اور عصمت یقینیات دینیہ و تقلید میں سے ہے۔

 

روایات کی قسموں میں سے کتنی ہی بہتر قسم کی کوئی روایت ہو بہر حال ایک غیر معصوم روایت کی شہادت سے زیادہ نہیں اور غیر معصوم کی شہادت ایک لمحہ کے لیے بھی یقینیات دینییہ کے معاملہ میں تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں مان لینا پڑے گا کہ یہ اللہ کے رسول کا قول نہیں ہو سکتا۔ یقیناً یہاں راویوں سے غلطی ہوئی ہے۔" ( ایضاً ص ۴۹۹)

 

حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کا جواب الزامی حجت کا تھا اس لیے اس پر جھوٹ کا اطلاق کسی طرح بھی صحیح نہیں اور جب حدیث خواہ وہ بخاری اور مسلم ہی کی کیوں نہ ہو قرآن کے بیان کے خلاف ہے اور اس سے ایک نبی کی عصمت پر حرف بھی آتا ہے تو وہ حدیث رسول ہو ہی نہیں سکتی اس لتے یہ روایت اپنے متن کے اعتبار سے قابل رد ہے۔ رہی اس کی اسناد تو اس میں بھی کلام کی گنجائش ہے امام بخاری نے اس حدیث کو موقوفاً اور مرفوعاً بیان کیا ہے۔ موقوفاً کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے اس کو ارشاد رسول کے طور پر پیش نہیں کیا اور مرفوعاً کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد بتلایا۔ (ملاحظہ ہو بخاری کتاب احادیث الانبیاء)

 

پھر جو روایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے طور پر بیان ہوئی ہے اس کا ایک راوی جریر بن حازم ہے اور جریر بن حازم کے ثقہ ہونے کے بارے میں محدثین کے درمیان اختلاف ہے۔ علامہ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں جو اسماء الرجال کی مشہور اور مستند کتاب ہے دونوں طرح کے اقوال نقل کئے ہیں۔ مثال کے طور پر ابن سعد کہتے ہیں کہ وہ ثقہ ہیں مگر آخری عمر میں انہیں دماغی عارضہ ہو گیا تھا۔ نسائی کہتے ہیں ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں امام احمد کہتے ہیں جریر بہت غلطیاں کر جاتے ہیں۔ مصر میں تو ان کا حافظہ ٹھیک نہیں رہا تھا اور وہم کی بنا پر بیان کرنے لگے تھے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب ج ۲ ص ۶۹ تا۷۲) اور امام ذہبی نے امام بخاری کا اپنا یہ قول نقل کیا ہے کہ جریر بن حازم کبھی کبھی غلطی کر جاتے ہیں (ملاحظہ ہو میزان الاعتدال ج ۱ص۳۹۳)

 

واضح ہوا کہ اس حدیث کی اسناد میں علت ہے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف صحیح نہیں۔ مگر جن لوگوں کو اس کی صحت پر اصرار ہے وہ اس کی تائید میں بخاری ہی کی شفاعت والی حدیث پیش کرتے ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب لوگ پریشان ہو کر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے شفاعت کے درخواست کریں گے تو وہ اپنا یہ عذر پیش کریں گے کہ مجھ سے تین جھوٹ صادر ہو گئے تھے۔ بخاری کتاب التوحید) اور جھوٹ کی توجیہ یہ حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ یہ تعریض ( طنز) تھی۔ مگر یہ توجیہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اگر یہ تعریض تھی تو حضرت ابراہیم نے ایک خوبی کی بات کی تھی اس میں ان کا قصور کیا تھا جس کا حوالہ دیکر وہ قیامت کے دن شفاعت سے معذرت کریں گے ؟ایک طرف حضرت ابراہیم کے قول کو بلاغت و معانی پر محمول کرنا اور دوسری طرف ان کو قصور وار قرار دینا بالکل متضاد باتیں ہیں اس لیے حضرت ابراہیم کی طرف جھوٹ کی نسبت کسی طرح صحیح نہیں۔

 

۸۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تھوڑی دیر کے لیے ان میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم ہی غلطی پر ہیں۔ اور یہ بات وہ ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہنے لگے۔

 

۸۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پھر ان میں عصبیت لوٹ آئی اور ان کی عقل اوندھی ہو گئی۔

 

۸۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تھی بت پرستی کے خلاف سب سے بڑی حجت جس کو پیش کرنے کا موقع ابراہیم علیہ السلام کو ملا۔

 

۸۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سخت بات ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہی جب کہ لوگوں پر بت پرستی کے خلاف حجت قائم ہو گئی تھی اور یہ بات بھی ان کے مشاہدہ میں آ گئی تھی کہ بت نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں کیونکہ اگر ان میں نقصان پہنچانے کی کوئی قدرت ہوتی تو وہ حضرت ابراہیم کو بت شکنی پر نقصان پہنچاتے۔

 

۸۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ واضح ہوا کہ بت پرستی سراسر بے عقلی ہے۔ عقل سے کام لینے والا کبھی بت پرستی ہو ہی نہیں سکتا۔

 

۸۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہنے والے مذہبی پیشوا اور مندر کے پروہت رہے ہوں گے۔

 

۸۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بالآخر بتوں کے ان پرستاروں نے ابراہیم کو آگ میں ڈال دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے حق میں ٹھنڈی ہو جائے اور سلامتی کا باعث بن جائے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے حق میں ظاہر فرمایا۔ اس میں کوئی بات خلاف عقل نہیں ہے۔ آگ میں جلانے کی خصوصیت اس کے خالق ہی کی پیدا کردہ ہے اگر وہ اس کی یہ خصوصیت سلب کرنا چاہے اور کوئی دوسری خصوصیت اس میں پیدا کرنا چاہے تو کیا ایسا کرنے پر وہ قادر نہیں ؟ اشیاء کے طبعی خواص ان کے ذاتی خواص نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیدا کردہ ہیں اور جب اس کے پیدا کردہ ہیں تو وہ جس چیز کی خاصیت جب چاہے تبدیل کر سکتا ہے تعجب ان لوگوں کو ہوتا ہے جو یا تو خدا کو مانتے نہیں ہیں یا مانتے ہیں تو اس کے قادر مطلق ہونے پر ان کو یقین نہیں ہوتا۔

 

ویسے موجودہ زمانہ میں تو آگ سے محفوظ رکھنے والی (Fire Proof) چیزیں بھی ایجاد ہو گئی ہیں۔ اب اگر انسان یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ خدا نے اپنے ایک خاص بندہ کے حق میں آگ کو بے اثر بنا دیا تھا؟ یہ در حقیقت اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی جو حضرت ابراہیم کے حق میں ظاہر ہوئی جب کہ وہ توحید کے علمبردار بن کر کافروں کی سلگائی ہوئی آگ میں بے خطر کود پڑے تھے۔

 

۸۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی ابراہیم کا کچھ نہیں بگڑا بلکہ اس کے خلاف سازش کرنے والے ہی ناکام و نا مراد ہوئے۔

 

۸۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوتا ہے حضرت ابراہیم پر ان کی قوم میں سے ایمان لانے والے صرف حضرت لوط تھے اس لیے مذکورہ واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ہجرت کا حکم دیا چنانچہ وہ ہجرت کر کے فلسطین پہنچے۔

 

۹۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو دینی اور دنیوی دونوں برکتوں سے مالا مال ہے۔ دینی برکتوں سے اس طرح کہ حضرت ابراہیم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بہ کثرت انبیاء علیہم السلام کا وہ مسکن قرار پائی اور دنیوی برکتوں سے اس طرح کہ یہ خطہ بڑا زر خیز اور شاداب ہے۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بنی اسرائیل نوٹ ۱۔

 

۹۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نہ صرف اسحاق جیسا بیٹا عطا کیا بلکہ یعقوب جیسا پوتا بھی۔ یہ خاندان ابراہیمی کے چشم و چراغ تھے۔

 

۹۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ شخصیتیں اپنے کردار کے لحاظ سے نہایت پاکیزہ تھیں۔ اس سے بائبل کی ان باتوں کی تردید ہوتی ہیں جو ان کے کردار کو داغدار بناتی ہیں۔

 

۹۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ انسانوں کے سچے قائد تھے کیونکہ وہ ان کو خدا کی راہ دکھاتے اور اس کے حکم کے مطابق رہنمائی کر تے تھے۔ جن لوگوں نے بھی ان کی پیروی کی راہ یاب ہو گئے۔

 

ان کی قیادت کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ وہ نہ خود لیڈر بنے تھے اور نہ انہیں لیڈری کا شوق تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قائد اور امام بنایا تھا اور ان کی زیر قیادت امتیں برپا ہوئیں۔

 

۹۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیر کے کامو ں کا جامع حکم دینے کے ساتھ اقامت الصلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کا حکم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ دونوں عبادتیں خیر کے سر چشمے ہیں۔ ان کے اہتمام سے بھلائیاں پرورش پاتی ہیں۔

 

اس آیت سیہ بھی واضح ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ انبیاء علیہم السلام کی شریعت کے اہم ارکان رہے ہیں۔

 

۹۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ "حکم" ( حکمت) سے مراد دانش مندی ہے اور علم سے مراد وہ علم ہے جو وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔

 

۹۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد ہم جنسی جیسے گھناؤنے کام ہیں قوم لوط کا قصہ سورہ اعراف (آیت ۸۰ تا ۸۴) سورۂ ہود آیت ( ۷۷ تا ۸۳) اور سورۂ حجر آیت ( ۶۱ تا۷۷) میں گزر چکا۔

 

۹۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی بات ہے جو یہاں خاص طور سے واضح کرنا مقصود ہے یعنی اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے پیغمبروں کی مدد فرماتا رہا ہے۔

 

۹۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انبیاء علیہم السلام کا اولین وصف ان کا صالح ہونا ہے مگر موجودہ تورات اور بائبل میں ناروا باتیں ان کی طرف منسوب کر دی گئی ہیں جن سے ان کی سیرت داغ دار نظر آتی ہے۔ قرآن ان کی صالحیت کا اعلان کرتا ہے جس سے ان الزامات کی آپ سے آپ تردید ہوتی ہے۔

 

حضرت لو ط پر ایک بہت ہی شرمناک الزام بائبل کی کتاب پیدائش (۱۹:۳۲ تا ۳۸) میں لگایا گیا ہے اور یہ اتنا لغو ہے کہ اس کو نقل کرنا طبیعت پر سخت گراں ہے۔

 

۹۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت نوح کی سرگزشت سورۂ اعراف ( آیت ۵۹ تا ۶۴) سورۂ یونس ( آیت ۷۱ تا ۷۳) سورۂ ہود ( آیت ۱۵ تا ۴۹) میں گزر چکی۔

 

۱۰۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت نوح کی دعا سورۂ قمر آیت ۱۰  اور سورۂ نوح آیت ۲۶  تا ۲۸  میں مذکور ہے۔

 

۱۰۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سخت تکلیف ( کرب عظیم) سے مراد کافرانہ اور مخالفانہ ماحول کی گھٹن بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو اس قوم پر آیا۔

 

۱۰۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہاں یہی واضح کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے نبیوں کی مدد کرتا رہا ہے۔

 

۱۰۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت داؤد حضرت یعقوب کی نسل سے تھے ان کا زمانہ دسویں صدی قبل مسیح کا ہے وہ نبی بھی تھے اور خلیفہ بھی ان پر جو کتاب نازل ہوئی اس کا نام زبور تھا۔

 

۱۰۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت سلیمان حضرت داؤد کے فرزند تھے۔ نبوت کے ساتھ انہیں عظیم الشان اور بے نظیر حکومت عطا ہوئی تھی۔ دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۲۰

 

۱۰۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس مقدمہ کی کوئی تفصیل قرآن نے بیان نہیں کی بلکہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر دیا جو پیشِ نظر مقصد کے لیے کافی تھا۔

 

آیت سے جو بات مجملاً معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد اور ان کے فرزند حضرت سلیمان علم و حکمت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے تھے ایک مرتبہ ان کی عدالت میں جس میں دونوں جج کی حیثیت سے موجود تھے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ رات کے وقت ایک فریق کی بکریوں نے دوسرے فریق کے کھیت میں گھس کر پیداوار کو نقصان پہنچایا تھا اس لیے اس نے پہلے فریق کے خلاف نقصان کی تلافی کا دعویٰ کیا حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے کمال درجہ کی فہم و فراست عطا کی تھی اس لیے انہوں نے بہترین فیصلہ سنایا۔ اس سلسلے میں قرآن نے نہ تو یہ وضاحت کی ہے کہ وہ فیصلہ کیا تھا اور نہ یہ کہا کہ داؤد کا فیصلہ غلط تھا اور نہ ہی کسی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں کچھ منقول ہے۔ پھر اٹل پچو باتیں ان نبیوں کی طرف کیوں منسوب کی جائیں۔

 

قرآن نے اس قضیہ کا جو حوالہ دیا تو اس سے مقصود دراصل یہ واضح کرنا ہے کہ ان نبیوں پر اللہ کا یہ فضل ہوا کہ اس نے انہیں اقتدار بخشا اور کرسیٔ عدالت پر بٹھا کر ان کے فصل مقدمات کی کاروائی کی نگرانی اللہ تعالیٰ فرماتا رہا یہاں تک کہ جب ایک مقدمہ میں داؤد کو اشکال پیش آیا تو سلیمان کو اس کی سمجھ عطا کی گئی۔ واضح ہوا کہ معاملہ فہمی اور اصابت رائے اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔

 

داؤد اور سلیمان دونوں باپ بیٹے تھے اور دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور علم سے نوازا تھا لیکن بیٹا اللہ کی توفیق سے معاملہ فہمی میں ایک قدم آگے ہی تھا اور اپنے باپ کا معاون بن گیا تھا۔

 

۱۰۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ بخشا تھا کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم نوا بن جاتے اور عجیب سما بندھ جاتا۔

 

حضرت داؤد کو زبور کے ساتھ ایک خاص لحن بھی عطا ہوا تھا۔

 

پہاڑ جمادات میں سے ہیں اور ان کا تسبیح کرنا بظاہر عجیب سا معلوم ہوتا ہے مگر جو خدا عجائبات کا خالق ہے اس نے اگر پیغمبر کے ہاتھ سیہ معجزہ صادر کر دیا ہو کہ اس کی پاکی کی صدائیں پہاڑ بھی بلند کرنے لگیں اور اس کی حمد و ثنا کی گیت پرندے بھی گانے لگیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ یہ واقعہ تو معجزہ کی بناء پر محسوس شکل میں پیش آیا ورنہ قرآن تو بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کی تسبیح و تحمید میں لگا ہوا ہے مگر انسان اس کو سمجھ نہیں پاتا۔ ( سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)

 

کسی نے خوب کہا ہے 

 

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرہ کا دل چیریں

 

مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر ذرے کا دل چیریں تو اس میں سے تسبیح ہی کی صدا بلند ہو گی۔ اس حقیقت کے پیش نظر پہاڑوں اور پرندوں کا تسبیح خداوندی میں حضرت داؤد کا ہمنوا بن جانا ایمان و یقین میں اضافہ کا موجب ہے۔ اس کی تاویل وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک معجزہ کی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

 

۱۰۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس معجزہ کا صدور تو حضرت داؤد کے ہاتھ سے ہوتا تھا لیکن در حقیقت اس کو وقوع میں لانے والا اللہ ہی تھا۔ اسی کے حکم سے پہاڑ اور پرند تسبیح پڑھنے لگ جاتے تھے۔

 

۱۰۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آہنی لباس یعنی زرہ بنانے کا فن اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو سکھایا نیز ان کو یہ معجزہ بھی عطا کیا تھا کہ لوہا ان کے ہاتھ میں نرم ہو جاتا تھا (سورہ سبا آیت ۱۰ ) اس زمانہ میں زرہ کی بڑی جنگی اہمیت تھی۔ اور یہ چیز جہاد میں ان کے لیے بڑی کار آمد ثابت ہوئی گویا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے نصرت الٰہی تھی۔

 

بعد میں ذرہ کا یہ فن عام ہوا اور تحفظ کے لیے اسے جنگوں میں استعمال کیا جانے لگا۔ گویا حضرت داؤد کے واسطے سے انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے۔ اس لئے یہاں یہ سوال قائم کیا گیا ہے کہ کیا تم اس پر اللہ کے شکر گزار ہو۔

 

۱۰۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برکتوں والی سرزمین سے مراد فلسطین اور شام کا علاقہ ہے۔ حضرت سلیمان پر اللہ کا ایک خاص فضل یہ ہوا کہ تیز ہوا ان کی خدمت میں لگا دی گئی تاکہ ان کا سفر بڑی سرعت کے ساتھ طے ہو۔ اس کی شکل کیا تھی ہمیں نہیں معلوم، ہو سکتا ہے وہ اپنی کرسی کے ساتھ ہوا میں اڑتے ہوں جیسا کہ مفسرین کا خیال ہے۔ بہر صورت یہ ایک غیر معمولی بات تھی اور اللہ کی طرف سے معجزہ تھا جو اس نے اپنے نبی کے لیے ظاہر فرمایا اس میں خلاف عقل کوئی بات نہیں تھی۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو راتوں رات مکہ سے بیت المقدس کا سفر کرایا گیا تو حضرت سلیمان کا ہوا کے دو ش پر سوار ہو کر اڑنا کیوں خلاف عقل قرار پائے ؟اور موجودہ زمانے کا انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل پر ہوائی جہاز میں بیٹھ کر ہزار ہا میل کا سفر چند گھنٹوں میں طے کر سکتا ہے تو اللہ کا ایک نبی اس کے کرشمۂ قدرت سے فضائی سفر کیوں نہیں کر سکتا؟

 

۱۱۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیاطین سے مراد سرکش جن ہیں اللہ تعالیٰ نے کتنے ہی سرکش جنوں کو حضرت سلیمان کا تابع کر دیا تھا تاکہ وہ ان سے اپنے کام لیں جو محنت شاقہ کے بغیر انجام نہیں دیئے جا سکتے تھے مثلاً سمندروں سے جواہرات نکالنا، کرین کے بغیر بڑے بڑے پتھر منتقل کرنا اور شاندار عمارتیں تعمیر کرنا وغیرہ۔

 

واضح رہے کہ ان غیر معمولی وسائل کو حضرت سلیمان نے بیت المقدس کی تعمیر جنگی ضروریات کی تکمیل اور اسلامی ریاست کے استحکام کیلئے استعمال کیا تھا۔

 

یہ بھی واضح رہے کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کا زمانہ بنی اسرائیل کے عروج کا زمانہ تھا۔ حضرت داؤد کے زمانہ میں خوب فتوحات ہوئیں اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں ایک وسیع اور شاندار اسلامی سلطنت قائم ہوئی جو اپنی بعض خصوصیات کے اعتبار سے بالکل بے مثال تھی اس طرح یہ اس فضیلت کا اتمام تھا جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اقوام عالم پر عطا کی تھی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو یہ شرف بخشا کہ اس کے ایک فرد کی حکومت جنوں پر بھی قائم ہوئی۔ اور اللہ کی حکمتوں اور مصلحتوں کو وہی بہتر جانتا ہے۔

 

۱۱۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایوب علیہ السلام نبی تھے اور ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کی طرف ایک صحیفہ بائبل میں منسوب ہے مگر اس میں اصلی واقعہ کو افسانوی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور ایسی باتیں حضرت ایوب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو منصب نبوت کے شایان شان نہ ہونے کی بنا پر لائق اعتبار نہیں ہیں نیز اس میں بیان کا تضاد پایا جاتا ہے البتہ اس کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کا زمانہ حضرت موسیٰ سے پہلے رہا ہو گا وہ عوض کے رہنے والے تھے جو فلسطین کے مشرقی جانب ادوم (Edom) کے شمال مشرق میں واقع تھا۔ (ملاحظہ ہو ایوب ۱:۱ اور نوحہ۴:۲۱)

 

۱۱۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت ایوب سخت بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ انہوں نے شدید تکلیف کے باوجود شکایت کا کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالا بلکہ پیکر صبر بن گئے اور اللہ سے رحم کی درخواست کی تو وہ بھی اس لطیف پیرایہ میں کہ تو ارحم الراحمن ہے جو سر تا سر حمد تھی۔

 

اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو مختلف آزمائشوں سے گزارا ہے کسی کو شان و شوکت عطا کر کے جیسا کہ حضرت سلیمان کے ساتھ معاملہ ہوا اور کسی سے وسائل چھین کر اور اسے بیماری میں مبتلا کر کے جیسا کہ حضرت ایوب کے ساتھ ہوا۔ تاکہ انبیاء کی مثال زندگی کے مختلف نمونے لوگوں کے سامنے رہیں اور وہ نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں ان کے اسوہ کی پیروی کریں۔

 

اس سیہ بھی واضح ہوا کہ انبیاء علیہم السلام اگرچہ اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں لیکن وہ اپنی تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے بلکہ اللہ ہی سے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور وہی ان کی تکلیف کو دور کرتا ہے اور جب کوئی نبی اپنی تکلیف کو دور نہیں کر سکتا تو وہ دوسروں کی تکلیف کو کیا دور کر سکتا ہے پھر خدا کو چھوڑ کر کسی نبی کو فریاد کے لیے پکارنے میں کیا تُک ہے۔

 

۱۱۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معلوم ہوتا ہے کوئی ایسی صورت پیش آئی تھی کہ حضرت ایوب کے اہل و عیال بچھڑ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان کی دعا قبول کی اور انہیں صحت یاب کیا تو ایسے اسباب کر دیئے کہ ان کے اہل و عیال بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے اہل و عیال میں مزید اتنی ہی تعداد کا اضافہ ہوا یعنی مزید بیوی بچے ملے۔

 

۱۱۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو لوگ اللہ ہی کی عبادت کرتے اور اس کے بندے بن کر رہتے ہیں وہ حضرت ایوب کے اس واقعہ سیہ سبق حاصل کریں کہ نیک لوگ بعض مرتبہ ایسی آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں کہ انہیں اپنی صحت سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اور ان کے بال بچے بھی بچھڑ جاتے ہیں ایسے حالات میں صبرِ ایوب ان کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔

 

۱۱۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھئے سورۂ مریم نوٹ ۷۷۔

 

۱۱۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذوالکفل کا ذکر قرآن نے صبر کرنے والے انبیاء علیہم السلام میں کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا تھا۔ ان کے بارے میں کوئی تفصیل نہ قرآن میں بیان ہوئی ہے اور نہ حدیث میں رہی بائبل تو اس میں اس نام سے کسی نبی کا ذکر نہیں ملتا البتہ حزقیل نبی کے نام سے ایک صحیفہ موجود ہیں جنہیں بخت نصر کے زمانہ میں ابتلاء سے گزرنا پڑا تھا اس لیے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ذوالکفل حزقیل ہی کا لقب رہا ہو گا۔ عراق میں الحلیہ سے قریب الکفل کے نام سے ایک مقام ہے جہاں حضرت حزقیل کی قبر بتائی جاتی ہے مگر اس سلسلہ میں ہمیں کوئی علمی شہادت نہیں ملی اس لیے توقف ہی بہتر ہے۔

 

۱۱۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذوالنون کے معنی ہیں مچھلی والے۔ یہ حضرت یونس علیہ السلام کا لقب ہے۔ اور اس امتیازی لقب سے وہ اس لیے نوازے گئے کہ انہیں مچھلی نے نگل لیا تھا اور بعد میں انہیں زندہ اگل دیا۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ یونس نوٹ ۱۴۷)

 

۱۱۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضر ت یونس کو نینوا کی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ وہاں وہ ایک عرصہ تک دعوت پیش کرتے رہے لیکن جب لوگ ایمان لانے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تو وہ برہم ہو کر وہاں سے چل دیئے کہ ایسی جاہل قوم کو کب تک سمجھاتے رہیں گے۔ انہوں نے سمجھا کہ جو قدم انہوں نے اٹھایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت نہیں ہو گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت کی کیونکہ ایک نبی کے لتے یہ روانہ تھا کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر اس قوم کو چھوڑ کر چلا جائے جس کو پیغام پہنچانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ حضرت یونس کی نظر سیہ پہلو اوجھل رہ گیا اور ان سے لغزش ہو گئی مگر چونکہ یہ لغزش ایک نبی سے اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے معاملہ میں ہوئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت آزمائش میں ڈال دیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب وہ نینوی سے ساحل سمندر پہنچے اور یافا جانے کے لیے کشتی میں سوار ہو گئے۔ اس زمانہ میں یروشلم کے لیے قریبی بندرگاہ یافا تھی جو بحر روم کے ساحل پر تھی۔ تو کشتی طوفان کی زد میں آ گئی اور حضرت یونس کو ایک بڑی مچھلی نے اللہ کے حکم سے نگل لیا۔ ( تفصیلی ذکر سورۂ صافات میں ہوا ہے۔)

 

۱۱۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مچھلی کے پیٹ سے پکارا جہاں تاریکیاں ہی تاریکیاں تھیں ایک تو مچھلی کے پیٹ کی تاریکی مزید سمندر کی تہوں کی تاریکیاں۔

 

۱۲۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس پر جو کچھ بیتی ہو گی اس کا تصور بھی مشکل ہے اس کے باوجود کوئی حرف شکایت ان کی زبان پر نہیں آیا۔ اس موقع پر انہوں نے اللہ سے جو فریاد کی وہ سر تا سر اللہ کی حمد و ثنا اور اپنے قصور کے اعتراف پر مشتمل ہے۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی انہوں نے توحید ہی کی صدا بلند کی اور اس کی پاکی بیان کرتے ہوئے اپنے قصور کا سخت سے سخت الفاظ میں اعتراف کیا۔ ان کا یہ اخلاص اور ان کی یہ انابت انکی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔

 

۱۲۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دعا دل سے نکلی تھی اور عجز و نیاز میں ڈوبی ہوئی تھی اس لیے تاریکیوں کو چیرتی ہوئی عرش تک پہنچ گئی اور بارگاہ خداوندی میں قبولیت اختیار کر گئی۔

 

۱۲۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ مچھلی نے انہیں ساحل پر زندہ اگل دیا۔

 

۱۲۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ مثال ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ اہل ایمان کو طرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی آزمائش ہی کی زندگی ہے لیکن جب اہل ایمان ان آزمائشوں میں پورے اترے ہیں تو وہ ان کی نجات کا سامان کر دیتا ہے۔

 

۱۲۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت زکریا کی دعا اولاد کے لیے تھی ایسی اولاد جو علم نبوت کی وارث ہو۔ (تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مریم نوٹ ۸)

 

۱۲۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بالآخر ہر چیز کا مالک تو ہی ہے اور تو بہترین مالک ہے۔

 

۱۲۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حضرت زکریا کی بیوی بانجھ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بانجھ پن کو دور کر کے یحیٰ جیسا فرزند عطا کیا۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورہ مریم نوٹ ۱۱  تا ۱۴)

 

۱۲۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جن انبیاء علیہم السلام کا حال اوپر بیان ہوا وہ سب نیکی کے معاملہ میں سبقت کرنے والے اور پوری مستعدی کے ساتھ اس راہ میں آگے بڑھنے والے تھے۔ واضح ہو ا کہ نیکی کے کاموں میں سرگرمی دکھانا انبیائی اوصاف میں سے ہے۔

 

۱۲۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہے بندہ کے اپنے رب سے تعلق کے سلسلے میں معیار مطلوب کہ یہ تعلق محض خون کی بنا پر نہ ہو بلکہ پورے قلبی میلان اور رغبت کے ساتھ ہو وہ اپنے رب کو پکارے اور اس کی عبادت کرے تو محبت اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ۔

 

۱۲۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی یہ شخصیتیں جن کا ذکر اوپر ہوا نہایت بلند مرتبہ شخصیتیں تھیں لیکن ان میں تکبر کا شائبہ نہیں تھا۔ وہ اللہ کے حضور سر تا پا عجز و نیاز میں ڈوبے رہتے اور خشوع کے ساتھ زندگی بسر کرتے۔

 

۱۳۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد حضرت مریم ہیں جو ایک پاکدامن خاتون تھیں۔

 

۱۳۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روح کی نسبت اللہ کی طرف ایسی ہی ہے جیسے خانہ کعبہ کی نسبت اللہ کی طرف۔ یعنی یہ نسبت روح کے شرف کو واضح کرتی ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ نساء نوٹ ۲۷۹) ۔

 

۱۳۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشانی اللہ تعالیٰ کے کرشمۂ قدرت کی اصل چیز اس کا حکم ہے۔ اس کا حکم ہوا اس لیے ایک با کرہ نے بچہ کو جنم دیا اور اس کا حکم ہوا اس لیے بغیر باپ کے ایک بچہ پیدا ہوا۔

 

۱۳۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ خطاب تمام انبیاء علیہم السلام سے ہے اور امت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی راہ اختیار کی۔ مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء کے پیرو خواہ وہ مختلف گروہوں کی شکل میں رہے ہوں در حقیقت امت واحدہ ہیں کیونکہ سب کا دین ایک ہی دین (اسلام) رہا ہے۔

 

۱۳۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمام انبیاء کو اور ان کے واسطہ سے ان کے پیروؤں کو توحید ہی کی تعلیم دی گئی تھی۔

 

۱۳۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی لوگوں کو جو دین اسلام انبیاء علیہم السلام کے واسطہ سے ملا تھا وہ صرف ایک دین یعنی اسلام ہی تھا لیکن لوگوں نے اس دین میں اپنی طرف سے کمی بیشی کی بدعتیں نکالیں، حاشئے چڑھائے حلال کو حرام سے اور حرا م کو حلال سے بدل دیا اس طرح مذہبی رسوم کے جب الگ الگ مجموعے تیار ہو گئے تو ان کے نام بھی الگ الگ رکھے اور اس کی بنیاد پر گروہ بندیاں بھی ہو گئیں۔

 

اس حقیقت کے پیش نظر مختلف اور متعدد مذاہب کو دیکھ کر یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ ہر مذہب خدا کا بھیجا ہوا مذہب ہے بلکہ یہ لوگوں کے اپنے تراشیدہ مذہب ہیں۔

 

۱۳۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مذہب کے یہ اختلافات تابہ کے سب کو ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اس دن پتہ چلے گا کہ فی الواقع اللہ کا دین کیا تھا اور لوگ کس طرح لیپا پوتی کرتے رہے۔

 

۱۳۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مذاہب کی اس کشمکش میں اللہ کے ہاں جو چیز انسان کے عمل کے لیے قبولیت کا معیار قرار پائے گی وہ نیک اعمال ہوں گے جو اس نے ایمان رکھتے ہوئے انجام دیئے ہوں گے نہ کہ کسی مذہب کی چھاپ۔

 

واضح رہے کہ نیک عمل شریعتِ الٰہی سے آزاد ہو کر نہیں کئے جا سکتے مثال کے طور پر نماز وہی معتبر ہو گی جو شریعت کے مطابق ادا کی گئی ہو گی۔ اس کے علاوہ نماز جس شکل میں پڑھی جائے گی حقیقت میں نماز نہ ہو گی۔ اور نہ اس کا شمار نیک اعمال میں ہو گا بلکہ خلاف شرع طریقہ اختیار کرنے کی بنا پر ایسا شخص گنہگار ہو گا۔ پھر قبولیت اعمال کے لئے یہ شرط بھی ہے کہ وہ شخص مومن ہو۔ اور مومن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان تمام باتوں کو دل سے مانتا ہو اور ان کا اقرار کرتا ہو جن پر ایمان لانے کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔

 

۱۳۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کے اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔

 

۱۳۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی کسی ہلاک شدہ بستی کے لوگ دوبارہ دنیا میں نہیں آ سکتے کہ پھر انہیں اصلاح کا موقع ملے۔ ان کا لوٹنا قیامت تک ممکن نہیں اور جب حقیقت واقعہ یہ ہے تو لوگوں کو متنبہ ہونا چاہیے اور اس موقع کو غنیمت جاننا چاہیے جو انہیں اپنی اصلاح کے لیے مل رہا ہے۔

 

۱۴۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یاجوج و ماجوج کی تشریح سورۂ کہف نوٹ ۱۱۸  میں گزر چکی وہاں ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ قوقاز (کوہ قاف) (Caucasus) کے شمال جانب وحشی قبائل تھے جو درۂ داریاں کو عبور کر کے آتے اور غارتگری کرتے تھے۔ ان کے حملوں کو روکنے کیلئے قریب میں بسنے والی ایک قوم کی درخواست پر ذوالقرنین نے آہنی دیوار تعمیر کی تھی جس سے یاجوج ماجوج کی راہ بند ہو گئی تھی۔

 

انقلاب زمانہ کے نتیجے میں یہ دیوار رکاوٹ نہیں رہی کیونکہ دوسری راہیں کھل چکی ہیں اور نہ ہی یاجوج ماجوج کے نام سے کوئی قوم پہچانی جاتی ہے اس لیے قرآن کی پیشین گوئی کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے جب وقوع میں آئے گی تو اس کی تاویل ( اصل حقیقت) واضح ہو جائے گی۔ محض قیاس کی بنیاد پر کچھ کہنا صحیح نہ ہو گا۔ اور نہ ان روایات پر اعتماد کرنا صحیح ہو گا جو نہ اسناد کے اعتبار سے صحت کے معیار پر پوری اترتی ہیں اور نہ ان کا متن ( مضمون) نکارت اور دوسرے نقائص سے پاک ہے مثال کے طور پر ترمذی کی یہ حدیث کو یاجوج ماجوج روزانہ دیوار ( سد) کو کھودتے رہتے ہیں اور جب اس میں شگاف ڈالنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے کہ واپس چلو کل اس میں شگاف ڈال دیں گے مگر اللہ تعالیٰ اس کو درست فرما دیتا ہے۔ اس طرح وہ روزانہ کھودتے رہتے ہیں یہاں تک جب وقت مقررہ آ جائے گا تو ان کا سردار کہے گا واپس چلو انشاء اللہ کل اس میں شگاف ڈال دیں گے دوسرے روز وہ دیوار کو اسی حالت میں پائیں گے جس حالت میں وہ چھوڑ کر گئے تھے چنانچہ وہ اس میں شگاف ڈال کر نکل آئیں گے۔

 

امام ترمذی نے اس روایت کو ابواب التفسیر میں سورۂ کہف کے ذیل میں نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسی طریقۂ اسناد سے ایسی باتیں جانا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ حدیث نہ اسناد کے اعتبار سے صحیح ہے اور نہ متن کے اعتبار سے چنانچہ مشہور مفسر علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : "اس حدیث کے متن کو آپ کا ارشاد قرار دینے میں نکادت ہے کیونکہ آیت کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ نہ تو اس دیوار پر اس کے مستحکم ہونے کی وجہ سے چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں نقب لگا سکتے ہیں لیکن کعب احبار سیاسی طرح کی روایت منقول ہے اور معلوم ہوتا ہے ابوہریرہ ؓ نے ان سیہ (اسرائیلی) روایت لے لی کیونکہ وہ ان کے ساتھ زیادہ بیٹھا کرتے تھے اور ( اسرائیلی قصے) بیان کیا کرتے تھے تو ابو ہریرہؓ نے یہ قصہ بیان کیا ہو گا اور بعض راویوں کو یہ وہم ہوا ہو گا کہ یہ روایت مرفوع ہے ( یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے) واللہ اعلم۔ (تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۱۰۵)

 

ترمذی کی اس حدیث کے ایک راوی ابو عوانہ ہیں جن کے بارے میں محدثین نے صراحت کی ہے کہ جب وہ اپنے حافظہ سے کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو بسا اوقات غلطی کر جاتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب ج ۱۱ص ۱۱۶ تا ۱۲۰)

 

تعجب ہے کہ ایک ایسی روایت کو جو قرآن کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہے اور جس کی نکادت ( نا معقولیت) بالکل واضح ہے ترمذی میں جگہ مل گئی۔ کاش کہ حدیث کی یہ مستند کتابیں اس قسم کی بے سر و پا روایتوں سے پاک ہوتیں !

 

قرآن کی اس آیت پر اس کے سیاق و سباق پر نیز سورۂ کہف کی ان آیات پر جن میں یاجوج ماجوج کا ذکر ہوا ہے غور کرنے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ قوموں کی ہلاکت کا سلسلہ ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر دنیا میں جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اپنی ہلاکت کے آخری مرحلہ میں پہنچ جائے گی۔ اس وقت دنیا میں دو زبردست مفسد طاقتیں ابھریں گی جو اپنی اصل کے اعتبار سے یاجوج ماجوج ہوں گی۔ ( خواہ وہ دنیا میں کسی نام سے پکاری جاتی ہوں) یہ زمین کے بلند حصوں ( شمال) کی طرف سے نکل پڑیں گی اور پوری دنیا میں ( نہ کہ خاص مسلمانوں میں) فساد برپا کریں گی معلوم ہوتا ہے ان کی یہ یلغار عالمگیر جنگ کی صورت اختیار کرے گی اور ان کے پاس دنیا کو تباہ کرنے کا بھر پور سامان ہو گا (غالباً جدید نیوکلیر میزائل کیونکہ بعض حدیثوں میں ان کے آسمانوں پر تیر چلانے کا ذکر آتا ہے) اس لیے وہ بہت بڑے پیمانے پر انسانی آبادیوں کو تباہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گی۔ اس طرح ان کے ہاتھوں دنیا کی کافر قوموں کی آخری ہلاکت ہو گی اور اس کے بعد بس قیامت ہی قائم ہو گی۔

 

۱۴۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مراد قیامت کا وعدہ ہے یعنی یاجوج ماجوج کے امنڈ پڑنے کے بعد قیامت بہت جلد برپا ہو جائے گی۔ گویا اس وقت انسانیت موت کے دہانے پر ہو گی۔

 

۱۴۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی پھر جب قیامت قائم ہو گی اور سب کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو کافروں کے لئے یہ حادثہ غیر متوقع ہو گا اس لیے ان کی آنکھیں حیرت اور دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

 

۱۴۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن کافر نہ صرف اپنے غفلت میں پڑے رہنے کا اعتراف کریں گے بلکہ اپنے خطا کار ہونے کا بھی۔

 

معلوم ہوا کہ آخرت پر ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کی غفلت ہے اور غفلت بھی ایسی جو مجرمانہ نوعیت کی ہے یعنی آخرت کے دلائل واضح ہو جانے کے باوجود انسان اس کو قبول کرنے سے اس لیے پہلو تہی کرتا ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں وہ اپنی من مانی زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس طرح اس کی خواہشات اس کی توجہ آخرت کی طرف سے ہٹا کر اس کو دنیوی زندگی میں الجھائے رکھتی ہے۔

 

۱۴۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب مشرکین سے ہے کہ تم اور تمہارے یہ بت جن کی تم پوجا کرتے ہو جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ بت جہنم میں اس لیے پہنچا دئے جائیں گے تاکہ ان کے پرستاروں کو محسوس ہو کہ جن کی وہ خدا سمجھ کر پرستش کرتے رہے ہیں وہ ان کے کچھ کام آنے سے رہے بلکہ ان کے عذاب میں اضافہ کا سبب بنے ہیں کتنا درد ناک ہو گا وہ منظر جہاں جھوٹے خداؤں کے پرستار اپنے خداؤں سمیت آگ میں جل رہے ہوں گے۔ 

 

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے

 

بت پرست اگر جہنم کے اس منظر کو تصور ہی کر لیں تو شرک سے توبہ کر لیں۔

 

یہاں یہ سوال بے معنی ہے کہ اگر معبود بھی جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں تو انبیاء علیہم السلام کو بھی لوگوں نے معبود بنا لیا تھا پھر ان کا کیا ہو گا؟ کیونکہ اول تو قرآن نے وما تعبدون ( اور جن چیزوں کی تم پرستش کرتے ہو) کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ جن میں لفظ ما بالعموم غیر جاندار چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے اور یہاں بت اور جمادات کے قسم کی چیزیں ہی مراد ہیں جن کی مشرکین پرستش کرتے رہے۔ دوسرے قرآن نے آگے آیت ۱۰۱  میں یہ صراحت کر دی ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اُولَئِکَ عَنْہَا مَبْعَدُوْنَ ( جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا وعدہ پہلے ہی ہو چکا وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔) اور قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی انبیاء علیہم السلام اور اہل ایمان کے بارے میں ان کے آگ سے محفوظ رکھے جانے اور جنت میں داخل کئے جانے کی بات اس کثرت سے بیان ہوئی ہے کہ کسی غلط فہمی کے لیے ادنیٰ گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔

 

۱۴۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی بت بھی اور ان کے پرستار بھی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

 

یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ قرآن بت پرستی کا وہ انجام جو آخرت میں ہونے والا ہے بت پرستوں کے سامنے دو ٹوک الفاظ میں بیان کرتا ہے لہٰذا اسلام کے ایک داعی کو بھی شرک و بدعت کے خلاف دو ٹوک انداز اختیار کرنا چاہیے اور بے لاگ طریقہ پر اس کا اخروی انجام بیان کرنا چاہیے خواہ بتوں کے پرستاروں کو یہ بات کتنی ہی کڑوی کیوں نہ لگے۔ ڈاکٹر کا کام صحیح طور سے علاج کرنا ہے اگرچہ اسے کڑوی دوا دینی پڑیا انجکشن لگانا پڑے۔

 

۱۴۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی مخلص مومنوں اور متقیوں کے لیے جن کی زندگیاں صالحیت کی آئینہ دار تھیں۔

 

۱۴۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیتیں اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے کئے گئے جنت کے وعدہ کے مستحق قرار پائیں گے۔ ان کو قیامت کے دن کوئی پریشانی لاحق نہ ہو گی اور وہ جہنم سے اتنی دور رکھے جائیں گے کہ اس کی دھیمی آواز تک نہ سن سکیں گے۔ اس سے اس خیال کی تردید ہوتی ہے کہ مخلص مومنوں کو بھی جہنم کے پاس سے گزرنا ہو گا۔ قرآن میں دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے : فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابَہُ بِیَمیْنِہٖ فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَسِیْرَاً (سورۂ انشقاق ۷۔ ۸) "تو جس کا نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان لیا جائے گا۔

 

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مریم نوٹ ۹۵

 

۱۴۸۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی قیامت کے دن آسمان کی بساط لپیٹ دی جائے گی تاکہ اس دنیا کی جگہ ایک نئی دنیا نئے نظام کے ساتھ وجود میں لائی جائے۔ مادہ پرست لوگ کائنات کو ازلی خیال کرتے ہیں لیکن قرآن اس کے آغاز کا بھی پتہ دیتا ہے اور انجام کا بھی۔

 

اگر دنیا میں کسی چیز کی تعمیر کا آغاز شکست و ریخت سے ہوتا ہے تو جہان نو کی تعمیر کے لیے موجودہ دنیا کی شکست و ریخت ہرگز قابل تعجب نہیں ہے اور نہ یہ بات قابل تعجب ہے کہ ایک ترقی یافتہ کائنات اس کائنات کی جگہ لے لے۔ ( مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ابراہیم نوٹ ۷۱)

 

۱۴۹۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمین سے مراد جنت کی زمین ہے جیسا کہ سورۂ زمر کی آیت ۷۴  سے واضح ہے۔

 

وَاَوْرَثنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَاءُ۔ "اور ہمیں زمین کا وارث بنا دیا کہ جنت میں جہاں چاہیں رہیں۔"

 

اور اس کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمین جو دائمی ہو گی اور اپنی بہترین خصوصیات کی بنا پر بالکل بے مثال ہو گی اللہ کی نیک بندوں کے حصہ میں آئے گی ان ہی کو اس پر بسایا جائے گا اور ان ہی کو اس پر اقتدار حاصل ہو گا۔

 

آیت میں زبور کا حوالہ دیا گیا ہے جو حضرت داؤد پر نازل ہوئی تھی۔ اس سیہ واضح کرنا مقصود ہے کہ جہاں تک موجودہ زمین کے اقتدار کا تعلق ہے وہ ایک آزمائشی چیز ہے اور یہ خدا سے غافل لوگوں کو بھی حاصل ہوتا ہے اور اس کے نیک بندوں کو بھی چنانچہ حضرت داؤد کو جو پیغمبر تھے خلیفہ بنایا گیا تھا رہی ابدی کامیابی تو جو کتاب انہیں عطا ہوئی تھی اس میں خدا اور آخرت کے بارے میں یاد دہانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ بالآخر زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ موجودہ زبور میں جو بائبل کے مجموعہ میں شامل ہے اس مضمون کی ایک جھلک ہی دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں تک ذکر یعنی یاد دہانی کا تعلق ہے زبور کے درج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں :

 

"خداوند پر توکل کر۔ ملک میں آباد رہ اور اس کی وفا داری سے پرورش پا، خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پورے کرے گا۔" ( زبور ۳۷:۳،۴)

 

"بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ کیونکہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔" ( زبور ۳۷۔ ۲۷،۲۶)

 

رہا زمین کی وراثت کا فرمان تو زبور کے اسی بات میں ہے : "صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ (زبور ۳۷۔ ۲۹)

 

"خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ۔ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔" (زبور ۳۷۔ ۳۴)

 

"ہمیشہ سے رہیں گے" کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ زمین سے مراد جنت ہی کی زمین ہے اور آیت زیر تفسیر سے پہلے ( آیت ۱۰۴  میں) جو مضمون بیان ہوا ہے وہ آخرت ہی سے متعلق ہے اس لیے محل کلام دلیل ہے کہ یہاں مراد جنت کی زمین ہے۔

 

۱۵۰۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عبادت گزار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کے پرستار اور اس کے وفا دار بندے بن کر رہیں گے۔ اوپر صالحین سے وعدہ تھا یہاں عابدین ( عبادت گزار لوگوں) کو خوش خبری دی گئی۔ گویا ایک صفت دوسری صفت کی تشریح ہے۔

 

۱۵۱۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت دنیا والوں کے لیے باعث رحمت ہے کیونکہ آپ کے ذریعہ لوگ اپنے رب کی صحیح معرفت حاصل کر لیں گے اور آپ کی رہنمائی میں زندگی بسر کر کے اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں گے۔

 

للعالمین ( دنیا والوں کے لیے) کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی بعثت کسی ایک قوم یا ملک یا زمانہ کے لیے نہیں ہوئی ہے بلکہ اقوام عالم کے لیے اور رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لیے ہوئی ہے اس لیے آپ کی رحمت عام ہے اور سب کے لیے آپ نبیِ رحمت ہیں۔ اگر لوگ اس فیضان رحمت سے محروم رہنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ ہوا پانی اور روشنی کسی قوم کے لیے خاص نہیں بلکہ بلا تفریق سب کے لیے عام ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے رب کی ان نعمتوں سے تعصب برتنے لگے اور اپنی ناک بند کر لے تو اس کا گھٹ کر مر جانا لازمی ہے اسی طرح جو شخص پانی سے دور بھاگے گا وہ پیاسا مر جائے گا اور روشنی سے آنکھیں بند کرنے والا اندھیرے میں بھٹکتا ہی رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی رحمت کی بعثت کے باوجود دنیا کی اکثریت اس رحمت کے فیض سے محروم ہے۔

 

۱۵۲۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی میری طرف جو وحی نازل ہو رہی ہے وہ توحید اور صرف توحید کی تعلیم دیتی ہے۔ ایسی توحید جس سے ہر قسم کے شرک کی نفی ہوتی ہے۔

 

۱۵۳۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ پیغمبر کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر تمہاری قوم توحید کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو اس پر یہ واضح کر دو کہ انکار کی صورت میں اللہ کے عذاب کا وعدہ لازماً پورا ہو گا۔ البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ جلد پورا ہو گا یا کچھ عرصہ بعد۔

 

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ کفار پر عذاب کب آئے گا۔ اس قسم کی صریح آیتوں کی موجودگی میں علم غیب کی ان بحثوں میں کیا تک ہے جن میں مسلمانوں کا ایک گروہ الجھ رہا ہے۔ !

 

۱۵۴۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی تمہارے ظاہر و باطن کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور وہ اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ فرمائے گا۔

 

۱۵۵۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات پیغمبر کی زبان سے سنائی جا رہی ہے کہ مجھے نہیں معلوم اللہ تعالیٰ کس مصلحت کی بنا پر عذاب کو مؤخر کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ تمہارے لیے آزمائش ہو اور تمہاری ہلاکت سے پہلے تم کو کچھ دن اور دنیا میں مزے اڑانے کا موقع مل رہا ہو۔

 

۱۵۶۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب یہ سورہ نازل ہوئی ہے دعوت اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ گئی تھی چنانچہ پیغمبر کی زبان سیہ کلمات قوم پر حجب قائم ہو جانے کے بعد ہی نکلے ہیں کہ حق ان پر پوری طرح واضح ہو گیا ہے مگر یہ انکار پر جمے ہوئے ہیں۔ اب خدایا تو ہی فیصلہ فرما دے کہ حق غالب ہو۔

 

۱۵۷۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی جو حق تمہارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس کے خلاف تم طرح طرح کی باتیں کر رہے ہو تو جو باتیں تم بناتے ہو اس کے سلسلے میں ہم خدائے رحمن ہی سے فریاد کر رہے ہیں۔ وہ ہماری مدد کرے اور راہ حق میں ہمارے قدم جما دے۔

 

٭٭٭٭٭